Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 10)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 10)
Qirtaas by Uzma Mujahid
یہ جو ریگ دشت فراق ہے
یہ رکے اگر تو نشاں ملے،
یہ نشاں ملے کہ جو فاصلوں کی صلیب ہے
یہ گڑی ہوئ ہے کہاں کہاں!
مرے آسماں سے کدھر گئ
تیرےالتفات کی کہکشاں
میرے بے خبر، میرے بے نشاں
یہ رکے اگر تو پتہ چلے
میں تھا کس نگر تو رہا کہاں
کہ زمان مکان کی یہ وسعتیں
تجھےدیکھنے کو ترس گئیں.
ہوش میں آنے کے بعد کتنی دیر وہ چھت کو بے مقصد گھورتے اپنی زندگی کی بے یقینیوں کو سوچنے لگی ۔
اک اک منظر روز اول کی طرح اسکے سامنے تھا ماضی کے دھندلکے چھٹ سے گئے تھے ۔
وہ بڑی سی حویلی “داجی(دادا جان) دادی ،روح خانم (ماں) ،گل زمان خان (باپ) ،خریم لالہ اور زرگل اک اک کا چہرہ اسکے سامنے تھا ۔
وہ زرتاج گل کی قید میں دن رات کی اذیت کال کوٹھڑی میں سہمی سی بچی کی آوازیں ۔
“زه له تیاره څخه ویریږم ماته راوړه مور “
(مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے مجھے نکالو ماں)
“یوازې مرګ ستا لاره ده ، انجلۍ”
(صرف موت ہی تمہاری زاد راہ ہے لڑکی )
اسکے اردگرد گونجیں تو آنکھوں سے آنسو کسی سیال کی طرح بہہ نکلے۔
آندھیرے کی ہولنکیاں روشن کمرے میں بھی اس پہ وحشت طاری کرنے لگی تھیں _
جسکے ہاتھ میں اسکا ہاتھ پکڑوایا گیا تھا وہ حاطب خان تھا اب کے تصویر روشن تھی آٹھ سال کی عمر میں ہی اسے اک مضبوط نسبت میں باندھ دیا گیا تھا مگر وہ انجان رہی ۔
کمرے میں موجود اندھیرے اور زرتاج کی بے رحم انداز میں برسائے گئے کوڑے اسکے جسم روح کے ساتھ دماغ کو بھی زخمی کرگئے تھے ۔
وہ اکثر گل بانو سے اپنے جسم پہ موجود نشانوں کی وجہ پوچھتی جو اسے کئی اک بیماریوں کی وجہ بتا کے ٹال دیتی اسکے بےداغ جسم پہ بدنما دھبے اب مدھم سے پڑنے لگے تھے مگر زحلے کو لگ رہا تھا اب کے ان سے پھر سے خون رسنے لگا ہے ۔
چیختے ہوئے اپنے جسم سے ان دیکھے خون کو نوچنے لگی
کمرے میں داخل ہوتے حاطب نے اسکا انداز بغور دیکھا تھا وہ کسی طرح بھی اپنے آپ میں نہیں لگ رہی تھی۔
مگر جو پہلے تھوڑا بہت ترحم تھا اب وہ بھی نہ تھا۔
“کیا ناٹک چل رہا ہے تمہارا “
اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے بولا۔
“”وایه ، هغه به مې ووژني. هغه به مې ووژني. ما وژغوره. هغه به زه په تیاره خونه کې بنده کړم.”
(وو وہ خون حا حاطب وہ مم مجھے مار ڈالے گی مم مجھے بچا لیں وہ مجھے اندھیرے کمرے میں بند کردے گی )
بری طرح سے روتے ہوئے زحلے نے اسی صیاد کی کی بانہوں میں پناہ لینی چاہی ۔
حاطب کو اب کے اسکی ذہنی رو بھٹکنے کا یقین ہوا تھا۔
“کیا ہی اچھا ہو زحلے اگر جو واپس تمہیں اسی قید میں ڈال دیا جائے تو۔”
پراسرار انداز میں کہتا حاطب اسے سہما گیا ۔
“نن نہیں حا حاطب مم مجھے ڈر لگے گا مم پپ پلیز آپ۔ “
خوف اور آنسوؤں کی ملی جلی کیفیت میں اپنی بات مکمل ہی نہیں کرپارہی تھی۔
“ٹھیک ہے تو پھراک شرط ہے اس کال کوٹھڑی سے بچنے کی ؟”
کچھ توقف کے بعد وہ پھر سے شروع ہوا۔
“تم خریم خان کے پاس جاؤ گی اور اسے کہوگی کے پریشہ گل کو زبردستی کے اس رشتے سے آزاد کرے۔ “
نہیں تو دوسری صورت وہ مرنے کیلئے تیار رہے اور حاطب خان اتنا بغیرت نہیں بنے گا اپنی جان بچانے کو اپنی عورت ونی کرے۔ “
اسکے چہرے کو پکڑے اپنی انگلیاں گاڑیں
تکیلف کی شدت سے زحلے کا چہرہ جلنے لگا تھا۔
