Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 20)

Qirtaas by Uzma Mujahid

اب جو بکھرے تو بکھرنے کی شکایت کیسی

خشک پتوں کی ہواؤں سے رفاقت کیسی

میں نے ہر دور میں بس اس سے محبت کی ہے،

جرم سنگین ہے اب اس میں رعایت کیسی

“آپ کون ہیں ؟” زحلے کی آواز ان سب پہ کوئی دھماکہ ثابت ہوئی تھی۔

وہ جو ایک ہفتے سے اس سے بات کرنے کی کوشش میں تھے بولی بھی تو کیا ؟

وہ جانتے تھے کے کتنے برس وہ ان لوگوں سے انجان رہی تھی مگر اب تو سب ٹھیک ہوگیا تھا پھر؟

“زز زحلے گڑیا مم میں خریم لالہ آپکا لالہ جان ۔”

خریم کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔

“کون لالہ مم میں آپکو نہیں جانتی ۔” اس نے اپنے پاؤں سمیٹتے انجان نظروں سے اسے دیکھا۔

داوڑ حویلی میں ایک اور بھونچال آگیا تھا روح خانم اور دادی جان کونوں کھدروں میں چھپتی آنسو بہاتیں اور ایک دوسرے کے سامنے سب حوصلہ دیتے خریم کو رہ رہ کے حاطب پہ غصہ آتا جسکی گاڑی کی ٹھوکر لگنے سے وہ یاداشت کھو بیٹھی تھی۔

انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا وہ زحلے کو کیا یاد دلائیں کیونکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا نا اسکی یادیں نا باتییں بچپن کے چند ایک قصے روح خانم اور دادی اسکے سامنے بار بار دہراتیں وہ خالی آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہتی۔

“آج لالے اپنی گڑیا کو شاپنگ پہ لے جائیں گے ہم آپکی فیورٹ آئسکریم کھائیں گے خوب مستی کریں گے ۔” وہ اسے بچوں کی طرح پچکار رہا تھا ۔

“نہیں مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔”

اسکی آنکھوں سے بے اعتباری عیاں تھی وہ اندر تک کٹ کے رہ گیا۔

پورے گھر میں وہ صرف دیشہ سے بات کرتی داجی اور خریم خود کو اسکا مجرم سمجھتے انکی آپس کی بات چیت تو پریشہ کے جاتے ہی ختم ہوچکی تھی۔

مال میں گھومتے اسے ایک لڑکی پہ پریشہ کا گمان ہوا تھا وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکی جانب قدم بڑھا گیا تھا جہاں دو اور لڑکیاں اور ایک لڑکا اسکے ہمراہ تھے بات کرتے ہوئے اس نے گرن موڑے اپنے دائیں جانب موجود لڑکی کو دیکھا اسکا شک یقین میں بدل گیا تھا وہ پریشہ ہی تھی جینز پہ پشاوری کرتا پہنے ڈھیلا سااسکارف اوڑھے وہ اسے اپنی پہلی ملاقات کا دن یاد دلا رہی تھی ۔

ایک دوسرے کے ساتھ شاپنگ بیگ ایکسچینج کرنے کو وہ رکے تبھی انکے ہمراہ لڑکے نے پریشہ کی جانب جھکتے کچھ کہا تھا جہاں سب کا قہقہ بلند تھا وہیں وہ بلش کرتی پریشہ خریم کو تپا گئی ۔وہ۔لمبے ڈگ بھرتا اسکے سر پہ پہنچا تبھی اس لڑکے کو بازو سے کھنچتے پریشہ سے فاصلے پہ کیا۔

“کیا چل رہا ہے یہ اس لیے تم خریم خان سے آزادی چاہتی تھی نا تاکہ یہ سب کرسکو ؟”

بنا کسی لحاظ کے پریشہ کے بازو پہ اپنی گرفت کی ابھی جہاں چہرے پہ شادابی اور رونق تھی ایک دم موت سے پروانی چھائی۔

“ہے مسٹر لیو ہر ؟”اس لڑکے نے پریشہ کو مزاحمت کرتے دیکھ خریم کے سامنے آتے ایک پنچ رسید کیا وہ اس اچانک حملے کیلئے بلکل تیار نہ تھا جو اپنا بچاؤ کرتا۔

اپنے ناک سے بہتا سیال اسے اشتعال دلا گیا تھا۔

“تم سے تو میں بعد میں نبٹ لونگا پہلے تمہارے عاشق کو دیکھ لوں ۔”

پریشہ کو خونخوار نظروں سے دیکھتا اس لڑکے پہ جھپٹا تھا دونوں لڑکیوں نے دبی دبی چیخیں ماریں تو اسکا سکتہ بھی ٹوٹا۔

“چھوڑو اسے جاہل انسان ہر جگی اپنی جاہلیت کا ثبوت دینا ضروری نہیں ہوتا ۔”

پریشہ نے اسکے کندھے سے پکڑے اپنے کلاس فیلو سے دور کرنا چاہا تھا جو ادھ موا ہوا پڑا تھا۔

خریم نے کندھے جھٹکتے اسکے ہاتھ ہٹائے اسکے ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز پہلے ہی گر چکے تھے۔

“کیا چاہتے ہو تم کیوں تماشہ بنا رہے ہو یہاں ۔”

وہ اس پہ چیخی جو بنا کسی شرمندگی کے اس پہ نظریں گاڑے کھڑا تھا جبکہ دونوں لڑکیاں اس لڑکے کو سہارا دیتی اٹھانے کی کوشش میں تھیں۔

“آئی۔ایم۔سوری فہد یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔” وہ آنکھوں میں آنسو بھرے اسکے سامنے بیٹھنے لگی جب دوسرے ہی لمحے خریم نے اسے بازو سے کھینچتے وہاں سے اٹھایا ایک بےبس نگاہ اپنے ساتھیوں پہ ڈالے وہ اسکے ساتھ گھسیٹتی ہوئی جارہی تھی۔

باہر آتے ہی اس نے اپنی پوری طاقت لگاتے اسکی گرفت سے خود کو آزاد کروایا۔

“مجھے جب تمہارے ساتھ نہیں رہنا پھر کیوں میں تمہاری حدود کی پابند رہوں بہت برا کیا ہے تم نے آج خریم خان بہت برا مجھے اکیلا سمجھنے کی غلطی بھی مت کرنا ابھی میرے دونوں بازو سلامت ہیں بہت جلد تمہیں نوٹس مل جائے گا۔”

خود پہ ضبط کیے وہ شیرنی بنی اسکے سامنے ڈٹ کھڑی ہوئی تھی وہاں سے گزرتے لوگ ان دونوں کی جانب متوجہ ہونے لگے تھے۔

“اگر یوں سربازار میری عزت اچھالتی پھرو گی تو تمہارا قتل مجھ پہ واجب ہے یاد رکھنا تم ۔”

انگلی اٹھائے اسے وارن کرنے لگا تھا۔

“کونسی عزت کی بات کررہے ہو خریم خان تمہارے نزدیک عزت کی ڈیفینیشن کیا ہے ایکسپلین کریں گے آپ عورت کو بے زبان جانور سمجھ کر اپنی تسکین کیلئے استعمال کرنا آپکی عزت ہے ؟اپنے بدلے پورے کرنے کیلئے عورت کا استعمال کرنا آپکی مردانگی اسے عزت کہتی ہے، تو آئی۔ایم۔رئیلی سوری اگر غلط خان حویلی کے مرد ہیں تو غیرت مند مرد اور عزت کاسہرا آپکے سر بھی نہیں سجتا ۔”

وہ اسکے دھواں دھواں ہوتے چہرہ پہ تاسف بھری نگاہ ڈالے مال سے دور ہوتی جارہی تھی وہ لڑکی بنا تماچہ مارے بھی اسے تماچہ مار کے جاچکی تھی وہ صاف الفاظ میں اسے بیغرتی کا طعنہ دے کے گئی تھی۔

“تمہیں اپنے لفظوں کا قرض چکانا ہوگا پریشہ خان ۔”

لہو ہوتی نظریں گاڑی میں بیٹھتی پریشہ پہ تھیں مال سے باہر آتے اسکے فیلوز کو دیکھتے وہ بھی آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے

اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔

★★★★★★

مورے جان کمرے میں داخل ہوئیں اندھیرے نے انکا استقبال کیا اندازے سے ہاتھ بورڈ پہ مارتے کمرے میں ایک دم روشنی ہوئی تھی ۔

سامنے کا منظر دیکھ انکا دل کٹ سا گیا۔

“کیا ہی اچھا ہو حاطب کے تم اسے لے آؤ ؟” اسکے سامنے بیٹھتے سگریٹ کو اسکی انگلیوں کی قید سے رہائی دیتے بنا کوئی تہمید باندھے اس مخاطب ہوئیں تھیں۔

“وہ نہیں آئے گی مورے جان چھ مہینے بنا سر اٹھائے مجھے دیکھے بغیر گزر جاتی تھی تو اب کیا امید رکھوں میرے کیے کی یہی سزا ہے مورے جان ۔”

آنکھیں شدت ضبط سے لال ہورہی تھیں۔

“زرتاج گل نے بہت برا کیا ہے اس خاندان کے ساتھ مورے جان میرے علم میں صرف ارباب لالہ تک کی بات تھی مگر اتنا سب کچھ ۔۔۔”کرب سے آنکھیں موندے ان کی گود میں سر رکھ گیا۔

“کیا ہم اتنے برے ہیں مورے جان ؟کیا انہیں ہمارے پیار کی آنچ محسوس نہیں ہوتی اپنی بے خبری میں ہم نے سب کچھ کھودیا اپنی زندگی کو بھی ۔”

کتنے آنسو اسکی آنکھوں سے نکلتے داڑھی میں گم ہوگئے۔

مورے جان نے اپنے کڑیل جوان بیٹے کو ایسے روتے دیکھا تو ان کا دل پسچا ۔

“تم کہو تو ہم اس سے بات کرلیتے ہیں آخر کب تک ایسے اذیت میں رہیں گے اور پریشہ اسکا بھی تو تعلق ہے اس گھر سے بیٹا ۔”

مورے جان ان دیکھی بیڑیوں میں جکڑی ان بچیوں کے بارے سوچنے لگیں ۔

“اگرانہیں ہمارے ساتھ رہنا ہوتا تو وہ چھوڑ کے نہ جاتیں مورے جان ہم بھی انہیں سپیس دینا چاہتے ہیں اپنے اور انکے رشتے کو ہر آزمائش سے نکالنا چاہتے ہیں۔”

مورے جان نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے اسکی خوشیوں کی دعا کی ۔

“لالہ جان آج ہمیں خریم ملا تھا ۔”

اپنی بات کہتے اس بے لالہ کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں پہ کوئی تاثر بھی نہ تھا۔

“پھر؟” ایک مختصر جواب وہ جو پہلے تپی بیٹھی تھی رونا شروع کردیا۔

“ہمیں انکے ساتھ نہیں رہنا آپکو پتا وہ حد درجہ کے جاہل انسان ، انہوں نے ہمارے دوستوں کے سامنے اتنا ہارش بہیو کیا ہے اور فہد کو بھی اتنا مارا ہے ۔”

حاطب نے سنجیدہ نگاہ اس پہ ڈالی مگر بنا کچھ بولے فورک کے ساتھ کھیلنے میں لگا تھا ۔

“پری جان آپکی اب کی اور پہلے کی لائف میں فرق نکاح کے بعد شوہر کی من مرضی کے مطابق رہنا سہنا پڑتا ہے اگر خریم کا آپکے فیلوز کے ساتھ گھومنا پسند نہیں تو احتیاط کریں بیٹا۔”

مورے جان کی بات سنتے اسے چالیس واٹ کا جھٹکا لگا تھا۔

“سریسلی مورے جان وہ میرا شوہر نہیں اور نہ میں اس زبردستی کے رشتے کو مانتی ہوں کل کو وہ آکے کہہ دے پڑھائی چھوڑ دو جیسے پہلے میرا ٹائم ویسٹ کرواچکا ہے تو میں سب چھوڑ چھاڑ گھر بیٹھ جاؤں ۔”

اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی حاطب نے کھڑے ہوتے اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھا۔

“جو آپ چاہوں گی ہم ویسا ہی کریں گے مگر ابھی جیسا ہے چلنے دیں اس رشتے کو لے کے کوئی بھی خیال دل میں نہ لائیں فوکس آن یور سٹڈی۔”

اک نرم مسکراہٹ سے نوازتے وہ مردان خانے کی طرف چلا گیا وہ بھی مطمئن سی مسکرا دی کیونکہ وہ جانتی اگر لالہ نے کہہ دیا تو مطلب کچھ سوچ کے بولا ہوگا اگر سب میں کوئی خاموش تھا تو وہ دائم۔

“بڑوں سے لے کے چھوٹے تک سب کا ہی باوا آدم نرالا ہے یہاں بجائے بہن کی تصیح کے الٹا اسکی حوصلہ افزائی کرتے چلا گیا ۔”

مورے جان کو لگ رہا تھا وہ پریشہ کو منا کے زحلے کی راہ ہموار کرسکتیں مگر ان دونوں بہن بھائیوں کی نرالی منتطق انہیں پریشان کرگئی۔

“مورے جان کیوں ٹینشین لے رہی ہیں وقت سب سے بڑا مسیحا ہے ۔” دائم کی بات سنتے انکا دل بھرایا تھا۔

“کیا مسیحائی کی آج تک وقت نے لے دے کے پھر سے مشکلات میں ڈالا ہے بہن کے خیالات سن چکے نا روز آخرت کیا حساب دیں گے ہم تمہارے ماں باپ کو ۔”

کندھے پہ پڑے بوجھ نے جیسے انکو گردن جھکانے پہ مجبور کیا تھا۔

“آپ ان دونوں کے انکے حال پہ چھوڑیں میرے بارے کیا سوچا ہے آپ نے ۔”

دائم نے انہیں لمحوں کی قید سے آزاد کرنا چاہا۔

“کیا سوچنا ہے جاؤ تم بھی کوئی چن چڑھا لو لے آؤ کوئی گوری میم میری تو حسرت رہ گئی اپنے بچوں کے سر سہرا سجتے دیکھوں انکے بچوں کو گود میں کھلاؤں۔”

مورے جان کو امیوشنل ہوتے دیکھ اسکی جان پہ بن آئی تھی انکے گھٹنوں کے قریب بیٹھتے ہاتھ پکڑے بیٹھ گیا۔

“ہم زحلے کو گھر لے آئیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا نا بس لالہ جان کی جو انا اور گردن میں تھوڑا خاندانی سریہ فٹ ہے اسے نکالنا ہوگا ۔”

شرارت سے کہتے مورے جان کو آنکھ ماری تو وہ اسکی شرارت پہ ہنس پڑیں۔

کتنے دن بعد اس گھر میں کسی کی ہنسی گونجی تھی چاہے مورے جان کی ہی سہی۔

زرتاج بیگم کے مرنے کی خبر پہ بھی اسکیلئے کسی کے دل۔میں کوئی نرم گوشئہ پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ کسی نے اسکا وارث بننا چاہا۔

★★★★★★

ایک جملے کے بعد پھر سے اسکی زبان پہ قفل لگ چکے تھے

خریم دن رات پریشہ کے انداز یاد کرتے سلگنے لگا ۔

“داجی پہلے خریم خان نے نتوانہ چاہا تھا اب ہم کرنا چاہتے ہم پریشہ کو واپس لانا چاہتے ہیں۔”

آج وہ جزباتی انداز لیے انکے سامنے کھڑا تھا ۔

“آپ بھول رہے ہیں کہ انہوں نے آپکے ساتھ رہنے سے انکار کردیا ہے ۔”

جواب داجی کے بجائے روح خانم کی طرف سے آیا تھا ۔

“اور زحلے ان کے متعلق کیا سوچا آپ نے جب تک حاطب خان اور آپ اپنے من پسند فیصلے کرتے رہیں گے تب تک اپنے ساتھ اپنے سے جڑے رشتوں کو بھی اذیت میں مبتلا رکھیں گے ۔”

داجی سے اتنا کڑوا سچ سنتے اسے راس نہیں آرہا تھا زحلے ایسے بیٹھی تھی جیسے اس کے متعلق کوئی بات ہی نہ ہو رہی ہو۔

“داجی زحلے کی یاداشت کسی رشتے کو قبول نہیں کررہی تو پھر حاطب بھلا اسکو وہ کیونکر قبول کرے گی جس نے ہر لمحہ اذیت دی ہے ہماری بہن کو۔”

خریم اب بھیا پنی بات پہ ڈٹا تھا ۔

“اگر خان حویلی میں اسے اذیت ملتی تو وہ یہاں حاطب کی وکیل بن کے نہ آتی چھوٹی موٹی لڑائیاں ہر گھر میں ہوجاتی ہیں بجائے اس پہ جزباتیات دکھانے کے کوئی آسان حل ڈھونڈیں ۔”

روح خانم کا مدبر لہجہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا وہ اپنے بچوں کے گھر آباد دیکھنا چاہتی ہیں۔

“ہم اب کوئی نتوانہ نہیں کریں گے بلکہ اس خاندان کے فیصلہ ہم مل بیٹھ کے ہی حل کریں گے داور خان جس دشمنی کی جڑ ختم کرنا چاہتے تھے اسے تمہاری بیوقوفی نے بڑھاوا دیا ہے۔”

داجی نے صاف الفاظ میں اسکے اور پریشہ کے نکاح کو اسکا غلط فیصلہ قرار دیا تھا خریم کا دھواں ہوتا چہرہ سب کو افسوس میں مبتلا کررہا تھا اسے مال میں دیکھنے کے بعد وہ حویلی میں پریشہ کو لینے گیا مگر وہاں سے پتا لگا کہ وہ سب شہر میں شفٹ ہوچکے ہیں حاطب پہلے ہی بزنس کیلئے وہاں تو کبھی یہاں پایا جاتا مگر اب اس نے بھی مستقل ٹھکانہ شہر والے گھر کو بنا لیا تھا۔

★★★★★★

انکے ڈیپارٹمنٹ میں نئے پروفیسر کا خوب چرچا تھا

پریشہ اور اسکا گروپ پچھلے ہفتے سے غائب تھا اسیلئے نئے ٹیچر کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ۔

کلاس میں بیزار سے بیٹھی وہ اپنے فیلوز کے تبصرے سن رہی۔تھی جب ایک دم خاموشی چھائی اس نے بھی نظر سامنے اٹھائی مگر پلکیں جھکنے سے انکاری ہوئی تھیں اسے لگ رہا تھا کہ یہ کوئی الیوژن ہے مگر سامنے موجود پرسنیلٹی واقعی اس پہ سحر طاری کررہی تھی مگر جلد ہی وہ ہوش میں آئی .

کیمل براؤن کلر میں لائنگ والی شرٹ کے ساتھ براؤن جینز پہنے فریم لیس گلاسسز کے ساتھ ہلکی سی داڑھی جو اسکے چہرے پہ سوٹ بھی کرتی تھی ساتھ میں کلائی پہ بندھی ریسٹ واچ پہ بار بار نظر ڈالتا نجانے کیا بول رہا تھا وہ غائب دماغی سے اسکے ہلتے لب دیکھ رہی تھی جو کوئی اور نہیں یقیناً خُریَم خان ہی تھا اس نے ہمیشہ اسے روایتی پٹھانوں کے لباس میں دیکھا مگر اسکا نیا حلیہ اور ساتھ میں اس کلاس میں اسکی موجودگی یہ ظاہر کررہی تھی کہ وہی انکا نیا پروفیسر ہے ۔

“کلاس میں کچھ نئے چہرے نظر آرہے ہیں جی مس آپ ۔”

اس نے پینسل سے اشارہ کرتے اسے پوائنٹ آؤٹ کیا اپنے اردگرد دیکھتی وہ کھڑی ہوگئی یقیناً اپنے سر کی مخاطب وہی تھی اسکی دوستیں شاید پہچان نہیں پائی تھیں کیونکہ وہ مال والے حلیے سے یکسر الگ نظر آرہا تھا۔

“کیا آپ اسی کلاس کی سٹوڈنٹ ہیں ؟”

اسکا سوالیہ انداز پریشہ کو دانت پسینے پہ مجبور کررہا تھا وہ شخص جان بوجھ کے اسے ژچ کرنا چاہ رہا تھا ۔

“یس سر ۔” مختصر جواب دیتی زمین پہ نظریں گاڑے اپنے گناہوں کی کاؤنٹگ سٹارٹ شروع کردی ۔

ساتھ میں اسکے بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *