My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 04,05,06,07,08)
Rate this Novel
My Girl (Episode 04,05,06,07,08)
My Girl by Zanoor
مولوی علیم الدین نے جس شخص کو گھر بیچا تھا اس نے زمل کو تیس لاکھ گھر کے دے دیے تھے اور ساتھ ہی اسے ایک ہفتے کے اندر گھر خالی کرنے کا بول دیا تھا
زمل نے سارے پیسے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیے تھے جبکہ پانچ لاکھ روپے وہ اپنے ساتھ لے کر اس وقت مطلوبہ بینک میں آئی تھی جہاں اس نے رقم جمع کروائی تھی جس کے بدلے اسے ریڈ ریبن اور ایک رسید دی گئی تھی
آج رات آٹھ بجے دی فریش کیفے میں خان تمھیں ملے گا اور یہ ریڈ ریبن اپنی کلائی پر باندھ لینا ۔۔۔۔ بینک میں موجود لڑکی نے اسے ہدایت دی تھی وہ لڑکی نقاب میں چھپی زمل کو حیرت سے دیکھ رہی تھی جو خان سے ملنا چاہتی تھی یہ نہیں تھا کہ کبھی اس سے کوئی لڑکی ملنے نہیں آئی تھی بات یہ تھی کہ کبھی پردے میں چھپی لڑکی اس سے ملنے کے لیے نہیں آئی تھی
کیا یہ خان میرا کام کردے گا ؟ ۔۔ زمل نے اس لڑکی سے پوچھا تھا جو اس کی بات پر ہنسی تھی
تم خان کو نہیں جانتی پھر اس سے کام کیوں کروا رہی ہو ؟ اس لڑکی نے حیرت سے پوچھا تھا کیونکہ زیادہ تر جو لوگ یہاں آتے ہیں انھیں خان کے بارے میں اور اس کے کام سے واقفیت ہوتی تھی
زمل نے اس کی بات پر لب کاٹے تھے وہ اسے اصل وجہ بتانا نہیں چاہتی تھی لڑکی بھی اس کے کچھ نہ بولنے پر سمجھ چکی تھی کہ وہ اسے نہیں بتائے گی
تمھیں جو بھی کام ہوا خان تمھارا کام کردے گا۔۔۔ اس لڑکی کے تسلی دینے پر زمل اپنا حجاب اور نقاب ٹھیک کرتی بینک سے نکل گئی تھی خان سے ملنے کا سوچ کر ہی اسے خوف محسوس ہو رہا تھا وہ زندگی میں شاید ہی کبھی کسی نامحرم سے یوں ملنے گئی تھی لیکن کبھی یہ حالات بھی نہ تھے
اگر ابا زندہ ہوتے تو مجھے کبھی یوں در بدر نہ ہونا پڑتا۔۔۔ اپنے باپ کو یاد کرتی اس کی آنکھیں نم پڑی تھیں اور زرش کی ٹینشن اسے الگ ہو رہی تھی دو دن ہوچکے تھے اور زرش کی اسے کوئی خبر نہیں تھی وہ بس اس وقت اس کی حفاظت کی دعا ہی کرسکتی تھی لیکن اسے یقین تھا کہ اس کا رب اس کی بہن کو محفوظ رکھے گا
***********
خان آپ سے ملنے کے لیے ایک لڑکی نے رقم ڈپازٹ کروا دی ہے آج رات دی فریش کیفے میں۔۔۔ خان جو سنیک ہیڈ کوارٹر میں بنے اپنے آفس میں بیٹھا تھا اسے وہاں کے آپریٹر ارمغان نے آکر خبر دی تھی
اس لڑکی کی ساری ڈٹیلز کہاں ہے ؟؟ خان نے مصروف سے انداز میں ٹیبل پر رکھے اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرتے پوچھا تھا اس کی انگلیاں تیزی سے کچھ ٹائپ کررہی تھیں
سر آپ کو ای میل کر دی گئیں ہیں۔۔ ارمغان نے نظریں جھکائے جواب دیا تھا خان نے ہنکار بھرا تھا ارمغان نے ایک نظر خان کو دیکھا تھا جو بے نیاز سا اپنا کام کر رہا تھا ارمغان کو اپنا جواب مل گیا تھا وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا تھا
خان نے مطلوبہ ای میل کھولی تھیں جہاں زمل کی ساری ڈٹیلز موجود تھی وہ اپنی سکیورٹی کا خاص خیال رکھتا تھا کیونکہ اس کام میں اس کے ہزاروں دشمن تھے اور اسی طرح ایک بار اس پر ایسے ہی کلائنٹ سے میٹنگ پر اس پر ایک بار پہلے حملہ ہوچکا تھا جس کی وجہ سے وہ مزید چوکس رہتا تھا
اس نے فائل میں زمل کی انفارمیشن پڑھی تو ایک پل کو حیران رہ گیا تھا کہ ایک مولوی کی دین دار بیٹی کو اس سے کیا کام ہوگا۔۔۔؟ اس نے آخر پر زمل کی تصویر دیکھی تھی جو حجاب کے حالے میں چھپی ہوئی تھی اور اس کا آدھا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا اس کی صرف ہیزل براؤن آنکھیں ہی تصویر میں دکھائی دے رہی تھیں
اس کو یہ کلائنٹ انٹرسٹنگ لگ رہی تھی کیونکہ پہلے کبھی کوئی مڈل کلاس پردہ دار عورت اس سے ملنے نہیں آئی تھی زمل کی انفارمیشن پڑھنے کے بعد خان نے مطلوبہ فائل بند کرکے دوسری ای میل کھولی تھی جو انٹرنیشنل کلائنٹ کی تھی وہ زیادہ تر انٹرنیشنل ہی کام کرتا تھا مگر یہاں بھی وی آئی پی کلائنٹس کے کام وہ کرتا تھا
یہی اس کی زندگی تھی سنیک سروس کو سنبھالنا اور اپنا کام کرنا۔۔۔ اس کا نام خان اس سروس میں ٹاپ پر تھا لیکن اس ساری سروس کا مین کنٹرول شیر خان کے پاس ہی تھا جس سے خان کو شدید نفرت تھی
************
یزدان نے خان کے حکم کے مطابق رات کو کچھ آدمیوں کو بھیج کر اسلم کا قتل کروا دیا تھا لیکن زرش سے وہ ایک بار بھی اب تک نہیں ملا تھا
اس سے رو برو ملنے کا سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی وہ اپنے کمرے میں فریش ہوتا زرش سے ملنے کے لیے اس کی طرف بڑھا تھا زرش کو تھرڈ فلور پر رکھا گیا تھا خان ولا خاصا بڑھا تھا جو ٹرپل سٹرویز پر مشتمل ایک وسیع رقبے پر پھیلا تھا اس گھر کی ایک ایک چیز اس کی قیمت کا منہ بولتا ثبوت تھی ایک بڑی تعداد ملازموں کی اس گھر کو چمکا کر رکھتی تھی
” وفاداری ” اس کام میں سب سے زیاد اہمیت رکھتی تھی اور خان کے پاس کرنے والے سب اس کے وفادار لوگ تھے خان کے بعد وہ لوگ سب سے زیادہ عزت یزدان کی کرتے تھے جو خان کی طرح ہی سخت گیر تھا مگر اس کی طبیعت میں نرمی کا عنصر بھی تھا جو خان میں بالکل نہیں پایا جاتا تھا
یزدان گراونڈ فلور پر لگی لفٹ کے ذریعے تھرڈ فلور پر گیا تھا جہاں پہلے ہی کمرے میں زرش کو رکھا گیا تھا وہ مضبوط قدم اٹھاتا اس روم کی جانب بڑھا تھا اس نے آہستہ سے دروازہ ناک کیا تھا
زرش جو بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی دروازے پر ناک ہونے کی وجہ سے فورا اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس نے تیزی سے اپنی چادر سے خود کو اچھے سے کور کیا تھا دو دن سے اس کمرے میں بند رہ کر اسے کمرے کی سفید دیواروں سے وحشت سی ہونے لگی تھی
یزدان روم کا لاک کھول کر اندر داخل ہوا تو اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں زرش نے اسے دیکھتے ہی اپنا چہرہ ڈھانپ لیا تھا یزدان نے دروازہ آدھ کھلا چھوڑ دیا تھا تاکہ زرش اس سے ڈرے نہ۔۔ اس نے دو منٹ بعد دھیرے سے اپنی نظریں اٹھا کر زرش کو دیکھا تھا
اس کو چادر میں خود کو چھپائے دیکھ کر اس کے لبوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ ابھری تھی اس کی حیا اور پردہ ہی تھا جس نے یزدان کے دل کی دنیا میں ہلچل مچا دی تھی
کون ہیں آپ ؟؟ اور مجھے یہاں کیوں قید کیا ہوا ہے ؟؟ یزدان کے کچھ نہ بولنے پر وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتی سخت لہجے میں پوچھ رہی تھی اس نے صرف ایک نظر یزدان پر ڈالی تھی پھر اپنی نگاہیں جھکا لی تھیں دیدے پھاڑ کر لڑکوں کو تاڑنا اس کو سخت ناپسند تھا چاہے پھر جنسِ مخالف کتنا ہی حسین و خوبصورت کیوں نہ ہو۔۔۔
میں آپ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔ یزدان خان نے صاف بات کی تھی اسے گھما پھرا کر باتیں کرنا پسند نہیں تھا یزدان کی بات پر غصے سے زرش کا چہرہ سرخ پڑا تھا
مجھے آپ سے یا کسی سے بھی کوئی نکاح نہیں کرنا۔۔۔ وہ دبا دبا سا چیخی تھی۔۔ مجھے ابھی اور اسی وقت یہاں سے جانے دیں۔۔۔زرش سے اسے ایسے ہی کسی جواب کی امید تھی وہ جانتا تھا وہ عام لڑکیوں سے مختلف ہے وہ خاص ہے لیکن اب وہ خاص لڑکی صرف اور صرف یزدان خان کی تھی ۔۔۔
نام کیا ہے آپ کا ؟؟! زرش کی بات کو اگنور کرتے اس نے تحمل سے پوچھا تھا اسے ابھی تک ززش کے نام تک کا علم نہیں تھا کیسا شخص تھا دو دن سے وہ اس کی قید میں تھی دو سال سے وہ اس کی محبت میں پاگل تھا مگر ابھی تک اس کے نام کو جاننے سے محروم تھا
زرش نے غصے سے اپنی چادر پر گرفت مضبوط کی تھی اور غصے سے اس کو گھورا تھا مگر پھر وہ اپنے غصے پر قابو کرتی بولی تھی
بھائی آپ کو خدا کا واسطہ پلیز مجھے جانے دیں آپ کو ہزاروں لڑکیاں مل جائیں گی۔۔۔
اس کی منہ سے خود کے لیے ایک بار پھر بھائی لفظ سن کر یزدان کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا اس نے اب کی بار خود اسے غصے سے گھورا تھا
پہلی بات زما زڑگیہ (میرے دل ) کہ میرے علاوہ دنیا کے سب لوگ آپ کے بھائی ہیں اور فلحال آپ کے لیے بھی میرے دل میں کوئی بہن چارا نہیں ہے اس لیے بہتر کہ میرے ساتھ نکاح کرلیں اس کے بعد آپ جہاں کہیں گی میں آپ کو لے جاؤں گا۔۔۔ یزدان کی بات پر اس نے اپنے دانت پیسے تھے اسے زما زڑگیہ کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا ورنہ وہ ضرور یزدان کو کھڑی کھڑی سنا دیتی۔
مجھے منظور ہے لیکن نکاح کے بعد میں فورا اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔۔۔ زرش نے سوچ کرجواب دیا تھا اس روم میں رہ کر وہ یہاں سے کبھی نہیں نکل سکتی تھی
بالکل رات کو نکاح کے فورا بعد میں آپ کو آپ کے گھر والوں سے ملوانے لے جاؤں گا اب اپنا نام بتا دیں۔۔۔ یزدان نے آخر میں ایک بار پھر سے اس سے نام پوچھا تھا اس کا نام اب معلوم کروانا اس کے لیے مشکل نہیں تھا مگر وہ سب کچھ زرش سے جاننا چاہتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اس سے بار بار نام پوچھ رہا تھا
زرش۔۔۔ اس نے سرگوشی نما آواز میں اسے اپنا نام بتایا تھا
” زرش یزدان خان ” یزدان اس کا اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر نام منہ میں بڑبڑاتا ہوا دلفریبی سے مسکرایا تھا اور ایک نظر اس کی گہری کالی آنکھوں میں دیکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا
***********
خان کو یزدان کے اسلم کو ختم کرنے کی خبر مل چکی تھی جس سے وہ مطمئن ہو گیا تھا لیکن وہ زرش کو یزدان کی پہنچ سے کہیں دور بھیجنا چاہتا تھا جس کا انتظام آج اس نے اپنا کام مکمل کرکے آکر کرنا تھا
ابھی وہ بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس اپنی سبز سرد آنکھوں کے ساتھ اپنی بھرپور وجاہت سے اپنی گاڑی سے نکلا تھا اور کیفے میں داخل ہوا تھا جس کا مینجر اسے دیکھتے ہی فورا اس کے قریب گیا تھا یہ کیفے بھی ان کی ہی آرگنائزیشن کا حصہ تھی تاکہ محفوظ طریقے سے اپنے کلائنٹس سے وہ لوگ مل سکیں گزرے پانچ سال میں اس آر گنائزیشن نے اپنے گہرے پنجے یہاں گاڑھ لیے تھے ان کا یہاں نام بولا جاتا تھا
خان۔۔۔ مینجر اس کے قریب آتا بولا تھا خان نے اس کو دیکھ کر ہلکا سا اپنے سر کو خم دیا تھا
مجھے اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو بتا دوں گا اب جاؤ یہاں سے۔۔۔ خان سرد سپاٹ آواز میں بولا تھا مینجر اپنا سر ہلاتا تیزی سے وہاں سے غائب ہوا تھا
خان اپنے مخصوص ٹیبل پر جاکر بیٹھا تھا جہاں سے کیفے سے باہر روڈ کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا مگر باہر سے لوگ اندر نہیں دیکھ پاتے تھے باہر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہو رہی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیز بارش میں بدل گئی تھی
وہ اپنی ٹانگ پر ٹانگ رکھے کروفر سے بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا کیفے میں عام لوگ بھی موجود تھے جس میں خان اپنی پرسنیلٹی کی وجہ سے سب میں نمایاں ہو رہا تھا کافی لڑکیاں مڑ مڑ کر اکیلے بیٹھے خان کو تک رہی تھی جس سے بے نیاز وہ اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھ رہا تھا جو آٹھ بج کر پانچ منٹ کا بتا رہی تھی اس کو لوگوں کا انتظار کرنا پسند نہیں تھا تبھی وہ جانے کے لیے اٹھا تھا جب ایک لڑکی کو تیزی سے کیفے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ ایک پل کو رکا تھا اور اس کی کلائی میں ریڈ ریبن دیکھ کر وہ واپس بیٹھ گیا تھا
زمل بارش میں تقریبا پوری بھیگ چکی تھی اس کی چادر جس سے اس نے نقاب کیا تھا وہ بھی ساری بھیگی ہوئی تھی وہ ٹائم پر گھر سے نکلی تھی مگر بارش کی وجہ سے وہ لیٹ ہوگئی تھی
اس کے ہاتھ میں ریبن دیکھتا ایک ویٹر اس کے پاس آیا تھا اور اسے اشارہ کرتا خان کے ٹیبل کی طرف لے جانے لگا تھا
” خان ؟ ” زمل نے بیٹھنے سے پہلے دھیمی آواز میں پوچھا تھا خان نے اپنی نظریں گلاس کے پار روڈ پر گاڑھتے ہوئے اپنے سر کو خم دیا تھا
زمل اپنی چادر درست کرتی اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھی اور اپنے لب کاٹتی وہ آہستہ آواز میں اس سے ملنے کا مقصد بتانے لگی تھی
مجھے یہاں کہ ایک لوکل گنڈے ش۔۔ شاکر کا ق۔۔۔ق۔۔قتل کروانا ہے۔۔۔اس کے بولنے پر خان نے اسے دیکھا تھا اس کی نظریں خود پر محسوس کرتی زمل نروس ہو رہی تھی اور گود میں دھرے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخانے لگی تھی خان کی نظریں اسے اپنے وجود کے پار ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں
وجہ ؟؟ خان نے سرد آواز میں سنجیدگی سے پوچھا تھا
و۔۔۔وہ میری بہن کو زبردستی اٹھا کر لے گیا ہے ا۔۔اس کی وجہ سے میرے ابا بھی مر گئے ہیں اور پولیس میری مدد نہیں کر رہی۔۔۔ وہ کانپتے لہجے میں دھیمی آواز میں بول رہی تھی خان نے زمل پر سے دوبارہ اپنی نظریں ہٹا لی تھیں
خان اسے مار کر میری بہن واپس لا دیں آپ جتنی رقم کہیں گے میں دے دوں گی۔۔ وہ آخر میں مضبوط لہجے میں بولی تھی خان کی آنکھیں زمل کی بات پر طنزیہ مسکرائی تھیں مگر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی رمق تک نہ تھی
دس کڑوڑ۔۔۔ خان نے اپنا معاوضہ بتایا تھا جسے سن کر زمل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں
ج۔۔۔جی ؟؟ زمل نے زبان سے اپنے ہونٹوں کو تر کرتے بے یقینی سے اس کو دیکھا تھا اتنے پیسے تو وہ ساری زندگی بھی جمع نہیں کرسکتی تھی
خان کو ایک منٹ لگا تھا یہ جاننے میں کہ یزدان جو لڑکی لایا ہے وہ زمل کی بہن ہے اب وہ آسانی سے اس لڑکی کو یزدان کی زندگی سے غائب کر سکتا تھا وہ ایک تیر سے دو نشان لینے لگا تھا
کل صبح تک تمھیں تمھاری بہن مل جائے گی مگر دو گھنٹے کے اندر اندر تمھیں یہ شہر چھوڑ کر جانا ہوگا اور دوبارہ یہاں واپس آنے کا سوچنا بھی مت۔۔ اس کے بدلے میں میں تمھارا کام ایک لاکھ میں کردوں گا۔۔۔ خان نے سنجیدگی سے کہا تھا
زمل نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے خان کو دیکھا تھا ہیزل براؤن آنکھوں میں ابھرتی خوشی کو خان نے گہری نظروں سے دیکھا تھا پھر اپنا سر جھٹک کر وہ اپنی نظروں کا رخ موڑ گیا تھا
تری آنکھیں
بڑی گہری
بہت ہی خُوبصورت ہیں
اجازت ہو تو
میں کُچھ دیر اِن میں
جھانک کر دیکھوں
کہ مُجھ کو چاند کی مانند
جھیلوں میں اترنا
لُطف دیتا ہے
تھینک یو۔۔۔ وہ خوشی سے بولی تھی وہ ویسے بھی لاہور اپنی پھپھو کے پاس جانے کا ہی سوچ رہی تھی اس لیے اس کا کل ہی لاہور جانے میں مشکل نہیں ہوگی۔۔
خان اسے ایک نظر دیکھتا اٹھ کر وہاں سے خاموشی سے چلا گیا تھا زمل جو اس سے پوچھنے والی تھی کہ وہ اس کو رقم کہاں دے مگر خان کے جانے پر وہ بھی خاموشی سے اٹھ گئی تھی
*************
یزدان نے شام کو ہی سارے نکاح کے انتظامات کروا لیے تھے اس نے خان کو اپنے نکاح کی معلومات نہیں دی کیونکہ اسے علم تھا خان اس کا نکاح کبھی نہیں ہونے دیتا اس لیے سب سے چھپ کر اس نےسارا انتظام کیا تھا
زرش کو ایک سادہ ساجوڑا اور ساتھ اپنی ایک کالی چادر اس نے بھجوا دی تھی زرش بھی ناک منہ چڑھا کر اپنے کپڑے بدل کر تیار بیٹھ گئی تھی اسے زمل اور اپنے ابا کی شدید یاد آرہی تھی
اس کے پاس گل نامی ملازمہ بیٹھی تھی جب یزدان کے ساتھ کچھ لوگ روم میں آئے تھے نکاح کے ایجاب و مراحل کے وقت زرش نے ہچکچاتے ہوئے قبول ہے کہا تھا
زرش ولد علیم الدین آپ کا نکاح یزدان خان ولد عمر خان سے بمعہ حق مہر ایک کڑوڑ روپیہ کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟
زرش نے ایک گہری سانس لی تھی اس کی غیر اختیاری نگاہ یزدان خان پر گئی تھی جو منتظر نگاہوں سے اس پر ہی نظریں ٹکائے بیٹھا تھا
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
اس نے نظریں جھکائے جواب دیا تھا اسی طرح یزدان خان سے بھی پوچھا گیا تھا جس نے جھٹ سے جواب دیتے زرش کو اپنا محرم بنا ڈالا تھا
نکاح کے بعد وہ سب سے گلے مل رہا تھا اس کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا
مبارک ہو بھابھی۔۔ پاس بیٹھی گل نے دھیمی آواز میں کہا تھا اور مسکرا کر اسے دیکھتی وہ بھی باہر چلی گئی تھی
اب کمرہ خالی ہوچکا تھا یزدان بھی باہر گیا ہوا تھا زرش ساکت سی بیڈ پر بیٹھی تھی زندگی نے کیسا پلٹا لیا تھا وہ جو کبھی اپنے گھر خوش باش رہ رہی تھی اب کہاں پہنچ چکی تھی اسے خود علم نہ تھا
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب یزدان روم میں داخل ہوا تھا
زما زڑگیہ ( میرے دل )۔۔۔ یزدان نے اسے گھمبیر لہجے میں پکارا تھا زرش جھٹکے سے اپنی سوچوں سے باہر آئی تھی بے اختیار اس کی نگاہیں یزدان سے ملی تھیں
گرے آنکھوں میں ایک چمک صاف دکھائی دے رہی تھی وہ گہری نگاہوں سے استحقاق بھری نگاہوں سے زرش کو دیکھ رہا تھا
اب مجھے میرے گھر لے کر جائیں۔۔ وہ اس کی نگاہوں سے نروس ہوتی دھیمے لہجے میں بولی تھی۔۔
میں ابھی آپ کو لے کر چلتا ہو پہلے اپنا چہرہ تو دکھائیں زما زڑگیہ(میرے دل )۔۔۔وہ اس کی جانب اپنے قدم اٹھاتا گہرے لہجے میں بولا تھا اس کی بات پر وہ سمٹ سی گئی تھی اسے زما زڑگیہ کا مطلب سمجھ نہیں آرہا تھا مگر جیسے یزدان بول رہا تھا یہ لفظ اس کی دل کی دھڑکنوں کو منتشر کر رہا تھا
و۔۔۔وہ آپ پہلے مجھے میرے گھر لے کر جائیں۔۔۔ وہ گھبرائی گھبرائی سی بولی تھی
یزدان اس کے قریب بیڈ کے پاس جاکر رکا تھا خاموشی سے اس نے اپنا ہاتھ زرش کے آگے بڑھایا تھا وہ لب کاٹتی اس کے ہاتھ کو ایک نظر دیکھتی دھیرے سے اپنا کانپتا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ چکی تھی یزدان نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اسے کھڑا کیا تھا
زرش نظریں جھکائے اب اس کے سامنے کھڑی تھی ساری بہادری اس کی جھاگ کی طرح بیٹھ چکی تھی یزدان نے اس کی تھوڑی کے نیچے دو انگلیاں رکھتے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا جس سے اس کی نگاہیں یزدان خان سے ملی تھیں
زرش یزدان خان اگر آپ کی اجازت ہو تو آپ کا چہرہ دیکھنے کا منتظر ہوں۔۔ وہ دھیمے مگر گہرے لہجے میں بول رہا تھا زرش کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا
اس نے لب کاٹتے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا تھا اور اپنی نگاہیں جھکا لی تھیں یزدان اس کے چہرے کو دیکھتے ساکت سا کھڑا تھا بے اختیار اس نے زرش کے چہرے پر جھکتے اس کی بے داغ چمکتی پیشانی پر اپنے تشنئہ لب رکھے تھے ایک سکون سا یزدان کو اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہوا تھا
یزدان کا لمس محسوس کرتی وہ جی جان سے کانپ گئی تھی وہ اس سے پیچھے ہٹا تھا اور اپنی جیب سے اس نے ایک لاکٹ نکالا تھا جس پر چھوٹے لفظوں میں زما زڑگیہ لکھا ہوا تھا
اس نے آنکھیں بند کیے کھڑی زرش کے کندھے سے چادر ہٹائی تھی اور لاکٹ اس کے گلے میں پہنایا تھا اس کا نازک وجود یزدان کی انگلیوں کا لمس محسوس کرتی ہولے ہولے لرز رہی تھی
اس کے گلے میں لاکٹ پہنا کر وہ پیچھے ہٹا تھا جب اس کا اچانک فون رنگ ہوا تھا فون پر خان کی کال دیکھ کر وہ تیزی سے زرش سے بولا تھا
زما زڑگیہ آپ پانچ منٹ انتظار کریں میں یہ کال سن کر آیا۔۔ وہ اسے ایکسکیوز کرتا روم سے باہر چلا گیا تھا
یزدان تمھارے لیے ایک ضروری کام ہے تمھیں ابھی کہ ابھی پشاور کے لیے نکلنا ہے وہاں ایک کلائنٹ سے ملاقات کرکے تم نے اپنا کام ایک دن میں کرنا ہے۔۔۔ خان کی سرد آواز سن کر یزدان نے پہلی بار جانے سے اعتراض کیا تھا
خان میرے علاوہ کسی اور کو بھیج دو۔۔ یزدان کا جواب سن کر وہ پل میں آگ بگولہ ہوا تھا
تم میری بات ماننے سے انکار کر رہے ہو ؟؟ اس نے سخت لہجے میں پوچھا تھا اس کی آواز میں غصہ محسوس کر کے یزدان بے لب بھینچے تھے
ٹھیک یے خان میں ابھی نکل رہا ہوں لیکن زرش کی حفاظت تمھاری زمہ داری ہوگی۔۔ اس نے خان سے کہا تھا
خان ولا میں اسے کوئی پریشانی نہیں ہوگی تم فورا اپنے کام کے لیے نکلو۔۔۔ خان نے بات کرکے کال کاٹ دی تھی یزدان لب بھینچ کر دوبارہ روم میں گیا تھا جہاں وہ اپنے گھر جانے کے انتظار میں بیٹھی تھی
زما زڑگیہ مجھے ایک ضروری کام سے ابھی پشاور کے لیے جانا پڑ رہا ہے میں دو دن بعد آکر آپ کو آپ کے گھر والوں سے ملوانے لے جاؤں گا۔۔۔ یزدان کی بات پر زرش کو شدید غصہ آیا تھا
آپ اپنی بات سے پھر رہے ہیں۔۔ وہ غصے سے بولی تھی
بالکل نہیں زما زڑگیہ میں واپس آتے ہی آپ کو لے جاؤں گا۔۔۔۔ اس کے پاس آتے یزدان سنجیدگی سے بولا تھا اور زرش کے اعتراض کرنے سے پہلے وہ اس کی روشن پیشانی پر آخری بار اپنا لمس چھوڑ کر جا چکا تھا
کبھی لفظ بھول جاؤں کبھی بات بھول جاؤں![]()
![]()
میں تجھے اس قدر چاہوں اپنی ذات بھول جاؤں![]()
![]()
کبھی جو چل دوں اٹھ کے پاس تیرے سے ![]()
![]()
دعا ہے میری خود کو تیرے پاس بھول جاؤں![]()
![]()
************
خان رات کے تیسرے پہر واپس گھر لوٹا تھا کام میں اس قدر مصروف رہنے کی اسے ہمیشہ سے ہی عادت تھی کچھ گھنٹے سونے کے بعد وہ سات بجے کے قریب اٹھا تھا اور فریش ہوکر شلوار قمیض پہنے روم سے باہر نکلا تھا
گل۔۔۔یزدان جس لڑکی کو لایا ہے اسے لے کر آؤ۔۔۔ خان نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے گل سے کہا تھا جو جھٹ سے خان کی بات سن کر زرش کو لینے چلی گئی تھی
یزدان کے جانے کے بعد زرش کو لگ رہا تھا کہ اس نے دھوکہ دے کر اس سے نکاح کیا ہے کیونکہ وہ اپنی بات سے پھر گیا تھا مگر اب اسے کون بتاتا کہ وہ اپنی زبان کا کتنا پکا ہے اگر خان اسے کام نہ دیتا تو وہ یقینا اسے گھر لے جاتا۔۔ ساری رات اس نے یزدان کو من ہی من میں کو سا تھا
صبح فجر کی نماز کے بعد بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی جب گل کمرے میں آئی تھی
بھابھی آپ کو خان لالا نے بلایا ہے۔۔۔ گل کی بات پر اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا کہ اب یہ خان کون تھا ؟؟
خان لالا یزدان لالا کے دوست ہیں۔۔۔ گل نے اسے بتایا تھا
انھیں مجھ سے کیا کام ہے گل ؟؟ اس نے گھبرا کر پوچھا تھا اس کے من میں کئی وسوسے آ رہے تھے
بھابھی آپ گھبرائیں نہیں وہ آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔ گل کی بات پر اسے ڈھارس ملی تھی اس نے اپنے آپ کو اچھے سے ڈھانپا تھا اور گل کے ساتھ چل دی تھی
وہ وہاں موجود چیزوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی جو بے حد خوبصورت اور نفیس لگ رہی تھیں گل جب اسے لے کر لفٹ میں داخل ہوئی تو وہ شدید حیرت زدہ تھی کہ اس گھر میں لفٹ بھی موجود ہے۔۔
گراونڈ فلور پر پہنچ کر گل اسے لے کر ڈائننگ ہال میں آئی تھی جہاں خان ناشتہ کرنے میں مصروف تھا
تمھیں میرا ملازم تمھارے گھر چھوڑ آئے گا یہاں کی کوئی بھی بات اگر تم نے کسی کو بتائی تو تمھارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ اس کی طرف دیکھے بنا وہ سخت لہجے میں بولا تھا زرش اپنے گھر جانے کا سن کر بے حد خوش ہو گئی تھی گل نے خان کی بات پر کچھ بولنا چاہا تھا مگر عہ چپ کر گئی تھی
گل قاسم کو کہو اس کو اس کے گھر بحفاظت چھوڑ آئے۔۔۔ گل خان کی بات سن کر اسے باہر لے گئی تھی اور قاسم (ڈرائیور ) کو خان کا حکم سنایا تھا
زرش خوشی خوشی گل سے مل کر کار میں بیٹھ گئی تھی قاسم زرش سے اس کے گھر کا اڈریس پوچھ کر اسے وہاں لے گیا تھا
گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہی زرش قاسم کا شکریہ ادا کرکے باہر نکلی تھی اور بے صبری سے اس نے گھر کا دروازہ بجایا تھا
زمل جو صبح سے ہی اس کی منتظر بیٹھی تھی اس نے جھٹ سے دروازہ کھولا تھا زرش کو دیکھتے ہی اس نے خوشی سے اسے زور سے خود میں بھینچا تھا
وہ زرش کو اپنے حصار میں لے کر صحن میں آئی تھی زرش اسے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بتانے لگی تھی لیکن وہ یزدان سے ہوئے اپنے نکاح کو بخوبی چھپا گئی تھی
بجو ابا نہیں دکھائی دے رہے ؟؟ مسجد گئے ہیں ؟؟ اپنی باتیں بتانے کے بعد اس نے خالی گھر کو دیکھتے زمل سے پوچھا
زرش۔۔۔ اس نے زرش کو بے ساختہ خود میں بھینچا تھا ابا ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔۔۔ زمل کی بات ر وہ صدمے میں ہی چلی گئی تھی
زرش۔۔۔ اتنی خاموش کیوں ہوگئی ؟ رو لو ایک بار۔۔ زمل نے اسے ہلاتے ہوئے کہا تھا اس کی بات پر وہ دھاڑیں مار کر رو پڑی تھی اس کو روتے دیکھ کر زمل کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں
کچھ دیر اس کو رو لینے کے بعد زمل نے اس کا چہرہ تھام کر اس کے آنسو صاف کیے تھے
زرش ہمارا یہاں رہنا اب محفوظ نہیں ہے ابا نے یہ گھر بیچ دیا تھا ہم ابھی کہ ابھی لاہور کے لیے نکل رہے ہیں میں نے سارا سامان پیک کر دیا ہے تم جلدی سے فریش ہو جاؤ ہمیں یہاں سے جانا ہے۔۔۔ زمل کی بات پر اس نے اپنے آنسو روکے تھے اور فریش ہونے چلی گئ تھی فریش ہوکر اس نے کپڑے چینج کرکے عبایا پہن لیا تھا وہ یزدان کے گھر سے لائی ہوئی چادر پہلے وہاں ہی پھینک کر جانے کا سوچ رہی تھی پھر پتا نہیں اس کے ذہن میں کیا آیا کہ اس نے وہ چادر اپنے بیگ میں ڈال لی تھی۔۔۔
شاکر اپنے بھائی کی موت کے بعد غصے میں پاگل ہوا پھر رہا تھا اسے شدید غصہ آرہا تھا یزدان اس کی محبت زرش کو بھی لے گیا اور اس کے بھائی کو بھی مار دیا
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا تھا جب شیدا عرف رشید اس کا آدمی تیزی سے اس کے پاس آیا تھا
وہ شاکر بھائی میں نے زرش بھابھی کو ابھی اپنے گھر کے اندر جاتے دیکھا ہے۔۔۔ رشید کی بات پر وہ جھٹکے سے اٹھا تھا
گاڑی نکالو آخر میری بلو رانی کو اس کمینے یزدان نے چھوڑ ہی دیا اب وہ صرف میری ہوگی۔۔۔ وہ بولتا ہوا باہر بڑھ گیا تھا
زمل نے اپنے ہمسائے سے بول کر جانے کے لیے رکشہ منگوایا تھا وہ لوگ اپنا سامان رکھ رہے تھے جب ایک گاڑی ان کے گھر کے آگے آکر رکی تھی اس میں سے شاکر کو باہر نکلتے دیکھ کر زمل اور زرش دونوں کا رنگ اڑ گیا تھا
بلو رانی اب کہاں بھاگنے کی جلدی ہے ؟؟ وہ خباثت سے ہنستا ہوا پوچھ رہا تھا
گھٹیا انسان دفعہ ہوجاؤ یہاں سے میری بہن کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا تو تمھاری یہ مینڈک جیسی آنکھیں نکال لوں گی۔۔۔ زمل آگ بگولہ ہوتی پھنکاری تھی
چٹاخ۔۔۔ شاکر کو اس کی باتیں غصہ دلا گئی تھیں تبھی اس نے آگے بڑھ کر ایک زور دار تھپڑ زمل کے مارا تھا تھپڑ اتنی شدت کا تھا کہ وی زور سے زمین پر گری تھی اس کا نقاب بھی ڈھیلا پڑتا کھل گیا تھا
بجو۔۔۔ زرش چیخی تھی وہ زمل کے پاس زمین پر بیٹھنے لگی تھی جب شاکر نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا اور اسے گاڑی میں ڈالا تھا زرش چیخ چلا رہی تھی محلے والے کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہا تھا
زمل کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تھا اسے اپنے چہرے میں شدید درد محسوس ہوا تھا اپنا نقاب تیزی سے درست کرتے اس نے زرش کو دیکھا تھا جسے شاکر اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گیا تھا
آنسو لڑیوں کی صورت اس کے چہرے کو بھگونے لگے تھے اس کے ذہن میں مدد کے لیے سب سے پہلا خیال خان کا آیا تھا وہ تیزی سے اپنے گھر کے اندر گئی تھی اور خان سے بات کرنے کے لیے اس نے فون ملایا تھا
مجھے خان سے بات کرنی ہے۔۔۔ اس نے سنیک سروس کے ہیڈ کوارٹر فون کیا تھا
وی آر سوری میم بٹ خان کسی سے فون پر بات نہیں کرتا۔۔۔آپریٹر نے پروفیشنل انداز میں کہا تھا
آپ ایک بار انھیں میرا نام بتائیں وہ مجھ سے بات کرلیں گے۔۔۔ وہ کانپتے لہجے میں بولی تھی مگر آپریٹر نے انکار کرتے فون بند کر دیا تھا
وہ تین بار فون کر چکی تھی مگر دوسری طرف انکار ہی مل رہا تھا بالآخر چوتھی بار آپریٹر نے تنگ آکر اس کا نام خان کے پاس بھیجا تھا
خان اپنے آفس میں تھا جب اس کے آفس میں موجود فون رنگ ہوا
سر کوئی زمل نامی لڑکی آپ سے بات کرنا چاپتی ہے صبح سے چار بار ان کا فون آگیا ہے میں نے انکار بھی کیا ہے مگر وہ مسلسل آپ سے بات کرنے کی ضد کر رہی ہیں۔۔۔ زمل کا نام سن کے اس کے ماتھے پر تیوری چڑھی تھی
میرے فون پر کال ٹرانسفر کرو۔۔ اس نے سرد لہجے میں کہا تھا اور ساتھ ہی کال اس کے فون پر ٹرانسفر کر دی گئی تھی
جی اب کیا کام ہے آپ کو ؟؟ اس نے سخت لہجے می استفسار کیا تھا
خان۔۔ خان و۔۔۔وہ شاکر میری بہن کو دوبارہ لے گیا ہے آ۔۔۔آپ نے کہا تھا آپ اسے مار دیں گے۔۔۔ وہ کانپتے لہجے میں اس پر چیخی تھی جو خان کو سخت ناگوار گزرا تھا وہ اسے کھڑی کھری سنانے لگا تھا جب زمل کی اگلی بات نے اس کا خون جلایا تھا
خان اس نے مجھے تھپڑ بھی مارا ہے و۔۔وہ پتا نہیں میری بہن کے ساتھ کیا کرے گا۔۔۔ غصے کی ایک لہر تھی جو خان کے اندر دوڑی تھی
تم ٹینشن مت لو ایک گھنٹے کے اندر اندر تمھیں تمھاری بہن مل جائے گی۔۔۔ بولتے ہی خان نے کھٹاک سے فون بند کیا تھا اگر اسے کسی چیز سے سخت نفرت تھی تو وہ عورت ذات پر ہاتھ اٹھانے والے لوگوں سے تھی
اپنے اسسٹنٹ پلس آپریٹر ارمغان سے اس نے فورا شاکر کی لوکیشن معلوم کروانے کا کہا تھا اس نے اپنے کپڑے چینج کیے تھے وہ اب بلیک شرٹ اور پینٹ میں ملبوس تھا ساتھ ہی اس نے اپنی جیکٹ نکال کر پہنی تھی اس نے اپنے آفس میں موجود الماری سے گن نکال کر اپنی جیکٹ میں رکھی تھی
اور شاکر کی لوکیشن معلوم کرکے وہاں کے لیے نکل گیا تھا
***********
شاکر زرش کو لے کر اپنے گھر آیا تھا اور روتی بلکتی زرش کو اس نے لاؤنچ میں پھینک کر اس کے بال سختی سے دبوچتے غصے سے پوچھنے لگا تھا زرش کی چادر اس کے سر سے اتر کر کندھے پر آچکی تھی
کیا اس نے تمھیں چھوا تھا ؟؟۔۔ شاکر اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کا گال سہلاتا ہوا پوچھ رہا تھا زرش کو اس کے لمس سے کراہت محسوس ہو رہی تھی خود کو بے پردہ پا کر اس کے آنسو اس کے گالوں کو بھگو رہے تھے
میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے بلو رانی ؟؟ اس کے بالوں پر گرفت مضبوط کرتے اس نے پوچھا تھا یزدان کا نرم گرم لمس اپنی پیشانی پر یاد کرتے اس نے بے ساختہ اپنی گردن ہاں میں ہلائی تھی
چٹاخ۔۔۔ غصے سے شاکر نے اس کے نرم مومی گال پر تھپڑ جڑا تھا تکلیف سے آنسو مزید تیزی سے اس کی آنکھوں سے بہنے لگے تھے
کہاں چھوا تھا اس نے ؟؟۔۔ اس کا چہرہ بالوں سے اوپر کرتے شاکر نے سرخ آنکھوں سے پوچھا تھا زرش تکلیف سے سسک رہی تھی
تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں جواب دو۔۔۔ اس کا چہرہ زور سے دبوچ کر شاکر نے پوچھا تھا
زرش نے دھندھلائی آنکھوں سے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کیا تھا شاکر اس کا ماتھا زور زور سے رگڑنے لگا تھا جس سے زرش کو درد ہونے لگا تھا
شیدے۔۔ اس کو میرے کمرے میں چھوڑ کر آو اور مولوی کو بلاؤ۔۔۔ میری بلورانی کو اب میں کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔اس کی بات پر خوف سے زرش لرزنے لگی تھی وہ تو یزدان کے نکاح میں تھی وہ اس پاگل ہوس زدہ شخص سے کیسے نکاح کر سکتی تھی ؟؟
رشید اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتا ہوا شاکر کے کمرے میں چھوڑ آیا تھا اس نے باہر سے دروازہ لاک کر دیا تھا زرش نے خود کو سنبھالتے ہوئے تیزی سے اٹھتے دروازے کو اندر سے بھی لاک لگا دیا تھا اور ساتھ ہی وہ روتی ہوئی واشروم میں چلی گئی تھی واشروم کے دروازے کو بھی اچھے سے لاک لگاتے وہ ایک طرف بیٹھ گئی تھی اس کا نازک وجود کانپ رہا تھا وہ روتی ہوئی زمل کو یاد کر رہی تھی
اتنی مشکل سے وہ واپس زمل کے پاس پہنچی تھی مگر دوبارہ شاکر کے پاس پہنچ چکی تھی اسے شاکر سے سو گنا زیادہ بہتر یزدان کے پاس رہنا لگا تھا کم سے کم وہ اسے مارتا تو نہ تھا لیکن وہ بھی جھوٹا تھا۔۔۔ زرش نے من ہی من میں سوچا تھا اور اپنے گرد بازو ڈال کر وہ شدت سے رونے لگی تھی
***************
خان اپنی گاڑی سے نکلتا شاکر کے گھر داخل ہوا تھا اسے شاکر کے آدمیوں نے روکنے کی کوشش کی تھی مگر اس کو دیکھتے ہی ان میں سے ایک آدمی خان کو پہچان گیا تھا
” خان ” اس کے بولنے پر سارے آدمی خوف سے کانپتے ایک سائیڈ پر ہوگئے تھے وہ مضبوط قدموں سے گھر کے اندر داخل ہوا تھا
شاکر جو لاؤنچ میں بیٹھا مولوی کا انتظار کر رہا تھا کسی انجان شخص کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر ناگواریت چھائی تھی
اوئے کون ہے تو اور یہاں کہاں گھسا چلا آ رہا ہے ؟؟ شاکر خان کو دیکھتا بولا تھا اسلم اور اس کے کچھ ساتھیوں کے علاوہ خان کو کسی نے نہیں دیکھا تھا تبھی وہ خان کو پہچان نہیں پایا تھا۔۔۔
شاکر بھائی یہ خان ہے۔۔ شاکر کے آدمی نے اسے خان کی جگہ جواب دیا تھا خان کو دیکھتے ہی اس کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے وہ فورا اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا
خ۔۔۔خان آپ کو کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتے آپ نے آنے کی زحمت کیوں کی ؟؟ اس کی بات کو اگنور کرتا سرد تاثرات چہرے پر سجائے خان کروفر سے صوفے پر بیٹھا تھا ٹانگ پر ٹانگ جماتے اس نے سرد آنکھوں سے شاکر کو دیکھا تھا
میں نے سنا ہے کہ تم نے کسی لڑکی کو زبردستی اٹھایا ہے شاکر ؟؟ خان کے سوال کرنے پر وہ گڑبڑا گیا تھا
نہیں خان میں نے کسی کو نہیں اٹھایا۔۔۔ وہ گڑبڑاتا ہوا بولا تھا
مجھے جھوٹ سے سخت نفرت یے شاکر۔۔۔ خان کی سرد آواز سن کر اس نے اپنی پیشانی پر ابھرتا پسینہ نے ساختہ صاف کیا تھا
شاکر بھائی میں مولوی کو لے آیا ہوں۔۔۔ ابھی شاکر کوئی بہانہ بناتا کہ گھر میں داخل ہوتے شیدے کے اونچی آواز میں بولنے سے اس نے ڈرتے ہوئے خان کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر پتھریلے تاثرات تھے
شیدے نے صوفے پر بیٹھے انجان شخص کو اور شاکر کو ڈرتے دیکھ حیرت سے اپنے پاس کھڑے آدمی کی طرف دیکھا جس نے اسے جھٹ سے خان کا بتایا تھا وہ بھی ڈرتا ہوا اپنی جگہ پر جم گیا تھا
یہاں آکر بیٹھو شاکر۔۔ خان نے اسے اپنے قدموں کے پاس زمین پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا خفت اور شرمندگی سے شاکر کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا وہ جو اپنے آدمیوں کو ایسے ذلیل کرتا خوش ہوتا تھا اب خود ذلت کے احساس سے بمشکل اپنا غصہ روک کر وہ خان کے قدموں میں بیٹھا تھا
خان نے اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھا تھا اس کے سارے آدمی اس کی حالت پر اپنی ہنسی روک رہے تھے وہ جو ان کی حالت پر لطف اندوز ہوتا تھا آج اس کے آدمی اس کی حالت پر لطف اندوز ہو رہے تھے
کیا تم نے کسی لڑکی کو اٹھایا ہے شاکر ؟؟ خان نے دوبارہ پوچھا اب کی بار شاکر نے آہستہ سے اپنا سر ہلایا تھا
چٹاخ۔۔ خان کے بھاری ہاتھ کا تھپڑ کھا کر اس کا سر چکرا گیا تھا
میں نے کہا تھا نہ کہ مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے شاکر۔۔۔ خان سرد لہجے میں بولا تھا
جاؤ اس لڑکی کو لے کر آؤ۔۔ خان کی آواز سن کر رشید تیزی سے کمرے کی طرف گیا تھا مگر جیسے ہی اس نے دروازہ کھولنا چاہا وہ اندر سے لاک تھا وہ گھبرا کر دروازے کا لاک توڑ کر اندر داخل ہوا تھا لیکن خالی کمرے کو دیکھ کر وہ تیزی سے واشروم کی طرف گیا تھا اور اس کو اندر سے لاک دیکھ کر اسے پتا چل گیا تھا کہ زرش یہاں ہی ہے رشید نے شاکر کے دراز سے لاک کی چابی نکال کر دروازہ کھولا تھا جہاں سائیڈ پر بیٹھی زرش خوف سے کانپ رہی تھی
رشید نے اسے پکڑ کر کھڑا کیا تھا اور گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا تھا اور اسے کھڑے چھوڑ کر سائیڈ پر ہٹ گیا تھا وہ خوف و گھبراہٹ سے بری طرح کانپ رہی تھی اس کی رونے سے بندھی ہچکیاں سب کو سنائی دے رہی تھی
ادھر آؤ۔۔۔ خان نے ایک نظر زرش پر ڈالنے کے بعد رشید سے کہا تھا جو ڈرتا ڈرتا اس کے قریب آیا تھا خان نے ایک زور دار تھپڑ اسے بھی کھینچ کر مارا تھا
تم بات سنو۔۔۔ خان نے کونے میں کھڑا ایک آدمی سے کہا تھا جو کانپتا ہوا آگے بڑھا تھا
ج۔۔جی خان۔۔؟؟اس نے پوچھا تھا
اس کو وہ اوپر والی سڑھیوں سے لے کر پوری راہداری سے گھسیٹ کر واپس میرے پاس لاؤ اور ہاں یہاں سے بھی گھسیٹتے ہوئے لے کر جاؤ۔۔ خان کی بات پر رشید عرف شیدا گھبرا کر بھاگنے لگا تھا جب اپنی جیکٹ سے گن نکالتے خان نے اس کی ٹانگ کا نشانہ لیا تھا وہ لڑکھڑا کر نیچے گرا تھا
زرش نے بھاری سخت آواز سن کر خوف سے صوفے پر بیٹھی شخصیت کو دیکھا تھا اور خان کو دیکھتے ہی اس کی جان میں جان آئی تھی
رشید کو زمین پر تڑپتے دیکھ کر زرش کو سکون ملا تھا پھر جب رشید کو گھسیٹنا شروع کیا تھا تو تکلیف سے اس کی چیخیں سن کر زرش کو زرا برابر بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا اس نے بھی تو اسے ایسے ہی گھسیٹا تھا ناجانے کتنی ہی رگڑیں اسے لگی تھیں۔۔
کیا تمھیں اس نے مارا تھا ؟؟۔۔ خان نے زرش سے پوچھا تھا جس نے فورا اپنا سر ہلایا تھا ایک اور زودار تھپڑ خان نے شاکر کے مارا تھا
ادھر آؤ۔۔ اور اسے جتنا مارنا ہے مار لو ان جیسے کیڑوں سے تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔ وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا
زرش کانپتی ہوئی آگے بڑھی تھی اس نے کئی تھپڑ غصے سے شاکر کے مارے تھے اپنے باپ کی موت کو یاد کرتے اس نے زمین پر بیٹھے شاکر کو اچھی خاصی ٹانگیں ماریں تھیں
جب شاکر نے بیچ میں اسے روکنا چاہا تھا تو خان نے اپنے ہاتھ میں موجود گن زور سے اس کے سر پر ماری تھی
تم مارتی جاؤ۔۔ زرش کو رکتے دیکھ کر خان بولا تھا اور پھر لاتعداد ٹانگیں مکے اور تھپڑ زرش نے شاکر کے مارے تھے جب وہ مار کر سائیڈ پر ہوئی تھی تو خان اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور اس کے بالوں کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑتے خان نے جھٹکے سے اس کا چہرہ اوپر کیا تھا جو سرخ ہوا پڑا تھا اس کے ہونٹ بھی پھٹ چکے تھے
تم نے یزدان خان کی محبت کو چھوا تھا اگر میری جگہ وہ ہوتا تو شاید تمھاری کھال ادھیڑ دیتا مگر اس کی جگہ میں ہوں اس لیے اس سے بھی بدتر سزا میں دوں گا۔۔
جاؤ ایک باؤل میں گرم پانی لے کر آؤ۔۔۔ خان کے حکم پر ایک شخص تیزی سے پانی گرم کر کے لایا تھا شاکر نڈھال سا اس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہا تھا
اس کے ہاتھوں پر یہ پانی گراؤ۔۔ خان کے حکم پر فورا شاکر کے ہاتھوں پر گرم پانی گرایا گیا تھا جس سے تکلیف سے اس کی چیخیں صاف سنائی دینے لگی تھیں اس کی ہاتھوں کی جلد بھی شدید سرخ پر گئی تھی
اور تم اپنی بیلٹ نکال کر تیس بار اس کی کمر پر مارو۔۔۔ دوبارہ صوفے پر بیٹھتے دور کھڑے ایک آدمی سے خان نے کہا تھا وہ جھٹ سے اپنی بیلٹ نکالتا شاکر کے پاس آیا تھا اور اس کی کمر ادھیڑنے لگا تھا
دوبارہ پانی گرم کرکے لاؤ اور اس کی کمر کے زخموں پر ڈالوں۔۔۔ اس کی زخمی کمر کو دیکھ کر وہ سپاٹ سے لہجے میں بولا تھا شاکر درد سے تڑپ رہا تھا زرش سے اب یہ سب کچھ دیکھا نہیں جا رہا تھا تبھی وہ رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی تھی اسے بس شاکر کی چیخیں سنائی دے رہی تھی
اس کو اچھی طرح ٹارچر کرنے کے بعد خان نے اس کے سر میں گولی اتارتے اس کا کام تمام کیا تھا اور ساتھ ہی اس نے رشید کو بھی مار دیا تھا وہاں کھڑا ہر شخص خان کا یہ روپ دیکھ کر باقاعدہ کپکپا رہے تھے
وہ زرش کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرکے باہر چلا گیا تھا زرش بھی کانپتی ٹانگوں سے تیزی سے اس کے ساتھ چلی گئی تھی
***********
زمل پریشانی سے صحن میں چکر کاٹتی زرش کا انتظار کر رہی تھی وہ مختلف دعائیں پڑھتی زرش کی حفاظت کی دعائیں کر رہی تھی ایک گھنٹہ گزر چکا تھا مگر ابھی تک زرش گھر نہیں پہنچی تھی جس سے اسے مزید پریشانی ہو رہی تھی رو رو کر اس کی آنکھیں سرخ پڑ چکی تھی
ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی جب دروازہ بجتا سن کر وہ اپنی چادر لیتی تیزی سے دروازہ کھولنے گئی تھی زرش کو دیکھتے ہی اس نے زور سے خود میں بھینچا تھا اس کی بے اختیار نگاہیں خان سے ملی تھیں جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
خان کو اس کی سرخ آنکھیں ایک پل کو مسمرائز کر گئی تھیں اس کی مسکراتی آنکھوں سے پتا چل رہا تھا کہ وہ مسکرا رہی تھی
اس نے زرش کو اندر جاکر فریش ہونے کا کہا تھا اور خود خان کی طرف متوجہ ہوئی تھی
ایک گھنٹے کے اندر یہاں سے چلی جانا اس کے بعد تمھاری بہن کی حفاظت میرے ذمے نہیں ہے اگر تم چاہو تو تم دونوں کو بس یا ٹرین اسٹیشن چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔ خان سرد سپاٹ لہجے میں بولا تھا
آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے ہم لوگوں کی اتنی مدد کی۔۔ اور ہم ایک گھنٹے کے اندر اندر یہاں سے چلے جائیں گے۔۔ اور آپ کے ایک لاکھ آپ کو دینے ہیں یا بینک میں ڈپازٹ کروانے ہیں ؟؟ زمل نے دھیمی آواز میں پوچھا تھا
اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ اسے جواب دیتا واپس مڑ گیا تھا اور اپنی گاڑی میں بیٹھتا وہاں سے چلا گیا تھا زمل کی نظروں نے دور تک اسے جاتے دیکھا تھا مگر پھر اپنا سر جھٹک کر وہ تیزی سے اندر گئی تھی اور آدھے گھنٹے بعد وہ ٹرین اسٹیشن موجود تھے وہ لوگ لاہور جا رہے تھے اپنی پھپھو ماجدہ کے پاس۔۔۔
زرش کا اپنے جیسا سوجا گال دیکھ کر زمل کو شدید غصے آیا تھا لیکن زرش نے جب اسے شاکر کا حشر بتایا تو وہ بے انتہا خوش ہوئی تھی ایسے برے لوگوں کا برا ہی انجام ہوتا ہے۔۔۔ وہ زرش کی ساری بات سن کر بولی تھی
ساڑھے اٹھارہ گھنٹے کے سفر کے بعد زرش اور زمل لاہور پہنچی تھیں وہاں سے ان کی پھپھو ماجدہ کے گھر تک کا سفر آدھے گھنٹے میں وہ طے کر کے پہنچ چکے تھے
زمل نے ان کے گیٹ پر بل دی تھی جب ماجدہ بیگم نے دروازہ کھولا تھا زمل اور زرش کو دیکھ کر وہ کچھ خاص خوش دکھائی نہ دے رہی تھیں
اسلام علیکم پھپھو ! دونوں نے جھٹ سے سلام کیا تھا ماجدہ بیگم ان کے سلام کا جواب دیتی انھیں اندر لے آئی تھی ان کا گھر پانچ کمروں پر مشتمل تھا جن میں سے ایک کمرہ ان کے بیٹے رمیز کا اور ایک کمرہ ماجدہ بیگم کا تھا ان کے شوہر تین سال پہلے انتقال کرگئے تھے اس لیے گھر میں صرف دو لوگ ہی رہتے تھے رمیز سرکاری ٹیچر تھا جو سکول میں پڑھاتا تھا وہ اپنے کام پر گیا تھا تبھی اس وقت صرف ماجدہ بیگم گھر پر موجود تھیں
تم دونوں فریش ہوجاؤ تب تک تم لوگوں کے کھانے کے لیے میں کچھ بنا دیتی ہوں۔۔۔ ماجدہ بیگم کے بولنے پر زمل جھٹ سے جوابا بولا تھی
پھپھو آپ رہنے دیں میں منہ ہاتھ دھو کر بنا لیتی ہوں۔۔۔تھکاوٹ سے اس کا انگ انگ دکھ رہا تھا مگر وہ ماجدہ بیگم پر زحمت نہیں بننا چاہتی تھی
نہیں میں بنا دیتی ہوں تم جاکر فریش ہوجاؤ۔۔۔ ماجدہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا تھا زمل ان کی بات پر عمل کرتی فریش ہونے چلی گئی تھی
کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں پھپھو کے پاس ان کے کمرے میں بیٹھی اپنے اوپر گزری آپ بیتی سنا رہیں تھیں ان کی باتیں سن کر پھپھو نے ناگواریت سے زرش کو دیکھا تھا
تمھاری اس بہن کے لچھن ہی ٹھیک نہ ہوں گے تبھی تو وہ گنڈا اس کے پیچھے پڑا ہوگا۔۔۔ پھپھو کی بات زمل کو سخت ناگوار گزری تھی زرش منہ نیچے کرکے اپنے آنسو روکنے لگی تھی پھپھو کی بات اسے کسی طمانچے کی طرح لگی تھیں
پھپھو آپ جیسا کہہ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ زمل نے فورا اعتراض کیا تھا
ارے ایسی بیٹیاں خدا کسی کو نہ دے جو ایک ہی دن میں اپنے باپ کو نگل گئی اور ساتھ ہی طلاق یافتہ کا دھبہ لگوا کر پتا نہیں کتنے غیر مردوں کے ساتھ دو دن گزار کر آئی ہوگی۔۔۔اور اب کوئی بھی تم جیسی طلاق یافتہ عورت سے شادی نہیں کرے گا لوگ طرح طرح کے سوال اٹھائیں گے۔۔۔
پھپھو کی زہریلی باتیں سن کر زمل جہاں حیران ہوئی تھی وہاں ہی وہ خود کو کچھ بھی تلخ بولنے سے بمشکل روکتی بولی تھی
پھپھو ابا کی موت میں زرش کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اس لیے اسے کچھ مت کہیں اور رہی بات طلاق یافتہ کی یا غیر مردوں کے پاس رہنے کی تو ایک بات میں بتا دوں آپ کو مجھے میری بہن کی پاکیزگی پر کسی طرح کا شک نہیں ہے۔۔ اگر آپ نہیں چاہتی ہم یہاں رہیں تو آپ بتا دیں میں اپنے اور زرش کے رہنے کا انتظام کہیں اور کروا لیتی ہوں۔۔۔۔ وہ آخر میں خود کو روکنے کے باوجود تلخ ہو گئی تھی اس نے روتی ہوئی زرش کو اپنے ساتھ لگایا تھا اور اس کی کمر سہلانے لگی تھی
کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے چپ چاپ یہاں رہو۔۔۔ پھپھو سخت لہجے میں بولی تھیں زمل ان کا جواب سنتی زرش کو اپنے ساتھ دوسرے روم میں لے گئی تھی
پھپھو جہاں پہلے زمل کو اپنے بیٹے کی دلہن بنانا چاہتی تھیں اب وہاں ہی انھیں زمل کا کردار میں بھی کھوٹ دکھائی دینے لگا تھا
بجو کیا واقعی ابا میری وجہ سے۔۔۔ وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر رو پڑی تھی
زرش ان کی موت کا وقت مقرر تھا یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ابا کا سایہ ہم پر نہیں رہا مگر ان کی موت میں تمھارا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور پھپھو کی فضول باتوں کو سر پر سوار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اس کا سر چومتے زمل نے اسے سمجھایا تھا
دن یونہی بے کیف گزرنا شروع ہوگئے تھے زمل گھر کا سارا کام کرنے لگی تھی زرش کا ایڈمیشن دوبارہ کالج میں کروادیا گیا تھا جس سے اس نے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کردی تھی ماجدہ بیگم نے زرش کو کالج میں داخل کروانے پر کافی اعتراض کیے تھے مگر زمل نے ان کی کسی بات کو خاطر میں نہ لاتے رمیز سے بول کر زرش کا ایڈمیشن کروادیا تھا
پھپھو نے اپنے بیٹے کا دھیان دن بدن زمل کی طرف ہوتے دیکھ کر اس کے لیے رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دیا تھا
امی آپ نے کہا تھا کہ آپ میری شادی زمل سے کریں گی اب ایسا کیا ہو گیا کہ آپ باہر میرا رشتہ ڈھونڈنے لگی ہیں ؟؟ رمیز نے حیرت سے ماجدہ بیگم سے سوال کیا تھا
تمھیں اب میں کیا بتاؤ رمیز ان دونوں کے کردار میں جھول ہے اور میں ایسی لڑکی کو اپنی بہو نہیں بنانا چاہتی جس کے کردار کی پاکیزگی کا بھی ہمیں معلوم نہ ہو۔۔۔پھپھو اسے زمل کی بتائی گئ ساری باتیں گوش گزار کرکے آخر میں بولی تھیں
ٹھیک کہا ہے امی میں ایسی لڑکی سے بالکل بھی شادی نہیں کر سکتا آپ میرے لیے باہر سے ہی کوئی رشتہ ڈھونڈ لیں۔۔۔ رمیز نے ہامی بھرتے کہا تھا
وہی رمیز جو زمل اور زرش سے خوشگوار لہجے میں بات کرتا تھا اب وہی اپنی ماں کی باتیں بتانے کے بعد انھیں منہ تک نہ لگاتا تھا اگر زرش یا زمل اس کو کسی کام سے بلا بھی لیتی تھیں تو وہ تلخ ہوجاتا تھا
رمیز کے رویے کو دیکھتے زمل نے جو بھی چیز لینی ہوتی تھی وہ خود اکیلی یا زرش کے ساتھ جاکر لے آتی تھی۔۔۔
ایک مہینے کے اندر اندر پھپھو نے رمیز کی شادی کر دی تھی رمیز کی بیوی آرزو نے آتے ہی زمل پر حکم چلانا شروع کر دیے تھے
زرش کو زمل ک
