Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 15)

Qirtaas by Uzma Mujahid

اپنی ساری آرزوئیں تھیں فریب

اپنے خوابوں کا تھا عالم رائیگاں

وہ خوش تھی کہ اس شخص نے اسے کوئی سخت سزا نہیں سنائی مگر اسکی خوشی عارضی ثابت ہوئی جب خرگوش نما جنگلی چوہوں نے اسکا استقبال کیا۔

وہ تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ اسے سانپ کا سر کچلنا آسان لگا تھا ان سے ۔ مگر وہ اپنے وقت کی ذہین عورت تھی ہر مشکل سے نبٹنا اسے آتا تھا اب کے چال باز بڑا شاطر تھا اسکی کمزوریوں سے واقف بھی کچھ دیر وہ اس کمرے کو دیکھتی رہی جب اچانک ہی لائٹ چلی گئی اب کے گھبراہٹ میں اس نے دروازہ کی جانب رخ کیا مگر پاؤں کسی نرم چیز سے ٹکرایا “چی “کی آواز کے ساتھ شاید کو چوہا اسکے پاؤں میں رند گیا تھا اس نے ایک جھرجھری لی آگے جانے کی ہمت خود میں نہیں پا رہی تھی مگر اس اندھیرے میں اسکی سانس بند ہونے لگی تھی۔

“مجھے نکالو یہاں سے کوئی ہے تمہیں خدا کا واسطہ نکالو مجھے میرا یہاں دم گھٹ رہا ” باہر بیٹھے اشخاص کے کانوں میں اسکی آواز گونجی تھی مگر وہ دونوں ایسے بے حس بنے بیٹھے تھے جیسے سن ہی نہ رہے ہوں ۔

چوہے اپنے درمیان موجود ایک انسانی وجود سے اچھے سے آگاہ ہورہے تھے اپنے پاؤں پہ رینگتی انکی لمبی دم کسی سانپ سے مشاہبہ لگ رہی تھی تبھی وہ درد کی شدت سے چلا اٹھی جب کسی چیز نے اسکے پاؤں پہ کاٹا مگر اسکی چیخ سن ان میں بھگدڑ مچی ایک دوسرے کی طرف بھاگتے اندھرے میں چمکتی انکی آنکھیں اس عورت کو مزید ڈرا رہی تھیں۔

ابھی اسے یہاں بند ہوئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے اور اسکا یہ حال تھا اپنی خوشگوار زندگی کا اک اک پل اسکے سامنے گھوم رہا تھا وہ جانتی تھی یہ انتقام میں ڈوبا شخص اتنی آسانی سے اسے معاف نہیں کرے گا مگر اتنی دردناک موت کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی اسکی جگہ اگر کوئی کمزور عصاب کی مالک عورت ہوتی تو یقیناً اسوقت تک اسکا ہارٹ فیل ہوچکا ہوتا کمرہ کی حدود قیود تو اندر داخل ہوتے دیکھ چکی تھی کوئی سٹور روم کمرہ اپنے اصل حجم سے بھی چھوٹا تھا ۔

اور ان چوہوں کی تعداد وہ دیکھ چکی تھی ساری رات اس نے اسی کرب اور وحشت میں گزاری اسے لگ رہا تھا وہ مرجائے گی مگر ابھی اسکے درد کو امان نہیں مل رہی تھی اس کمرے میں تو کیا اس تہہ خانے میں بنے کسی جیل نما سیل تک باہر کی روشنی کی رسائی ممکن نہ تھی مگر وہاں پہ بلب کی مصنوعی روشنی دیکھنے کو مل رہی تھی۔

مگر یہاں وہ بھی نہیں تھی ہر روز اس عورت کی وحشت ناک چیخیں کئی لوگ سنتے مگر کسی پہ کوئی اثر نہ تھا بھوک سے مرتے چوہوں کا تعفن کمرے میں پھیل رہا تھا اب کے وہ زندہ رہنے کو اپنی خوراک ڈھونڈ رہے تھے اس عورت کے وجود کو نوچتے تھے مگر شاید انہیں اسکا گوشت پسند نہ آتا پھر کتنے دن اس طرف کا منہ نہ کرتے تبھی ایک دن کسی نے چوہوں اور اس عورت کو کھانا لا دیا تھا اپنے سامنے کھانا دیکھ وہ ندیدوں کی طرح اس پہ جھپٹی تھی اس کھانے میں اسکا ساتھ بھوکے چوہے بھی ساتھ دینے لگے۔

کچھ تو باہر روشنی پاتے باہر کو بھاگے کچھ دروازہ بند ہونے پہ اس کے اندر رہ گئے پھر سے اندھیرا چھایا تو وہ بھی حواسوں میں لوٹی دروازہ بجانے لگی اسے یہاں نہیں رہنا تھا آزادی چاہئے تھی مگر اسکا پرسان حال کوئی نہ تھا۔

★★★★★★

آپ ہوش میں تو ہیں آپکو پتا بھی ہے کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔” زحلے کی بات سنتے اسے شاک لگا تھا ۔

“ہم نہیں چاہتے کہ کوئی دوسری زحلے اس دنیا میں آئے “

اسکا ضدی لہجہ حاطب صبر کے گھونٹ پی کے رہ گیا تھا ۔

مورے جان یہ خبر سن کتنی دیر خوشی سے گنگ لہجے میں کچھ بول ہی نہیں پائیں زرتاج گل کو لگ رہا تھا زحلے اسے خان حویلی سے مکمل کک آؤٹ کرچکی ہے ۔

ایک ہفتے سے ان دونوں کی بات چیت بند تھی وہ زحلے کو مکمل اگنور کیے ہوئے تھے آگہی کے تدراک زحلے کیلئے جان لیوا ثابت ہورہے تھے ۔

آج وہ اس سے دوٹوک بات کرنا چاہ رہی تھی کمرہ میں داخل ہوتا حاطب اسے اگنور کیے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا تبھی وہ اسکے راستے میں حائل ہوئی۔

“ایسا کب تک چلے گا ؟” آج پہلی بار وہ بیویوں جیسا ریکٹ کررہی تھی حاطب لب بھینچے اسے دیکھنے لگا ۔

“جب تک آپکی ضد قائم رہے گی “لہجے میں کوئی رعایت نہیں تھی ایک ہاتھ سے اسے سائیڈ پہ کرنا چاہا وہ اسکا ہاتھ پکڑے اس پہ سرٹکائے رونے لگی ۔

حاطب کا دل اگلے ہی لمحے اسکی آنکھوں میں آنسوؤں دیکھ نرم پڑنے لگا تھا مگر وہ اسے بری طرح ہرٹ کرچکی تھی۔

ایک تھکن زدہ سانس خارج کرتے اسے شانوں سے پکڑے واپس بیڈ پہ بٹھایا ۔

“کیا ہی اچھا ہو اگر آپ مجھے اس ضد کے پیچھے کوئی لوجیکل ریزن دیں تو؟” آواز حتی المکان دھیمی رکھی تھی۔

“بس ہم نہیں چاہتے کوئی بچہ “زحلے اسے بتا نہیں سکتی تھی اسکے دل میں کیا خدشے پنیپ رہے تھے۔

“لیکن ہم چاہتے ہیں زحلے اور آپ سے ہی اولاد چاہتے ہیں ہمیں مجبور نہ کریں ہم پھر سے آپ پہ کوئی سختی کریں”

بغیر لچک کے اسکی آواز زحلے کی جان نکالنے لگی تھی ۔

زحلے بغیر کچھ کہے وہاں سے چلی گئی کچھ دیر بعد وہ اسکیلئے گرم کھانا لیے آچکی تھی۔

“لگتا ہے محترمہ کی الٹی کھوپڑی میں ہماری بات سما گئی ہے” ایک مطمئن نگاہ اس پہ ڈالتے حاطب نے کھانا شروع کیا پہلا نوالہ اسکی جانب بڑھایا کو بغیر کسی بحث وتمہید کے اس نے کھا لیا ۔

“جانتی ہیں زحلے آپ مجھے کتنی اچھی لگتی ہیں جب ایک فرمانبردار وائف کا رول ادا کرتی ہیں۔”

چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ سجائے ماحول کی کثافت کو دور کرنا چاہا تھا۔

“کبھی آپ بھی اچھے لگنے کی کوشش کریں ایک فرمانبردار شوہر بن کے “

زحلے کے لہجے کی کاٹ اسے مسکرانے پہ مجبور کرگئی وی جانتا تھا کہ اسکا اشارہ کس جانب تھا۔

“آپ بہت معصوم ہیں زحلے آپ کو نہیں پتا کچھ بھی میں آپکو آنے والی مصیبتوں سے بچانا چاہ رہا ہوں “

ہاتھ صاف کرتے پیچھے کو ہو بیٹھا تھا زحلے بناکچھ بولے برتن سمیٹے باہر چلی گئ۔

واپس آئی سامنے کا منظر ایک بار پھر اسکو آگ لگا گیا ایک بار پھر سے کاغذی بیوی اسکی بانہوں کی زینت بننے کی کوششوں میں تھی ۔

“کیا کررہی ہیں آپ یہاں ؟ “وہ بولی کم پھنکاری زیادہ تھی۔

“تم بھول رہی لڑکی شاید کے یہ میرے بھی شوہر کا کمرہ۔ہے “زرتاج گل کی بات اسکو مزید ہائیپر کرگئی۔

آگے بڑھتے حاطب کے بازو سے لگ کھڑی ہوئی ۔

“تھا اب میں اپنے وجود سے اس کمرے اس گھر اور حاطب خان کی مالک ہوں اسٹے اوے فرام ہم”

چٹکی بجائے وارن کرتی اسے کمرے سے باہر کا راستہ دکھایا حاطب اسکے حاکمانہ انداز پہ مسکراہٹ چھپائے زمین گھورنے لگا ۔

“تم دیکھ رہے ہو حاطب یہ کل کی لڑکی۔۔”

“کیا آپ ہر وقت کل کی لڑکی کل کی لڑکی لگائے رکھتی ہیں آپ اس بھول سے نکل آئیں کہ وہ زندان میں پڑی کل کی لڑکی ہیں ہم جو چپ چاپ آپکی مار کھاتے رہتے تھے جلد ہی ہم آپکو آپکے اصل مقام تک پہنچائیں گے “

زحلے کی دھاڑ پہ حاطب بھی سنجیدہ ہوتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔

“تم تمہاری اتنی ہمت کے تم زرتاج گل کے سامنے حاطب ابھی کے ابھی اس لڑکی کو طلاق دو گے تم۔ “

زرتاج کی بات سن زحلے کا دل ایک لمحے کو سکڑا مگر دوسرے ہی لمحے وہ حاطب کے سامنے آتے اس سے مخاطب ہوئی تھی ۔

“ہاں حاطب خان ابھی کے ابھی آپ طلاق دیں گے مگر زرتاج گل کو “

چیلنجنگ آئیز حاطب نے تنبہی نظروں سے اسکو دیکھا مگر وہ اسکی آنکھوں کے اشارے اگنور کیے اپنی بات پہ ڈٹی تھی تبھی زرتاج گل کا ہاتھ اسکی جانب اٹھا تھا جو درمیان میں رہ گیا ۔

“اگر میں کچھ کہہ نہیں رہا اسکا یہ مطلب نہیں کے آپ اپنی حدود کراس کریں گٹ آؤٹ فرام ہیئر ” زرتاج بے یقینی سے حاطب کو دیکھے جارہی تھی ۔

“تم نے میرا ہاتھ روکا حاطب خان تم سوچ سکتے ہو میں تمہاری اصلیت چٹکیوں میں سب کے سامنے لاسکتی ہوں “

زرتاج کی توپوں کا رخ حاطب کی جانب ہوا تھا ۔

“مجھے قطعاً پرواہ نہیں چاہے آپ اشتہار لگوائیں مگر آج کے بعد آپ زحلے کی جانب نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھیں گی “

حاطب کا انداز دیکھتے زحلے کے دل میں لڈو پھوٹے وہ جو اب تک زرتاج گل کی خاطر اسے منٹوں میں دو کوڑی کا کردیتا تھا آج زحلے کیلئے بھی بولا تھا ۔

زرتاج گل ان دونوں پہ قہر برساتی نگاہوں سے وہاں سے چلی گئی جبکہ زحلے مسرور ہوتی فاتح عالم ٹہری تھی۔

آج وہ جو چاہتا تھا اس نے پا لیا وہ زحلے کو اپنے لیے خود آواز اٹھاتے دیکھنا چاہتا تھا ۔

حاطب نے اسکی جانب اپنا رخ کیا۔

“خیریت کس بات پہ لال انار بن رہیں آپ ؟”ابھی کچھ دیر پہلے والی فرسٹریشن کی جگہ شوخی آسمائی تھی ۔

“کچھ نہیں بس آج اپنے شوہر کو اپنے حق کیلئے لڑتے دیکھ اچھا لگا ہے کیا ہی اچھا ہو جو آپ ؟”

زحلے کا ادھورا جملہ وہ جانتا تھا آج کل اسکی تان کہاں آکے ٹوٹتی تھی۔

“زحلے میں نے آپ سے کہا نا آپ مجھ پہ بھروسہ رکھیں اپنی اور ہمارے آنے والے بےبی کی صحت کا خیال رکھیں ویسے ٹھیک ٹھاک ڈولے شولے بن رہے “

اپنی بات کے اختتام پہ ایک پرمزاحہ چٹکلہ چھوڑا جو اسے بے اختیار کھلکھلا گیا اسے حاطب کا یہ روپ اور تبدیلی اچھی لگ رہی تھی وہی زرتاج کی گلے کی ہڈی بن رہی تھی۔

★★★★★★

روح خانم کے حکم پر پریشہ کو زمداری دی گئی تھی کہ وہ خریم کے سب کاموں میں اسکی مدد کرے گی اب بھی وہ ایک گھنٹے سے اسکی شرٹ بدلنے کی کوشش میں تھی جو ڈریسنگ والی بازو سے پرابلم کررہا تھا اب کے پریشہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا وہ جانتی تھی یہ صرف اسے پریشان کرنے کو کھیل رچایا جارہا ہے ۔

اگلے ہی لمحے خریم کی بلندوپکار پہ سب کمرے کی طرف بھاگے تھے۔

کیا ہوا خریم تکلیف ہورہی ہے کہیں روح خانم اسے پریشان سی دیکھ رہی تھیں ۔

“مورے جان آپکی بہو نے میری فیورٹ شرٹ کا کیا حال کیا ہے”

دوسرے ہاتھ سے شرٹ اٹھائے انکے سامنے کی تو روح خانم نے ہاتھ میں لیے اس شرٹ کو دیکھا جو پچھلے حصے سے کاٹ کر ایک حصے پہ مشتمل تھی اور بازو والی سائیڈ بھی تباہ حال تھی ان سے اپنی ہنسی پہ کنٹرول کرنا مشکل ہوا تھا ۔

“پری بیٹا یہ کیا طریقہ ہے بھلا ؟” وہ جانتی تھیں کہ اگر ایک گھنٹے بعد بھی اسکی شرٹ تبدیل نہیں ہوئی یقیناً انکے بیٹے کا قصور ہوگا مگر پھر بھر جرح کرنا ضروری سمجھا۔

“آنٹی بازو نکالتے انکو تکلیف ہورہی تھی اسیلئے ہم نے یہ کیا “

چہرے پہ چھائی معصومیت خریم کو جھٹکا لگا “میسنی”ساتھ ہی دل میں ایک نئے لقب سے نوازا گیا ۔

روح خانم اسکی الماری سے شرٹ نکال لائیں آج اسے ہاسپٹل چیک اپ کیلئے جانا تھا اسیلئے یہ سب تگ ودو ہورہی تھی۔

“آنٹی میرے خیال سے انکو شرٹ اتارنے میں تکلیف ہورہی تھی تو پہننے میں بھی ہوگی اگر ہم شرٹ کا بازو کاٹ کے اسے کھلا کرلیں ؟”

معصومیت کے آج سارے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے جبکہ خریم جانتا تھا کہ یہ واضع دھمکی ہے

“اگر شرافت سے شرٹ نہ پہنی تو شاید اسکا انجام پہلے والی سے بھی بڑھ کے ہو “

دروازے پہ دستک دیے دیشہ اندر داخل ہوئی ۔

“خانم بیبی باہر آپ سے ملنے گاؤں کی کچھ عورتیں آئی ہیں “

روح خانم اسکا پیغام سنتے باہر کی طرف روانہ ہوئیں ۔

“خریم بیٹا بنا تنگ کیے شرٹ چینج کرلیں بیٹا آپکے داجی انتظار کرہے ہیں ” خریم کو لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی بچہ ہے اور انسٹریکشنز دی جارہی ہیں اپنی ٹیچر کو تنگ نہ کرنے کی ۔

وہ بنا کچھ بولے شرٹ چینج کرنے لگا پریشہ اس پہ فاتحانہ نگاہ ڈالتے جیسے ہی واپس ہٹنے لگی اگلے پل اسکی گود میں آگری تھی۔

“کیا بدتمیزی ہے یہ “خریم اسکی ناگواری کی پرواہ کیے بغیر اس پہ جھکا تھا۔

“ابھی بدتمیزیاں دیکھی کہاں ہیں آپ نے میری جان “

اسکا شوخ انداز پریشہ کو بری طرح بلش کرگیا تھا ۔

“تم بھول رہے ہو کہ شاید میں حاطب خان کی بہن ہوں “

پریشہ اسکے انداز سے گھبراتے جو منہ میں آیا بول گئی لیکن خریم کے ماتھے پہ پڑنے والے بل اسے رئیلاز کرواگئے کہ وہ کہ غلط بول چکی ہے وہ سیدھا ہوتے بیٹھ گیا ۔

“گیٹ آؤٹ فرام ہئیر “

لمحوں کی جسارت اسکے سخت تیور پریشہ کو شرمندہ کرگئے بھلا وہ حاطب اور اسکی نفرت اور دشمنی سے ناواقف تھوڑی تھی ۔

اسے بیٹھا دیکھ وہ خود ہی بنا کسی سہارے کھڑا ہوتا روم سے باہر جاچکا تھا۔

★★★★★★

کئی ایکڑ پہ پھیلی درگاہ کے مرکز میں مقدس بزرگوں کی نعش مدفن تھیں ۔درگاہ کا ایک حصہ عورتوں کیلئے مخصوص تھا جبکہ دوسری جانب مردوں کی آمدورفت کا سلسلہ تھا درگاہ کے گدی نشینوں کے گھر آنے والے عزادادوں کیلئے کھلے تھے۔

جن میں وہ بھی شامل تھی جب اسے کہیں امان نہیں ملی تو وہ اس دربار کی چوکھٹ سے لگ بیٹھی وہ اس دنیا میں لاوارث نہیں تھی مگر اس گھر میں جگہ بنانے کو اس نے خود کو لاوارث ثابت کیا ہر وقت نقاب میں چہرے چھپائے اس لڑکی کی خوبصورتی کا اندازہ ہاتھ پاؤں کی ملائمت اور خوبصورت دراز پلکوں والی کشادہ آنکھوں سے لگایا جاسکتا تھا ۔

ایسے میں گھر کے اندرونی حصے میں آئے سردار خوشحال کی نظر اس کنیز پہ پڑی جو کے خود سے بیگانہ روتے ہوئے اپنے ارگرد کے ماحول سے انجان ہوچکی تھی۔

خوشحال خان کے دل نے ایک ہارٹ بیٹ مس کی اور بے اختیار اسکی جانب قدم بڑھائے۔

“کون ہو تم ؟اور کیوں ایسے رو رہی؟” مردانہ آواز سنتے وہ چونکی سر اٹھاتے چادر ڈھلکی اتنا مکمل حسن شاید وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا مگر جلد ہی وہ اپنا پردہ ٹھیک کرتے چاند چہرہ چھپائے وہاں سے بھاگ گئی تھی ۔

خوشحال خان کو لگ رہا تھا جاتے وقت اس کمرے کی روشنی بھی اپنے ہمراہ لے گئی تھی ۔

شام کو اس درگاہ کی پرانی آیا جان کو بلائے اسکی بابت دریافت کیا تھا۔

“پتا نہیں سردار سائیں جب سے آئی ہے بنا کچھ بولے خاموشی سے کام کرتی رہتی ہے کسی کو اپنے بارے کچھ نہیں بتایا چھوٹی سردار (خوشحال خان کی بیوی) کو شاید سب بتایا ہے ایک دن وہی کہہ رہی تھیں لاوارث ہے اسکا اس دنیا میں کوئی نہیں ۔

آیا جان کی بات سنتے اسکے ہونٹ مسکراہٹ میں پھیلے درگاہ پہ آنے والی لڑکیاں کتنی لاچار یا لاوارث تھیں وہ اچھے سے جانتا تھا وہ لڑکیاں جو گھر سے بھاگ جاتی تھیں” ستی” ہونے کے ڈر سے اپنے قبیلوں سے چھپ کے یہاں بیٹھ جاتیں اسکا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہ ایسی لڑکی نہیں مگر شاید ہی اب کوئی اسے خوشحال خان کی قید سے بچا سکے ۔

آج پھر وہ دربار پہ آیا تھا مگر وہ کہیں نہیں تھی اسکے ساتھ جو عورتیں آتی تھیں وہ بھی اسے نظر نہیں آرہی تھیں اس انسان کی معافی کی طلب میں وہ بھی گھر سے بےگھر ہوچکا تھا اسکی غیر حاضری آنے والے شخص کے دل میں انجانے خدشے پیدا کر رہے تھے۔

وہ ان درگاہوں کی عظمت کو پامال کرنے والے آجکل کے سرداروں کے قصوں سے خوب واقف تھا جب سے اسکے علم میں آیا تھا کہ وہ یہاں پناہ لیے ہوئے وہ روز اس تک رسائی کا در ڈھونڈتا مگر آج وہ پھر اسے اپنے وجود سے محروم کرچکی تھی پھر سے اسے کوئی قابل بھروسہ کوئی بندہ ڈھونڈنا پڑے گا خود پہ طاری ہوتی ہیجانی کیفیت سےگھبراتے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔

★★★★★★

خریم کی بازو کی پٹی کھل چکی تھی اور کافی حد تک اسکے زخم مندمل ہونے لگے تھے اس دن کے بعد اسکا دماغ مختلف سوچوں کی آمجگاہ بن چکا تھا اسکا دل محبت اور نفرت کی چکی میں پسنے لگا ۔

سبز آنکھیں جو پہلی نظر میں اسے کسی آکٹوپس کی طرح گھیر چکی تھیں اب اسکیلئے وبال جان بن رہی تھیں۔

آنکھیں موندے وہ اسی کے بارے میں سوچے جارہا تھا زحلے کی جانب سے ہونے والے خوشخبری اسے بھی مطمئن کرگئی تھی اور جسطرح وہ قدم قدم پہ شیرنی بنے حاطب کیلئے لڑ رہی تھی خریم کو لگ رہا تھا وہ اپنی زندگی سے خوش ہے مگر” زرتاج ” اس سوچ کے آتے اس نے بے چینی سے پہلو بدلا ۔

جس گیم کے تحت اس نے زرتاج سے مراسم بڑھائے حاطب اک جھٹکے میں انکی گیم فلاپ کرگیا اب اسکا شیطانی دماغ بہت سے نئے منصوبے سوچنے لگا مگر پریشہ کی آمد مخل کرگئی۔

بنا اسے دیکھے وہ وارڈروب سے اپنے لیے ڈریس دیکھنے لگی تھی ایک ایک سوٹ اٹھائے خود سے لگاتی ہر پہلو سے خود کو دیکھتی پھر خود ہی ریجکٹ کرتے دوسرا اٹھا لیتی پھر سے وہی عمل دہراتی خریم کا دماغ زرتاج اور حاطب سے ہٹتا اس پہ مرکوز ہوگیا۔

اسکیلئے پریشہ کی حرکتیں زیادہ دلچسپ تھیں وہ اٹھتا اسکے پہلو میں آٹکا مگر پریشہ انجان بنے اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی ۔

خریم نے ہاتھ بڑھائے ایک شفون کا فراک نکالا اسکی جانب بڑھایا وہ سوالیں نظروں سےا سے دیکھنے لگی۔

آج خان حویلی میں زحلے کی گود بھرائی کی رسم کی جارہی تھی جہاں پہ وہ لوگ بھی مدعو تھے مگر وہ خریم کی سوچوں سے انجان ٹہری تھی۔

“میں اتنا ہیوی ڈریس نہیں پہن سکتی “

پریشہ اسکے بڑھے ہاتھ کو نظرانداز کیے صاف انکار کرگئی ۔

خریم نے اسکے ہاتھ میں پکڑے ڈریسز کھنچیتے فرش پہ پھینکے وہ ہکا بکا ٹہری تھی جبھی اسے بیڈ پہ دھیکلے اپنے ہاتھ والا فراک اسے پہ پھینکا ۔

“میری بات سے روگردانی کا سوچیئے گا بھی مت ” اسے وارن کرتا سامنے صوفے پہ جابیٹھا نگاہ اسکے وجود پہ گڑی تھی۔

“ہم آپکے غلام نہیں ہیں کل کو آپ کہیں گے سانس بھی ہم سے پوچھ کے لو تو وہ بھی ہم آپکی مرضی سے لیں “

پریشہ جانتی ایک بار سرینڈر کیا وہ اس پہ۔پوری طرح حاوی ہوجائے گا۔

خریم مسکرا اٹھا تھا اسکی مسکراہٹ پریشہ کا خون جلا گئی ۔

“جلدی کریں ہمیں لیٹ ہورہا ہے ورنہ آپ گھر پہ ہی رہیں گی” خریم نے اچٹکتی نظر اس پہ ڈالے گھڑی کی طرف اشارہ کیا ۔

اسے حیرت ہوئی بھلا وہ کب خان حویلی جانے پہ راضی ہوا مگر پریشہ اسکی وجہ سے اپنا جانا ملتوی نہیں کرنا چاہتی تھی ویسے بھی سب اسے یاد آرہے تھے جب سے یہاں آئی تھی کسی سے بھی نہیں مل سکی تھی۔

خاموشی سے ڈریس اٹھائے تیار ہونے چل دی ۔

ڈریس چینج کیے واپس آئی وہ کہیں نہیں تھا شکر کرتی پارٹی میک اپ کرنے لگی لینز وہ پہلے ہی اپنی آنکھوں میں ایڈجسٹ کرچکی تھی لائٹ گرے لینز اسکے چہرے پہ نیچرل۔لک دے رہے تھے اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیتی آئینے میں اپنا جائزہ لیا۔

وہ کمرے میں آیا نگاہ اس پہ پڑتے واپس پلٹنے سے انکاری ہوگئی دھیمے قدموں سے اسکی جانب بڑھا پریشہ آئینے میں اسکا عکس اپنے قریب آتے دیکھ تھوڑا کنفیوژ ہوئی مگر پھر اگنور کرتی ڈریسنگ پہ پھیلی چیزیں ترتیب دینے لگی ۔

خریم کا دل چاہ رہا تھا وہ پلکیں اٹھائے اسکا دل سبز جھیل جیسی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھنے کو مچل رہا تھا ۔

“چلیں میں تیار ہوں “پریشہ اسے اپنے نزدیک ہوتا دیکھ جلدی سے بولی مگر وہ اسکو اگنور کرتے اسکا ہاتھ چہرے پہ لائے ٹھوڑی سے پکڑے چہرہ اوپر کیا پریشہ کی پلکیں اٹنے سے نکار کرگئیں اور خریم کا دل مچل رہا تھا ۔

“آنکھیں کھولیں پری جان “خریم کا طرز تخاطب وۃ بے ساختہ آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی مگریہ کیا فرط شوق میں اٹھی نظریں پل میں رنگ بدلنے لگیں۔

“کس سے پوچھ کے لینز لگائے تم نے “خریم کا اجنبی لہجہ اسے شاک کرگیا کیا تھا یہ شخص کبھی اسکے القابات پریشہ کی جان نکالنے لگتے تھے اور اب ۔

“وہ ہم بس شوق سے “اس سے کوئی بھی جواب نہیں بن پایا تھا ۔

“ہٹائیں انکو اور آئیندہ کبھی اس گستاخی کا سوچئیے گا بھی نہیں ” پریشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا یہ شخص کیوں اتنا بھڑک رہا ہے ۔

“ہم نہیں۔۔۔”پریشہ کی بات ابھی لبوں پہ ٹہری تھی کے خریم نے ہاتھ رکھے اسکے لبوں کو خاموش کروادیا۔

“شاید آپ کو ابھی کچھ دیر پہلے کا پڑھایا سبق بھول چکا ہے اپنے کہے کو یاد کروانا ہمیں اچھے سے آتا ہے”آج وہ اسکی جان نکالنے کے درپے تھا اور پریشہ پھر سے سرینڈر کرتی نین کٹورے پانی سے بھرے” لینز” اتارنے لگی مگر نمکین آنسو اور اسکی جلدی بازی آنکھوں میں انفیکشن کرگئیں۔

سبز آنکھیں اب کے سرخیاں لیے ہوئی تھیں خریم کو غصہ دلانے میں اس لڑکی نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔

روم فریج سے ٹھنڈا پانی نکالے اسے آنکھیں دھونےکو کہا کچھ ہی دیر میں اسکی ساری تیاری کا ستیاناس ہوچکا تھا۔

“اب اسے جلدی نہیں ہے “وہ جلتی کڑھتی اسکے حکم۔کی تعمیل کیے جارہی تھی جسکے مطابق آنکھیں بند کیے اسے انکو اب سکون دینا چاہیئے ۔

“نجانے اس شخص کو کیا مسئلہ ہے جو اک چھوٹا سا مسئلہ بھی شدت اختیار کرجاتا “پلکیں موندے نقچاہتے ہوئے بھی وہ اسے سوچے جارہی تھی۔

جبکہ خریم اسے دیکھنے میں مگن تھا گرےاور بلیک کلر کا شیفون کا فراک جس پہ ایمبرائڈری کا کام کیا ہوا تھا اس پہ جچ رہا تھا خان حویلی تو وہ اسے ویسے بھی نہیں بھیج رہا تھا جبکہ وہ اسکا ٹرپ بھی اب خراب کرچکی تھی ۔

★★★★★★

الٹرا ساؤنڈ رپورٹ ہاتھ میں لیے وہ چہرے پہ تناؤ لیے بیٹھی تھی ڈاکٹر نے اسے بیٹی بتائی تھی۔

حاطب اس پہ بھی خوش تھا مگر اسے ایک اور زحلے زندان میں تڑپتی نظر آرہی تھی۔ایک ہیولہ زرتاج اسکا بی پی شوٹ کرگیا ڈاکٹر نے اسے صاف لفظوں میں کہا اگر وہ اپنی لایعنی سوچوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرے گی تو اسکے بچے کے بچنے کی امید کم ہے حاطب سے وہ کئی بار جھگڑا کرچکی تھی مگر وہ اسکا ہر رویہ اگنور کیے مکمل دلجوئی کی کوشش میں لگا رہتا ۔

“حاطب کل کو وہ اپنے باپ،بھائی یا چاچو کے نام پہ ونی ہوجائے گی نہیں میں اسے پیدا ہوتے مار دونگی میں اپنے وجود کو ایسے رلتے نہیں دیکھ سکتی ۔”

آج پھر سے اس پہ پاگل پن کا دورہ پڑا تھا جو حاطب کا گربیان پکڑے چیخے جارہی تھی اتنی دیر سے کیا گیا بحث مباحثہ حاطب کو ہائپر کر گیا ۔

“چٹاخ”کی آواز پہ وہ بے یقینی سے اپنے گال پہ ہاتھ رکھے حاطب کو دیکھے جارہی تھی۔

وہ جو اس سے وعدہ کرچکا تھا کبھی اس پہ ہاتھ نہیں اٹھائے گا ایک لمحے کو شرمندہ ہوگیا مگر اسکی ہٹ دھرمی اور ضد حاطب کو مسلسل ڈپریشن کا شکار کررہی تھی۔

“آئی۔ایم سوری زحلے میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آپ میری بات نہیں سمجھ رہی ہیں ،میں خود اس فرسودہ رسم کے خلاف ہوں دارا جان آخری سانس تک اس رسم کے خلاف لڑتے رہے میں بھلا کیوں اپنی بیٹی پہ وہ ظلم کرونگا جو میں اپنے لیے اسکی ماں کیلئے پسند نہیں کرتا۔ “

زحلے نے بھیگی پلکیں اٹھائیں حاطب کا دل ان پلکوں میں الجھ کے رہ گیا اسے خود سے قریب کیے تسلی دینے لگا۔

“گل بانو کو زحلے سونپنا ایک طرح سے دارا جان کا حفاظتی بند تھا زرتاج کے ظلم و ستم سے بچانے کو اس حویلی میں آپ رہتیں تو شاید ہم ارباب لالہ کو اتنی جلدی نہ بھولا پاتے اور جسکے نام سے آپ یہاں آئیں وہ تو جوانی کی دہیلز پار کرتی زحلے کا دیوانہ ہوگیا ۔”

ماحول کا تناؤ کم کرنے کو شرارتی انداز میں اس پہ جھکا زحلے کے ہاتھوں میں اسکا اظہار سن پسینہ آنے لگا مگر اسے حاطب کو سننا اچھا لگ رہا تھا ۔

“زحلے میں کبھی آپکو ایک ونی کی ہوئی لڑکی جیسی زندگی نہیں دینا چاہتا تھا مگر وقت اور حالات کی گردش نے مجھ سے لڑنے کی ہمت چھین لی کہتے ہیں جب لڑائی اپنوں سے ہوتو ہار جانا بہتر ہے میں بھی ہارتا آیا ہوں زحلے مگر شاید اب میں مضبوط ہونے لگا ہوں جانتی ہو اسکی وجہ ؟”

زحلےکے سر سوال ڈالا اسنے نفی میں سرہلایا۔

“اسکی وجہ یہ ہے ” حاطب نے نرمی سے اسکے پیٹ پہ ہاتھ رکھے دوسرے وجود کو محسوس کرنا چاہا جبکہ وہ اسکی بے اختیار حرکت پہ بلش ہوتی نظریں جھکا گئی حاطب ابھی بھی کھویا کھویا سا تھا۔

“میری اولاد حاطب خان کی اولاد زحلے مجھے آنے والا وقت آگاہ کررہا ہے مشکلات سے نئیے چیلنجز سے ہم نے پریشہ اور دائم کو اولاد کی طرح پالا مگر وہ پھر بھی ہمارے چچا زاد رہیں گے مگر یہ “

یہ میرا وجود ہے حاطب خان کا وجود جب آپ اس ایسی باتیں کرتی ہیں گویا ہم سے زندگی چھیننے کی بات کرتی ہیں “

وہ حیران سی اس کم گو حاطب خان کو دیکھے جارہی تھی بیشک وہ انسان اپنے اندر بہت گہرے احساس چھپائے بیٹھا تھا ۔

زحلے نے سرشار انداز میں اسکے کندھے پہ سر ٹکایا جب حاطب خان کا ساتھ ہے تو وہ بھی دنیا کی ہر طاقت سے لڑنے کی ہمت خود میں پا رہی تھی۔

“If I had to choose between loving you and breathing I use my last breath to say you I love u.”

حاطب کی بات جہاں اسے لرزا گئی وہیں شانت بھی کرگئی ۔

“کہتی ہوں نا حاطب خان پہ صرف میرا حق ہے تو اسکی آخری سانس بھی میری مرضی سے ہوگی “

اعتماد سے بھرپور لہجہ حاطب کو مسکرانے پہ مجبور کرگیا ۔

“جی آپ ہی تو ہیں میری آخری سانسوں کی وارث ہیں مگر اس سے پہلے مجھے اس گھر کو مکمل کرنا ہے آپکے ساتھ مل کے”

اسکے ماتھے پہ اپنے لب ٹکائے وہ بھی مطمئن تھا زحلے نے اپنے صبر سے آج اس شخص کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنا اسیر کرلیا تھا۔

★★★★★★

درگاہ سے واپس آتے اسے لگ رہا تھا وہ اسے پھر سے کھوچکا ہے روتی ہوئی عورت پہ کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیئے مگر روتے ہوئے مرد سے زیادہ تو کوئی سچا نہیں ہوسکتا وہ رو رہا تھا ۔

اسکا دل گواہی دے رہا تھا آج وہ اسے ہمیشہ کیلئے دنیا کی اس بھیڑ میں گم کرچکا ہے قدرت نے اسے ایک موقع دیا تھا اسے منانے کا مگر وہ اپنے ہاتھ سے گنوا چکا تھا۔

گاڑی کو تیز رفتاری میں دوڑائے آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرنے لگا تبھی سامنے سے آتی عورت کو نہیں دیکھ سکا جو اسکی گاڑی سے ہٹ ہوتے دور جاگری تھی ۔

ایک دم ہوش میں آتے گاڑی روکے وہ اس جانب بھاگا سیاہ

سیاہ چادر میں ملبوس چہرہ ڈھکا ہوا تھا مگر خون اسکے سفید لباس کو رنگنے لگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *