Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 09)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 09)
Qirtaas by Uzma Mujahid
“خُریَم تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟”
دریام خان کی آواز سن وہ دونوں ماں بیٹا کھڑے ہوگئے.
“دادا جان ہم بس یہی کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر وہ لوگ داوڑ خاندان کی لڑکی کو اپنی بہو بنا سکتے تو ہم کیوں نہیں ہمیں زحلے کو واپس لانے کی راہ ہموار کرنی ہے. “
خوریم کی بات سن دریام خان کے چہرے پہ لالی دوڑی.
“تمہارے باپ نے بھی اسے واپس لانے کے خواب دیکھے تھے کیا نتیجہ نکلا پھر “
انکی آواز غصے کی شدت سے کپکپانے لگی۔
“دا جی آپ غصہ نہ ہوں میں اسے سمجھاؤ گی پانی کا گھروندا بھی بنا ہے کبھی خُریم”
داجی سے بات کرتے روح خانم نے اپنے بیٹے کو آنکھیں دکھائیں جبکہ وہ ماں کی لوجک سمجھنے سے قاصر تھا
دریام خان اس پہ نگاہ ڈالتے واپس چلے گئے ۔
“کیا ماں کونسا پانی کا گھروندا ہے “
“وہی زحلے کو واپس لانے والا “
“کیوں ؟ کونسے قانون کے تحت آپ نے اسکا نکاح کیا ابھی وہ بالغ نہیں اور نہ اٹھارہ سال کی ہوئی میں اسے واپس لاؤنگا”
خریم کا ضدی انداز روح خانم کو خدشات میں مبتلا کررہا تھا۔
“اچھا تو لے آؤ سامنے ہی تو بیٹھی ہوگی خون بہا میں ونی کیا تھا اسے بھول جاؤ خریم ہم بھی بھول گئے ہیں”
انکے لہجے کی بے بسی بتا رہی تھی کہ بھولی وہ بھی نہیں تھیں اسے ۔
کتنی ظالم رسم کی پروان چڑھی تھی انکی بیٹی۔
“میں نے ان سے وعدہ کیا تھا ماں کے میں اسے واپس لاؤنگا بغیر کسی گناہ کے ونی کیا اسے آپ لوگوں نے
“
دوٹوک انداز میں کہتا وہ چلا گیا۔
اسے “داجی” کا انداز بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
★★★★★★★★★★
قرطاس و قلم ہاتھ میں ہے اور شب مہ ہے
اے رب ازل کھول دے جو دل میں گرہ ہے
اطراف سے ہر شب سمٹ آتی ہے سفیدی
ہر صبح جبیں پر مگر اک روز سیہ ہے
میں شام سے پہلے ہی پہنچ جاؤں تو بہتر
جنگل میں ہوں اور سر پہ مرے بار گنہ ہے
مہنگی ہے جہاں دھات مرے سرخ لہو سے
زردی کے اس آشوب میں تو میری پنہ ہے
منہ زور زمانوں کی ذرا کھینچ لے باگیں ۔۔۔۔۔۔
زحلے کو ریسٹ کرتا دیکھ وہ زرتاج گل کے کمرے کی جانب بڑھا ۔
سامنے زرتاج گل کو بے چینی سے ٹہلتا دیکھ حاطب کا پارہ ہائی ہوا تھا۔
“یہ کونسا نیا کھیل کھیلنے لگی ہو تم زرتاج گل ؟”
حاطب کی اکھڑ آواز سنتے اسکے پاؤں کو بریک لگے ۔
“کونسا کھیل حاطب خان؟ اور تمہاری اس کل کی لڑکی کی اتنی جرآت کے وہ زرتاج گل کے خلاف گستاخی کرے تم اسے اتنی آسانی سے معاف کر کے آگئے ؟”
حاطب جانتا تھا جب زحلے اس سے الجھ رہی تھی وہ کن سوئیاں لیتی اسکے روم کے دروازے پہ ٹہری تھی۔
“میں نے پہلے بھی کہا ہے آپ کو زحلے آپکی مجرم نہیں ہے اور کس کا گناہ آپ ہمارے سر رکھنے کی کوشش کررہی ہیں “
حاطب کا انداز دو پل میں زرتاج گل کی سٹی گم کرگیا۔
“کک ککیا مطلب حاطب ہم سمجھے نہیں ؟”
“ہم نے کوئی اتنی الجھی ہوئی بات نہیں کی زرتاج گل اگر تو یہ آپکی نئی سازش ہے ہم اسے زرا بھی برداشت نہیں کریں گے”
اسکے بازو سے پکڑتے باہر کی جانب دھکیلا ۔
” زحلے کی حدود وقیود میں اسے اچھے سے سمجھا چکا ہوں زرتاج گل مگر آپ اپنے اس کھیل کو یہی ختم کردیں تو بہتر ہوگا ہم سب کے حق میں کیونکہ جانتی تم بھی ہو کہ کیا جھوٹ ہے اور کیا سچ؟”
اب کے حاطب کے لہجہ کسی بھی رعایت سے عاری تھا۔
زرتاج گل کو بھی اسکی ٹون صاف دکھائی دے رہی تھی وہ جو اسے کبھی آپ سے کم پہ مخاطب نہیں کرتا تھا اب “تم” کی حدود میں آچکا تھا۔
آگے بڑھتے اسے مورے جان کے کمرے کی طرف کھینچ لایا
“چلو اندر چل کے سب سچائی سے آگاہ کرو مورے جان کو “
وہ جو زرتاج گل سمجھتی تھی کہ حاطب ہمیشہ اس سے دب کے رہے گا کتنی آسانی سے ارباب کی نسبت اسے رسوا کرنے کا سوچ رکھا تھا اب تو بازی الٹ جاچکی تھی۔
اسکے سامنے اس دن کا واقع گھو ما جب وہ حددرجہ گستاخ لہجہ لیے اسکے سامنے تھا۔
“زرتاج گل یہ تم۔نے اچھا نہیں کیا میرے بھائی کو میرے خلاف بدظن کیا کیوں جبکہ تم جانتی تھی کے سچ کیا تھا ارے اتنی عزت دی اور بدلے میں؟”
“حاطب مجھے معاف کردو مم میں نے ارباب کی آنکھوں میں اپنے لیے بے یقینی دیکھی انہیں اپنا عکس مجھ میں نظر آتا ہے تو “
حاطب کی بات کاٹتے پھر سے اسے مہرہ بنانے کی کوشش کی اور وہ اپنے سامنے اونچے مسند پہ بیٹھی عورت کو زمین پہ گرتے دیکھ رہا تھا مورے جان کی پرورش کی۔لاج رکھے بنا کوئی حرف اس چال باز عورت کو کہے ارباب لالہ کی فکر کرنے لگا۔
ابھی وہ بہت چھوٹا تھا وہ اس عورت پہ۔ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا مگر آج کا حاطب چھبیس اٹھائیس برس کا اک کڑیل نوجوان تھا جسکے سر پہ خان حویلی کا شملہ رکھا گیا تھا ۔
شہر میں رہنے کا اک اور نقصان حاطب کے سر ہوا دائم اور پریشہ مکمل طور پہ اسکے انڈر تھے اور اب جو کرنا تھا اسے ہی کرنا تھا ۔
حاطب کا ہتک آمیز رویہ اب کے زرتاج گل خاموش ہی رہی۔
“دیکھیں زرتاج گل ہم مورے جان کو آپکی وجہ سے کسی آس میں نہیں ڈالنا چاہ رہے اسیلئے بہتر ہے آپ سبکو سب سچ بتا دیں”
حاطب اپنی بات مکمل کیے باہر کو روانہ ہوا جبکہ وہ تلملا کے رہ گئی اس بارے میں تو انہوں نے سوچا نہیں تھا اب پریشہ پہ بھی غصہ آیا جو صرف زحلے کو نیچا دکھانے کے چکر میں حاطب کا ریکشن بھول گئیں۔
“کیا ہوا حاطب خان زرتاج گل ؟”
ان دونوں کو اپنے دروازے پہ الجھتا دیکھ مورے جان بھی حیران ہوئیں۔
“یہ آپ انہی سے پوچھیں گی مورے جان جو نجانے کس کس کا گناہ ہمارے سر لگانے کی کوشش کررہی ہیں ہم نے تو آج تک ان کو ہاتھ لگانا گورا نہیں کیا آیا کہ؟”
اب کے ماں کے سامنے لاج آئی تھی ۔
مورے جان نے حیرت سے زرتاج کو دیکھا جو سرکو جھکائے رونے کا شغل پورا کررہی تھی۔
“ہمیں معاف کردیں دی جان ہم نے تو پریشہ کے کہنے پہ مزاق کیا تھا ۔”
“مزاق تھا یہ ؟”
مورے جان کی آواز کسی کھائی سے آئی تھی وہ جو اتنے برس اسے درگاہ درگاہ شہر شہر لیے گھومتی رہیں انہیں لگا ان کی مرادیں بر آئی ہیں پر یہ مزاق تھا انکی آس کا مزاق اڑایا گیا انکے جزبات؟
“ہمیں اکیلا چھوڑ دو آپ لوگ “
مورے جان اپنے پہ قابو پاتیں انہیں جانے کا حکم سنا گئیں۔
زرتاج گل نے اک سلگتی نگاہ حاطب کی پشت پہ ڈالی جو کسی شان تفاخر سے سرخرو ہوتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
★★★★★★★★
داور خان نے اپنے سامنے موجود اجنبی بچے اور چادر میں ملبوس شخص کو دیکھا۔
“ته څوک اجنبی یې”
“کون ہو تم اجنبی؟”
انکا وہی مخصوص نرماہٹ لیے لہجہ تھا۔
تبھی اس نے اپنا چہرہ سے چادر ہٹائی اگرچہ اسکی کمپرسی کی حالت میں پہچاننا مشکل تھا مگر ناممکن نہیں۔
“زرگل ” ایک سرگوشی سی ہوئی تھی داور خان نے بے ساختہ اپنی لاٹھی کا سہارا لیا ،
اپنے بیٹے کے قاتل کو زندہ سلامت دیکھ ان کی زات زلزلوں کی زد میں آئی تھی۔
پھر اک جست میں وہ اس تک پہنچے تھے۔
“تم زرگل اتنے نمک حرام ہوگئے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا کک کیا بگاڑا تھا میرے ارباب نے تمہارا “
دارا جان کے آواز کپکپا رہی تھی۔
“مم میں نے قتل نہیں کیا ارباب خان کو دارا جان “
زرگل کی نجیف سی آواز بامشکل دارا جان سن پائے تھے
اک بے یقینی سی نگاہ اس پہ ڈالی۔
زرگل نے یاس وآس کی امید بھری نگاہ ان پہ ڈالی اور پھر زرگل نے جو راز افشاں کیے تو داور خان کو لگا انکی ذات کا غرور ٹوٹ گیا ہے بھلا اپنے بھی پیٹھ پیچھے ایسا وار کرتے ہیں۔
“اتنا بڑا دھوکا ” زرگل کب کا وہاں سے جاچکا تھا مگر کسی اور نے بھی اسے وہاں سے جاتا دیکھا بھلا وہ کیسے نہ اپنے محبوب کو پہچان پاتی ۔
جس بات سے حویلی کے ملازم تک آگاہ ہوگئے وہ بات حاطب خان سے چھپا لی گئی ۔
اگلے دن داور خان اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے شمشیر گاؤں کے ڈاکٹر کو بلا لایا جس نے انکی موت کی تصدیق کردی ساتھ میں یہ بھی کہ انکی موت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی ہے۔
حاطب خان کا اک اور سہارا چھن چکا تھا وہ جو عام لڑکوں کی طرح کھلنڈرا سا نوجوان تھا اک دم حالات نے اسکے لہجے میں سختی لادی ۔
اسے اکثر محسوس ہوتا شیر خان اسے کچھ کہنا چاہتا ہو مگر شاید اسے بہتر موقع نہیں مل پا رہا تھا۔
وقت گزرتا رہا پریشہ اور دائم بھی زندگی کی تلخیوں کو سمجھنے لگے تھے حاطب کی نگاہ اکثر زحلے کے شفاف نوخیز کلیوں جیسے حسن پہ جا ٹہرتی ساتھ ہی اپنا خسارہ یاد آتا۔
زرتاج گل سے حد درجہ بیزار حاطب زحلے کی ذات میں الجھ کے رہ گیا تھا یہ اک اٹل حقیقت تھی کہ وہ حاطب کے حوالے سے ہی یہاں موجود تھی اور شاید اپنے سے جڑے ہونے کا احساس تھا کہ وہ انجانے میں اسکی پرواہ کرنے لگا تھا مگر زرتاج گل کی پخ “وہ دشمنوں کی بیٹی” اسے پھر سے گھیسیٹ کے زحلے کے نقطے سے دور لے جاتی۔
زرتاج گل کا رویہ اکثر اس سے نفرت آمیز ہوتا مگر ابھی حاطب کے نزدیک وہ وقت نہیں آیا تھا کہ زرتاج گل کو اس کے کرموں کی سزا دی جائے جب تک زرگل اسکے ہاتھ نہ لگتا زرتاج گل کو جھیلنا اسکی مجبوری بن چکا تھا ۔
ایک ایسے ہی دن پھر سے وہ اسکیلئے امتحان بنی سامنے آٹہری تھی۔
“حاطب لالہ آپ مجھے شہر سے گڑیا لا دیں گے پریشہ جیسی “
ہاتھ میں چند سکے لیے زحلے اسکے سامنے موجود تھی گیراج کی جانب بڑھتے قدم اسکے سامنے رکے تھے ۔
حاطب کی جانب سے کوئی جواب نہ پا کر وہ مایوس سی لوٹنے لگی تبھی حاطب نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا زحلے کے چہرے پہ تو خوشی کی رو جاگی اس نے ہاتھ بڑھائے وہ چند سکے اسکی مضبوط ہتھیلی پہ رکھے وہیں اسکا نازک ہاتھ اسکی گرفت میں آیا۔
“لالہ ہمارا ہاتھ “وہ ناسمجھی سے حاطب کو دیکھنے لگی ۔
جبکہ اسکا ہاتھ تھامے وہ مسمرائز سا ٹہرا تھا ۔
“حاطب لالہ بھابھی ماں ” اب کے زحلے نے اسے ڈرایا اک ٹھنڈی سانس بھرتے اسکا ہاتھ چھوڑا جبکہ وہ کھلکھلا کے ہنس پڑی اسکا خیال تھا کہ وہ اسے ِبھابھی ماں کا ڈروا دے ہاتھ چھڑا چکی ہے ۔
تبھی زرتاج گل نے مسکراتے حاطب اور زحلے کو دیکھا اسکے جاتے ہی زحلے کو پھر سے دھنک ڈالا جب گل بانو نے اسکی حالت دیکھی ماں کی ممتا لیے اسکے سامنے آٹہری۔
“گل بانو تمہیں کتنی بار کہا ہے زحلے مجھے اس حویلی نظر نہ آئے پھر بھی تم اسے حاطب پہ ڈورے ڈالنے کو یہاں بھیجتی ہو یاد رکھنا تمہارے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دونگی میں “
زرتاج گل نے اسے اپنے کمرے میں بلائے کھری کھری سنائی تھی اسکیلئے زحلے کی ذات سوائے تکلیف کے کچھ نہ تھی۔
“زرتاج گل آئیندہ سے میری بیٹی کے بارے اک لفظ نہیں بولیں گی آپ ورنہ جو طوفان میں لاؤگی پہروں اس حویلی والے خمیازے بھگتیں گے “
گل بانو کسی بھوکی شیرنی کی طرح اس پہ دھاڑی۔
“تمہاری اتنی جرآت کے تم میرے سامنے کھڑی ہو زرتاج گل کا ہاتھ اٹھا تھا جو درمیان میں ہی رہ گیا”
“ہاں میری جرآت اور میری اوقات یہ ہے کہ میں ایک منٹ میں تمہیں نست ونابود کردوں جانتی ہو کیسے؟ اگر میں حاطب خان کو زرگل کے یہاں آنے اور اس بات سے پردہ اٹھا دوں کے تم نے اپنے گناہوں کو چھپانے کیلئے دارا جان کو زہر دلواکے مارا ہے تو جانتی ہو نا کیا ہوگا تمہارے ساتھ “
گل بانو کی پھنکار اب کے زرتاج گل کو واقعی لگا یہ بازی وہ ہار جائے گی
۔
جھ جھوٹ بول رہی ہو تم مم میں کیوں دارا جان کو زہر دلواؤں گی زرتاج گل کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ ہی اسکے کھوکھلے لہجے کو ظاہر کررہی تھی اور گل بانو جو صرف اسے زحلے کے معمالات سے دور رہنے کو پرت پھینک رہی تھی وہ خود بھی لاعلم تھی انجانے میں کونسی چنگاری جلا گئی ہے ۔
اور پھر کچھ دن بعد گل بانو اور شیر خان کا باب بھی اس حویلی میں ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ۔
مگر اک شخص تھا اس سب کا امین جسے شیر خان اور گل بانو سارے راز سونپ گئے تھے زرتاج گل جو یہ سمجھ رہی تھی کہ سارے راز دارا جان اور گل بانو کے ساتھ ختم ہوگئے ہیں وہ غلطی پہ غلطی کرنے کو تیار تھی۔
★★★★★★★★
“خریم” نے سامنے موجود شخص کو دیکھا جو داوڑ حویلی میں اس سے ملنے ہی آیا تھا عمر میں وہ خریم کو کافی بڑا نہیں لگ رہا تھا۔
“جی آپ کون معذرت خواہ ہوں میں نے آپکو پہچانا نہیں۔”
خریم تعزیم بجا لاتے اسے بیٹھنے کو بولنے لگا۔
“تم بھلا کیسے ہمیں پہچانو گے بہت عرصہ ہوا ہم اس حویلی میں نہیں آئے ۔”
“ہم عذیر خان ہیں گل زمان خان کے دوست “
اتنے عرصہ بعد اپنے باپ کا حوالہ سن اور انکے دوست کی آو بھگت میں کوئی کمی نہ لائی۔
“بہت پیار کرتے تھے اپنی بیٹی سے گل زمان خان مگر افسوس کہ “
سر نفی میں ہلاتے اس شخص نے اپنی بات ادھوری چھوڑی۔
خریم کے دل میں اس ادھورے جلمے نے پھر سے کسک جگا دی اور سامنے والا بھی چہرہ شناس تھا۔
“خریم تمہارے باپ کی روح کتنی تڑپتی ہوگی اپنی اکلوتی بیٹی کو ایسے تڑپتے دیکھ “
سامنے موجود شخص کا لہجہ گلوگیر ہوگیا وہ بھی چونکا۔
“کیسا سلوک چچا ” خریم اپنی گڑیا کے زکر پہ بے تاب ہوا ۔
“وہی جو اک ونی کی گئی لڑکی کی ہوتی ہے اور حاطب خان خدا غارت کرے ایسے شخص کو جس نے کبھی اسے حویلی میں بیوی کا مقام ہی نہیں دلوایا جبکہ؟”
جبکہ کیا؟”
“اپنی عورتوں کو اعلی تعلیم دلوا رہا ارے رشتے داری کی لاج ہی رکھ لیتا زرگل کو بچانے کے چکر میں دریام خان نے زحلے کی بھنٹ چڑھا کے بہت برا کیا “
اب کے اس شخص نے بڑی چالاکی سے رخ دریام خان کی جانب موڑا وہ جو پہلے ہی داجی کے خلاف تھا اب تو اور ان سے بدظن ہوا۔
اور پھر وقتاً فوقتاً “خریم کے دل میں بڑھتی قدرورت نے اسکو اپنے اصل سے ہٹ جانے پہ مجبور کردیا .
وہ جو اسکے باپ کا دوست تھا اب خریم کو ہر نئی تدبیر بتاتے اسے بدلے پہ اکسانے لگا۔
★★★★★★★★★★★
“مجھے آگے پڑھنا ہے”
حاطب جو ابھی کمرے میں آیا وہ اسکے سامنے آموجود ہوئی۔
“ٹھیک ہے بکس لادونگا “
جان چھڑانے والا انداز۔
“مجھے پریشہ کے ساتھ رہ کے پڑھنا ہے”
اب کے لہجہ تھوڑا ضدی تھا حاطب بھی چونکا ۔
“یہ کس نے خناس بھرا تمہارے دماغ میں؟”
حاطب کا دماغ جو پہلے ہی بہت الجھا تھا اسکی بات سن مزید دماغ خراب ہوا۔
“کیوں وہ پڑھ سکتی ہے تو میں کیوں نہیں”
بچوں جیسا لہجہ۔
حاطب کا دل کیا اسے پکڑ کے دو لگا دے ۔
“ابھی حالات بہتر ہوجائیں پھر سوچتے ہیں کچھ “
بنا اسے دیکھے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا۔
آج تین دن بعد وہ واپس آیا تھا مروت تو پہلے بھی نہیں دکھاتا تھا اب کے تو دیکھنا گوارہ بھی نہیں کیا ۔
واپس آیا وہ ویسے ہی سوچوں میں گم تھی .
“کونسے مسائل کا جرگہ چل رہا ؟ “
اسکے برابر بیٹھتے بولا اسکی موجودگی محسوس کرتے وہ تھوڑا سا کھسکی تبھی حاطب نے ناگواری میں اسکا انداز دیکھا۔
“شوہر اتنے دن بعد گھر آیا ہے کم از کم کوئی حال احوال پوچھا جاتا ہے یہ کیا آتے ہی تابڑ توڑ حملے شروع “
اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے خود سے قریب کیا حاطب کو خواہش ہونے لگی کے وہ اپنے اور اسکے رشتے کو محسوس کرے جبکہ وہ کسی روٹین کی طرح اس سے پیش آتی۔
“کیوں شوہر حال احوال پوچھنے کو دوسری خاندانی بیوی ہے پڑی نا پھر “
اپنی چھوٹی سی ناک سکوڑے حاطب کو گھورا وہ بھی مسکرا دیا _
وہ کبھی اس سے پیار سے پیش نہیں آتی تھی مگر حاطب کو اسے دیکھ اپنی ساری تھکن جاتی محسوس ہوئی۔
“بہت بولنا آگیا ہے “زحلے” آپکو”
بیڈ پہ لیٹتے اسے بھی اپنے پہلوؤ میں گرایا۔
“کیوں اب اپنے حق کیلئے بھی نا بولے “بندہ”
اسکے پہلو سے اٹھنے کی کوشش کی۔
اور دوسروں کے حق کا کیا زحلے بیبی ؟”
اسے بازو سے پکڑے واپس اپنے برابر لاتے اسکے بھاگنے کے عمل پہ اپنی ناپسندیدگی دہرائی۔
“کونسے حق دشمنوں کی بیٹی کوئی حق فرائض کی پابند نہیں ہوتی حاطب خان”
اب کے ناراضگی کے اظہار پہ رخ موڑا گیا۔
“دشمنوں کی بیٹی اگر دل پہ قابض ہونے کی کوشش کرے تو ؟”
اسکی آنکھوں میں دیکھتے اپنے جذبات آنکھوں کے زریعے پہنچانے کی کوشش کی۔
“تو تو یہ کہ مسٹر حاطب مجھے آپکی خاندانی بیوی سے پٹنے کا کوئی شوق نہیں “
اب کے دوٹوک انداز تھا مطلب کہ وہ اتنی بھی انجان نہیں تھی جتنا خود پرپینڈ کرتی تھی۔
“اور جو میں اتنی بےرخی پہ مار ڈالوں تو ؟”
اسکی جانب کروٹ بدلتے مکمل طور پہ اس پہ اپنے وجود کی پرچھائی پھیلائی۔
اپنے اتنے قریب دیکھ اب کے زحلے کی بولتی بند ہوئی لزرتی پلکیں گلابی رخساروں پہ سایہ شگن ہوئیں حاطب کیلئے یہ نظارہ اتنا مبہوت کردینے والا تھا وہ ہر چیز بھلائے اس پہ جھکا اب کے زحلے کی سانس اٹکی تھی۔
“حا حاطب پپ پلیز”
اسکی قربتوں پہ گھبراتی اسے پکار بیٹھی مگر اثر کسے تھا اس سے پہلے کے وہ اپنے کیے گئے فیصلوں سے خود ہی پیچھے ہٹتا دروازہ زوردار بجایا گیا اک ناگواری کی سی لہر نے اسکا احاطہ کیا زحلے اسکی گرفت ڈھیلی پڑتے دیکھ خود کو چھڑاتے ڈریسنگ روم کی جانب لپکی ۔
سامنے موجود زرتاج کو دیکھ اپنے غصہ پہ قابو پایا ۔
“وقت دیکھا ہے آپ نے”
ناگواری صرف لہجے سے ہی نہیں انداز سے بھی عیاں تھی جبکہ اسے تو اس ٹائم پریشہ کے ساتھ شہر میں ہونا تھا پھر ۔
“حاطب وہ وہ دریام خان کے پوتے نے پریشہ کو اغوا کرلیا ہے اور یہ بھی “
ہاتھ میں پکڑا لفافہ اسے پکڑایا حاطب کی زات کو طوفانوں کے سپرد کرتی یہ جا وہ جا کانپتے ہاتھوں سے اک نگاہ اس کاغذ پہ ڈالی جہاں پریشہ گل ولد داؤد خان نے بقائمی ہوش وحواس خریم خان ولد گل زمان خان کو قبول کرتے سائن کیے ہوئے تھے یہ کیسے ہوسکتا ہے اور وہ اس سب سے کیسے انجان رہا ۔
“کیا ہوا خان”
زحلے نے اسکے تاثرات دیکھ دور سے ہی پوچھنا مناسب سمجھا جبکہ وہ بھوکے شیر کی طرح اس پہ جھپٹا ۔
“تت تم تمہارے خاندان کو برباد کردونگا میں نیچ خاندان نے اپنی اصلیت دکھا دی نا “
بالوں سے پکڑے اسے بیڈ کی جانب دھکیلا جو بیڈ پہ تو نہیں اسکے قریب گرتے زخمی ضرور ہوگئی تھی۔
وہ جو ابھی اس پہ ابھی محبتوں کی برسات کررہا تھا اسکا جانی دشمن بنا مارنے پہ تلا تھا ۔
“چہ چہ کیا ہوگیا ہے حاطب خان اس بیچاری کا کیا قصور یہ تو شاید خریم خان کو جانتی بھی نہیں ہوگی”
تنفر سے کہتی زرتاج گل حاطب کے غصے کو ہوا دینے لگی جبکہ وہ ناسمجھی کے عالم میں اس دھوپ چھاؤں جیسے شخص کو دیکھ رہی تھی جو ابھی ساری دنیا بھلائے اسے محبتوں کی بارش میں بھگو رہا تھا اب ہر احساس سے عاری اسے پیٹے جارہا تھا۔
★★★★★★★★★★
“بھابھی ماں اتنی دیر ہوگئی ڈرائیور اب تک نہیں آیا”
شہر کی جانب بڑھتے راستے میں گاڑی خراب ہوگئی تھی اور ڈرائیور کسی مکینک کو بلانے گیا تھا مگر ابھی تک واپس نہیں آیا ۔
تبھی اسلحہ بردار دو تین گاڑیاں انکے پاس آرکیں
پریشہ نے خوفزدہ ہوتے بھابھی ماں کے بازو پہ گرفت مضبوط کی زرتاج نے بھی اس سہمی ہوئی چڑیا کو اپنی پناہ میں لیا سامنے موجود شخص کو دیکھ پریشہ چونکی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے اس شخص کو کہیں دیکھا تھا کہاں یہ یاد نہیں آرہا تھا ۔
خریم نے آگے بڑھتے زرتاج گل کی کنپٹی پہ پسٹل رکھا جبکہ ساتھ موجود شخص پریشہ گل کی جانب بڑھا تھا ۔
“کک کون ہوتم چھ چھوڑو مجھے”
پریشہ کی ممناتی آواز پہ خریم بھی چونکا اپنے ساتھ موجود شخص کو زرتاج پہ نظر رکھتے خود اسکی جانب بڑھا۔
“تم کیا کررہے ہو خریم خان حاطب کی عزت پہ ہاتھ ڈالنے والوں کے ہاتھ کاٹنا اچھے سے جانتا وہ بہتر ہے کہ تم ہمیں جانے دو شاید تم جانتے نہیں کہ کس کے گھر کی عورتوں پہ تم نے ہاتھ ڈالا ہے “
زرتاج گل کی گیدڑ بھبکیاں خریم پہ بے اثر ثابت ہوئیں تھیں ۔
“اوہ رئیلی پھر تو مزا آئے گا حاطب خان سے لڑنے میں”
اسے اپنے آدمیوں کی نگرانی میں چھوڑے پریشہ گل کو کندھے پہ اٹھائے وہاں سے روانہ ہوا تھا ۔
“بھابھی ماں “
اب کے پریشہ نے اس سے مدد مانگی جو کہ خود بے یارو مددگار ٹہری ہوئی تھی۔
خریم کا مقصد اسےکے زریعے حاطب تک پہنچنے کا تھا مگر برا ہو اس دل۔کا جو پہلے دن اسے دیکھتے دغا دے گیا تھا
کچھ دیر بعد اک ملازمہ ہاتھوں میں سرخ جالی دار کپڑے سے ڈھکا تھال لیے اسکے سامنے تھی ۔
“کک کیا یہ کیوں لائے ہوتم مجھے یہاں اگر میرے بھائیوں کو پتا چلا تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے وہ”
سامنے موجود عروسی لباس دیکھ پریشہ گل اسے خونخوار نظروں سے دیکھتی چلائی تھی۔
“سب پتا چل جائے گا صرف کچھ لمحوں کی دیری ہے کچھ دیر میں مولوی صاحب آنے والے ہیں ہمارا نکاح ہوگا تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ چپ چاپ میری بات مان لو نہیں تو تمہاری بھابھی ماں میرے آدمی کیا کچھ کرسکتے اسکے ساتھ تم سوچ سکتی ہو۔”
خریم کا دھمکی آمیز لہجہ اب کے اسے بھابھی ماں کی فکر ہوئی تھی ۔
کہو تو نظارہ دکھاؤں موبائل اسکے سامنے کرتے شیطانی مسکراہٹ لیے اسکی جانب بڑھا اک خوفزدہ نگاہ سامنے کے منظر پہ ڈالے وہ خریم کو دیکھنے لگی۔
بھلا وہ بھابھی ماں کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی کیسے دیکھ سکتی تھی وہ تو پہلے ہی لالہ کی وجہ سے ہرٹ تھیں مگر وہ اپنی زندگی کو اندھیروں کے سپرد بھی نہیں کرسکتی تھی۔
ہر طرف بند گلی دیکھ اس نے نکاح نامے پہ دستخط کردیے ۔
جیسے ہی خریم اور اسکا نکاح نامہ زرتاج گل کے ہاتھ لگا
زرتاج گل۔نے اک فاتحانہ نگاہ اس نکاح نامے پہ ڈالی اور پلین کے مطابق حاطب کے پاس پہنچ گئی۔
پریشہ سے اسے کوئی ہمدردی نہ تھی زحلے کی محبت میں ڈوبے اسکے بھائی کو وہ اپنا مہرہ بنائے کب سے دبی دشمنی کی چنگاریوں کو ہوا دے گئی تھی۔
★★★★★★★★★★
دریام خان باہر ہونے والی فائرنگ سن کے آئے تھے جہاں پہ آفریدی قبیلہ غیث وغضب کا شکار ہوا ٹہرا تھا۔
“یہ کیا طریقہ ہے حاطب خان “
انکی آواز کا رعب آج بھی برقرار تھا ۔
“کہاں ہے آپکا بزدل پوتا باہر نکالیں اسے اک لڑکی کی ڈھال میں کہاں چھپا بیٹھا ہے وہ بزدل”
داجی کی آواز پہ گھر کی خواتین بھی باہر جھانکنے لگیں۔
“کیا کیا ہے خریم خان نے”
داجی کی آواز اب کے تھوڑی دھیمی پڑی کیونکہ خریم کے خیالات سے تو وہ بھی تھوڑا بہت آگاہ تھا۔
“اغوا کیا ہے اس نے حاطب خان کی بہن کو “
وہاں موجود لوگوں حیرت سے اسے دیکھا بھلا خریم خان کی شرافت سے کون آگاہ نہیں تھا بھلا وہ معصوم دکھنے والا بچہ ایسی حرکت کیسے کرسکتا تھا۔
“تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے حاطب خان وہ بھلا ؟”
اب کے داجی کیُیے بھی بہت بڑا شاک تھا ۔
خریم خان کو پیش کرنے کا حکم۔دیتے وہاں سے سب لوگ چلے گئے تھے۔
یہ کیا کردیا تم نے خریم دادی اور روح خانم اپنے اکلوتے وارث کی حرکت پہ تڑپ رہی تھیں اگر حاطب خان نے کوئی جزباتی قدم اٹھا لیا تو اسکے آگے کی سوچ ہی اسے تڑپا دیتی۔
★★★★★★★★★★
پریشہ گل ” سب سے پہلی نظر ریشمہ کی اس پہ پڑی جو دہلیز پار کرتی اندر کو آچکی تھی
۔
مورے جان نے آگے بڑھتےا سے اپنی آغوش میں سمیٹا مگر وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہوچکی تھی۔
حاطب اور دائم اسکے واپس آنے کی اطلاع پہ دوڑے چلے آئے تھے ڈاکٹر نے شاک کی وجہ سے بے ہوش ہونے کا بتایا تھا
زحلے مجرم نہ ہوتے بھی حاطب خان کی نگاہوں سے چھپتی پھر رہی تھی۔
“پریشہ گل ہمیں بتاؤ وہاں کیا ہوا تھا ہم اس خریم خان کی بوٹیاں کرکے چیل کووں کو کھلا دیں گے”
حاطب کے لہجے میں شکستگی کی واضع پھنکار تھی ہر بار داوڑ قبیلہ سے وہ شکست پا ہوئے تھے پہلے زرگل اور اب کے خریم۔
مگر پریشہ گل کی چپ نہ ٹوٹی ۔
“اگر حاطب لالہ کو اسکے نکاح والی بات پتہ چل۔جائے “
پریشہ نے اک خوفزدہ نگاہ اس پہ ڈالی وہ اس بات سے انجان تھی کہ اس تک پہلے ہی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔
حاطب کمرے میں داخل ہوا سامنے ہی زحلے لیٹی تھی ۔
اٹھو یہاں سے بازو سے پکڑے اسے بستر سے الگ گیا ۔
وہ جو ابھی بمشکل سوئی تھی حاطب کو سامنے دیکھ ڈر سی گئی ۔
“جاؤ گھر کے کسی کونے میں پڑ کے سوجاؤ مگر اپنی منحوس شکل لے کے میرے سامنے مت آنا”
ماتھے پہ ان گنت بل ڈالے اسے وہاں سے نکلنے کا کہا تھا۔
زحلے کے آنسو بے قابو ہوئے جبکہ اسکی آنکھوں کی رم جھم دیکھ حاطب مزید بگڑا تھا ۔
“ہمارا قصور کیا ہے حاطب ہم تو آج تک اپنے گھر والوں سے ملے بھی نہیں “
اسکی آواز حاطب کے دماغ پہ کسی کوڑے کی طرح برس رہی تھی۔
“تم ہی تو اس سب کی وجہ ہو صرف تمہارے لیے خریم خان نے ہماری عزت پہ ہاتھ ڈالا مگر ہم اسے اتنی آسانی سے نہیں بخشیں گے “.
حاطب کے لہجے کی سختی زحلے کو سہمائے جارہی تھی بیشک وہ کبھی اس سے نہیں ملی تھی مگر بھائی کیلئیے اسکے جزبات قدرتی طور پہ پروان چڑھے تھے ۔
اتنے عرصے بعد اسے کسی اپنے کا زکر اور نام معلوم پڑا تھا وہ جو شارٹ میموری لاس کا شکار ہوئی تھی ماضی کی کئی پرت اسکے سامنے کھلنے لگے تھے دھندلے عکس شفاف ہونے لگے تھے۔
“تاسو د لالا روح دی ، زحل”
( تم لالہ کی جان ہو زحلے )
“موږ به زموږ جوړه ستاسو سره واده کړو”
(ہم اپنی گڑیا کی شادی آپ سے کریں گے لالہ)
مختلف آوازوں کا ملا جلا شور اسکے حواس مختل کرگیا بند ہوتی آنکھوں سے جو منظر اس نے دیکھا اس میں حاطب اسے پکار رہا تھا اسکے بعد وہ اپنے حواس کھو چکی تھی۔
مجھ پہ گزرا ہے مخمصے کا ہجر
خامشی میں بھی بولنے کا ہجر
تم اذّیت کو میری کیا جانو
میں نے جھیلا یے آئینے کا ہجر
مجھ پہ اترا ہوا عجب یہ ہے
آسماں سے کہیں پرے کا ہجر
دوستو! اب تو باز آ جاؤ
ایک کے بعد دوسرے کا ہجر
جاری ہے۔۔۔۔
