My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 22)
Rate this Novel
My Girl (Episode 22)
My Girl by Zanoor
شیر خان کروفر سے لبوں میں سگار دبائے سنیک ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوا تھا۔سب لوگ اسے دیکھتے نظریں جھکا گئے تھے۔
لوگوں کی نظروں میں اپنے لیے خوف محسوس کرتے اس کے ہونٹ ہلکے سے اوپر اٹھے تھے۔شیر خان کے پیچھے اس کے دو آدمی چل رہے تھے۔
شیر خان بنا کسی کو دیکھے سیدھا وہاں موجود خان کے آفس میں دھرلے سے گھسا تھا۔خالی کمرہ دیکھتے وہ میز کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
ارمغان جو خان کو کال کرکے شیر خان کے بتانے کا سوچ رہا تھا۔شیر خان کے ایک آدمی نے اسے آکر کالر سے دبوچا تھا۔
یہ کیا کر رہے ہو ؟ چھوڑو مجھے۔۔ارمغان خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا۔اس کے زبردستی گھسیٹنے پر ارمغان نے اپنی پینٹ میں موجود پاکٹ نائف نکالتے اس آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا۔
وہ جانتا تھا شیر خان کسی اچھے مقصد سے نہیں آیا۔۔سب لوگ خاموشی سے ارمغان کا دیکھ رہے تھے کوئی بھی اس کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا تھا۔
ارمغان نے سب کو غصیلی اور ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔اپنے چاقو کی مدد سے اس نے مقابل کے بازو پر دوبارہ وار کرتے ایک دم گھومتے ہوئے اپنا پیر اٹھاتے اس کے سینے میں دے مارا تھا۔
مقابل وجود لڑکھڑایا تھا۔اس نے غصے میں اپنی گن نکالتے ارمغان کے سر کا نشانہ لیا تھا۔سب دل تھامے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔سب کو یقین تھا اب ارمغان مرجائے گا اسے کوئی نہیں بجا پائے گا۔۔
گولی کی آواز سنتے وہاں موجود لڑکیاں اپنے چہروں پر ہاتھ رکھ گئی تھیں۔جبکہ باقی لوگ خاموشی سے نظریں جھکا گئے تھے۔سب کے دل خوف سے کانپنے لگے تھے۔
ارمغان نے خود کو صحیح سلامت پاتے اپنے سامنے کھڑے آدمی کو دیکھا تھا جو زمین پر گر چکا تھا۔ایک گولی اس کی آنکھوں کے درمیان میں پیوست ہوئی تھی۔
ارمغان گہرا سانس لیتا ہوا پیچھے مڑا تھا۔خان کو دیکھ کر اس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔
خان سپاٹ تاثرات سے نیچے گرے ہوئے وجود کو دیکھ رہا تھا ارمغان نے تیزی سے اس کے قریب جاتے اسے شیر خان کے آنے کی خبر دی تھی۔
تم جاکر اپنا کام کرو۔۔ارمغان کو بولتا خان اپنے طرف دیکھتے سب کو سخت نظروں سے دیکھتا اپنے آفس میں داخل ہوا تھا۔
اپنی جگہ پر بیٹھے شیر خان کو دیکھ کر کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہوئے تھے۔وہ سپاٹ نظروں سے شیر خان کو دیکھ رہا تھا۔جو ہونٹوں پر زچ کردینے والی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
آؤ خان تمھارا ہی انتظار ہو رہا تھا۔۔تمھارا وہ کت* کہاں گیا ہے ؟ میں نے سنا تمھیں اکیلا چھوڑ کر وہ دم دبا کر بھاگ گیا ہے ؟ اس کام میں ایک بار جو بھی آجائے وہ اس سے آزاد نہیں ہوسکتا اس لیے یہ معاملہ میں نے اپنے ہاتھوں میں لیتے اس کو ختم کرنے کے لیے اپنے آدمی بھیج دیے ہیں۔۔اس کی کمزور بیوی کو مارنے کے بعد مجھے لگا تھا وہ دوبارہ سخت ہوجائے گا لیکن میں غلط نکلا وہ تو اس سے بھی زیادہ بزدل بن گیا۔۔۔شیر خان یزدان کی بات کر رہا تھا۔شیر خان نے جب یزدان کو لالچ دی تھی۔دراصل وہ صرف اس کا استعمال کرنا چاہتا تھا۔یزدان نے اس کو ہاں کرکے ساتھ اس کے ساتھ ڈبل کراس کیا تھا۔
ابو ہشام اور اس کی ایران میں موجود پراپرٹی کو آگ لگانا شیر خان کی آکری حد تھی۔ابو ہشام بھی شیر خان کا ایک بہت اچھا دوست تھا جو اس کو ہر طرف اسلحہ اور بارود فراہم کر رہا تھا۔
لیکن خان کے اس کے بیٹے کو مارنے کے بعد وہ شیر خان کا بھی دشمن بن چکا تھا۔پہلے ہی رشیا سے سارے اسلحہ کی فراہمی بند ہونے لگی تھی۔اس کا آخری سہارا ابو ہشام تھا جس کے بیٹے کو قتل کرکے خان نے اس کا سارا کام بگاڑ دیا۔
یزدان کے بارے میں شیر خان کے منہ سے سنتے خان نے بمشکل خود کو اسے قتل کرنے سے روکا تھا۔وہ چاہتا تو ابھی اسی وقت شیر خان کو جان سے مار سکتا تھا۔لیکن پھر ساری آرگنائزیشن میں موجود لوگوں نے اس کے خلاف ہوجانا تھا ان کے کچھ قانون تھے جس کے مطابق وہ شیر خان کو مار نہیں سکتا تھا۔اور رہی بات خان کی یزدان کو مارنے کی وہ یہاں پاکستان میں ہوتا پھر ہی شیر خان اسے مار پاتا تبھی یزدان کو مارنے کی خبر پر وہ سپاٹ ہی کھڑا رہا تھا۔
تم یہاں کس کام کے لیے آئے ہو شیر خان ؟ خان نے سرد لہجے میں پوچھا۔اس کی آنکھوں کی چٹانوں سی سختی تھی۔
شیر خان اس کی خود سے جدو جہد دیکھتا ہنس پڑا تھا۔
تمھاری بیوی بہت خوبصورت ہے خان۔۔تم نے چن کر اپنے لیے ڈھونڈی ہے بڑی سخت جان ہے میرے مارنے کے باوجود بھی اس کا بچ جانا میرے لیے حیران کن ہے۔۔شیر خان مسکراتا ہوا بول رہا تھا۔جو خان کو مزید سلگا رہی تھی۔
وہ اپنے غصے سے زمل کو شیر خان کے سامنے اپنی کمزوری نہیں ظاہر کرنا چاہتا تھا۔تبھی ہونٹوں کا بھینچے بنا کوئی تاثر دیے کھڑا رہا۔
شیر خان اس کو کوئی بھی ریکشن نہ دیتے دیکھ کر ایک دم طیش میں آیا تھا۔پھر کچھ سوچ کر اپنا غصہ سنبھالتے وہ دوبارہ گویا ہوا۔۔
دو دن بعد سنیک آرگنائزیشن کی اینی ورسری پر تم اپنی بیوی کو ساتھ لاؤ گے میں سب کو اطلاع دے چکا ہوں۔۔سب لوگ تمھاری بیوی دیکھنے کا بےتاب ہیں اگر تم اسے اپنے ساتھ نہ لائے میں اسے زبردستی اٹھوا کر لے آؤں گا یاد رکھنا۔۔۔شیر خان کے استہزایہ لہجے میں بولنے پر خان کی رگیں تن گئی تھی۔شیر خان کی باتوں کا مطلب سمجھتے اس کا روم روم سلگ اٹھا تھا۔
تم نے اگر بھونک لیا ہو تو باہر کا راستہ وہاں ہیں۔۔تمھارے گندے وجود سے میرے آفس میں بدبو پھیل گئی ہے۔۔ خان کےچند الفاظ ہی شیر خان کو آگ لگا گئے تھا۔
مت بھولو خان تم اپنے باپ سے بات کر رہے ہو۔۔۔میں اب بھی ویسا ہی ظالم سفاک ہوں جس طرح پہلے تھا جیسے تمھارے بھائی کی زبان کاٹ دی تھی تمھاری بھی کاٹنے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔۔شیر خان کرسی سے اٹھتا قدم بہ قدم چلتا خان کے روبرو آکر کھڑا ہو گیا تھا۔
مجھے وہ ڈرپوک زرخان سمجھنے کی کوشش مت کرنا۔۔جس دن مجھے موقع ملا تمھیں اتنی تکلیف دہ موت دوں گا تم مجھ سے پناہ مانگو گے اور دوبارہ اپنے منہ سے میرے بھائی کا نام مت لینا۔۔۔خان سرد برفیلے لہجے میں شیر خان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
اس کی آنکھوں میں موجود بغاوت دیکھتے شیر خان کے دل میں ایک ڈر سا پیدا ہو گیا تھا۔وہ اب ہر حال میں خان کو مارنا چاہتا تھا۔
شیر خان نے ایک دم اپنا ہاتھ فضا میں بلند کرتے خان کے منہ پر تھپڑ مارنا چاہا تھا۔مقابل بھی خان تھا جس نے بجلی کی تیزی سے اس کا بازو پکڑتے جھٹکے سے مڑورتے اسے پیچھے دھکیلا تھا۔
شیر خان کا بازو آزاد کرتے خان نے اپنی گن نکالتے شیر خان کے سر پر تانی تھی۔ وہ جو آگ بگولہ ہوکر کھڑا تھا۔خان کو اپنی طرف گن کرتے دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
کس چیز کا انتظار کر رہے ہو خان ؟ مارو مجھے۔۔۔ورنہ میں پہلی فرصت میں موقع پاتے ہی تمھیں ختم کردوں گا۔۔شیر خان اسے اکسا رہا تھا۔
شیر خان کی آنکھوں میں سپاٹ تاثرات سے دیکھتے خان نے اس کے پیچھے کھڑے خاموشی سے باتیں سنتے اس کے آدمی کے سر میں گولی ماری تھی۔
یہ گولی تمھارے لیے بھی ہوسکتی تھی لیکن میں تمھیں اتنی آسان موت نہیں دوں گا۔۔اور دوبارہ اپنے ان پالتو کت** کو میرے آفس میں لے کر آنے کی غلطی مت کرنا۔۔شیر خان کو دھمکاتے خان اپنی گن واپس اپنی ویسٹ میں رکھ چکا تھا۔
شیر خان غصے سے سرخ ہوتا خان کو گھورتا ہوا چلا گیا تھا۔وہ خان کی یہ اکڑ توڑنا چاہتا تھا۔اسے خان کی پل پل کی خبر تھی۔اس نے ابھی تک زمل کو اس لیے کچھ نہیں کیا وہ اسے پہلے خان کی مجبوری سے کمزوری بنانا چاہتا تھا۔جس میں وہ کامیاب ہونے لگا تھا۔
لیکن وہ بھول گیا تھا زرخان کبھی اپنی کمزوری نہیں بناتا۔۔۔
***************
زمل سکول کے گیٹ سے باہر نکلی تھی۔اس کی منتظر نگاہیں خان کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکی تھیں۔خان کو نہ پاکر اس کے تاثرات بدلے تھے۔
اپنا موڈ درست کرتے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوسٹل کی جانب روانہ ہوگئی تھی۔یہ جاب اس نے کچھ دیر پہلے ہی شروع کی تھی۔ہوسٹل میں سارا سارا دن بیکار پرے رہنے سے اسے جاب کرنا زیادہ بہتر لگا تبھی اس قریبی لوکل سکول میں اس نے چھوٹے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تھا۔
اسے پیسوں کی اتنی فکر نہ تھی کیونکہ وہ بینک میں موجود پیسوں سے اپنا گزارا کر رہی تھی۔وہ نظریں جھکائے چل رہی تھی۔اس کی سوچوں کا مرکز خان تھا۔اس کے اچانک بدلے تیوروں نے زمل کو جہاں خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا تھا وہاں ہی اس کے رویے نے اسے پریشان بھی کر دیا تھا۔
وہ سوچوں میں پوری طرح ڈوبی ہوئی تھی۔اچانک اپنے قریب آکر گاڑی رکنے پر وہ ڈر گئی تھی۔وہ بنارکے تیزی سے چلنے لگی تھی۔جب جانی پہچانی آواز سن کر وہ پیچھے مڑی تھی۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔رمیز کو اتنی مہنگی گاڑی سے نکلتے دیکھ کر زمل کے تاثرات بدلے تھے۔وہ واپس مڑتی دوبارہ چلنے لگی تھی جب رمیز نےاسے آواز دی تھی۔۔
زمل میری بات سنو۔۔۔ رمیز نے تیزی سے جاکر اس کا بازو پکڑنا چاہا تھا۔۔زمل جب اچانک پیچھے مڑتی اس کا ارادہ سمجھ کر ایک سائیڈ پر ہٹی تھی۔
قاسم جو اس سے کچھ فاصلے پر چل رہا تھا۔وہ فورا تیزی سے زمل کے قریب آتا اس کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا تھا۔قاسم کو دیکھتے زمل کے تھوڑا حوصلہ ملا تھا۔
تم کون ہو ؟ ہٹو میرے راستے سے۔۔۔تم ابھی مجھے جانتے نہیں ہو میں کون ہوں۔۔اس لیے خاموشی سے پیچھے ہٹ جاؤ۔۔رمیز اپنی کلائی پر بنا سنیک کا ٹیٹو قاسم کو دکھاتا ہوا بولا تھا۔قاسم نے حیرانی سے وہ ٹیٹو دیکھا تھا۔وہ ٹیٹو صرف شیر خان کے خاص ساتھیوں کے بنایا جاتا تھا۔
تم خان کو جانتے ہو گے اور خان کی ملکیت کو تم یقینا ہاتھ نہیں لگانا چاہو گے کیونکہ تم جانتے ہو تمھارا یہ ٹیٹو بھی تمھیں خان کے قہر سے نہیں بچا سکتا۔۔۔قاسم اسے مار نہیں سکتا تھا لیکن اسے دھمکا ضرور سکتا تھا۔
رمیز نے ناگواریت سے قاسم کو دیکھا۔۔خان کا نام سن سن کر وہ پک گیا تھا۔شاید ابھی تک اس کے سارے کارناموں کا اسے نہیں معلوم تھا شاید اس لیے وہ اتنا بہادر بن کر دندنانے لگا تھا۔
میں کسی بزدل خان سے نہیں ڈرتا۔۔اسے بتادینا میں بہت جلد زمل کو لے جاؤں گا۔۔اس سے پہلے زمل پر میرا حق ہے۔ اور مجھے اپنا حق چھننا آتا ہے۔۔۔رمیز کی بات سن کر زمل کی ریڑھ کی ہڈی می سنسناہٹ ہوئی۔۔وہ مکمل طور پر زمل کو ایک الگ انسان لگ رہا تھا۔
رمیز نے زمل کی طرف دیکھتے اسے سمائل پاس کی تھی۔زمل نے ناگواریت سے اسے دیکھتے نظریں جھکا لی تھیں۔۔رمیز قاسم کو گھورتا ہوا چلا گیا تھا۔
زمل قاسم کا شکریہ ادا کرتی دوبارہ چلنے لگی تھی۔قاسم نے زمل کو روکتے اس سے رمیز کے بارے میں پوچھا تھا۔زمل کے رمیز کے بارے میں بتانے پر وہ اسے بحفاظت ہوسٹل چھوڑ آیا تھا۔
قاسم نے کال ملاتے سب کچھ خان کا بتا دیا تھا۔خان جو پہلے ہی شیر خان کی باتوں سے تپا بیٹھا تھا۔مزید یہ بات سن کر آگ بگولہ ہو گیا تھا۔اس نے قاسم کو چوبیس گھنٹے زمل کی حفاظت کے لیے کسی کو ہائیر کرنے کا کہا تھا۔
قاسم نے خان کو بے فکر رہنے کا بولتے اپنے جان پہچان سے زمل کے لیے ایک گارڈ کا انتظام کر دیا تھا۔
*******************
اپنے سارے کام مکمل کرتا خان زمل سے بات کرنے کے لیے اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہوسٹل روانہ ہوا تھا۔
ہوسٹل کسی بھی لڑکے کا آنے کی اجازت نہیں تھی لیکن خان کے ڈرانے اور دھمکانے پر ہوسٹل وارڈن نے اسے زمل سے ملنے کی اجازت دے دی تھی۔
وہ نظریں جھکائے ہوسٹل میں داخل ہوتا بنا کسی کی طرف دیکھے زمل کے روم کی طرف گیا تھا۔کمرے کا دروازہ لاک نہیں تھا جس سے باآسانی وہ روم میں داخل ہو گیا تھا۔۔
زمل کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ خاموشی سے وہاں موجود سنگل بیڈ پر ایزی ہوکر بیٹھ گیا تھا۔اس کی نظریں زمل پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔کتنا سکون تھا اس کے چہرے پر نماز پڑھتے ہوئے۔۔زمل خان کی موجودگی محسوس کر چکی تھی۔
نماز مکمل کرتے وہ دعا مانگتی ہوئی اٹھی تھی۔خود پر نظریں ٹکائے خان کے قریب آتے اس نے منہ میں کچھ سورتیں پڑھ کر اس پر پھونک ماری تھیں۔
خان کو اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔زمل اس سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھاتی خان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر پانی پینے لگی تھی۔
آپ کو کچھ کہنا ہے ؟ وہ دونوں خاماش بیٹھے ہوئے تھے۔زمل خان کو دو تین بار بات کرنے کے لیے منہ کھول کر بند کرتے ہوئے دیکھ کر بولی۔۔
ایک فنکشن آرہا ہے اس میں تمھاری موجودگی لازم ہے۔۔کیا تم میرے ساتھ چلو گی ؟ خان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
کیسا فنکشن ؟ زمل نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
سنیک آرگنائزیشن کی اینی ورسری ہے۔۔سب کو تمھارے بارے میں معلوم ہے اس لیے تمھیں میرے ساتھ فنکشن میں شرکت کرنی پڑے گی۔۔خان نے اس کی کنفیوژن دور کی۔۔
میں وہاں جاکر کیا کروں گی خان ؟ اور ویسے بھی مجھے گیدرنگ زیادہ پسند نہیں ہے۔۔زمل لب دباکر بولی تھی۔وہ خان کی بات سنتی گھبرا گئی تھی۔
تمھارا جانا لازم ہے زمل۔۔۔اور تم میرے ساتھ جاؤ گی اس بات پر کوئی بحث نہیں ہوگی۔۔زمل کو دوبارہ اعتراض کرنے کے لیے منہ کھولتے دیکھ کر خان فورا بول اٹھا تھا۔
زمل میں تمھیں کبھی اپنے ساتھ نہیں لے کر جاتا۔۔یہ میری مجبوری ہے مجھے تمھیں اپنے ساتھ لے کر جانا ہوگا۔۔وہ زمل کے خاموش ہونے پر نرمی سے اس کا بیڈ پر دھرا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا تھا۔زمل نے چونک کر اپنا ہاتھ خان کی گرفت میں دیکھا تھا۔
کس دن فکنشن ہے ؟ زمل اس کی بات کا مطلب سمجھتے بےبسی سے سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔
دو دن بعد میں تمھیں خود یہاں سے پک کرنے آوں گا تم شام چھ بجے تک تیار ہوجانا میں شاید کل تم سے ملنے نہ آ پاؤں اب ہماری ملاقات دو دن بعد ہی ہوگی۔۔اپنے موبائل پر آتی کال دیکھتا وہ اٹھا تھا۔
زمل کے حجاب کے ہالے میں چھپے پرنور چہرے پر نظر ڈالتے خان اس پر نظر ڈالتا ایک دم سے زمل کے چہرے کی طرف جھکا۔۔زمل نے سٹپٹا کر اسے دیکھا وہ کچھ پیچھے کی طرف ہوئی۔۔خان نے تیزی سے اس کی نرم گال پر اپنے ہونٹوں سے لمس چھوڑا تھا۔
زمل کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھتے وہ بنا اسے کچھ بولنے کا۔موقع دیے اپنے موبائل پر آتی کال پک کرتا باہر نکل گیا تھا۔
زمل خان کے جانے کے بعد کچھ دیر تک اپنے گال پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہی تھی۔پھر ہوش میں آتی اپنا سر جھٹک کر لیٹ گئی تھی۔وہ زبردستی اس کی حواسوں پر قابض ہونے لگا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
