Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 01,02,03)

My Girl by Zanoor

گرمیوں کی دوپہر میں سورج سوا نیزے پر تھا گرم لو چل رہی تھی سڑکیں زیادہ تر سنسان تھی بس اکا دکا لوگ نظر آرہے تھے اس سڑک پر ایک لڑکی مکمل خود کو پردے میں چھپائے نقاب کیے نظریں زمین پر جھکائے چل رہی تھی

معمول کے مطابق ایک لڑکے نے بائک سے اس کا راستہ روکا تھا اس لڑکی نے اپنی ہیزل براؤن آنکھوں کو اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے لفنگے شاکر کو دیکھا تھا اس لڑکی کی آنکھوں میں ناگواریت صاف دکھائی دے رہی تھی مگر اس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتا خوف شاکر کی آنکھوں سے چھپا نہیں تھا وہ اسے دیکھتا مکروہ سا ہنسا تھا جیسے جانتا تھا اس کا نقاب کے پیچھے ریکشن کیا ہوگا

وہ لڑکی سائیڈ سے ہوکر گزرنے والی تھی جب شاکر دوبارہ اس کے سامنے آیا تھا

مولوی صاحب کیسے ہیں بلبل؟؟ میں نے سنا اج کل بستر سے ہی نہیں اٹھ پارہے ہیں ؟؟ اس نے طنزیہ زمل سے اس کے باپ کے بارے میں پوچھا

زمل نے نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالی تھی اور اب کی بار سائیڈ سے دوبارہ گزرنے پر جب شاکر نے اس کا راستہ روکا تو اس نے اپنے بیگ کو تیزی سے شاکر کے کندھے پر مارا تھا اور تیزی سے دوسری سائیڈ سے نکل کر وہ اپنے گھر بھاگی تھی

میری بلو رانی کو پیار دینا۔۔۔ وہ غلاظت سے اس کی بہن کا سوچتا بولا تھا

اپنے پیچھے سےشاکر کی شیطانی ہنسی سن کر اس کا دل حلق میں آگیا تھا گھر پہنچ کر اس نے تیز تیز دروازہ بجایا تھا

بجو کیا ہو گیا ؟؟ کوئی آپ کی بس تو نہیں چھوٹنے والی۔۔۔ اس کی چھوٹی بہن نے ہنستے ہوئے اس سے کہا تھا جس کے چہرے پر ہنسی کا شبہ تک نہ تھا

بجو۔۔۔۔ زمل نے اپنے سامنے کھڑی اپنی اٹھارہ سالہ بہن زرش کو دیکھا تھا اور دروازہ تیزی سے بند کرتے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا

ک۔۔۔کیا وہ پ۔۔۔۔پھر آیا تھا بجو ؟؟ زرش نے کپکپاتے لہجے میں پوچھا تھا

تم فکر مت کرو زرش میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ اس کی بے داغ پیشانی پر اپنا لمس چھوڑتی زمل اسے اپنے ساتھ لگائے اندر لے گئی تھی لیکن ان دونوں کو علم تھا کہ شاکر سے جان چھڑوانا اتنا آسان نہیں۔۔

ابا کیسے ہیں انھوں نے دوائی لی ؟؟ اپنا گاؤن اتار کر رکھتی زرش کے ہاتھوں سے پانی کا گلاس پکڑتی زمل نے پوچھا تھا

ہاں بجو وہ جماعت پڑھانے لے لیے مسجد گئے ہیں۔۔۔ زرش اس کا گاؤن پکڑتی کمرے کی طرف جاتی بولی تھی ان کا گھر چھوٹا تھا مگر صاف تھا جو تین کمروں پر مشتمل تھا ایک کمرے میں مولوی صاحب ان کے ابا رہتے تھے جبکہ اماں ان کی دو سال پہلے ہی بیماری سے وفات پا گئی تھیں دوسرے کمرے میں زرش اور زمل رہتی تھی جبکہ تیسرے کمرے کو ڈرائینگ روم کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ایک سایئڈ پر کیچن جبکہ ایک طرف ایک واشروم بنا تھا

اچھا میرے لیے کھانا لگا دو اور تم ٹینشن مت لینا۔۔۔ زمل اسے بولتی واشروم میں منہ ہاتھ دھونے چلی گئی تھی

*********

یہ کراچی کا ایک محلہ تھا جہاں مولوی صاحب اپنی بیٹیوں کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہے تھے مگر یہ سکون ایک مہینے پہلے تب برباد ہوا جب زرش کالج سے واپس آرہی تھی

وہ اپنی سہیلی آمنہ کے ساتھ باتیں کرتی واپس گھر جا رہی تھی جب سڑک کے بیچ و بیچ شاکر کو ایک بزرگ آدمی کو مارتے دیکھ کر زرش میں مدد کا جذبہ جاگا تھا اس کی دوست نے کافی منع کیا تھا مگر وہ ڈھیٹ بنی اپنی بازو آمنہ سے چھڑواتی اس طرف گئی تھی

زرش خدا کا واسطہ مت جاؤ۔۔۔ آمنہ نے اسے روکنے کی آخری کوشش کی تھی مگر وہ اسے نظر انداز کرکے لمبے لمبے ڈھگ بھرتی ان کے پاس جا چکی تھی ارد گرد ایک دو لوگ کھڑے تھے وی بھی شاکر کے ہی چیلے تھے

ارے چھوڑو انھیں جاہل انسان۔۔۔ وہ پھنکاری تھی باریک نسوانی آواز سن کر شاکر کے ہاتھ رکے تھے اس کی بے ساختہ نگاہ زرش کے چہرے پر پڑی تھی جو نقاب کیے اسے غصے سے بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی

شرم نہیں آتی تمھیں اپنے ابا کی عمر کے آدمی کو مارتے ہوئے۔۔۔ اس بزرگ آدمی کو زخمی دیکھ کر وہ غصے سے بولی تھی

ہائے بلو رانی تم پر اتنا غصہ سوٹ نہیں کرتا۔۔۔ وہ ایک بھرپور نگاہ اس کے وجود پر ڈالتا کمینگی سے ہنستا بولا تھا

اپنی بکواس بند کرو جاہل انسان ۔۔۔ اس کی نگاہو سے زرش کو بے ساختہ ڈر لگا تھا مگر ہمت جتاتی وہ پھر بولی تھی

ہاہاہا۔۔۔ بلو رانی کو گھر چھوڑ کر آ شیدے۔۔۔ اور پتا بھی کر کہاں رہتی ہے یہ۔۔۔ اس کی کالی گہری آنکھوں کو دیکھتے شاکر اپنے چیلے رشید سے بولا تھا وہ ایک ہی نظر میں جان گیا تھا کہ زرش کتنی حسین ہے

خبر دار جو اپنے ان آدمیوں کو میرے پیچھے بھیجا۔۔۔ وہ اس کی بات پر ڈر گئی تھی تبھی اسے بولتی تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی

مگر شاکر کے اشارے پر شیدا بھی اس کے پیچھے ہی گیا تھا آمنہ تو اسے اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئی تھی اب اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا کہ کیوں وہ دوسروں کے پھڈے میں پڑی زمل ہمیشہ اسے کہتی تھی زرش اپنے کام سے کام رکھا کرو مگر نہیں اسے تو شوق تھا خدمتِ خلق کا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ وہ شاکر کی نظروں میں آگئی تھی

زمل بی اے کر رہی تھی جبکہ زرش ایف اے میں تھی دونوں ایک ہی کالج میں جاتی تھیں مگر آج زمل اس کے ساتھ نہیں گئی تھی تبھی وہ کم عقل لڑکی پھنس گئی تھی

زرش کا رنگ صاف تھا جبکہ اس کے کالے کمر تک بال اور کالی ہی آنکھوں کے ساتھ باریک کٹاؤدار ہونٹ اور اس کا نازک سراپا اس کو بے حد پرکشش بناتے تھے جبکہ اس کے برعکس ہیزل براؤن آنکھوں والی زمل کی رنگت اس سے زیادہ صاف شفاف تھی اس کے ہلکے براؤن رنگ کے بال تھے جو کمر سے نیچے تک جاتے تھے زرش کے مقابلے میں زمل زیادہ بہادر تھی

زرش چونکہ اپنی ساری باتیں زمل کو بتاتی تھی اس وجہ سے پہلے اس نے شاکر والی بات زمل کو بتانے کا سوچا تھا مگر پتا نہیں کیا سوچ کر اس نے وہ بات زمل سے چھپا لی تھی

کیا ہوا ڈری ہوئی کیوں لگ رہی ہو ؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟؟وہ جب گھبرائی گھبرائی گھر داخل ہوئی تو زمل نے اس سے پوچھا تھا

ن۔۔۔نہ بجو وہ بس اج گرمی زیادہ ہے نہ اس وجہ سے وہ صفائی سے جھوٹ بول گئی تھی مگر یہ جھوٹ زیادہ دیر چھپا نہ رہ سکا

ایک دن بعد ہی شاکر اپنے تین آدمیوں کے ساتھ زرش کا رشتہ لینے مولوی صاحب کے پاس پہنچ گیا تھا جنھوں نے اس کا گنڈے والا حولیہ دیکھتے ہی انکار کر دیا تھا مگر وہ انھیں دھمکا کر چلا گیا تھا

مولوی صاحب یہ انکار آپ کی بیٹی پر بہت بھاری پڑے گا۔۔۔ وہ غصے سے بوکتا چلا گیا تھا

مولوی علیم الدین نے گھر آکر پیار سے زرش سے پوچھا تھا تب انھیں اور زمل کو اس کی بےوقوفی کا پتا چلا تھا زرش کے لیے علیم الدین ڈر گیا تھا تبھی انھوں نے اس کو کالج کی بجائے گھر سے پڑھنے کا حکم دیا تھا جس پر پہلے تو وہ مان ہی نہیں رہی تھی مگر معاملے کی نزاکت کا احساس اسے تب ہوا جب اگلے دن وہ زبردستی زمل کے ساتھ کالج کے لیے نکل گئی

کالج جاتے ہوئے تو اسے کوئی رکاوٹ نہ ہوئی مگر اصل مصیبت کا سامنا اسے تب کرنا پڑا جب وہ زمل کے ساتھ واپس آرہی تھی

میری بلو رانی آج اتنے دنوں بعد دیدار کروایا ہے یہ آنکھیں ترس گئی تھی اپنی بلو رانی کو دیکھنے کے لیے۔۔۔ شاکر بائک سے ان کا راستہ روکتا اترا تھا زمل نے بے ساختہ زرش کو اپنے پیچھے چھپایا تھا

ہاہاہا۔۔۔ میں شاید تمھیں پسند کر لیتا بلبل مگر اب میرا دل اپنی بلو رانی پر آگیا ہے۔۔۔ وہ خباثت سے زمل کو سر تا پا گھورتا بولا تھا زمل نے غصے سے اسے دیکھا تھا

تم جیسے گندے کیڑے مکوڑوں کی ایسی گندی سوچ سے میں اچھے سے واقف ہوں اور پولیس تم جیسے لوگوں کا جو حال کرتی ہے نہ پھر وہ فورا ہمیں باجی باجی بلاتے ہیں۔۔ وہ اسے باتوں ہی باتوں میں پولیس کی دھمکی دیتی زرش کو سائیڈ سے لے کر گزر گئی تھی

میری پیاری بلبل جس پولیس کی تو بات کر رہی نہ وہ ہمارے تلوے چاٹتی ہے اور بہت جلد اپنی بلو رانی کو میں لے جاؤں گا۔۔۔۔وہ اونچی آواز میں بولا تھا جبکہ زمل اور زرش کے قدموں میں تیزی آگئی تھی

بجو اب کیا ہوگا ؟؟ وہ شخص میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔۔۔ وہ روتی ہوئی زمل سے بولی تھی مگر زمل نے اسے تسلی دیتے اسے اب گھر سے نکلنے سے منع کر دیا تھا

مولوی علیم الدین اپنی بیٹیوں کی ٹینشن میں بیمار پڑ گئے تھے جس کی وجہ سے وہ اب کم ہی اٹھ پاتے تھے ان کے گھر بجے ٹیویشن پڑھنے آتے تھے جن سے ان کا گزارا ہو رہا تھا لیکن سب محلے والوں کو شاکر کا پتا چل گیا تھا جس کی وجہ سے اب ان کے گھر بجے بھی بہت کم پڑھنے اتے تھے

**************

دن بدن گرتی مولوی صاحب کی طبیعت سے زمل اور زرش کافی پریشان تھیں دوائیوں سے بھی کوئی افاقہ نہ ہو رہا تھا

زمل میرے بیٹی۔۔۔ مجھے لگتا ہے اب میری زندگی کا بھروسہ نہیں پتا نہیں یہ زیادہ مہلت دے یا نہ دے مگر میں تم لوگوں کو محفوظ ہاتھوں میں سونپنا چاہتا ہوں زرش کی مجھے بہت فکر ہے میں جانتا ہوں تم اس سے بڑی ہو لیکن میں نے زرش کے رشتے کی بات اپنے ایک شاگرد سے کی ہے وہ اس سے شادی کرکے یہاں سے لے جائے گا اور تم بھی لاہور اپنی پھوپھو ماجدہ کے پاس چلی جانا۔۔۔

ابا کیسی بات کر رہے ہیں زرش ابھی بہت چھوٹی ہے۔۔۔ ہم ایسا کرتے ہیں یہ گھر بیچ کر لاہور چلے جاتے ہیں۔۔۔ اس نے جھٹ سے مشورہ دیا تھا

زرش تمھاری نظروں میں چھوٹی ہوگی زمل مگر وہ بچی نہیں ہے اسے میری خاطر سمجھاؤ اور اس شادی کے لیے راضی کرو اس جمعہ کو مجید اپنی امی ابو کے ساتھ ہمارے گھر آرہا ہے نکاح اور رخصتی سادگی سے ہی ہوگی۔۔۔ مولوی علیم الدین اس کے سر پر ہاتھ رکھے بولے تھے زمل نے ان کی بات سمجھتے سر ہلایا تھا وہ جانتی تھی شاکر اس کی بہن کو کبھی سکون سے جینے نہیں دے گا

زرش میری بات سنو۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوتی زرش سے بولی تھی جو دھلے ہوئے کپڑوں کو طے لگا کر الماری میں رکھ رہی تھی

جی بجو ؟؟ اس نے زمل کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا

اگر اماں زندہ ہوتی تو میری جگہ وہ تم سے بات کرتی مگر اب یہ زمداری ابا نے مجھے دی ہے۔۔۔ اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے پاس بیٹھاتے زمل نرم لہجے میں بولنا شروع ہوئی تھی

کیا بات ہے بجو ؟؟ ایسا کیوں بول رہی ہیں ؟؟ اس کا دل کسی بری خبر کا بتا رہا تھا

ابا نے تمھارا رشتہ اپنے شاگرد سے کر دیا ہے اور جمعہ کو تمھارا نکاح اور رخصتی ہے۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں بول گئی تھی

بجو میں کوئی شادی وادی نہیں کروں گی ابا ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟؟ وہ رو دینے کو تھی

زرش کسی نہ کسی دن تو تمھاری شادی ہونی ہی تھی نہ اور اب ہو یا دو سال بعد ایک ہی بات ہے ابا اپنی زندگی میں ہی تمھیں رخصت کرنا چاہ رہ ہیں انھیں ڈر ہے کہ ان کی زندگی مزید انھیں مہلت نہیں دے گی۔۔۔ آخری بات پر زمل کا لہجہ رندھ گیا تھا

بجو آپ کی شادی کا حق مجھ سے پہلے ہے۔۔۔۔۔ اس نے نم آنکھوں سے زمل کو دیکھا تھا

شاکر تمھیں جینے نہیں دے گا زرش اسی وجہ سے بھی ابا تمھاری جلد شادی کر رہے ہیں اور تم میری فکر مت کرو جب قسمت میں ہوا میری شادی ہو جائے گی۔۔۔ وہ اس کے سر پر لب رکھتی دھیمی آواز میں بولی تھی زرش نے اس کے گرد اپنا حصار ڈالا تھا جبکہ کچھ آنسو اس کی آنکھ سے نکلتے زمل کا دوپٹہ بھگو گئے تھے۔۔۔

**********

شاکر سے چھپ کر محلے والوں کی مدد سے مولوی علیم الدین نے نکاح کا سارا انتظام کیا تھا زرش کے لیے ایک سادہ سا سرخ جوڑا اس کے سسرال والوں کی طرف سے آیا تھا

سب لوگ تیاریاں کیے بیٹھے تھے زرش کو زمل نے ہی ہلکا ہلکا سا تیار کر دیا تھا جبکہ زمل خود بھی ہلکا پھلکا جوڑا پہنے تیار تھی نکاح کے لیے بس چند لوگ ہی شامل تھے وہ بھی لڑکے والوں کی طرف سے ہی تھے

نکاح کے لیے لڑکے والے اگئے تھے ان کے آتے ہی ان کا نکاح شروع کیا گیا تھا تھوڑی ہی دیر میں ان کا نکاح ہو چکا تھا مولوی علیم الدین زرش کے سر پر ہاتھ رکھتے اسے کئی دعائیں دے کر چلے گئے تھے

مبارک ہو زرش۔۔۔ اس کا سر چومتے اپنے ساتھ لگاتے زمل خوشی سے بولی تھی وہ مجید کو ایک نظر دیکھ کر آئی تھی وہ سانولی سی رنگت کا خوش شکل نوجوان تھا جو سرکاری نوکری کر رہا تھا

بجو مجھے آپ کی بہت یاد آئے گی ۔۔ وہ نم لہجے میں بولی تھی زمل نے زور سے اسے خود میں بھینچا تھا زرش کو کمرے میں اس کی ساس ملنے آئی تو زرش ان کو اکیلا چھوڑ کر باہر لوازمات دیکھنا چلی گئی تھی

کھانا کھانے کے بعد روتی ہوئی زرش کی رخصتی پر مولوی صاحب اور زمل کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں مگر اپنی بیٹی کو محفوظ ہاتھوں میں دے کر مولوی علیم الدین پرسکون ہو گئے تھے

زمل اپنا سامان پیک کر لو صبح صبح ہی ہم لاہور کے لیے نکل جائیں گے زرش کو رخصت کرتے زمل سے مولوی صاحب بولے تھے

ابا اتنی جلدی ابھی تو ہم نے زرش کو بھی نہیں بتایا کہ ہم لاہور جا رہے ہیں۔۔۔ اس نے اعتراض کیا تھا

میں نے مجید کو بتا دیا ہے زمل وہ زرش کو اب کبھی یہاں نہیں لے کر آئے گا تم بھی تیاری پکڑو ماجدہ کے بیٹے رمیز سے تمھارا بھی میں نے جاتے ہی نکاح کر دینا ہے۔۔۔مولوی علیم الدین فیصلہ کن لہجے میں بولے تھے زمل چاہ کر بھی کچھ بول نہ پائی تھی

اور میں نے یہ گھر بیچ دیا ہے زمل۔۔ آخری بات انھوں نے دھیمی آواز میں بولی تھی

ابا۔۔۔ اس نے شکوہ کن نگاہوں سے دیکھا تھا

ہمارے لیے یہ ہی بہتر ہے زمل۔۔۔ اب جاؤ شاباش اپنا سامان پیک کرو۔۔۔ مولوی صاحب اپنے دل پر ہاتھ رکھے اس جگہ کو سہلاتے بولے تھے

ابا آپ نے دوائی لی ؟؟ ان کو سینا سہلاتے دیکھ کر اس نے پوچھا تھا مگر ان کے نفی میں سر ہلانے پر زمل تیزی سے ان کی دوائی لینے گئی تھی انھیں دوائی دیتی آرام کرنے کا بول کر زمل بھی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی

*************

زرش مجید کی اماں کے ساتھ پچھلی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی جب اچانک گاڑی رکنے پر اسے لگا تھا کہ وہ لوگ گھر پہنچ گئے ہیں مگر خاموش سڑک پر اچانک گاڑی کی چڑچڑاہٹ نے انہونی کا پتا دیا تھا

ایک گاڑی میں سے پانچ آدمی اسلحے کے ساتھ باہر نکلے تھے اور ان کے پیچھے ہی شاکر بھی مسکراتا ہوا باہر نکلا تھا

ان میں دو آدمیوں نے گن تان کر ڈرائیور سمیت سب کو باہر نکلنے کا کہا تھا زرش پریشان سی باہر نکلی تھی مگر شاکر پر نظر پڑتے ہی اس کا سانس سوکھ گیا تھا ہر طرح کے وسوسے اس کے ذہن میں آنا شروع ہوئے تھے

سب اپنی نظریں جھکاؤ خبردار جو کسی نے میری بلو رانی کی طرف دیکھا۔۔۔ اس کے دلہن بنے سراپے کو گہری نظروں سے دیکھتا شاکر اپنے آدمیوں کی نگاہیں زرش پر پاکر دھاڑا تھا

اور تو حرام زادے ہمت کیسے ہوئی تیری شاکر کی بلو رانی پر نظر رکھنے کی۔۔۔ شاکر ایک طرف ڈرے ہوئے کھڑے مجید کے پاس آیا تھا اور اس کے سر پر گن تان کر کھڑا ہو گیا تھا

م۔۔مجھے معاف کر دو مجھے نہیں پتا تھا ۔۔۔مجید منمنایا

ہاں ہاں ہمارے بیٹے کو معاف کر دو ہمیں نہیں پتا تھا کہ یہ لڑکی تمھارے ساتھ وابسطہ ہے۔۔ اپنی ساس کی بات سن کر زرش نے نفرت سے ان بھگوڑوں کی فیملی پر نظر ڈالی تھی چادر میں چھپا اس کا وجود چاند کی روشنی اور گلی میں موجود لائٹ کی وجہ سے دمک رہا تھا مگر اس کا چہرہ ابھی بھی چادر میں چھپا ہوا تھا

تیرے پاس دو راستے ہیں پہلا میں تجھے مار دو اور اپنی بلو رانی کو لے جاؤ دوسرا تو اسے طلاق دے دے اور میں تیری اور تیرے ماں باپ کی زندگی بخش دوں۔۔۔ شاکر نے زرش کے سراپے پر نظریں گاڑے کہا تھا جبکہ دوسری طرف زرش کو لگ رہا تھا وہ سانس نہیں لے پائے گی وہ اس دو نمبر گنڈے کی اپنے وجود میں پیوست ہوتی نظروں سے کہیں دور جانا چاہتی تھی

میں مجید ریاض اپنے پورے ہوش و حواس میں زرش کو طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔۔۔ مجید فورا ہی بول گیا تھا اسے اس وقت اپنی ایک گھنٹے کی بیوی سے زیادہ اپنی فیملی کی اور اپنی زندگی کی پرواہ تھی

اللہ تمھیں برباد کرے بھگوڑے انسان۔۔ تم جیسے ڈرپوک شوہر سے بہتر ہے میرا کوئی شوہر ہی نہ ہو۔۔۔ وہ ایک دم۔پھٹ پڑی تھی ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر بہہ گیا تھا

اوئے چلو نکلو اب ۔۔۔ آگے بڑھتے شاکر نے مجید کی فیملی کو جانے کا کہا تھا جو فورا نکل گئے تھے

آجاؤ بلو رانی اب ہم بھی چلیں ورنہ ایسا نہ ہو تم تھک جاؤ کیونکہ کل میرا اور میری بلو رانی کا نکاح ہے۔۔۔ شاکر ہنستا ہوا اس کے قریب آیا تھا اور اس کا بازو تھامنے ہی والا تھا جب زرش اسے زور سے دھکا دے کر بھاگی تھی

ہاہاہا۔۔۔ بلو رانی کہاں تک بھاگو گی۔۔۔ وہ اس کی بے بسی پر ہنسا تھا اور پھر اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا وہ ایک ہی جست میں زرش تک پہنچ گیا تھا اس کا بازو زور سے دبوچ کر اس نے زرش کو گھسیٹنا شروع کیا تھا چادر اس کے سر سے ڈھلک کر کندھوں پر آگئی تھی

اسے گاڑی میں پھنکتے وہ خود بھی اس کے ساتھ بیٹھا تھا مگر اس کے خوبصورت چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ ساکت ہو گیا تھا

بلو رانی تم اب کبھی بھی مجھ سے بھاگ نہ سکتی۔۔۔ اس کے گال کو چھوتے اپنی نظریں اس کے چہرے پر گاڑھے شاکر نے کہا تھا

زرش اس کا لمس محسوس کرکے تڑپ کر کار کے دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی آنسو لڑیوں کی صورت اس کے گال کو بھگونے لگے تھے

بلو رانی ابھی اپنے آنسو سنبھال کر رکھو ابھی ساری زندگی پڑی ہیں انھیں بہانے کے لیے۔۔۔۔ وہ طنزیہ مسکراتے بولا تھا زرش نے اپنے لب دانتوں تلے دبا کر خود کو رونے سے بمشکل روکا تھا

************

مولوی علیم الدین اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے جب دروازہ زور سے بجنے سے ان کی کچی نیند سے آنکھ کھلی تھی وہ ایک نظر دس بجاتی گھڑی پر ڈالتے اٹھے تھے اور باہر گئے تھے جہاں پہلے ہی زمل اپنے کمرے سے نکل کر باہر کھڑی تھی

زمل کو کمرے میں جانے کا اشارہ کرتے انھوں نے دروازہ کھولا تھا جب ان کے محلے کے ایک آدمی نے انھیں سلام کیا تھا

اسلام علیکم مولوی صاحب مجھے ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے بیٹے کا فون آیا تھا اس نے بتایا ہے کہ مجید نے اسے آپ کو پیغام دینے کا کہا ہے کہ کوئی بندہ اس سے گن تان کر زرش کو طلاق دلوا کر اپنے ساتھ لے گیا ہے۔۔۔۔

ک۔۔۔کیا۔۔۔ان کے ذہن میں بے ساختہ زرش کا خیال آیا تھا اپنی بیٹی کا سوچتے ایک دم سے ان کے سینے میں درد اٹھا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے سینے پر ہاتھ رکھے وہ نیچے گر گئے تھے

مولوی صاحب۔۔۔ باہر سے آوازیں سن کر زمل کمرے سے چادر لے کر باہر نکلی تھی اپنے ابا کو زمین پر گرے دیکھ کر وہ تیزی سے ان کے پاس آئی تھی

ابا۔۔۔ ابا۔۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کو ابا ؟؟ وہ چیخ رہی تھی بیٹا میں رکشہ لے کر آتا ہوں انھیں ہوسپٹل لے کر جانا ہوگا۔۔۔ ان کا محلے دار بولتا تیزی سے باہر نکلا تھا

ا۔۔۔اپنا خ۔۔خیال رکھنا۔۔۔ا۔۔۔اور ز۔۔زرش کو ب۔۔بچا لینا۔۔۔ تم د۔۔دونوں آ۔۔آج سے اللہ کی امان میں۔۔ اٹکتے ہوئے بولتے اپنے ابا کو دیکھتے وہ زارو قطار رونے لگی تھی

اور پھر اس کے سامنے ہی مولوی صاحب نے پہلا کلمہ پڑھا تھا اور ان کی روح پرواز کر گئی تھی

ابا۔۔۔۔۔ ابا۔۔۔۔ وہ چیختے ہوئے ان کے سینے پر سر رکھے رو پڑی تھی ایک واحد سہارا بھی آج اس سے چھن چکا تھا

صبح تک سارے محلے میں مولوی صاحب کے مرنے کی خبر پہنچ گئی تھی سارا انتظام محلے والوں نے ہی کیا تھا جبکہ وہ تو اب ساکت سی ایک کونے میں بیٹھی بس ان کی میت کو ہی گھور رہی تھی

یہ وقت اس کے لیے کتنا مشکل تھا کوئی اس سے پوچھے اپنے ابا کے مرنے کا غم اپنی بہن کے لا پتہ ہونے کا غم ۔۔۔۔۔

جنازے کے وقت اپنے ابا کو آخری بار دیکھتی وہ دھاڑیں مار مار کر رو پڑی تھی ابا کی بہن ماجدہ کی زیادہ طبیعت خرابی کے باعث وہ نہ اسکی تھیں جبکہ انھیں شاکر کے متعلق پتا چل گیاتھا اس لیے انھوں نے اپنے بیٹے رمیز کو بھی یہاں نہیں بھیجا تھا

بیٹا حوصلہ رکھو۔۔۔ عورتیں اسے حوصلہ دیتی جا چکی تھیں محلہ داروں کو اس پر بے حد ترس آ رہا تھا وہ پولیس کے پاس اپنی بہن کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے جانا چاہتی تھی مگر اسے پتا چلا تھا وہ لوگ چوبیس گھنٹوں سے پہلے رپورٹ درج نہیں کرتے۔۔۔۔ سب کے جانے کے بعد وہ صحن میں ہی بیٹھی رو رہی تھی

اسے اگر علم ہوتا کہ شاکر کی وجہ اسے ان کا ہنستا بستا گھرانہ یوں تباہ ہوجائے گا تو وہ اسے مار دیتی۔۔۔۔۔

**********

اپنے گھر پہنچ کر وہ زرش کا بازو کھینچتا ہوا اسے لے کر باہر نکلا تھا زرش نے اپنے لب دبا کر سسکی روکی تھی جو کانچ کی چوڑیاں اس کی کلائی میں تھیں وہ ٹوٹ کر اس کی کلائی میں کھب رہی تھیں

زرش کی چادر اب تقریبا اس کندھوں سے ڈھلک کر زمین کی صفائی کر رہی تھی

بھائی دیکھیں اپنی ہونے والی بیوی کو لے کر آیا ہو۔۔۔ وہ لاؤنچ میں داخل ہوتے ہی اونچی آواز میں بولا تھا اس بات سے بے خبر کہ وہاں پہلے ہی گہری خاموشی کا راج تھا

تین لوگ صوفے پر کروفر سے بیٹھے تھے جبکہ شاکر کا بھائی ان کے سامنے گردن جھکائے کھڑا تھا

صوفے پر بیٹھی شخصیت کو دیکھ کر شاکر کا بھی منہ اچانک بند ہوا تھا زرش نے اس کے رک جانے پر اپنے دوسرے ہاتھ سے چادر اٹھا کر اپنے کندھے پر اوڑھی تھی اس نے آنسوؤں سے دھندھالاتی نگاہوں سے سامنے دیکھا تھا جہاں سب کی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ سمٹ سی گئی تھی

وہ جو کبھی گھر سے بنا پردے کے نہ نکلی تھی اب خود کو ان لوگوں کے سامنے بے پردہ پاکر گھٹی گھٹی آواز میں سسکیاں لے رہی تھی

وحشت زدہ خاموشی میں صرف اس کی سسکیاں ہی سنائی دے رہی تھیں

سر آپ کی پیمنٹ دو دن تک میں دے دوں گا۔۔۔ شاکر کا بھائی اسلم منمنایا تھا

تمھیں پہلے ہی ایک ہفتے کی مہلت دی تھی اسلم۔۔۔ نظریں زرش پر گاڑھے یزدان بھاری سنجیدہ آواز میں بولا تھا

اب مزید تمھیں وقت دینا ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔ اس کی آواز سن کر اسلم اور شاکر دونوں کا ہی سانس اٹکا تھا

سر۔۔۔ شاکر نے کچھ بولنا چاہا تھا جب اپنا ہاتھ اٹھا کر یزدان نے اسے کچھ بھی بولنے سے منع کیا تھا

جب دو بڑے بات کر رہے ہیں تو چھوٹوں کو بیچ میں نہیں بولنا چاہیے۔۔۔ یزدان نے جیسے اس کا مزاق اڑایا تھا شاکر نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں

سر آپ پلیز ہمیں ایک ہفتہ مزید دے دیں۔۔۔ اسلم نے التجائیہ کہا تھا اس نے ایک کروڑ روپے یزدان کو دینے تھے

ہمارے کام میں بات کی بہت اہمیت ہوتی ہے اسلم۔۔۔۔ اگر تم اپنی بات سے پھر گئے مطلب تم اصولوں والے بندے نہیں ہو۔۔۔ گہری آواز میں اسلم کو دیکھتے اس نے اسے یاد کروایا تھا

اور اصول توڑنے کی سزا تم جانتے ہو۔۔ خان تمھیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگاتے اس نے اسے اس کی موت کے پروانے کی خبر سنائی تھی

سر پلیز خان کو مت بتائیے گا۔۔۔ وہ گڑگڑانے پر آچکا تھا کیونکہ خان بخشتا نہیں تھا اور معافی سے اسے سخت نفرت تھی

میں خان کو نہیں بتاؤں گا اور تمھیں ایک ہفتے کا مزید وقت دے دوں گا مگر میری ایک شرط ہے۔۔۔ یزدان خان کی بات نے وہاں بیٹھے ہر شخص کو سانس روکنے پر مجبور کر دیا تھا

آپ جو کہیں گے ہمیں منظور ہے سر۔۔۔ اسلم تیزی سے بولا تھا

مجھے یہ لڑکی چاہیے۔۔۔ وہ زرش کی طرف اشارہ کرتا اٹل لہجے میں بولا تھا اس کی بات پر زرش کی سسکیاں مزید بلند ہوگئیں تھیں جبکہ شاکر کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا تھا

بالکل نہیں بھائی میں اپنے ہونے والی بیوی کسی کو نہیں دوں گا۔۔۔ شاکر اسلم کی طرف دیکھتا چیخا تھا

تم نے اپنے بھائی کو تمیز بھی نہیں سکھائی اسلم۔۔۔۔ اس کے لہجے میں وارننگ تھی اسلم نے سخت گھوری سے شاکر کو نوازا تھا

شاکر اپنا منہ بند رکھو۔۔۔ اور سر جو مانگ رہے ہیں دے دو۔۔۔ اسلم نے شاکر سے کہا تھا

مانگ ؟؟ اسلم لفظوں کا چناؤ صحیح سے کرو یہاں گڑگڑا تم رہے تھے یہ تو میرا بڑھپن ہے کہ میں تمھاری زندگی کو بخش رہا ہوں۔۔۔۔ اس کے غصے سے بھری آواز سن کر اسلم کے ماتھے پر پریشانی سے پسینہ چمکا تھا

مجھ سے غلطی ہوگئی سر آپ اس لڑکی کو لے جائیں شاکر ہٹ جاؤ راستے سے ایسی بہت سی لڑکیاں تمھیں مل جائیں گی۔۔۔ اسلم کی بات پر شاکر ایک پل کو سوچ میں پڑ گیا تھا

اسلم بالکل صحیح کہہ رہا تھا وہ جانتا تھا مزمت کی صورت میں یزدان خان اس کو مارنے سے گریز بھی نہیں کرے گا وہ آرام سے اس کا ہاتھ چھوڑ کر سائیڈ پر ہو گیا تھا

اپنا ہاتھ آزاد پاکر زرش نے اپنے سن ہوتے دماغ کے ساتھ خود کو چادر میں ڈھانپ لیا تھا اس کا نازک وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا

ایک ہفتہ ہے تمھارے پاس اسلم اس کے بعد تم اور تمھارا بھائی اس دنیا میں ایک منٹ بھی سانس نہیں لے پاؤ گے۔۔۔ اسے دھمکاتے اپنی سگریٹ زمین پر پھنیکتا اٹھا تھا

سرخ و سفید رنگت کالے بال اور گرے آنکھوں والا اونچا لمبا یزدان خان کالے سوٹ پر سفید چادر لیے اپنی پوری وجاہت سے کھڑا ہوا تھا اور ان دونوں پر نگاہِ غلط ڈالے بغیر اپنے آدمیوں کے ساتھ باہر کی جانب بڑھا تھا

زرش کے پاس رکتے ہی اس نے زرش کو بازو سے تھاما تھا مگر اس کے تھامتے ہی وہ خوف سے نے ہوش ہو گئی تھی اپنا سر نفی میں ہلاتے یزدان خان نے زرش کو اپنے بازؤں میں اٹھایا تھا اور وہاں سے چلا گیا تھا

بھائی آپ نے اچھا نہیں کیا وہ میری محبت تھی۔۔۔ یزدان کے جانے کے بعد شاکر اسلم سے بولا تھا

تم پاگل ہو ایک لڑکی کی وجہ سے وہ تمھیں مار بھی سکتا تھا اور ہم کچھ نہیں کر پاتے ایسی ہزاروں لڑکیاں تمھارے پیروں میں لا کر گرادوں گا اب جاؤ جاکر آرام کرو۔۔۔ اسے ڈپٹ کر اسلم نے آرام کرنے بھیج دیا تھا اور خود بھی اپنے کمرے میں چلا گیا تھا

************

زمل خود کو چادر سے ڈھانپ کر نقاب کیے پولیس اسٹیشن میں داخل ہوئی تھی وہاں کا ماحول دیکھ کر اس نے اپنے خشک ہونٹ تر کیے تھے

مجھے ایک شکایت درج کروانی ہے ۔۔۔وہ سیدھی وہاں بیٹھے پولیس آفسر کے پاس گئی تھی

افضل ان کی شکایت درج کرلو۔۔۔۔ پولیس والا اسے دوسری طرف جانے کا اشارہ کرتا آرام سے آنکھیں موند کر کرسی سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا تھا

میری بہن کو شاکر نامی گنڈے نے اغوا کر لیا ہے اور۔۔۔

رکو رکو بی بی یہاں تمھاری کوئی درخواست درج نہیں ہوگی جاؤ یہاں سے۔۔۔ افضل شاکر کا نام سن کر گھبرا گیا تھا وہ یہاں کا لوکل گنڈا تھا اور اس کا تعلق خان سے تھا اور خان کے بندوں کے خلاف کوئی نہیں جا سکتا تھا جبکہ حقیقت میں شاکر کا دور دور تک خان سے کوئی تعلق نہیں تھا

کیا کہنا چاہتے ہیں آپ یہاں میری بہن چوبیس گھنٹوں سے غائب ہے اور تم لوگ میری رپورٹ درج نہیں کر رہے۔۔۔ وہ چیخی تھی اس کے چیخنے پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے پولیس آفسر علی افضل کے پاس آیا تھا

کیا ہوا ہے افضل ؟؟

سر یہ شاکر کے خلاف رپورٹ درج کروانا چاہتی ہے۔۔۔ افضل دھیمی آواز میں منمنایا تھا

او بی بی جائیں یہاں سے آپ کی بہن یقینا خود اس کے ساتھ گئی ہوگی۔۔۔ نکالو انھیں باہر اب اسے کوئی اندر داخل نہ ہونے دے۔۔۔۔ علی کی آواز سن کر لیڈی پولیس نے چیخی چلاتی زمل کو بازو سے پکڑ کر پولیس اسٹیشن سے باہر نکال دیا تھا

تم لوگ پولیس کے نام پر دھبا ہو۔۔۔وہ چیخی تھی بے بسی سے اسے رونا آرہا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونا شروع ہو گئے تھے

باجی مہربانی کرکے جائیں یہاں پر کوئی آپ کی مدد نہیں کرے گا۔۔۔ ایک حوالدار اس کے پاس آیا تھا زمل نے نفرت سے اسے دیکھا تھا

تمھاری مدد صرف ایک ہی شخص کر سکتا ہے۔۔۔ حوالدار دھیمی آواز میں بولا تھا زمل کو امید کی کرن دکھائی دی تھی

خان۔۔۔ تمھاری مدد صرف خان ہی کر سکتا ہے لیکن اس سے ملنا اتنا آسان نہیں ہے بلکہ بہت مشکل ہے اس سے صرف ایک ذریعے سے ملا جا سکتا ہے۔۔۔ زمل نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا جبکہ حوالدار اسے سارا طریقہ بتانے لگا تھا

شکریہ آپ کا ۔۔۔ زمل اس کا شکریہ ادا کرتی واپس گھر کو لوٹی تھی زرش کو بچانے کی اسے ایک کرن دکھائی دی تھی اگر خان نے اس کی مدد کردی تو وہ یقینا زرش کو بچا لے گی۔۔۔۔

*************

اس نے مندی مندی اپنی آنکھیں کھولی تھیں اور اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس کے سر میں درد سے ہلکی ہلکی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں

اپنا سر پکڑتے اسے کل ہوئے سارے واقعات یاد آگئے تھے آنکھوں میں خوف لیے اس نے اپنے ارد گرد دیکھا تھا وہ اس وقت ایک نارمل سائز کے کمرے میں موجود تھی کمرے کی دیواروں کا رنگ سفید تھا جبکہ کمرے میں ایک بیڈ جس پر وہ خود بیٹھی ہوئی تھی اس کے علاوہ کچھ موجود نہ تھا وہ تیزی سے اٹھتی کمرے کے دروازے کی طرف بھاگی تھی تاکہ یہاں سے جا سکے مگر بد قسمتی سے کمرے کا دروازہ لاک تھا وہ تھوڑی دیر تک دروازہ بجاتی رہی تھی مگر کسی کگ دروازہ نہ کھولنے پر وہ آخر ہار مانتی اٹھی تھی اور روم میں بنے واشروم میں چلی گئی تھی

اپنا عکس شیشے میں دیکھ کر وہ خود ہی ایک پل کو ڈر گئی تھی اس کی آنکھوں سے کاجل بہہ کر اس کے چہرے پر پھیلا ہوا تھا جبکہ لپ اسٹک بھی اس کے ہونٹوں کے گرد پھیلی ہوئی تھی بال بھی اس کے سارے خراب ہوئے پڑے تھے گلے میں پہنا چھوٹا سا سیٹ بھی ٹیڑھا ہوا پڑا تھا

خود کو دیکھتے اس نے گندا سا منہ بنایا تھا اور اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتے اس نے اپنا منہ دھویا تھا اور جیولری اتارتے ایک طرف پھینک دی تھی اور بالوں کو ہاتھوں سے سمیٹ کر اس نے وضو کیا تھا وہ جانتی تھی کہ نماز کا وقت گزر گیا ہے مگر نماز کی اسے اتنی پختہ عادت تھی کہ اسے بے چینی ہونے لگی تھی

وہ وضو کرتی اپنی چادر سے حجاب کرتی بیڈ کی چادر فولڈ کیے زمین پر بچھاتی قضا نماز ادا کرنے لگی تھی نماز مکمل کرتے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے وہ سسک اٹھی تھی اس کے دل سے بے ساختہ اپنے ابا اور بجو کی حفاظت کے لیے دعا نکلی تھی

وہ کچھ دیر خاموش ہی دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے بیٹھی رہی تھی اور پھر اٹھ کر واپس بیڈ گئی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ ایک دم سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی آیت الکرسی پڑھتے اس کے دل سے اپنی حفاظت کے لیے ہی دعا نکل رہی تھیں

ایک لڑکی کھانے کی ٹرے پکڑے روم میں داخل ہوئی تھی وہ لڑکی دیکھنے میں ہی پٹھان لگ رہی تھی وہ خاموشی سے کھانا رکھ کر واپس جا رہی تھی جب زرش نے اسے روکا تھا

بات سنو۔۔ میں کہاں ہوں ؟؟ اور یہ لوگ کون ہیں ؟؟ زرش کے پوچھنے پر ملازمہ ڈرتے ڈرتے بس چند لفظ بولی تھی

آپ خان ولا میں ہیں۔۔ وہ بولتے ہی باہر نکل گئی تھی زرش نے اسے دوبارہ بلایا تھا مگر وہ اسے اگنور کرکے چلی گئی تھی یا اللہ میری حفاظت کرنا۔۔۔ اس لڑکی کے دروازہ دوبارہ بند کرنے پر وہ بے ساختہ اوپر کی طرف دیکھتے بولی تھی

کھانے کو دیکھتے ہی اس کی بھوک چمک اٹھی تھی وہ کھانے کی ٹرے اپنے سامنے رکھتی اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کر چکی تھی۔۔۔۔

*************

اسلام علیکم مجھے دی سنیک سرویس چاہیے ۔۔زمل فون کرتے ہمت جمع کرتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولی تھی

کوڈ پلیز۔۔۔دوسری جانب موجود آپریٹر کی آواز اسے سنائی دی تھی

کوبرا *1*2*3 @۔۔۔

اس نے مطلوبہ کوڈ بتایا تھا ساتھ ہی لائن چینج ہوگئی تھی اب کی بار ایک لڑکی کر پروفیشنل آواز اسے سنائی دی تھی

جی میم ہم آپ کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں؟؟ کائنڈلی اپنی سروسز کا بتائیں

م۔۔۔مجھے کسی کا مڈر کروانا یے۔۔۔ وہ زبان لبوں پر پھیرتی بولی تھی اس کا ارادہ شاکر کو مروا کر اپنی بہن آزاد کروانے کا تھا

جی اس کے لیے آپ کو کامن سروسز مل جائیں گی کائنڈلی اپنی ڈٹیلز دیں۔۔۔ آپریٹر مضبوط لہجے میں بولی تھی زمل نے اپنا حلق تر کرتے اسے اپنی ساری ڈٹیلز دی تھیں

اوکے میم دو ہفتوں کے اندر اندر آپ کا کام ہوجائے گا۔۔۔ ابھی آپریٹر بول ہی رہی تھی جب زمل اس کی بات کاٹ کر بولی تھی

مجھے وی آئی پی سروس چاہیے۔۔۔وی آئی پی سروس چوبیس گھنٹوں میں کام کرتی تھی اور وہ دو ہفتوں کے لیے انتظار نہیں کرسکتی تھی

سوری میم مگر آپ کو کامن سروس ہی دی جائے گی۔۔ دوسری طرف موجود لڑکی نے کہا تھا

آپ کو سنائی نہیں دیا مجھے وی آئی پی سروسز چاہیے۔۔۔ زمل نے اپنی بات پر زور دیا تھا

وی آئی پی کلائنٹس آپ کی اپروچ سے بہت دور ہیں میم ان سے میٹنگ کی قیمت بھی پانج لاکھ ہے۔۔

میں اماؤنٹ دے دوں گی مجھے خان سے ملنا ہے۔۔ اس نے سب سے مہنگے اور بہترین سروس پروائڈر کا نام لیا تھا

سوری میم وہ صرف وی وی آئی پی لوگوں کو ہی سروس پروائڈ کرتے ہیں۔۔۔ آپریٹر نے جواب دیا تھا وہ اس آرگنائزیشن کا بادشاہ تھا اور بہت کم لوگوں کے لیے کام کرتا تھا اس کے پاس اپنے آدمیوں کی ایک بڑی فوج موجود تھی لیکن اس سے بھی اوپر اس کا باپ شیر خان تھا

مجھے صرف ان کی ہی سروس چاہیے آپ کو جتنی اماؤنٹ چاہیے مل جائے گی۔۔۔زمل بضد تھی کیونکہ حولدار کے مطابق اس کا کام صرف خان ہی کرسکتا تھا

اوکے میم آپ اپنی ساری ڈٹیلز دیں آپ کو ایک جگہ کا بتا دیا جائے گا جہاں آپ سر سے ملیں گی آپ کو ساتھ ہی سر سے ملنے کی رقم بھی ہمارے مطلوبہ بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروانی ہوگی اور وہاں سے آپ کو ایک ریڈ ریبن ملے گا جو آپ اپنی کلائی پر باندھ کر رکھیں گی تاکہ آپ کی نشاندہی کی جاسکے۔۔۔

آپریٹر اسے سب کچھ بتا کر اس سے ساری ڈٹیلز لے کر اسے مطلوبہ بینک کا بتا کر فون ڈسکنکٹ کر چکی تھی تھوڑی دیر بعد اسے ایک میسج ریسیو ہوا تھا جس میں اس اکاؤنٹ کی ڈٹیلز تھیں چونکہ مولوی صاحب نے گھر بیچ دیا تھا اس لیے کل تک اسے پیسے مل جانے تھے وہ کل پیسے ملنے پر خان سے ملنے کا پختہ ارادہ باندھ چکی تھی

دی سنیک سروس ( ” The Snake Service ” ) یہ ایک بہت بڑی آر گنائزیشن تھی جو کنٹریکٹ پر لوگوں کو ختم کرتی تھی اس کی بنیاد خان کے باپ شیر خان نے رکھی تھی اور یہ ایک کامیاب سروس تھی ان کے تعلقات پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے اور خان ایک ایسا نام تھا جو لوگوں میں اپنی دحشت پھیلانے کے لیے کافی تھا۔اس آرگنائزیشن سے بڑے بڑے لوگ جڑے ہوئے تھے جن میں سیاست کی بھی نامور شخصیات موجود تھیں یہی وجہ تھی کہ اس آرگنائزیشن کے خلاف کوئی بھی آواز نہیں اٹھاتا تھا

***********

یزدان خان اصولوں کو توڑنے کا مطلب تم جانتے ہو ؟؟ خان کی سرد سپاٹ گہری آواز سن کر یزدان بھی گھبرا گیا تھا وہ اس کا دوست تھا مگر کام کے معاملے میں وہ کسی کو نہیں بخشتا تھا

خان سفید سوٹ پر کالی چادر کندھوں پر لیے براؤن گھنے بالوں جن کو نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا بھرپور وجاہت کا شاہکار تھا سبز آنکھیں جن میں ہمہ وقت سرد تاثرات رہتے تھے جبکہ باریک ہونٹوں کو وہ ہمیشہ بھینچ کر رکھتا تھا وہ لوگ اس وقت لاؤنچ میں کھڑے تھے جب خان نے اس سے استفسار کیا تھا

خان میں نے اس سے ڈیل کر کے اسے مزید مہلت دی ہے۔۔۔ یزدان سنجیدگی سے بولا تھا

ہمارے کام میں مہلت نہیں دی جاتی یزدان خان۔۔۔ اس کے لہجے کی سختی محسوس کرکے یزدان خان نے اپنے خشک ہوتے ہونٹ تر کیے تھے اگر یزدان خان کی دحشت لوگوں میں تھی تو خان کی اس سے بھی زیادہ وہ جانتا تھا خان اسے کبھی مارے گا نہیں مگر اصولوں کے مطابق سزا ضرور دے سکتا تھا

خان میں ایک ہفتے کے اندر ان سے پیسے وصول کر لوں گا۔۔۔ یزدان خان نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی تھی۔۔

کیا تم نے ایک عورت کے بدلے انھیں مہلت دی ہے ؟؟ خان نے اسے غصے سے بھری نگاہوں سے دیکھا تھا

کیا اس بندے سے کچھ چھپا بھی رہ سکتا ہے۔۔۔ یزدان نے دل میں سوچا تھا

خان۔۔۔وہ۔۔ یزدان کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بولے۔۔

عورت ذات صرف مردوں کو کمزور کرتی ہے یزدان۔۔۔ اسے جہاں سے لے کر آئے ہو وہاں چھوڑ آو اور رات تک مجھے اسلم کی موت کی خبر مل جانی چاہیے۔۔۔۔ خان اسے بولتا ہوا مڑا تھا جب یزدان نے اسے روکا تھا

وہ وہی لڑکی ہے خان۔۔۔ یزدان کی بات نے اس کے قدم روک دیے تھے

خان نے مڑتے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا

وہ وہی لڑکی ہے جسے دو سال پہلے میں نے بازار میں دیکھا تھا جس کا ذکر میں نے تم سے کیا تھا جسے ہر جگہ میں نے ڈھونڈا تھا جسے اپنے خوابوں میں دیکھا تھا اور جب کل اسے بنا حجاب کے شاکر کے پاس سسکتے دیکھا تھا تو میں خود کو روک نہ پایا تھا میرا دل کیا تھا کہ اپنی گن میں موجود ساری گولیاں شاکر کے سینے میں خالی کردو اس کا ہاتھ کاٹ دو جس سے اس نے میری محبت کو تھاما تھا اور خان وہ میری کمزوری بالکل نہیں بنے گی میں اسے اپنی طاقت بناؤں گا اور یہ یزدان کا خان سے وعدہ ہے ۔۔۔

یزدان سنجیدگی سے خان کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا خان اسے دیکھتا ہنکار بھرتا اپنا سر نفی میں ہلاتا چلا گیا تھا وہ جو کام کرتے تھے اس میں عورت چاہے جتنی مرضی مضبوط کیوں نہ ہو اسے مرد کی کمزوری ہی مانا جاتا تھا اور اب یہ لڑکی بھی خان کی نظر میں یزدان کی کمزوری بن چکی تھی اور خان کو ایسی کمزوریاں ختم کرنا اچھے سے آتا تھا

************

دو سال پہلے :

یزدان کو ایک ٹارگٹ ملا تھا جس کے سلسلے میں وہ لاہور آیا تھا یہاں کہ ایک لوکل بزار میں ایک تھوک کی دکان کا مالک جو منشیات کا چھپ چھپا کر کاروبار کرتا تھا اسے مارنے کی سپاری یزدان کو دی گئی تھی

وہ اسی سلسلے میں لاہور آیا تھا اسے مارنے سے ایک دن پہلے وہ اس بازار کا معائنہ کرنے گیا تھا وہ وی آئی پی سروس پروائڈر تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیوں ایک معمولی دکان کے مالک کو مارنے بھیجا گیا تھا

یزدان نے ارد گرد سے اس دکان کے مالک کے بارے میں معلومات حاصل کی تو اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ اپنی دکان میں آنے والے چھوٹے بچوں اور بچیوں کا ریپ کرتا تھا جسے سنتے ہی یزدان کی رگیں تن گئی تھیں

یہ کام اس نے بنا معاوضے کے کرنے کا سوچا تھا اور ساری صورتحال کا جائزہ لیتا وہ اپنا پلان بناتا واپس آچکا تھا اگلے دن وہ اپنی گن لیے اس بازار میں واپس گیا تھا تاکہ اسے مار سکے اس نے چہرے کو کالے نقاب سے ڈھکا ہوا تھا

وہ اس دکان کی طرف جا رہا تھا جب ایک ہنستی کھلکھلاتی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی یزدان کی بے ساختہ نگاہیں ایک لڑکی کی طرف گئی تھیں جو نقاب کیے اپنے ساتھ کھڑی لڑکی کے ساتھ ہنس رہی تھی

بجو۔۔۔ پھوپھو کے آنے سے پہلے مجھے یہ کانچ کی چوڑیاں لے دو ورنہ وہ آتے ہی کہیں گی شادی کے بعد یہ فیشن کیا کرو۔۔۔ زرش اپنی پھپھو ماجدہ کی نقل اتارتے ہوئے بولی تھی جو انھیں بناؤ سنگھار کرنے نہیں دیتی تھی وہ آج کل یہاں لاہور میں اپنی پھپھو کے گھر آئی ہوئی تھیں ان کی پھپھو آگے بازار سے اپنا دوپٹہ لینے گئیں تھی جبکہ وہ کچھ دیر کے لیے ایک جگہ روک کر اپنی پھپھو کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ زمل نے اسے سرزنش کرکے اپنی ہنسی روکتے اسے چپ کروایا تھا

زرش کے سامنے دیکھنے پر اس کی نگاہیں یزدان سے ٹکرائی تھیں اس کی گہری کالی آنکھوں میں یزدان کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا نقاب کی وجہ سے صرف اس کی آنکھیں ہی دکھ رہی تھیں

بھائی کبھی کسی لڑکی کو نقاب میں نہیں دیکھا جو مجھے کھڑے تاڑ رہے ہو ؟؟ زرش غصے سے اس کے پاس آتی بولی تھی زمل نے تیزی سے زرش کا بازو پکڑا تھا

خود کو بھائی کہے جانے پر ایک پل کو اس کے پاس الفاظ ختم ہوگئے تھے اور وہ اس لڑکی کو اچھی خاصی گھوری سے نوازتا وہاں سے فورا غائب ہوا تھا

زرش کتنی بار تم سے کہا ہے ایسے مت کیا کرو ان لوگوں کو اگنور کر دیا کرو۔۔۔ زمل اسے سخت لہجے میں بولی تھی جبکہ پھپھو کے آنے پر وہ دونوں خاموش ہوتی واپس گھر چلی گئی تھیں

یزدان بھی اپنا کام مکمل کرکےواپس چلا گیا تھا مگر وہ کبھی ان نقاب میں چھپی کالی آنکھوں والی لڑکی کو ڈھونڈ نہ پایا تھا اس نے اسے لاہور میں کافی ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ اسے کبھی نہیں ملی تھی آخر ملتی بھی کیسے وہ دونوں تو واپس کراچی چلی گئی تھیں

اس کو ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کے بعد بھی یزدان اس کی کالی آنکھوں کو کبھی بھول نہ پایا تھا اور پھر کل جب زرش نے آنسوؤں سے بھری نگاہوں سے انھیں دیکھا تھا تو اس کا دل ایک پل کو رکتا تیزی سے دھڑک اٹھا تھا مگر اس نے کوئی تاثر ظاہر نہیں کیا تھا اگر وہ ان لوگوں کے سامنے کوئی بھی تاثر ظاہر کرتا تو یقینا ایک رات کے اندر اندر سب کو زرش یزدان خان کی کمزوری کے طور پر لگنے لگ جانی تھی

مگر اب وہ صرف ایک ڈیل کا حصہ سمجھی جا رہی تھی جس سے کم سے کم وہ محفوظ تو تھی یزدان کا ماضی سیاہ تھا مگر اب وہ اپنے ماضی کو بھول کر زرش کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا تھا

اےسکونِ قلب!!

میرےشاہ_من…

کاش کہ مجھے چند جادوئی لمحات

میسر آئیں جہاں میں تمہیں…

جی سکوں تم سے اپنی بے بہا محبّت

کا برملا اعتراف کر سکوں…

جہاں تم چاہ کہ بھی

میری محبت سے مکر نا سکو!

جہاں تمہیں میری آنکھوں میں

اپنا آپ دِکھے_…

مجھے سکون درکار ہے

ایسا سکون جس میں میرے ماتھے

پر تمہارے ہونٹوں کا لمس ہو

تاکہ میں ماضی کے دکھ بھول کہ

زندگی کو قریب سے محسوس کر سکوں۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *