Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 15)

My Girl by Zanoor

یزدان کے منانے پر خان آج رات زمل کے پاس رکنے کو راضی ہوگیا تھا۔کمرے میں موجود صوفے پر وہ آرام سے بیٹھ کر اپنا لیپ ٹاپ کھول چکا تھا۔

اپنے پاس موجود ہارڈ ڈرائیو کو لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کرکے خان نے دی سنیک آرگنائزیشن کی ساری انفارمیشن دیکھنا شروع کی تھی۔

شیر خان کی معلومات نکالتے اس نے تفصیل سے فائل پڑھنا شروع کی تھی۔اس فائل میں شیر خان نے جن لوگوں کا قتل کیا ان سب کی ڈٹیل موجود تھی۔خان پرسوچ نگاہوں سے لیپ ٹاپ کو دیکھتا طنزیہ مسکرایا تھا۔

تمھارے بربادی کے دن شروع ہونے والے ہیں شیر خان۔پیچھے کی طرف صوفے پر سر ٹکاتے وہ آنکھیں موند گیا تھا۔

زرش۔۔میری کمر پر دوائی لگا دو تکلیف ہو رہی ہے۔۔زمل جو دوسری طرف رخ موڑے لیٹی خان کو زرش سمجھ رہی تھی دھیمی آواز میں بولی۔

خان نے کچھ بولنا چاہا پھر خود کو روکتا وہ آرام سے بیڈ کی جانب بڑھا تھا سائیڈ ٹیبل پر پڑا دوائیوں کا شاپر اٹھاتے اس نے کمر پر لگانے والی آنٹمینٹ نکالی تھی۔

زمل کی شرٹ کی طرف بڑھتا ہاتھ اس کا بار بار پیچھے ہٹ رہا تھا۔آخر کار ہچکچاتے ہوئے اس نے زمل کی شرٹ کمر سے اوپر کی طرف کھسکائی تھی۔

کمر پر بیلٹ کے پرپل اور سرخ نشان دیکھتے خان نے لب بھینچتے آہستہ سے اپنی سرد انگلی اس کے ایک نشانہ پر پھری۔

زمل بے ساختہ سسک اٹھی تھی۔خان نے سختی سے ہونٹ آپس میں پیوست کرتے اس کی کمر پر احتیاط سے آنٹمنٹ لگانا شروع کی تھی۔

زرش تھوڑی نرمی سے لگاؤ۔۔ہونٹ دبا کر اپنی سسکی روکتے زمل نے کانپتی آواز میں کہا۔خان نے نرمی سے آنٹمنٹ اس کے سارے زخموں پر لگا دی تھی۔

آج تم بہت چپ چپ ہو ززش خیریت ہے ؟ زمل نے مسکاتے لہجے میں اپنے زخموں میں اٹھتی تکلیف سے دھیان ہٹانا چاہا تھا۔

کوئی جواب نہ پاکر زمل ہلکا سا پیچھے مڑی تھی۔خان کو کھڑا دیکھ کر شرمندگی سے زمل کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔

آ۔۔آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ اس نے لب کاٹتے ہوئے پوچھا۔

زرش یزدان کے ساتھ ہے اس لیے اس کی جگہ آج میں یہاں رک رہا ہوں۔۔خان سپاٹ نظروں سے زمل کو دیکھتا واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔

مجھے آپ کی ضرورت نہیں جائیں یہاں سے۔۔زمل بےرخی سے بولی۔

مجھے یہاں رکنے کے لیے تمھاری اجازت کی ضرورت نہیں۔۔اس لیے خاموش رہو یا پھر سو جاؤ۔۔لیپ ٹاپ پر عبیر ملک کی فائل کھولتے خان نے سرد مہری سے کہا۔زمل منہ بناتی دوسری طرف رخ موڑ کر لیٹ گئی تھی۔

عبیر ملک سے خان کی شروع سے ہی نہیں بنتی تھی۔وہ اس کے انڈر کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔مگر مجبوری کے باعث وہ خان سے کبھی کبھار رابطہ کرتا تھا وہ بھی صرف کام کے سلسلے میں۔۔پچھلے پانچ سالوں سے زیادہ تر وہ اٹلی میں ہی رہ رہا تھا۔

زمل کو کچھ دیر بعد ہی پیاس لگ گئی تھی۔وہ خان کو بولانا نہیں چاہتی تھی مگر سوکھے حلق میں اسے کانٹے چبھتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔

خان۔۔خان نے اپنے نام کی پکار پر لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اس کے وجود پر مرکوز کر لیں تھیں۔

ہمم۔۔۔۔

مجھے پانی پینا ہے۔۔وہ بے بس لہجے میں بولی۔۔خان خاموشی سے اٹھ کر اس کے پاس گیا تھا۔گلاس میں پانی ڈالتے اس نے زمل کو سہارا دے کر اٹھاتے گلاس اس کے لبوں سے لگایا تھا۔

شکریہ۔۔پانی پینے کے بعد وہ دھیمے لہجے میں بولی۔خان نے نرم گرم نگاہوں سے اسے دیکھتے اچانک اس کے چہرے پر جھکتے ہلکا سا اس کا ماتھا چوما تھا۔زمل اس کی حرکت پر حیران رہ گئی تھی۔حیران تو خان بھی اپنی اس حرکت پر ہوگیا تھا۔

اسے واپس لٹاتے خان تیزی سے اپنی جگہ واپس آکر بیٹھ گیا تھا۔زمل بھی آنکھیں جھپکاتی ہلکی سی مسکان کے ساتھ آنکھیں بند کر گئی تھی۔

*****************

کمرے میں داخل ہوتے تازہ پھولوں کی خوشبو نے زرش کا استقبال کیا تھا۔زرش منہ کھولے سجے ہوئے کمرے کو دیکھنے لگی تھی۔سرخ گلابوں سے دروازے سے بیڈ تک کا راستہ بنایا گیا تھا۔چھوٹی چھوٹی گولڈن لائٹس کمرے کے منظر کو خواب ناک بنا رہے تھے۔کنگ سائز بیڈ پر بچھی سرخ چادر انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔

یزدان کے ارادے سمجھتی اس کی ہتھلیاں بھیگنے لگی تھیں۔وہ گھبراتے ہوئے واپس مڑنے لگی تھی جب دروازے میں کھڑے یزدان نے اس کے ارادے جان کر دروازہ بند کیا تھا۔وہ دروازہ سے ٹیک لگائے سینے پر بازو باندھے کھڑا ہو گیا تھا۔

زرش نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔واشروم میں تمھارے لیے ڈریس موجود ہے جاؤ چینج کرکے آؤ۔۔چہرے پر سنجیدگی سجائے یزدان زرش پر نظریں ٹکائے کھڑا تھا جو اپنی نم ہتھیلیاں بار بار اپنی شرٹ سے صاف کر رہی تھی۔

یہ سب کیا ہے یزدان ؟ وہ اپنے خشک ہوتے ہونٹ تر کرنے لگی۔یزدان کی نظر اس کے گلابی ہونٹوں پر آٹھہری تھی۔جنھیں اب دانتوں کے نیچے لیے زرش کاٹنے میں مصروف تھی۔

ہماری گولڈن نائٹ کی تیاریاں۔وہ بے شرمی سے مسکراتے ہوئے بولا زرش کا دل رک سا گیا تھا۔

جلدی چینج کرکے آو۔۔تیزی سے زرش کے قریب آتے یزدان نے اسے واشروم کی طرف دھکیلا۔۔وہ گم صم سی واشروم میں چلی گئی تھی۔

فریش ہوکر ڈریس چینج کرتے اس نے کاؤنٹر کے قریب پڑے میک اپ کو حیرت سے دیکھا۔پھر سرخ لپ اسٹک اٹھاتے اپنے ہونٹوں پر لگائی تھی۔کاجل اٹھا کر اپنی آنکھوں میں لگاتے اس نے اپنا چہرہ غور سے آئینے میں دیکھا۔وہ خود کو دیکھتی ہلکا سا مسکرائی گھبراہٹ سے ماتھے پر جمع ہوتا پسینہ اس نے فورا صاف کیا تھا۔

زرش جلدی آجاؤ۔۔۔یزدان کی بات سنتی وہ گہرا سانس لیتی دروازے کی جانب بڑھ گئی تھی۔آہستہ سے دروازہ کھولتے وہ باہر نکلی تھی جہاں بیڈ پر تکیے سے ٹیک لگائے کچھ بیٹھنے اور کچھ لیٹنے کے انداز میں یزدان اس کا منتظر تھا۔

ہائے اللہ جی ! اپنی تیز دھڑکن محسوس کرتے اس نے اپنی پلکیں جھکا لی تھی۔یزدان کی نظروں کو وہ بخوبی محسوس کر رہی تھی۔۔

سرخ پاؤں تک فراک پہنے جس کے بازو اور گلے پر گولڈن موتیوں کا نفیس سا کام ہوا تھا۔جبکہ فراک کے نیچے بھی تین چار مختلف ڈیزائن کے بارڈز موتیوں اور پیچز سے بنے ہوئے تھے۔ساتھ بال کھلے چھوڑے ریڈ لپ اسٹک اور کاجل کے ساتھ وہ یزدان کو ساکت کر گئ تھی۔یہ پہلی بار تھا جو اس نے زرش کو اتنا تیار ہوا دیکھا تھا۔

یزدان بیڈ سے اٹھا تھا۔سفید کرتے کے سلیوز موڑے وہ رف سے حولیے میں تھا۔

میری خواہش تھی تمھیں سرخ جوڑے میں دیکھنے کی۔۔یزدان نے اس کے قریب آتے جھک کر زرش کی نظروں میں دیکھ کر کہا۔

زرش کی پلکیں لرزیں۔اس نے آنکھیں اٹھا کر یزدان کو دیکھنے کی جرت نہیں کی۔۔یزدان نے اپنے ہاتھ سے اس کا گال سہلایا تھا۔زرش کی رنگت میں گھلتی سرخیاں اسے مدہوش کر رہی تھیں۔

ٹھوڑی سے پکڑ کر یزدان نے زرش کا چہرہ اوپر کرتے اس کے ہونٹوں کو شدت سے اپنی گرفت میں لیا تھا۔اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھاتے وہ زرش کی سانسیں مقید کر گیا تھا۔

زرش نے فراک کو مٹھیوں میں زور سے بھینچ لیا تھا۔اس کو لبوں کو آزاد کرتے یزدان نے اس کے بھیگے ہونٹوں کو انگھوٹھے سے سہلایا۔۔شرم و حیا سے سمٹتی زرش اپنی نظریں جھکائے کھڑی یزدان کو مزید اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی۔۔

اس کو کمر سے تھامتے یزدان نے اس کا رخ موڑتے اس کی کمر اپنے سینے سے لگاتے اس کی ٹھوڑی پر اپنا چہرہ ٹکایا۔۔

میں کہوں تو بس وہ سُنا کرے

‏میری فرصتیں میرے مشغلے

‏سب ہی اپنے __ نام کیا کرے

‏کوئی بات ہو کسی شام کی

‏جو سنانے بیٹھوں اُسے کبھی

‏وہ سُنے تو سُن کے ہنسا کرے

‏جو میں کہوں چلو اُس نگر

‏جہاں جگنوؤں کا ہجوم ہو

‏وہ پلٹ کے دیکھے میری طرف

‏اور مجھکو پاگل کہا کرے

بس میرے ساتھ چلا کرے

I am blessed to have you in my life love ❤

زرش کے کان پر ہونٹ رکھے یزدان نے بہکے لہجے میں الفاظ امرت کی طرح اس کے اندر اتارے تھے۔زرش کا رواں رواں سماعت بنا یزدان کو سن رہا تھا۔

زرش کی گردن سے بال ہٹاتے یزدان نے اپنا لمس اس کی گردن پر چھوڑا تھا۔اس نے زرش کا ہاتھ اپنے گرد بندھے یزدان کے ہاتھ پر گیا تھا۔

یزدان۔۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔وہ خشک حلق تر کرنے کی کوشش کرتی منمنائی۔زرش کی گردن پر رقص کرتے اس کے ہونٹ تھمے وہ مسکرایا۔اس کی گردن کو چومتے اس نے تیزی سے گھوماتے زرش کو اپنی جانب موڑا۔۔

زرش کے کپکپاتے ہونٹوں ، لرزتی پلکوں اور سرخی گھلے گالوں کو دیکھتے یزدان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔

زرش کو بازو سے پکڑ کر اچانک اس نے گول گول گھمایا۔زرش نے حیرت سے اپنی پلکوں کی جھالر اٹھا کر یزدان کو دیکھا جو اسی پل کا انتظار کر رہا تھا۔

زرش کے بازو اپنی گردن میں ڈالتے اس نے ایک بار پھر اس کے سرخ نرم و ملائم ہونٹوں کو اپنی ہونٹوں سے الجھایا تھا۔زرش کی گرفت یزدان کی گردن پر سخت ہوئی تھی۔

تمھاری یہ ادائیں میری جان لے لیں گی۔۔اس کے ہونٹوں کو آزاد کرتے اس کے گال پر اپنے لب جماتے یزدان سرگوشی میں بولا۔اس کا نازک سراپا یزدان کے ہوش و حواس گم کر رہا تھا۔

انگلی سے اس نے زرش کے ماتھے سے گردن تک لکیر کھینچی تھی۔زرش نے نچلا لب سختی سے ہونٹوں میں دبایا تھا۔اس کی قربت سے زرش کا سانس خشک ہو رہا تھا۔

یزدان نے اسے جھک کر باہوں میں اٹھایا تھا۔آنے والے لمحات کا سوچتی زرش اس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔دونوں نے باقاعدہ اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔محبت کے پھولوں کی مہک ہر سو پھیلنے لگی تھی۔

****************

زرتاشہ ماہم کے نہ آنے پر آج اکیلی ہی یونیورسٹی میں سارے لیکچرز لے رہی تھی۔ماہم کے ساتھ اسے وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا تھا۔چونکہ وہ ہر وقت بولتی رہتی تھی۔

زرتاشہ آج جلدی گھر جانا چاہتی تھی۔تبھی اس نے جلدی ڈرائیور کو لینے آنے کے لیے بول دیا تھا۔

آج بارش کا موسم تھا۔ہلکی پھلکی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی۔زرتاشہ نے آسمان کی جانب ساکت نظروں سے دیکھا تھا۔بارش و طوفان اسے بالکل نہیں پسند تھے۔

ڈرائیور کے آنے پر وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔

آپ کہاں لے کر جا رہے ہیں ؟ زرتاشہ نے مختلف راستے پر گاڑی جاتے دیکھ کر پریشانی سے پوچھا

بی بی جی۔۔میڈم نے کچھ سامان منگوانا ہے۔۔ڈرائیور کے بتانے پر اس نے سر ہلایا تھا۔

سیٹ سے سر ٹکائے اس کی نظریں سڑک پر ہی تھیں۔۔سپر مارکیٹ کے قریب گاڑی پارک کرتے ڈرائیور اندر چلا گیا تھا۔

زرتاشہ گاڑی میں ہی بیٹھی تھی۔ونڈوں کا شیشہ نیچے کیے وہ اب بھی باہر دیکھ رہی تھی۔جب برابر والے جگہ پر ایک اور کار پارک ہوئی تھی۔

ہونٹوں میں سگریٹ دبا کر گاڑی سے باہر نکلتے زمان کی نظر اچانک ہی زرتاشہ پر پڑی تھی جو آنکھیں پھیلائے اسے گھور رہی تھی۔

نیوی بلیو شرٹ اور جینز پہنے بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے ہونٹوں میں سگریٹ دبائے زرتاشہ کو وہ ولن لگ رہا تھا۔۔

زمان نے آنکھیں چھوٹی کرکے گھورا زرتاشہ نے کانپتے ہاتھوں سے ونڈو کا شیشہ اوپر چڑھانا شروع کیا تھا۔مگر اس سے پہلے ہی اس کے قریب آتے زمان ونڈوں پر بازو رکھے اندر زرتاشہ کی طرف جھکا۔۔اپنے ہونٹوں سے سگریٹ نکالتے اس نے سارا دھواں زرتاشہ کے منہ پر چھوڑا تھا۔

گلابی شلوار قمیض کے ساتھ سفید چادر اوڑھے وہ معصوم چڑیا لگ رہی تھی۔جس کا زمان کو دیکھ کر سانس اٹک گیا ہو۔۔

زرتاشہ نے کھانستے ہوئے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنی چاہی۔زمان نے اس کا منہ دبوچ کر اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔

جہاں میں جاتا ہوں وہاں تمھارا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے؟ اپنے ہاتھ کی گرفت زرتاشہ کے منہ پر مضبوط کرتے اس نے سرد لہجے میں پوچھا۔زرتاشہ کی نظروں میں موجود خوف اسے ایک عجیب سا سرور بخش رہا تھا۔

زرتاشہ کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو کر رہا تھا۔خوف سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی تھی۔

جواب دو مجھے۔۔اس کا چہرہ اپنے برابر کرتے زمان ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولتا زرتاشہ کو کانپنے پر مجبور کر گیا تھا۔

آئی ایم سوری۔۔وہ آنکھوں میں جمع ہوتے آنسوؤں کو گال پر بہنے سے روکتی سہمی آواز میں بولی۔۔اپنے ہاتھ میں پکڑی سگریٹ سے ایک اور کش لیتے زمان نے دوبارہ اس کے منہ پر دھواں چھوڑا تھا۔

زرتاشہ کو کھانستے ہوئے کچھ تاریک یادیں اپنے سامنے رونما ہوتی نظر آئی تھیں۔۔

جتنا ہوسکے میری بہن سے دور رہو۔۔اور جہاں مجھے دیکھو اپنا راستہ بدل لیا کرو۔۔دوبارہ تمھیں میں نے ماہم کے ساتھ دیکھا تمھارا جو حشر کروں گا وہ تم کبھی نہیں بھولو گی۔۔اس کا چہرہ جھٹکے سے چھوڑتے زمان سگریٹ زمین پر پھینکتا اپنی جینز کی پاکیٹس میں ہاتھ ڈالے سپر مارکیٹ کی طرف بڑھ گیا تھا۔

اس کے جاتے ہی زرتاشہ نے تیزی سے شیشہ اوپر کیا تھا۔گہرے گہرے سانس لیتی وہ اپنے کانوں میں گونچتی دھڑکنوں کو اعتدال پر لا رہی تھی۔

********************

خان کے حکم کے مطابق یزدان صبح صبح ہی زرش کے اٹھنے سے پہلے نکل گیا تھا۔اس نے اپنا سامان بھی پیک کرنا تھا جو ان کے وئیر ہاؤس میں تھا۔اس نے ساری رات زرش کو سونے نہیں دیا تھا۔اس لیے اب وہ اسے اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔۔زرش کا ماتھا چومتے وہ ایک میسج پیپر پر اس کے لیے لکھ کر چلا گیا تھا۔

اپنی کچھ گنز اور کپڑے رکھتا وہ اپنے چیزیں مکمل کرتا گاڑی میں بیٹھا تھا۔ایک گن ڈیش بورڈ میں رکھتے اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔

وہ کچھ ہی گھنٹوں میں پشاور میں داخل ہوچکا تھا۔وہ پشاور میں موجود اپنی رہائش گاہ کی طرف جارہا تھا جب شیر خان کے آدمیوں نے اس کا راستہ روکا۔اپنی گن نکالتے اس نے ان لوگوں کی طرف دیکھا۔

ایک آدمی ہاتھ اوپر اٹھاتا اس کے قریب آیا تھا۔

شیر خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔اس نے شیر خان کا پیغام دیا۔

کیوں ؟ یزدان نے اس کو دیکھتے پوچھا۔

مجھے علم نہیں۔۔آدمی کے بتانے پر یزدان نے ان کے ساتھ چلنے کا سوچا۔

وہ لوگ یزدان کے ساتھ شیر خان کے گھر پہنچے تھا جہاں وہ یزدان کا ہی انتظار کر رہا تھا۔

آؤ یزدان تمھارا ہی انتظار ہو رہا تھا۔یزدان کا کندھا تھپتھپاتے شیر خان نے اسے اپنے روبرو بٹھایا تھا۔یزدان سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔شیر خان اسے مارنا نہیں چاہتا تھا یہ تو یزدان جان چکا تھا۔

تمھیں مجھ سے کیا کام ہے ؟ شیر خان اس کی بےصبری پر مسکرایا۔

تم جانتے ہو خان میں اب وہ دم نہیں رہا جو پہلے تھا۔۔میں اسے اس کے عہدے سے ہٹانا چاہتا ہوں اور یہ اتنا آسان نہیں مجھے تمھاری ضرورت ہے اس میں۔۔شیر خان کی نظریں یزدان پر ہی تھیں۔

اس سے مجھے کیا فائدہ ملے گا۔۔یزدان نے ائبرو اچکاتے پوچھا۔

ہاہاہاہا۔۔تمھیں خان کی جگہ اس کا رتبہ اور یہ ساری پاورز ملیں گی جو خان کی ہیں۔۔کب تک تم اس کے نیچے نوکروں کی طرف کام کرتے رہو گے کچھ اپنا بھی سوچو۔۔۔ضرورت پڑنے پر خان تمھیں مارنے سے گریز نہیں کرے گا اس سے اچھا ہے تم پہلے ہی اسے ختم کردو اس سب میں میں تمھارا بھرپور ساتھ دوں گا۔۔۔شیر خان کی باتوں پر وہ سوچ میں پڑ گیا تھا۔یہ سچ تھا اب وہ مزید خان کے نیچے رہ کر کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔

مجھے سودا منظور ہے۔۔یزدان نے رضامندی دی تھی۔شیر خان نے خوش ہوتے اسے گلے سے لگا کر اس کا کندھا تھپتھپایا تھا۔یزدان نے بھی مسکرا کر شیر خان کو دیکھا تھا۔شیر خان نے اپنی چال چل دی تھی۔جس کا اہم مہرہ یزدان بننے والا تھا۔اب خان اس سے کیسے بچے گا یہ آنے والا کل ہی جانتا تھا۔۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *