Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 21)

Qirtaas by Uzma Mujahid

ہم سماعت کو ہتھیلی پہ لئے پھرتے ہیں

‏تیری آواز میں کوٸی تو پکارے ہم کو

‏تو ہے وہ قیمتی نقصان جو راس آیا ہے

‏اچھے لگتے ہیں ترے بعد خسارے ہم کو

وہ سبز روش پہ چلتی مردان خان کی طرف آنکلی مگر اندر سے آتی آوازیں سنتے جیسے تھم سی گئی۔

“داجی بس ایک بار مجھے ان سے ملنے دیں مجھے یقین ہے وہ مجھے پہچان لیں گی وہ مجھے کیسے بھول سکتی ہے ۔”

نم آواز اسکے دل کے تار ہلا گئی ۔

“تو کیا وقت آگیا تھا وہ شخص کی کرنیاں معاف کردے ؟اتنا بڑا جگرا تو نہ تھا اسکا آنکھوں کے سامنے سب کے پریشان چہرے گھومے مگر وہ ہی کیوں؟آخر وہ کب تک سب کیلئے اپنی زندگی قربان کرے مگر وہ اس شخص کو بہت کڑی سزا دے چکی تھی

وہ بھی باقی سب کی طرح اتنا ہی انجان تھا جتنا کے وہ ۔”

زحلےنہیں جانتی تھی کہ داجی اسے ملنے کیلئے کیا جواب دے رہے تھے مگر اس نے اسکی تمام خطائیں معاف کرتے اسے ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ۔

اپنے اسی روپ میں جہاں باقی سب جھوٹے سچے من گھڑت قصے سنا کے اسکی یاداشت واپس لانے کی کوشش کرتے رہے تھے وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ شخص کیا کرے گا جسکے پاس واقعی کچھ حسیں لمحے اور یادیں تھیں۔

‏ہم ايسے خاک نشيں کب لبھا سکيں گے اُسے

وہ اپنا عکس بھی… ميزانِ زر ميں تولتا ہے

باہر نکلتے حاطب کی نگاہ اسے دیکھتے ٹھٹکی اور جہاں ابھی اسکا دل حاطب کی خطائیں معاف کرنے کے بلندوبانگ دعوے کررہا تھا ایسے میں دماغ نے فوراً اسے واپس اپنے خول میں سمٹنے کا اشارہ کیا۔

آج اتنے مہینوں بعد وہ پردہ نشین محبوب اسکے سامنے تھا وہ اپنے بے اختیار ہوتے قدموں کو روک نہیں پایا داجی نے اسے ملوانے سے انکار کردیا تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ زحلے اس سے مل کے کسی کرب ناک لمحے کا شکار ہو۔

دوزانو فرش پہ بیٹھا وہ شخص اسکے پورے وجود کو جھنجوڑ گیا وہ شخص اسکی محبت تھا جسکا ہر درد اس نے امرت سمجھ کے پیا تھا وہ دوقدم پیچھے ہٹی ۔

“زحلے ہمیں معاف کردو صرف ایک بار ہم اپنی تمام غلطیوں کا ازالہ کردیں گے مگر ہمیں اتنی کڑی سزا مت دو خدا کیلئے۔”

وہ حاطب خان جو ہروقت ایک مخصوص جاہ و جلال میں رہتا آج وہ پھر سے سائل بنا اسکے سامنے تھا زحلے کا دل کیا وہ ہر چیز بھلائے اس پیارے شخص کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیے مگر خود پہ ضبط کے کڑے پہرے بٹھائے جو بولا حاطب کو لگا کسی نے اسی گہری پاتال میں پھینک دیا ہو۔

آ آپ کون؟” اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا تو کیا داجی ٹھیک کہہ رہے تھے وہ واقعی اسکی غلطی سے اپنی یاداشت کھوچکی ہے ۔

“زز زحلے پپ پلیز ایسے نہ بولو آپ کو ہمیں جو سزا سنانی ہے سنا دیں مگر ہم سے یوں انجان ہونے کا نہ کہیں کک کیسے بھول سکتی ہیں آپ ہمیں ہم تو وہ ظالم ہیں جنہوں نے ہر پل ایک خوبصورتی کلی کو مسلا ہے۔”

ہجر کا کرب اسکی آنکھوں سے عیاں ہوا تو آخری کلمات کسی سرگوشی کی مانند اسکے لبوں سے نکلے محبوب لاکھ آپ کو بھول جانے کا دعویدار ہو مگر جب سامنے آجائے تو لازم ہے کہ اپنے کڑے وقتوں میں گزارے ہجر کی داستان سنا کے اس سے محبت مستعار لی جائے مگر یہاں دونوں دھڑکتے دل ایک ہی لے پہ دھڑک رہے تھے ایک جیسا ہجر دونوں نے سہا تھا مگر ان کا ملن ایسا ملن تو حاطب کو بھی منظور نہ تھا ۔

داجی باہر آئے تو سامنے موجود لوگوں کو دیکھ جھٹکا لگا تھا انہوں نے نگاہ زحلے کے چہرے پہ کی جہاں سوائے الجھنوں کے کچھ بھی نہ تھا۔

“حاطب خان ہم نے تمہیں بتایا نہ کہ تم سے جڑا اس گھر کا واحد مکین اپنی یاداشت کھو چکا ہے ہم سب کے پاس سوائے پچھتاووں کے کوئی ازالہ نہیں۔”

وہ جھکے کندھوں سے وہ بولے بے بسی کی آخری انتہا پہ کھڑے تھے زحلے کے لب مہربہ تھے اسکو سمجھ آرہا تھا کہ وہ اپنے لیے کتنی بڑی مشکل کھڑی کرچکی تھی ۔

“داجی یہ شخص کون ہے؟” اگرچہ انجان بننا اب ممکن نہیں رہا تھا مگر پھر سے حاطب کو انگاروں پہ کھینچا تو ہوش میں آیا تھا۔

“آپ ہمیں کیسے بھول سکتی ہیں زحلے ہم شوہر ہیں آپکے۔”

باوجود ضبط کی کوشش کے بھی اسکا ضبط چھلکا تھا۔

“اگر آپ ہمارے شوہر ہیں تو ہمیں یہاں کیوں بھیج دیا؟”

اس نے الٹا سوال داغ دیا جس وہاں پہ موجود دونوں افراد لاجواب ہوئے۔

“کیونکہ یہ آپکا میکہ ہے زحلے اور اب ہم آپ کو لینے آئے ہیں جہاں آپکا سب انتظار کررہے۔”

وہ کسی بچے کی طرح اسے پچکارتے قریب ہوا اور دونوں ہاتھ پکڑے ۔ داجی کے سامنے اتنی بولڈینس اس کے چہرے پہ کئی رنگ چھلکا گئی تھی مگر چہرہ جھکاتے ان کا عکس چھپا گئی مگر حاطب کی نظروں سے اسکی کیفیت چھپی نہیں رہی جو اسے چونکا گئی تھی۔

اسے کیوں لگ رہا تھا کہ زحلے جھوٹ بول رہی تھی وہ کچھ بھی نہیں بھولی جہاں پہ اسے حاطب کا ہاتھ جھٹکتے خود سے دور کرنا تھا وہاں اسکا ایسا ریکشن زحلے نے بھی جیسے اسکی سوچوں تک رسائی حاصل کرتے جلدی سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑائے۔

“آ آپ جھ جھوٹ بب بول رہے ہیں ۔”

بے ہنگم ہوتی دھڑکنیں لفظ ساتھ دینے سے انکاری تھے۔

وہ بنا اسے دیکھے اندرونی حصے کی جانب بھاگی تھی۔

پتا نہیں اس نے کیا کہہ کے داجی کو اسے اپنے ساتھ لے جانے پہ راضی کرلیا ۔

دیشہ اسے داجی کا مژدہ سنائے کب کی جاچکی تھی۔

وہ دل وماغ میں چھڑی جنگ سے پریشان ہو اٹھی۔

“زحلے ہم سب یہی چاہتے ہیں کہ تم خان حویلی جاؤ شاید تمہیں وہاں رہتے کچھ یاد آجائے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصّہ جہاں گزار کے آئی ہو۔”

روح خانم کی بات پہ وہ اندر ہی اندر تلملا گئی۔

“صاف الفاظ میں کہیں نا کہ جہاں زندگی کا بدترین عرصہ گزارا ہے. “

مگر بنا کچھ بولے سرد نظریں روح خانم پہ گاڑیں۔

وہ اب ان لوگوں کیلئے بھی مزید آزمائش نہیں بننا چاہ رہی تھی اور شاید اسکے اس قدم سے خریم اور پریشہ کی زندگی میں بھی بدلاؤ آجائے ایک بار وہ پھر سے رخصت ہوتے خان حویلی آچکی تھی۔

مورے جان کتنی دیر اسے خود سے لپٹائے روتی رہیں ساتھ زرتاج کو برا بھلا کہتے اسے بددعاؤں سے نوازنے لگیں تھیں۔

“بس کریں مورے جان زحلے کی ذہنی کیفیت ایسی نہیں ہے کہ وہ کچھ بھی سوچ سمجھ سکے آپ بھی ریسٹ کریں شام میں ہمیں واپس شہر کیلئے نکلنا ہے۔”

مورے جان کے کندھوں پہ تسلی آمیز انداز میں دونوں ہاتھ رکھے انہیں خود سے لگایا جبکہ زحلے کے سامنے اس گھر سے جڑی کتنی یادیں سر اٹھانے لگیں ۔

“مورے جان ہمیں اپنے بچے کے قاتل سے کوئی تعلق نہیں رکھنا۔”

“آپکی غلطی کبھی معاف نہیں کریں گے ہم “

حاطب کی آواز نے رگوں میں دوڑتے خون کو منجمند کیا تھا۔

“کیسے دے سکو گی اس حویلی کو وارث جب تم ہی نہیں ہوگی ۔”

زرتاتج کی آواز پہ اسے لگ رہا تھا کہ ابھی وہ کسی کونے کھدرے سے نکلتے اسکے سامنے آٹہرے گی اور ۔۔۔۔۔۔۔

وہ چکراتے سر کو تھامے صوفے پہ ٹک گئی حاطب فوراً اسکی جانب لپکا۔

“کیا ہوا زحلے آپ ٹھیک تو ہیں۔”

پریشانی اسکے چہرے ہی نہیں آواز سے بھی عیاں تھی۔

” پپ پتا نہیں ہہ ہمیں کچھ اچھا محسوس نہیں ہورہا ہمارا دم گھٹ رہا ہے یہاں ہمیں واپس جانا ہے۔”

وہ کہتے ساتھ کھڑی ہوگئی اور مرکزی دروازے کی طرف بڑھی مگر راستے میں رکنا پڑا سامنے موجود دائم ایک خوشگوار حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“زحلے واؤ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز لالہ ۔”

دائم کی آواز میں تحیر تھا ۔

“لالہ پہلے بتاتے نا ہم دھوم دھام سے انہیں رخصت کروا آتے چلو شکر ہے تم آگئیں ویسے بھی ہم واپس جارہے ہیں تم سے ملے بغیر جاتے تو یقیناً بے چین گھومتے ۔”

ایک آنکھ دباتے شرارت سے اسے دیکھا وہ گڑ بڑا گئی جبکہ حاطب مسلسل اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ نوٹ کررہا تھا۔

ابھی اس نے کچھ بولنے کو لب ہلائے تھے حاطب نے اسکے گرد اپنے مضبوط بازو کا حصار کھینچا۔

“زحلے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے دائم تم مورے جان کو لے کے چلو ہم کچھ دیر میں شہر کیلئے نکلتے ہیں۔”

اسے آنکھوں سے اشارہ کرتے اسے لیے اوپر کی جانب بڑھا تھا اور کسی کاٹھ کی گڑیا کی مانند اسکے تابع چل رہی تھی کمرے میں پہنچتے اسے اپنی گرفت سے آزاد کرنے کے بجائے نامحسوس انداز میں مزید گھیرا تنگ کیا ۔

زحلے کھوئی سی کیفیت میں کھڑی چھ مہینے بعد اپنے اور اس کمرے کو دیکھ رہی تھی جسے حاطب نے نوٹ کرتے اسکے سر پہ اپنی ٹھوڑی جمائی۔

“سب کچھ ویسا ہے میری جان کچھ بھی تو اپنی جگہ سے ہٹا سوائے ہمارے ۔”

سرگوشی سی ہوئی تو وہ ہوش میں آئی اسکی گرفت سے نکلنے لگی۔

“کیا ہوا یار ابھی آپ کو سب کچھ یاد بھی تو کروانا ہے اس کمرے سے ہماری ان گنت یادیں وابستہ ہیں جب ہم ایک ہوئے تھے ۔”

اسکی مدھم سرگوشیاں زحلے کی جان نکالنے کے درپے تھیں۔

“پپ پلیز ہمیں چھوڑیں ہمیں کک کچھ یاد نہیں کرنا۔”

خود کو اسکے سحر سے نکالنے کی کوشش میں نڈھال ہوتی وہ ممنائی تھی۔

“اوکے آپ فریش ہوجائیں اس کمرے میں آپکے استعمال کی ہر چیز موجود ہے کچھ دیر میں ہمیں شہر کیلئے نکلنا ہے۔”

اسکی حالت پہ ترس کھاتے اسے آزاد کیا تھا شہر کے نام پہ اسے لگا کچھ کڑوا حلق میں چلا گیا ہے۔

” یقیناً وہاں زرتاج گل بھی موجود ہوگی۔”

اسکے انجام سے بے خبر وہ خودساختہ سوچوں میں گم گئی۔

“کیا ہوا زحلے ابھی آپ اپنے ننھے دماغ پہ زیادہ زور نہ دیں سب کچھ یاد آجائے گا دھیرے دھیرے سے۔”

حاطب کے لب گھنی موچھوں کے زیر سایہ مسکرائے تھے ۔

وہ صیح کہہ رہا تھا اسے سب کچھ یاد آرہا تھا قدم قدم پہ حاطب کے بدلتے رویوں کہ داستان رقم تھی یہاں جہاں کبھی شدت اظہار محبت تو کبھی نفرت کا سرا پکڑا جاتا ۔

ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتے خود کو آنے والے وقت کے حوالے کیے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔

وہ نہ بولنے کے برابر بولتی تاکہ کسی کو اس پہ شبہ نہ ہو حاطب بھی یہ نوٹ کرچکا تھا وہ حالات سے کوئی مزاحمت نہیں کررہی تھی۔

★★★★★★

“رائٹ تو مس رول نمبر کیا آپکا ؟”

سامنے موجود لسٹ میں اسکے نام کی سرچنگ جاری تھی اس ڈرامہ باز شخص کو دیکھ دل میں اسے سو صلواتوں سے نواز تھا۔

تھرٹین” اسکی سرگوشی نما آواز صرف خریم کو زچ کرنے کو تھی بھلا پہلے کب کسی نے اتنی تشویش کی تھی ۔

“کین آئی سٹ؟” تیکھے چتونوں سے گھورتے پوچھا گیا۔

“نو” ایک مختصر جواب اسکے بعد وہ ٹاپک سٹارٹ کرنے لگا تھا۔

“سو گائز آج سے ہم ڈیلی بیسز پہ مٹویشنل لیکچر بھی ساتھ رکھیں گے کچھ لوگوں کو دائرہ تمیز میں لانے کیلئے ایک معلم ہی کردار ادا کرسکتا ہے۔”

پریشہ کے پاؤں کھڑے کھڑے شل ہونے لگے وہ اس پہ کرلاتی نگاہ ڈالے اپنی بے بسی پہ رونا آرہا تھا خریم کو اسکے ایکسپریشن دیکھ ہنسی آنے لگی تھی۔

“بیٹھ جاؤ پریشہ بے ہوش ہوکے مجھ پہ نا گرنا۔ “

سدرہ کی آواز اسے اپنے زخموں پہ نمک چھڑکاتی محسوس ہوئی۔

“اوئے نہیں بیٹھنا کبھی یہ ہٹلر ہمیں بھی گرفت میں نہ کرلے ” زرنیش کی بات اسے مزید تپا گئی۔

“تم جیسی منحوس دوستیں جسکی ہوں وہ بندہ ایسے بے موت مرتا رکو تم تمہارا بندوبست کرواتی۔”

اس نے لب کھولے سامنے دیکھا مگر یہ کیا وہ کلاس میں نہیں تھا اسکا دل کیا سجدہ شکر بجا لائے مگر دوسرے لمحے دل کیا اب تو چلو بھر پانی میں ڈوب ہی مرے۔

“آپ کو یہ گوسپ پوائنٹ لگ رہا ہے جہاں آپ اپنی دوستوں کے ساتھ انجوائے کرنے آئی ہیں کونسے ایسے مزاح چل رہے ہیں باقی سب بھی یقیناً اس چیز سے لطف اندوز ہونا چاہیں گے۔”

اپنی پشت سے آتی خریم کی آواز اسے ساکت کرگئی تھی یہ شخص اسکی امیدوں سے بھی بڑھ کے برا ثابت ہوا تھا۔

کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں اسے سر تا پیر تک چنگاری بنا گئی تھیں۔

“سر آپکو ہم سے کوئی خصوصی مسئلہ ہے کیا ورنہ کلاس میں اور بھی بچے غیر حاضر رہے ہیں ۔”

جب وہ کوئی لحاظ نہیں رکھ رہا تھا تو وہ کیوں دب کے رہتی۔

اسکی بات سنتے سدرہ اور زرنیش کا سانس اٹکا انکی دوست اتنی غدار ثابت ہوگی انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔

خریم نے اچکاتی نگاہ اس پہ ڈالی مگر کوئی رعایت دیے بنا مزید آدھا گھنٹا اسے کھڑے رکھا تھا۔

اسکا موڈ بری طرح خراب ہوچکا تھا دائم کو کال کرتے اس پک کرنے کا کہتی ویٹ کرنے لگی جبکہ سدرہ اور زرنیش بھی اس سے منہ پھلائے بیٹھی تھیں۔

“کیسا لگا میرا سپیل مسسز خریم ۔”

قریب سے ابھرتی آواز نے اسے بھڑکایا تھا۔

“تت تم مسٹر ٹام خود کو سمجھتے کیا ہو اگر سب کے سامنے تنہاری پول کھول دوں کیا اوقات رہ جائے گی تمہاری۔”

انگلی اٹھائے اسے وارن کرگئی جبکہ وہ مبہم سا مسکراتا مزید قریب ہوا تھا۔

” کیا اوقات ہے ہماری زرا بتانا پسند کریں گے آپ ۔”

پریشہ نے تمام فاصلے مٹائے اپنے قریب آتے خریم کو چڑ کے دیکھا۔

“دیکھو یہاں تماشہ نہیں لگانا چاہتے ہم تو بہتر ہے ۔۔۔۔”

اب کے اٹھی شہادت کی انگلی

خریم کے لبوں میں جکڑی تھی درد کی شدت محسوس کرتے وہ چلا اٹھی پارکنگ ایریا میں اس وقت اک دکا لوگ موجود تھے جو یقیناً اس کے ملحقہ ڈیپارٹمنٹ کے تھے اسکی چیخ پہ متوجہ ہوتے لوگوں کو دیکھتے وہ گھبراتے ہوئے وہاں سے ہٹنے لگی مگر بازو اسکی گرفت میں رہ گیا تھا تبھی جھٹکا کھائے پلٹی تھی۔

“کیا بدتمیزی ہے یہ بے ہودہ انسان۔ “

اسکی برداشت کا پیمانہ چھلکا تھا۔

“گھر منع کرو کہ کوئی لینے نہ آئے “

اسکی بات کو شہد کی طرح پیتے دھونس بھرے لہجے میں کہا گیا جبکہ وہ بدکتے ہوئے دور ہوئی۔ وہ اسکی پارکنگ میں موجودگی سے سمجھ چکا تھا کہ وہ کس لیے یہاں موجود ہے۔

“کک کیوں منع کروں حد میں رہو تم اپنی۔”

پریشہ کا صاف انکار اسے آگ لگا گیا تھا۔

“مت بھولو کے ابھی بھی تم خریم خان کی منکوحہ ہو بجائے اسکے میں تمہیں زبردستی اپنے ساتھ اٹھا کے لے جاؤں شرافت سے بات مان لو میری ورنہ ۔”

اسکی بدزبانی دیکھ خریم کا دماغ چٹخا ۔

“ورنہ ہاں ورنہ کیا دھمکی دے رہے ہو مجھے مت بھو۔۔۔”

“ہاں یہی سمجھ لو مگر اس دھمکی پہ عمل بھی کرسکتا ہوں یہ بھلائے بغیر کے تمہارے بھائی دونوں بازو ہیں۔ “

سنجیدگی سے اسکی بات بات ٹوکے آخر میں طنز کرگیا تھا کیونکہ اس سے جب کچھ اور نہ بن پاتا تو وہ اسے حاطب اور دائم دھمکیاں دیتی ۔

سامنے سے آتے دائم کو دیکھ اسکی جان میں جان آئی تھی جبکہ وہ خریم کو اسکے ساتھ موجود دیکھا چونکا تھا۔

“خریم لالہ آپ یہاں کیسے؟”

دائم کی آواز اسے کبھی اتنی بری نہ لگی تھی جتنی آج مگر خود کو سنبھالے اس سے ہیلو ہائے کرنے لگا تھا۔

شکوہ کناں نظروں سے پریشہ کو دیکھتے وہاں سے واک آؤٹ کرگیا ۔

★★★★★★

اس نے حاطب کی پرتپش نگاہیں خود پہ مرکوز دیکھ بے چینی سے پہلو بدلہ ۔

“کیا ہوتا اگر وہ بھی مورے جان کے ساتھ ہی چلا جاتا۔”

اپنے فیصلے پہ دکھ ہوا تھا۔

زحلے نے شہر جانے سے انکار کردیا تو دائم اور مورے جان پریشہ کے لیے شہر واپس چلے گئے ریشمہ بھی انکے ہمراہ تھی اور اب حویلی میں وہ اسکی نظروں کے پیام دیکھ بوکھلائی ہوئی تھی ۔

موسم نے اچانک سے کروٹ لی تو باہر ہوتی ہلکی سی کن من نے اسکے اندر سوئے احساسات کو جگا دیا۔

“مم میں چھت پہ چلی جاؤں؟”

اسکی معصومیت حاطب کو دل وجان سے اس پہ نثار کرگئی تھی۔

“نہیں باہر بارش ہے آپکا بھیگنا اچھا نہیں ہے ویسے بھی آجکل آپکی ذہنی رو ٹھیک نہیں۔”

زحلے کو اسکے رویے اور لہجے سے لگتا تھا کہ وہ اسکا ڈھکا سچ جان چکا ہے مگر پھر بھی وہ شک اور یقین کے پنڈولم میں لٹک رہی تھی۔

حاطب نے اسکا کھویا انداز دیکھا تو اسے اٹھائے چھت پہ لے آیا جب اسکی سمجھ میں اسکی کارستانی آئی تو بوکھلاتے ہوئے اسکے سینے پہ اپنے نازک ہاتھوں سے مکے جڑ دیے تھے۔

“اتاریں مجھے کیا کررہے ہیں آپ ۔”

اسکی وارفتگیوں سے گھبراتے چیخ اٹھی تھی۔

“لاسٹ میموری واپس لانے کی کوشش کررہا ہوں آپکو تو یاد نہیں کب ،کیسے،کتنی بار ہم بارش میں بھیگے تھے اور ۔۔۔۔۔”

اسکے لب مسکرائے بات ادھوری چھوڑے وہ ماضی کے لمحوں میں کھویا تھا۔

جب پہلی بار اسے بارش میں بھیگتے دیکھ وہ بری طرح اپنے دل سے شکست پا ہوا تھا۔

زحلے اسکے اتنے بڑے جھوٹ پہ تلملا اٹھی بھلا وہ کب اسکے ساتھ کبھی بھیگی تھی ۔

“خواہمخواہ میموری لاس کا اڈیونٹیج لینے کی کوشش کررہے ہیں آپ مجھے ایسا کچھ بھی یاد نہیں۔”

وہ خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش میں بولی تھی۔

“وہی نا آپ کو تو کچھ یاد نہیں ہے شاید کچھ یاد آجائے ۔”

اسکی جانب جھکا یقنناً اسکا ٹارگٹ گلابی لب تھے تبھی وہ پھڑپھڑاتی اسے ہوش کی دنیا میں لائی تھی ۔

“مم مجھے کچھ یاد نہیں کرنا نا ہی بارش انجوائے کرنی ہے ۔”

بھلا اس سے زیادہ کون اسکی شدتوں سے آگاہ تھا ۔

حاطب کی مسکراہٹ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا۔

“یاداشت کیا گئی آپ تو اپنی باتوں سے بھی جلدی پھرنے لگ گئیں۔”

“کک کیا مطلب آپکا کونسی بات سے پھری ہوں میں۔”

دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے وہ اس سے لڑنے کو تیار ٹہری تھی۔

“ابھی کچھ دیر پہلے آپ بضد تھیں یہاں آنے کو پھر ؟”

اسے شرمندہ کرنا چاہا تھا جوکہ وہ ہو بھی چکی تھی۔

بارش کی ایک تیز پھوار ان دونوں کو بھگو گئی تھی بھیگتے ہوئے اسکے جسم کی رعائنیاں واضع ہوئیں ملکیت کا احساس اس پہ حاوی ہونے لگا تھا مخمور لہجہ دیکھ زحلے کی حسیں الرٹ ہوئی تھیں۔

ایک نظر اپنے سراپے پہ ڈالے وہ تیزی سے سٹئرز کی جانب بھاگی حاطب اسکے ارادے دیکھ راستے میں حائل ہوا۔

“ہر چیز اپنی جگہ مگر اس رشتے کے کچھ تقاضے ہیں جو آپکو نبھانے ہیں مسسز حاطب ۔”

آنچ دیتا لہجہ اسکے رخسار جھلسا رہا تھا۔

“ہ ہم نہیں مانتے ایسے کسی رشتے کو دد دور رہیں ہم سے۔ ” اپنے گھبراہٹ پہ قابو پاتے اسکے سامنے ڈٹ کے کھڑی ہوئی تھی۔

“یہ تو آپکو داجی سے کہنا تھا نا یہاں پہ رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ۔”

بھیگے بالوں کو اسکی گردن سے ہٹائے وہاں پہ اپنا لمس چھوڑا اسے لگ رہا تھا وہ کھڑے کھڑے بے ہوش ہوجائے گی وہ بری پھنسی تھی نا کوئی ماضی کا طعنہ دیتے اسکے شک کو یقین میں بدل سکتی تھی۔

اور نہ ہی اسکی محبتوں کی بارش میں بھیگنا منظور تھا۔

ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ،

ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﺎ

ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ

ﺗﻢ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ۔۔۔

ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ

ﺩﺭﺩ ﺣﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ

ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺟﻢ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ﺗﻢ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ

ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﺎ

ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﮧ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ

ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﻢ ﺭکھ ﻟﯿﻨﺎ۔۔

ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ

ﺫﺍﺕ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ

ﺭﺷﺘﮧ ﺁﺩﮬﺎ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

ﺁﺩﮬﺎ ﺭﺷﺘﮧ مجھ ﮐﻮ ﺩﮮ ﮐﺮ

ﭘﻮﺭﯼ ﮨﺴﺘﯽ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ

ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﮨﮯ۔۔

ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ

ﺁﺩﮬﺎ ﺭﺳﺘﮧ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ

ﻣﻨﺰﻝ ﯾﺎﺱ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ

ﺗﻢ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ

ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﺎ

ﺁﺩﮬﺎ ﺭﺳﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺭکھ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ

ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﻢ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ

ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺅ تو

حاطب کی پرحدت آواز اسکے خون کی رفتار تیز کرگئی تھی اسکی چہرے پہ نظر ڈالے اسکے گرد اپنا حصار تنگ کیا تھا اور پھر سے بازو میں اٹھائے اندر کی جانب بڑھا جہاں باہر بارش اپنا زور پکڑ رہی تھی وہی مشکل سے اسنے اپنے اندر کے شوریدہ جزبوں پہ قابو پایا تھا۔

زحلے کی نظریں جھکی ہوئی تھیں مزید اسکو تنگ کیے بغیر وہ چینج کرنے کو بڑھا زندگی تمام مشکلات کی نسبت اسے زحلے کو منانا مشکل لگ رہا تھا مگر پھر بھی پہلا پتھر اسکے دل کی منڈیر پہ پھینکے اسکی جوابی کاروائی کا انتظار کررہا تھا۔

وہ باہر نکلا تو اسے غائب پایا پریشان ہوتے اسے ڈھونڈنے لگا تھا پوری حویلی سنسان پڑی تھی۔

“زحلے ڈونٹ ڈو دس۔ ” اس ہر جگہ تلاشنے کے بعد اسے کے دل کو عجیب دھڑکا لگ رہا تھا اگر وہ واقعی اپنی یاداشت کھوچکی ہوئی تو؟ اب کے شک کے ناگ اسکے اردگرد ناچنے لگے تھے تبھی فضا میں چیخ نمودار ہوئی اسے حواس باختہ کرگئی تھی وہ آواز کا تعین کرتے خوف کے زیر سایہ اس جانب بھاگا ۔۔۔۔۔

★★★★★★

عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتے اسکی آنکھ کھلی تھی اپنے اوپر کسی کو جھکا دیکھ اسکے چہرے سے دہشت ٹپکنے لگی تھی۔

“کک کون ہو تم ؟” اسے دونوں ہاتھ سے پیچھے کو پش کیے اٹھی تھی مگر سامنے والے پہ کوئی اثر نہیں ہوا ۔

کھلی کھڑکی اسکے ڈر میں مزید اضافہ کرگئی۔

“چچ چور مم مورے جا” ابھی اسکے الفاظ لبوں سے صیح سے ادا بھی نہ ہوپائے کے کسی کی ہتھیلی سختی سے اسکی ہونٹوں پہ جمی باقی ماندہ الفاظ وہیں رہ گئے۔

“Everybody has an addiction mine just you are”

(ہرانسان کی کوئی عادت ہوتی میری تم ہو)

اس آواز کو تو وہ لاکھوں کی بھیڑ میں بھی پہچان سکتی تھی مگر رات کے اس پہر کمرے میں اسکی یوں موجودگی پریشہ کو دہکا رہی تھی ۔

اب جب کہ انداز ہوچکا تھا سامنے کون ہے اس میں پھر سے ایک بھرپور مزاحمت جاگی تھی مگر وہاں کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

What if I say I love you?

Will you love me too?

Will you be the orange In all my blues?

What if I say I want you?

Will you want me too?

Will you stay by my side, Without thinking about someone new?

آج کے اسکے انداز پریشہ کو بے حال کیے جارہے تھے اسکی مسمرائز کرتی سرگوشیاں پریشہ کو اپنی قید میں کرنے لگی تھیں مگر وہ چونکی بھی تھی یقیناً وہ فہد کو لےکے کچھ بو رہا تھا تبھی اسکی جسارتیں بڑھتے ہوئے اسکے چہرے پہ آئے بال ہٹائے تھے کہاں تو وہ انتقام اور انتقام کی رٹ لگائے رکھتا تھا اور اب۔۔۔۔۔۔

What if I say I want to touch you?

Will you want to touch me too?

اسکی گزراشات یا دھونس سنتے ہوئے وہ سن ہوئی تھی “چھوڑو مجھے پاگل ہوگئے ہو تم سس سب واسطے ،تعلق ختم کرچکی ہوں میں تم سے اب کیوں آگئے ہو؟”

اسکا روہنسا انداز خریم کو تپا گیا تھا ۔۔۔

جبکہ اسکی پھر سے ہوئی سرگوشی پریشہ کو بے جان کرگئی۔

What if I say I want to kiss you?

Will you want to kiss me too?

Will you press your lips against mine, With true passion and a genuine smile?

What if I say I want to hug you?

Will you want to hug me too?

Will you wrap your arms around me?

اسکی گستاخیوں کے لمحات تو پہلے بھی کئی بار سہے تھے مگر اب کے کھلے ڈلے انداز ہی نرالے تھے وہ بلش کرتی نظریں جھکا گئی تھی کیونکہ وہ اسکی کسی درخواست پہ عمل نہیں کرنا چاہتی تھی جبکہ اپنی ذات کی نفی خریم کو مزید شدید رد عمل دینے پہ مجبور کررہی تھی۔

And what if I say All of this to you?

Will you say it back to me too?

“نن نو نیور آئی ول نیور ڈو دس ” صاف جواب دیتی وہ سائیڈ پہ ہوئی تھی جب اسے کھینچتے خود پہ گرایا تھا اب کی اسے لگ رہا تھا وہ سانس ہی نہیں لے سکے گی۔

“خریم پپ پلیز کک کوئی آجائے گا “ایک اور بودا سا بہانہ۔

What if I say I love you?

Will you love me too?

اسکا انداز اظہار پریشہ کو ساکت کر گیا تھا اسکی ساری مزاحمتیں ایک ہی لمحے میں دم توڑ گئیں حیران سی اس پہ نظریں گاڑے بیٹھی تھی۔

بھلا ایسا کب ممکن تھا کہ نفرت بھی محبت میں بدلی ہو مگر وہ بھولے بیٹھی تھی کہ شدید نفرت ہی شدید محبت کو جنم دیتی ہے۔

اپنی آنکھوں پہ اسکے گرم لبوں کا لمس اسے ہوش میں لایا تھا۔

Its All your choice accept my propsal or reject but still remembr there is no boundries to stop me to loving you ,,,,,

“کیا نئی چال چلنے لگے ہو ؟”

اسکے ہاتھ جھٹکتے بستر سے اتری تھی جبکہ وہ مزید پھیلتے لیٹ گیا تھا۔

” I want everyone to know that you are mine”

پریشہ کا دل کیا یا تو اس ڈھیٹ شخص کا سر پھوڑ دے یا پھر اپنا کیونکہ اسکے لہجے سے پیار کی تو نہیں البتہ دھمکی کی رمز ضرور جھلک تھی۔ جو یقیناً پوری یونیورسٹی میں اسکے اور اپنے رشتہ کا ڈھونڈورا پیٹنا چاہ رہا تھا۔

“فہد کون ہے جسکی وکیل بنی تم حاطب تک پہنچی تھی”

پھر سے نیا شاک تو کیا وہ اس کے اور فہد کے حوالے سے کسی طرح کے شکوک شبہات کا شکار تھا؟

پھر سے ایک نئے طوفان کی آمد اسکا دل ہولا گئی تھی۔

“مجھے یہی بہتر لگ رہا ہے کہ اپنی چیز کی حفاظت میں خود ہی کر لوں تمہارے بازؤں سے تو مجھے امید نہیں ۔”

آنکھ کا کونہ دباتے اسکو سلگا گیا تھا۔

“میں کوئی چیز نہیں ہوں خریم خان ایک جیتا جاگتا وجود ہوں جو مزید آپکا کوئی ستم نہیں سہہ سکتا معاف کردیں آپ ہمیں نکل آئے ہم اس وحشت کے جنگل سے۔”

کچھ دیر پہلے کا پھیلا فسوں دھیرے دھیرے جھٹنے لگا تھا یا پھر وہ خود ہی ماحول کو اپنی من مرضی پہ لا رہی تھی۔

وہ بھاری قدم اٹھائے اسکے قریب آیا بنا اسے کوئی موقع دیتے پھر سے اپنی قید میں کیا۔

“تمہیں منع کیا ہے نا کہ یہ ٹام اینڈ جیری کا پلے میرے ساتھ نا کیا کرو رات کے اس پہر میں تمہارے فضول لیکچر سننے نہیں بلکہ۔۔۔۔۔”

اسکی معنی خیز” بلکہ” نے پریشہ کو لال انار بنا دیا تھا وہ مبہوت سا اسکے چہرے پہ چھائی سرخی دیکھنے لگا۔

“کیا ان آنکھوں سے بڑھ کر بھی کوئی آنکھیں ہونگی؟کیا اس پری وش سی بڑھ کے بھی کوئی خوبصورت ہوگا؟”

اسکی جانب جھکتے اسے بھی ماحول سے بیگانہ کرنے لگا ایک بار پھر وہ اسکی قید میں بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ کے رہ گئی۔

یہ کیسی محبت تھی جہاں محبوب کی مرضی کو کوئی اہمیت حاصل نہ تھی جب دل چاہا دل کے اونچے مسند پہ بیٹھا کے پوج لیا ،جو زرا سے بدگمان ہوئے تو خاک نشین کردیا یک طرفہ دعوے یک طرفہ محبتیں پریشہ کے دل میں پھائے سے پڑے تھے ۔

اسکی کج ادائی کا تدراک اندر سے گھلنے لگا تو اسکی شدتوں پہ بند باندہ گئی۔

“کتنی بار کہوں کے یہ حد بندیاں مجھ پہ نہ لگایا کرو ۔”

اسکے بالوں سے کھیلتے نارمل انداز ایسا تھاجیسے روز ہی وہ اسکے نازو نخرے سہہ رہی ہو۔

مجھے یہ سب پسند نہیں ہے خریم خان۔ “

آنکھوں سے شعلے لپکے تھے۔

اجازت لےکون رہا ہے تم سے ایسے تو شتر بے مہار کی طرح تو چھوڑنے سے رہا اپنی بیوی کو ۔”

اپنی بیوی کہتے خصوصی زور دیا گیا تو دانت پیس گئی۔

“تم نا خریم خان کوئی اول درجے کی لچڑ چیز ہو تم سے شادی سے بہتر تھا میں فہد سے ہی شادی کرلیتی۔”

مگر دوسرے ہی لمحے پڑنے والے تھپڑ نے اسے اچھے سے احساس کروادیا کہ وہ کیا بول چکی ہے۔

“اسیلئے تمہارے پر کاٹنے ضروری ہیں ۔”

غصے کی شدت سے اسکے ماتھےکی نسیں پھول گئیں تھیں۔

“خریم خان ہوا کو بھی یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ اسکی پری جان کو چھو کے گزرے آیا کہ تم کسی اور کو اپنے وجود پہ حق دینا چاہتی ہو ۔”

اسکی آنکھوں میں موجود پہلے جیسی سفاکیت پریشہ کو ٹھٹکنے پہ مجبور کررہی تھی ۔

“یو آر آ بیسٹ ٹام ۔”

اپنے آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کرتے وہ پھنکاری تھی اب تک تو اس نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا تھا جو دونوں خاندانوں کی شرمندگی کا باعث بنتا مگر خریم کا بے جا شک اسے مزید ضد دلانے لگا تھا۔

★★★★★★

آواز پری کے روم سے آئی تھی مگر دروازہ لاک ہونے کی وجہ اسے رکنا پڑا تھا۔

“کیا ہوا ہے زحلے دروازہ کھولیں پلیز ۔”

ٹھنڈے پسینے صاف کرتا وہ تڑپ رہا تھا جبکہ اندر سے آتی زحلے کی آوازیں اسے بے بس کرنے لگیں تبھی دروازہ کھلا تھا اور باتھ گاؤن میں ملبوس زحلے اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کے رودی ۔

“وو وہ حاطب وہ مم مجھے مار ڈالے۔۔۔۔”ابھی اسکی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ اپنے حواس قابو میں نہیں رکھ سکی اور اسکے بازؤں میں جھول گئی ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *