Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 13)

My Girl by Zanoor

سر عبد المنان مل گیا ہے ملتان میں چھپا بیٹھا ہے۔۔ارمغان نے خان کو بتایا۔عبدالمنان نے خان کا سسٹم ہیک کیا تھا جس کی وجہ سے پینٹ ہاؤس میں خان پر حملہ ہوا تھا۔

پھر دیر کس بات کی ہم ایک گھنٹے تک ملتان کے لیے نکل رہے ہیں۔ہمارے آدمیوں کو کہو ابھی اسے نہ پکڑیں میں خود اسے پکڑوں گا۔۔خان کے ساتھ دشمنی مول لینے کا اسے سبق میں خود سکھاؤں گا۔۔خان ارمغان سے بولا۔

آج کل کام کی مصروفیات نہ ہونے کے باعث لاہور میں ہی سٹے کر رہا تھا بس پیپر ورک ہی تھا جو زیادہ تر ارمغان اور باقی لوگ کر رہے تھے۔

وہ بس واپس گھر نی جانے کا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا۔زمل کے ساتھ نکاح کو وہ بس ایک بوجھ سمجھ رہا تھا۔

یزدان کو وہ واپس بھجوا چکا تھا۔اب اس کا پلان ملتان جانے کا تھا۔

ہیڈ کوارٹر سے نکلتے وہ سیدھا پینٹ ہاؤس گیا تھا۔ایک کالا بیگ نکالتے اس میں اپنی ایک شرٹ اور ٹراؤزر ڈالتے اس نے بیڈ کے نیچے بنے دراز کھول کر ان میں سے دو گنز اور ان کی بلٹس نکال کر بیگ میں رکھی تھیں۔مختلف قسم کے چاقو نکالتے اس نے بیڈ پر رکھے تھے۔

کپڑے چینج کرتا وہ بلیک شرٹ اور پینٹ پہن چکا تھا۔شرٹ کے اوپر سے جیکٹ پہنتے اس نے جیکٹ میں چاقو چھپائے تھے۔پھر جھکتے اس نے سپیشل جوتے پہنے تھے جس کے نیچے چاقو خفیہ انداز میں لگائے ہوئے تھے۔

کچھ ہی دیر میں اپنی چیزیں ڈالتا وہ ارمغان کے ساتھ ملتان کے لیے نکل چکا تھا۔

رات تک وہ لوگ ملتان پہنچ چکے تھے۔ارمغان کے ساتھ پلان بناتے ان لوگوں نے رات کو ہی حملہ کرنے کا سوچا تھا۔ایک گھنٹے میں ریفریش ہوتے وہ مطلوبہ جگہ پہنچ چکے تھے۔

وہ ایک سنسان سی آبادی میں بنا گھر تھا جہاں شاید ہی کوئی آتا تھا۔وہاں ہی ایک کمرے میں عبدالمنان نے اپنا سارا سیٹ اپ کیا تھا۔

عبدالمنان باہر سے قدموں کی آواز سنتے ہوشیار ہوا تھا تیزی سے اپنے کمپیوٹر پر انگلیاں چلاتے اس نے سنیک آرگنائزیشن کے خلاف جمع ساری انفارمیشن آرمی کو سینڈ کرنا شروع کی تھی۔

پروسیسس شروع ہوتے ہی وہ تیزی سے باقی چیزیں سمیٹتا بیگ میں ڈالنے لگا تھا۔

کہاں بھاگنے کی تیاری ہے منان صاحب۔۔دروازہ توڑتے خان نے اندر داخل ہوتے سرد مسکراہٹ سے پوچھا۔

اسے دیکھ کر عبدالمنان کے پسینے چھوٹے خوف سے سفید پڑتے اس نے ارد گرد بھاگنے کی کوئی جگہ ڈھونڈنی چاہی مگر کمرہ پورا بند تھا۔

یہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔۔خان عبدالمنان کو دیکھتا سرد لہجے میں بولا۔

تم مجھے مار دوں لیکن تم لوگوں کا سارا ڈیٹا میں آرمی کو سینڈ کر چکا ہوں۔۔ارمغان خان کے اشارے پر فورا کمپیوٹر کے پاس گیا تھا جہاں پر 56% پروسیس کمپلیٹ ہوچکا تھا۔

سر ابھی ڈیٹا سینڈ ہو رہا ہے۔۔ارمغان کی بات پر خان نے سرد نظروں سے عبدالمنان کو دیکھا۔

اسے فورا رکو منان۔۔خان سخت لہجے میں بولا۔

میں اسے کچھ نہیں کر رہا۔۔عبدالمنان بےخوف انداز میں بولا۔

تمھارا بیٹا بہت پیارا ہے عبدالمنان۔۔میرے آدمیوں کو اسے مارتے ہوئے ہوئے دکھ ہوگا۔عبدالمان خان کی دھمکی پر فورا ڈھیلا پڑا۔

پلیز خان میرے بیٹے کو کچھ مت کرنا میں ابھی یہ روک رہا ہوں۔۔وہ تیزی سے بولتا کمپیوٹر پر بیٹھتا تیزی سے انگلیاں کی بورڈ پر چلاتا ایک منٹ میں ہی وہ پروسیس روک چکا تھا۔

اسے پکڑو اور لیپ ٹاپ بھی لے لو اس کا اور اس بند کمپیوٹر کی ہارڈ ڈیسک بھی نکالو ارمغان ۔۔اپنے پیچھے کھڑے دو آدمیوں کو اشارے کرتے خان ارمغان سے بولا جس نے فورا کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک نکالتے عبدالمنان کا لیپ ٹاپ والا بیگ بھی اٹھا لیا تھا۔

خان کے خلاف جاکر تم نے بہت برا کیا منان۔۔عبدالمنان کے قریب جاتے اس نے گردن سے پکڑتے سپات انداز میں کہا۔

شیر خان نے میرا بیٹا کیڈنیپ کیا تھا۔ عبدالمنان بس اتنا ہی بولا تھا جب خان نے اپنے آدمیوں کو اسے لے جانے کا اشارہ کیا۔

اس میں موجود سارا ڈیٹا کل تک مجھے مل جانا چاہیے ارمغان اور یہ لیپ ٹاپ ابھی ایسے ہی میرے کمرے میں پہنچا دو۔۔

خان ارمغان کو بولتا ہوا گاڑی میں بیٹھا ارمغان گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔جبکہ ارمغان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔

وہ لوگ یہاں بنے اپنے ایک چھوٹے سے گھر میں قیام کر رہے تھے۔ جو باہر سے عام بند پڑا گھر لگتا تھا مگر اس کے بیسمنٹ میں فل ٹیک سسٹم انسٹال تھا۔۔

رات کافی ہوگئی تھی۔وہ لوگ آرام کرنے کے لیے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔

************

یزدان دیکھیں باہر برف باری ہو رہی ہے۔۔زرش باہر ہوتی برف باری کو دیکھتی خوشی سے اچھلی وہ لوگ مری آئے ہوئے تھے جہاں پر یزدان کو ایک دو کام بھی تھے۔۔

یزدان جو کافی پیتا اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا اسے خوش دیکھ کر مسکرایا۔وہ اس کے ساتھ گھلنے ملنے لگی تھی۔کرتا شلوار پہنے ساتھ یزدان کی جیکٹ پہنے گرم شال کندھوں پر پھیلائے سر پر کیپ پہنے وہ یزدان کو کیوٹ لگ رہی تھی۔یزدان خود پینٹ شرٹ اور جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔

مجھے باہر جانا ہے یزدان ۔۔وہ ضدی لہجے میں بولی۔

آپ بیمار پڑ جائیں گی زما زڑگیہ۔۔یزدان نے اس کے کافی کا کپ قریب پڑے میز پر رکھتے زرش کے بال چہرے سے ہٹاتے اسے نرمی سے کہا۔

لیکن مجھے جانا ہے میں پہلی بار برف باری دیکھ رہی ہوں اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا میں اسے انجوائے نہ کروں۔۔زرش کے ضد کرنے پر یزدان ہار مانتا اسے باہر لایا تھا۔

زرش برف باری ہوتی دیکھتی اس میں گول گول گھومنے لگی تھی۔یزدان پاس کھڑا سینے پر بازو باندھے خاموشی سے زرش کو گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔

اچانک زرش نے جھکتے ہوئے برف کا گولا بناتے یزدان کے سینے پر مارا تھا۔

یہ حملہ آپ کو کافی مہنگا پڑے گا۔۔یزدان نے نیچے جھکتے برف کا بڑا سا گولا چیخ کر بھاگتی ہوئی زرش کے سر پر مارا تھا۔

وہ چیختے ہوئے برف پر گری پھر تیزی سے اٹھتے اس نے برف کا بڑا سا گولا بناتے یزدان کو مارا جو اس نے نیچے جھکتے ہوئے مس کر دیا تھا۔

یہ ناانصافی ہے۔۔ وہ ایک اور برف کا گولا سر پر بجنے سے بلبلائی۔

وہ یزدان کو ہنستے ہوئے دیکھ کر برف ویسے ہی اٹھا کر اس کی طرف بچوں کی طرح پھینکنے لگی۔۔یزدان اس کی حرکت پر ہنستا ہوا اسے چڑا رہا تھا۔

زرش اٹھ کر تیزی سے ہاتھ میں برف کا گولا پکڑ کر بھاگتی ہوئی یزدان کے پاس آنے لگی۔۔

یزدان کے قریب آتے ہی زرش کا پاؤں برف می پھنس کر لڑکھڑایا وہ پھسل کر سیدھا یزدان پر گری جو سیدھا پیچھے موجود برف پر گرا تھا۔

زرش ہاتھ میں موجود برف یزدان کے چہرے پر پھینکتے ہنسنے لگی تھی۔یزدان برف منہ سے ہٹاتا اس کے ساتھ ہنسنے لگا تھا۔

اپنی اور یزدان کی پوزیشن کا خیال کرتی زرش شرم سے فورا برف پر لیٹ گئی تھی۔

دونوں کے اوپر آسمان سے سیدھی برف گر رہی تھی۔رات کی خاموشی میں ان دونوں کی تیز دھڑکنیں ارتعاش پیدا کر رہی تھیں۔

زما زڑگیہ فورا اٹھیں اندر چلیں۔۔سردی کی شدت بڑھتی محسوس کرکے یزدان نے زرش کو اٹھایا تھا۔ دونوں کے کپڑے برف پر لیٹنے کی وجہ سے گیلے ہو گئے تھے۔

زرش کو کانپتے دیکھ کر یزدان اسے فورا کاٹیج میں لے گیا تھا جہاں ہیٹنگ سسٹم اون تھا۔

زرش کے کپڑے چینج کرنے کے بعد یزدان نے بھی فورا کپڑے بدلے تھے۔زرش کیچن میں موجود فریج سے نکال کر کھانا گرم کرنے لگی تھی۔اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ رقصاں تھیں۔۔

یزدان کیچن میں موجود ٹیبل کے گرد پڑی دو کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر اپنا موبائل نکالتا اس پر میسجز چیک کرتا بار بار زرش کو دیکھ رہا تھا۔

یزدان میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔ایسا لگ رہا ہے کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔۔زرش پریشانی سے کھانا ٹیبل پر لگاتی بولی۔۔

کچھ برا نہیں ہونے والا آپ کو ویسے ہی برے خیال آرہے ہوں گے۔۔

آپ مجھے ” تم ” کہا کریں زیادہ اچھا لگے گا۔۔وہ یزدان کی بات پر ہلکا سا مسکراتی بولی۔

کیوں میرا “آپ” کہنا پسند نہیں ؟ یزدان نے ایک ائبرو اچکاتے پوچھا۔

نہیں۔۔مجھے پسند نہیں ہے ایسے لگتا ہے آپ تکلف کر رہے ہیں یا کوئی غیر بلا رہا ہے مجھے۔۔زرش کے منہ بگاڑ کر بولنے پر وہ مسکرایا

زما زڑگیہ آئیندہ کے بعد تمھیں بے تکلفی سے پکارا کروں گا۔۔وہ چاولوں کا چمچ منہ میں ڈالتا بولا زرش اس کے اتنی جلدی مان جانے پر مسکرائی۔۔

میری بجو سے بات کروا دیں یزدان مجھے سکون مل جائے گا۔۔دل ان کو لے کر بےچین سا ہو رہا ہے۔۔کھانا کھانے کے بعد دونوں ہی آرام کرنے کے لیے لیٹنے لگے تھے جب زرش بولی۔

یزدان نے اس کے بولنے پر گھر کے نمبر پر کال ملاتے گل کے کال اٹھانے پر اسے خانم کی بات زرش سے کروانے کا کہا۔۔

اسلام علیکم بجو! کیا ہوا ہے آپ کو طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ کی؟ زرش یزدان سے فون لیتی زمل سے سلام لیتی اس کی بیٹھی ہوئی آواز سن کر بولی۔۔

میں اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں زرش بس ویسے ہی کچھ طبیعت ڈاؤن ہے تم بتاؤ کیا کر رہی تھی ؟ یزدان کے ساتھ انجوائے کر رہی ہو ؟ زرش زمل کے سوالوں پر مسکرائی۔۔

جی بجو یہاں مجھے بہت مزا آرہا ہے اور آپ پلیز کوئی میڈسن لے لیں۔۔زرش کی فکر پر زمل مسکرائی تھی۔

اچھا لے لوں گی۔۔تم میری فکر کرنا چھوڑ دو اپنے شوہر کی فکر کرو۔۔زمل ہلکا سا مسکراتی اسے تنگ کرنے کے لیے بولی۔۔

بجو وہ خود اپنا خیال رکھ سکتے ہیں۔۔وہ لب دبا کر مسکراہٹ روکتی یزدان کو دیکھنے لگی جو مسکراتے ہوئے اس کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند گیا تھا۔

زرش نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی تھی۔یزدان سکون سے آنکھیں موند گیا تھا۔

ہاہاہا۔۔ مجھے تم سے نہیں یزدان سے کہنا چاہیے تھا وہ تمھارا خیال رکھے۔۔زمل ہنستے ہوئے بولی تھی۔یزدان نے بھی شاید زمل کی بات سن لی تھی جو مسکرانے لگا تھا۔زرش نے بے ساختہ منہ پھولایا۔۔

تم آرام سے انجوائے کرو چندا میری فکر کرنا چھوڑ دو یہاں میری دیکھ بھال کے لیے کافی لوگ موجود ہیں۔۔زمل اسے سمجھانے لگی تھی۔

مزید کچھ دیر بات کرکے وہ کال بند کر گئی تھی۔زرش نے فون بند کرتے یزدان کو دیکھا جو اس کے پیٹ کے ارد گرد بازو ڈالے مزے سے سو رہا تھا۔

اس کی گرم سانسیں خود پر محسوس کرتے زرش کے گال تپنے لگا تھا یہ تو شکر تھا وہ سو رہا تھا ورنہ ضرور زرش کی ٹانگ کھینچتا۔۔

****************

سر ہارڈ ڈسک میں سنیک آرگنائزیشن کا سارا ڈیٹا موجود ہے۔۔ارمغان نے ڈسک چیک کرتے حیرانی سے خان کو بتایا۔

کوئی اندر کا آدمی ہمارے خلاف کام کر رہا ہے۔۔اتنی مہنگی سکیورٹی ہائر کرنے کا کیا فائدہ جب وہ آرگنائزیشن کا ڈیٹا سکیور نہیں کرسکتے۔۔ارمغان اپنی نگرانی میں تم سب کء انویسٹیگیشن کرو گے اور یہ ڈسک مجھے دے دو۔۔خان نے ہنکار بھرتے سرد لہجے میں بولتے اس سے ڈسک لے کر اپنے پاس رکھ کی تھی۔

جی سر اور عبد المنان کا کیا کرنا ہے ؟ ارمغان نے پوچھا۔

ابھی اس سے حساب بھی برابر کرنا ہے۔۔میں زرا اسے دیکھ کر آیا تب تک تم لوگ واپس جانے کی تیاری کرو۔۔دوپہر کا ایک بجے کا ٹائم تھا۔جب خان بیسمنٹ میں بنے سیل کی طرف بڑھا۔۔

عبدالمنان کو کرسی سے باندھا گیا تھا جبکہ اس کے منہ میں کپڑا ٹھونسا گیا تھا جس سے وہ بول نہیں پا رہا تھا۔۔خان نے اس کے قریب جاتے اس کا منہ کھولا تھا۔

اپنی صفائی میں کچھ بولنا چاہتے ہو ؟ خان نے سرد مہری میں سوال کیا۔۔

خان ایک موقع دے کر دیکھو میں تمھارے لیے جان بھی دے دوں گا۔۔شیر خان نے مجھے مجبور کیا تھا۔۔خان میرا بیٹا صرف چھ سال کا ہے اس پر گن رکھ ان لوگوں نے مجھے یہ سب کرنے کا کہا تھا۔۔ خان ورنہ میں تمھارے خلاف کبھی نہ جاتا۔۔اس کی فریاد سنتا خان کا چاقو پکڑا ہاتھ ساکت ہوا تھا۔۔

تمھاری وفا داری چاہیے مجھے عبد المنان تمھارے بیٹے کی حفاظت کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔۔خان نے معاہدہ کیا تھا۔

میں ہمیشہ تمھارا وفادار رہوں گا خان۔۔وہ فورا رضا مند ہوا تھا۔ خان نے اس کی رسیاں کھولی تھی وہ فورا گھٹنے کے بل جھکتے اس کا شکریہ ادا کرنے لگا تھا جب بھاگتا ہوا ارمغان سیل میں داخل ہوا۔۔

سر ایک بری خبر ہے۔۔ارمغان کی بات سنتے خان نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

سر خان ویلا کو آگ لگا دی ہے شیر خان نے۔۔ارمغان کی بات سنتے غصے کی زیادتی سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔۔

کوئی ویلا میں تو نہیں تھا ؟ اس نے ارمغان سے سوال کیا۔۔

سر۔۔۔ خانم اور گل ویلا میں تھیں۔۔ارمغان کے جواب پر خان نے اپنے ہاتھ میں موجود چاقو غصے سے دیوار کی طرف پھینکا تھا۔۔

ہم فورا کراچی کے لیے نکل رہے ہیں۔۔خان سیدھا ہوتا اپنی مٹھیاں بند کرتا اور کھولتا خود پر قابو پاتا بولا جبکہ ایک نقاب پوش لڑکی کی فکر میں دل میں چنگاریاں سے جلنے لگی تھیں۔۔

کیا وہ دونوں بحفاظت نکال لی گئیں ہیں ؟ خان نے ڈرائیور کرتے ارمغان سے پوچھا لاہور پہنچتے ہی ان کی کراچی کی فلائٹ تھی۔

سر شیر خان نے گل کو۔۔۔ اور خانم کو۔۔۔مارا بھی ہے ان دونوں کی حالت بہت خراب ہے قاسم نے انھیں پرائیویٹ ہوسپٹل میں لے گیا ہے۔۔ مگر ان کے بچنے کے چانسز کافی کم ہیں۔۔۔ارمغان کے بتانے پر خان نے غصے سے مکہ بناتے ڈیش بورڈ پر مارا تھا۔

زمل اور گل کی حالت کا قصور وار وہ کہیں نہ کہیں خود کو ہی سمجھ رہا تھا۔

قاسم کہاں مرا ہوا تھا جب شیر خان میرے گھر آیا ؟ خان نے چنگھارتے لہجے میں پوچھا۔۔

سر وہ گھر موجود نہیں تھا۔۔ارمغان منمنایا۔۔

میں اس کی لاپرواہی پر کھال ادھیڑ دوں گا ایک بار مجھے کراچی پہنچنے دو جو جو سکیورٹی پر معمور تھے ان سب کا انجام بہت برا ہوگا۔۔

عریش کو فون ملاؤ اسے کہو لاہور میں موجود شیر خان کے شراب کے کارخانے کو آگ لگا دے۔۔۔خان اپنے غصے پر قابو پاتے بولا۔۔

ارمغان نے ایک ہاتھ سے فون ملاتے اس نے عریش نامی بندے کو خان کا حکم دیا تھا۔۔

خان کا حکم مانتے فورا ہی شیر خان کے ایلگل شراب کے کارخانے میں آگ لگا دی گئی تھی۔۔

شیر خان جو اپنی کامیابی کا جشن منا رہا تھا۔۔اپنے نقصان کا سنتا بھڑک اٹھا تھا۔

اس خان کو میں خود اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔۔شیر خان غصے میں چیخا تھا اس کے ارد گرد کھڑے آدمی اس کا غصے سے ڈرتے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

ایک جنگ تھی جو خان اور شیر خان میں شروع ہوچکی تھی۔اب اس کا کیا انجام ہونا تھا یہ وقت نے بتانا تھا کون کس کے ہاتھوں مرے گا یا کون یہ جنگ جیتے گا یہ وقت ثابت کر دے گا۔۔

****************

ہمیں فورا کراچی لوٹنا ہے۔۔یزدان جو فون سننے کے لیے کاٹیج سے باہر نکلا تھا فورا اندر واپس آتا زرش سے بولا ان کا پلان آج بازار جانے کا تھا۔

اتنی جلدی کیوں آپ نے کہا تھا ہم دو دن مزید رکیں گے ؟ زرش نے سوال کیا۔

میں جو بول رہا ہوں وہ فورا کرو زرش۔۔یزدان کے سخت لہجے پر وہ ڈر گئی تھی۔پہلی بار اس نے زرش سے ایسے بات کی تھی۔۔

زرش خاموشی سے منہ پھولاتی کپڑے پیک کرچکی تھی۔۔یزدان خاموشی سے اسے لیتا ائرپورٹ کے لیے نکل گیا تھا۔۔اسلام آباد سے ان کی فلائٹ کراچی کی تھی۔

زمل کے ساتھ پیش ہونے والے حادثے کی خبر وہ زرش کو کیسے بتائے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔زرش کا ناراض شہرہ دیکھتے اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔

فلائٹ کے دوران زرش سوتے ہوئے ہی آئی تھی۔۔یزدان سارا راستہ خان کے بارے میں سوچ کر پریشان تھا۔وہ جانتا تھا یہ خبر خان کے لیے کتنی تکلیف دے ہوگی۔۔

ابھی اصل امتحان اس کا زرش کو بتاتے ہوئے ہونا تھا۔۔

فلائٹ کے لینڈ کرتے ہی وہ زرش کو لیتا سیدھا ہوسپٹل آیا تھا۔۔

یزدان ہم یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ ہوسپٹل کو دیکھتے زرش نے پریشانی سے پوچھا۔۔

یزدان بجو ٹھیک ہے نہ ؟ اس نے دھڑکتے دل سے پوچھا

آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے ؟ وہ چیخ کر چلتے ہوئے یزدان کے پیچھے جاتے ہوئے بولی۔۔

گھر میں آگ لگ گئی تھی زرش زمل اور گل دونوں گھر میں موجود تھی اس لیے وہ دونوں زخمی ہوئی ہیں۔۔یزدان نے کچھ بات چھپاتے بتایا۔۔

وہ لوگ آئی سی یو کے باہر پہنچ چکے تھے جہاں بیٹھا پریشان سا قاسم انھیں دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔

زرش سن سی کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھیں دل کی دھڑکنیں اس کی سستی سے چلنے لگی تھیں۔۔

سر گل کو وہ لوگ بچا نہیں پائے۔۔قاسم افسردگی سے بولا۔۔یزدان نے آنکھیں زور سے میچ کر کھولیں تھیں۔

خانم کیسی ہے ؟ زرش کی حالت پر نظر ڈال کر یزدان نے پوچھا۔

خانم کی حالت بہت بری ہے اگلے اڑتالیس گھنٹے ان کے لیے بہت مشکل ہے ڈاکٹر کے مطابق انھیں دعاؤں کی ضرورت ہے۔۔زمل کا سنتے ہی زرش لہرا کر زمین پر گر گئی تھی۔۔

یزدان نے پریشانی سے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا تھا۔۔اسے کمرے میں لے جاتے اس کا چیک اپ ہوا تھا۔ڈاکٹر نے ٹینشن کی وجہ سے زرش کے بے ہوش ہونے کا بتایا تھا۔۔

یزدان خود اس ساری صورت حال پر پریشان ہو گیا تھا۔۔زرش کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ اس کے کمرے سے نکل آیا تھا۔

زرش کو کچھ دیر بعد ہوش آگیا تھا وہ تب سے آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھی قرآنی آیات پڑھ رہی تھی۔یزدان سے وہ ایک لفظ نہیں بولی تھی۔

یزدان دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔زرش کئی بار آئی سی یو کے دروازے سے اندر جھانک کر دیکھ چکی تھی۔

نالیوں اور مشینوں میں جکڑی زمل کو بار بار دیکھنے کا حوصلہ زرش میں نہیں تھا۔

دس گھنٹے کے اذیت دے سفر کے بعد خان کراچی پہنچا تھا۔۔زمل کا پوچھتے وہ سیدھا آئی سی یو کی طرف آیا تھا۔۔

زمل کیسی ہے یزدان؟ خان نے یزدان کو دیکھتے ہی پوچھا۔

وہ ٹھیک نہیں ہے ؟ اور گل مر چکی ہے خان۔۔یزدان کے بولنے پر خان کے چہرے پر سائے لہرائے تھے۔

یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔۔زرش اچانک اٹھتی خان پر چیخی تھی۔۔نقاب میں چھپی روئی روئی آنکھیں خان کو غصے سے گھور رہی تھیں۔۔

زرش اپنا لہجہ درست کرو۔۔یزدان ناگواریت سے اس کے لہجے پر چوٹ کرتا بولا۔۔

میں ایسے ہی بولوں گی۔۔میں بچی نہیں ہوں سب سمجھ رہا ہے آپ سب لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔۔وہ چیخ کر بول رہی تھی۔

چھوڑو مجھے یزدان۔۔۔خان کو اشارے سے بتاتا یزدان زرش کو زبردستی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔

خان نے آگے بڑھتے آئی سی یو کے دروازے سے اندر جھونکا تھا۔

وہ سپاٹ نظروں سے زمل کے نیم مردہ سے وجود کو دیکھ رہا تھا۔

آپ پیشنٹ کے ریلیٹیو ہیں ؟ پیچھے سے ایک ڈاکٹر آتا پوچھنے لگا تھا۔

خان۔۔۔خان کے پلٹتے اس کے چہرے پر نظر پڑتے ڈاکٹر گھبرایا تھا۔

تم یہاں کیا کر ریے ہو ؟ خان نے سرد لہجے میں پوچھا۔۔

میں پیشنٹ کو چیک کرنے آیا تھا۔۔

بلکل نہیں فورا کسی لیڈی ڈاکٹر کو لے کر آؤ۔۔خان غصے سے بولا وہ کیسے برداشت کر سکتا تھا اس کی پردہ دار بیوی کو کوئی نامحرم دیکھے۔۔وہ تو جاگتے میں خود کو سینچ سینچ کر رکھتی تھی۔پھر خان اس کی اس حالت میں اس کے پردے کا خیال کیوں نہ رکھتا۔۔

و۔۔وہ سر وہ تھوڑا لیٹ ہوگئی ہیں۔۔ڈاکٹر گڑبڑایا۔۔

اس لیڈی ڈاکٹر کو فورا گھر سے بولاؤ اسے بتاؤ دس منٹ میں وہ ہوسپٹل نہ پہنچی خان اسے دنیا سے غائب کردے گا۔۔ڈاکٹر خان کی دھمکی پر تیزی سے فی میل نرس کو زمل کو چیک کرنے کی ہدایات دیتا چلا گیا تھا۔۔۔

میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جاؤ جاکر اسے چیک کرو۔۔نرس کو خود کو گھورتے پاکر خان سرد مہری سے بولا نرس گھبرا کر فورا زمل کو دیکھنے چلی گئی تھی۔۔

بدلے کی ایک آگ تھی جو خان کے سینے میں شدت سے جل اٹھی تھی اب اس کی چنگھاریاں کس کس کو جلاتی ہیں یہ بہت جلد وقت بتانے والا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *