Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Last Episode)

My Girl by Zanoor

خان بہاولپور سے سیدھا پشاور گیا تھا۔۔وہاں چئرمین کی سیٹ کے لیے مقابلہ ہونے والا تھا جس کا انتخاب بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سے ہونے والا تھا۔۔

خان اور اس کے ساتھ تین امید وار اور تھے جنھیں ملا کر کل چار امید ور تھے چئرمین کی سیٹ پر خان کو امیدوار دیکھتے کافی لوگ پیچھے ہٹ گئے تھے۔۔

اس بار کھیل کے اصول کچھ مختلف بنائے گئے تھے۔۔شیر خان نے بے حد چالاکی سے کام لیا تھا۔۔۔پشاور میں ایک خوفیہ جگہ اس خونی کھیل کا انتظام کیا گیا تھا۔۔یہاں سنیک آرگنائزیشن کے سب لوگ شرکت کرنے کے لیے موجود تھے جو نئے آنر کے منتظر تھے اس کھیل کے اصول شیر خان نے کچھ اس طرح بنائے تھے کہ سب لوگوں کو ایک ایک گن دی گئی تھی جس میں ایک ایک گولی موجود تھی ان میں سے آخر میں جو زندہ بچنے والا تھا صرف وہ ہی آگے جانے والا تھا۔۔۔

سب کے ہاتھوں میں گن تھما کر انھیں سٹیڈیم میں اتارا گیا تھا۔۔خان اور اس کے ساتھ تین لوگ اور تھے سب نے ایک دوسرے پر گن تان لی تھی۔۔۔

شیر خان اسفند یار کے ساتھ فرنٹ سیٹ میں بیٹھا استہزایہ نگاہوں سے خان کو گھور رہا تھا جس کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا تھا۔۔۔

تین دو اور ایک کے ساتھ مقابلہ شروع ہوا تھا۔۔

خان کے مقابل تینوں لوگوں نے اپنی گن کا رخ خان پر کیا تھا۔۔تیزی سے گن کو چلاتے وہ لوگ گولی نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری تھی طنزیہ نگاہوں سے شیر خان کو دیکھتا وہ ان تینوں کو دیکھتا استہزایہ مسکرایا تھا جبکہ مقابل تینوں میں سے دو غصے سے خالی گن پھینکتے خان پر جھپٹے تھے۔۔اور تیسرے نے اپنے بوٹ میں چھپی چاقو نکالی تھی۔۔۔خان نے اپنی گن چلائی تھی جس میں سے ایک گولی نکلتی ایک آدمی کے سر کے آر پار ہوگئی تھی۔۔خالی گن زمین پر پھینکتا خان اپنی جانب آتے آدمی پر لپکا تھا۔۔

مقابل جو خان کے منہ پر مکا جڑنے والا تھا خان نے وہ ہی بازو پکڑتے اس کو مکمل مڑوڑ دیا تھا۔۔۔جبکہ تیسرا آدمی چاقو لیتا خان کو پیچھے سے مارنے کے لیے بھاگا تھا۔۔پہلے آدمی کے منہ پر دو مکے مارتے اسےزمین پر پھینکتے خان نے بروقت اپنی پیٹھ میں کھبتا چاقو پکڑا تھا۔۔۔اس کا چاقو والا ہاتھ تھامتے خان نے وہ چاقو اسی کے سینے میں مارا تھا جب اچانک پیچھے سے دوسرے آدمی نے زمین سے اٹھتے دوسرے بازو کو گردن میں ڈالتے اس کا گلا دبایا تھا۔۔۔

سانس کی کمی کی وجہ سے خان کا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا۔۔خان نے اپنے سامنے کھڑے آدمی کے لگاتار دو تین بار چاقو مار کر اسے زمین پر دھکیلتے خان نے پیچھے کھڑے آدمی کے لگاتار کوہنی مارتے اپنی گردن سے گرفت ڈھیلی کی تھی۔۔

سامنے گرے تقریبا نیم مردہ شخص کے ہاتھ سے چاقو کھینچتے خان نے پیچھے موجود شخص کی گردن پر چالائی تھی جس سے وہ ایک دم ہی زمین پر گرا تھا۔۔تینوں مرچکے تھے میدان میں صرف خان باقی تھا جس نے طنزیہ مسکراہٹ سے شیر خان کو دیکھا تھا جو ہنس رہا تھا خان نے آنکھیں چھوٹی کرتے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تھا جس نے اسے سامنے کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا تھا جہاں سے گن پکڑے یزدان کو آتے دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔۔اپنے تاثرات پر قابو پاتے اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چاقو پر گرفت ڈھیلی کی تھی۔۔۔۔

یزدان چلتا ہوا خان کے مقابل آکر کھڑا ہوا تھا۔۔عجیب امتحان تھا اس کے لیے ایک طرف محبت تھی جبکہ دوسری طرف دوست کم بھائی جیسا خان تھا۔۔۔

Shoot me..

خان نے یزدان کی آنکھوں میں دیکھتے پختہ لہجے میں کہا یزدان نے فورا اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔

میں یہ نہیں کر پاوں گا خان۔۔یزدان نے سرخ چہرے کے ساتھ کہا تھا ارد گرد موجود لوگ ان کی حالت سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔

Shoot me Yazdan..

خان نے اس بار سرد لہجے میں کہا تھا۔۔یزدان نے نفی میں سر ہلاتے اپنے ہاتھ میں موجود گن اپنی کن پٹی پر رکھی تھی۔۔وہ سب کچھ کر سکتا تھا لیکن خان کو نہیں مار سکتا تھا۔۔

یزدان خان کو دوستی اور محبت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا اور یقینا اس نے دوستی کا انتخاب کرنا تھا۔

یزدان میری بات سنو۔۔۔شوٹ می۔۔لسن ٹو می۔۔اینڈ شوٹ می۔۔

خان نے اپنے ہاتھ میں موجود چاقو زمین پر پھینکتے یزدان کا گن والا ہاتھ پکڑ کر اس کی گن کا رخ اپنے سینے کی طرف کیا تھا۔۔

لوگوں کے ہجوم میں بیٹھے شیر خان اور اسفند خان کے چہرے پر فاتح کن مسکراہٹ تھی۔

ٹھاہ۔۔۔گن چلنے کی آواز کے ساتھ ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا۔

میں نے ساری زندگی مرنے کی خواہش کی تھی۔ اب جینا چاہتا تھا لیکن شاید یہ میری قسمت میں نہ تھا۔خان نے من میں سوچا تھا۔۔وہ اپنی زندگی زمل کے ساتھ نئے سرے سے شروع کرنا چاہتا تھا لیکن شاید قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔۔

یزدان نے گن کا رخ بروقت موڑ دیا تھا جس سے گولی دائیں طرف بجی تھی۔۔۔اچانک وہاں پر سائرن بجنا شروع ہوا تھا۔۔۔جس سے ہر طرف ہڑبڑی مچ گئی تھی۔۔۔وہاں ریڈ پڑی تھی کیونکہ سنیک آرگنائزیشن کا سارا ڈیٹا خان آرمی کو سینڈ کرچکا تھا۔۔

یزدان یہاں سے فورا نکلو اور بہالپور میں مجھ سے ملنا۔۔۔خان نےاسے باہر کی جانب دھکا دیا تھا جبکہ وہ خود چاقو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھامتے شیر خان کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔

یزدان وہاں سے فورا زرش کو بچانے کے لیے نکلا تھا جسے شیر خان نے اپنے گھر میں بند کیا ہوا تھا۔۔۔وہ سیدھا وہاں گیا تھا کیونکہ وہجانتا تھا کہ اس وقت شیر خان کے گھر میں سکیورٹی بھی اتنی موجود نہیں تھی۔۔

خان شیر خان کے پیچھے بھاگا تھا جو اپنی گاڑی میں اسفند خان کے ساتھ بیٹھتا بھاگا تھا۔۔خان بھی اپنی گاڑی میں بیٹھتا ان کے پیچھے نکلا تھا جو لوگ ناجانے کہاں جارہے تھے۔۔۔

خان بھی ان کے پیچھے ہی تھے۔۔شیرخان اور اسفند خان بند شراب کے اڈے پر گئے تھے خان بھی اپنی گن گاڑی سے لیتا ان کے پیچھے ہی اندر گیا تھا۔۔۔

وہاں ہی رک جاو خان اس سے پہلے میرا بندہ تمھاری بیوی کا کام تمام کردے۔۔۔شیرخان نے دائیں طرف اشارہ کیا تھا جہاں نقاب میں چھپی زمل پر گن تانے لوگ کھڑے تھے۔۔خان کے دل میں پہلی بار ڈر پیدا ہوا تھا۔۔

تمھارے پاس دو راستے ہیں خان یا خود کو مار لو یا میں تمھاری اس حجابن بیوی کو مار دیتا ہوں۔۔۔شیر خان طنزیہ مسکراہٹ سے بولا تھا۔۔

اس کی بہن کہاں ہے شیر خان۔۔۔اسفند نے بےتاب لہجے میں پوچھا تھا۔۔خان کا رنگ اڑا تھا۔۔تو کیا وہ ایک بار پھر زمل اور زرتاشہ کی حفاظت نہ کرسکا تھا؟

صبر کرو وہ بھی مل جائے گی پہلے اس خان کا کام تمام کریں۔۔۔جس طرح تمھارے بھائی کو میں نے ٹائم پر مار دیا تھا مجھے تمھیں بھی مار دینا چاہیے تھا تو آستین کا سانپ ہے۔۔۔شیر خان بےبس زرخان کی طرف حقارت سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

خان نے نظریں اٹھا کر زمل کو دیکھا تھا جو اسے کچھ مختلف لگ رہی تھی جب اچانک سے اس نے نقاب اٹھایا تھا۔۔۔

سرپرائز سالے صاحب اینڈ سسر جی۔۔۔نقاب کے نیچے سے نکلنے والے زمان کو دیکھتے خان اور شیر خان سمیت اسفند خان بھی حیران رہ گئے تھے۔۔۔

چلو سسر جی کام ختم ہوا آپ کا یہاں سارے میرے آدمی ہیں۔۔۔ارے مجھے نہیں پہچانے؟ میں آپ کا اکلوتا داماد زمان۔۔۔زمان گاون اتارتا مسکرایا تھا۔۔

خان سسر جی کو تو میں کچھ نہیں کہوں گا لیکن یہ غلیظ شخص میرا ہے ۔۔۔ زمان اسفند یار کی طرف دیکھتا بولا تھا

خان بازی پلٹنے پر ہلکا سا مسکرایا تھا اپنی گن سے اس نے شیر خان کی دونوں ٹانگوں پر باری باری نشانہ لیا تھا۔۔۔جس سے تکیلف سے لڑکھڑاتا وہ زمین بوس ہوا تھا۔۔

یہ میرے بھائی اور میری مورے کے لیے میں چاہتا تو اس سے بھی زیادہ تکلیف دیتا اور میں دوں گا بھی تمھیں زندہ جلا کر۔۔۔شراب سائیڈ سے اٹھاتے اس نے اردگرد پھینکنا شروع کی تھی۔۔

ارے رک جائیں سالے صاحب میں زرا اپنا بھی کوٹا نکال لو پھر ایک ساتھ دونوں کو ختم کریں گے۔۔۔زمان نے بولتے ہی اپنا چاقو نکالا تھا۔۔اسفند جو بھاگنے کی کر رہا تھا اسے زمان کے آدمیوں نے تھاما تھا زمان نے اس کے ہاتھ پکڑتے ہی ان پر چاقو سے کٹ لگائے تھے۔۔یہ ان گندے ہاتھوں سے میری بیوی کو چھونے کے لیے۔۔۔وہ اس کے ہاتھوں کو لہولہان کرتا بولا تھا۔۔

زمان نے اسکے منہ پر لگاتار کئی مکے جڑے تھے۔۔جبکہ خان نے بھی شیر خان کی دھلائی کرنا شروع کی تھی۔۔

زرتاشہ کو اپنی پوزیشن کے بدلے خان نے اسفند خان کو بیچا تھا۔۔اس وقت زرتاشہ کا نکاح خان نے زمان سے کروایا تھا جبکہ خان کی غیر موجودگی میں شیرخان نے اسے اسفند خان کے حوالے کر دیا تھا۔۔جس نے بارہ سالہ زرتاشہ کو ایک مہینے اپنی حس کا نشانہ بنایا تھا۔۔۔خان نے اسے ایک ماہ بعد بچا کر شیر خان اور سب کی پہنچ سے دور بھیج دیا تھا اس ٹرامے سے زرتاشہ بہت مشکل سے نکلی تھی۔۔

زمان نے اچھے سے اسفند خان کی دھلائی کی تھی۔۔خان زمان کے ساتھ شراب خانے کو آگ لگا چکا تھا جہاں شیر خان اوراسفند نیم مردہ پڑے تھے۔۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے ان کی نظروں کے سامنے آگ کے شعولے اٹھنے لگے تھے۔۔۔

زمل اور زرتاشہ کہاں ہے ؟ خان نے سرد لہجے میں پوچھا تھا۔۔

وہ محفوظ ہیں۔۔زمان نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔۔

تم یہاں کیسے پہنچے ؟ خان نے پوچھا۔۔

تو ہوا کچھ یوں تھا کہ۔۔۔

کچھ دن پہلے :

مہناز بیگم اور زرتاشہ کے ساتھ لاونچ میں بیٹھی تھیں۔۔زرتاشہ ان کی گود میں سر رکھے صوفے پر لیٹی ہوئی تھی۔۔مہناز بیگم اس سےپہلے بہت ناراض تھی لیکن اس کی گرتی حالت اور مرجھائے چہرہ کودیکھتی وہ زیادہ دیر ناراض نہ رہ سکی تھی اور سب سے بڑی بات زرتاشہ نے بھی ان س معافی مانگی تھی۔۔

زمل سب کے لیے چائے بنا کر لائی تھی۔۔زرتاشہ نے اٹھتے زمل سے چائے لی تھی جبکہ مہناز بیگم کو چائے پکڑاتی وہ خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔ابھی اسے بیٹھے چند منٹ ہی گزرے تھے جب گھر سے باہر گولیاں چلنے کی آواز سنتے زرتاشہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ زمین بوس ہوا تھا جبکہ اس کے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی تھی۔۔

جلدی اٹھو زرتاشہ تم زمل کو میرے کمرے میں لے کر جاو۔۔مہناز بیگم نے اٹھتے جلدی سے زرتاشہ کو بازو پکڑتے اسے زمل کے پاس کیا تھا۔۔۔

مورے آپ بھی چلیں ہمارے ساتھ۔۔۔زرتاشہ نے کانپتی ہاتھ سے ان کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔

میں آجاو گ۔۔۔۔مہناز بیگم جو اپنا ہاتھ چھڑواتی بول رہی تھی پیچھے سے کسی کے بولنے پر وہ رکی تھیں۔۔

میں نے کہا تھا نہ میں بہت جلد تمھیں لینے آوں گا زمل۔۔۔تم پرصرف میرا حق ہے۔۔۔رمیز کی شیطانیت سے بھری آواز سنتے ہی زمل کے رونگھٹے کھڑے ہوگئےتھے۔۔کانپتے ہاتھوں سے اس نے آیت الکرسی پڑھتے اپنی چادر سے چہرہ ڈھانپا تھا۔۔۔جبکہ زرتاشہ کو اس نے مضبوطی سے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔

رمیز کے ساتھ تین لوگ اور تھے جن میں سے دو نے زخمی قاسم کو پکڑا ہوا تھا جس کے منہ سے اور ٹانگ سے خون تیزی سے نکلتا فرش پر پھیل رہا تھا۔۔۔

کہاں ہے تمھارا شوہر جس کے ڈنکے پر اس دن مجھے ڈرا رہے تھے۔۔۔اممم۔۔۔کیا نام تھا اس کا ۔۔۔۔ہاں۔۔۔خان کہاں ہے خان بلاو اسے۔۔۔زمل کی طرف قدم بڑھاتے رمیز طنزیہ آواز میں بولا تھا۔۔زمل خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ ڈر سے اس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو کر رہا تھا۔۔ مہناز بیگم تیزی سے زمل اور زرتاشہ کے آگے ڈھال بن کر کھڑی ہوگئی تھیں۔۔

ارے بڑھیاں کیوں دماغ خراب کر رہی ہو ہٹو آگے سے۔۔۔مہناز بیگم کو سائیڈ پر دھکا دیتے رمیز نے زمل کو بازو سے تھام کر اپنی طرف کھینچا تھا جس سے اس کی چادر ڈھیلی پڑی تھی اور نقاب اس کے چہرے سے کھل گیا تھا۔۔

زمل نے آنکھوں میں غصہ لیے اس کے منہ پر تھوکا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے زوردار تھپڑ رمیز کے چہرے پر مارا تھا۔۔

ہکا بکا کھڑے رمیز نے تھوک صاف کرتے الٹے ہاتھ سے ایک زور دار تھپڑ زمل کے مارا تھا جس سے اسے اپنا منہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔

نیچے گری مہناز بیگم اور ان کے پاس بیٹھی زرتاشہ دونوں خود کو بےبس محسوس کر رہی تھیں۔۔وہ مدد کرنا چاہتی تھیں مگر ان پر ہتیار تھامے ایک آدمی کچھ ہی دور کھڑا تھا۔۔

تمھاری اوقات کیا ہے یہ میں فرصت سے بتاوں گا۔۔۔رمیز نے چادر میں سے زمل کے بال پکڑ کر اسے کھینچنا شروع کیا تھا۔۔

اس بڑھیاں اور لڑکی کو پکڑو اور اس ک*ے کو مار دو۔۔۔وہ زمل کو گھسیٹتا ہوا مہناز بیگم اور زرتاشہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد وہ قاسم کو حقارت سے دیکھتا بولا۔۔

یک کے بعد دیگر لگاتار دو سے تین بار گولیاں چلنے پر زمل اور زرتاشہ نے بے ساختہ آنکھیں بند کی تھیں۔۔

اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی۔۔۔۔جانی پہچانی آواز سنتے ہی زرتاشہ کی آنکھیں پٹ سے کھلی تھیں۔۔پولیس کی وردی میں موجود زمان کو دیکھتے اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی پھر اچانک سب کچھ یاد آنے پر وہ غصے سے آنکھیں پھیر گئی تھی۔۔زمان نے صرف ایک نظر زرتاشہ پر ڈالی تھی اس کے بعد وہ رمیز کی طرف مڑ گیا تھا۔۔۔

رمیز کے ساتھ موجود تینوں آدمی زمین پر پڑے تکلیف سے تڑپ رہے تھے۔۔۔جبکہ زمان کے ساتھ پولیس کی ایک بھاری نفری موجود تھی۔۔

زمل نے پولیس کو دیکھتے دل سے شکر ادا کیا تھا۔۔۔

میرے قریب مت آنا ورنہ اس کو مار دوں گا۔۔۔اپنی گن نکالتے رمیز نے زمل کو سیدھے کرتے اس کے ماتھے پر گن تانی تھی۔۔

زمان نے ہاتھ کے اشارے سے کسی کو بھی گن چلانے سے روکا تھا۔۔

تم یہاں سے بچ کر نہیں جاسکتے باہر ہر جانب سے پولیس نے گھر کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔۔۔زمان سنجیدہ سا لب بھینچ کر بولا تھا۔۔