“مم میں کیسے بھلا ؟”
زحلے کو اسکی بات واقعی سمجھ نہیں آسکی تھی۔
“حاطب خان اپنی بات دہرانے کا عادی نہیں صبح حرمت لالہ لے جائیں گے تمہیں داوڑ حویلی میرا مدعا تم لے کے جاؤ گی۔ “
اپنی بات واضع کرتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
زحلے کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ جو اسے بچھڑے ہوؤں سے ملنے کا مژگان سنا گیا اس پہ خوش ہونا ہے یا پھر اسکی شرائط منوانی ہیں بہرحال اسے اپنے صیاد سے محبت ہو چلی تھی ۔
★★★★★★
“تم پاگل ہوچکے ہو حاطب یہ بھلا کیسا فیصلہ ہے ؟”
زرتاج گل کو لگا اسکی من کی مرادیں پوری ہونے کو تھیں کیونکہ اگر اک بار زحلے داوڑ حویلی میں واپس چلی جائے خریم کبھی اسے واپس نہیں آنے دے گا۔
اب کے زرتاج نے گلریز کے زریعے خریم کو اپنا مہرہ بنایا تھا پریشہ گل کو اغواء کے تاوان میں زحلے کی واپسی مگر خریم نے پریشہ سے نکاح کرکے انکو مشکل میں ڈال دیا تھا مقصد اسکا مکمل طور پہ زحلے کی واپسی تھی اسیلئے زرتاج نے پھر شطرنج کا مہرہ بدلہ تھا۔
حاطب کو اس بات پہ منایا کہ زحلے کے زریعے ہی خریم پریشہ کو آزاد کرسکتا مگر داجی کی مداخلت پہ خریم کو پریشہ گل کو واپس بھیجنا پڑا اب کے ساری بساط الٹ گئی مگر حاطب کا فیصلہ اسکے دل پہ ٹھنڈی پھنوار برسا گیا تھا ۔
حاطب کو بھی پریشہ کی آزادی چاہیئے تھی دونوں طرف سے طلاق کے راستے کے کوئی چارہ نہیں بچے گا ۔
اک مطمئن نگاہ حاطب پہ ڈالتی بظاہر اسکے فیصلے کی نفی کرنے والی زرتاج گل بہت خوش تھی ۔
دی جان جو اب تک سمجھ رہی تھیں کہ حاطب کے دل میں زحلے کیُیے ہمدردی کے ساتھ محبت کے جزبات پیدا ہوگئے ہیں انہیں اپنی غلط فہمی پہ ملال ہوا ۔
جتنا کچھ زحلےاس حویلی میں سہل کرچکی تھی بہتر تھا کہ وہ واپس چلی جائے اگر اس سب میں کوئی خاموش تماشائی تھا تو زحلے اور پریشہ جنکی ڈوریں کسی اور کے ہاتھ آگئی تھیں۔
زرتاج گل بہترین انداز میں خریم اور حاطب کے ذریعے اپنے مقاصد میں کامیاب ہورہی تھی مگر شاید وہ بھول گئی تھی اس سے بڑا پلینر سب سے بڑا گیم چینجر اک اور ذات برحق ہے جو انسان کو آزماتا اور اسکی رسی ضرور ڈھیلی ضرور کرتا ہے مگر اک حد تک ۔
“حاطب اگر داوڑ خاندان نے بدلے میں زحلے کی آزادی مانگ لی تو ؟”
زرتاج گل نے دل۔میں پینپتے خدشے کو زبان پہ لایا مقصد صرف یہ جاننا تھا کبھی ایسی نوبت آئے تو حاطب کا کیا فیصلہ ہوگا۔
“پریشہ کیلئے میں کسی بھی حد سے گزر جاؤں گا چاہے اسکیلئے مجھے زحلے یا کسی اور کو بھی قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔”
اسکا دوٹوک انداز زحلے کا چہرہ فق کرگیا وہ اسکیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی دل کی پکار تھی کے وہ اسے روکنے کی بات کرے مگر ۔
اک نظر سب پہ ڈالے وہ حرمت لالہ کی طرف بڑھ گئی آزادی کا یہ پروانہ اسے کسی قید سے کم نہیں لگ رہا تھا داوڑ حویلی کی طرف کم ہوتا فاصلہ اسے خان حویلی اور اسکے میکنوں سے دور کررہا تھا ۔
حاطب کی مدھر آواز کانوں کی لو کو چھوتی محسوس ہوئ۔
“دشمنوں کی بیٹی اگر دل پہ قابض ہونے کی کوشش کرے تو؟”
کتنا خوشفہم کر دینے والا انداز تھا اسکا۔
“اور میں جو اتنی بے رخی پہ مار ڈالوں ؟”
وہ جو اسکی بے رخی پہ شکوہ کناں رہتا تھا اب خود کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کر ڈالا تھا۔
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تم میری بی۔لوڈ وائف سے
جیلس ہورہی ہو لڑکی؟”
ہونٹوں کا کنارہ عادت سے مجبور ہوتے دانتوں میں چبا ڈالا۔
تبھی اسکی انگلیوں کی پورز کا لمس اپنے ہونٹوں پہ محسوس ہوا۔
“نا نا اتنے پیارے ہونٹوں پہ اتنا بڑا ظلم کیوں ؟”
اسے لگا حاطب تو اسے چھوڑ چکا ہے مگر وہ اسے کبھی نہیں چھوڑ سکے گی بے اختیار دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رودی تھی۔
ہزار طرح کی آزادیوں سے بڑھ کر ہے
تمہاری قید، تمہارے حصار میں ہونا
حرمت لالہ نے ترحم بھری نگاہوں سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جسے وقت نے کڑے امتحان میں ڈال رکھا تھا۔
حویلی پہنچتے ہی گیٹ وا ہوا تھا مگر آفریدی قبیلے کے بندے کو دیکھ داجی کو اطلاع کی گئی ۔
تھوڑی دیر بعد داجی سامنے تھے گاڑی کی بیک سیٹ پہ بیٹھی زحلے نے اتنے برس بعد دادا کو سامنے دیکھا تو آنکھوں سامنے کئی منظر دھندلائے تھے۔
“موږ به خپله لور په دې زاړه مراسمو کې نه ورکوو ، داجي”
(ہم اپنی بیٹی کو اس فرسودہ رسم میں نہیں دیں گے داجی)
څنګه کولی شو د زرګل ګل زمان په وړاندې کولو سره زموږ لاس پرې کړو”
(زرگل کو پیش کرکے ہم اپنا بازو کیسے کٹوا لیں گل زمان)
“زموږ ګولۍ به ناوې وي”
(ہماری گڑیا دلہن بنے گی )
اک بعد اک منظر ایک کے بعد ایک تلخ حقیقت بیٹیوں کا تو واقعی کوئی گھر نہیں تھا گل بانو صیح کہتی تھی نصیبوں کے ڈر بیٹے کی خاطر اک معصوم کو ونی کردیا گیا تھا وہ پھر سے اس در پہ لوٹ آئی تھی۔
حرمت لالہ کی بات سنتے داجی تیزی سے گاڑی کی طرف آئے دروازہ کھولتے بوڑھے ہاتھوں میں واضع لرزش تھی۔
“مورې ، زما ګولۍ راغلې ده. وګوره ، د دې حوزې شهزادګۍ راغلې ده. “
(مم میری گڑیا آئی ہے دیکھو اس حویلی کی شہزادی آئی ہے )
اب کے ہاتھوں کے ساتھ لہجے میں بھی لرزش تھی سامنے ٹہری دیشہ بھاگتی اندر کو گئی۔
دادی ،روح خانم باہر دیکھو وہ آئی ہے وہ شہزادی لوٹ آئی “
دیشہ کی آواز سن سب بڑے ہال میں جمع ہوئے تھے ۔
“کون آیا ہے دیشہ کس لیے اتنا شور مچا رہی ہو”
روح خانم کی آواز پہ وہ مسکراتی بولی
“خانم بی زحلہ “
د زحل زنګ وږمه شهزادګۍ راغله”
(زحلے گڑیا زحلے شہزادی آگئی)
دیشہ کی آواز نے اک سحر سا طاری کیا تھا سب پہ۔
“تت تم کک مم میری زحلے مم میری گڑیا؟”
روح خانم کو لگا جیسے زمین وآسماں کی گردش رک سی گئی تھی دادی جان اپنی جگہ ہکا بکا تھیں بھلا ایسا کب ہوا کہ ونی کی گئی لڑکی اتنی آسانی سے اپنوں کو ملنے آجائے۔
سامنے سے آتے داجی اور انکے حصار میں اک کامنی سی لڑکی جسنے روایتی شال پہنی ہوئی تھی جو کہ شادی شدہ عورتوں کا خاصہ تھی۔
روح خانم بمشکل اپنے قدموں پہ وزن ڈالتی اسکی جانب بڑھیں جو بالکل سپاٹ چہرے کے ساتھ انکے سامنے تھی۔
“زز زحلے گگ گڑیا”
دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ لیتے داجی کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جیسے تصدیق کرنی چاہی تھی آیا وہ انکی زحلے ہی ہے داجی نم آنکھیں لیے ہلکے سے سر اثبات میں ہلانے لگے۔
وہ آگے بڑھتی اسے اپنی ممتا کی آغوش میں لے گئی وہ جو رات ماضی کو یاد کرتے اس گود کی گرمی کو محسوس کرنے کو تڑپ رہی تھی اب جو اتنے برسوں بعد گود میسر آئی تو سب جزبے سرد پڑ گئے تھے۔
روح خانم کتنی دیر اسے اپنے ساتھ لگائے روتی رہیں کون کون اس سے ملا کچھ بھی اسکا دھیان اپنی جانب نہیں کھینچ سکا تھا وہ کسی کٹھ پتلی کی مانند ان سب میں موجود تھی۔
دل میں حاطب کے پاس جانے کی تڑپ اسے بے چین کیے ہوئے تھی اپنی قیمتی چیز کے چھن جانے کا احساس باقی ہر جزبے پہ غالب آچکا تھا ۔
خریم نے جب اسے اپنے سامنے دیکھا وہ بھی اپنے جزبات پہ قابو نہیں رکھ سکا تھا مگر زحلے کی سردمہری نے اسے ٹھٹکنے پہ مجبور کیا۔
“زحلے گڑیا تمہیں ہم سے مل کے خوشی نہیں ہوئی؟”
خریم کی بات پہ سر اٹھائے اک اجنبی نگاہ اس پہ ڈالی ۔
“کل سے پہلے تک میں یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ میرے کوئی لالہ بھی ہیں پہلے کسی گل زمان اور زرگل کے نام کے زخم اپنے وجود پہ سہے اور کل خریم نامی شخص کے حصے کے زخم میرے حصے میں آئے میں ان تینوں آدمیوں سے اپنا کوئی بھی رشتہ نہیں بنانا چاہونگی جنکی بزدلی کی بھینٹ اک لڑکی چڑھ گئی ہو۔ “
خود پہ قابو رکھنے کی بھرپور کوشش کے باوجود اسکا سانس پھول گیا تھا مگر اس نے اک ہی سانس میں بولنے کی قسم کھائی تھی جیسے۔
“میں اس شخص سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہونگی جس نے اپنے سگے رشتوں کو اک ونی والی لڑکی پہ ترجیح دی میں چار مردوں کی قضاء خود پہ لینے والی لڑکی نا کسی کی بیٹی ہوں ،بہن ہوں نہ بیوی میں اک ونی شدہ لڑکی ہوں جسکا جرم شاید اسکا پیدا ہونا تھا یا پھر لڑکی ہونا “
اب کے اسکا لہجہ مضبوط تھا مگر آنکھیں چھلکنے کو بے تاب۔
“اگر آج میں یہاں موجود ہوں تو صرف اس لڑکی کیلئے جسے میں دوسری زحلے بنتا نہیں دیکھ سکتی خریم خان “
وہ جو اسکی گود میں کھیلتی زحلے تھی آج اسکے سامنے آ کے کھڑی ہوئی۔
“حاطب خان تمہیں مار دے مجھے افسوس نہیں ہوگا ہاں مگر اسکے تاوان میں خون بہا میں پریشہ یا اس خاندان کی کسی اور بچی کو سوارہ دیا جائے تب افسوس ضرور ہوگا اگر اک اور زحلے کسی اور زرتاج کے ہاتھ لگے گی تب میں ضرور تڑپونگی تو بہتر ہے نا اس جڑ کو ختم کر دیا جائے جو ایسی نوبت لائے۔”
اپنی بات مکمل کیے وہ قالین پہ بنے نقش ونگار کو گھورنے لگی ۔
“کیا مطلب ہے اس بات کا زحلے گڑیا اپنے باپ بھائی کو مجرم نہ بناؤ اور”
“میں کسی کو مجرم نہیں بنا رہی نا بنانا چاہتی ہوں نا ہی میں یہاں اپنے گزرے برسوں کا حساب لینے آئی ہوں “
روح خانم کی بات کاٹتی زحلے آج صرف خود بولنا چاہتی تھی ۔
“تو پھر کیوں حاطب خان نے تمہیں اپنے گھر والوں کے خلاف بغاوت کیلئے بھیجا ہے زحلے “
خریم نے خود پہ ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے حاطب پہ الزام دھرا۔
“آپ بغیر کسی تصدیق کے ان پہ کیسے الزام لگا سکتے ہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ حاطب نے مجھے کسی بغاوت کیلئے یہاں بھیجا ہے تو ایسے ہی سہی خریم خان ۔”
اپنی بات کے آخر میں اک طائرانہ نگاہ سب پہ ڈالتی اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذات خریم کے سامنے کیے تھے ۔
“ان کاغذات پہ سائن کرکے نہ صرف مجھے بلکہ پریشہ گل کو بھی دہکتی آگ سے آزادی دلا سکتے ہیں آپ خریم خان اب تک کے میرے سارے قرض چکا سکتے ہیں جو آپ سب پہ واجب الادا ہیں”
زحلے کی بات سن سب شاکڈ ہوئے تھے ۔
“میں سائن کرنے کو تیار ہوں زحلے مگر حاطب کو تمہیں بھی آزاد کرنا ہوگا “
خریم کا سکتہ سب سے پہلے ٹوٹا تھا اسکے ہاتھ سے کاغذات لیتا وہ زحلے کو موت کا مژگان سنا گیا۔
“کیوں ؟کس بات کی آزادی خریم خان میرا یہاں کے مکینوں سے کوئی واسطہ کوئی تعلق نہیں “
اب کے اسکی آواز میں لرزش پیدا ہوئی تھی وہ فیصلہ کرچکی تھی وہ ایس نوبت ہی نہیں آنے دے گی کہ حاطب اسے چھوڑنے کا سوچے مگر خریم ۔
“تو پھر حاطب کو کہو ابھی شطرنج کا مہرہ میرے ہاتھ میں ہے “
طلاق کے کاغذات کے چار ٹکڑے کرتا زحلے کو بھی ٹکڑوں میں تقسیم کرگیا تھا۔
وہ بے آس لوٹائی گئی تھی اب نجانے حاطب اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ۔
وہ کہاں حاطب کا مقدمہ لڑنے گئی تھی وہ تو صرف اپنا رشتہ بچانے کو بودے سے دلائل دیتی رہی ۔
“زحلے بیٹی کچھ دیر اور رک جاؤ ابھی تو تمہیں دیکھے آنکھیں بھی سیراب نہیں ہوئیں۔ “
روح خانم کی بات اس کے اندر بے چینی سی بھر گئی تھی۔
“اتنے برسوں بعد امید کا کشکول لیے آئی تھی آپکے در پہ زحلے لیکن ہمیشہ کی طرح داوڑ حویلی نے نارسائی کا دکھ دے کے خالی ہاتھ بھیج دیا ہے “
نم لہجے میں کہتی اپنے گرد لپٹی شال کو اور مضبوطی سے پکڑے واپس ہولی تھی۔
حرمت لالہ نے اسکے خالی ہاتھوں کو دیکھا اور خاموشی سے سرجھکائے اسکیلئے بیک ڈور اوپن کرتے سائیڈ پہ ہوگیا۔
سیٹ پہ بیٹھتے ہی اک تھکن سی آسمائی تھی سیٹ کی پشت سے سر کو ٹکاتے آنکھیں موند لیں ہر منظر حویلی کے ساتھ پیچھے چھوٹ گیا تھا آگے کی مسافت پھر سے طویل ہوگئی تھی۔
سیاہی عمر بھر میرے تعاقب میں رہے گی۔۔
کہ میں نے جسم کو قرطاس سے باندھا ہوا ہے۔
★★★★★★★★
جو لفظ سینئہ قرطاس پہ نہیں آیا
چراغ ہے پہ سرِرہگزر نہیں آیا
وہ پھول بیچنے نکلا تھا صبح بستی میں
پھر اسکے بعد کبھی لوٹ کر نہیں آیا
لہو جلایا گیا رتجگے گزارے گئے
ہمیں تو غیب سے علمُ وہنر نہیں آیا
یہ داستان الم کسطرح بیاں ہوگی
اُنہیں سکوت سمجھنا اگر نہیں آیا
یہ احتجاج تھ ااس شہر کی فضا کے خلاف
کسی درخت پہ کوئی ثمر نہیں آیا
حدود شہر کے باہر ہوا تھا رقص ہَوا
یہاں تو عکس ہوا بھی نظر نہیں آیا
تمام عمر کی وحشت کے بعد بھی مظہر
سمجھ میں قصئہ شام و سحر نہیں آیا
اسنے سامنے موجود اس عورت کو دیکھا جس نے سیاہ چادر سے اپنے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا حوالہ ایسا تھا کہ وہ اس عورت کو ملنے سے انکار نہیں کرپایا تھا حویلی والوں سے نفرت اپنی جگہ مگر عورت کی تعظیم اسکی گھٹی میں شامل تھی۔
“جی فرمائیں کس سلسلے میں آپکو ملنا تھا مجھ سے “
عمر کے حساب سے وہ اسے خود سے بڑی ہی لگ رہی تھی۔
“کچھ ہے جو آپکو بتانا تھا کچھ امانتیں ہیں کچھ راز جو ہم مرنے سے پہلے کسی ایسے شخص کو سونپنا چاہتے ہیں جو حویلی میں پلتے ناسور کو ختم کرنے کی جہد رکھتا ہو اور ہم یہ بھی جانتے ہیں آج نہیں تو کل تم خود اس راز کی کھوج میں نکلو گے “
اس عورت کا لہجہ انتہائی متوازن تھا جبکہ اپنے منہ سے مرنے کا زکر کرنے والی عورت اسے چونکا گئی تھی بظاہر تو اس عورت میں کچھ ایسا نہ تھا جو اسے اپنے مرنے سے آگاہی حاصل ہو ۔
“کونسے راز معزز خاتون اور آپکو ایساکیوں لگتا ہے کہ میں ان رازوں کا امین بن سکوں گا ؟”
آواز میں الجھن نمایاں تھی وہ عورت دو قدم آگے کو بڑھتی اسکی جانب جھکتی بولی ۔
“کیونکہ حویلی میں تمہارا کل سرمائیہ محفوظ ہے اور یہ سب تمہارے لیے جاننا اہم ہوچکا ہے “
اس عورت کا معنی خیز لہجہ اب کے مکمل طور پہ اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔
“کیا کہنا چاہتی ہیں آپ ہم سمجھے نہیں؟”
“کچھ راز جن سے حویلی کے مکینوں کو آگاہی ہو تو اگلے دن وہ موت کی سولی پہ لٹکا دیے جاتے ہیں اب کے ہم نہیں چاہتے کے ہمارے بعد حویلی کا کوئی شخص اس جان لیوا کھیل کا شکار بنے شاید ہم کچھ نمک حلالی چاہتے ہیں “
“تم جانتے ہی ہوگے گزشتہ دس برسوں میں حویلی والوں نے اپنے تین جانشین کھو دیے اب انکے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا سوائے حاطب خان کے “
کچھ توقف کرتے اس عورت نے سامنے موجود شخص کے چہرے کے تاثرات دیکھے جو حاطب کے نام پہ تناؤ کا شکار ہوئے۔
“آپ کونسے رازوں کی بات کررہی ہیں ؟”
اس نے بجائے کسی لفاظی کا سہارالینے کے ڈائریکٹ مدعا پوچھا تھا۔
“زرتاج گل اک ایسی عورت جس نے ارباب خان کی محرمیوں کا بدلہ اس حویلی کے مردوں سے لیا جو اسکی نسوانی تسکین کا کبھی سبب نہیں بن سکا تو وہ عورت وہاں موجود سب لوگوں کو ڈس گئی”
یہ سرخ روشنائی میں لکھے قرطاس کی وہ کہانی ہے جو ہر جگہ اک الگ عکس چھوڑ گئی ہے ۔
داؤد خان جس نے قبیلے کے اصولوں کے خلاف جاکے زرمینہ سے شادی کی اور اسے لیے ملک سے فرار ہو گیا مگر ملک میں قدم رکھتے ہی زرتاج نے زرمینہ کے خاندان کے مردوں کو اس بدلے کی آگ پہ اکسایا داور خان جو کہ واپس ہی اس شرط پہ آئے جب دوسری طرف کے قبیلے نے ان سے صلح کی امید پیدا کی مگر پہلی آگ ہی زرتاج گل نے داؤد خان اور زرمینہ کے ہنستے بستے آشیانے کو جلا کے کیا کیونکہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی ارباب خان اسکو کبھی اولاد کی خوشی نہیں دے سکتا تھا ایسے میں پریشہ اور دائم کا وجود اسکی ادھوری خواہشوں کو سلگانے لگا تھا ۔
داؤد خان کے قتل کے بدلے میں آئی گل بانو زرمینہ کی چھوٹی بہن تھی کتنی عجیب بات تھی نا اک بہن کے بھاگ جانے پہ اسکے سہاگ کا قتل کردیا گیا اور پھر چھوٹی بہن کو سوارہ میں اسی شخص کے بھائی کی بیوی بنا دیا گیا جو عمر میں اس سے کئی برس بڑا تھا۔
مگر داور خان نے پہلے ہی دن گل بانو کو بیوی کی حثیت دینے سے انکار کردیا اور بدلے میں عمر بھر کی غلامی مانگ لی ۔
تم جانتے ہو گل بانو کون ہے ؟ “
اس عورت نے سوالیہ نگاہ اس شخص پہ ڈالی جس نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا ۔
تبھی اس عورت نے چہرے سے نقاب ہٹاتے اسے اپنی جانب متوجہ کیا سامنے موجود عورت بلاشبہ ایک حسین عورت تھی ۔
“میں گل بانو ہوں زرتاج گل کا اگلا شکار جانتے ہو کیوں ؟”
اپنی جانب حیرت سے دیکھتے اس شخص کو دیکھا جس نے پھر سے نفی میں سرہلایا گویا اسکی زبان بولنے سے انکاری تھی۔
“کیونکہ میں اسکے سب راز جان گئی ہوں زرگل اور داور خان کی طرح “
اب کے وہ بری طرح چونکا کیونکہ کل ہی تو داور خان کے مرنے کا اسے پتا چلا تھا۔
“جس دن زرگل داور خان سے آخری بار ملنے آیا اس دن میں بھی داور خان کی طرف اک عرضی لے گئی تھی مگر اندر سے آتی آوازوں نے میرے قدم روکے تھے “
وہ اک دم خاموشی ہوئی جیسے ماضی کسی سکرین کی طرح اسکے سامنے تھا ۔
“مم میں نے قتل نہیں کیا ارباب خان کو دارا جان “
جہاں داور خان نے اس نجیف آواز پہ غور کیا وہی پردے کے پیچھے موجود گل بانو کی سانس ساکت ہوئی اسے ایسا لگ رہا تھا یہ شخص زحلے کی آزادی کی امید لایا ہے
“پھر کون ہے قاتل جبکہ شمشیر خان “
“شمشیر خان اور زرتاج گل دارا جان “
زرگل نے داور خان کے بات کاٹتے اپنی بات دہرائی ۔
“جھوٹ بول رہے ہو تم صرف اپنی جان خلاصی کو “
داور خان کو اسکی بات کا بلکل یقین نہیں ہوا تھا ۔
“یہی سچ ہے دارا جان “زرگل کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔
“میں ارباب خان کا خائن دوست بن گیا تھا زرتاج گل کی جانب متوجہ ہوتے میں اپنی بچپن کی دوستی بھول گیا اور اسکیلئے میں زرتاج اور اپنے رشتے کے تقدس کو بھول گیا۔
اکثر شہر میں زرتاج گل سے اکیلے میں ملنا لگا تھا شیطان مکمل طور پہ ہم پہ غالب آگیا اور ہم دونوں شادی کا سوچنے لگے تھے ایسے میں کئی بار زرتاج گل نے مجھے ارباب کو راستے سے ہٹانے پہ اکسایا اور کئی اک بار میں نے ارادہ بھی کیا مگر نجانے کونسی قوت تھی جو مجھے پیچھے دھکیل دیتی۔
اور پھر اک رات زرتاج گل نے مجھے فون کیا کہ ارباب شہر سے روانہ ہوا ہے بغیر گارڈز کے میں اسے راستے سے ہٹا دوں مگر میرے دل ودماغ کی جنگ میں دماغ کی فتح ہوئی جس دن ارباب کاقتل ہوا میں اسے سچائی بتانے آیا تھا مگر شمشیر نے اسے پہلے ہی اپنی گولی کا نشانہ بنا لیا میں نے شمشیر پہ گولی اپنے بچاؤ میں چلائی تھی کیونکہ میں شمشیر اور زرتاج گل کا سچ جان چکا تھا اس نے میرے ساتھ شمشیر کو بھی اپنی محبت کا جھانسا دیا میری بغاوت کو محسوس کرتے اسکیلئے ایسا پلین ترتیب دیا کہ ہم دونوں کے لاشے اسکے سچائی ختم کردیں مگر میں اسکے وار سے بچ نکلا مگر اپنے دوست کی موت کا زمدار بن کے ۔”
زرگل کی آواز جہاں بھیگی وہی عورت جس کی وفا پہ کئی قرطاس بھرے جاتے ہیں اب کے سب سیاہ ہوگئے تھے
“اتنا بڑا دھوکا “
داور خان کو اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔
“میں مجرم ہوں حویلی کا دارا جان مگر میں قاتل نہیں ہوں “
زرگل نے اپنے ساتھ موجود اس بچے کے سر پہ ہاتھ رکھا جو اپنے دوست کو پہلی بار اتنا بولتا سن رہا تھا ۔
داور خان کی خاموشی اسے مزید زلت کی گہرائیوں میں قید کررہی تھی ۔
“ہم نے تمہیں معاف کیا زرگل ہمارا خدا بھی تمہیں معاف کرے “
داور خان کی آواز پہ اس نے سر اٹھایا ۔
“ملګرو ، زما راباندې واخله او لاړ شه”
(دوست پھر میری گڑیا کو لے کے چلیں)
اسکے ساتھ موجود بچے کی آواز پہ داور خان بھی چونکے۔
“یہ بچہ کون ہے زرگل “
داور خان نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا
“خریم خان گل زمان کا بیٹا زحلے کا بھائی”
داور خان نے اس بچے کے سر پہ ہاتھ رکھتے اسے کہا
“موږ به ستاسو ګولۍ ډیر ژر راوړو ماشوم دا د داور خان ژمنه ده “
(تمہاری گڑیا کو ہم بہت جلد لے کے آئیں گے بچہ یہ وعدہ ہے داور خان کا)
خریم کی آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہوئی تھی اور زرگل اسے لیے واپس چلا گیا ۔
گل بانو نے اسے جاتے دیکھا تو بھاگتے اسکے پیچھے گئی مگر زرتاج گل کو سامنے دیکھ دوسرے راستے مڑ گئی ۔
زرتاج گل نے سامنے موجود چادر میں چہرہ چھپائے شخص کو دیکھا اور اک نظر مردان خانے پہ جہاں یقیناً داور خان موجود تھے اسکا مطلب وہ انہیں سچائی سے آگاہ کر گیا تھا دھڑکتے دل سے وہ اسی جانب ہو لی۔
“تم بدزات عورت میرے بیٹے کی قاتل ہو تم “
داور خان اسے دیکھتے ہی اسکی جانب لپکے جبکہ اسکا شک یقین میں بدل گیا تھا ۔
“یہ کیا کہہ رہے دا جان آپ “
زرتاج گل بوکھلائی تھی۔
“میں تمہیں قتل کردونگا گھٹیا عورت میرے خاندان کو اجاڑ دیا تم نے “
داور خان کی مضبوط گرفت اسکی گردن پہ دباؤ بڑھا گئی جبھی اس نے اپنا زور لگاتے خود اسکی گرفت سے چھڑایا ۔
“ہاں میں نے قتل کیا ہے ارباب خان کو کیونکہ وہ اک نامرد تھا “
چیخ کے کہتے وہ داور خان کو اک لمحے کو ساکت کرگئی تھی۔
تبھی کمرے میں شمشیر خان داخل ہوا تھا ۔
“بہت ٹائم پہ آئے ہو شمشیر خان ” معنی خیز مسکراہٹ لیے وہ اسکی جانب بڑھی ۔
“تم تم دونوں نے سازش رچائی اس حویلی کے خلاف میں تمہیں “
داور خان کی بات شمشیر خان کی گن نے پوری نہیں ہونے دی ۔
“حاطب خان جانتے ہیں نا آپکا اکلوتا وارث جبکہ دائم خان تو ویسے ہی آپکے جانے کے بعد لاورث ہوجائے گا اسلیئے خیریت اسی میں ہے کے زبان بند “
زرتاج گل نے استہرائیہ انداز اپناتے داور خان کو وارن کیا تھا کچھ چونکتے وہ مردان خانے میں بنے ایک کیبن کی طرف بڑھی تھی
“زرتاج گل کبھی اپنے دشمن کو دوسرا موقع نہیں دیتی دارا جان آپ تو میرے راز جان گئے ہیں میں بھلا کیسے “
مبہم انداز لیے کبرڈ سے پوائزن نکالا گلاس اٹھائے انکی جانب بڑھی داور خان حددرجہ بے بس نظر آرہے تھے کیونکہ وہ شمشیر سے مقابلے کی ہمت خود میں نہیں پا رہے تھے اور پھر گل بانو نے بمشکل اندر کا منظر دیکھتے اپنی چیخیں روکیں زرتاج گل اور شمشیر نے زہر ملا پانی انہیں زبردستی پلایا کچھ دیر بعد ہی انکے منہ سے جھاگ نکلنے لگی بھلا کؤئی اتنا بھی ظالم ہوسکتا تھا ۔
اور بڑے احسن طریقے سے آگے کے امور سرانجام دیے گئے شمشیر خان نے گاؤں کے ڈاکٹر کو پیسے دیے دارا جان کی موت کو ہارٹ اٹیک اور پیرالائسز اٹیک ثابت کردیا گیا ۔
حاطب خان سمیت کسی کو بھی اس انہونی میں گڑبڑ کا احساس نہیں ہوسکا انہیں لگا ارباب خان کی موت کا صدمہ انہیں بھی ساتھ لے گیا ۔
اور پھر کچھ عرصہ بعد زحلے کو لے کے زرتاج گل کے سامنے گل بانو نے اسکی کرتا دھرتا سامنے لائی حالنکہ اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والی کسی کے سامنے زبان نہیں کھول سکتی تھی کیونکہ نجانے شمشیر خان کی طرح اور کون کون اس خون کی ہولی میں ملوث تھا”
گل بانو کی آواز بھرا گئی تھی ماضی کا دردناک قصہ بند کرتے اسکی ہچکی بندھ گئی۔
“آپ نے یہ سب حاطب خان کو کیوں نہیں بتایا ۔”
وہ جو اب امین بننے لگا تھا دماغ میں کلبلاتا سوال دہرایا اگر وہ اس تک رسائی لے سکتی تھی تو حاطب خان تک کیوں نہیں۔
“کئی اک بار کوشش کرچکی ہوں میں مگر حاطب خان زرتاج گل پہ اندھا اعتماد کرتا ہے وہ بغیر ثبوت کیوں ہم پہ یقین کرے گا جبکہ ہم ونی ہوکے داؤد خان کے خون بہا میں گئے ہیں “
گل۔بانو نے اب خود پہ کافی حد تک قابو پا لیا تھا ۔
مگر وہ شخص ابھی بھی مطمئن نہیں ہوپارہا تھا۔
” آپ کو ایسا کیوں لگ رہا کہ میں اس سب میں کچھ کرسکوں گا ؟”
“میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں کیونکہ دارا جان اور زرگل کے علاوہ اس حقیقت سے کوئی اور آگاہ ہے تو وہ بچہ جو زرگل کے ساتھ آیا تھا جبکہ حاطب تو آج تک اس قصے سے انجان ہی ہے کہ اس حویلی میں زرگل آیا تھا “
“ہنمم ” پرسوچ انداز میں دیکھتے اس نے ہنکارہ بھرا ۔
“اگر آپ چاہیں تو میں آپکی حفاظت کو تیار ہوں “
شاید اب اس شخص کے دل میں گل بانو کیلئے ہمدردی کا جزبہ پیدا ہوا تھا ۔
“نن نہیں مجھے واپس جانا ہوگا میں اپنے ساتھ تمہیں کسی مشکل سے دوچار نہیں کرسکتی مجھ سے وعدہ کرو اگر کل کو میں نہ رہوں تو مناسب وقت پہ تم حاطب کو اس سچائی سے ضرور آگاہ کروگے ؟”
گل بانو نے امید بھری نگاہ اس پہ ڈالی ۔
وہ صرف اثبات میں سر ہلا گیا کیونکہ وہ خود بھی بری طرح الجھ چکا تھا ۔
اور پھر کچھ دن بعد اس نے حویلی کے دوملازم گل بانو اور شیر خان کے قتل کی خبر سنی اسے شک ہی نہیں بلکہ یقین تھا اس قتل کے پیچھے بھی زرتاج گل کا ہی ہاتھ تھا ۔
قرطاس نے ہر ایک عمل کرلیا محفوظ
مجرم ہی مگر اپنی خطا بھول گیا ہے ۔
