Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 08)

Qirtaas by Uzma Mujahid

فظ جی اُٹھتے ہیں قرطاس پہ آتے آتے

ہاتھ میرے بھی کوئی کُن فیَکوں ہے یوں ہے

خال و خَد حُسن کے تُجھ سے نہ بیاں ہونے کے

صرف لفاظی ہے کہتا ہے کہ یوں ہے یوں ہے

دروازہ کھلتے روشنی کی ایک لکیر سی اندر آئی تھی کندھوں پہ ملگچی سی چادر اوڑھے اس شخص نے آنے والے کو دیکھا ۔

ایک بارہ سالہ بچہ ہاتھ میں کھانا لیے اسکے قریب آیا تھا

“تت تم پھر آ گئے کیوں آجاتے ہو مجھے یہ جتلانے مجھے بتانے کہ میں بہت کچھ کھو چکا ہوں تت تم آتے ہو وہ ساتھ آتی ہے ن نفرت ہے مجھ مجھے تت تم جاؤ یہاں سے”

لفظوں کی توڑ پھوڑ کرتا وہ شخص اسے پہلے سے بھی زیادہ مختل حواس لگا۔

“ګرانه بهر به ځي”

(پیارے باہر جائیں گے)

دونوں ہاتھ اپنی ٹھوڑی پہ جمائے اشتیاق سے اسے دیکھتا بچہ بولا۔

” لمر بهر دی ، دا انسان خوري نه زه نه ځم “

(باہر سورج ہے وہ انسان کو کھا جاتا نہیں میں نہیں جاؤنگا)

اسکی بات سنتے ہی اس شخص نے خود کو اپنی ملگچی چادر مین مزید چھپا لیا ۔

“زه به د هغه سره وم ، ملګري ، هغه به څه ونه ویل”

(میں اس کے ساتھ رہوں گا دوست ، وہ کچھ نہیں کہے گا)

اپنی عمر لے حساب سے دلیل پیش کی ۔

مگر اب اس نے جواب ہی نہیں دیا وہ بچہ روز اسی طرح اس کمرے میں آتا ایک ہی سوال کرتا اور خالی ہاتھ لوٹ جاتا مگر اس آدمی کی نا ہاں میں نہیں بدلی تھی۔

“خدا تمہیں غارت کرے اے ابلیس “

اس بچے کے جاتے ہی اپنی آنکھوں میں جمع ہوتے آنسوؤں کو صاف کیا وہ جسکی دہشت سے زمین بھی ہلتی تھی ، خوشبوئیں جسکی ہمسفر تھیں ،جہاں جاتا میلہ لوٹ لیتا مقابل کو اپنی آنکھوں سے زیر کرنے کی طاقت رکھنے والا آج وہ بچھوؤں اور کیڑوں مکوڑوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے تھا کتنے کتنے دن نہاتا نہیں تھا کیونکہ اب وہ دنیا کی روشنیوں سے نفرت کرنے والا بن چکا تھا۔

“خدای دې درته بد مرګ درکړي ” شهزادګۍ

(خدا تم پہ رحم کرے شہزادی )

اچانک ہی اسکی سوچ میں ایک شہزادی آسمائی بے ساختہ اسکے لب دعا میں ہلے تھے وہ اک ہی صنف کیلئے بددعا اور دعا کا مدعی تھا۔

‏وہ معجزے سکُوت کے ہم کو بھی عطا کر.۔

ہم حالِ دل سنائیں مگر، گفتگو نہ ہو

★★★★★★★★★★★★

زحلے اگرچہ روم میں آچکی تھی پھر بھی اک بے۔چینی حد سوا تھی تبھی دروازہ ناک ہوا ۔

وہ بری طرح چونکی تھی گلریز والے واقعے کے بعد وہ ہلکی سی آہٹ پہ بھی سہم جاتی تھی گلریز کا خیال آتے ہی اسے لگا جیسے وہ پھر سے اسکی مکروہ نظروں کے حصار میں ہے سوچ آتے ہی وہ بجلی کیسی رفتار سے اٹھی دروازہ کھولا سامنے ہی وہ موجود تھا وہ ڈر سے اسکے ساتھ لپٹی تھی۔

