Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 17)

My Girl by Zanoor

شام کا وقت تھا جہاں ایک ویران سے علاقے میں ایک دو آدھے بنے ہوئے مکانات میں سے ایک میں بیٹھا وہ شخص سگریٹ کے کش لیتا ساتھ شراب کے گھونٹ بھر رہا تھا۔بیڈ پر ٹانگیں پھیلائے لیٹا وہ اپنی ہی دنیا میں مگن لگ رہا تھا۔

باہر سے کھٹ پٹ کی آواز سنتا وہ سگریٹ کے کش لیتا اٹھا تھا۔کمرے میں موجود پرانی سی الماری میں سے گن نکال کر اس میں بلٹس ڈالتے وہ سگریٹ زمین پر پھینکتا باہر کی طرف بڑھا تھا۔

باہر سے آتی آوازیں بند ہوگئی تھیں۔دروازہ ہلکے سے کھولتے وہ باہر نکلا تھاجہاں سوائے دھول مٹی کے کسی چیز کا نام و نشان نہیں تھا۔

وہ واپس کمرے میں مڑنا لگا تھا جب اس کی نظر زمین پر پڑے کسی کے جوتے کے نشانات پر پڑی۔۔

گن کی سیفٹی ہٹاتے وہ نشانات کو دیکھتا اس طرف بڑھنے لگا تھا۔جب اچانک پیچھے سے کسی نے اس کے بازو پر گولی چلائی تھی۔گن اس کے ہاتھ سے چھوٹتی زمین پر گری تھی۔تکلیف سے ایک چیخ اس کے حلق سے برآمد ہوئی تھی۔

ہاتھ میں گن پکڑے کالی پینٹ شرٹ میں ملبوس یزدان نے اس کے قریب آتے زمین پر گری اس شخص کی گن کو اپنے پاؤں سے دور دھیکلا تھا۔

خانم کو مارنے کا انعام خان نے بھیجا ہے اس آدمی کء گھٹنے میں گولی مارتے اسے زمین پر گرتے دیکھ کر یزدان نے اس کے منہ پر اپنا پاؤں مارا تھا۔

اس کی ناک سے خون بہنے لگا تھا۔تکلیف سے چیختے ہوئے اس آدمی کو دیکھتے یزدان نے اپنی بیلٹ نکالی تھی۔بیلٹ سے اس کو مارتے یزدان نے اس آدمی کی ٹانگ پر گولی کے زخم پر اپنا پاؤں رکھا تھا۔

خون کی کمی کی وجہ سے وہ شخص زیادہ دیر ہوش میں نہ رہ سکا۔۔اس کے نیم مردہ وجود پر نظر ڈالتے یزدان باہر آیا تھا۔اپنی گاڑی سے پیٹرول کی کین نکالتا وہ واپس اندر آیا تھا۔اچھے سے اس آدمی کے اوپر پیٹرول گراتے یزدان نے اپنی جیب سے لائٹر نکالتے اس آدمی کو آگ لگا دی تھی۔نیم بےہوشی میں ہی وہ تکلیف سے چیخنے لگا تھا۔

اسے تڑپتا چھوڑ کر یزدان اس کے کمرے میں بڑھا تھا ابھی اس کا کام دوسرے آدمی کو بھی مارنے کا تھا۔یہ شیر خان کے آدمی تھے جو زمل کو مارنے اور شیر خان کے حکم پر گھر کو آگ لگانے کے بعد غائب ہوگئے تھے۔

بیڈ پر پڑا اس کا فون اٹھاتے یزدان باہر بڑھ گیا تھا۔آدھا کام اس نے کر دیا تھا اب باقی آدھا کام رہ گیا تھا۔

***************

خان زمل کے اٹھنے سے پہلے ہی کمرے سے غائب ہوچکا تھا۔ملازمہ کی مدد سے وضو کرتے زمل نے بیڈ پر بیٹھ کر نماز ادا کی تھی۔ابھی اسے اٹھنے بیٹھنے میں تھوڑی تکلیف ہوتی تھی۔

فجر کی نماز پڑھنے کے بعد زمل بیڈ سے ٹیک لگائے تسبیح کرنے لگی تھی۔کچھ دیر بعد زرش کے دروازہ کھول کر اندر آنے پر زمل نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا۔خان کے اعتراف کے بعد وہ زرش کی حرکت پر بالکل خوش نہ تھی۔اس کے پاک دامن پر کس طرح لوگوں نے کیچڑ اچھالا تھا وہ ابھی تک نہیں بھولی تھی۔

بجو میں آپ کے لیے کہوہ بنا کر لائی ہوں۔زرش نے اس کے سامنے ٹرے کی تھی۔زمل نے خاموشی کپ اٹھا لیا تھا۔زرش بھی اپنا کپ لیتی اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔

کیا ہوا بجو آپ اتنی خاموش کیوں ہیں ؟ زرش نے زمل کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔

میں سوچ رہی تھی تم نے ایسا کیوں کیا ؟ زمل کی بات پر زرش نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

کیا سوچ رہی ہیں بجو ؟ زرش کے بولنے پر زمل نے سرد نگاہوں سے زرش کو دیکھا۔

میرے نکاح والے دن مجھے کیڈنیپ کروانے کا پلان تم نے کیوں بنایا زرش ؟ تمھاری اس جذباتی فیصلے نے مجھے سب کی نظروں میں گرا دیا تھا۔زمل چٹخ کر بولی۔

بجو اب تو وہ وقت گزر گیا ہے ویسے بھی اب ہم نے پھوپھو سے نہیں ملنا آپ یہ سب کیوں سوچ رہی ہیں؟ زرش نے تھوک نگلتے مردہ آواز میں کہا۔اسے اپنی غلطی کا اچھا احساس تھا۔

وقت گزر جاتا ہے زرش مگر لوگوں کے الفاظ نہیں بھولتے۔ابھی تک پھوپھو کی باتیں مجھے اپنے کانوں میں گونجتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔زمل نے زرش کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔

بجو مجھے معاف کردیں۔۔میں جانتی ہوں تب میں نے غلطی کی تھی۔زرش نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی تھیں۔

زرش تم اب خود شادی شدہ ہو سوچ سمجھ کر فیصلے کیا کرو۔۔میں ہر وقت تمھیں سمجھا نہیں سکتی۔

جذبات کے بہاؤ میں کیے گئے فیصلے اکثر پچھتاوے کا باعث بنتے ہیں۔۔اس لیے سوچ سمجھ کر کوئی بھی کام کیا کرو۔۔زمل نے اسے پیار سے سمجھایا تھا۔

بجو میں آئیندہ خیال رکھوں گی۔زرش کے جواب پر زمل نے اس کا چہرہ تھامتے سر چوما تھا۔

*****************

زرتاشہ سفید رنگ کا پاؤں کو چھوتا سادہ سا فراک پہنے ساتھ رنگ پجامہ اور سفید چادر لیے کار کی بیک سیٹ پر ماہم کے ساتھ بیٹھی ہوئی معصومیت کی مورت لگ رہی تھی۔وہ لوگ صبح پانچ بجے سے سفر کے لیے نکلے تھے۔

ابھی وہ سب لوگ گاڑی میں ہی سوکر اٹھے تھے۔وہ لوگ اسلام آباد کے قریب واقعی فارم ہاؤس میں جارہے تھے۔

فرنٹ سیٹس پر زمان اور اس کا کزن عمیر بیٹھا ہوا تھا

جبکہ بیک سیٹ پر ماہم کی کزن رابعہ ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔آدھے راستے تک عمیر نے ڈرائیونگ کی تھی اب زمان ڈرائیونگ کر رہا تھا۔

زرتاشہ فرنٹ مرر سے زمان کی نظریں خود پر محسوس کرتی درمیان میں بیٹھی ماہم کے پیچھے چھپنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی۔ماہم ، رابعہ اور عمیر مسلسل باتیں کر رہے تھے۔زرتاشہ اور زمان دونوں خاموشی سے انھیں سن رہے تھے۔

فارم ہاؤس پر پہنچتے سب لوگ تیزی سے گاڑی سے باہر نکلتے مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے اپنی سن ہوتیں ٹانگوں کو حرکت دینے لگے تھے۔

زرتاشہ میں تمھیں فارم دیکھاتی ہوں۔ماہم رابعہ کے ساتھ زرتاشہ کو کھینچتی ہوئی لے گئی تھی۔فارم ہاؤس کے سامنے نیلے رنگ کی صاف شفاف پانی کی جھیل تھی۔

جبکہ اس کی بیک سائیڈ پر سارا جنگل تھا۔فارم ہاؤس میں کل پانچ کمرے ایک اوپن کیچن اور ٹی وی لاؤنچ تھا۔فارم ہاؤس کے دائیں طرف پر وسیع لان تھا۔جبکہ بائیں طرف سویمنگ پول اور خوبصورت سا گارڈن تھا۔

زرتاشہ وہاں کی تر و تازو ہوا میں سانس لیتی ہوئی فریش محسوس کر رہی تھی۔جھیل کو دیکھ کر اس کے شگرفی ہونٹوں پر مسکراہٹ چھائی۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔

تمھیں ہی جگہ پسند آئی ؟ ماہم نے پوچھا تھا۔

زرتاشہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا۔کھلی فضا میں سانس لینے کا بھی اپنا ہی مزا تھا۔

کچھ دیر ریسٹ کرنے کے لیے سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔زرتاشہ فریش ہوکر اپنے کمرے سے نکلتی اوپن کیچن میں گئی تھی۔فریج میں سے انڈے نکالتی زرتاشہ نے سب کے لیے ناشتہ بنانے کا سوچا۔

اوملیٹ بناتے اس نے سب کے لیے چائے بنائی تھی۔

یہاں کیا کر رہی ہو ؟ چولہے کے پاس کھڑی زرتاشہ زمان کی بھاری آواز سنتی ساکت ہوئی تھی۔زمان کی سانسیں وہ اپنے کان کے قریب باآسانی محسوس کر رہی تھی جس سے ثابت ہو رہا تھا وہ اس کے کتنے قریب کھڑا تھا۔

میں۔۔میں سب کے لیے ناشتہ بنا رہی ہوں۔۔زرتاشہ نے کانپتے ہاتھوں سے چولہے کے نیچے سے آنچ دھیمی کرتے ہوئے اپنا دھیان زمان سے بھٹکانا چاہا تھا۔

تمھیں کس نے اجازت دی یہاں اپنی مرضی سے دندناتی پھرو۔۔اس کا اکھڑ انداز زرتاشہ کی سانسیں روک گیا تھا۔

زمان اس کے ارد گرد شلف پر بازو رکھتا اس کے اتنے قریب کھڑا تھا زرتاشہ کو اس کا سینہ اپنی کمر کے ساتھ لگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

میں۔۔میں۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بولے۔

بکریوں کی طرح میں میں کرنا بند کرو۔۔مجھے یاد آیا تم نے میری بہن کو رولایا تھا۔زمان سرد لہجے میں بولا۔۔

آپ نے کہا تھا ماہم سے دور رہوں۔۔ زرتاشہ کو خوف سے پسینے چھوٹ پڑے تھے۔زرتاشہ کے جواب نے اسے مزید بھڑکایا۔۔

مجھ پر الزام ڈال رہی ہو۔۔زمان کی انگلیاں اس کے کندھے پر پڑے دوپٹہ کے کنارے پر حرکت کر رہی تھیں۔زرتاشہ نے خوف سے آنکھیں بند کی تھیں۔کسی کے کمرے کے دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر زمان زرتاشہ کا کندھا زور سے دباتا فریج کی طرف بڑھ گیا تھا۔زرتاشہ نے ماہم کو دیکھ کر سکون کا سانس لیا تھا۔

ٹھنڈا پانی نکالتے وہ بےنیاز سے ماہم کو دیکھتا اسے مسکراہٹ پاس کرتا لاؤنچ میں چلا گیا تھا۔

یار تم کیوں ناشتہ بنارہی ہو میں نے اور رابعہ نے بنا لینا تھا۔ماہم نے ناشتہ دیکھتے زرتاشہ سے کہا۔

میں بور ہو رہی تھی اس لیے سوچا سب کے لیے ناشتہ بنا دوں۔۔تم یہ ٹیبل پر سیٹ کرو میں رابعہ کو بلا لاتی ہوں۔۔ماہم سے بولتی زرتاشہ رابعہ کو بلانے چلی گئی تھی۔

**************

میرا باہر جانے کو دل کر رہا ہے کمرے میں بند رہ کر میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔زمل نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے خان کو دیکھ کر کہا۔

میں ملازمہ سے بولتا ہوں وہ تمھیں مارننگ اور ایوننگ میں باہر لان میں لے جایا کرے گی۔۔خان نے صوفے پر بیٹھتے سرد مہری سے جواب دیا۔

زمل نے لب بھینچ کر خان کو دیکھا اور غصے میں خود ہی اٹھنے لگی تھی۔کمر میں اٹھتی ہلکی ہلکی ٹیسیں اسے اٹھنے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔

خان نے سپاٹ نظروں سے زمل کو دیکھا تھا۔اس کو تگ و دو کرتے دیکھ کر خان اپنی قمیض کے کف فولڈ کرتا زمل کی طرف بڑھا تھا۔۔

احتیاط سے اسے کندھے سے تھامتے خان نے اسے کھڑا کیا تھا۔

ایک منٹ رکو۔۔بیٹھو۔۔خان نے اس کے ننگے پاؤں کو دیکھ کر اسے دوبارہ بیٹھایا تھا۔بیڈ کے نیچے سے جوتے نکالتے خان نے زمل کو کھڑا کرتے اسے پہننے کا کہا تھا۔زمل کے جاتے پہننے کے بعد وہ اسے باہر لے گیا تھا۔

ملازم خان کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔خان اسے پکڑتا باہر لان میں لے گیا تھا۔وہاں موجود کرسی پر بیٹھاتے خان نے اس کی کمر کے پیچھے ملازمہ دے منگوا کر کشن رکھا تھا۔

خان آپ سارا دن کہاں رہتے ہیں ؟ زمل نے ڈھلتے ہائے سورج کو دیکھتے خان سے پوچھا۔

تم اچھے سے جانتی ہوں میں کہاں ہوتا ہوں۔۔آخر تم نے بھی مجھے ہائیر کیا تھا۔۔خان سپاٹ انداز میں بولا۔

آپ یہ سب کیوں کرتے ہیں ؟ یہ مارپیٹ اور قتل۔۔زمل نے لب کاٹتے دوبارہ پوچھا۔

میں تمھیں یہ بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔۔خان سرد مہری سے بولا۔اس کی نظریں زمل کے سراپے پر تھیں جو گرے شلوار قمیض میں کالی چادر سے خود کو ڈھکے ہوئے بیٹھی تھی۔خان نے سختی سے اپنے گارڈز وغیرہ کو زمل کے پردے کا خیال رکھبے کی ہدایات دی ہوئی تھیں۔

آپ یہ سب چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ زمل نے دھیمی آواز میں کہا۔۔خان اٹھا تھا اور زمل کے قریب آتا اپنے ہاتھ سے زور سے زمل کا چہرہ تھام چکا تھا۔

جمعے جمعے چار دن نہیں ہوئے تمھیں میری بیوی بنے ہوئے اور مجھے بتا رہی ہو کیا کرنا چاہیے۔۔اپنی حیثیت مت بھولنا تم صرف کاغذات پر میری بیوی ہوں۔۔میں ایسے کوئی جذبات نہیں رکھتا جس کی بنا پر تم مجھ پر حکم چلاؤ اور میں منہ بند کرکے تمھارے فیصلوں پر سر ہلاؤں۔

میں خان ہوں جب تک زندہ رہوں گا میرے ہاتھ خون سے بھرے رہیں گے۔۔خان سرد نظریں زمل کے ضبط سے سرخ پڑتے چہرے پر ڈالتے ہوئے بولا۔۔

یہ بات جتنی جلدی جان لو تمھارے لیے اچھا۔۔تم جب چاہو مجھ سے آزاد ہوسکتی ہو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔۔

مس زمل کوشش کرو جب تک یہاں رہنا چاہتی ہو میرے کام میں ٹانگ مت اڑاؤ۔۔خان نے جھٹکے سے زمل کا چہرہ چھوڑا تھا۔

اسے اندر لے جاؤ۔۔ملازمہ کو حکم دیتا خان لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اپنی گاڑی میں بیٹھتا گھر سے نکل گیا تھا۔زمل نے افسوس سے خان کو جاتے دیکھا تھا۔وہ بس خان کا بھلا چاہتی تھی۔مگر خان کی باتوں نے اس کو شرمندہ کردیا تھا۔اس نے بتا دیا تھا۔اس کی حیثیت صرف کاغذی ہے۔۔

****************

ماہم اور رابعہ لان میں ٹینس کھیل رہی تھیں زرتاشہ ایک طرف کھڑی ان کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔صبح کے واقعہ کے بعد زمان زرتاشہ سے دور ہی تھا جس پر زرتاشہ اب کھل کر ماہم اور رابعہ کے ساتھ انجوائے کر رہی تھی۔

زرتاشہ پلیز اندر سے مجھے ٹھنڈا پانی لا دو۔۔ماہم زرتاشہ کے ساتھ پڑی ہوئی کرسی پر ڈھیڑ ہوتی ہوئی بولی۔

زرتاشہ نے ادھر ادھر نظریں گھماتے زمان کو دیکھا اسے عمیر کے ساتھ دیکھ کر وہ ماہم کو جواب دیتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوٹل نکالتی وہ واپس باہر نکلی تھی۔ماہم کو گلاس میں پانی ڈال کر دیتی زرتاشہ کچھ دیر کے لیے واک کرنے چلی گئی تھی۔

سیر کرتی ہوئی زرتاشہ لان کے دوسرے حصے میں آئی تھی سویمنگ پول کے پاس کھڑی زرتاشہ گہرے پانی کو دیکھ رہی تھی جب اچانک پاؤں پھسلنے پر وہ سویمنگ پول میں گری تھی۔اسے تیرنا نہیں آتا تھا۔

پانی اسے اپنے پھیپھڑوں میں بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔تکلیف سے آنسو زرتاشہ کی آنکھوں سے نکلنے لگے تھے۔

اس کی آنکھیں تقریبا بند ہونے ہی والی تھی۔جب چھپاک سے اس نے کسی کو پانی میں کودتے محسوس کیا تھا۔

زمان جو ماہم کے کہنے پر لنچ کے لیے زرتاشہ کو لینے آیا تھا۔لان میں نہ ملنے پر وہ اس طرف آیا تھا جب سوئمنگ پول کے اوپر تیرتی زرتاشہ کی چادر دیکھتے اپنی جیکٹ اتارتا وہ سوئمنگ پول میں کودا تھا۔

زرتاشہ کو کمر سے تھام کر وہ کنارے پر لایا تھا۔زرتاشہ نے پانی سے باہر نکلتے کھانستے ہوئے گہرے گہرے سانس لیے تھے۔۔

زرتاشہ کو کمر سے تھامے زمان نے اسے کنارے پر بیٹھایا تھا۔زرتاشہ نے کھانستے ہوئے بنا سوچے سمجھے اپنا سر سوئمنگ پول میں بیلنس بنائے کھڑے زمان کے کندھے پر رکھا تھا۔

عقل نام کی چیز تمھارے پاس ہے یا نہیں ؟ دماغ کی جگہ دو نمبر فیوز فکس کیا ہوا ہے ؟ جب تیرنا نہیں آتا تو اس طرف آئی ہی کیوں۔۔زرتاشہ نے جھٹکے سے زمان کے کندھے سے سر اٹھایا تھا۔

چھوڑیں مجھے۔۔میرا جو دل کرے گا میں کروں گی۔۔زرتاشہ غصے سے سرخ چہرہ لیے چیخی تھی۔۔زمان نے اس کی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے ناگوار نظروں سے اسے دیکھا۔۔

دوبارہ میرے سامنے اونچی آواز میں مت بولنا تمھارا انجام اچھا نہیں ہوگا۔۔زمان کے سختی سے بولنے پر زرتاشہ گہرے گہرے سانس لیتی غصے سے زمان کو گھورنے لگی تھی۔

زمان کی نظریں بےساختہ زرتاشہ کے سراپے پر گئی تھیں۔سفید فراک گیلا ہونے کی وجہ سے اس کے جسم سے چپکا سارے خدوخال نمایاں کر رہا تھا۔۔زرتاشہ نے زمان کی نظروں کے تعاقب میں خود کو دیکھا تھا۔اس کا دل کیا سوئمنگ پول کے پانی میں ڈوب کر مرجائے اس نے بےساختہ اپنے ارد گرد بازو پھیلائے تھے۔

آپ کو شرم نہیں آتی دوسری طرف دیکھیں۔۔زرتاشہ اپنا دوپٹے سے بے نیاز وجود دیکھتی چیخی۔۔زمان نے مزید اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرتے اسے اپبے قریب کیا تھا۔

زرتاشہ کو زمان کی انگلیاں اپنی کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔زمان کے قریب کرنے پر وہ اس کے سینے سے آلگی تھی۔

ابھی میں نے تمھیں کیا کہا تھا۔۔۔مجھ سے دوباری اونچی آواز میں بات مت کرنا۔۔زمان غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں سے زرتاشہ کو گھورنے لگا تھا۔وہ سہم کر اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

میرا جو دل کرے گا میں دیکھوگا۔۔تم مجھےروک نہیں سکتی۔۔زمان کے لہجے کی سختی اور تکلیف دہ لمس پر اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے۔زمان نے اس کے گیلی گردن پر اپنے لب رکھے تھے۔زرتاشہ اس کو مارتے ہوئے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

زمان کہاں ہوں یار ؟؟ عمیر کی آواز سنتے زمان نے زرتاشہ کو خود سے الگ کیا تھا۔زرتاشہ بت بنے بیٹھی رو رہی تھی۔جب سوئمنگ پول سے باہر نکلتے زمان نے باہر پڑی اپنی جیکٹ اٹھاتے زرتاشہ کے کندھے پر پھیلا کر اسے اٹھایا تھا۔

مجھے نیچے اتاریں۔۔روتے ہوئے زرتاشہ دھیمی آواز میں احتجاج بولی۔۔زمان نے اسے گھور کر چپ کروایا تھا۔

اسے کیا ہوا ہے ؟ عمیر نے زمان کو زرتاشہ کو اٹھائے دیکھ کر پوچھا۔۔

سوئمنگ پول میں گرگئی تھی۔۔اسے گھر کے اندر لے جاتے زمان اس کے کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔ماہم فورا زمان سے سب کچھ پوچھتی زرتاشہ کے پاس گئی تھی۔

زرتاشہ رو مت اب تم محفوظ ہو۔۔تمھیں اس حصے کی طرف جانا ہی نہیں چاہیے تھا اب جاؤ جلدی سے کپڑے چینج کرو۔۔ماہم زرتاشہ کو تسلی دیتی اس کے گیلے کپڑے دیکھ کر بولی۔۔

زرتاشہ اپنے ساتھ لائے چھوٹے سے بیگ میں سے اپنا دوسرا جوڑا نکال کر فورا واشروم میں بھاگ گئی تھی۔اسے زمان سے نفرت تھی۔وہ اسے اپنا کربناک ماضی یاد دلاتا تھا۔۔

فریش ہوکر وہ ماہم کو کچھ دیر ریسٹ کرنے کا بتاتی لیٹ گئی تھی۔آج کے واقعہ نے اسے تھکا دیا تھا۔آنکھیں موندتی زمان کے لمس کو ابھی تک خود پر محسوس کرتی وہ روتے روتے سو گئی تھی۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *