My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 28)
Rate this Novel
My Girl (Episode 28)
My Girl by Zanoor
زرتاشہ کی آنکھ دوپہر میں کھلی تھی گھڑی پر بارہ بجتے دیکھ اس کی آنکھیں جھپاک سے کھل گئی تھیں اس کے واپس گھر جانے کا وقت ہو رہا تھا۔۔
ہولے سے زمان کی بازو اپنے پیٹ سے ہٹاتے وہ فریش ہونے چلی گئی تھی۔۔شاور لیتی اپنے بالوں تولیے سے صاف کرتی وہ زمان کو اٹھانے آئی تھی تاکہ وہ اسے گھر چھوڑ آئے۔۔
زمان۔۔۔زمان اٹھیں مجھے گھر چھوڑ آئیں۔۔زرتاشہ نے یزدان کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے اٹھانے کی کوشش کی تھی جبکہ زمان کی قربت میں بتائے لمحے یاد کرتے زرتاشہ کے گالوں پر گلال بکھر گیا تھا۔۔
کچھ دیر اور سونے دو۔۔۔زمان اس کا ہاتھ پکڑتا لبوں سے لگاتا نیند میں ڈوبی آواز میں بولا تھا زرتاشہ اس کی ادا پر مسکرائی تھی وہ جانتی تھی اب وہ ایسے اٹھنے والا نہیں ہے اپنا ہاتھ زمان کی گرفت سے نکالتے زرتاشہ نے اپنے گیلے بال اس کے چہرے پر جھٹکے تھے جس سے پانی کی بوندیں زمان کے چہرے پر گری تھیں۔۔زمان منہ بگاڑتا اٹھا تھا۔۔
یار تھوڑی دیر اور رک جاو۔۔وہ منہ بناتا بولا تھا۔۔
آپ جانتے ہیں نہ مورے نے مجھے مشکل سے اجازت دی ہے پلیز مجھے چھوڑ آئیں وہ انتظار کر رہی ہوں گی۔۔۔زرتاشہ زمان کے قریب آتی بولی تھی۔۔زمان انگڑائی لیتا بیڈ سے اٹھتا اس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑتا خاموشی سے فریش ہونے چلا گیا تھا۔۔
زرتاشہ کو لگا رہا تھا وہ اس سے خفا ہو گیا ہے اور یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی جب زمان اسے بنا بات کیے خاموشی دے گھر چھوڑ آیا تھا۔۔
جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو دوپہر ہوچکی تھی مورے کو اپنے آنے کی خبر دیتی وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔۔۔
******************
زمل قاسم کے ساتھ بحفاظت بہاولپور پہنچ گئی تھی۔سارے سفر کے درمیان اس نے ایک پل بھی آنکھ بند نہیں کی تھی جبکہ وقفے وقفے سے خان بھی اس کی خیریت دریافت کرتا رہا تھا۔۔
خان پہلے ہی مہناز بیگم کو زمل کے بارے میں بتا چکا تھا۔وہ فجر کی نماز پڑھتی زمل اور قاسم کے آنے کا انتظار کرنے لگ گئی تھیں۔۔
لاونچ میں صوفے پر بیٹھی وہ تسبیح کررہی تھیں جب زمل قاسم کے ہمراہ لاونچ میں داخل ہوئی تھی۔۔
مورے یہ خانم ہیں۔۔قاسم نے تعارف کروایا تھا مہناز بیگم کے اشارا کرنے پر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
زمل نے دھیمی آواز میں انھیں سلام کیا تھا۔۔مہناز بیگم اسے دیکھتی مسکرائی تھی۔۔
ماشااللہ مجھے امید نہیں تھی خان کی پسند اتنی اچھی بھی ہوسکتی ہے۔۔مہناز بیگم اس کو باپردہ دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی تھیں۔۔زمل نے نروس سی سمائل انھیں پاس کی تھی جو نقاب کی وجہ سے مہناز بیگم نہ دیکھ پائی مگر وہ دور سے ہی اس کی گھبراہٹ کا اندازہ لگا چکی تھی۔۔
تم آرام کرو زمل جب اٹھو گی پھر بات کریں گے۔۔مہناز بیگم اس کا ماتھا شفقت سے چومتی اسے اوپر والے فلور پر موجود خان کے کمرے میں لے گئی تھی۔۔زمل کی آنکھیں ایک عرصے بعد ایسی شفقت پر بھیگ گئی تھیں۔۔
لگاتار سفر سے تھکی زمل فجر کی نماز ادا کرتی سو گئی تھی۔۔
********************
خان زمل کے جانے بعد اپنے سب وفادار آدمیوں کے ساتھ شیر خان کو برباد کرنے میں سر گرم ہو گیا تھا۔۔ارمغان بھی پشاور پہنچ گیا تھا اور عبدالمنان بھی۔۔۔
وہاں موجود مختلف خفیہ شراب ، منشیات اور اسلحے کے اڈوں کو کیسے تباہ کیا جائے ان لوگوں نے ٹارگٹ کیا تھا۔۔کام بہت باریکی اور دھیانی سے کرنے والا تھا کیونکہ ان اڈوں اور جگہوں کی خبر زیادہ لوگوں کو نہیں تھی۔۔
ارمغان مجھے شیر خان کے سارے اڈوں کی ڈٹیل رات تک چاہیے۔۔اور عبدالمنان مجھے شیر خان کے موبائل تک رسائی چاہیے اس کے سارے کنٹیکٹ ڈیٹیلز اور میسجز اور انفورمیشن ساری مجھے تین گھنٹےکے اندر چاہیے۔۔۔
خان دونوں کو کام سونپتا اپنا موبائل لیتا بیسمنٹ سے نکلا تھا اس نے زمل کو کال ملائی تھی مگر دوسری جانبسے کسی نے کال نہیں اٹھائی تھی۔۔اپنا ماتھا مسلتے خان نے مورے کو کام ملائی تھی جنھوں نے پہلی ہی بیل پر کال اٹھالی تھی۔۔
مورے کیسی ہیں ؟ آپ زمل آپ کے پاس پہنچ گئی ؟ خان نے اپنا لہجہ حد درجہ نارمل رکھتے پوچھا۔۔
ؓالحمد اللہ میں ٹھیک ہو اور زمل بھی بخیریت پہنچ گئی کافی تھکی ہوئی تھی اب تمھارے کمرے میں سو رہی ہے۔۔۔اور ماشااللہ میرے بیٹےکی پسند بہت پیاری ہے۔۔انھوں نے زمل کی تعریف کی تھی۔۔
اس کا خیال رکھیے گا مورے اور اپنا بھی میں گھر کی سکیورٹی ڈبل کروا رہاہوں کچھ بھی غیر معمولی محسوس کریں تو مجھے ضرور بتائیے گا۔۔مورے سے بات کرتے خان کو سکون مل رہا تھا۔۔
کیا کرنے جا رہے ہو خان۔۔۔مورے نے پوچھا اس کی باتیں انھیں ڈرا رہی تھی۔
وہ ہی جو بہت پہلے کر دینا چاہیےتھا مورے۔۔۔وہ سپاٹ سے لہجے میں بولا تھا۔۔
میں بعد میں آپ سے بات کروں گا۔۔۔خان اپنی طرف آتے اپنے آدمیوں کودیکھتا فون بند کر گیا تھا۔۔
سر تین اڈوں کا پتا چلا ہے جہاں سے منشیات اور اسلحہ پیٹیوں میں بند کرکے مختلف جگہوں پر بھیجے جاتے ہیں۔۔۔۔
اب دیر کس بات کی ہے تینو جگہوں کو اڑا دو۔۔۔خان سرد لہجے میں بولا تھا وہ لوگ سر ہلاتے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
لگاتار دو ہفتوں سے وہ مسلسل مصروف تھا شیر خان کے اڈوں کو ٹھپ کروانے پر یہ وہ جگہیں تھیں جہاں سے شیر خان نے ترقی کرنا شروع کیا تھا اور اب وہ ہی تباہ ہو رہی تھیں۔۔
جبکہ دوسری جانب شیر خان آگ بگولہ ہو رہا تھا چال تو وہ بھی چلنے والا تھا مگر ایک خاص وقت پر فلحال وہ خون کے گھونٹ بھرے بیٹھا تھا۔۔ورنہ خان کو پچھلے ہفتوں سے کئی بار مروانے کی کوششیشں وہ کر چکا تھا۔۔
اسفند کی ٹانگ میں جو گولی لگی تھی اس سے اب وہ کافی حد تک صحت مند ہو گیا تھا بلکہ اس نے شیر خان سے صلح کرنے میں بھلائی سمجھی تھی۔۔
اسفند اس کے پاس ہی بیٹھا تھا جب شیر خان اس سے کروفر انداز میں بولا تھا۔۔
اسفند تمھیں یقین ہےتمھارے آدمی صحیح سے کام کردیں گے ؟ سگار پیتے اس نے اسفند سے پوچھا تھا۔۔
ہمم۔۔ انھیں بس ہمارے حکم کا انتظار ہے وہ لوگ گھات لگائے بیٹھے ہیں۔۔اسفند اپنے دانت دکھاتا بولا تھا۔۔۔
اگر ان سے کام نہ ہو پایا نہ تو تمھیں میں اوپر پہنچانے میں دیر نہیں کروں گا۔۔۔اسفند کو دھمکی دیتے وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔۔۔
*********************
دو ہفتوں سے زیادہ گزر چکے تھے زمل کو بہاولپور آئے ہوئے اس دوران ایک بار بھی خان کا فون نہیں آیا تھا۔۔جبکہ اس کا فون بھی بند جارہا تھا۔۔
زمل پریشان سی اس کے لیے دعائیں کرتی زرتاشہ اور مہناز بیگم کے ساتھ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گزارتی تاکہ اس کا دھیان بھٹ سکے۔۔۔لیکن خان کی فکر اسے ہر وقت لاحق رہتی تھی۔۔
مہناز بیگم اسے کئی بار سمجھا چکی تھیں مگر اس کے دل کو خان سے بات کیے بغیر کہاں سکون ملنا تھا۔۔۔انھی دنوں میں زرتاشہ کی بھی طبیعت خرابی کی وجہ سے مہناز بیگم مزید پریشان تھیں۔۔
جبکہ دوسری طرف زرتاشہ الگ پریشان تھی وہ جب سے زمان کےگھر سے آئی تھی اس کے بعد سے اس کا رابطہ زمان سے نہیں ہوا تھا۔۔۔ماہم سے بھی وہ پوچھنےسے کترا رہی تھی اور کچھ دنوں سے وہ یونیورسٹی بھی نہیں آرہی تھی۔۔۔دو دن سے طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ بھی یونیورسٹی نہیں جارہی تھی۔۔اسے اپنی طبیعت کا کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ مسلسل قے اور چکر کیوں آرہے ہیں اسی ڈر سے وہ چیک اپ کروانے بھی نہیں جارہی تھی۔۔۔
مہناز بیگم زرتاشہ کی طبیعت کو دیکھتے اسے زبردستی شام کو ڈاکٹر پاس لے گئی تھی زرتاشہ کے کچھ ٹیسٹ ہوئے تھے جن کا رزلٹ انھیں کل تک ملنا تھا۔۔فلحال ڈاکٹر نے اسے کچھ میڈسن دے دی تھی۔۔
صبح دس بجے کا وقت تھا زمل مہناز بیگم کے پاس بیٹھی انھیں اپنے بچپن کے قصے سنا رہی تھیں جب لاونچ میں خان کو داخل ہوتے دیکھ کر وہ ساکت ہوئی تھی۔۔اسے صحیح سلامت دیکھتے اس کے بے چین دل کو سکون ملا تھا۔۔
مورے خان کو دیکھتی خوش ہوکر اٹھی تھی مورے سے ملتے خان کی نظریں زمل کی طرف اٹھی تھی اور اس کا وجود خان کی آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا کر گیا تھا۔۔
زمل نے اس کے قریب آتے دھیمی آواز میں سلام کیا تھا۔۔۔اس کی شیریں آواز خان کے کانوں میں رس گھول گئی تھیں۔۔
خان کو دیکھتے زمل کو اپنے پور پور میں سکون کی لہر اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔
میں آپ کے لیے پانی لے کر آتی ہوں۔۔زمل نظریں جھکائے آہستہ سے بولی تھی۔۔
مجھے ایک کپ چائے چاہیے روم میں لے آنا۔۔زمل کو بولتا خان مورے کی طرف مڑا تھا
مورے زرتاشہ کہاں ہے ؟
اس کی کچھ طبیعت نہیں ٹھیک وہ آرام کر رہی ہے خان۔۔مورے نے شفقت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔خان سر ہلاتا اس سے بعد میں ملنے کا سوچتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
زمل چائے لے کر جب کمرے میں آئی تھی تب تک خان فریش ہو چکا تھا۔۔اپنے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ زمل کے پاس آیا تھا جو چائے ٹیبل پر رکھتی خاموشی سے کمرے سے جانے لگی تھی۔۔
مجھ سے ناراض ہو؟ زمل کی نرم و نازک کلائی تھامتے خان نے اسے جھٹکے سے اسے اپنے قریب کھینچا تھا۔۔
میں بھلا کیوں ناراض ہوں گی؟۔۔وہ خفا خفا سی اسے اپنے دل کے قریب لگ رہی تھی۔۔
میرا موبائل ٹوٹ گیا تھا اس لیے رابطہ نہیں کر پایا تھا اور مصروفیات بھی بہت زیادہ تھیں ٹائم نہیں ملا تھا۔۔اس کی ٹھوڑی پکڑتے اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے خان نے دوسرے ہاتھ سے اس کا گال سہلایا تھا۔۔
صحیح آپ کو مجھ سے زیادہ ضروری کام ہوں گے ایک میں ہی پاگل تھی جو آپ کی فکر میں پاگل ہورہی تھی۔۔وہ شکوہ کن نگاہوں سے اسے دیکھتی بولی تھی۔۔
شش۔۔۔بہت زیادہ بولنے لگی ہو۔۔خان نے اسے خاموش کرواتے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا زمل نے خاموش ہوتے اسے دیکھا تھا جو بولنا شروع ہوا تھا۔۔
یہ میرے دل سے پوچھو تمھارے بغیر اتنے دن کیسے گزارا کیا ہے میرے بس میں ہوتا تو ایک سیکنڈ بھی تمھیں اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیتا تم میرے دل کا سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہو خانم۔۔خان اس کے کان کی لو پر لب رکھتا گھمبیر آواز میں بولتا زمل کی ساری ناراضگی دور کر گیا تھا۔۔
میں نے آپ کو بہت یاد کیا تھا۔۔وہ سرخ پڑتی نظریں جھکاتے ہوئے بولی تھی۔۔۔خان کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے زمل کے چہرے پر جھکتے وہ اس کی سانسیں خود میں بند کر گیا تھا۔۔
خان کے آزاد کرنے پر زمل اس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔ناس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا تھا اور گال تپ گئے تھے۔۔
اس کے گرد حصار ڈالتے خان نے اس کے وجود کی خوشبو خود میں اتاری تھی۔۔۔فسوں خیز لمحوں میں خلل خان کے موبائل کی گھنٹی نے ڈالا تھا۔۔
زمل کو آزاد کرتے خان نے فون اٹھایا تھا دوسری جانب کی بات سنتا خان فون بند کرتا زملپاس آیا تھا۔۔
میرا انتظار کرو میں دس منٹ تک واپس آیا۔۔۔یہاں ہی رہنا۔۔زمل کی پیشانی چومتے بنا اسے کچھ بولنے کا موقع دیے خان کمرے سے چلا گیا تھا۔۔۔زمل خاموشی سے بیڈ پر بیٹھتی خان کے لوٹنے کا انتظار کرنے لگی تھی ٹیبل پر پڑی ٹھنڈی چائے دیکھتے زمل نے گہری سانس خارج کی تھی۔۔
خان قاسم کی کال پر نیچے گیا تھا جو ہوسپٹل سے زرتاشہ کی رپورٹس لے کر آیا تھا۔۔
زرتاشہ کو مہناز بیگم کے ساتھ لاونچ میں دیکھتا وہ اس کے سر پر رکھتے باہر گیا تھا جہاں قاسم نے اسے خاموشی سے رپورٹس پکڑائی تھیں۔۔خان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے رپورٹس کھولی تھی۔۔
رپورٹس پڑھ کر بےساختہ اس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا تھا۔۔رپورٹس لیتا وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اندر گیا تھا۔۔زرتاشہ کے پاس آتے اس نے غصے سے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا۔۔
خان کیا کر رہے ہو اس کی پہلے ہی طبیعت نہیں ٹھیک۔۔مہناز بیگم سہمی ہوئی زرتاشہ کو دیکھتے طیش زدہ خان کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی بولی تھیں
یہ اس کے کرتوت ہیں آپ بھی دیکھ لیں۔۔۔اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی رپورٹس مہناز بیگم کو پکڑائی تھیں جنھیں دیکھ کر ان کا رنگ فق ہوا تھا
پریگنینٹ۔۔؟ مہناز بیگم نے غصے اور ملامتی نظروں سے زرتاشہ کو دیکھا تھا جو رونے لگی تھی۔۔
میں نے تم پر بھروسہ کرکے سب سے بچا کر تمھیں ایک بار پھر زندگی جینے اور پڑھنے کا موقع دیا زرتاشہ اور تم نے اس کا یہ صلح دیا ؟ خان کی غصے سے بھری آواز سن کر زرتاشہ کے رونے میں مزید روانی آگئی تھی۔
لالا میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے آپ کا سر جھکے۔۔وہ روتے روتے دھیمی آواز میں بولی۔
کس کا بچہ ہے یہ ؟ مہناز بیگم نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا وہ جو پہلے ہی نڈھال تھی مزید پیلی پڑ گئی تھی۔
کس کا گناہ لیے پھر رہی ہو ؟ میں نے تمھیں کتنی بار بتایا تھا ہر بار یاد دلایا زرتاشہ تم کسی کے نکاح میں ہو۔۔۔پھر بھی تم نے ایسا کیا۔۔۔مہناز بیگم طیش میں بولی تھیں۔
م۔۔۔مورے ایسا نہ کہیں زمان سے ہی میرا نکاح ہوا تھا میں صرف ان سے ہی ملی ہوں۔۔وہ دبے دبے الفاظوں میں بولی تھی۔
زمان ؟ تم زمان سے کہاں ملی تھی ؟۔۔خان نے حیرت سے اس کے قریب آکر پوچھا اس کے مطابق زمان ایک عرصہ پہلے ہی پاکستان چھوڑ کر جاچکا تھا۔
ؐلالا میں نے کچھ غلط نہیں کیا میرا یقین کریں۔۔وہ نم آنکھوں سے خان کو دیکھتے بول رہی تھی۔
زمل جو ٹھنڈی چائے کیچن میں رکھنے آئی تھی پریشان ہوگئی تھی۔۔وہ خاموش ہی کھڑی تھی اس صورتحال میں اس نے بولنا مناسب نہ سمجھا تھا۔۔
تم اسے کب ، کیسے اور کہاں ملی مجھے سب کچھ بتاو اور اس شخص کے گھر کا اڈریس بھی دو۔۔خان اس کی حالت دیکھتا نرم پڑ گیا تھا۔۔
زرتاشہ نے اسے ساری بات بتا دی تھی۔۔خان غصے سے مٹھیاں بھینچتا زمان سے ملنے کے لیے گھر سے نکل گیا تھا۔مہناز بیگم زرتاشہ کے جھوٹ کے بارے میں سنتی اس سے مزید ناراض ہوگئی تھی مایوسی دے زرتاشہ کو دیکھتی وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں زمل نے روتی زرتاشہ کو سہارا دیا تھا اسے چپ کرواتی وہ اسے کمرے میں چھوڑ آئی تھی۔۔
وہ زمان کے گھر گیا تھا مگر ان کے گھر تالا لگا ہوا تھا اور ان کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔۔
کچھ دیر بعد اپنا غصہ ٹھنڈا کرتا وہ واپس گھر آیا تھا اس نے قاسم کو خان کو ڈھونڈنے پر لگایا تھا۔۔جبکہ خود زرتاشہ پاس گیا تھا۔۔کمرے کا دروازہ ناک کرتا وہ اندر داخل ہوا تھا جہاں بیڈ سے ٹیک لگائے زرتاشہ زرد سی لگ رہی تھی۔۔
خان نے زرتاشہ کے پاس بیٹھتے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔تم نے ٹھیک نہیں کیا زرتاشہ۔۔۔تم کم سے کم زمان کے بارے میں مورے کو ہی بتا دیتی۔۔تمھارے اتنے بڑے قدم نے تمھارے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ تم نے کیوں کیا؟ لیکن امید ہے اب دوبارہ کبھی بنا بتائے ایسا کوئی بھی کام کرنے سے پہلے کسی کو بتانا ضرور۔۔۔
تم نے اس دنیا کا اصلی چہرہ نہیں دیکھا یہاں انسان کے روپ میں بھیڑیے بستے ہیں۔۔وہ شفت سے زرتاشہ کو نرم لہجے میں سمجھا رہا تھا جو مسلسل رو رہی تھی۔۔
لالا مجھے نہیں پتا تھا وہ شخص ایسا کرکے کہیں غائب ہوجائے گا وہ تو میری کال بھی نہیں اٹھا رہا میری کیا غلطی ہے کہ میں نے اس شخص پر بھروسہ کیا۔۔۔وہ ہچکیاں لیتی بول رہی تھی۔۔اسے بامشکل چپ کرواتے خان نے اسے سلا دیا تھا۔۔
شیر خان والا مسلہ حل کرنے کے بعد وہ زمان کو سبق سکھانے کا سوچ رہا تھا۔۔اپنا ماتھا مسلتا وہ زرتاشہ کو آخری نظر دیکھ کر چلا گیا تھا۔۔۔
************
یزدان کام سے تھکا ہارا گھر لوٹا تھا۔۔اپنا کوٹ اتارتا وہ گھر میں داخل ہوا تھا جب گھر کی خاموشی نے اسے ٹھٹکنے پر مجبور کیا تھا۔۔
وہ جب بھی واپس آتا تھا زرش بھاگی ہوئی چلی آتی تھی جبکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔۔کچھ گڑبڑ کا احساس ہوتے وہ چوکنا ہوتا لاونچ میں داخل ہوا تھا جب سامنے کا منظر دیکھتے اس کی رگیں تن گئی تھیں اور دل جیسے رک گیا تھا۔۔
وہاں چار لوگ گن پکڑے کھڑے تھے جبکہ ان میں سے دو نے صوفے پر بیٹھے زرش پر گن تانی ہوئی تھی۔۔جو روئی روئی آنکھوں میں خوف سمائے یزدان کو دیکھ رہی تھیں۔۔
تمھارا ہی انتظار ہو رہا تھا یزدان۔۔ایک آدمی نے آگے بڑھتے یزدان کو کال ملا کر فون پکڑایا تھا۔۔
یزدان نے مٹھیاں بھینچتے موبائل پکڑا تھا وہ اس وقت خود کو شدید بےبس محسوس کر رہا تھا۔۔
پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچو یزدان ورنہ یہ لوگ تمھاری بیوی کا بھیجا اڑانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔۔اور ہاں چالاکی کرنے کی کوشش نہ کرنا اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔۔۔شیر خان کی آواز اس کی کانوں میں صور پھونک رہی تھی۔۔اپنی مٹھیاں بھینچتے وہ لب دبا کر فون بند کر گیا تھا۔۔
ہوشیاری کرنے کی کوشش نہ کرنا تم ہمارا مقابلہ نہیں کرپاو گے۔۔وہ لوگ زرش کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے بولے تھے۔۔ایک گن زرش پر تھی جبکہ ایک شخص نے یزدان پر گن تانی ہوئی تھی۔۔
یزدان مجھے بچالیں۔۔۔مجھے ان کے ساتھ نہیں جانا پلیز یزدان۔۔۔زرش روتی ہوئی بولی تھی۔۔یزدان نے بےبسی سے آنکھیں زور سے بند کرکے کھولتے اسے دیکھا تھا۔۔
میں تمھیں بچا لوں گا اپنا خیال رکھنا۔۔یزدان بھاری آواز میں بےبسی سے بولا تھا۔۔جبکہ اس کی نظروں کے سامنے سے وہ اسے لےگئے تھے۔۔اور وہ کچھ نہ کرپایا تھا۔۔۔
*****************
چند دن بہاولپور گزار کر خان واپس جانے والا تھا۔۔اب کی بار اس کے واپس لوٹنے کے چانس کتنے کم تھے وہ اس سے واقف تھا وہ مہناز بیگم کو اپنے ارادے کا بتا چکا تھا۔۔اب پیکنگ کیے وہ واپس جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔۔
میں تمھارے ساتھ ایک حسین زندگی جینا چاہتا ہوں اگر قسمت نے ساتھ دیا تو جلد لوٹ آو گا ورنہ۔۔۔
وہ زمل کی طرف دیکھتا بےخیالی میں بولتا اپنی بات ادھوری چھوڑ گیا تھا۔۔ زمل کا دل دہل سا گیا تھا۔۔زمل نے لب کاٹتے نم آنکھوں سےا سے دیکھا تھا۔۔
آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں جیسے اب واپس نہیں آئیں گے۔۔۔زمل پریشان سی خان کو دیکھتی بولی تھی جو اس کے ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔۔
تم اپنا خیال رکھو میں واپس آجاوں گا۔۔اور زرتاشہ کا بھی خیال رکھنا۔۔۔اب سارے کام نبٹا کر ہی زرتاشہ سے بات ہوگی۔۔۔وہ زمل کی ٹھنڈی پیشانی پر لمس چھوڑتا سپاٹ سے لہجے میں بولا تھا۔۔
تین دن کے لیے ہی تو وہ آیا تھا اور اب دوبارہ اتنی جلدی جا رہا تھا کہ زمل کا دل گھبرانے لگا تھا۔۔
زمل نے پاوں کے بل اوپر اٹھتے خان کے ماتھے پر لب رکھے تھے جس سے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔اس نے کمر سے تھامتے زمل کو اپنے سینے سے لگایا تھا
اللہ کی امان میں اپنا بہت زیادہ خیال رکھیے گا میں دعا کروں گی اللہ پاک آپ کو کامیاب کرے۔۔۔وہ اس کے گرد حصار باندھتی نرم آواز میں بول رہی تھی۔۔خان نے نرمی سے اس کے سر پر لب رکھے تھے۔۔۔
گہرا سانس لیتے زمل سے بمشکل دور ہٹتے اس کی پیشانی پر لمس چھوڑتا وہ ہوا کے جھونکے کی طرح جاچکا تھا۔۔زمل کافی دیر کھڑی اس کا لمس محسوس کرتی رہی تھی۔۔
جاری ہے۔۔۔