اس اچانک ہوئے حملے پہ مشکل سے سنبھلا پہلے تھوڑا حیران ہوا مگر دوسرے ہی لمحے اسکی معصوم ادا پہ مسکراتے اسکے گرد اپنے بازو کا حصار کھینچ کے گویا “سیف زون ” میں خوش آمدید کہا تھا۔

وہ جو کب سے اسکا انتظار کررہا تھا پھر زرتاج گل اسکا موڈ خراب کرکے جا چکی تھی وہ اسکی کلاس لینے کی نیت آیا تھا اب سرا غصہ اڑں چھو ہوچکا تھا۔

زحلے گہری خاموشی میں اپنے اتنے قریب اسکی دھڑکنوں کا شور سنتے پیچھے کو ہٹی تھی اسے اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا ۔

“ڈوب مرو زحلے کیا سوچ رہا ہوگا حاطب خان تمہارے بارے اور اگر زرتاج گل دیکھ لے تو “

اس سوچ کے آتے ہی اسکے شانے سے باہر جھانکنے کی کوشش کی کہیں وہ واقعی ہی اسے نہ دیکھ رہی ہو۔

“کسی اور کا انتظار کررہی تھیں آپ؟”

حاطب کی بات سن کے اسکا جسم گویا کسی تیز رفتار جھکڑ میں آیا تھا۔

“نہیں بلکل کسی کا انتظار نہیں کررہی تھی لیکن آپکے آنے کی امید بھی نہیں کررہی تھی کیسے آپکی “لال لگام” والی بیوی نے آپکو اتنی آسانی سے چھوڑ دیا؟”

زحلے کی بات غور سے سنتے حاطب کا قہقہ “لال لگام ” والی بیوی پہ بلند ہوا یقیناً اگر زرتاج اپنے بارے اسکی یہ گوہر فشانی سن لیتی زحلے کا آج آخری دن ہوتا”

“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم میری بی۔لوڈ وائف سے جیلس ہورہی ہو لڑکی “

متبسم انداز میں کہتا اسے کی جانب قدم بڑھائے جبکہ وہ الٹے قدموں پیچھے دیوار سے جا لگی۔

نظر بند دروازے پہ تھی جسے حاطب نے ہاتھ مارتے بند کردیا تھا اور آٹو لاک وجہ سے لاک ہوچکا تھا۔

یعنی اتنی زبان درازی کے بعد بھاگنے کے راستے بھی بند تھے۔

“نا نا سوچنا بھی مت “

دروازے پہ ٹکی اسکی نظر سے حاطب نے معنی اخذ کیا۔

“ویسے اعتراض کس چیز پہ ہے زیادہ زرتاج کے میری بیوی ہونے پہ یا پھر ” اسکے اردگرد اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے بھاگنے کے ارادے ناکام بنائے بات ادھوری چھوڑ گیا۔

زحلے نے اسکی ادھوری بات کے مطلب کو جاننے کو سوالیہ انداز میں اسے دیکھا ۔

حاطب اسکا متجسس انداز دیکھ سنجیدہ انداز اپنائے بولا “یا پھر اسکا آپکیلئے میری جان نا چھوڑنے پہ “

حاطب کا “آپکیلئے ” اسے بہت معنی خیز لگا تھا۔

“نن نہیں میرا وہ مطلب تھوڑی تھا میں ” اسے اپنی صفائی دینے کو کوئی مناسب الفاظ نہیں ملے تو کنفیوژ ہوتی ہونٹوں کا کونہ دانتوں میں دبائے جبانے لگی۔

” نا نا اتنے پیارے ہونٹوں پہ اتنا بڑا ظلم کیوں ؟”

حاطب نے شہادت کی انگلی اٹھائے اسکے لبوں پہ۔پھیری وہ منتشر ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اپنی حرکت پھر سے دہرانا بھول گئی ۔

“سامنے ٹہری لڑکی اسکے صبر کی جزاء تھی اپنے دائر اختیار میں موجود اس لڑکی پہ ملکیت کا احساس ہوا تو جزبے پھر سے “بےلگام”ہوئے ۔”

کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی روشنی ماحول کی فسوں خیزی کو بڑھانے لگی تھی۔

“آئی کیوں نہیں جب بلایا تھا “

دل کی بڑھتی فرمائشوں سے جان چھڑاتے وہ پھر سے زحلے سے مخاطب ہوا ۔

“آئی تھی جب آپ اپنی محبوب بیوی کے ساتھ مصروف تھے “

زبان تو پھسلی ساتھ طعنہ بھی دیا گیا۔

“کب میں کب سے انتظار کررہا تھا “

حاطب کو لگا وہ ٹال مٹول کررہی بھلا کب وہ آئی جو اس نے اسکی موجودگی کو محسوس نہیں کیا تھا۔

“کہا تو ہے تب آپ اپنی بیوی کے ساتھ مصروف تھے “

زحلے کو اسکے معصوم بننے کی ایکٹنگ زہر لگ رہی تھی بھلا اب وہ اسے کیسے اور کھول کے بیان کرتی “آپ جناب اپنی بیوی کی بانہوں میں جھول رہے تھے ” زحلے کو سوچ آتے ہی پھر سے غصہ آیا۔

جبکہ وہ بغور اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا یقیناً وہ زرتاج اور اسکے درمیان کچھ ایسا دیکھ آئی تھی جو اسے نہیں دیکھنا چاہیئے تھا ۔

“کمرے میں آؤ اٹس ناٹ سیف فار یو ٹو بینگ ہئیر “

اسکے چہرے پہ اڑتی لٹوں کو پھونک مار کے ہٹاتے خود بھی اسے آزاد کیا بنا کوئی اور بات کیے واپس چلا گیا۔

جبکہ زحلے کا سانس اسکی حرکت پہ اٹکا ہوا تھا

“ٹھرکی” سارا قصور اس زرتاج گل کا ہے جو اتنا بگاڑ رکھا ان صاحب کو ” بڑبڑاتے ہوئے اسکے پیچھے ہولی اب تو وہ خود بھی اکیلے رہنے کی ہمت نہیں پاتی تھی۔

ویسے بھی پہلی رات کے بعد سے اس نے زحلے کو اسکے حالوں پہ چھوڑ رکھا تھا ۔

★★★★★★★★★★★★

“خان یہ۔لیں نا آپ ” زحلے نے ایک بیزار نگاہ ان دونوں پہ ڈالی جنکے چونچلے ختم۔ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے باقی سب چھوڑ “مورے جان” کا فریفتہ انداز اسکو مزید بھڑکائے جارہا تھا۔

“بھابھی ماں لالہ جان سے زیادہ اب آپکو اپنی ڈائٹ کی فکر کرنی چاہیئے “

پریشہ کی بات پہ وہ مبہم سا مسکرائی جبکہ حاطب بھی ناسمجھی سے پریشہ کو دیکھنے لگ گیا ۔

زحلے کے کان بھی کھڑے ہوئے “اچھی خاصی ہٹی کٹی تو ہے پھر کس لیئے اسکو اپنا خیال رکھنے کی ضرورت پڑ گئی “

زحلے نے تنقیدی نگاہوں سے اسکا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا جبکہ حاطب کا رجحان بھی پوری طرح اسکی حرکتوں پہ ہی تھا۔

“ہاں پریشہ جان خیر سے اتنے وقتوں کے بعد اس حویلی میں خوشی آئی ہے ہم جلد ہی زرتاج گل کی گود بھرائی کی رسم۔کیلئے اک چشن کا اہتمام کریں گے خان حویلی میں “

مورے جان کی بات سن جہاں زحلے کے قدموں سے زمیں سرکی وہیں حاطب “شاکی” انداز میں مورے جان کو دیکھنے لگا آیا انہیں ہی کچھ بولنے میں غلطی ہوئی ہے پھر نگاہ لال گلال ہوتی زرتاج گل سے ہوتی زحلے پہ گئی جو “ضبط” کے آخری مراحل میں ہی تھی۔

“مورے جان یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ” حاطب کی آواز پہ مورے جان نے اشارہ کرتے زرتاج گل کو اپنے پاس بلایا جبکہ یہ سب حاطب کی سمجھ سے اب بھی باہر تھا۔

“باپ بننے والے ہو خیر سے تم حاطب خان زرتاج اس حویلی کو وارث دینے والی ہے “

مورے جان کی آواز سن حاطب خان کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے آنکھوں کے چلمن پہ “ارباب لالہ ” کی خون میں لت پت ڈیڈ باڈی آئی اک غیر یقین نگاہ “زرتاج گل” پہ ڈالی “

کچھ پٹخنے کی آواز پہ سب چونکے

“بہت بہت مبارک ہو آپکو مسسز حاطب خان سو فائنلی اس حویلی کا وارث آرہا ہے ہاؤ لکی نا آپکے بچے کو سنبھالنے کو اسکی دو دو مائیں یہاں موجود ہونگی جبکہ ہم سے تو اس حویلی کے وارث کے چکر میں ہماری ماں ہی چھین لی گئی “

جتنا کٹیلا انداز تھا حاطب کو دیکھنے کا انداز اس سے بھی زیادہ ،وہ تن فن کرتی کمرے کی۔جانب بڑھ گئی۔

“اسکو کیا ہوا؟” زرتاج گل نے انتہائی معصومیت سے سوال داغا۔

پریشہ نے کندھے اچکائے جبکہ مورے جان بھی اسکے ایسے انداز پہ ابھی تک دائنگ روم کے دروازے کو گھور رہی تھیں جہاں سے وہ ابھی گئی تھی “اس لڑکی کی بدتمیزیاں دن بدن بڑھ رہی تھیں۔”

کمرے میں آتے ہی اس نے ہر چیز کو اٹھا اٹھا کے پھینکا نجانے کیوں وہ اتنا بے چین ہورہی تھی۔

“یہ تو پہلے دن سے طے تھا کہ اسکے حصّے میں بٹا ہوا انسان آیا تھا پھر کس بات کا احتجاج ایسا تو ہونا تھا وہ خود انکی قربتوں کے لمحے ملاحظہ کرچکی تھی”

آج جسطرح اسے اگنور کرتے زرتاج گل کو اہمیت دی گئی

“میں کیوں چاہ رہی ہوں کے مجھے ویلیو دی جائے ؟ میں ہوں کون اس حویلی کے دشمنوں کی بیٹی جسکو اپنا جرم بھی یاد نہیں؟ “

ایک سسکاری اسکے لبوں سے نکلی جیسے سینے میں کوئی کانچ چبھی ہو ۔

سو طے پایا اب وہ شخص ہمیشہ کیلئے اس سے الگ ہوگیا جو کبھی اسکا تھا ہی نہیں۔

“زرتاج گل ” کاکھلا چہرہ حاطب کے چہرے پہ سرخی بڑھا رہا تھا وہ بھی اسکے پیچھے ہی آیا تھا ۔

“لالہ کو کیا ہوا مورے جان اتنی بڑی خوشی پہ بھی خوش نہیں ہوئے پریشہ گل نے منہ لٹکایا “

“ارے بچہ حویلی کے مرد لوگ اپنے جزبات پردے میں چھپا کے رکھتے ہیں بس میری تو دعا ہے اللّٰہ اس حویلی کی رونقیں اور خوشیاں واپس لے آئے ” انہوں نے اٹھتے سے زرتاج گل کے سر کو چوما اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔

پریشہ کی شرارتی مسکان پہ زرتاج گل بھی مسکرا دی۔

حاطب نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا سامنے کا منظر دیکھ پریشان رہ گیا ابھی پہلے والی کی ٹینشن کم تھی کہ اب ان محترمہ کو بھی سنبھالنا پڑے گا ۔

“کیا ہورہا ہے یہ پاگل ہوگئی ہوتم اب کے ابھی روم کی حالت صیح کرو ورنہ تمہیں بھی اٹھا کے باہر پھینک دونگا “

نوفل ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑے سے بچتا بچاتا اس تک پہنچا۔

پھینک دیں اک ہی بار پھینک کیوں نہیں دیتے جان چھوٹ جائے گی میری آپ سب سے سپیشلی تم سے حاطب خان”

اسکے روم کا آخری کرسٹل شو پیس توڑتے دھاڑی تھی۔

“زحلے “اب کے حاطب کا ہاتھ اٹھتا اسکی بولتی بند کروا گیا۔

تھپڑ اسے چکرا کے رکھ گیا اتنا سخت ہاتھ اور دوسرے ہی لمحے زمین پہ گری جہاں اسکے اپنے بچھائے گئے کانچ کے ٹکڑے ہتھلیوں اور گھٹنے کو زخمی کرگئے مگر وہ حاطب کو دیکھے جارہی تھی شاید تھپڑ کی تکیلف ان زخموّں سے زیادہ تھی۔

“کس بات کی تکلیف ہورہی ہے تمہیں بیوی ہے نا زرتاج گل میری اور کتنی بار کہا ہے اپنا مقابلہ اس سے نہ کیا کرو تم دوٹکے کی لڑکی تمہاری اوقات کیا ہے آخر کس بات کا سوگ منایا جارہا ہے “

اب کے وہ دھاڑ نہیں رہا تھا مگر لہجے میں اب بھی کوئی رعایت نہ تھی۔

“صیح تو کہہ رہا تھا وہ بھلا اسکی کیا اوقات تھی کس بات کیلئے وہ لڑ رہی” آنسو صاف کرنے کو ہاتھ اٹھایا تِبھی درد کی شدت سے تڑپ اٹھی۔

“سس” بے ساختہ سسکی لی حاطب نے اسکی طرف دیکھا جہاں ہتھیلیوں سے رستہ خون اسے شرمندہ کر گیا ۔

“دھیان کہاں تھا ہروقت کچھ نہ کچھ اوٹ پٹانگ کرنے کی سوچتے رہنا کس بات کا احتجاج ہورہا ہے آخر “بچے” کا سن کے نا تو جھوٹ بول رہی ہے وہ اور پھر پریشہ اور مورے جان کو بھی اعتماد میں لے لیا اس نے ..”

آہ “وہ جو باتیں کرتا اسکا دھیان بٹائے کانچ نکالنے لگا تھا درد کی شدت برداشت کرتے چیخی _

“کیا ہوا زیادہ درد ہورہا ہے ؟”

پریشانی سے کہتا اسکے چہرے کو دیکھنے لگا جبکہ وہ اسکے پل پل بدلتے روپ پہ حیران تھی۔

“کیا ہے اب آنکھوں سے کھانے کا ارادہ ہے کیا ؟اب اگر ایسے منہ پھاڑے چھوڑنے کی بات کروگی تو غصہ تو آئے گا نا “

اسے بازو میں اٹھائے بیڈ تک لایا سائیڈ ایکسٹنیشن ملائے نیچے سے بوا کو بلایا کچھ ہی دیر میں وہ کمرہ صاف کرتی جاچکی تھیں۔

پھر آنٹمینٹ اٹھائے اسکے زخموں پہ مرہم لگانے لگا گھٹنوں سے خون رس رہا تھا جسکا مطلب تھا کانچ اندر نہیں گیا تھا ۔

اسکے ٹراؤزر کو اوپر کو اٹھانے لگا تبھی وہ جھجکتے ہوئے اسکے ہاتھ پکڑ گئی۔

“نن نہیں ٹھیک ہوں میں آپ رہنے دو” روٹھے انداز میں کہتی دوسری طرف منہ کرگئی جبکہ اسکی ادا پہ حاطب زیرلب مسکرا دیا۔

“میں نے تم سے پوچھا نہیں کہاں پہ مرہم لگانے کی ضرورت ہے کہاں پہ نہیں چلو جاؤ ایزی سا ڈریس پہن کے آؤ ورنہ یہ زخم خراب ہوجائیں گے پھر چلنے سے بھی جاؤگی “

تیز تیز بولتا وہ شخص کہیں سے بھی اسے وہ اکڑو ظالم حاطب نہیں لگ رہا تھا ۔

“آپ جائیں اپنی وائف کے ساتھ سیلبریشن کریں اپنے آنے والے بچے کی “

اسکا انداز دیکھ حاطب پھر سے ہنسا تھا

“کیا لڑکی ہو تم خیر تم سے مشورے نہیں مانگے اور جہاں تک رہی بات سیلبریشن کی وہ میں اپنی وائف کے ساتھ کررہا ہوں “

وہ شخص کسی طرح ہاتھ ہی نہیں آرہا تھا مجبوراً اسے اسکا کہنا ماننا پڑا سامنے موجود ڈریسز سب ایک جیسے تھے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا پہنے تبھی اپنی پشت پہ اسکی موجودگی کا احساس ہوا۔

“یہ پہن لو ” دوسرا حصہ کھولے سامنےموجود پنک نائٹیی نکالے اسکے حوالے کی وہ اسکی بناوٹ دیکھ ہی پانی پانی ہونے لگی پہننا تو دور کی بات تھی۔

“ہم یہ نہیں پہن سکتے ہم دوسرا کوئی ایزی سا سوٹ دیکھ لیتے “

وہ زبان کے ساتھ ہاتھ بھی چلانے لگی مگر جلدی میں سب ہاتھوں سے پھسلتا جارہا تھا_

“کتنی بار کہو مجھے آپکے مشورے نہیں چاہئیں “

غصے سے گھورتا زور سے وارڈروب بند کی اور اسکے ہاتھ میں نائیٹی پکڑاتا وہاں سے ہٹ گیا۔

“ہنہ کہیں کے پرائم منسٹر لگے ہوئے ہیں نا جو انکی ہی مانی جائے گی “

بڑبڑاتے ہوئے واشروم کی جانب بڑھ گئی ۔

آدھا گھنٹہ گزرنے کے باوجود جب اسکے باہر آنے کے امکان نظر نہیں آئے مجبوراً اسے دروازہ بجانا پڑا

“زحلے باہر آجاؤ ورنہ ہم اندر اٹھانے آجائیں گے ” دھمکی آمیز لہجہ اور یقیناً وہ اس پہ عمل بھی کرتا ۔

تبھی تھوڑی دیر بعد وہ باہر تھی حاطب کی نگاہیں اسے اچھے سے باور کروا گئیں کے اسکا اندر رہنے کا کچھ فیصلہ کچھ غلط بھی نہ تھا۔

حاطب پھر سے اسکی جانب بڑھا اور اٹھائے بیڈ پہ بٹھاتا اسکے زخموں کی مرہم پٹی کرنے لگا۔

“کتنا عجیب ہے نا یہ شخص پہلے زخم دیتا پھر خود ہی ان پہ مرہم لگاتا “

حاطب کا پرحدت لمس اسکی جان نکالے جارہا تھا تبھی اس پہ ترس کھاتے کمفرٹر اس پہ اوڑھاتے لائٹ آف کرتے کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔

“ہہہ گئے ہونگے مبارکیں دینے اپنی بیوی کو اف زحلے چھوڑ دو اس اماں کو سوچنا ورنہ پاگل ہوجاؤگی “

خود ڈانٹتی ڈپٹتی آنکھیں موندے سو گئی۔

★★★★★★★★★★★★

حالات کی اِک ضرب نے صورت ہی بدل دی

مجھ سے مری تصویر، ذرا بھی نہیں ملتی۔۔

آج پھر سے وہی بچہ سوالی بنے اسکے سامنے ٹہرا تھا ایک ٹھنڈی سانس بھرتے آج بنا کچھ بولے وہ کھڑا ہوگیا تھا

“مم مجھے وہاں لے چلو “

نجیف سی آواز پہ وہ پچہ بھی مسکرا دیا ۔

“زه به خان حویلی ته بوتلم”

(میں تمہیں خان حویلی لے جاؤں گا)

بچے کے لہجے میں خوشی تھی کیونکہ آج اتنے سالوں کی ریاضت کا صلہ جو ملا تھا اسے ۔

خان حویلی کے سامنے ٹہرا وہ کھیچڑی بنے لمبے بالوں والا شخص اپنی میلی چادر سے چہرہ چھپائے اس بچے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا کہیں وہ اسے چھوڑ کے نا بھاگ جائے ۔

باہر سے گزرتا ہر آدمی اس فقیر موالی پہ اک نگاہ ڈالتا آگے بڑھ جاتا شاید لوگوں کی دیکھنے کی وجہ وہ پیارا بچہ بھی تھا جسے اس گندے آدمی کا ہاتھ پکڑنے پہ کوئی بھی شرمندگی نہ تھی۔

تبھی حویلی کا گیٹ وا اور چوکیدار نے سر باہر نکالے پوچھا تھا

“جی کس سے ملنا ہے آپکو ؟”

“دارا جی ” سے جواب اس آدمی کے بجائے بچے کی جانب سے آیا تھا چوکیدار نے تنقیدی نگاہ ان پہ ڈالی اور اندر جانے کا اشارہ کردیا ۔۔

جاری ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *