Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 16)

Qirtaas by Uzma Mujahid

آیا جان اسے درگاہ کے کام کا کہہ کے سردار حویلی لے آئی تھیں ۔

“آیا جان ہم یہاں کیا کریں گے ؟” اس لڑکی کی آنکھوں میں واضع الجھن تھی ۔

“بیٹی مرشد سائیں کی تم پہ خاص کرم نوازی ہوئی ہے اب تم یہیں رہنا انکی خدمت کرنا ثواب ہوگا “

وہ اسے کہتی واپس چلی گئیں کب سے وہ وہاں بیٹھی انتظار کررہی تھی یہاں پہ کام کرنے والے اور مریدوں کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا کہ اس چیز میں فرق ہی نہیں ہوپاتا تھا بات عورت کی ہورہی یا مرد کی اسکے نزدیک بھی کسی عورت کیلئے اسے بھیجا گیا ہے ۔

ایک نظر اپنے مومی ہاتھوں کو دیکھا جہاں پہ ان گنت کھروچیں پڑ چکی تھیں وہ اپنا وقت یاد نہیں کرنا چاہتی تھی مگر آنکھوں سے پھر ان گنت آنسوؤں کی برسات شروع ہوگئی ۔

خوشحال خان ڈرائنگ روم میں داخل ہوا جہاں اسکی نظر پھر سے روتی ہوئی لڑکی پر پڑی تھی۔

“ادھر آؤ لڑکی ہمیں بتاؤ ایسے کونسے دکھ ہیں جو ان آنکھوں کو نم رکھتے ہیں ہم انکا مداوا کریں گے”ہاتھ آگے بڑھائے وہ اسکے قریب آبیٹھا تھا ۔

وہ جھٹکے سے کھڑی ہوتی وہاں سے دور ہوئی مگر خوشحال خان نے تیزی سے بڑھتے اسکی کلائی پہ اپنی گرفت مضبوط کی ۔اسکی آنکھوں سے ٹپکتا وحشی پن اسے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔

خود کو چھڑانے کی کوشش میں وہ اسے زخمی کرگئی مگر مزاحمت کرتی لڑکی خوشحال خان کی درندگی کو بڑھا رہا تھی ۔اس نے اپنے دانت اسکے ہاتھ پہ گاڑے وہ تڑپتا ہوا اس چھوڑ کے دور ہوا ۔

وہ بھاگتی ہوئی گھر کے دروازے کی جانب پہنچی مگر بند دروازہ اسکا منہ چڑا رہا تھا ایک نظر پیچھے دیکھا وہ پھر سے اسکے قریب پہنچ چکا تھا۔

“بڑا زور ہے ان ہاتھوں میں مگر خوشحال خان اپنا ہاتھ ٹھکرانے والوں کے ہاتھ کاٹ دیتا ہے “

“آپکو خدا کا واسطہ مم مجھے چھوڑ دیں “اسکے پاس اب سوائے اس شخص کی منت ترلے کے کچھ نہ تھا مگر اسکی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت اسے خبردار کررہی تھی کہ اپنا بچاؤ خود کرنا پڑے گا تبھی اسکی توجہ دروازے کے دونوں اطراف میں موجود سٹول پہ کرسٹل بوٹل نے کھینچی مگر وہ اسکی پہنچ سے دور تھیں پر اسکے پاس اب کوئی چارہ بھی نہ تھا ۔

وہ پھرتی سے بوٹل کی طرف بڑھی وہ اسکا ہاتھ ٹچ ہوتے فرش پہ گرتے چکنہ چور ہوگئی اپنی بے بسی پہ روتے اپنے بچاؤ کا آخری حربہ نکام ہوتے دیکھ وہ حواس کھونے لگی تھی ۔

مگر وہ اپنی عزت پہ جان گنوانے کو بھی تیار ہوگئی نیچے پڑے کانچ کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھایا ۔

“آگے مت بڑھنا ورنہ میں خود کو ختم کرلونگی “خوشحال خان اسکی گیدڑ بھبکیوں میں آنے والا نہیں تھا تبھی اسکی طرف پیش قدمی جاری رکھی جیسے ہی اس نے اسے کھنچتے خود سے قریب کیا وہ تیز دھار کانچ کا ٹکڑا اسکے سر میں دے مارا درد کی شدت سے بلبلاتے و نیچے کو جھکا تھا وہ کانچ کا ٹکڑا پھینکتی دوسری طرف کا کرسٹل اٹھاتی اسکے سر پہ وار کرگئی۔

اگرچہ پہلے ہی وار پہ وہ اسکے سر پہ گہری چوٹ چھوڑتی ٹوٹ چکی تھی مگر اس پہ۔وحشت طاری تھی اس نے ٹوٹے ہوئے کانچ سے اس پہ وار جاری رکھا تھا ۔

بند ہوتی آنکھوں سے خوشحال خان نے اس شیرنی کو دیکھا تھا وہ جو ڈرنک کیے آج رت جگا منانے آیا تھا اب زمین پہ پڑے تڑپنے لگا۔

اسکی نگاہ فرش پہ بکھرتے خون پہ پڑی تو ہوش میں آئی وہ ایک انسان کا قتل کرچکی تھی ۔

روایتی لباس میں ملبوس خوشحال خان کی چیب سے چابیوں کا گچھا گرا تھا جو اسے نجات کا در مہیا کرگیا ۔

مرکزی دروازہ کھولتے اپنا چہرہ چاد میں چھپائے باہر نکلی ہر طرف پھیلے سیکیورٹی گارڈز نے اسے گھور کے دیکھا شاید وی پہلی لڑکی تھی جسے انکے مرشد سائیں نے کچھ جلدی جانے دیا تھا مگر سب ایک نظر دیکھتے دوسری طرف منہ کرگئے ۔

گیٹ کراس کرتے کچھ دیر اپنی چال پہ قابو پایا ٹانگیں ساتھ دینے سے انکاری تھیں اسکے سامنے بار بار خوشحال خان کا زخمی وجود آرہا تھا حویلی سے دور ہوتے وہ سرپٹ بھاگی تھی اسے کچھ نہیں پتا تھا اسکی منزل راستہ کونسا ہے مگر وہ کچی پکی پگڈنڈیوں پہ دوڑتی رہی تھی تبھی سامنے سے آنے والی تیز رفتار گاڑی سے اپنا بچاؤ نہیں کرسکی بند ہوتی آنکھوں سے جو چہرہ دیکھا وہ اسے کبھی نہ دیکھنے کی قسم کھائی تھی مگر تقدیر پھر اسے اس بے رحم شخص کے پاس لے آئی ۔

★★★★★

پریشہ بند پلکوں سے بھی خریم کی نظروں کی تپش محسوس کرسکتی اس نے بے چینی سے پہلو بدلہ ۔

اسکی لرزتی پلکیں خریم کو شرارت پہ اکسا رہی تھیں صوفے سے اٹھتے وہ اسکے برابر دراز ہوا اپنے نزدیک اسکی موجودگی محسوس کرتے پریشہ نے فٹ سے آنکھیں کھولیں ۔

خریم کی نگاہ سبز آنکھوں پہ پڑی جو اب کافی حد تک نارمل نظر آرہی تھیں اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھے اس پہ جھکا جبکہ وہ حیرت سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔

“خُریم ” نے اسکی کھلی آنکھوں پہ لب رکھے سبز نین اسکی بے خودی کے سامنے لاجواب ہوتے اپنے اوپر پلکوں کی جھالر گرا گئے مگر دوسرے ہوش میں آتے اسے نے خریم کے سینے پہ ہاتھ رکھے اسے پیچھے کو دھکیلا تھا مگر اس چٹان سے ٹکرانا اس جیسی نازک لڑکی کیلئے ممکن نا تھا۔

“پپ پیچھے ہٹو ٹام ” وہ جو پریشہ کو ژچ کرنے کا موڈ بنائے بیٹھا تھا جھٹکا کھا کے سیدھا ہوا ۔

“کیا بولا تم نے ؟” خریم کی آنکھیں تحیر سے پھلیں۔

” اگر تم ایسی لوفرانہ حرکتیں کرو گے تو کیا امید رکھتے میں تمہاری یہ سب فضو”

ابھی اسکی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی وہ پھر سے اسکے گلابی ہونٹوں کو اپنی قید میں کرچکا تھا پریشہ کا سانس بند ہونے لگا تھا آکسیجن کی کمی ہوتے اسکی آنکھیں باہر کو ابلنے لگیں اپنے ناخن اسکے بازو میں گاڑے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر نجانے وہ شخص کس مٹی کا بنا تھا جس پہ کوئی فرق نہ تھا جب دل بھرا اسکے ہونٹوں کو اپنے پرحدت لبوں کی گرفت سے آزاد کیے تکیے پہ دراز ہوا جبکہ وہ اپنی پھولی سانس بحال کرنے کو گہرے گہرے سانس بھرنے لگی تھی ۔

“یہ شخص واقعی ایک معمہ تھا “شعلہ بار نظروں سے دیکھتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔

اسے یاد آرہا تھا کہ اس نے حویلی جانا ہے مگر خریم تپتی نظروں سے بچنے کو روم سے واک آؤٹ کرگئی۔

خریم کے لبوں پہ ایک پرسکون مسکراہٹ تھی وہ تو اس پہ یونیورسٹی میں پہلی نگاہ پڑتے اپنا حق جما چکا تھا جبکہ اب موقع ملا تھا بھلا کیسے وہ اسے اپنی محبت کی شدتوں سے آگاہ نہ کرتا ۔

وہ اسکیلئے مجسم محبت تھی مگر تھی تو خان حویلی کی بیٹی ساتھ میں حاطب کی سوچ آتے ہی اسکا ذہن زہر آلود سوچوں سے بھرنے لگا۔

“کتنے سال زحلے نے زندان میں گزارے تھے بھلا میں کیسے اسکی بہن کو اتنی آسانی سے معاف کردوں؟” خریم کا دماغ پھر سے محبت اور نفرت کے پینڈولم میں جھولنے لگا۔

وہ پریشہ کی بولنے سے پلکیں اٹھانے تک ہر ادا پہ قربان ہوجاتا مگر “حاطب خان ” اور انتقام اسے اپنے دائرے سے ہٹانے لگے۔

“نہیں میں اسے بے سکون کرونگا میں بھی اسے تڑپاؤنگا جیسے اس حویلی والے زحلے کیلئے پل پل تڑپتے رہے ہیں “

اسکی سوچوں کا مجور بدل چکا تھا ۔

تبھی وہ غصے سے لال ہوتی کمرے میں داخل ہوئی۔

“مائی کہہ رہیں کہ تم نے دیشہ اور آنٹی کو حویلی بھیج دیا میرے بغیر؟”

پریشہ کی آواز صدمے اور دکھ سے بھری تھی ۔

“جی بھیج دیا ہےکیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم اس حویلی میں جاؤ “

اسکے قریب آتے اسکے کندھے پہ اپنی ٹھوڑی ٹکاتے بولا تھا وہ جو پہلے اسکی حرکتوں پہ ژچ ہورہی تھی اب تو بھڑک اٹھی ۔

“کیوں ؟پھر یہ سب کیا تھا ؟”

اس نے اپنے کندھے جھٹکتے کوئی نادیدہ بوجھ اتارا ہو جیسے ایک نظر اپنے لباس کو دیکھتے ہاتھ نچاتے اشارہ کیا۔

خریم بیڈ پہ بیٹھتے اسکے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھنے لگا۔

“اگر یہی حال رہا تو عنقریب حاطب خان سے نفرت، انتقام جگہ پہ رہ جانا اور میں نے اس “جیری ” کا مجنوں بن کے رہ جانا”

خریم ٹھوڑی کو دونوں ہاتھوں پہ رکھے پرسوچ نگاہوں اس شعلہ جوالہ بنی پریشہ کو دیکھا وہ لڑکی صبح سے اسکا ضبط آزما رہی تھی۔

“کیا ؟کیا ایسے گھور کیوں رہے ہو مجھے میں جارہی ہوں ابھی ۔”

پریشہ کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اپنا حتمی فیصلہ سناتی وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی مگر دوسرے ہی لمحے دیوار سے ٹکرائی۔

“یا وحشت ” وہ چیخی تھی خریم نے دونوں انگلیاں کان میں ٹھونسیں ۔

“تمہیں اونچا سنتا ہے کیا جو ایسے چیخ کے بول رہی۔ “

خریم سینے پہ دونوں ہاتھ جماتے طنزیہ مسکرایا۔

“دیکھو تم مجھ سے مت الجھو۔”

انگلی اٹھائے اسے وارن کیا ۔

“الجھنا ہی تو نہیں چاہتا سلجھانا چاہ رہا ہوں اس ڈور کو۔ ” وہ اسکی انگلی پکڑے دانتوں میں دبا گیا ۔

“تت تم ایک نمبر کے۔۔۔”

“جانتا ہوں گھٹیا،لچڑ اور لوفر انسان ہوں اور کچھ ؟” اسکی بات درمیان سے اچکتے پھر سے شروع ہوا پریشہ کو لگ رہا تھا وہ آج رو دے گی وہ شخص اسے جلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا تھا۔

مگر وہ اسکی سوچوں سے انجان تھی جسکا دل ہمکتا ہوا کسی بچہ کی طرح اسکی قربت کو ترس رہا تھا ۔

“اگر چاہوں تو ہم باہر جا کے ایک اچھا سا ڈنر کرسکتے ہیں۔ ” خریم نے آفر کی تھی۔

“ہم میں کبھی اتنا یارانہ نہیں رہا جو میں آپکے ساتھ ڈنر کرنا پسند کروں مسٹر ٹام ۔”

پریشہ نے حساب بے باک کرنا چاہا تھا۔

“یارانہ بنانے میں بھلا دیر کب لگتی ہے پری جان اور ہم آپکے مجازی خدا ہیں اس لیے نام بگاڑنے جیسا عظیم گناہ نہ ہی کریں تو اچھا ہوگا۔ “

وہ اسکے سامنے آکھڑا تھا۔

“جی مگر میں پھر بھی بلاؤں گی مسٹر ٹام مسٹر ٹام مسٹر ٹام۔ “

وہ زبان چڑاتے سائیڈ پکڑ گئی ویسے بھی اب خان حویلی جانے کی امید وہ چھوڑ چکی تھی اسیلئے اس سے بدلہ اتارتی ڈریسنگ روم میں گھس گئ تھی۔

تھوڑی دیر بعد وہ لباس تبدیل کیے اسکے سامنے تھی خریم بنا اسے کچھ کہے لیٹ گیا اور وہ نیچے کو بڑھ گئی اس بات سے انجان کہ خریم اس سے بہت برا بدلہ اتارنے والا تھا ۔

★★★★★

اپنی تصویر بناؤ گے تو ہو گا احساس

کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا۔

تنہائی،اندھیرا اور بھوک ایسا لگ رہا تھا زندان میں پڑی اس عورت کے ساتھ ساتھ وہ چھوٹی مخلوق بھی پاگل ہورہی تھی اسے لگ رہا تھا آج اسکا آخری دن ہے اسکے جسم کپڑے نوچے جاچکے تھے عجب بےحال وہ عورت کبھی ہنسنے لگتی تو کبھی رو پڑتی ۔

آج اس قید سے اسکے ساتھ چوہوں کو بھی آزادی نصیب ہوئی تھی ۔کمرے میں پھیلی بدبو آنے والے پہ ناگوار تاثر چھوڑ گئی ۔

“آگئے تم ،مگر افسوس کہ میں ابھی بھی زندہ ہوں مم مجھے تو نہ اسکی بددعائیں لگیں نہ تمہاری قید نے کوئی اثر کیا ۔”

آنے والے شخص سے مخاطب تھی مگر وہ بے تاثر اسے دیکھتا رہا اور پھر بنا کچھ کہے واپس پلٹ گیا ۔

“چلا گیا وہ چلا گیا ہا ہا ہا ہاں چلا گیا میری نہیں سنی میری نہیں سنتا۔ “

دروازے پہ آنے والے مرد اور عورت نے اسکے بے معنی لفظوں کو سنا مگر کچھ بولے بغیر اسے کھڑا کرنے لگے ۔

“اب کہاں لے جاؤ گے ؟وہاں چچ چوہے تو نہیں ہونگے ؟تت تم تو میرے بیٹے ہونا ،ات اتنے سے نہیں، اتنے سے تھے ،پتا نہیں کتنے سے تھے مم مگر مم میں تمہاری ماں ہوں نا ۔”

ہاتھوں کو اسکے قد سے ناپتے اپنی باتوں کی نفی کرتی عورت کو دیکھ اسکی آنکھوں میں آنسو آئے۔

“پپ پتا ہ ہے مم میں نے اس سے شک شکوہ نن نہیں کیا کوئی وو وہ بھی نہیں بولتا ہاں وہ بھی نہیں بولتا ۔”

آنکھوں سے آنسوؤں رواں ہوئے مگر وہ پھر بھی بولتی رہی سامنے والا اسے فرصت سے سن لینا چاہتا تھا مگر وہ اس پہ ترس نہیں کھا سکتا تھا وہ ایک ایسی ڈائن تھی جو انسانی شکل میں رہ کے انکا سب کچھ برباد کرچکی تھی ۔

★★★★★

پریشہ نے مائی کے ساتھ مل کے کھانا لگایا حویلی کال کرکے زحلے کو اسکے سپیشل ایونٹ کی مبارکباد دیتی اب وہ کچھ مطمئن تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ خریم زرتاج گل کے ساتھ مل کے حاطب کی خوشیوں کا برا سوچے اس لیے خاموشی اختیار کیے وہ کام میں لگ گئی۔

مائی کو بھیج کے اسے ٹیبل سیٹ ہونے کا پیغام دیا کچھ ہی دیر بعد مائی اس کے واپس آگئیں ۔

“وہ جی بہت غصے میں ہیں آپکو چائے لے کے آنے کو کہا ہے۔ “

مائی کی بات اسے بھی پریشان کرگئی ۔

جائے نا جائے کی کشمکش میں پھنسی تھی جب اوپر سے اسکے نام کی پکار پڑی ۔

اب جانا لازم تھا نجانے کس بات پہ اسکا موڈ بگڑا تھا وہ چائے لیے کمرے میں داخل ہوئی مگر دوسرے ہی لمحے ہکا بکا رہ گئی کیونکہ چائے کپ سمیت زمین بوس ہوچکی تھی۔

“کب سے آوازیں دے رہا ہوں بہری ہوچکی ہو کیا۔ “

وہ دھاڑتے ہوئے اسکے سر پہ پہنچا تھا۔

“وہ میں “اب الفاظ ہی گم گئے تھے اسکی شرٹ چائے گرنے کی وجہ سے خراب ہوچکی تھی ۔

“پہلے چینج کرکے آو۔”

خریم آرڈر دیتا بیڈ پہ دراز ہوا وہ جلدی سے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔

اسکو اندر گئے پندرہ منٹ گزر گئے تھے جب خریم نے سخت لہجے میں اسے باہر آنے کے آرڈر سنائے تھے ۔

وہ پریشان ہوتی اپنے گرد دوبٹہ اوڑھے واپس آئی تھی۔

“یہ کیا مذاق ہے میری ساری وارڈروب خالی ہے۔ ” وہ روہانسی ہوئی تھی کیونکہ سوائے اس نائٹی کے نام پہ بنائے گئے بہودہ لباس کے علاوہ کچھ بھی اندر نہ تھا ڈھنگ کا جو وہ پہن سکے ۔

خریم کی آنکھیں خیرہ ہوئیں وہ دھیمے قدم اٹھاتا اسکے سامنے آٹہرا۔

“کیسا لگا خریم خان کا حسین انتقام۔ ” اسکے شانوں کے گرد لپٹا دوبٹہ کھینچا تھا وہ بمشکل خود کو کور کیے رخ دوسری طرف کرگئی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے۔

اسکے کندھے پہ اپنے دہکتے لب رکھے۔

“پپ پلیز یہ تم کیا کررہے ؟” اسکی آواز بھرائی تھی۔

“کہا تھا نہ جس دن ٹھیک ہوگیا پر کاٹوں گا “وہ جو پباس پہنے کھڑی تھی پہلے ہی بےحجاب تھا مگر وہ بھی سرکتا اسکے قریب ہوا۔

خریم اسکے ہوش ربا حسن کے آگے گھٹنے ٹیکنے لگا تھا اسکا کوئی احتجاج کوئی مزاحمت کام نہیں آئی تھی۔

★★★★★

پشاود کے ہاسپٹل میں اس وقت دو مریض ایک ساتھ ایڈمٹ ہوئے تھے وہ پاگلوں کی طرح اسے اٹھائے ایک ایک ڈاکٹروں کو آوازیں دے رہا تھا ۔

وہیں نڈھال پڑی اس عورت کا بیٹا اسے ایڈمٹ کروانے لایا تھا جسکا جسم چوہے جابجا نوچ چکے تھے مگر اسکی رپورٹس جب اسکے ہاتھ لگیں جسکے مطابق وہ کینسر کی آخری سٹیج پر تھی وہ اپنا مقدمہ خدا کے سپرد کیے انسانیت کے واسطے اسے ہاسپٹل لے آیا تھا اسے پتا تھا کہ اسکا وقت قریب ہے آئی۔سی۔یو سے اسے سٹریچر پہ ڈالے وارڈ کی طرف شفٹ کیا جارہا تھا تبھی ایک دیوانہ شخص ہاتھوں میں ایک زخمی لڑکی کو لیے داخل ہوا تھا ۔

“اللّٰہ اس لڑکی کو زندگی دے ” اس عورت کے لب ہلے تھے

آنکھوں کے پیچھے سے منظر چھوٹ رہے تھے مگر اسکے لبوں پہ ایک ہی دعا تھی یا التجا” اللّٰہ اس لڑکی کو زندگی دے۔ “

کوئی آہٹ کوئی جنبش کوئی دستک نہیں ہے

ہمارے دشتِ ویراں میں بڑی فُرصت کا عالم ہے۔

★★★★★

خان حویلی میں زحلے کی گود بھرائی کی رسم جاری تھی جبکہ باہر غریبوں میں کھانا اور کپڑے تقسیم کیے گویا آنے والے مہمان کے صدقے دیے جارہے تھے پریشہ کا وہ انتظار کرتے رہے مگر حاطب جان چکا تھا کہ خریم اسے نہیں آنے دے گا ۔

روح خانم بھی شرمندہ سی بیٹھی تھیں اس لڑکے نے عین وقت کوئی نہ کوئی پھڈا ڈالنے کی قسم کھا رکھی تھی۔

سات سہاگنوں کی یہ رسم وہاں پہ موجود ہر عورت اسے اور آنے والے مہمان کو دعائیں دیتی رخصت ہورہی تھیں ۔

زحلے کے چہرے پہ پھیلے قوس وقزاح کے رنگ حاطب کو مبہوت کررہے تھے اور وہیں اس سب سے الگ زرتاج جلن اور حسد کی آگ میں جلتی انکی خوشیوں کو آگ لگانے کا تہیہ کیے کھڑی تھی ۔

اسکے نا نا کرنے کے باوجود وہ کافی تعداد میں مٹھائی کھاچکی تھی رسم کا اختتام ہوتے ہی روح خانم بھی دادی جان اور دیشہ کے ہمراہ گھر کو روانہ ہوئیں ۔

حاطب اسکا ہاتھ پکڑے کمرے کی طرف لیے جارہا تھا جب اسکا موبائل گنگنا اٹھا دائم کا نمبر دیکھ اس نے کال ریسو کرلی مگر سگنل پرابلم وجہ سے زحلے کا ہاتھ چھوڑے وہ باہر کی طرف بڑھا ۔

سست روی سے چلتے وہ اوپر کی طرف جارہی تھی پیچھے سے آتی زرتاج گل نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا وہ جلدی میں سیڑھیوں کا سہارا لیتی بیٹھ گئی۔

“آہاں بڑی چوکنی گھوم رہی ہو پر کیا ہے نا کہ تمہاری ساری ہوشیاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ مٹھائی کے ساتھ تم کتنی تعداد میں زہر اپنے اندر اتار چکی ہواب کیسے دے سکو گی اس حویلی کو وارث جب تم۔ہی نہیں ہوگی “

زحلے کو لگا اسکی سانس رکنے لگی ہے۔

“نن نہیں تت تم جھوٹ بب بول رہی ہو مم ۔”

زحلے کو اپنی گردن پہ سخت ہوتی گرفت وہ نڈھال سی اٹھی مگر توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے سڑھیوں سے نیچے پھسلتی گئی ۔

حاطب جو ابھی آیا تھا اسے سیڑھیوں سے اٹھتے اور نیچے گرتے دیکھ چکا تھا سب سے پہلے زرتاج کا سکتہ ٹوٹا تھا۔

“زحلے “وہ اسکی طرف بھاگی تو جیسے حاطب کو ہوش آیا وہ پیٹ پہ ہاتھ رکھے کراہ رہی تھی ۔

“ززحلے کچھ نہیں ہوگا ہمت نہیں ہارنی زحلے۔ “

اسکی بند ہوتی آنکھیں حاطب کو لگ رہا تھا کوئی اسکے جسم سے خون نچوڑ رہا ہے مشکل سے خود کو سنبھالے اسے گاڑی تک لایا “حرمت”لالہ اسکی حالت دیکھ گاڑی میں بیٹھے بروقت پہنچنے پہ اسکی جان بچ گئی تھی مگر ڈاکٹر کی بات سن حاطب کے پاؤں سے زمین سرکی۔

“آپکی وائف شاید پریگننسی ریمو کرنے کو کچھ پوائزن یوز کررہی تھیں شاید جسکی وجہ سے ہم آپکے بچے کو نہیں بچا سکے ۔”

ہاسپٹل چھت پورے وجود سمیت اسکے اوپر گری تھی مورے جان نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا مگر وہ حیرت زدہ تھا ۔

“بھلا زحلے ایسا کیسے کرسکتی اپنے بےجا توہمات کی وجہ سے بھلا کیسے اسکے بچے کی جان لے سکتی۔ “

وہ ایک دکھ بھری نگاہ مورے جان پہ ڈالے وہاں سے نکل گیا۔

دوپہر تک بک گیا بازار کا ہر ایک جھوٹ!

اور ایک سچ لئے میں رات تک بیٹھا رہا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *