Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 21)

My Girl by Zanoor

زرتاشہ کس کے ساتھ آئی ہو ؟ مہناز بیگم کے پوچھنے پر زرتاشہ رونے والا منہ بنا چکی تھی۔اپناخشک حلق تر کرتے اس نے ساری بات مہناز بیگم کو بتا دی تھی۔

زمان ماہم کا بھائی ہے ؟ مہناز بیگم نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

جی مورے ؟ اس نے نظریں جھکائے جواب دیا۔

تم کسی کی امانت ہو زرتاشہ۔۔یہ مت بھولنا۔۔مہناز بیگم کی بات سنتے اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔

میں ایسا کچھ بھی نہیں کروں گی مورے۔۔وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔

پھر دوبارہ زمان کے ساتھ مجھے دکھائی مت دینا۔۔اگر کسی کو بھی اس بارے میں معلوم ہو گیا تمھارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔مہناز بیگم کے بولنے ہر وہ لب بھینچ گئی تھی۔

اب انھیں وہ کیا بتاتی وہ پاگل ہی اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔اسے کہیں بھی سکون سے سانس نہیں لینے دیتا۔۔

مورے میں آئیندہ خیال رکھوں گی اب میں ریسٹ کرنے جارہی ہوں۔تیزی سے جواب دیتی وہ سیڑھیاں چڑھ گئی تھی۔

اپنی چادر بیڈ پر پھینکتی وہ فریش ہونے چلی گئی تھی۔اپنے ہاتھ پر جلن محسوس کرتے اس کی نگاہ وہاں لگی رگڑ پر لگی تھی۔شاید جس وقت وہ گڑی تھی تب لگی تھی۔

ہاتھ کو میڈسن سے صاف کرتی وہ نماز پڑھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی تھی۔ابھی آنکھ لگے اسے دس منٹ بھی نہ ہوئے تھے۔جب کسی کی کال نے اس کی نیند خراب کی تھی۔

اپنی نیند سے بھری آنکھیں کھولتے اس نے فون کو گھورا جیسے دوسری جانب موجود شخص کو نظروں سے ہی قتل کرنا چاہتی ہو۔

اپنی جمائی روکتے اس نے بنا نمبر دیکھے فون کان سے لگایا تھا۔

بےبی ڈول ؟ دوسری جانب سے بھاری مردانہ آواز سنتے اس کی نیند سے بند ہوتی آنکھیں پٹ سے کھل گئی تھیں۔

ک۔۔کون ؟ اس نے کانپتی آواز میں پوچھا۔

میں واپس آرہا ہوں تمھیں اپنے پاس قید کرنے کے لیے۔۔۔دوسری جانب موجود شخص نے اس کی ہواس اڑائے تھے۔

اس کا سانس اکھڑنے لگا تھا۔موبائل پر اس کی گرفت ہلکی ہوگئی جس سے موبائل چھوٹ کر اس کی گود میں گر چکا تھا۔

ہمت جمع کرتے اس نے گہرے گہرے سانس لینا شروع کیے تھے۔وہ موبائل کی دوسری جانب سے ہنسی کی آواز سن سکتی تھی۔

وہ شخص جیسے اس کی حالت سے واقف ہنس رہا تھا۔اپنا کانپتا ہاتھ بڑھاتے اس نے کال بند کردی تھی۔

اپنا سانس بحال ہوتے ہی وہ تیزی سے بستر سے اٹھتی نیچے بھاگی تھی۔

مورے۔۔مورے۔۔

میں کیچن میں ہوں۔۔مہناز بیگم کی آواز سنتی وہ تیزی سے اس طرف بھاگی تھی۔

زرتاشہ کیا ہوا ہے۔۔زرتاشہ کا سہما سا چہرہ دیکھتے مہناز بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔

مورے۔۔و۔۔وہ ا۔۔اسے میرا پتا چل گیا ہے۔۔وہ مجھے یہاں سے لے جائے گا۔۔مورے مجھے بچا لیں۔۔سات سال بعد اس شخص کی آواز سنتے ساری سیاہ یادیں جیسے تازی ہوگئی تھی۔

کس کی بات کر رہی ہو زرتاشہ ؟مہناز نے اسے بازؤں سے پکڑتے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا۔

اسفند خان کی۔۔۔وہ نمکین پانی سے بھری آنکھوں سے مہناز بیگم کو دیکھنے لگی جن کا رنگ بھی فق ہو گیا تھا۔

تمھیں کچھ نہیں ہوگا زرتاشہ۔۔وہ شخص تم تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔۔۔

و۔۔۔وہ مجھے ل۔۔لے جائ۔۔ئے۔۔۔وہ پھولی سانس سے بولتی ہوئی بے ہوش ہوگئی تھی۔

زرتاشہ۔۔زرتاشہ۔۔اس کو بے ہوش ہوتے مہناز بیگم نے ملازمی کو آواز دی تھی۔ملازمہ کی مدد سے زرتاشہ کو لے جاکر انھوں نے اسے اپنے کمرے میں لیٹا دیا تھا۔اس کا سر چومتی چادر اوڑھتی وہ اپنا فون لیتی کمرے سے نکل گئی تھیں۔

*****************

میں خود جاسکتی ہوں خان مجھے آپ کی ضرورت نہیں۔۔صبح صبح سکول جانے کے لیے نکلتی وہ خان کو دوبارہ ہاسٹل کے باہر کھڑے دیکھ کر سنجیدگی سے بولی۔

یہ میرا فرض ہے۔۔خان اس کی نقاب سے جھانکتی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔

مجھے کافی حیرت ہوئی۔۔اپنے بہت سے فرائض میں سے یہ فرض ادا کرنا آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے۔۔وہ بولتی ہوئی تیز تیز قدم اٹھانے لگی تھی۔۔

احسان ہی مان لو میرے لیے یہ ہی بہت ہے۔۔وہ نیلی جینز اور کالی شرٹ میں اس کے پیچھے ہی اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چلنے لگا تھا۔

آپ کا یہ احسان آپ کے آدمی بھی کر رہے تھے۔ آپ کو خود کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔زمل کے جواب پر خان کے عنابی ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔

مجھے لگا تھا تم اپنے مجازی خدا کی تھوڑی سے قدر کرلو گی تمھارے اس جواب نے میرا دل توڑ دیا ہے۔۔خان مسکراہٹ دباتا ہوا بولا۔

زمل نے رک کر حیرت سے خان کو دیکھا۔

آپ کو کہیں بخار تو نہیں ہوگیا۔۔زمل نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔

یا شاید آپ کے سر پر چوٹ لگ گئی ہو ؟؟۔۔زمل کے جواب پر وہ ہلکا سا ہنسا تھا۔زمل اس کی ہنسی سنتی پل میں ساکت ہوئی تھی۔وہ اپنے معمول کے مطابق کافی مختلف اور بدلہ بدلہ لگ رہا تھا۔

اسے خان کا یہ انداز زیادہ بھا رہا تھا۔وہ اپنی ہنسی چھپاتی پھر چلنے لگی تھی۔

مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔اور اب سے میں خود تمھیں چھوڑ کر اور لے کر آیا کروں گا۔۔خان نے حکمیہ انداز میں کہا۔

مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے خان آپ بلاوجہ خود کو تکلیف دےرہے ہیں۔۔اللہ حافظ۔۔وہ سکول کے سامنے پہنچتی تیزی سے اندر چلی گئی تھی۔

اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا خان واپس پلٹتا کچھ دور کھڑے قاسم کی طرف بڑھ گیا تھا۔وہ کسی لڑکے کو کالر سے پکڑے کھڑا تھا۔

یہ کون ہے قاسم ؟ خان نے اس لڑکے کو دیکھتے پوچھا جو بمشکل سیکنڈ ائیر کا سٹوڈنٹ لگ رہا تھا۔

خان اس نے خانم کو اپنا نمبر دیا تھا۔قاسم کی بات سنتے خان نے قاسم کی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے لڑکے کو دیکھا جس کے منہ پر بھی قاسم نے اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

قاسم کو اس لڑکے کے چہرے سے ہاتھ اٹھانے کا اشارہ کرتے خان نے ایک تھپڑ اس لڑکے کے منہ پر مارا تھا۔

دوبارہ کسی لڑکی کو اپنا نمبر دینے کی غلطی مت کرنا۔۔ورنہ تمھارے ہاتھ کاٹ دوں گا۔۔اس لڑکے کے فق چہرے کو طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتے ہوئے وہ جھٹکے سے اسے چھوڑ چکا تھا۔

قاسم کو سکول کے باہر رکنے کا بولتا خان ہوسٹل کی طرف چل پڑا تھا۔وہاں موجود اپنی کار میں بیٹھتا وہ واپس اپنے کام پر لوٹ گیا تھا۔

*************

خان بابا مجھے ان کے ساتھ نہیں جانا۔۔۔تیرہ سالہ زرتاشہ اپنے چادر کو ہاتھوں میں بھینچ کر روتے ہوئے بولی تھیں۔

آج اس کو بچانے والا کوئی مسیحہ گھر نہ تھا جس کا فائدہ خان بابا اس کا باپ اٹھا رہا تھا۔

بکواس بند کرو اپنی ایک بھی لفظ تمھارے منہ سے اب مجھے سنائی نہیں دینا چاہیے۔۔

تم وعدے کے مطابق اپنی جگہ مجھے دے دو گے اسفند۔۔زرتاشہ کو کوہنی سے پکڑتے اس نے اسفند کی طرف پھینکا تھا۔

وہ لڑکھڑاتی ہوئی اسفند کے قدموں میں گری تھی۔خان بابا کی دھمکی پر وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیاں روک رہی تھی۔۔

میں کسی کے نکاح میں ہوں خان بابا۔۔وہ روتے ہوئے اپنی ماں کی بات یاد کرتے ہوئے بولی۔۔

بےبی ڈول اب تم صرف میری ملکیت ہو باقی لوگوں کےا بارے میں سوچنا چھوڑ دو۔۔اسفند پینتیس سالہ آدمی تھی۔جو خان بابا کے ساتھ کام کرتا تھا۔وہ زرتاشہ کے حسن پر مر مٹا تھا تبھی اس کا سودا کرکے وہ اپنی ملکیت بنا چکا تھا۔

زرتاشہ اس کا ہاتھ اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر پیچھے کی جانب ہٹی تھی۔اسفند ہنستے ہوئے اس کی جانب بڑھنے لگا تھا۔

اس کی پکڑ میں آنے سے پہلے زرتاشہ کی آنکھ کھل چکی تھی۔اس نے فورا اپنے کمرے کی لائٹ اون کی تھی۔

اس کا سارا چہرہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔دو دن پہلے ہی اسے اسفند کا فون آیا تھا تب سے لے کر اب تک وہ اپنے کمرے میں بند تھی۔وہ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا پارہی تھی۔ہر وقت ایک انجانہ سا خوف اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا۔

اپنا منہ گھٹنوں میں دیے وہ خاموشی سے رونے لگی تھی۔اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ واپس سات سال پیچھے چلی گئی ہو۔۔

اپنے کمرے میں کھڑکی پر کسی چیز کے بجنے کی آواز سنتی وہ ڈر کر اچھلی تھی۔

کھڑکی پر ہوتی مسلسل کھٹ پٹ پر وہ کانپتی ٹانگوں سے اٹھتی کھڑکی کی جانب بڑھی تھی۔کھڑکی سے پردہ ہٹاتے اس کی نگاہ وہاں بنی چھوٹی سی بالکونی میں کھڑے زمان پر پڑی تھی۔

اسے دیکھ کر زرتاشہ کو شدید حیرت ہوئی تھی۔زمان اسے کھڑکی کھولنے کا اشارہ کر رہا تھا۔زرتاشہ نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔

زمان نے اپنے ہاتھ کی مٹھی کھول کر اس کے سامنے کی تھی۔وہ اس کا بریسلٹ تھا جو اس کے منکوح نے اسے تحفے میں بھیجا تھا۔

وہ بریسلٹ دیکھتے اس نے تیزی سے کھڑکی کھولی تھی۔

یہ آپ کے پاس کیسے آیا ؟ واپس کریں مجھے ؟ وہ سنجیدہ سی اپنی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلاتے ہوئے بولی۔

بریسلٹ یاد ہے بریسلٹ دینے والا نہیں ؟ زمان نے ایک ائبرو اچکاتے بریسلٹ واپس اپنی مٹھی میں دباتے اس سے پوچھا۔

آ۔۔آپ کو کیسے پتا یہ مجھے کسی نے دیا ہے ؟ زرتاشہ مے دھڑکتے دل سے بھنویں بھینچ کر پوچھا۔

پیچھے ہٹو اندر آنے دو پھر بتاتا ہوں۔۔زمان کے بولنے پر بھی زرتاشہ جب پیچھے نہ ہٹی زمان زبردستی اسے سائیڈ پر کرتا اندر گھس آیا تھا۔

وہ اس کے کمرے میں موجود ہر چیز کو غور سے دیکھنے لگا تھا۔

آپ مجھے میری بریسلٹ دیں اور جائیں یہاں سے مجھے آپ سے کچھ نہیں جاننا۔۔وہ زمان کے سامنے جاتی ہوئی بولی۔۔

زمان جو اس سے بمشکل نظریں ہٹا پا رہا تھا۔زرتاشہ کے ایسے سامنے آ کر کھڑے ہونے پر دوبارہ اس کی نظریں زرتاشہ پر ٹک گئی تھی۔وہ کھلی شرٹ اور ٹراؤزر میں بکھرے بالوں کے ساتھ دوپٹے سے بے نیاز کھڑی تھی۔

اپنی چادر لو جاکر۔۔زمان کے سنجیدگی سے بولنے پر اس کا دھیان اپنی طرف گیا تھا۔خفت سے سرخ پڑتی وہ تیزی سے قریبی کرسی پر تہہ لگی اپنی چادر کو کھول کر اوڑھ چکی تھی۔

یہ لو اپنا بریسلٹ دوبارہ اس بات کا خیال رکھنا مجھے پسند نہیں میری پسند بے حجاب بن کر غیر لوگوں کے سامنے جائے۔۔زمان کی بات پر زرتاشہ نے بے ساختہ نظریں اٹھا کر زمان کو دیکھا تھا۔

زمان زرتاشہ کا ہاتھ پکڑتا اس کی ہتھیلی پر بریسلٹ رکھ چکا تھا۔

اس بار میں اپنی امانت میں خیانت برداشت نہیں کروں گا۔۔زرتاشہ کی بکھری لٹیں سنوارتے وہ سرد مہری سے بولا۔۔زرتاشہ نے تھوک نگلتے اسے دیکھا وہ زمان کی باتوں کا مطلب سمجھ رہی تھی لیکن وہ حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اس کو سوچوں میں ڈوبے دیکھ کر زمان اس کی پیشانی پر جھک کر اپنا دہکتا لمس چھوڑتا اسے اپنی سوچوں کے حصار میں چھوڑ کر واپس جا چکا تھا۔

***************

واشروم سےباہر نکلتی زمل اپنے بال سکھانے لگی تھی۔جب کمرے میں کسی کی موجود گی محسوس کرکے وہ ایک دم پلٹی۔۔

اپنے پیچھے کھڑے خان کو دیکھتی وہ اچھل پڑی تھی۔

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھتے اس نے خان کو گھورا۔

خان نے گہری نگاہوں سے اس کا بھیگا بھیگا سا خوشبوؤں سے معطر وجود کو دیکھا۔مہرون شلوار قمیض اس کی صاف شفاف رنگت پر بےحد جچ رہا تھا۔

گیلے بال اس کی کمر پر آبشار کی طرح بکھرے پڑے تھے۔کچھ پانی کے قطرے اس کی گردن اور چہرے پر دکھائی دے رہے تھے۔

خان کی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ گڑبڑا کر اپنا حولیہ دیکھتی تیزی سے پلٹ گئی تھی۔

میں تم سے ملنے آیا تھا۔خان کا جواب سنتے اس کے چہرے پر حیرانی کے تاثرات نمایا ہوئے۔

کوئی خاص وجہ ؟ زمل نے لب دبا کر پوچھا۔

وہ منہ بگاڑتی وہ اپنے دوپٹے کے لیے ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگی۔

کچھ دور ہی اسے بیڈ پر اپنا دوپٹہ پڑا ہوا نظر آیا۔خان نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دوپٹے کو دیکھا تھا۔

وہ تیزی سے بیڈ کی طرف بڑھتی اپنا دوپٹہ اٹھانے لگی تھی جب خان اس سے پہلے کی آگے بڑھتا اس کا دوپٹہ پکڑ چکا تھا۔

خان میرا دوپٹہ واپس کریں۔۔وہ شرمندہ سی اپنا رخ پھیر گئی تھی۔

اگر اتنی ہمت ہے مجھ سے لے کر دکھاؤ۔۔خان مسکراتا ہوا اسے زچ کرنے لگا تھا۔

زمل غصے سے پلٹتی خان سے اپنا دوپٹہ جھپٹنے لگی تھی۔لیکن اس سے پہلے ہی خان اس کا دوپٹہ اپنے ایک ہاتھ میں پکڑتا اوپر کی جانب کر چکا تھا۔

خان شرافت سے میرا دوپٹہ واپس کریں۔۔ زمل اس کے دراز قد کے سامنے چھوئی موئی سی لگ رہی تھی۔

میں کونسا بدمعاشی کر رہا ہوں۔۔خان اسے کوشیشیں کرتا دیکھ کر اپنی مسکراہٹ دباتا سنجیدگی سے بولا

زمل نے خان کو گھورتے اچھل کر دوپٹہ پکڑنا چاہا تھا جب خان اس کا دوپٹہ مزید بلند کر گیا۔۔

وہ ناکام کوششیں کرتی منہ بگاڑتی واپس رخ پھیر کر کھڑی ہوگئی۔

یہ اب اپنے پاس ہی رکھ لیں۔۔وہ تیزی سے اپنی الماری کی طرف بڑھنے لگی تھی جب دوپٹہ اس کی کمر کے گرد ڈالتے خان نے اسے پیچھے کھینچا تھا۔

چچچ اتنی جلدی ہمت ہار گئی تم۔۔۔خان اسے دوپٹے سے کھینچتا اسے اپنے بے حد قریب لے آیا تھا۔وہ خان کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے کپکپا اٹھی تھی۔

خان پلیز مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ کو ہوا کیا ہے ؟ پہلے آپ مجھ سے جان چھڑوانا چاہ رہے تھے اور اب خود میرے قریب آرہے ہیں ؟ زمل کے سوال کرنے پر وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا۔

اب تم مجھے میرے حق سے محروم کرو گی ؟ اس کے دائیں کان کے قریب جھکتے خان ہر لفظ پر زور دیتا ہوا بولا۔

زمل نے اس کی سانسیں اپنے بے حد قریب محسوس کرتے اپنی آنکھیں زور سے میچیں تھیں۔زمل کا ریکشن دیکھتا خان دلکشی سے مسکرایا۔اس کی گہری سبز آنکھوں میں بھی ایک خاص چمک دکھائی دے رہی تھی جس سے فلحال وہ خود انجان تھا۔

زمل کے بھیگے بالوں کی خوشبو خود میں اتارتا وہ اس کی سرد گردن پر اپنے ہونٹوں سے مہر لگاتا دوپٹہ اس کے کندھے پر ڈالتا دروازے کی جانب بڑھ گیا تھا۔

زمل نے دروازہ بند ہونے کی آواز سنتے ہی گہرا سانس لے کر اپنی پاگل ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالا تھا۔اپنے تپتے گالوں پر ٹھنڈے ہاتھ لگاتی وہ خود پر نظریں محسوس کرکے واپس پلٹی تھی خان کو دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا دیکھ کر ایک بار پھر وہ اچھل پڑی تھی۔

خان اس کا ریکشن دیکھنے کے لیے رکا تھا۔اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتا وہ مزید اسے تنگ کیے بنا چلا گیا تھا۔

زمل نے اس کے جاتے ہی شکر ادا کرتے ہوئے دروازے کو لاک لگا لیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *