My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 18)
Rate this Novel
My Girl (Episode 18)
My Girl by Zanoor
یزدان دو دن میں سارا کام نبٹا کر پشاور سے واپس آیا تھا۔زرش بور سی اپنے کمرے میں لیٹی ہائی تھی۔زمل سو رہی تھی ورنہ وہ اس کے پاس بیٹھ کر اپنا وقت گزار لیتی۔
یزدان سے اس کی کل ہی بات ہوئی تھی۔اس کی غیر موجودگی میں وہ آج کل ایسے ہی بے چین سی رہنے لگی تھی۔
تکیے پر اپن بال پھیلائے وہ آسمانی رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے لیٹی ہوئی تھی۔دروازہ کھلنے کی آواز سنتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
دروازے میں کھڑے یزدان کو دیکھتی وہ حیران ہوتی تیزی سے اٹھنے لگی لیکن یزدان کے حولیے پر نظر پڑتے وہ اپنی جگہ جم گئی تھی۔
اس کی سفید قمیض پر خون دیکھ کر زرش کو اپنا دل خراب ہوتا ہوا محسوس ہوا۔اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی وہ واشروم میں بھاگنے تھی۔قے کرنے کے بعد اس نے اپنے سن ہوتے دماغ سے اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تھے۔
وہ کیسے بھول گئی وہ گنڈا تھا جس نے اسے کسی سے سودا کرکے لیا تھا۔اگر خان کے ہاتھ خون میں لپٹے ہوسکتے تھے پھر یزدان کیسے اچھا ہو سکتا تھا۔
آنکھیں بند کرکے کھولتے اپنے پیچھے کھڑے یزدان کو دیکھتی ایک زور دار چیخ اس کے منہ سے نکلی تھی۔
اپنی تیز ہوتی دھڑکن سن کر اس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ دل پر رکھا تھا۔
زرش میری بات سنو۔۔یزدان نے اس کے بےچین چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔وہ سیدھا پشاور سے گھر آنے والا تھا۔
راستے میں کسی نے اس پر حملہ کر دیا تھا۔خود کو بچانے کے لیے یزدان نے اس آدمی کو مارا تھا۔جس کا خون اس کے ہاتھوں اور قمیض پر لگا ہوا تھا۔
وہ ملازمہ سے پوچھ کر کمرے میں آیا تھا۔اس کے خیال میں زرش اس وقت زمل کے کمرے میں تھی۔اگر اسے علم ہوتا زرش کمرے میں ہی موجود ہے وہ یہاں آنے کی بجائے وئیر ہاؤس چلا جاتا۔۔
زرش کے ریکشن نے اسے پریشان کر دیا تھا۔
مجھے کوئی بات نہیں کرنی میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں۔زرش اس کے سائیڈ سے گزرتی تیزی سے بیڈ پر جاکر لیٹ گئی تھی۔اسے اس سب پر یقین کرنے کے لیے وقت درکار تھا۔
وہ جانتی تھی یزدان اچھا انسان ہے مگر کبھی اس کو کسی شخص کا قتل کرکے اپنے پاس آنے کا اس نے نہیں سوچا تھا۔
شاید ابھی وہ اسے صحیح طرح سے جان نہیں پائی تھی۔
****************
زمل نے جب سے لان میں خان سے بات کی تھی وہ دوبارہ اس کے کمرے میں نہیں آیا تھا۔
خان کی باتوں نے اسے سوچ میں ڈال دیا تھا۔اپنے جلے ہوئے بازو کو دیکھتے ہوئے وہ خان سے اپنے رشتے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
خان نے صحیح کہا تھا۔وہ زبردستی اس کے ساتھ باندھی گئی تھی لیکن اس نے خان کو نہیں بلایا تھا وہ خود اس کے گھر آیا تھا۔
خان کے رشتہ ختم کرنے والی بات نے اسے تکلیف دی تھی۔وہ نکاح ختم نہیں کرنا چاہتی تھی۔لیکن مکمل طور پر صحت مند ہونے کے بعد وہ یہاں سے جانے کا سوچ رہی تھی۔
اللہ تعالی میری مدد کریں میں صحیح فیصلہ کرسکوں۔۔زمل نے اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
خان کو وہ راہِ راست پر لانا چاہتی تھی۔خان کی باتوں سے وہ جان چکی تھی جو مرضی ہوجائے وہ یہ سب نہیں چھوڑ سکتا۔۔
سائیڈ ٹیبل پر پڑے فون کو اٹھا کر زمل نے ملازمہ کو بلایا تھا۔ملازمہ کی مدد سے وہ خان کے کمرے کا پوچھتی طرف چل پڑی تھی۔
ملازمہ کو اس نے کمرے کے باہر سے ہی بھیج دیا تھا۔دروازہ ناک کرتی وہ اندر داخل ہوئی تھی۔خان کو نہ پاکر وہ کچھ دیر انتظار کرنے کے لیے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی وہ خان سے اپنی یہاں سے جانے کی بات کرنے آئی تھی۔
زمل فارغ بیٹھی بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر پڑی کوئی فائل اٹھا کر دیکھنے لگی تھی۔
اس میں کسی لڑکی کی تصویریں اور اس کی ڈیٹیلز دیکھ کر زمل نے لب بھینچے تھے۔کیا اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ۔۔۔زمل مزید اس سے آگے نہیں سوچنا چاہتی تھی۔
فائل میں موجود لڑکی زمل سے قدرے پیاری تھی۔زمل کو اپنا آپ اس لڑکی کے آگے کم تر لگنے لگا تھا۔
کسی نے جھٹکے سے اس کی ہاتھ سے فائل کھینچی تھی۔زمل کی نظریں اوپر اٹھی تھیں خان اسے سرخ آنکھوں سے گھور رہا تھا۔زمل نے بے ساختہ نظریں جھکائی تھی۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟ خان کے سرد لہجے میں پوچھنے پر زمل نے لب کاٹے۔
میں آپ سے بات کرنے آئی تھی۔زمل ہمت مجتمع کرتی مضبوط لہجے میں خان کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔
بات کرنے آئی تھی یا میری چیزوں کی جاسوسی کرنے۔۔خان طنزیہ لہجے میں بولا۔اس لڑکی نے اس کا پچھلے دنوں سے پارا ہائی کیا ہوا تھا۔
میں یہاں سے ہوسٹل شفٹ ہونا چاہتی ہوں۔۔زمل اس کی بات اگنور کرکے سنجیدگی سے بولی۔
ٹھیک ہے جب ڈیوارس چاہیے بتا دینا اب جاؤ یہاں سے۔۔خان کے سپاٹ انداز میں دیے گئے جواب نے زمل کو حیران کر دیا تھا۔
مجھے ڈیوارس نہیں چاہیے۔۔میں بس یہاں سے دور جانا چاہتی ہوں۔زمل نے لب سختی سے آپس میں پیوست کیے جواب دیا تھا۔
تم جیسا کہوگی ویسا ہی ہوگا اب جاؤ مجھے آرام کرنا ہے۔ اور دوبارہ میتے کمرے میں آنے کی کوشش بھی مت کرنا۔ خان نے اس کی بات سن کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے جواب دیا تھا۔
زمل شرمندہ سی اپنا غصہ قابو کرتی ہوئی بنا اپنی تکلیف کا احساس کیے اٹھ کر چلی گئی تھی۔
*************
زما زڑگیہ۔۔جو بھی بات ہے مجھ سے کرو ایسے مجھ سے منہ موڑ کر مت لیٹو۔۔یزدان نے زرش کے ساتھ لیٹتے اس کا رخ اپنی طرف موڑا تھا۔
زرش یزدان کی طرف رخ کرنے کے بعد بھی اپنی آنکھیں سختی سے میچ کر لیٹی رہی تھی۔
یزدان نے نرمی سے اس کی آنکھوں کو اپنی پوروں سے چھوا تھا۔زرش کی لرزتی پلکو کو دیکھتے اس نے زبردستی اسے اٹھا کر اپنے ساتھ لگایا تھا۔
زرش لسن ٹو می پلیز۔۔یزدان کے ملتجی آواز سنتی زرش نے اپنی نم آنکھیں کھولی تھیں۔
میں دوبارہ کبھی ایسی حالت میں واپس گھر نہیں لوٹوں گا۔۔یزدان نے نرم گوئی سے کہا
مجھے آپ سے خوف محسوس ہو رہا ہے۔۔آپ سے لوگوں کے خون کی بو آتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔۔میں نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی جانے انجانے میں اگر کسی کا دل دکھا دو تو فورا پچھتاوا ہوتا۔۔آپ کیسے لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اتنے سکون سے رہ سکتے ہیں ؟ زرش نے سرخ آنکھوں سے یزدان سے پوچھا
میں معصوم لوگوں کو نہیں مارتا زرش۔۔یزدان نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔
آپ کا ضمیر آپ کو جینے کیسے دیتا ہے ؟ میں آپ کی محبت میں بھول گئی تھی آپ کیسے انسان ہیں ؟ جو شخص چند ٹکوں کے عوض مجھے کسی دوسرے شخص سے خرید کر زبردستی نکاح کرسکتا ہے وہ اچھا کیسے ہو سکتا ؟ زرش بنا اس کی بات سنے بولنا شروع ہوئی تھی۔
کیا بکواس کر رہی ہو زرش ؟ میں نے تمھیں کسی سے نہیں خریدا بلکہ تمھیں بچایا تھا۔۔اور تم نے نکاح اپنی مرضی سے کیا تھا میں نے گن پوائنٹ پر نہیں کروایا تھا۔یزدان اس سے دور ہوتا ہوا بولا تھا۔
ان باتوں کو جانے دیں یزدان آپ یہ لوگوں کو قتل کرنا چھوڑ دیں۔۔بلکہ یہ بزنس چھوڑ دیں ہم یہاں سے کہیں دور چلے جائیں گے۔۔زرش یزدان کا چہرہ تھامتے ہوئے بولی تھی۔
سٹاپ دس نانسینس زرش میں نہ ہی یہ کام چھوڑوں گا اور نہ ہی یہاں سے کہیں جاؤں گا۔۔یزدان اپنا غصہ بمشکل قابو رکھتے ہوئے بولا۔
پھر میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی مجھے چھوڑ دیں۔۔زرش کی بات نے یزدان کے غصے کو ٹریگر کیا تھا۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔۔۔میرے سے چھٹکارا تمھیں صرف و صرف موت کی صورت میں مل سکتا ہے۔۔یزدان اسے بازؤں سے پکڑتا ہوا جھنجھوڑ کر بولا۔یزدان اس کا چھوٹی سی بات کو اتنا بڑا مسئلہ بنانے پر جھنجھلا اٹھا تھا۔
میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔۔آپ مجھے روک نہیں سکتے۔۔زرش کے چیخنے پر اپنا آپا کھوتے یزدان نے اسے تھپڑ مارا تھا۔
سارے کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی تھی۔زرش اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ساکت ہوگئی تھی۔
تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی۔۔اب سے جب تک تمھارا دماغ ٹھکانے پر نہیں آتا تم اس کمرے میں بند رہو گی۔۔
یزدان بیڈ سے اٹھتا اپنی چیزیں لے کر ساکت سی زرش کو چھوڑ کر دروازہ لاک کر کے چلا گیا تھا۔
*****************
اچانک موسم خراب ہونے کی وجہ سے زرتاشہ ان لوگوں کے ساتھ فارم ہاؤس میں پھنس گئی تھی۔زمان کے سامنے آنے سے وہ کتراتی اپنے کمرے میں ہی بند ہوگئی تھی۔ماہم اسے کھانا کھلوا کر چلی گئی تھی۔
اپنے بیڈ سے اٹھتی وہ کھڑکی میں جاکر کھڑی ہوگئی تھی۔تیز بارش دیکھتے ہوئے اسے مٹی اور بارش کی خوشبو سے سکون سا محسوس ہو رہا تھا۔
کالی شلوار قمیض کے ساتھ کالی شال کندھوں پر پھیلائے وہ دوپٹہ سر پر اوڑھے بھٹکی ہوئی نازک سی گڑیا لگ رہی تھی۔
دروازہ ناک ہونے پر وہ مڑی تھی۔ماہم کا سوچتے وہ دروازہ کھولنے کے لیے بڑھی۔
دروازے پر کھڑے زمان کو دیکھتے اس نے فورا دروازہ بند کرنا چاہا تھا۔جب زمان نے دروازے پر ہاتھ رکھتے اسے ایسا کرنے سے روکا تھا۔
وہ دھرلے سے اندر داخل ہوا تھا۔زرتاشہ کو چیخنے کے منہ کھولتے دیکھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے زمان نے دروازہ بند کرتے اسے دیوار سے لگایا تھا۔
زرتاشہ نے اس کا ہاتھ ہٹانے کے لیے اپنے زمان کے ہاتھ میں چبھوئے تھے۔زمان اپنے ہاتھ پر جلن محسوس کرتا زرتاشہ کی کوششوں پر مسکرایا تھا۔
میں نے کہا تھا میں واپس آؤں گا۔مجھے اتنی جلدی تم کیسے بھول گئی زرتاشہ۔۔اس کے کان کے قریب جھکتے زمان سرد انداز میں بولا۔
زرتاشہ اس کی بات سنتی ساکت ہوئی تھی۔آنکھوں کے آگے کچھ سالوں پہلے کا منظر سا لہرایا تھا۔آنکھیں ایک دم میچتے اس نے اپنا سر جھٹکتے خود کو ان یادوں سے نکالنا چاہا تھا۔
یاد آیا کچھ مائی لٹل ون۔۔زمان کے دوبارہ بولنے پر زرتاشہ نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔
میں بھول گیا معصوم بننے کا ناٹک کرتے ہوئے تم اپنی زبان نہیں کھولنا چاہتی۔۔زمان نے اس کے بازوں کو سختی سے پکڑا تھا۔
مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔۔زرتاشہ نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
تم نے میری امانت میں خیانت کی۔۔ڈیم اٹ۔۔اور آگے سے معصوم بن رہی ہو۔۔اس کے جواب پر زمان کا پارہ ہائی ہوا تھا۔
مجھے نہیں پتا آپ کیا بات کر رہے ہیں۔۔میں آپ سے کبھی نہیں ملی اور نہ ہی آپ کو جانتی ہوں۔۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔زرتاشہ دھیمی آواز میں جوابا بولی۔
تم سب کچھ جانتی ہو۔۔مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو۔۔اس کے بازؤں سے جھنجھوڑتے زمان اونچی آواز میں بولا تھا۔
باقی سب لوگ بارش اینجوائے کرنے لان میں گئے ہوئے تھے ورنہ کوئی بعید نہ تھا وہ ان کی آوازیں سن کر کمرے میں آجاتے۔
میں واقعی آپ کو نہیں جانتی۔۔مجھے ماہم نے آپ سے ملوایا تھا اس کے علاوہ ماضی میں آپ سے ملنے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا۔۔اور پلیز مجھے تکلیف دینا چھوڑ دیں مجھے نہیں پتا آپ کو مجھ سے کیا مسئلہ ہے۔۔لیکن میں نے آپ ک کچھ نہیں بگاڑا۔۔زرتاشہ سنجیدہ سی نظریں زمین پر ٹکائے بولی تھی۔
زمان نے جبڑے بھینچ کر اسے جھٹکے سے چھوڑا تھا۔اس کے جواب نے اسے طیش دلا دیا تھا۔باہر سے آتی ہلکی ہلکی آوازیں سنتا وہ خاموشی سے چلا گیا تھا۔
دروازے کو لاک کرتی اپنے منہ پر ہاتھ رکھے زرتاشہ دیوار سے لگی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔زندگی نے بہت بری طرح اسے پھنسایا تھا۔
**************
یزدان میں ایک ہفتے کے لیے روس جا رہا ہے میرے بعد زمل اگر ہوسٹل شفٹ ہونے کا کہے اسے جانے دینا بس کسی کو اس کی سکیورٹی پر معمور کر دینا عبد المنان کو میں اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں تم سب کچھ سنبھال لینا۔۔خان نے اپنا بیگ پیک کرتے ہوئے یزدان سے کہا۔
میں سب کچھ سنبھال لوں گا خان۔۔لیکن خانم ہوسٹل کیوں جانا چاہتی ہے ؟ یزدان نے حیرت سے پوچھا۔
تم نے زرش کو روم میں بند کیوں کیا ؟ کیا میں نے تم سے پوچھا یزدان۔۔خان کی سرد آواز پر یزدان نے سر ہلایا تھا۔
وہ مجھے بدلنا چاہتی ہے۔۔مجھے خان کو۔۔۔خان استہزایہ لہجے میں بولا۔یزدان نے لب بھینچے تھے۔وہ اسے کیا بتاتا زرش بھی یہی چاہتی ہے۔۔
میں جلدی واپس آجاؤں گا اور شیر خان پر نظر رکھنا اسے زمل کے ارد گرد بھٹکنے نہ دینا جو بھی ہو وہ میری بیوی ہے شیر خان اسے ضرور میری وجہ سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔خان نے اسے سمجھایا تھا۔
ہمارا گنز کا کنٹینر آرہا ہے۔۔کل تک پہنچ جائے گا اسے ریسیو کرکے کونسے وئیر ہاؤس پہنچانا ہے ؟ یزدان نے اسے بتاتے ہوئے پوچھا۔
سنیک آرگنائزیشن کے گوڈام میں رکھوا دو۔۔اور نئے آنے والے شوٹرز کی ایک لسٹ بناؤ اور ان کا ٹیسٹ لو۔۔میں آکر باقی خود ان میں سے سلیکٹ کروں گا۔۔خان نے اپنا بیگ بند کرتے ہوئے بتایا۔۔
میں دیکھ لوں گا سب کچھ۔۔یزدان کے جواب پر خان وہاں سے چلا گیا تھا۔
******************
ایک مہینے بعد :
تیز بارش میں زرش کا خون سے بھرا وجود تھامے یزدان ساکت سا بیٹھا تھا۔
اس کی تھمی سانسیں ، ساکت سی دھڑکن نے یزدان کو پتھر بنا دیا تھا۔
زرش کے وجود سے نکلتا خون بارش کے پانی میں بہتا سب کچھ سرخ کر رہا تھا۔یزدان نے اسے کھو دیا تھا اپنی محبت کو ، اندھیرے سے روشنی میں لے جانے والی واحد انسان کو،اپنے دل کو۔۔۔
زرش کی بند آنکھیں اور پیلے چہرے کو دیکھتے اس کی آنکھ سے آنسو نکلتا بارش کے پانی میں کہیں گم سا ہو گیا تھا۔
ان کے قریب ایک گاڑی آکر رکی تھی۔ اس میں سے تیزی سے نکلتی زمل ان کی طرف آئی تھی۔
زرش۔۔۔زرش۔۔۔اس کے وجود سے نکلتے خون کو دیکھتے زمل نے روتے ہوئے اس کا ٹھنڈا سا چہرہ تھپتھپایا تھا۔
زرش اٹھو نہ۔۔۔روتے ہوئے اس کا چہرہ چومتے وہ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
ڈرائیونگ سیٹ سے نکلتا خان بھی اپنی جگہ ساکت ہوا تھا۔یزدان کے سپاٹ چہرے کو دیکھتے وہ اس کے اندر کا حال جاننے سے ناکام رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو وہ بخوبی دیکھ سکتا تھا۔زمل کی آہ و پکار نے خان کی توجہ اس کی طرف دلائی تھی جو اپنی واحد بہن کو کھو چکی تھی۔۔آسمان بھی آج ان کے ساتھ غم مناتا زور و شور سے برس رہا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
