My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 26)
Rate this Novel
My Girl (Episode 26)
My Girl by Zanoor
زمان کا معمول بن گیا تھا وہ ہر شام اپنے کام ختم کرتا زرتاشہ کے ساتھ وقت گزارنے آتا تھا زرتاشہ کو اس دن کے بعد سے اسفند کا کوئی فون نہیں آیا تھا البتہ سارا دن قاسم اس کے ساتھ رہتا تھا جبکہ ہر شام وہ زمان کے ساتھ گزارتی تھی۔
وہ فریش ہوکر باتھ روم سے نکلی تھی اپنے گیلے بالوں کو صاف کرتی اچھے سے کنگھی کرتے وہ کمرے میں چکر کاٹتی زمان کا انتظار کر رہی تھی زمان نے آج اسے کچھ دکھانا تھا جس کا وہ بے صبری سے انتطار کر رہی تھی۔
کچھ دیر بعد ہی کھڑکی پر ہونے والے ناک اور ساتھ ہی زمان کے اندر آنے پر وہ خاموشی سے ایک جگہ کھڑی ہوگئی تھی۔
زمان نے اسے دیکھتے ہی اپنے بازو پھیلائے تھے۔زرتاشہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ زمان کی باہوں میں سمائی تھی ۔
زمان نے محبت سے اس کے سر پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔جس سے زرتاشہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔اپنی زندگی کے ان حسین لمحوں کو وہ بھرپور طریقے سے انجوائے کر رہی تھی۔
کب سے انتظار کر رہی ہو ؟ زرتاشہ کے گیلے بالوں کی مہک خود میں اتارتے زمان نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ پوچھا تھا۔
زیادہ دیر نہیں ہوئی۔۔آپ نے مجھے کچھ دکھانا تھا شاید ؟ زرتاشہ نے زمان کی آنکھوں میں دیکھتے جیسے اسے یاد دلایا تھا۔
ہاں دکھانا تو ہے لیکن میرے سر میں درد ہو رہا ہے پہلے میرے سر کو دباو۔۔۔اسے بیڈ پر بیٹھاتے زمان اس کی گود میں سر رکھ گیا تھا۔
زرتاشہ نے نرمی سے اس کے سر کو دبانا شروع کیا تھا۔زمان سکون محسوس کرتے سونے لگا تھا۔کچھ ہی دیر میں وہ زرتاشہ کی گود میں سر رکھے سو گیا تھا۔
زرتاشہ زمان کے چہرے کو کافی دیر تکتی رہی تھی۔۔ڈنر کا ٹائم ہوتے ہی وہ مہناز بیگم کے پکارنے سے پہلے ہی زمان کا سر آہستہ سے سرہانے پر ٹکاتی کھانا کھانے چلی گئی تھی۔
کمرے میں آنے کے بعد کافی دیر زمان کا انتظار کرنے کے بعد وہ لائٹ اوف کرتی اس کے ساتھ ہی لیٹ گئی تھی۔
*****************
ہم پشاور کس کام سے آئے ہیں خان ؟ لیپ ٹاپ پر کام کرتے خان کو دیکھتے زمل نے آہستہ آواز میں خان سے پوچھا تھا۔
تمھاری بات پر عمل کر رہا ہوں یہاں موجود شیر خان کے کچھ چھپے ہوئے اڈوں کو ختم کرنے آیا ہوں۔۔اس کے بعد ہم بہاولپور چلیں گے۔۔خان نے لیپ ٹاپ پر ٹائیپنگ کرتے زمل کو اپنے ارادے بتائے تھے۔
آپ صبح سے بزی ہیں اب کچھ دیر ریسٹ کر لیں۔۔خان کے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھتی زمل بولی تھی۔وہ جب سے پشاور آئے تھے اس نے ایک بھی دن خان کو دو یا تین گھنٹے سے زیادہ سونے نہیں دیا تھا۔
یہ کام ختم کرکے ریسٹ ہی کرنا ہے۔۔تب تک مجھے ایک کپ چائے کا بنا دو۔۔خان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ زمل سے کہا تھا۔
زمل سر ہلاتی جھٹ سے اٹھ کر کیچن کی طرف گئی تھی۔رات کا ٹائم تھا اور تقریبا سب ملازم اپنے اپنے کاٹیج میں چلے گئے تھے۔اس لیے سارے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔زمل بھی بنا حجاب کیے گلے میں دوپٹہ ڈالے آسانی سے کسی کے بھی آنے کی فکر کیے کھڑی تھی کیونکہ خان نےاس کی سہولت کے لیے کسی بھی آدمی کو رات میں گھر کے اندر آنے سے منع کیا تھا۔
زمل چائے کپ میں ڈال رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے کسی کی موجود گی کا احساس ہوا تھا۔۔اس سے پہلے زمل چیختی ایک آدمی نے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔
زمل اپنے آپ کو چھڑوانے کی مکمل کوشش کر رہی تھی۔مگر اپنے پیچھے موجود دیو نما شخص کے آگے وہ بےبس تھی۔۔
اگر ہلکی سی بھی آواز نکالی تمھارا حشر بگاڑ دوں گا۔۔زمل اس آدمی کی آواز سنتی گھبرا گئی تھی۔
زمل شلف پر ہاتھ مارتی کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ اپنے پیچھے موجود شخص کو خود سے دور کر سکے۔۔
گرم پین جس میں سے ابھی بھی بھاپ نکل رہی تھی خوش قسمتی سے زمل کا ہاتھ اس پر گیا تھا۔۔زمل نے بنا کچھ سوچے سمجھے وہ اٹھا کر اپنے پیچھے موجود شخص کے سر پر مارنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب ٹھہری تھی لیکن پین میں موجود گرم چائے کے قطرے زمل کی گردن کو جھلسا گئے تھے۔۔
اپنے چہرے سے گرفت ڈھیلی پڑتے ہی زمل مچل کر اس کی گرفت سے نکلی تھی۔۔جبکہ وہ اونچی آواز سے خان کو پکارنے لگی تھی۔
خان۔۔۔آہہہ۔۔پیچھے موجود شخص نے زمل کے دوپٹے کو پکڑ کر کھینچا تھا جس سے زمل کا سانس گھٹنے لگا تھا۔
خان جو زمل کا انتظار کر رہا تھا اس کی چیخ سنتا فورا اپنی گن پکڑتا روم سے باہر نکلتا دبے قدموں سے کیچن کی طرف گیا تھا۔
کسی دوسرے شخص کو زمل کے قریب دیکھ کر اس کی رگیں تن گئی تھی۔۔غصے سے سارے چہرے پر سرخی پھیل گئی تھی۔
زمل کی حالت دیکھتے اپنے ہاتھ میں موجود گن پر اپنی گرفت مضبوط کرتے خان نے اس شخص کے بازو کا نشانہ لیا تھا جس سے اس نے زمل کو کندھے سے تھاما ہوا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ زمل کے منہ پر جمائے وہ اسے اپنے ساتھ کھینچ کر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
سائلنسر نہ لگے ہونے کی وجہ سے گن چلنے کی آواز زمل کے کان میں پڑی تھی ساتھ ہی خود پر گرفت ڈھیلی محسوس کرتی زمل تیزی سے اس سے دور ہوئی تھی۔
خان نے دوسری گولی اس کی ٹانگ پر ماری تھی جس سے وہ شخص تکلیف سے تڑپنے لگا تھا۔۔گن چلنے کی آواز پر گھر کی حفاظت پر معمور سارے گارڈز گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔۔
ایک سینکڈ سے پہلے اپنی نظریں جھکا لو ورنہ سب کی آنکھیں نکال دوں گا اور اس آدمی کو لے کر باہر نکل جاو ورنہ سب کی لاشیں بچھا دوں گا ۔۔۔زمل کو بے حجاب دیکھتے تیزی سے زمل کو اپنے حصار میں لیتا خان رخ پھیرتا غصے سے دھاڑا تھا۔
اس کو کوئی شخص میری اجازت کے بغیر ہاتھ نہیں لگائے گا۔۔اگر کسی نے میرے خلاف جانے کی کوشش کی اس کے ہاتھ کاٹ دوں گا۔۔زمل کے گرد حصار مضبوط کرتے وہ اس شخص کو گھسیٹ کر لے جاتے اپنے آدمیوں سے بولا تھا۔
جیسا آپ کا حکم خان۔۔خان کے آدمی مودب طریقے سے جواب دیتے چلے گئے تھے۔۔
میرا دل کرتا ہے اس کی کھال ادھیڑ دوں جس نے تمھیں تکلیف دی ہے۔۔
وہ آنکھیں نوچ لوں جس نے میری بیوی کو دیکھا ہے۔۔
وہ ہاتھ کاٹ دوں جس سے اس نے تمھیں چھوا ہے۔۔
خان شدت سے زمل کو خود میں بھینچے بول رہا تھا۔۔
زمل اس واقع سے ڈرتی خان کے سینے میں سر چھپائے کھڑی تھی۔۔خان کی باتیں سن کر خوف کی ایک سرد لہر اسے خود میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔
تمھیں کہیں چوٹ تو نہیں لگی ؟ اپنی گن ویسٹ میں رکھتے خان نے زمل کا چہرہ تھامتے نرمی سے پوچھا تھا۔
زمل نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں سے اس کی ساری جلد سرخ ہوئی پڑی تھی لیکن اس کے چہرے پر بھی ہلکی ہلکی انگلیوں کے نشانہ دکھائی دے رہے تھی۔
میری خانم۔۔۔خان نے محبت سے اس کی گردن پر ہونٹ رکھے تھے۔۔تم پر آنے والی ہر تکلیف کا بدلہ میں اس شخص کا خون نچوڑ کر لوں گا۔۔کسی کی جرت نہیں ہوگی دوبارہ تمھاری طرف دیکھنے کی بھی۔۔زمل کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے وہ شدت پسندی سے بولا تھا۔۔
زمل نے سختی سے آنکھیں میچ لی تھی۔۔یہ تکلیف و درد شاید اب ساری زندگی کے لیے اس کی قسمت میں لکھ دیے گئے تھے۔۔
زمل کو اپنے حصار میں لیتے خان اسے کمرے میں لے کر آیا تھا۔اتنی سکیورٹی سے بچ کر اس شخص کا زمل تک پہنچ جانا خان کے لیے شدید حیرت کا باعث تھا۔
زمل اچھا خاصا ڈر گئی تھی اسے ابھی تک اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔خان فرسٹ ایڈ باکس لے جانے لگا تھا جب زمل نے فورا اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
مجھے اکیلا مت چھوڑیں۔۔اس کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔
خانم میں یہاں ہی ہوں فرسٹ ایڈ باکس لینے جا رہا ہوں۔۔خان نے اس کے چہرے کو تھامتے نرم لہجے میں محبت سے کہا تھا۔۔
زمل نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا پھر گہرا سانس لے کر اپنا سر ہلایا تھا۔خان اس کے سر پر لب رکھتا واشروم میں سے ایڈ باکس لینے چلا گیا تھا۔
اس کی گردن سے بال ہٹاتے خان نے احتیاط سے دوائی لگائی تھی۔زمل کے لبوں سے بے ساختہ سسکی نکلی تھی۔۔
تم یہاں مزید محفوظ نہیں ہو اس لیے میں تمھیں بہاولپور دو دنوں تک بھیج دوں گا۔۔فرسٹ ایڈ باکس واشروم میں رکھ کر خان واپس آکر زمل کے پاس بیٹھا تھا
وہاں بھی میں آپ کے بغیر محفوظ نہیں رہوں گی خان۔۔زمل نے نم آنکھوں سے خان کو تکتے ہوئے کہا۔
خانم وہاں تم بالکل محفوظ رہو گی مجھ پر یقین رکھو۔۔خان نے نرمی سے اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔زمل نے بے ساختہ خان کی شرٹ پکڑ کر اس کے کندھے سے سر ٹکایا تھا۔۔
اپنا کندھا بھیگتے محسوس کرتے خان نے اپنے آپ کو ایک بار پھر زندگی میں بےبس محسوس کیا تھا۔
خانم وہاں میری مورے اور میری بہن زرتاشہ رہتی ہیں اس جگہ کا کسی کو علم نہیں۔۔۔بہت جلد میں یہاں کام ختم کرتے تمھارے پاس پہنچ جاوں گا۔۔خان نے زمل کی کمر کے گرد حصار باندھتے اسے خود میں زور سے بھینچ لیا تھا۔
میں کمزور نہیں ہوں خان۔۔۔لیکن میں کمزور ہو رہی ہوں۔۔وہ دھیمی آواز میں منمنائی تھی۔۔
تم میری خانم ہوں تم کبھی کمزور نہیں پڑو گی۔۔خان نے اس کی کمر سہلاتے ہوئے کہا تھا۔۔
زمل نے ایک گہرا سانس لیتے خان کے کلون کی خوشبو خود میں اتاری تھی۔۔خان کی موجودگی اسے سکون دے رہی تھی۔۔
میں نے آپ کے لیے چائے بنائے تھی۔ آپ کو چائے کی طلب ہو رہی ہوگی۔میں فریش ہوکر آپ کے لیے دوبارہ چائے بنا دیتی ہوں۔۔وہ خان سے دور ہوتے ہوئے اپنے لب کاٹتی ہلکے پھلکے لہجے میں بولتی ماحول میں موجود تناو کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
مجھے اس وقت کسی اور چیز کی طلب ہو رہی ہے۔۔خان اس کے ہونٹوں کو دیکھتا معنی خیز لہجے میں بولا تھا۔۔
زمل اس کی نظروں کا ارتکاز دیکھتی سٹپٹائی تھی۔۔
میں فریش ہونے جا رہی ہوں۔۔وہ پھرتی سے اٹھتی واشروم کی طرف بھاگی تھی۔۔اپنے پیچھے سے خان کا ہلکا سا قہقہہ سن کر زمل کے ہونٹوں پر بھی ہلکی مسکراہٹ ابھری تھی۔
*****************
زمان کی آنکھ آدھی رات کو کھلی تھی۔۔زرتاشہ کو اپنے قریب سویا دیکھ کر اس کی چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ نمایا ہوئی تھی۔
وہ سوتے ہوئے کوئی معصوم بچی لگ رہی تھی۔وہ نیند کی وادیوں میں گم زمان کے جذبات جگا رہی تھی۔۔
اس کو تنگ کرنے کا سوچتے زمان نے آہستہ سے اس کے دائیں گال پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔۔زرتاشہ زرا سا ہلکی بھی نہ تھا زمان نے جا بجا اس کے چہرے پر اپنا لمس چھوڑا تھا۔
زرتاشہ نیند میں اپنے چہرے پر جھلستا لمس محسوس کرتی کسمسائی تھی۔۔زمان نے اسے جگانے کے لیے زور سے اس کی گال میں دانٹ گاڑھے تھے۔۔
زرتاشہ کی آنکھیں پٹ سے کھلی تھیں۔۔اس نے آنکھیں پھیلائے بے ساختہ اپنے گال پر ہاتھ رکھتے شرارتی مسکان لیے زمان کو دیکھا تھا۔
جس طرح تم سو رہی تھی مجھے لگا کہیں بے ہوش ہی نہ ہوگئی ہو۔۔زمان نے اس کی ناک پر لب رکھتے شریر انداز میں کہا تھا۔
زرتاشہ اس کے بہکے انداز کو محسوس کرتی گھبرائی تھی۔اس کی بے ساختہ ہتھلیاں بھیگنے لگی تھیں۔۔
آپ نے مجھے کچھ دکھانا تھا۔۔اپنے خشک حلق تر کرتی زرتاشہ منمنائی۔۔
ہاں یہ دیکھو اسے میں نے کافی دیر سے اپنے پاس سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔۔زمان نے اسے ایک پرانی سی تصویر اپنی پاکٹ سے نکال کر پکڑائی تھی۔
وہ زرتاشہ کے نکاح کے دن والی تصویر تھی جس میں وہ سرخ جوڑا پہنے نروس سی خان کے ساتھ لگی بیٹھی نکاح نامے پر سائن کر رہی تھی۔
وہ دن یاد کرتے زرتاشہ کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے تھے شیر خان کے شہر سے باہر جانے کا فائدہ اٹھاتے خان نے موقع دیکھتے ہی زرتاشہ کا پہلی فرصت نکاح کر دیا تھا۔۔۔ان کی رخصتی ایک مہینے بعد طے پائی تھی۔۔لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا تبھی خان کی غیر موجودگی میں شیر خان نے اسے بیچ دیا تھا۔۔اپنا ماضی یاد کرتی وہ کانپ اٹھی تھی۔۔
ششش۔۔۔تمھارے یہ آنسو بہت انمول ہیں۔۔زمان نے آہستہ سے اس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنے تھے۔۔
مجھے بہت ڈر لگتا ہے زمان میرا ماضی مجھے کبھی جینے نہیں دے گا۔۔وہ اسفند کے بارے میں سوچتی کانپ اٹھی تھی۔۔
آپ کو تو مجھ سے کئی گنا زیادہ اچھی لڑکی مل جائے گی پھر آپ کیوں میرے پیچھے اپنی زندگی برباد کر رہے ہیں ؟؟ زرتاشہ سسکی تھی۔۔
I want you.
I want us.
I want it all.
With you.
Only you.
Because I love you jana You are my girl whom I love from bottom of my heart.You are my lifeline.You are my everything.
زمان نے اس کا چہرہ تھام کر ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے زرتاشہ کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا۔۔زرتاشہ جو سانس تھامے اسے سن رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو مزید روانی سے بہنے لگے تھے۔۔زمان نے اس کا ماتھا اپنے ماتھے سے ٹکاتے اپنے انگھوٹے سے اس کے آنسو صاف کیے تھے۔۔
Your tears are hurting me jana.
زمان نے اس کی آنکھوں پر نرمی سے لب رکھتے تکلیف دہ لہجے میں کہا تھا۔۔
آپ مجھ سے پہلے اتنے برے طریقے سے کیوں پیش آتے تھے ؟ زرتاشہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا۔
میں ناراض تھا تم سے۔۔۔میں چاہتا تھا جسے میں تکلیف میں رہا تم بھی میری تکلیف محسوس کرو۔۔میں بے وقوف تھا بھول گیا تھا کہ تم نے مجھ سے زیادہ تکلیف برداشت کی ہے۔زمان نے لب بھینچ کر اس کی نم پلکوں کو ہلکے سے چھوتے بتایا تھا۔۔
مجھے اپنے وجود سے نفرت محسوس ہوتی ہے زمان۔۔۔میں آپ کے قابل نہیں ہوں۔۔۔وہ سسکتے ہوئے بولی تھی۔۔
مجھے خود سے گھن سی محسوس ہوتی ہے جب خود پر ان چاہا لمس محسوس کرتی ہوں۔۔وہ زمان کی آنکھوں میں دیکھتے تکلیف سے مسکراتے ہوئے بولی تھی۔۔
آپ جائیں یہاں سے میں فلحال اکیلی رہنا چاہتی ہوں۔۔زمان کے چپ رہنے پر وہ زمان سے دور ہٹنے کی کوشش کرتی بولی تھی۔
میری نظروں میں تم سب سے بہادر لڑکی ہو جس نے ایک بار پھر جینا سیکھا اپنے ڈر کو اپنے راستے میں آنے نہیں دیا۔۔
میری یہ بات غور سے سنو اور اپنے ذہن میں بٹھا لو مجھے تمھارے ماضی سے فرق نہیں پڑتا میں خوش ہوں کیونکہ مجھے تم واپس مل گئی ہو۔۔اور میں یہ لمحات ماضی کو یاد کرکے گنوانا نہیں چاہتا میں تمھارے ساتھ ایک حسین زندگی جینا چاہتا ہوں۔۔زمان نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر شدتِ جذبات سے کہا تھا۔۔
زرتاشہ نم آنکھوں سے مسکرا اٹھی تھی زمان نے محبت سے اس کا ماتھا چوما تھا۔۔یہ قسمت ہی تھی جس نے اسے زرتاشہ سے ملایا تھا۔۔ورنہ نہ جانے کتنے سال وہ اسے ڈھونڈتا رہتا۔۔
**************
زمل کے سونے کا یقین کرتے خان اس کے سر پر بوسہ دے کر بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔وہ زمل کو میڈسن دے چکا تھا جس سے اب اس نے صبح ہی اٹھنا تھا۔۔اس نے سب سے پہلے قاسم کو کال کرکے کل پشاور بلایا تھا۔وہ زمل کو جلد سے جلد یہاں سے بھجوانا چاہتا تھا۔۔
زمل پر ایک نظر ڈالتا وہ کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔سب سے پہلے وہ اس آدمی سی نبٹنا چاہتا تھا جس نے اس کی بیوی کو دیکھنے ، چھونے اور تکلیف پہنچانے کی غلطی کردی تھی۔
خان لاونچ میں جاکر صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ اس کی ایک کال پر مطلوبہ شخص لاونچ میں اس کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔
خان کے حکم کے مطابق کسی نے اس آدمی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا لیکن اسے مرنے سے بچانے کے لیے اس کی مرہم پٹی کردی گئی تھی۔۔
اس کو کرسی پر باندھو اور اس کے منہ میں کچھ ٹھوسو اس کی ہلکی سی بھی آواز مجھے سنائی نہیں دینی چاہیے۔۔۔خان نفرت سے اس آدمی کو دیکھتے اپنے ساتھیوں سے بولا تھا۔
خان کے آرڈر پر اس آدمی کو کرسی پر باندھ دیا گیا تھا اور اس کا منہ بھی بند کر دیا گیا تھا۔
خان کے اشارے اس کے آدمیوں میں سے ایک نے اسے کٹر پکڑایا تھا۔۔
میں اپنی خانم کے معاملے میں بہت پوزیسیو ہوں تم نے غلطی کردی میری خانم کو اپنے ان گندے ہاتھوں سے چھونے کی۔۔اس کا دائیں ہاتھ پکڑتے خان نے اس کی پہلی انگلی کاٹی تھی۔۔
ایک تکلیف دہ چیخ مقابل کے حلق میں دبی تھی۔۔وہ بےبسی سے اور تکلیف سے تڑپ رہا تھا۔۔وہ تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ آسانی سے زمل کو قتل کر دے گا مگر اس نے غلط سوچا تھا۔
خان نے اپنا عمل کئی بار دہرایا تھا۔۔خون سفید فرش پر گرتا اس کا رنگ سرخ کرنے لگا تھا۔خان کی سفاکیت پر سارے آدمی کانپ رہے تھے۔۔ان لوگوں نے قصے سنے ہوئے تھے مگر آج پہلی بار اس بربریت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔۔
میں صرف ایک بار پوچھوں گا تمھیں یہاں کس نے بھیجا اگر تم نے جواب نہ دیا تمھاری آنکھیں ایک ایک کرکے نکال دوں گا جس سے تم نے میری بیوی کو بے حجاب دیکھا تھا۔۔خان سفاکیت سے بولا تھا۔۔مقابل بندھے آدمی نے زور سے سر ہلایا تھا۔۔
خان کے اشارے پر ایک آدمی نے اس کے چہرے سے ٹیپ اتاری تھی جب وہ طوطے کی طرح تکلیف سے بھرے لہجے میں بولنا شروع ہوا تھا۔۔
ا۔۔۔اسفند خان نے مج۔۔۔مجھے۔۔۔ا۔۔اس لڑکی کو مارنے کو ب۔۔بھینا تھا۔۔اس نے لڑکھڑاتی زبان میں بتایا تھا۔۔
اس کے جواب کے ساتھ ہی لاونچ میں گولی چلنے کی تیز آواز گونجی تھی
اس کی باڈی اسفند خان کو بھجوا دو اور یہ سارا لاونچ شیشے کی طرح مجھے ایک گھنٹے میں صاف ملنا چاہیے۔۔خان سرد مہری سے بولتا اپنے خون سے بھرے ہاتھوں اور گن کو لیتا گیسٹ روم میں فریش ہونے چلا گیا تھا۔۔وہ اس حالت میں اس کمرے میں بھی داخل نہیں ہونا چاہتا تھا جہاں زمل سو رہی تھی۔۔
فریش ہونے کے بعد لاونچ میں نظر ڈالتا خان زمل کے ساتھ لیٹ گیا تھا۔۔جب سے وہ “زرخان” سے “خان” بنا تھا یہ زندگی میں پہلی بار وہ ڈر گیا تھا۔۔زمل کی حالت دیکھ کر اس کے دل میں خوف پیدا ہوا تھا۔اس کو کھونے کا ہھر اسے احساس ہوا تھا زمل اس کی کمزوری بن چکی ہے۔۔
اپنی سوچوں پر لگام ڈالتے زمل کو اپنے حصار میں لیتا خان اس کے وجود کی خوشبو خود میں اتارتا نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
