My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 23)
Rate this Novel
My Girl (Episode 23)
My Girl by Zanoor
سوئٹزرلینڈ :
زما زڑگیہ۔۔یزدان نے محبت سے اس کے بال سہلائے۔۔زرش نے مندی مندی آنکھیں کھولتے یزدان کو دیکھا۔
ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں پر احاطہ کیا۔یزدان نے اس کی مسکراہٹ دیکھتے جھک کر اس کا ماتھے کو چوما۔
اب اٹھ جاو گیارہ بج گئے ہیں۔۔یزدان کے بتانے پر زرش کے آنکھیں پوری کھل گئی تھیں۔
آپ نے مجھے جلدی کیوں نہیں اٹھایا یزدان۔۔میں نماز بھی نہیں پڑھ سکی۔۔۔وہ کچھ برہم سی لگ رہی تھی۔
میں خود نو بجے اٹھوں ہوں تمھیں ہی شوق تھا رات کے ایک بجے باہر نکل کر گھومنے پھرنے کا۔۔۔یزدان نے اس کی ناک دبائی تھی۔
زرش نے منہ پھولایا تھا۔وہ اتنی خوبصورت جگہ موجود تھے اس کا دل ہر وقت باہر گھومنے پھرنے کو ہی کرتا تھا۔
یزدان کیا میں اتنی بری ہوں اب مجھے باہر بھی نہیں جانے دیتے ؟ آپ کو میری زرا پرواہ نہیں ہے۔۔وہ ہر بار کا حربا آزماتی یزدان کو اموشنل بلیک میل کرنے لگی۔
یزدان بھی ہر بار کی طرح اس کی رونے والی شکل دیکھتا پگھل گیا تھا۔
زما زڑگیہ میں نے ایسے کب کہا ؟ یزدان پریشان سا بولا۔
اب میرا باہر ناشتہ کرنے کو دل کر رہا ہے مجھے باہر لے کر چلیں گے۔۔۔وہ کہاں کی بات کہاں لے گئی تھی۔۔یزدان نے اس کی چالاکی سمجھتے سر نفی میں ہلایا۔
دو مہینے پہلے زرش مرتے مرتے بچی تھی۔یہ ایک معجزہ ہی تھا جو وہ بچ گئی۔خان کے کہنے پر وہ فورا زرش کو لے کر ہوسپٹل آئے تھے۔۔زرش تو بچ گئی تھی لیکن اس کا بچہ نہیں بچ سکا۔یہ یزدان اور زرش کے لیے سب سے مشکل وقت تھا۔زرش ڈیپریشن کا شکار ہونے لگی تھی۔زمل نے بھی اس کو خوش رکھنے کی بہت سی کوششیں کی تھیں۔
لیکن بدقسمتی سے وہ صحیح نہیں ہو رہی تھی۔
اس دوران یزدان نے خان سے سنیک آرگنائزیشن کو چھوڑنے کا کہا تھا۔خان پہلے اس کی بات پر بھڑک اٹھا پھر یزدان کے سمجھانے اور منانے پر وہ زرش اور یزدان کو یہاں سے خفیہ طور پر پاکستان سے نکلوا چکا تھا۔
ماحول بدلنے کے بعد زرش بھی صحت مند ہونے لگی تھی۔وہ یہاں اپنی خوشگوار زندگی کا آغاز کرچکے تھے۔
زرش جلدی سی فریش ہوچکی تھی۔یزدان کے بازوں میں بازوں ڈالے وہ باہر گھومنے پھرنے کے لیے نکل گئے تھے۔
************
زرتاشہ نے ڈر کی وجہ سے یونیورسٹی جانا بند کر دیا تھا۔مہناز بیگم اسے کئی بار یونیورسٹی جانے کا بول چکی تھیں۔زرتاشہ کے دل میں ایک انجانہ خوف بیٹھ گیا تھا اگر وہ باہر گئی تو اسفند اسے پکڑ لے گا۔۔
زرتاشہ جلدی سے یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہوجاؤ۔۔مہناز بیگم نے زبردستی زرتاشہ کو بیڈسے اٹھایا تھا۔
مورے میں نہیں جاؤں گی۔۔وہ نفی میں زور و شور سے سر ہلاتے ہوئے بول رہی تھی۔۔
تمھارے بھائی نے گارڈ کا انتظام کردیا ہے وہ تمھارے ساتھ جائے گا۔۔مہناز بیگم نے اسے بتایا۔
ک۔۔کون ؟ زرتاشہ نے چہرہ اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
قاسم آرہا ہے۔۔مہناز بیگم نے اسے بتایا۔وہ تھوڑا بہت ہی قاسم کے بارے میں جانتی تھی۔
مہناز بیگم کے کہنے پر وہ یونیورسٹی کے لیے تیار ہونے چلی گئی تھی۔
چادر لے کر اپنا بیگ اٹھاتی وہ نیچے آئی تھی جہاں قاسم کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔
السلام علیکم لالا۔۔ زرتاشہ نے دھیمی آواز میں اس سے سلام کیا۔
وعلیکم اسلام۔۔قاسم نے اس کی طرف دیکھے بنا جواب دیا تھا۔۔قاسم کے ساتھ یونیورسٹی پہنچ کر گاڑی سے اترتے زرتاشہ کی نظر ماہم پر پڑی تھی جو گاڑی سے اتر رہی تھی۔
زمان پر نظر پڑتے ہی اس نے اپنی نگاہیں پھیر لی تھیں۔ماہم اسے دیکھتے خوشی سے اس کے قریب آتی اس سے نہ آنے کی وجہ پوچھنے لگی تھی۔۔
زمان کی نظریں محسوس کرتے وہ پہلو بدل رہی تھی۔ماہم کا ہاتھ پکڑتی وہ کلاس لینے کے لیے چلی گئی تھی۔
زمان نے قاسم کو زرتاشہ کے پیچھے جاتے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں۔۔
یہ کون ہے زرتاشہ ؟ ماہم نے اپنے پیچھے آتے قاسم کو دیکھتے ہوئے زرتاشہ سے پوچھا۔
و۔۔وہ۔۔یہ میری حفاظت کے لیے ہمارے ساتھ رہیں گے۔۔ماہم نے حیرانی سے زرتاشہ کو دیکھا جس نے نظریں زمین کی طرف کرلی تھیں۔ماہم نے بھی بات کو زیادہ نہ کریدا اور اس سے دوسری باتیں کرنے لگی۔۔
***************
سفید رنگ کی فل سلیو پاؤں تک میکسی پہنے جس پر ہلکا ہلکا کام ہوا تھا۔اس کے ساتھ سفید ہی حجاب اور نقاب کیے۔زمل اپنے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے خان کا انتظار کر رہی تھی۔
یہ ڈریس خان نے ہی اسے صبح بھجوایا تھا۔زمل فنکشن میں جانے کا سوچ کر گھبرا رہی تھی۔
بیڈ پر پڑے موبائل پر میسج کی رنگ ٹون سنتے زمل نےفون اٹھایا تھا۔جس میں خان نے اسے ہوسٹل سے باہر آنے کا میسج کیا تھا۔
زمل میسج کا جواب دیتی موبائل اپنے ہاتھ میں لیتی گہرے سانس لیتی خود کو پرسکون کرتی باہر نکلی تھی۔
سامنے ہی خان کھڑا کسی سے کال پر بات کر رہا تھا۔بلیک تھری پیس سوٹ پہنے خان فون بند کر کے زمل کی طرف مڑا تھا۔
نقاب میں چھپی اس کی ہیزل براؤن آنکھوں کو دیکھ کر اسے بےساختہ زمل پر فخر محسوس ہوا تھا۔وہ حادثاتی طور پر زبردستی اس کی زندگی میں آنے والی لڑکی اب آہستہ آہستہ اس کے سخت دل کو موم کرتی بڑی شان و شوکت سے اس کے دل کی سلطنت پر براجمان ہوگئی تھی۔
خان نے خاموشی سے اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا۔زمل کو بیٹھاتے اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔
گاڑی میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔خان نے زمل کی گھبراہٹ محسوس کرتے اس کا گود میں دھڑا ہاتھ تھاما۔
خانم وہاں مجھ سے الگ مت ہونا۔۔مجھ سے پوچھے بغیر کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ کسی کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔۔تم فکر مت کرو میں تمھارے ساتھ ہی رہوں گا۔۔خان نے اس کے ہاتھ کی پشت کو اپنے انگوٹھے سے سہلایا تھا۔اس کے لمس سے زمل کی گھبراہٹ کم ہوگئی تھی۔ جبکہ خان کے منہ سے اپنے لیے خانم لفظ سن کر اسے خوشگوار احساسات محسوس ہوئے تھے
ایک بڑے سے ہوٹل کے باہر گاڑی روکتے خان نے ڈیش بورڈ سے اپنی گن نکالتے ویسٹ میں لگاتے چاقو نکلاتے اپنے شوز میں دیتے اسے پینٹ سے چھپا دیا تھا۔
زمل نے پریشانی سے خان کو دیکھا جو اس کی نظروں کے معنی کو اگنور کرتا گاڑی سے نکلا تھا۔
زمل کی جانب سے دروازہ کھولتے اس نے زمل کے سامنے کھڑے ہوتے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کے ماتھے پر اپنا پرحدت لمس چھوڑا۔زمل کی پلکیں لرزتے ہوئے جھک گئی تھیں۔
زمل سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو اس کے تنے ہوئے اعصابوں کو سکون بخش رہی تھی۔
مجھے بتائے بغیر کہیں مت جانا خانم۔۔جو بھی باتیں میں نے بتائی ہیں انھیں اچھے سے یاد رکھنا۔۔اندر کوئی بھی شریف نہیں ہیں وہاں مردوں سے لے کر عورتوں تک سب درندے ہیں ان کے اندر رحم نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔وہ سب شکاری ہیں اور تمھارے ڈر کو دیکھ کر تمھارا شکار کرنے کی کوشش کریں گے۔۔اس لیے تم نے ڈرنا نہیں۔۔خان کی باتوں سے وہ سہم گئی تھی۔
میں ان باتوں کا دھیان رکھو گی خان۔۔زمل نے ایک گہرا سانس بھرتے خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
خان نے اسے ہاتھ سے پکڑ کرباہر نکلاتے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگایا زمل نے خان کی گرفت پر گڑبڑا گئی تھی۔
خانم گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں کچھ یہاں ایسا ویسا کچھ نہیں کروں گا۔۔خان ذومعنی انداز میں بولا۔زمل مطلب سمجھتی سرخ پڑ گئی تھی۔
آر یو ریڈی ؟ خان نے ہال کے اندر داخل ہونے سے پہلے زمل سے پوچھا۔زمل نے دھیرے سے اپنا سر ہلایا تھا۔
خان اسے لیتا مین ہال میں داخل ہوا تھا۔اس کے چہرے پر سرد و سپاٹ تاثرات تھے۔وہاں رنگ و بو کا سیلاب چھایا ہوا تھا۔ایک طرف بنے سٹیج پر مختلف رقاصہ رقص کر رہی تھیں۔ان کے سامنے کھڑے مرد شرابوں کا جام ہاتھ میں تھامے شباب اور شراب دونوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
وہاں ہر طرح کے لوگ موجود تھے۔زمل وہاں موجود عورتوں کی بےباک ڈریسنگ دیکھتی نظریں جھکا گئی تھی۔
اپنا سر مت جھکاؤ۔۔خان کے سختی سے بولنے پر زمل تیر کی طرح سیدھی کھڑی ہوگئی تھی۔سب لوگ حیرت سے خان کے پہلو میں کھڑی اس حجابن کو دیکھ رہے تھے۔کچھ لوگ ناگواریت اور ناپسندیدگی سے زمل کو دیکھ رہے تھے جبکہ کچھ مرد ہوس زدہ نگاہوں سے اس کا چھپے ہوئے وجود کا ایکسرا کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔
یہ پہلی بار تھا جو خان اپنے ساتھ کسی عورت ذات کو لایا تھا۔وہاں موجود خان کی توجہ کی طلب گار عورتیں جلن اور حسد سے زمل کو گھور رہی تھیں۔
سب کی گندی نظریں زمل پر محسوس کرتے خان نے سب کو گھورتے اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرتے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔
سب خان کی وارننگ سمجھتے دوبارہ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے تھے۔
آگیا میرا بیٹا خان۔۔اپنے سامنے سے شیر خان کو آتے دیکھ کر خان نے اپنی مٹھیاں بھینچتے خود کو اس کا منہ توڑنے سے باز رکھا تھا۔
زمل شیر خان کو ڈرتی مزید خان کے ساتھ لگی تھی۔اس کے بازو پر موجود جلنے کا نشان اور کمر پر بیلٹوں کے نشان ابھی تک موجود تھے۔شیر خان کو دیکھتے اسے اپنے سارے نشانوں پر جلن سی محسوس ہونے لگی تھی۔
کتنی بار کہا ہے اپنی گندی زبان سے مجھے بیٹا نہ پکارا کرو تمھارے اس بڈھے دماغ میں یہ بات کب فٹ ہوگی ؟؟ خان بےزاریت سے گویا ہوا۔۔شیر خان کا چہرہ اہانت سے سرخ پڑا تھا۔خان کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ ارد گرد موجود لوگ آسانی سے سن پاتے۔۔
زبان سنبھال کر بات کرو خان۔۔ورنہ تمھیں ان سب کے سامنے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔۔شیر خان غرایا تھا۔اس کی آواز سے پورے ہال میں خاموشی چھا گئی تھی۔
تمھاری یہ دھمکیاں مجھے ڈرا نہیں سکتی۔۔۔شیر خان کی آنکھوں میں دیکھتے وہ نڈر انداز میں بولتا ہوا زمل کو لے کر آگے بڑھ گیا تھا۔
زمل سفید فراک میں ان شیطانوں کے درمیان پاکیزہ اپسرا لگ رہی تھی۔جبکہ اس کے ساتھ کھڑا خان بلیک تھری پیس سوٹ میں اپنی ساحرانہ پرسنیلٹی کے ساتھ ڈیول لگ رہا تھا۔
خانم میں دو منٹ کے لیے سٹیج پر جارہا ہوں یہاں سے ہلنا بھی مت۔۔ میری نظر تم پر ہی رہے گی۔۔۔خان اس کا گال اپنی دا انگلیوں سے چھو کر چلا گیا تھا۔
زمل کی نظریں خان پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔جس نے میوزک بند کرواتے مائک ہاتھ میں پکڑا تھا۔
اٹینشن ایوری بڈی۔۔اینڈ لسن ٹو می کئیر فلی۔۔جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ابو ہشام جو ہمیں ویپنز سمگل کرتا تھا اور جس کا بیٹا سنیک آرگنائزیشن کی ڈائرکٹرز کی ٹیم میں ایک اہم رکن تھا۔۔اسے میں نے قتل کردیا ہے۔۔خان نے بولتے ہوئے اپنی جیب سے انگوٹھی نکالی تھی۔سب خان کو خوف سے دیکھ رہے تھے۔جس نے رولز کے خلاف جاکر سنیک آرگنائزیشن کے اہم رکن کو قتل کردیا تھا۔
اور یہ انگوٹھی جیسے کہ اب میرے پاس ہے تو رولز کے مطابق اس کی سیٹ مجھے ملتی ہے جسے آج کے فنکشن پر میں کلیم کرتا ہوں اب سے میں ڈائرکٹرز کی ٹیم کا سربراہ ہوں۔۔اگر کسی کو اعتراض ہو وہ بتا سکتا ہے۔۔اپنا کوٹ ویسٹ سے پیچھے کرتے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے خان نے دراصل انھیں اپنی گن دکھاتے وارننگ دی تھی کہ اگر دم ہے تو میرے خلاف بول کر دکھاؤ۔۔
شیر خان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا خان ایسا کچھ کرے گا۔۔وہ خود اونر تھا سنیک آرگنائزیشن کا اور ڈائرکٹرز کی ٹیم اس کے انڈر کام کرتی تھی۔خان کسی کے انڈر کام نہیں کرتا تھا۔اور نہ ہی کسی ڈائرکٹر سے ملتا تھا۔لیکن اس آرگنائزیشن کی اگلی سیٹ چونکہ ڈائرکٹرز میں سے ہی کوئی ایک بندہ سنبھالتا ہے تو اس لیے شیر خان نے شروع سے ہی اسے ڈائرکٹرز کی ٹیم سے دور رکھا تھا۔
خان شیر خان کی طرف دیکھ طنزیہ مسکرایا تھا۔کسی نے بھی اس کے خلاف اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔سٹیج سے اترتے ہوئے اس کی نظر خاموش کھڑی زمل پر ہی تھی۔لوگوں نے خان کو گھیرے میں لیتے مبارک باد دینا شروع کی تھی۔
زمل خان کی بات پر زیادہ حیران نہیں ہوئی تھی۔اسے شروع سے ہی خان کے پیشے کا معلوم تھا۔
ہے بیوٹیفل لیڈی۔۔اچانک زمل کے قریب سوٹڈ بوٹڈ آدمی آیا تھا۔زمل نے ناگواریت سے شراب کی بو اپنے پاس محسوس کی تھی۔وہ فورا اس سے کچھ فاصلے پر ہوئی تھی۔اس آدمی نے زمل کی کلائی پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔
لوگوں میں گھیرے خان کی آنکھوں میں یہ منظر دیکھ کر خون اترا تھا۔سب کو دھکا دے کر ہٹاتے وہ تیزی سے زمل کے قریب گیا تھا۔
اس آدمی کو دھکا دے کر زمل سے دور کرتے اس نے زمل کو سر تا پیر تک دیکھا تھا۔زمل کا رنگ اڑا ہوا لگ رہا تھا۔خان کو دیکھتے زمل کو سکون ملا تھا۔
سب لوگ خان کی جانب متوجہ تھے جو اب سرخ آشام آنکھوں سے زمین پر گرے آدمی کو دیکھ رہا تھا۔وہ اسے جانتا تھا۔وہ بھی ان کے لیے کام کرتا تھا۔وہ آدمی کھڑا ہوتا ڈھیٹوں کی طرح بنا ڈرے زمل کو دیکھنے لگا تھا۔
اپنی آنکھیں بند کرو۔خان کی سرد آواز میں کی گئی سرگوشی پر زمل آنکھیں زور سے میچ گئی تھی۔
اپنی گن نکالتے خان نے اپنے سامنے کھڑے شخص پر تانی تھی۔
زمل کو اس کی گندی نگاہوں سے بچانے کے لیے وہ پہاڑ بن کر زمل کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔زمل کا روم روم سماعت بنا ہوا تھا۔
سب لوگ اپنی جگہ کھڑے خان کو گن پکڑے دیکھ رہے تھے۔
خان پاگل مت بنو گن نیچے کرو۔۔شیر خان اپنی مسکراہٹ چھپاتا خان سے بولا۔۔خان نے غصیلی نظروں سے شیر خان کی طرف دیکھتے اپنے سامنے کھڑے انسان کا نشانہ لیا تھا۔
گولی کی زوردار آواز پر سب کی نظریں زمین پر گرے بےجان وجود پر گری تھی۔خان نے اپنی گن میں موجود ساری گولیاں اس شخص کے وجود میں اتار دی تھیں۔
She is my girl If anyone try to touch her agian I will kill all of you without a blink.
خان زمین پر گرے بے جان وجود کی طرف دیکھتا وارننگ دے رہا تھا۔
زمل نے شور کی آواز سن کر آپنی آنکھیں وا کی تھی۔چمکتی ہوئی فلور ٹائل پر بکھڑے خون کے نشان اور بے جان وجود کو دیکھتے زمل کا رنگ سفید پڑا تھا۔
شیر خان چالاکی سے مسکرایا تھا۔اسے خان کی کمزوری مل گئی تھی۔ خان نے گن واپس اپنی ویسٹ میں لگاتے زمل کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔
وہ اس آدمی کو سب کے لیے عبرت کا نشان بنا کر چھوڑتا زمل کو اپنے ساتھ لگائے لے گیا تھا۔
زمل کو گاڑی میں بیٹھاتے اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔زمل جیسے صدمے میں گھری خاموش بیٹھی تھی۔
آپ۔۔آپ نے اسے کیوں مارا خان ؟ زمل نے خوف سے کانپتی آواز میں پوچھا۔
خانم وہ اچھا شخص نہیں تھا پہلے بھی بہت سی لڑکیوں کے ساتھ وہ غلط کر چکا تھا۔اگر میں اسے نہ مارتا وہ پھر کسی اور لڑکی کے ساتھ زور زبردستی کرنے چلا جاتا۔۔خان سپاٹ انداز میں بولا۔
زمل نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔۔ایسے لوگوں کو واقعی مار دینا چاہیے۔۔
ہم کہاں جارہے ہیں ؟ وہ مختلف راستہ دیکھتی خان سے پوچھنے لگی۔
ہم گھر جا رہے ہیں۔۔خان نے اس کی طرف گردن موڑتے جواب دیا۔
خان مجھے ہوسٹل چھوڑ کر آئیں۔۔وہ سنجیدگی سے بولی۔۔
خان نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا تھا۔آرام سے گاڑی اپنے گھر لیجاتے وہ باہر نکلا تھا۔زمل نے گھور کر خان کو دیکھا تھا۔
خانم تم باہر نکل رہی ہو یا سب کے سامنے اٹھا کر اندر لے جاؤں ؟ زمل کو کار کی سیٹ پر جمے ہوئے دیکھ کر خان نے ائبرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔
زمل تیزی سے باہر نکل آئی تھی۔زمل کو اگر پتا ہوتا خان آج اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے تو شاید وہ کار سے کبھی نہ نکلتی۔
خان پلیز مجھے ہوسٹل چھوڑ کر آئیں۔۔زمل اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
تم میری بیوی ہو زمل اور میرے ساتھ ہی رہا کرو گی اب چپ چاپ اندر چلو۔۔خان کے لہجے میں ایک دم سختی در آئی تھی۔خان جانتا تھا وہ جاتنی نمازی پرہیزی ہے کبھی بھی خان کی بات پر انکار نہیں کرے گی۔۔
لیکن آپ مجھے چھوڑنے والے تھے ؟ آپ نے کہا تھا یہ صرف کاغذی رشتہ ہے ؟ زمل نے کھوجتی نگاہوں سے خان کو دیکھا۔
میں نے اب فیصلہ بدل لیا ہے خانم۔۔تم میری بیوی ہو اور میں اب تم سے چاہ کر بھی کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔۔خان نے اس کے نقاب میں چھپے گال پر ہاتھ رکھا تھا۔
زمل اس کے ہاتھ کی گردش محسوس کرتی نظریں جھکا گئی تھی۔
کیا جب آپ کا دل کرے گا آپ مجھے چھوڑ دیں گے؟؟ زمل آج اس سے ساری باتیں کلئیر کرنا چاہتی تھی۔وہ جانتی تھی خان کو وہ اس کا حق لینے سے نہیں روم سکتی تبھی پہلے ساری باتیں کلئیر کرنا چاہتی تھی۔
میں نے ابھی کہا ہے اب دوبارہ بول رہا ہوں تمھیں اب مجھ سے رہائی کبھی نہیں ملے گی میں نے تمھیں خود سے دور جانے کا موقع دیا تھا۔لیکن تم نہیں گئی۔اب ساری زندگی تمھیں میرے ساتھ ہی گزارنی پڑے گی۔۔خان اسکا ہاتھ پکڑتا اپنے کمرے کی جانب لے جانے لگا تھا۔
کمرے میں داخل ہوتے خان نے اپنی بات مکمل کرتے اس کا نقاب چہرے سے ہٹایا تھا۔زمل لرزتی پلکوں کو جھکائے گلابی چہرہ لیے خان کی نظریں خود پر محسوس کرتی سمٹ رہی تھی۔۔
کیا آج میں اپنا حق لے سکتا ہو ؟ خان نے زمل کا نقاب ایک طرف پھینکتے اس کے نرم و گداز گال پر ہونٹ رکھتے پوچھا تھا۔
زمل چاہ کر بھی انکار نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے نظریں اٹھاتے خان کی سبز آنکھوں میں دیکھا تھا۔جہاں آج پہلی بار اسے اپنے لیے ایک نیا جذبہ نظر آرہا تھا۔اس نے آنکھیں بند کرتے منتظر نگاہوں سے خان کو دیکھتے اپنا سر ہلایا تھا۔
خان اس کے جواب پر کھل کر مسکرایا تھا۔پھر چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے وہ الماری کی طرف بڑھا اس میں سے مطلوب چیز نکالتے وہ زمل کے پاس آیا۔۔وہ کچھ دنوں پہلے ہی یہ زمل کے لیے اپنی پسند سے لایا تھا۔
اس کے جذبات تو کافی مہینے پہلے سے ہی بدلنے لگے تھے مگر احساس اسے اب ہوا تھا۔
خ۔۔۔خان۔۔
جاؤ چینج کر کے آؤ۔۔اسے گلابی رنگ کی ساڑھی پکڑاتے خان نے سرد لہجے میں کہا۔
میں یہ کیسے پہنوں گی خان ؟ اس نے لب کاٹتے شرم سے نظریں جھکالیں تھیں اسے پہننے کا سوچ کر ہی اس کے پسینے چھوٹ پڑے تھے۔
اپنے شوہر کا حکم نہیں مانو گی ؟ خان نے پینترا بدلہ۔۔زمل نے بےساختہ رخ پھیرا کچھ سوچتی وہ ساڑھی پکڑے واشروم کی طرف بڑھ گئی تھی۔
خان بےصبری سے بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔سر کے پیچھے بازو رکھے وہ بے تابی سے نظریں واشروم کے دروازے پر ٹکائے بیٹھا تھا۔
دس منٹ گزرے۔۔ پھر پندرہ۔۔۔ پھر بیس۔۔آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا مگر وہ باہر نہ آئی۔۔
خانم فورا باہر آؤ مجھے پتا ہے تم جان بوجھ کر باہر نہیں آرہی۔۔خان واشروم کا دروازہ کھٹکاتا ہوا بولا۔
زمل نے گھبراتے ہوئے خود پر نظریں ڈالی گلابی باریک شفون کی ساری پر تاری کا کام کیا گیا تھا جو اس کے نازک اندام سراپے پر بے حد جچ رہی تھی۔
مگر زمل کو اس کا بلاؤز بالکل پسند نہیں آیا تھا۔جس کا اگلا گلا انتہا کا گہرا تھا جبکہ پیچھے سارا ڈوریوں سے بند کیا گیا تھا۔
ساری کا پلو کھولتے اس نے کمر سے گزارتے اپنے دوسرے کندھے سے آگے کرکے خود کو چھپایا مگر وہ جانتی تھی یہ بے بنیاد سا احتجاج خان کے ارادے نہیں بدل سکتا۔
میں آرہی ہوں۔۔بس پانچ منٹ۔۔وہ خان کی آواز پر اچھلی تھی پھر خشک حلق تر کرتی مری مری آواز میں بولی۔
خانم میں پانچ تک گنوں گا ورنہ دروازہ توڑ کر اندر آجاؤں گا۔۔خان کی دھمکی پر وہ ایک گہرا سانس خارج کرتی دروازے کی طرف بڑھی۔
ٹک کی آواز پر دروازہ کے کھلنے پر خان فاتح مسکراہٹ سے تھوڑا پیچھے ہٹا تھا۔
لب دبا کر وہ جو زمل کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا اس کو ساڑھی کے پلو میں خود کو چھپاتے دیکھ خان بدمزہ ہوا۔
وہ کانپتی ٹانگوں سے باہر نکلی شرم سے لرزتی پلکیں جھکائے اس کی نظریں خان کی طرف اٹھنے سے انکاری تھیں۔۔
خانم۔۔مجھے حق ہے تم پر خود کو چھپاؤ مت۔۔اس کی طرف قدم بڑھاتے خان نے زمل کا چہرہ اوپر اٹھایا زمل کی نظریں خان سے ٹکرائی تھیں۔۔
خان کی نظروں سے نگاہیں ملانے پر اس کے گال مزید تپ اٹھے تھے۔وہ بے ساختہ سر ہلاتی نگاہیں جھکا گئی۔
خان نے اس کا چہرہ چھوڑتے اس کا پلوں دوسرے کندھے سر سرکایا۔۔اب پلو ایک کندھے پر ہی تھا۔
اس سے پیچھے قدم ہٹاتے خان نے اوپر سے لے کر نیچے تک غور سے زمل کو دیکھا جیسے اس کا ہر نقش زبر کر رہا ہو۔۔
گھبراہٹ سے زمل نے سختی سے آنکھیں میچ لی تھی۔خان کی جان لیوا قربت کا سوچتے ہی اس کی سانسیں اٹکنے لگی تھیں۔
خ۔۔خان۔۔مسلسل خان کے خاموش رہنے پر زمل نے کانپتی آواز میں اسے پکارا۔
میری طرف دیکھو خانم۔۔خان کے سرد لہجے میں بولنے پر زمل نے جھٹکے سے آنکھیں کھولتے اس کی طرف دیکھا۔
مجھے سے نظریں مت ہٹانا۔۔زمل کو بولتے خان نے نیچے جھکتے اپنے شوز میں چھپا چاقو نکالا تھا۔
زمل چاقو دیکھتی گھبرا گئی تھی۔اپنے ہونٹ تر کرتے وہ خان پر ہی نظریں جمائے کھڑی تھی۔آج اسے کافی دیر بعد خان سے خوف محسوس ہوا تھا۔
خان چاقو نکالتا اس کی طرف بڑھا۔۔زمل نے خان کو دیکھتے نظریں جھکا لی تھیں۔
تم نے میری بات نہیں مانی خانم اب سزا ملے گی۔۔ایک ہی جست میں اس کے قریب پہنچتے ٹھوڑی سے اس کا چہرہ تھام کر اٹھاتے خان نے بولتے ہی جھک کر اس کے ہونٹ کو شدت سے اپنی گرفت میں لیا۔
اس کے لمس سے خان کو اپنے پورے وجود میں سکون اترتا محسوس ہوا۔اس کا نچلا ہونٹ اپنے لبوں میں دباتے اس نے ہلکا سا کھینچا پھر آہستہ میں اس میں اپنے دانت گاڑھے۔زمل کی حالت ایسی تھی جیسے ابھی بے ہوش ہونے والی ہو۔۔
چاقو زمل کی کمر کی طرف لے جاتے خان نے پہلی نازک ڈوری کاٹی تھی۔زمل نے سختی سے خان کے کندھے کو دبوچا تھا۔جو اب بھی زمل کا سانس اپنی دسترس میں لیے ہوئے تھے۔
اس کے ہونٹوں کو آزاد کرتے بہکی نگاہوں سے خان نے زمل کو دیکھا جو تیز تیز سانس لیتی گلے تک سرخ پڑ گئی تھی۔اس کے گہرے گلے پر نظر پڑتے خان کا سانس سوکھا۔زمل کا پلو زمین پر گر چکا تھا۔
زمل کی کمر پر اپنا ہاتھ اوپر کی طرف بڑھاتے اس نے دوسری ڈوری کاٹی تھی۔زمل نے خان کے کندھے پر سر رکھ کر اپنا چہرہ چھپانا چاہا لیکن خان نے اسے ایسا کرنے ہی نہ دیا۔
اس کی گردن پر جھکتے خان نے اپنی ہونٹوں سے پھول کھلائے۔جبکہ کمر پر موجود چاقو والے ہاتھ نے اگلی ڈوری بھی کاٹ دی تھی۔اب صرف ایک نازک ڈوری سے سارا بلاؤز اٹکا ہوا تھا۔
زمل نے بےساختہ اپنے ہاتھوں سے آگے سے بلاؤز کو تھامنا چاہا مگر خان نے اس کا ہاتھ پکڑتے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔
دوبارہ اپنی جگہ سے ہاتھ مت ہلانا۔۔آخری ڈوری بھی خان کاٹ چکا تھا۔زمل بگڑے تنفس سے آنکھیں بند کر گئی تھی۔اس کی جان لیوا قربت زمل کو جھلسا رہی تھی۔خان کی سانسیں اپنے سینے کے قریب محسوس کرتے اس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تھا۔
خان نے اس کی بیوٹی بون پر ہونٹ رکھتے کندھے سے بلاؤز سر کادیا تھا۔جبکہ چاقو والا ہاتھ اب زمل کی کمر کو سہلا رہا تھا۔
خان میں برداشت نہیں کرپاؤں گی۔۔زمل نے بمشکل الفاظ ادا کیے۔خان مسکرایا۔۔اس کے کندھے پر اپنے تشنہ لب رکھتے وہ اس کی تیز دھڑکن صاف سن سکتا تھا۔
آج یہ ساری دوریاں میں ختم کردوں گا۔۔اجازت ہے ؟ اس کے چہرے کو تھامتے خان نے جابجا اپنا لمس چھوڑنا شروع کیا تھا۔وہ ایک بار پھر اجازت مانگ رہا تھا۔
زمل نے آنکھیں میچے سر ہلایا۔خان نے اجازت ملتے ہی دوسرے کندھے سے شرٹ کھسکاتے وہاں اپنے لب جماتے چاقو اس کی بیوٹی بون پر پھیرا۔بلیڈ کی ٹھنڈک محسوس کرتی زمل کپکپانے لگی تھی۔
اسے جھک کر اٹھاتے خان اسے بیڈ پر لے گیا تھا۔آج ان کے رشتے نے منزل پالی تھی۔دو روحوں کا ملاپ ہوگیا تھا۔
جاری ہے۔۔