زمل نے خود کو چھڑوانے کے لیے اپنے چھوٹے چھوٹے ناخن رمیز کے بازو پر چبھوئے تھے۔۔رمیز کی گرفت زمل سے ایک پل کو ڈھیلی پڑی تھی مگر وہ فورا اسے مضبوطی سے اپنے شکنجے میں لے چکا تھا۔۔۔

ک*ی۔۔۔اس نے زمل کو گالی نکالتے زور سے گن اس کے ماتھے پر ماری تھی جس سے درد کی ایک شدید لہر زمل کو خود میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی جبکہ کچھ گیلا سا اسے اپنی پلک سے ہوتا گال پر گرتا محسوس ہوا تھا۔۔

یااللہ۔۔تکلیف سے زمل کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔مہناز بیگم حواس باختہ سی زرتاشہ کو اپنے گھیرے میں لیے زمل کو دیکھ رہی تھیں زمل کو تکلیف میں دیکھتے ان کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔۔

اسے چھوڑ دو ہم تمھیں یہاں سے باحفاظت جانے دیں گے زمان نے آرام سے سارے معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔۔

مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے ؟ چپ کرکے اپنے آدمیوں کو کہوں راستہ صاف کریں۔۔رمیز دانت پیستا بولا تھا۔۔

زمان نے اشارے سے سب کو سائیڈ پر کیا تھا۔۔جبکہ اس کا ہاتھ اپنی گن پر ہی تھا وہ موقعے کی تلاش میں تھا۔۔رمیز زمل کو گھسیٹتا اپنے ساتھ لے جارہا تھا دروازےپر پہنچتا وہ زمل کو پکڑتا الٹے قدم لیتا اپنی گن کا رخ زمان اور اس کے ساتھیوں کی طرف کر چکا تھا۔۔

ایک پل صرف ایک پل میں بازی پلٹی تھی رمیز کے پیچھے سے ہلکی آواز میں قدم لیتے آدمی نے اس کے گن والے ہاتھ پر نشانہ باندھا تھا جس سے تکلیف سے کراہتے گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گری تھی۔۔

زمل موقعے کا فائدہ اٹھاتی فورا اس سے دور ہٹی تھی۔۔اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا چند قدم چلنے کے بعد ہی وہ لڑکھڑاتی زمین بوس ہوگئی تھی۔۔

زمان نے قاسم اور زمل کے لیے ایمبولینس بلوانے کے ساتھ ہی رمیز کو گرفتاری میں لیا تھا۔۔۔زرتاشہ اور مہناز بیگم زمان سے بنا کچھ بولے زمل کو لیتی ہوسپٹل روانہ ہوگئی تھیں۔۔

زمان سب کو ہدایت دیتا خود بھی ان کے پیچھے ہوسپٹل کے لیے نکلا تھا۔۔وہ انھیں اس وقت اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا جب ان لوگوں کی جان خطرے میں تھی۔۔

زمل کا مکمل چیک اپ کے بعد اسے ریسٹ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔۔جبکہ قاسم کا کافی خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ کومہ میں جا چکا تھا ڈاکٹرز کےمطابق اس کا بچ جانا مشکل تھا۔۔

زرتاشہ اور مہناز بیگم زمل کے پاس ہوسپٹل میں موجود تھیں۔جب زمان ان کے پاس آیا تھا زرتاشہ اس کی طرف دیکھتی رخ موڑ گئی تھی۔۔

اب کیا لینے آئے ہو ؟ میری بیٹی کا فائدہ اٹھا کر تو تم بھاگئے تھے۔۔۔مہناز بیگم زمان کو دیکھتی غصے سے بولی تھیں۔۔

آپ غلط سمجھ رہی ہیں آنٹی۔۔۔میری مجبوری نہ ہوتی تو میں کبھی بھی ایسے غائب نہ ہوتا۔۔۔اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنی بیوی سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔۔زمان نظریں جھکائے بیٹھی زرتاشہ کو دیکھ کر بولا تھا۔۔۔

مجھ ان کی کوئی بات نہیں سننے مورے ان کی وجہ سے مجھے کس قدر زلت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ میں کبھی نہیں بھول سکتی۔۔انھیں کہیں یہاں سے چلے جائیں۔۔زرتاشہ طیش میں بولی تھیں۔۔

زمان نے بےساختہ امڈنے والے غصے کو مٹھیاں بھینچ کر روکا تھا۔۔

مجھے ابھی بات کرنی ہے زرتاشہ۔۔۔زمان لب بھینچ کر سرد لہجے میں بولا تھا۔۔مہناز بیگم نے ایک نظر زمان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے زرتاشہ کا کندھا ہلکا سا دباتے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔وہ کچھ بولنا چاہتی تھی لیکن زمان کی سرد آواز سے وہ ڈر گئی تھی تبھی فورا اٹھتی وہ زمان کے پاس گئی تھی جو اس کی نازک کلائی کو جکڑتا اپنے ساتھ وہاں سے لے گیا تھا۔۔

وہ اسے لے کر اپنی گاڑی میں آیا تھا بیک سیٹ پر اسے بیٹھاتے وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔

مما کو ہرٹ اٹیک ہوا ہے کچھ دنوں پہلے انھیں لے کر ہم لاہور گئے تھے اسی وجہ سے گھر بند تھا اور ماہم بھی یونیورسٹی نہیں آرہی تھی۔۔کچھ ایمرجنسی اور پروبلز کی وجہ سے مجھے مجبورا اپنا موبائل بند کرنا پڑا تھا۔۔میں تم سے رابطہ کرنا چاہتا تھا لیکن تمھاری جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔۔۔زرتاشہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکاتا وہ نرم لہجے میں بول رہا تھا۔۔زرتاشہ کی پیلی رنگت اور گری ہوئی طبیعت کو دیکھتے اسے خود زرتاشہ سے رابطہ نہ کرنے پر غصہ آرہا تھا۔۔

مجھے نفرت ہے آپ سے ۔۔۔۔آپ بہت برے ہیں۔۔۔م۔۔مجھے لگا آ۔۔۔آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔۔۔میں۔۔۔میں نے یہ دن کتنی تکلیف میں گزارے۔۔اس کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔۔آپ کی وجہ سے میرے بچے کو لوگوں نے ناجائزہ سمجھا اور مجھے حقارت کی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔وہ زمان کا کالر پکڑتے اس پر پھٹ پڑی تھی۔۔وہ روتی ہوئی غصہ میں سب کچھ بول گئی تھی۔۔۔

زمان جو اس کو غصہ نکالنے کا موقع دیکھ رہا تھا اس کی آخری بات سنتے اس نے زرتاشہ کے ہاتھ کو تھامتے اسے اپنی طرف جھکاتے سوالیہ پوچھا تھا۔۔

بچہ؟ اس کے پوچھنے پر زرتاشہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتے آہستہ سے اپنا سر ہلایا تھا۔۔۔زمان نے بےساختہ اسے خود میں زور سے بھینچا تھا۔۔

میں بہت خوش ہوں زرتاشہ۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔تمھارا میری زندگی میں واپس آنا ایک معجزہ تھا۔۔۔وہ اس کے چہرے پر اپنا لمس جا بجا چھوڑتا محبت سے بولا تھا۔۔۔

میں ناراض ہوں آپ سے۔۔۔زرتاشہ سوں سوں کرتی نظریں جھکائے بولی تھی۔۔

میں اپنی جان کو منالوں گا۔۔وہ زرتاشہ کی ٹھوڑی پر لب رکھتے محبت سے بولا۔۔

آپ نے پولیس کب سے جوائن کی۔۔اس کی وردی دیکھتے زرتاشہ نے حیرت سے پوچھا تھا۔۔

میں نے پاکستان آنے کے ایک مہینے بعد جوائن کیا تھا لیکن انڈرکور تھا۔۔زمان نے اس کی گیلی آنکھیں محبت سے صاف کرتے اسے زور سے خود میں بھینچ لیا تھا۔۔

زرتاشہ اس کا لمس پاتے ہی سکون سے آنکھیں موند گئی تھیں۔۔زمان نے اس کے سر پر لب رکھتے اسے مزید خود میں بھینچ لیا تھا۔۔۔

حال:

میں کافی دیر سے اسفند خان پر نظر رکھ رہا تھا اور اس کا موبائل ٹریس کروا رہا تھا جس سے مجھے پتا چلا تھا کہ وہ تمھارے گھر پر اٹیک کروا کر زرتاشہ اور تمھارے بیوی کو کڈنیپ کروانا چاہتا تھا۔۔جب تک مجھے پتا چلا تھا تب تک اس کے آدمی وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔لیکن پھر بھی بروقت میں نے سب کچھ سنبھال لیا تھا۔۔اور میں زرتاشہ کو چھوڑ کر نہیں گیا تھا بس اسفند خان کو ختم کرنے میں مصروف تھا۔۔۔یزدان نے بات ختم کرتے یزدان کو بتایا۔۔۔۔

خان نے ایک زوردار مکہ زمان کے جڑا تھا۔۔۔یہ میری بہن کو تکلیف دینے کے لیے۔۔دوبارہ اسے تکلیف دی تو زندہ نہیں بچو گے۔۔۔۔زمان نے اپنا سوجا گال پکڑتے خان کو گھورا تھا جو اسے بھی گھور رہا تھا۔۔۔

تین سال بعد :

زمل بھابھی آپ یہاں ہیں میں آپ کو سارے گھر میں ڈھونڈ چکی تھی۔۔زرتاشہ اپنے دو سالہ بیٹے کو پکڑے زمل کے پاس آئی تھی جو ٹیرس پر تھی۔۔

کیا ہوا زرتاشہ کوئی کام تھا ؟

یہ اس کو سنبھال لیں مجھے بہت نیند آرہی ہے اور یہ سونے نہیں دے رہا۔۔زرتاشہ منہ پھولا کر بولی تھی۔۔وہ کچھ دن ان لوگوں کے پاس رہنے آئی تھی۔۔اس کا بیٹا اسے بہت تنگ کرتا تھا لیکن زمل کے پاس خاموش رہتا تھا اسی وجہ سے زرتاشہ اسے زمل کو تھما دیتی تھی۔۔۔

زمل زرتاشہ کے بیٹے روحان کو اپنے کندھے سے لگاتی ٹیرس پر چکر لگانے لگی تھی۔۔اسے سلانے کے بعد زمل نیچے آگئی تھی۔۔روحان کو زمل مہناز بیگم کے پاس لیٹا آئی تھی۔۔

تین سال دیکھتے ہی دیکھتے گزر گئے تھے۔۔۔ان سالوں مِن بہت کچھ بدل گیا تھا۔۔وہ لوگ عبیر ملک کی مدد سے ترکی شفٹ ہوگئے تھے جبکہ ان کا سارا ریکارڈ صاف ہوگیا تھا سنیک آرگنائزیشن کا بھی خاتمہ ہوچکا تھا۔۔۔یزدان اور خان اب یہاں اپنا بزنس شروع کرچکے تھے ارمغان اور قاسم جو کومہ سے نکل آیا تھا وہ لوگ بھی اپنی نئی زندگی شروع کرچکے تھے۔۔جبکہ زرتاشہ زمان کے ساتھ کینیڈا میں رہ رہی تھی وہ ان لوگوں کے پاس آج کل کچھ دنوں کے لیے آئی ہوئی تھی۔۔۔

زمان اور زرتاشہ کا دو سال کا بیٹا روحان تھا جبکہ زرش اور یزدان کی بھی ایک سال کی چھوٹی سی بیٹی مہک تھی۔۔۔زمل اور خان اب تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے لیکن زمل مایوس نہیں تھی۔۔

کیا سوچ رہی ہو خانم۔۔۔زمل جو گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔اس کے گرد حصار بناتے خان اس کے کندھے پر ٹھوڑی اٹکا چکا تھا۔۔

کچھ خاص نہیں۔۔۔آپ بتائیں کیسا گزرا دن؟ زمل نے اس کی طرف مڑتے پوچھا۔۔۔

بورنگ سارا دن میٹنگز اور کام تھا۔۔بس تمھاری یاد آتی رہی مجھے سارا دن ۔۔ اس کے ماتھے پر لب ٹکاتے خان مسکراتے ہوئے بولا تھا۔۔

اتنی محبت کرتے ہیں ؟ زمل نے اس کی سیاہ شرٹ کے بٹن سے کھیلتے پوچھا

تم میرا دل ہو۔۔۔

تم میرا سکون ہو۔۔۔

تم میری چاہت ہو۔۔۔

تم میرے دل کی ہر خواہش ہو۔۔۔

تم میری جان ہو زمل خان۔۔۔

خان نے اس کے ہونٹوں کو محبت سے چھوتے گھمبیر آواز میں کہا تھا۔۔۔زمل نے مسکراتے ہوئے اس کے سینے پر سر رکھ کر اس کے گرد حصار باندھا تھا۔۔خان نے شدتِ جزبات سے زمل کے سر پر لب رکھے تھے۔۔جو روشنی بن کر اس کی اندھیری دنیا میں اجالا کرگئی تھی۔۔۔۔

یزدان آپ کی بیٹی بلکل آپ کے جیسے ہی مجھے سکون سے بیٹھنے بھی نہیں دیتی زرش مہک کو چپ کروانے کی ناکام سی کوشش کررہی تھی۔۔

زمازڑگیہ پریشان کیوں ہو رہی ہو لاو مجھے دو میری شہزادی کو۔۔۔یزدان نے زرش کے ہاتھ سے مہک کو پکڑتے اس کے پھوکے گالوں کو چومتے اپنے کندھے سے لگایا تھا جس سے فورا چپ ہوگئی تھی۔۔زرش نے منہ پھولا کر مہک کو دیکھا تھا جو فورا باپ کے پاس جاکر چپ ہوگئی تھی۔۔

زمازڑگیہ منہ کیوں پھولا رہی ہو۔۔۔یزدان نے ہنستے ہوئے زرش کے گال کو چوما تھا۔۔

آپ کی بیٹی بہت تیز ہے جان بوجھ کر مجھے تنگ کرتی ہے۔۔زرش یزدان کے دوسرے کندھے پر سر رکھتے بولی تھی۔۔۔

یزدان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی یہ دونوں اس کی کل کائنات بن گئی تھیں۔۔یزدان نے باری باری دونوں کے سر پر لب رکھے تھے۔۔ایک اس کی شہزدای بیٹی تھی تو دوسری اس کے دل کی ملکہ بیوی تھی۔۔

**************

زمان۔۔۔آپ کب آئے ؟ زرتاشہ جو سو کر ابھی اٹھی تھی زمان کو اپنے قریب لیٹے دیکھ کر وہ خوشی سے اچھلی تھی زمان نے اس کی کمر کے گردن بازو ڈالتے اسے خود میں بھینچا تھا

مجھے اپنی بیوی اور بیٹے کی یاد آرہی تھی اسی لیے سارا کام جلدی جلدی ختم کرکے آیا ہوں۔۔یزدان نے اس کی ٹھوڑی ہر لب رکھتے جواب دیا تھا۔۔

مجھے بھی آپ کی بہت یاد آرہی تھی زمان۔۔زرتاشہ اس کے دائیں گال پر لب رکھتے بولی تھی۔۔زمان نے جواب میں اس کے دونوں گال چومے تھے۔۔

میرا شہزادہ کہاں ہے ؟ دکھائی نہیں دے رہا ؟ زمان نے اسے اپنے حصار میں لیتے پوچھا۔۔

زمل بھابھی کو دیا تھا اب شاید مورے پاس ہوگا۔۔بہت روتا ہے وہ زمان۔۔زرتاشہ نےمنہ بگاڑتے اسےبتایا تھا۔

ابھی چھوٹا ہے نہ اس لیے جب بڑا ہوجائے گا پھر دیکھنا میرا شہزادہ کتنا اچھا بچا بنے گا۔۔۔زمان نے مسکراہٹ دباتے کہا تھا۔۔زرتاشہ نے منہ پھولاتے سر ہلایا تھا۔۔

زمان کی والد تو پہلے ہی انتقال کرچکے تھے اور والدہ بھی ڈیڑھ سال پہلے خالقِ حقیقی سے جا ملی تھیں جبکہ ماہم کی شادی وہ پچھلے سال کرچکے تھے۔۔۔

****************

خان معمول کے مطابق یزدان کے ساتھ اپنے کام سے واپس لوٹ رہا تھا۔۔وہ گاڑی میں بیٹھے تھے جب اچانک کچھ لوگوں نے سامنے سے اس پر حملہ کیا تھا۔۔خان جو ہمیشہ گاڑی میں اپنے ساتھ گن رکھتا تھا اس نے فورا گن نکالی تھی جبکہ یزدان ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔

اب یہ لوگ کون ہیں خان؟ یزدان نے پریشانی سے پوچھا تھا اتنی مشکل سے تو وہ لوگ پرانی زندگی سے جان چھڑا پائے تھے اب پھر ان پر گولیاں برسائی جا رہی تھیں۔۔

ابھی پتا چل جائے گا تم گاڑی کی سپیڈ زیادہ کرکے ان کے برابر میں لے کر جاو۔۔۔خان نے یزدان کو کہا تھا۔۔

خان نے سامنے والی گاڑی کے ٹائر کا نشانہ لینے کی کوشش کی تھی جو تیسری کوشش میں کامیاب پایا تھا وہ لوگ ان پر فائرنگ کر رہے تھے۔۔لیکن ٹائر برسٹ ہونے پر ان کی کار لڑکھڑائی تھی۔۔جس کا فائدہ اٹھاتے خان نے ان پر فائرنگ کرتے ایک آدمی کا نشانہ لیا تھا۔۔

یزدان ان کے پاس گاڑی لے کر گیا تھا جب خان نے ان کے ڈرائیور پر گولی چلائی تھی جس سے کار کا توازن بگڑا تھا اور سیدھی سڑک کنارے درخت میں بجی تھی۔۔

خان گاڑی سے نکلتا اس گاڑی پاس گیا تھا اس نے گاڑی کھولتے اس میں سے ایک آدمی کو کھینچ کر باہر نکالا تھا جس کے منہ سے اور سر سے خون نکل رہا تھا۔۔۔

ہم پر حملہ کیوں کر رہے تھے اور کس نے بھیجا ہے تمھیں۔۔؟؟ خان نےا س کے سر پر گن تانے ہوچھا تھا۔۔

ہمیں بس تمھاری ایک تصویر دی گئی تھی اور مارنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے ہمیں اچھے خاصے پیسے ملے تھے۔۔اس آدمی نے کانپتے ہاتھوں سے ایک تصویر نکالی تھی۔۔

خان نے وہ تصویر اس کے ہاتھ سے کھینچی تھی۔۔وہ اس کی تصویر نہیں تھی لیکن تصویر میں موجود وہ شخص بالکل خان کا ہمشکل تھا اور وہ کوئی اور نہیں اس کا جڑواں بھائی تھا اس نے تصویر پلٹی تھی جس کے پیچھے اس کا نام لکھا تھا اس نے حیرت میں ڈوبے سرگوشی میں نام پڑھا تھا۔۔

” میکال حیدر خان “

وہ جو اپنی ساری زندگی اپنے بھائی کو مردہ سمجھتا آیا تھا اس کا زندہ ہونا ایک پہیلی بن کر سامنے آیا تھا۔۔

ختم شد۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *