Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 13)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 13)
Qirtaas by Uzma Mujahid
وہ معجزے سکوت کے ہم کو بھی عطا کر
ہم حالِ دل سنائیں مگر گفتگو نہ ہو __
وہ جب سے یہاں آیا تھا آئے روز کوئی نہ کوئی گولی کا نشانہ بنتا مردہ وجود سے یہاں سے لے جایا جاتا ان صعبوتوں میں انکی آوازیں اس سے بھی زیادہ درد سے لبریز ہوتیں مگر شاید وہ شخص رحم کرنا نہیں جانتا تھا ۔
یہ اک طرح کا ٹارچر سیل تھا جہاں پہ ہر طرح کی اذیت کو یہاں کے لانے والوں کا مقدر کیا جاتا ہر ہفتے یہاں پہ اک جیل سے قیدی نکالا جاتا گلے میں نکھیل ڈالے ہاتھوں پاؤں تک ایک ہی زنجیر میں جکڑے فرد کو ان کوٹھڑیوں کے سامنے سے گزارا جاتا جو نئے آنے والوں کیلئے عبرت کا باعث بنائے جاتے اور پرانے اپنے قیدی ساتھیوں کی یہ صعوبتیں دیکھ اپنے جرم کی نوعیت اور انجام کے منتظر رہتے ۔
مگر آج برسوں بعد کچھ ایسا تھا جو سبکو چونکا گیا حتٰی کہ اس جرمن شپرڈ کا مالک بھی چونکا تھا مگر اب کے زنجیر کے ساتھ آتے شخص اور قیدی کو دیکھ گہرا سانس لیتا وہ پھر سے اس قیدی کی جانب متوجہ ہوا جسکو ٹارچر کرنا شاید اسکا پسندیدہ کام تھا۔
کچھ ہی دیر میں اسکی چیخیں معافیاں التجائیں ساتھ والی کوٹھڑی کی آوازوں کو دبا گئیں جہاں پہ اک عورت اپنی ممتا کے واسطے دیتی رحم کی بھیک مانگ رہی تھی مگر اس زنجیر کا مالک بے حس بنا اس پہ کوڑے برسائے جارہا تھا جیسے وہ شخص سماعتیں نہ رکھتا ہو ۔
وہ عورت جسمانی اذیت کے ساتھ بے یقینی کو بھی سہہ رہی تھی وہ دنیا کے ہر مرد سے ایسی توقع کرسکتی تھی مگر اس سے نہیں کیونکہ وہ ماں تھی ساتھ والی کوٹھڑی کے قیدی کا مالک اس نئی قیدی اور اسکے مالک کو تاسف سے دیکھتے باہر نکل گیا اب کے عورت کی آنکھوں میں واضع حیرت تھی کیا وہاں پہ موجود ہر شخص ہی بے پہرہ تھا اسیلئے آواز لگانا بےکار تھا ۔
ہر کوٹھڑی میں موجود قیدی کا مالک اسے ہر طرح کی اذیت دینے کو آزاد تھا اکثر یہاں پہ وہی لوگ تھے جو زندگی کی تلخیوں کو جھیلتے اپنے اندر کے انسان کو مارے جلاد بن چکے تھے آج سے پہلے یہاں پہ کوئی عورت نہیں لائی گئی تھی مگر اس پہلی عورت نے اس کوٹھڑی میں نسوانی وجود کیلئے بھی راہ کھول دی تھی کیونکہ یہاں کے مالک کا اپنا قانون تھا اپنے اصول تھے ۔
★★★★★★
“خان لالہ خریم خان پہ پہ قاتلانہ حملہ ہوا ہے اور وہ نازک حالت میں ہاسپٹل داخل ہیں “
ریشمہ کی بات سنتے وہ بے حال انداز میں زمین پہ بیٹھی تھی حاطب اسکی آنکھوں کی بے اعتباری دیکھ کرلا ساگیا تھا۔
“زحلے تم ٹھیک ہو ” اسکی جانب بڑھتے زمین پہ گھٹنے ٹیکے اسکے برابر بیٹھا _
“تت تم قاتل ہو دد دور رہو مجھ سے “
زحلے چیختے ہوئے اسکا ہاتھ جھٹک گئی۔
“دھد دھوکا دد دیا مم ماردیا۔”
ایک دم سے پھبری شیرنی کی طرح اس پہ جھپٹتے اسکا گربیان ہاتھوں میں پکڑے اسے جھنجوڑنے لگی ۔
“کیا کہہ رہی ہیں ہوش میں ہیں آپ میں بھلا کیوں ایسا کرونگا اور” .
حاطب کی اسکی نظروں کے تعاقب میں دروازہ ایستادہ پریشہ اور اندر آتی مورے جان کو دیکھا اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ کھڑا ہوا۔
” مورے جان “
مگر دوسرے ہی لمحے چٹاخ کی آواز کے ساتھ پڑنے والے تھپڑ سے اسنے سختی سے اپنے ہونٹ بھینج لیے۔
“شرم آرہی مجھے حاطب خان یہ غیرت ہے تمہاری نکاح کرچکا ہے وہ پریشہ سے نجانے وہ اس رشتے کو نبھاتا یا ختم کردیتا تم نے ہی ننواتا چاہا تھا پھر اب ؟”
زحلے کے بعد مورے جان کا ریکشن حاطب کو بے اعتباری کے دریا میں سلگائے جارہا تھا۔
شدت جزبات سے دروازے کی جانب بڑھا جہاں پہ پریشہ زرد چہرہ لیے اسے اور زیادہ ہائیپر کرنے لگی تھی ۔
زحلے روتے ہوئے مورے جان کے گلے آلگی وہ جو ان سے نام کے رشتوں کی دعویدار تھی خریم کا سنتے ٹوٹ کے بکھر رہی تھی خریم سے اپنائے رویے کی بدصورتی اسکو کچوکے لگائے جارہی تھی ۔۔
شادی کے ہنگامے شروع ہوتے ہی سرد پڑگئے تھے ۔
حرمت لالہ کے ہمراہ مورے جان ہاسپٹل چلی گئیں۔
★★★★★★
آئینے کے سامنے بیٹھی بےرونق نگاہوں سے اپنا سولہ سنگھار دیکھے جارہی تھی اسکیلئے بھی یہ کسی شاک سے کم نہیں تھا نفرت اپنی جگہ مگر اس نے خریم خان کے نقصان کا بھی نہیں سوچا تھا اک بےنام آنسو اسکے رخسار پہ آرکا ۔
آئینے میں نظر آتے اپنے دھندلا پڑتے عکس کی وجہ سمجھتے اس نے آبکھوں کو صاف کیا۔
“نہیں پریشہ وہ شخص یہی ڈیزرو کرتا تھا ہماری بیٹی کو تڑپایا تھا اس نے “
زرتاج گل کی آواز پہ چونکتے ہوئے کھڑی ہوئی ۔
“تم رو رہی پریشہ اک ایسے شخص کیلئے جس نے تمہاری عزت کو دغدار کردیا “
زرتاج گل کی آواز پہ وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔
“شوہر ہے وہ میرا بھلا کونسا شوہر اپنی بیوی کی عزت کو دغدار کرتا ہے وہ تو محافظ ہوتا ہے بھابھی ماں “
اختلاف اپنی جگہ مگر وہ زرتاج گل سے ہارنا نہیں چاہتی تھی۔
“یہ کیسی بات کررہی ہو پریشہ وہ قاتلوں کے خاندا”
“بس کردیں آپ ہر کوئی یہاں قاتل ہے مجرم ہے آپکیلئے ہر کوئی اپنے انجانے گناہوں کا کفارہ ادا کررہا ہے سچ کیا ہے کون قاتل ہے کون معصوم نکل آئیں اس چیز کی جنگ سے آپ…خدا کیلئے ہاتھ جوڑ رہی ہوں میں آپکے سامنے جائیں آپ یہاں سے مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں”
زرتاج کی بات درمیان میں کاٹتے وہ اس پہ چیخی تھی وہ جب سے واپس آئی تھی پہلی بار زرتاج نے اسکی آواز سنی تھی۔
“پریشہ میرا بچہ تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟”
اب کے زرتاج گل کا انداز تھوڑا نرمی لہے ہوئے تھا۔
اسکے بدلے تیور دیکھ وہ وہاں سے ہٹ گئی جبکہ پریشہ نوچ نوچ کے اپنا زیور اتارنے لگی سسکتے ہوئے بیڈ پہ گری
“جو ہورہا تھا قسمت کا لکھا منظور کرلیا تھا پھر یہ امتحان کیسا میرے رب۔”
★★★★★★
“تمہاری آزادی کا پروانہ آیا ہے.”
ٹارچر سیل میں مقید اس عورت نے کانپتے ہوئے سامنے موجود اپنے بیٹے کو دیکھا ۔
“جانتی ہیں آپ آپکی موت میں آسانی پیدا کی ہے میں نے
بیٹا ہوں نا اپنی ماں کو اس کال کوٹھڑی میں سسکتے نہیں دیکھ سکتا ۔”
اس نے ہاتھ میں پکڑی پٹاری کھولی اور اک سانپ زمین پہ چھوڑتے اس کمرے سے نکل گیا اب یہ اس عورت کی قسمت پہ تھا کہ وہ زندہ رہتی یا مرجاتی کیونکہ نہ تو اس سیل میں عورت کے نکلنے کا راستہ تھا نہ ہی کالے رنگ کے اس سانپ کا۔
جرمن شفرڈ کا مالک آج پھر اپنی کثافت اس قیدی پہ نکال رہا تھا جیسے ہی اپنی کاروائی مکمل کرتے وہ واپس گیا کچھ دیر بعد اس شخص کے مرنے کی اطلاع اسے پہنچ گئی تھی ۔
“کسی بھی چوراہے پہ اسکی لاش لٹکا دو یا کتوں کے آگے پھینک دو تاکہ لوگوں کو پتا چل سکے غدار کی سزا اور اسکا انجام کیا ہے ۔”
تنفر بھرے انداز میں کہتے اس شخص کا لہجہ پور پور نفرت سے چور تھا ۔
“ہنہ خس کم جہاں پاک”
★★★★★★
ہاسپٹل کے کوریڈور میں موجد داجی اپنے اکلوتے وارث کو زندگی موت کی جنگ لڑتے دیکھ سرجھکائے بیٹھے تھے بھلا انہوں نے کیسے اتنا بڑا دھوکا سہہ لیا حاطب خان کی سوچ آتے ہی انکے جسم میں غصے اور اضطراب کی شدید لہر دوڑی تھی تبھی ڈاکٹر نے باہر آتے بلڈ ارینج کرنے کو کہا او نیگٹو جتنا رئیر تھا وہاں سب کو اندازہ تھا ۔
تبھی حاطب خان زحلے کو لیے وہاں پہنچا کتنی مشکل سے وہ اسے بہلائے پھسلائے یہاں لایا تھا جو ذرا بھی اس پہ اعتبار نہیں کررہی تھی۔
روح خانم نے اسے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا حاطب بیٹی کے بعد اب ماں کو کسی قسم کی جسٹیفیکشن کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔
“دیکھیں اگر آپ لوگ بلڈ ارینج نہیں کرسکے تو بہت مشکل ہوجائے پیشنٹ کیلئے-“
ڈاکڑ کب سے داجی سے بحث میں مصروف تھا جو شاید اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں پارہے تھے۔
“کونسا بلڈگروپ ہے پیشنٹ کا ؟”
حاطب کے پوچھنے پہ سبھی اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے “او نیگٹو”
ڈاکٹر کے بتانے پہ وہ انہیں سائیڈ پہ لے گیا تھا جبکہ داجی اسے گھور رہے تھے ۔
زحلے نے روح خانم کے کندھے پہ ہاتھ رکھا وہ تڑپتے اسے گلے سے لگائے رودیں ۔
“ماں حاطب نے خریم لالہ پہ حملہ نہیں کروایا .”
زحلے کی بات پہ دادی اور داجی نے بھی اسے دیکھا۔
“تم کس بنا پہ اسکی گارنٹی دے رہی ہو لڑکی جبکہ خریم کی اسوقت اسکے علاوہ کسی سے کوئی دشمنی نہیں “
داجی نے اکھڑ لہجے میں کہا۔
“ہوسکتا ہے یہ سب حاطب کو پھنسانے کو کسی نے سازش رچی ہو ؟”
وہ پھر سے اس شخص کی وکیل بنی ہوئی تھی جس نے کس کل اسے سکون نہیں دیا تھا تبھی ڈاکٹر نے انہیں خریم کے خطرے سے باہر ہونے کی نوید سنائی سب نے سجدہ شکرانہ ادا کیا حاطب اسے چھوڑے وہاں سے چلا گیا تھا ۔
ہوش میں آتے ہی خریم نے پریشہ کو اپنے پاس لانے کی ضد شروع کردی داجی اور باقی سب اسکی عقل پہ افسوس کرنے لگے ۔
“بیٹا ہم مکمل رسمورواج سے اسے رخصت کرکے لائیں گے۔”
دادی کی بات پہ پھر سے سر نفی میں ہلایا زحلے بھی اسکی منتطق پہ پریشان ہو اٹھی اسے اپنے لیے یہ ایک نیا امتحان ہی لگ رہا تھا اگرچہ وہ خریم کے ہوش آنے کے بعد پھر سے سب کے ساتھ اس نے اپنا رویہ نارمل رکھا تھا مگر خریم کی ضد پھر سے اسے اپنے رویے پہ لوٹنے پہ مجبور کررہی تھی ۔
داجی ناچاہتے ہوئے بھی حاطب کو کال کرنے پہ مجبور ہوگئے تھے حاطب انکی بات سنکے کچھ لمحے خاموش ہی رہا تھا۔
“آپ اپنی امانت لے جائیں داجی۔”
حتمی لہجے میں کہتا زنان خانے کی طرف بڑھا تھا۔
“مورے جان پریشہ گل کی رخصتی کی تیاری کریں کچھ دیر میں داوڑ خاندان اسے لے جائے گا ۔”
پریشہ کو لگا کسی نے اسے آسمان سے دھکا دے دیا تھا۔ “کیوں ؟بھلا کیسے لالہ اسے ایسے گھر سے کسی فالتو شے کی طرح نکال باہر کرسکتے تھے ۔”
زرتاج بھی حواس باختہ اسکی طرف بڑھی۔
“حاطب خان اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو خریم پہ حملہ کیوں کروایا ؟”
“ہم کسی کے جواب دہ نہیں ہیں زرتاج گل اور خریم پہ میں نے حملہ نہیں کروایا کیونکہ حاطب خان اتنا بغیرت نہیں جو پیٹھ پیچھے وار کرے مگر جو بھی اس سب کے پیچھے رہا ہے خریم خان تو شاید اسے بخش دے مگر اب حاطب خان اسے نہیں چھوڑے گا۔ “
اک لمحے اسکے سامنے رکتے آگے بڑھ گیا ۔
کچھ دیر بعد داجی پریشہ کو لینے آئے مورے جان اسے گلے سے لگائے کتنی دیر روتی رہیں ۔
“پریشہ وہاں پہ تم زحلے نہیں بنو گی کیونکہ وہاں زرتاج گل جیسا کو فریق نہیں ہے ،ہاں مگر تم زحلے بنو گی کیونکہ تم بھی غلط فہمی کی بھینٹ چڑھنے لگی ہو۔”
خود پہ ضبط کرنے کے باوجود اسکی آواز بھرا گئی تھی بھلا وہ خانوں کی بیٹی اور بیوی کیا انکے مزاج سے واقف نہ تھی پھر کیونکر اپنی سکھی کو جھوٹے دلاسے دیتی ۔
“زحلے ہم اتنے مضبوط نہیں ہیں۔ “
پریشہ گل کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے زحلے تو بچپن سے ظلم سہنے کی عادی تھی مگر وہ کلیوں جیسی معصوم لڑکی اپنے آنے والے وقت پہ سہمی تھی کچھ فرق نہیں رہ گیا تھا ونی شدہ لڑکی اور اس میں۔
داجی اور باقی سب نے اسے خریم کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا تھا پریشہ کو اپنی قسمت پہ ہنسی آئی انوکھا نکاح ،انوکھی شادی اور اب انوکھی رخصتی جہاں وہ دلہن بنی ہاسپٹل میں موجود تھی۔
خریم نے سامنے موجود معصوم مرجھائی کلی کو بغوردیکھا ۔
“ادھر آؤ میرے پاس۔ “
آواز میں تحکم تھا اور کچھ اسکی حالتزار پہ رحم خریم کی بات سن وہ اپنے من بھر کے ہوتے قدم اسکی جانب اٹھائے ۔
“کیسا لگا میرا سرپرائز ؟”
آنکھ دباتے ہاتھ اسکی جانب بڑھایا پریشہ چپ رہی جیسے آج نہ بولنے کی قسم کھائی ہو ۔
“اک اور کہانی سنو گی ؟”
خریم کا شرارتی انداز ہنوز برقرار تھا اگر وہ اس شخص کا دوسرا روپ نہ دیکھ چکی ہوتی تو یقیناً اسے اک خوش مزاج آدمی سمجھتی ۔
“جانتا ہوں نہیں سننا چاہو گی لیکن میں پھر بھی سنانا چاہتا ہوں اب کے اس کہانی کے ولن زرتاج اور حاطب خان نہیں بلکہ ۔”
معنی خیز انداز میں کہتے اپنی بات ادھوری چھوڑی ۔
“خریم خان داوڑ ہے”
کیسے ؟ یہی سوچ رہی ہو نا تم ؟”
خریم خان خود سے ہی سوال اور جواب کا سسپنس کریٹ کیے جارہا تھا ۔
“وہ ایسے کہ اب کے قاتل اور مقتول خود خریم خان ہی ہے۔ “
اپنی بات مکمل کرتے وہ بے ڈھنگے پن سے قہقہ لگانے لگا۔
پریشہ ہونٹ بھینچے اسکی شکل دیکھنے لگی جیسے وہ اسکی بات سمجھ ہی نہ پائی ہو ۔
“خریم خان پہ حملہ کرنے والے شخص کو جانتی ہو ؟”
مسلسل وہ خود ہی بولے جارہا تھا ۔
پریشہ نے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے نفی میں سر ہلایا ۔
“جان بھی کیسے سکتی ہو کیونکہ اپنا قاتل میں خود ہی تو ہوں ۔”
مبہم انداز میں کہتا وہ ہنس پڑا جبکہ اک لمحے کو پریشے کو لگا اس شخص کا دماغ خراب ہوچکا ہے مگر کچھ کلک ہوا وہ بت بنی اس شخص کو دیکھ رہی تھی جس نے یقیناً حاطب کو جھکانے کیلئے خود کو زخمی کیا تھا بھلا اس شخص سے بڑھ کے بھی کوئی خبطی انسان ہوگا ۔
“وہ مشہور مقولہ تو تم نے سنا ہی ہوگا ؟”
“ایوری تھنگ از فئیر ان لوو اینڈ وار ۔”
ایک بار پھر وہ ان سب کو زیر کرچکا تھا وہ شخص “ان بلیوایبل پرسن” کے زمرے میں آچکا تھا جو دوسروں کو نیچا دکھانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا تھا۔
★★★★★★
درگاہ کی چوکھٹ پہ بیٹھا وہ شہزادوں کی آن بان لیے شخص ہر آنے والے کو اپنی جانب ضرور متوجہ کررہا تھا مگر وہ ہر کسی سے بےبہرہ تھا اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا
کہ کون اس کے بارے کیا سوچ رہا ہے لوگوں کی آنکھوں میں ابھرتے سوالوں سے وہ انجان نہ تھا مگر جسکی نظر کامنتظر تھا وہ انسان بنا اس پہ کوئی کرم کی نگاہ ڈالے آگے بڑھ گیا وہ جانتا تھا کہ یہ سائل صرف اسکی کرم نوازی کا منتظر ہے مگر وہ اپنے گزرے ماہ سال کو بھلا نہیں پا رہا تھا یا شاید اسے ہر روز کے رستے اپنے زخموں سے الفت ہوچلی تھی جن پہ کبھی کھرنڈ آنے نہیں دے رہا تھا ۔
