Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 17)

Qirtaas by Uzma Mujahid

جب خریم کی آنکھ کھلی اپنے پہلو کو خالی دیکھ وہ اٹھ بیٹھا مگر پریشہ وہاں نہیں تھی واشروم کی جلتی لائٹ اس بات کا پتا دے رہی تھی کے وہ وہاں ہوگی ۔

کافی دیر اسکا ویٹ کرتا رہنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

” ہر جگہ اسے سونے کی عادت۔ “

وہ چڑ کھائے دروازہ بجانے لگا شاور سے گرتے پانی کی آواز پہ حیران ہوا اس نے غصے میں ناب گھمائی دروازہ اوپن ہوگیا مطلب اس نے اندر سے لاک نہیں لگایا تھا سامنے ہی وہ پانی میں بھیگتے اسکا دماغ گرما گئی ۔

“کیا ہورہا ہے یہ پاگل ہوگئی ہو تم اتنی سردی میں اس پہر مرنے کا ارادہ ہے تمہارا ۔”

غصے میں اسے بازو سے پکڑے باہر لایا تھا برائے نام کا لباس اسکا مکمل بھیگ چکا تھا آنکھیں خون چھلکا رہی تھیں جو اسکے کافی دیر سے رونے کی چغلی کھا رہی تھیں ۔

وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے دور ہوئی تھی۔

“پاتھ مت لگاؤ تت تم لوٹیرے ہو مم میں نے کیا بگاڑا تھا تمہارا ۔”

آنکھوں کے ساتھ آواز بھی بھیگی تھی۔

“دماغ ٹھیک ہے کیا خرافات بک رہی ہو شوہر ہوں میں تمہارا اور شوہر رکھوالا ہوتا ہے لوٹیرا نہیں ۔”

خریم نے ناگواری سے اسکی حرکت دیکھی اور اپنی وارڈروب کی طرف بڑھ گیا اپنی شرٹ اسکے حوالے کی جو بنا کسی حجت کے اس نے لے لی تھی ۔

“تمہاری اس خاموش احتجاج کو کیا سمجھوں میں ؟”

ماتھا مسلتے وہ اسکے سامنے آیا تھا۔

“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ۔”

وہ آنکھیں چراتی کھڑکی کی طرف فوکس کرگئی۔

“جانتی ہو اگر تم مجھے ایسے اگنور کروگی جان نکال لوں گا تمہاری۔”

خریم نے اپنی بات کہتے ساتھ گلے دبانے کو ہاتھ بھی بڑھائے جسے پھر سے جھٹکے وہ چینج کرنے بڑھ گئی۔

خریم کو اپنے رویے پہ شرمندگی ہورہی تھی اگر وہ چاہتا تو اس مومی گڑیا کو پیار سے جیت لیتا مگر یہ انا کی جنگ تھی بھلا اس میں ہزاروں دلوں کا قتل ہو جائے پھر بھی انا کا پرچم بلند رہنا چاہیئے۔

★★★★★★

آج زحلے کو ڈسچارج کردیا گیا تھا داوڑ حویلی میں ابھی تک نہیں بتایا گیا وہ ریشمہ کی نگہداشت میں تھی آنکھوں میں ویرانی لیے وہ دوسری زندگی کو محسوس کرنے کی کوشش کرتی مگر کچھ بھی ایسا نہ تھا جو اسے محسوس ہو بجھے دل سے وہ حاطب کا انتظار کرنے لگتی مگر وہ آئے کہ نہیں دے رہا تھا ۔

زندگی نے اس سے اتنے امتحان لیے تھے کہ اپنا وجود اب خاک ہوتا محسوس ہورہا تھا ایسے میں جس شخص کا سہارا چاہیئے تھا وہ نجانے کہاں تھا۔

“مورے جان کیا حاطب ہم سے ناراض ہیں ہماری غلطی کی وجہ سے ہم نے اپنا بچہ کھو دیا۔ “

آج وہ ضبط کے پہرے توڑے انکے سینے سے لگی رو دی۔

“نہیں زحلے بچے وہ کسی کام سے زرتاج گل کو لیے شہر گئے ہیں کچھ دن تک لوٹ آئیں گے۔ “

وہ تسلی دیتے انکے سر میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔

“زز زرتاج گل وو قاتل ہے مورے جان اسی نے ہمیں ۔”

اسکے رونے میں شدت در آئی تھی مورے جان اسکی ذہنی حالت سجھتی تھیں بنا کچھ بولے اسکے بال سہلاتی رہیں۔

“وہ خانم ماں نہیں آئیں ؟”

جھجکتے ہوئے انکی بابت پوچھا جو انہیں ماں سمجھنے سے انکاری تھی ۔

“نہیں زحلے ہم میں حوصلہ ہی نہیں پڑا انکو بتانے کا۔”

دروازہ ناک کرتے دائم اندر آیا تھا۔

“دائم لالہ آپ کب آئے ؟”

وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔

“اس دن حاطب لالہ کو ہم نے کال کیا تھا جب وہ آپکو چھوڑے وہ باہر گئے ہم ائیرپورٹ پہ تھے۔”

وہ بھی شرمندہ سا نظریں جھکائے کھڑا تھا۔

مورے جان نماز کیلئے اٹھ گئیں تو وہ سامنے صوفے پہ ٹکا اسکی پرمژدہ حالت دیکھنے لگا ۔

“حاطب کیوں چلے گئے زرتاج گل کے ساتھ دائم لالہ ؟”

آج بھی وہ اسے اتنی معصوم لگی جتنی بچپن میں اسے لگتی تھی ۔

کمرے میں نرس داخل ہوئی جو اسے پرسکون کرنے کو انجیکشن لگاتی باہر چلی گئی دائم غنودگی میں جاتی زحلے کو دیکھنے لگا ۔

اسے سوئے ابھی کچھ دیر ہوئی تھی جب حاطب اور مورے جان اندر داخل ہوئے ۔

“یہ کیا طریقہ ہے حاطب زحلے اتنی پریشان تھی ایسے وقت میں اسے تمہاری ضرورت ہے جبکہ تم۔”

مورے جان کا انداز شاید پہلی بار اسکے ساتھ سخت ہوا تھا۔

“اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے مورے جان ہماری بھی اور نہ ہمارے بچے کی اس لیے انہوں نے۔۔ “

وہ بہت شدت پسند ہورہا تھا۔

“ہم نہیں مانتے ایسا کچھ ہوا ہے ڈاکٹر کو غلط فہمی ہوئی۔ “

مورے جان کی بات پہ وہ سر جھٹکے وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگا ۔

“حاطب اپنے رویے پہ غور کریں آپ اگر۔ “

“مورے جان مجھے اپنے بچے کی قاتل سے کوئی تعلق نہیں رکھنا کہہ دیجیئے گا آپ اِسے بھی۔”

اس نے بستر کی طرف اشارہ کیا مگر چونکا وہ جاگ چکی تھی حالانکہ وہ دونوں دبی دبی آواز میں بات کررہے تھے۔

“حا حاطب ہم اپنے بچے کے قاتل نہیں وو زرتاج ۔”

اسکی آنکھوں میں امڈتی بے اعتباری نے زحلے کو توڑ کے رکھ دیا مورے جان اسکی طرف بڑھیں مگر اس نے ہاتھ کے اشارے سے انکو اپنی جانب آنے سے منع کردیا۔

“زحلے بچے آپکی طبیعت ٹھیک نہیں” وہ اسے بستر سے اٹھنے سے منع کررہی تھیں۔

“کچھ نہیں ہوگا مورے جان زحلے بڑی ڈھیٹ ہڈی اتنی جلدی اور اتنی آسان موت نہیں مرنے والی مرنا ہوتا تو تب مرجاتی جب زرتاج گل نے مٹھائی کے ساتھ ہمیں زہر دیا ،جب حاطب خان ہمیں اپنے ہی وجود کا قاتل کہہ رہے ہیں ۔”

اک آنسوؤں پلکوں پہ اٹکا جسے بے دردی سے صاف کیے باہر کی طرف بڑھی تھی۔

“زحلے اگر اس روم سے باہر قدم نکالا تو یاد رکھئے گا ہم اتنا کچھ برداشت کرچکے ہیں آپکی یہ غلطی کبھی معاف نہیں کریں گے ۔”

حاطب کا دوٹوک انداز سن وہ لڑکھڑائی مگر سہارا لینے کو دیوار پہ ہاتھ رکھا بنا اسکی طرف مڑے بولی تھی۔

“ہم بھی قسم کھاتے ہیں حاطب خان جب تک آپکی آنکھوں سے بے اعتباری کی یہ پٹی اتر نہیں جاتی ہم آپکی شکل نہیں دیکھیں گے چاہئے ہمارا آخری وقت ہی کیوں نہ ہو ۔”

زحلے کا لہجہ اس سے بھی زیادہ سفاک تھا۔

وہ اس پہ شیر کی طرح جھپٹا ۔

“کیوں کیا ایسا زحلے ہم آپ سے اپنے بچے سے بہت پیار کرتے تھے مگر آپ کی بے رحمی نے ہم دونوں کو قتل کردیا۔”

حاطب خود جتنا سخت ہورہا تھا مگر اپنی عورت کا انداز اسے گوارہ نہیں تھا۔

“چھوڑیں ہمیں بہت سہہ لیا ہم نے اس حویلی والوں کا ظلم جاکے اپنے اصل مجرم تلاش کرو حاطب خان بس کردو ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے آگے آزاد کردو ہمیں ۔”

وہ باقاعدہ اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئی تھی حاطب نے دو قدم۔ہیچھے ہوا تھا اور زحلے کو لگا اسکا وجود ہوا میں معلق ہوکے رہ گیا ہے اسکا جھوٹا بھرم بھی ٹوٹ گیا ۔

مورے جان اور ریشمہ نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر خالی ہاتھ اور دل لیےدشت ظلمات کے اس محل سے نکل آئی تھی ۔

کتنی دیر سے وہ بنا منزل کے تعین کے چلی جارہی تھی اسکے بچپن سے اب تک کے واقعات اسکے سامنے گھومنے لگے تھے اسکے حصے میں جو چند خوشیاں آئی تھیں وہ ان سے بھی محروم ہوگئی تھی ۔

“داوڑ حو یلی “کی جانب رخ کرتے اسے بہت کچھ یاد آیا اور پھر خریم وہ پریشہ کے ساتھ کچھ غلط نہ کردے اسی سوچ پہ وہ انجان راستوں پہ چلتی گئی آبلہ پائی کی یہ مسافتیں اسے تھکا گئی تھیں وہ اتنی کم ظرف نہ تھی کہ اپنی زندگی کی خاطر کسی اور کی خوشیاں داؤ پہ لگاتی ۔

سامنے لوگ جوک در جوک ٹولیوں کی صورت کسی جانب بڑھ رہے تھے جن میں مرد خواتین بچے بھی شامل تھے۔

“کہاں جارہے ہیں آپ لوگ۔ “

اس نے عورت سے پوچھا تھا۔

“پیرومرشد کی درگاہ پہ جہاں ہر دکھ سے انسان کو امان مل جاتی ہے ۔”

وہ کوئی اس درگاہ کی مریدنی تھی ۔

“مم مجھے بھی لے چلیں اپنے ساتھ ۔”اسکا دماغ ہر طرح کی تکلیف دہ سوچوں سے نجات چاہ رہا تھا ۔

اور پھر وہ اس قافلے کا حصہ بنتی کوسوں میل دور آگئی جہاں وہ محلوں کی شہزادی ایک نوکرانی بن کے رہ گئی۔

چھ مہینے اس نے گمنامی کی زندگی گزار دی اس درگاہ پہ ہر روز وہ بےدرد شخص یاد آتا جسے چاہتے آنا ہی اسکی عبادت تھی۔

سب کچھ دور رہ گیا مگر وہ شخص پاس رہا تنہائی میں کئی شکوے شکایتیں در آتیں مگر اسے اپنے بچے کا قاتل بنایا گیا یہ بات اسے توڑ گئی۔

★★★★★★

حاطب کو لگ رہا تھا وہ ہمیشہ کی طرح اس غلامی میں رہنا چاہے گی مگر اب تو وہ سب عہد توڑ گئی تھی۔

“مورے جان اسے نہیں ہے پرواہ ہماری نہ اس گھر کی ۔”

زحلے کے جانے کے بعد سے اس نے خود کو کمرے میں مقید کرلیا اپنی انا کو بلند کیے وہ ہر طرف سے بیگانہ کمرے میں لیٹا تھاجب مورے جان کمرے میں داخل ہوئیں انکے پیچھے موجود پریشہ پہ اسکی نگاہ نہیں پڑی ۔

“حاطب زحلے یہاں سے نکلنے کے بعد داوڑ حویلی نہیں گئی کہیں اس نے اپنے ساتھ کچھ کر نہ لیا ہو۔ “

مورے جان کی آواز اسکی سماعت کیلئے پگھلا ہوا سیسہ ثابت ہوئی تھی ۔

“آپ کیسے مم میرا مطلب ہے۔ “

مورے جان صیح کہہ رہی ہیں لالہ “

پریشہ کی روئی ہوئی آواز پہ وہ چونکا تھا۔

“وہاں کسی کو بھی معلوم نہیں زحلے کے ساتھ کیا ہوا ہے میں بھی مورے جان کا فون سنتے خریم کی غیر موجودگی میں یہاں آئی ہوں اسے ڈھونڈیں لالہ جان نہیں تو آپکی پری۔ ” وہ اسکے سینے سے لگتے بے تحاشہ رو دی تھی۔

“آپکی پری کو کوئی خریم خان کے قہر سے نہیں بچا سکے گا”

حاطب کا دل انہونی کے احساس سے دھڑکے جا رہا تھا اسکا جرم اتنا بڑا نہیں تھا جتنی اسے سزا سنا دی ۔

“لالہ مجھے مورے جان نے سب بتا دیا ہے اگر وہ کہہ رہی تھی کہ اسے زہر دیا گیا ہے تو وہ جھوٹ نہیں بول رہی ہوگی آج تک آپکی آنکھوں پہ نجانے کس لیے پٹی بندھی رہی کیا مجبوریاں تھیں جو آپ اسکے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا سکے مگر اس گھر کو برباد کرنے میں اگر کسی کا ہاتھ ہے تو بھابھی ماں کا ہے زرتاج کا ۔”

پریشہ اسکے چہرے کے بدلتے زاویوں سے انجان اپنی بول رہی تھی۔

“داؤد بابا کا قتل ،دارا جان ارباب لالہ اور اب زحلے وہ سب کچھ برباد کرچکی ہے لالہ جان۔ “

اس نے روتے ہوئے اسکے سینے سے سر اٹھایا تھا۔

حاطب کی ذات مسلسل زلزلوں کی زد میں تھی ۔

“ارباب لالہ کا قتل زرگل نے نہیں شمشیر نے کیا تھا اور خریم نے اس چیز کا بدلہ لینے کیلئے ہم سے نکاح کیا اور اس سب میں زرتاج گل کا ہاتھ رہا ہے ۔”

آج اس گھر کی بیٹی نے ان مردوں کی غیرت کو للکار دیا تھا جو کب سے کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے ۔

کوئی بھی پیچھے کھڑے شخص کی موجودگی سے واقف نہ تھا اور پھر زرتاج گل شہر جاتے غائب ہوگئی ۔

اسکے میکے والوں کے ساتھ مل کے حاطب نے اسے ڈھونڈا مگر کہیں بھی اسکا نام ونشان نہ تھا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *