Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 25)

My Girl by Zanoor

خان بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا زمل کو دیکھ رہا تھا۔وہ پرسکون سی اس کے ساتھ لگی لیٹی ہوئی تھی۔سائیڈ ٹیبل کے دراز سے سگریٹ نکالتے اس نے سلگاتے ہوئے عنابی لبوں میں دبائی۔

سگریٹ کے کش لیتا وہ زمل کے نرم گالوں کو انگلیوں سے سہلانے لگا تھا۔سگریٹ کی ناگوار بو سے زمل کی آنکھ کھلی تھی۔خان کو دیکھ کر وہ شرماتی گھبراتی چادر میں منہ چھپا گئی تھی۔

خان اس کے شرمانے پر ہلکا سا مسکرایا۔سگریٹ ایش ٹرے میں پھینک کر اس نے جھٹکے سے چادر زمل کے اوپر سے ہٹائی تھی۔

زمل گڑبڑا گئی تھی۔

خان یہ کیا کررہے ہیں آپ؟ وہ خان کو دوبارہ خود پر جھکتا محسوس کرتی دبی آواز میں آنکھیں پھیلائے پوچھنے لگی تھی۔

ابھی تو وہ اس کی رات کے قربت کے نشے سے نہ نکلی تھی کہ وہ دشمن جان دوبارہ اوپر حاوی ہونے کی کوشش کرنے لگا تھا۔

خان کی گرم سرسراتی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرکے وہ آنکھیں سختی سے میچ گئی تھی۔

خان اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر مسکراتا اس کا سر چوم کر تھوڑا سا پیچھے ہٹا تھا البتہ ابھی تک وہ زمل کے اوپر جھکا ہوا تھا۔

اس کی کانپتی پلکوں کا رقص دیکھتے زرخان نے اسے تنگ کرنے کا سوچتے اپنی انگلی سے اس کے ماتھے سے بیوٹی بون تک ایک لکیر کھینچی تھی۔

زمل سانس روکے خان کے ردِ عمل کی منتظر تھی جس نے ہولے سے اس کے چہرے پر پھونک مارتے زمل کی سانسیں خشک کردی تھیں۔

زمل کے گلنار گالوں کو اپنے لبوں سے چھوتے خان نے اس کے بالوں پر بھی ایک بار پھر لب رکھے تھے۔اس کی جان بخشتا وہ دور ہوا تھا۔

زمل نے اپنا سانس بحال کرتے ایک آنکھیں ہلکی سی کھول کر خان کو دیکھا تھا اسے اپنی طرف دیکھتے وہ گڑبڑا کر دوبارہ آنکھیں بند کرگئی تھی۔

کمرے کی فضا میں خان کا قہقہہ گونجا تھا۔زمل نے فورا آنکھیں کھولتے خان کو ہنستے دیکھا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے بالکل کئیر فری لگ رہا تھا۔

آج پیکنگ کر لینا زمل ہم دونوں آج شام پشاور جا رہے ہیں۔۔خان نے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا۔

پشاور کیوں جارہے ہیں ؟ زمل نے کچھ حیرت سے اسفسار کیا تھا۔

مجھے ایک ضروری کام ہے پشاور میں اور تمھیں یہاں کسی کے سہارے چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔۔کیونکہ مجھے کسی پر بھی بھروسہ ہے یہاں کب شکاری خود شکار بن جائے خبر بھی نہیں ہوتی۔۔خان نے اسے ساتھ لے جانے کی وجہ بتائی۔

میں آپ کے ساتھ ہی چلوں گی خان۔۔زمل نے اس کے بیڈ پر پڑے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔خان پرسوچ سا اس کا جواب سن کر اپنا سر ہلا گیا تھا۔

*****************

شیر خان میں مزید انتظار نہیں کر سکتا زرتاشہ کو تم نے مجھے دیا تھا جس کے عوض تمھیں میں نے اپنی جگہ دی تھی۔اب تمھاری وہ بیٹی بھاگ گئی ہے تو مجھے اپنا عہدہ واپس چاہیے۔۔یہ آرگنائزیشن میں نے بنائی ہے اور اس کا حق دار بھی میں ہوں شرافت سے یہ جگہ چھوڑ دو شیر خان ورنہ دوسری صورت جو نتیجہ نکلے گا وہ تمھیں پسند نہیں آئے گا۔۔

اسفند خان کی دھمکی نے شیر خان کو طیش دلا دی تھی۔سگار بھجاتے اس نے اسفند کو غصیلی نظروں سے دیکھا۔

میں اسے تمھارے حوالے کر چکا تھا یہ تمھاری ذمہداری تھی مگر چچچ۔۔افسوس تم ایک لڑکی تک کو نہ سنبھال سکے۔۔شیر خان کی باتوں نے مقابل بیٹھے اسفند خان کو آگ لگا دی تھی۔

مجھے دوبارہ دھمکی مت دینا ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کرکے ایسی جگہ پھینکواوں گا ساری زندگی یاد رکھو گے۔۔۔اس کی دھمکی سے اسفند خان کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا تھا۔

میں تمھاری یہ باتیں بھولوں گا نہیں شیر خان اور تمھارے ٹکڑے ٹکڑے کرکے میں خود کتوں کو کھلاوں گا۔۔اسفند خان کی دھمکی سے آگ بگولہ ہوتے شیر خان نے اپنی گن نکالتے اسفند کے سر کا نشانہ باندھا تھا۔

دوبارہ میرے سامنے اپنا گندگی سے بھرا منہ کھولنے سے پہلے سوچ لینا۔۔اس کی ٹانگ کا نشانہ باندھتے شیر خان نے گن چلائی تھی۔

بلٹ اس کی ٹانگ کو چیرتی زخمی کرگئی تھی۔اسفند خان درد سے بلبلاتا اپنی ٹانگ پکڑتا زمین پر گر چکا تھا۔

ایک مہینے بعد آرگنائزیشن کے نئے چئرمین کا انتخاب ہونے والا ہے اگر وہ پوزیشن حاصل کرنا چاہتے ہو تو میدان میں اتر آنا اب یہاں سے دفع ہوجاو۔۔اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا وہ اسے باہر پھینکوا چکا تھا۔

خان لالہ ان اسفند خان اور شیر خان کے درمیان لڑائی ہوگئی ہے اب آپ آسانی سے دونوں کو مار سکتے ہیں۔۔پندرہ سالہ احتشام خان شیر خان کی جاسوسی کرتا خان کو خبر کر چکا تھا۔

اوکے ٹھیک ہے شام اب تم اپنا کام کرو تمھیں اب جاسوسی کرنے کی ضرورت نہیں میں خود پشاور آرہا ہوں۔۔۔خان نے اسے اپنی آمد کی خبر دی تھی۔

مجھ سے ملنے آئیں گے لالہ۔۔احتشام نے ایک آس سے پوچھا۔

ٹائم ملا پھر شاید تم سے مل پاوں اب خاموشی سے جاکر اپنا کام کرو۔۔۔خان کے تحکم بھرے انداز میں بولنے پر احتشام جلدی سے فون بند کرتا اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا تھا۔وہ یہاں شیر خان کے پاس کام کرتا تھا۔لیکن سب چیزوں کی خبر خان کو اب دینے لگا تھا۔

*************

کہاں سے آرہے ہیں یزدان ؟ زرش یزدان کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھتی اونچی آواز میں بولی تھی۔

وہ ایک ہفتے سے نوٹ کر رہی تھی کہ یزدان اس سے کتراتا پھر رہا ہے وجہ کیا ہے ؟ وہ نہیں جانتی تھی۔اور ہر روز رات اس کا گھر لیٹ آنا زرش کو چڑچڑا کر گیا تھا۔آج وہ شام سے ہی لاونچ میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔اب اس کو دیکھتے ہی فورا پوچھ بیٹھی تھی۔

جوب سے واپس آرہا ہوں اور کہاں سے آنا تھا میں نے زرش ؟ یزدان نے سرد آواز میں غراتے ہوئے پوچھا۔زرش نے اس سے ڈرتے دو قدم پیچھے لیے تھے۔

یہ کوئی جواب نہیں ہے ہر روز لیٹ گھر آتے ہیں میری طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتے مجھے اگنور کرتے ہیں۔۔میں یہ سب برداشت نہیں کرسکتی یزدان۔۔وہ نم آواز میں بولی تھی۔

یزدان نے اس کے قریب جاتے کمر سے تھام کر اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔

آئی ایم سوری زما زڑگیہ آج کل کام کا بہت زیادہ پریشر ہے اور پھر نئے لوگوں کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں ہے۔۔یزدان نے پیار سے اسے بتایا۔۔

زرش نے اس کے سینے سے سر اٹھا کر دیکھا تھا وہ کچھ بولنے والی تھی جب یزدان کے کالر پر نظر پڑتے الفاظ اس کے حلق میں دم توڑ گئے تھے۔۔

خون کا ایک دھبہ اس کی شرٹ پر واضح دکھائی دے رہا تھا۔یزدان نے اس کی نظروں کے تعاقب میں اپنی شرٹ دیکھتے ہی جبڑے بھینچ لیے تھے۔۔

دور ہٹیں مجھ سے۔۔یہاں آکر بھی آپ نے لوگوں کو مارنے کا کام شروع کر دیا ہے۔۔وہ مچل کر یزدان کی گرفت سے نکلتی پیچھے کی طرف قدم اٹھاتی چیخ کر بولی تھی۔۔

زرش مجھے ایکسپلین کرنے کا موقع دو۔۔۔ یزدان التجائیہ بولا۔

مجھے کچھ نہیں سننا یزدان آپ کو میری پرواہ ہی نہیں ہےآپ کو جو کرنا ہے کریں مجھے اب فرق نہیں پڑے گا۔۔وہ تھک چکی تھی اسے سمجھا کر صحیح راہ دکھلاتے ہوئے۔۔

وہ لوگ مجھے مارنے آئے تھے اگر میں انھیں نہ مارتا وہ مجھے مار دیتے۔۔تمھیں کبھی خبر بھی نہ ہوتی مجھے قتل کر دیا گیا ہے۔ اور تمھیں کتنی بار سمجھاوں جن لوگوں کو میں مارتا ہوں وہ گنہگار ہوتے ہیں معصوم لوگوں کو نوچتے ہیں اسی لیے ان کو مارتے ہوئے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔

یزدان زرش کے قریب آتا اس کے بازو تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔زرش نے اپنے حلق میں اٹکے آنسووں کے گولے کو بمشکل بند توڑنے سے روکا تھا۔

کیا ہم یہاں بھی محفوظ نہیں ہے یزدان ؟ وہ نم آواز میں یزدان کے سینے پر سر ٹکاتے پوچھنے لگی تھی۔آخر کب جان چھوٹے گی ان کی اس سب سے۔۔

ہم یہاں مکمل طور پر محفوظ ہیں تم فکر مت کرو اس بار میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔یزدان نے اس کی کمر کے گرد بازو باندھتے محبت سے کہا تھا۔زرش نے اس کی شرٹ کو مٹھی میں دبوچتے اس کے سینے پر لب رکھے تھے۔

مجھے دوبارہ اگنور مت کیجیے گا یزدان مجھ سے آپ کی بےرخی برداشت نہیں ہوتی۔۔۔زرش شکوہ کرتی بولی تھی۔

اب دوبارہ ایسا نہیں کروں گا زما زڑگیہ۔۔۔یزدان نے اس کے گرد حصار مزید تنگ کیا تھا۔زرش نے سکون کا سانس لیا تھا۔

*****************

زرتاشہ اٹھو یونیورسٹی نہیں جانا کیا ؟ اپنے کمرے کے دروازے پر ہوتی مسلسل دستک سے زرتاشہ کی آنکھیں پٹ سے کھلی تھی۔اس کی سب سے پہلی نگاہ اپنے گرد حصار باندھ کر دیکھتے زمان پر پڑی تھی۔زرتاشہ دروازے کی جانب دیکھتی مہناز بیگم کی آواز سنتی گھبرا گئی تھی۔

زرتاشہ۔۔۔زرتاشہ۔۔زمان سے خود کو چھڑوانے کی کوشش میں نڈھال ہوتی وہ ہانپتی ہوئی مہناز بیگم کو جواب دینے لگی تھی۔

مورے م۔۔میں اٹھ گئی ہوں۔۔۔زمان کا لمس اپنے کندھے پر محسوس کرتے وہ لڑکھڑاتی زبان میں بولی تھی۔زمان اسے گھبراتا دیکھ کر مسکراتا ہوا اس کی صاف شفاف چمکتی گردن پر اپنی ناک پھیرتا اس کے وجود کی خوشبو خود میں بسانے لگا تھا۔زرتاشہ کی دھڑکنیں بےقابو ہونے لگی تھی۔۔اس کی ہتھیلیوں میں نمی آنے لگی تھی۔

دروازہ تو کھولو۔۔مجھے بات کرنی ہے۔۔۔مہناز بیگم کے تحکم بھرے انداز پر زرتاشہ کا رنگ اڑ گیا تھا۔

مورے ابھی میں لیٹی ہوئی ک۔۔کچھ دیر میں آپ سے نیچے آکر ملتی ہوں۔۔پلیز بس پانچ منٹ لیٹنے دیں۔۔زمان کی پوروں کو اپنی کمر پر حرکت کرتا محسوس کرکے وہ پسینے میں بھگتی منت بھرے انداز میں بولی تھی۔

زمان اس کی حالت سے خاصا محظوظ ہو رہا تھا۔تبھی مزید اسے چھیڑ رہا تھا۔

زرتاشہ نے زمان کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔

اچھا جلدی آجاو میں انتظار کر رہی ہوں۔۔مہناز بیگم بول کر چلی گئی تھیں۔زرتاشہ نے مہناز بیگم کے جاتے ہی سکھ کا سانس لیا تھا۔

زمان نے زرتاشہ کے بالوں کو نرمی سے اپنی گرفت میں لے کر ہلکا سا جھٹکا دیتے اس کی گردن مکمل اپنی طرف موڑی تھی۔زرتاشہ نے آنکھیں پھیلا کر زمان کو دیکھا جس نے محبت سے اس کے سر پر بوسہ دیا تھا۔

زمان آپ پلیز اب جائیں۔۔زرتاشہ گہرے سانس بھرتی اس کو مزید خود پر جھکتے دیکھ کر بولی تھی۔زمان اس کی حالت دیکھتا اپنے منہ زور جذبات پر قابو پاتا اس کے گلابی روئی جیسے گالوں کو شدت سے چومتا پیچھے ہٹا تھا۔

زرتاشہ نے اپنی رکی ہوئی سانسیں بحال کی تھیں۔اپنے ہاتھ میں موجود زمان کا ہاتھ چھوڑتے اس نے اپنت تپتے گالوں پر رکھا تھا۔

زرتاشہ زمان کا ہاتھ دوبارہ اپنی کمر پر محسوس کرتی پھرتی سے اٹھتی واشروم میں بھاگی تھی۔زمان کچھ دیر بیڈ سے ٹیک لگانے کے بعد بیڈ سے اٹھتا جس راستے سے آیا تھا وہاں سے واپس چلا گیا تھا۔

*****************

پشاور میں موجود اپنے اصلی گھر پہنچتے خان زمل کو چھوڑ کر کچھ دیر کے لیے باہر گیا تھا۔یہاں ہر طرف سخت سکیورٹی کا انتظام تھا۔گھر میں ملازمین بھی موجود تھے۔زمل بور ہوتی خود ہی فریش ہونے کے بعد اپنا اور خان کا سامان الماری میں رکھنے لگی تھی۔

کپڑے الماری میں رکھتی وہ دروازہ کھلنے کی آواز پر مسکاتی پیچھے مڑی تھی۔جب خون سے بھرے خان کو دیکھتے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔

خان اسے ایک نظر دیکھتا الماری سے اپنا سوٹ نکالتا فریش ہونے چلا گیا تھا۔زمل ساکت سی اپنی جگہ جمی کھڑی تھی جب خان فریش ہوکر واپس آیا تھا۔اسے ایک جگہ کھڑا دیکھ کر خان اپنے گیلے بالوں کو ہاتھوں سے جھٹکتا زمل کے قریب آیا تھا۔

میرے قریب مت آئیے گا خان۔۔۔وہ سرد آواز میں بولی تھی۔خان نے ایک سرد آہ خارج کی تھی۔

زمل اس بات پر ہماری پہلے بحث ہوچکی ہے میں تمھیں بتا چکا ہوں میں یہ کام نہیں چھوڑ سکتا۔۔خان سپاٹ انداز میں بولا تھا۔

کیا آپ چاہتے ہیں آپ کے بچے اس ماحول میں پرورش پائیں جہاں اس کا باپ ہر دوسرے دن لوگوں کے خون میں نہا کر واپس آتا ہے ؟ کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی بیٹی کو بھی کوئی زرش کی طرح کڈنیپ کرکے ماردے یا پھر میری طرح اس پر تشدد کرکے اسے جلا دیا جائے۔۔۔وہ اپنے بازو پر بنے جلے نشان کو دیکھتی تکلیف سے بولی تھی۔

اس کی باتوں سے خان کی رگیں تن گئی تھیں۔ وہ صحیح کہہ رہی تھی یقینا آج نہیں تو کل جلد اس کی بھی اولاد ہوجائے گی کیا پھر بھی وہ ایسا ہی کرے گا ؟

میں اس بارے میں سوچوں گا زمل۔۔۔خان اپنی آنکھیں بند کرکے کھولتا تنے ہوئے اعصابوں سے بولا تھا۔زمل اس کے قریب آئی تھی۔

خان کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اس نے نرمی سے سہلائے تھے۔خان کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگی تھی۔

آپ ایک قدم صحیح راستے کی طرف اٹھائیں الله پاک آپ کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا۔وہ بہت رحیم ہے۔اس کی طرف لوٹ آئیں۔آپ کی ہر منزل آسان ہوجائے گی۔۔زمل کی بات سے خان نے سر ہلایا تھا۔

میں ہر پل آپ کے ساتھ رہوں گی میں چاہتی ہوں آپ بھی ایک عام انسان کی طرح خوشحال زندگی میرے ساتھ گزاریں۔۔۔زمل نے اسے سمجھایا۔۔۔

خان نے اس کا جلے ہوئے بازو والا ہاتھ پکڑا تھا۔ اس کی شرٹ کو بازو سے کھسکاتے خان نے وہاں بنے نشان پر محبت سے اپنا لمس چھوڑا تھا۔

تمھاری جان کی حفاظت میری ذمہداری تھی اور میں اس میں بھی کامیاب نہ ہوسکا۔۔۔اس کے لہجے میں ملال تھا۔

یہ میری قسمت میں تھا آپ چاہ کر بھی مجھے بچا نہیں سکتے تھے۔۔۔وہ خان کے بالوں میں اپنا دوسرا ہاتھ پھیرتی بولی تھی۔

اس کا لمس زمل کو سکون بخش گیا تھا۔ خان نے دھیرے سے سر ہلایا تھا۔

میں آپ کا انتظار کر رہی تھی اب آپ آگئے ہیں تو کھانا کھاتے ہیں مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔زمل اس کا ہاتھ پکڑتی باہر لے گئی تھی۔

***************

شیر خان کو یہاں خان کے آنے کی خبر مل چکی تھی۔ وہ خان کو مروانے کے نئے طریقے ڈھونڈ رہا تھا۔

اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی بیوی اب اس کی کمزوری بن چکی ہے۔ اب وہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ یزدان کو ڈھونڈنے کے لیے بھی اس نے اپنے کتے چھوڑے ہوئے تھے۔

وہ خان کو ختم کرکے آرام سے ساری زندگی اس سیٹ پر بیٹھ کر راج کرنا چاہتا تھا۔

خان کے گھر کے گرد آدمیوں کو تعینات کردو۔۔شکار خود چل کر شیر کی کچھار میں آیا ہے۔۔۔موقع پاتے ہی اس کی بیوی کو اٹھا لینا۔۔اور اسفند خان پر نظر رکھو آج کل بڑا سر پر چڑھ رہا ہے۔۔۔سگار ہونٹوں میں لیے شیر خان نے اپنے آدمی سے کہا تھا۔

سرکار خان نے اپنے گھر بہت سخت سکیورٹی رکھی ہے کوئی اس کے گھر کے دس میل کے فاصلے تک بھی نہیں آ سکتا۔۔۔اس کے آدمی نے شیر خان کو بتایا۔

اس کی سکیورٹی کو خرید لو۔۔جتنے پیسے لگے مجھ سے لے لینا۔۔لیکن جلد سے جلد کام ہوجانا چاہیے۔وہ چئیر مین کے لیے ہونے والے انتخاب سے پہلے خان کو ختم کرنا چاہتا تھا۔

جیسا آپ کہیں سرکار۔۔۔شیر خان کا ملازم سر ہلاتا وہاں وے چکا گیا تھا۔ شیر خان کسی بھی حال میں خان کو مزید مضبوط نہیں ہونے دیناچاہتا تھا۔ اگر وہ ایک بار آرگنائزیشن کا چئیر مین بن جاتا پھر اس کے لیے شیر خان کی جگہ حاصل کرنا مشکل نہیں تھا اور اسی سے شیر خان ڈرتا تھا۔

اور یہی ڈر وہ خان کو قتل کروا کر ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے خان اس کی اولاد نہیں تھا بلکہ اولین دشمنوں میں سے ایک تھا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *