Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 09,10,11,12)

My Girl by Zanoor

زرش گاؤن پہنے نقاب کیے کالج سے باہر نکلتی مضبوط قدم اٹھاتی تیزی سے گھر کی طرف جا رہی تھی جب پیچھے سے کسی نے اچانک اس کے قریب آتے اس کی کلائی پکڑی تھی

خوف سے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں اپنی کلائی چھڑؤانے کی کوشش کرتی وہ پیچھے مڑنے لگی تھی جب مقابل کی سرگوشی سن کر اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی

زمازڑگیہ ( میرے دل )۔۔یزدان کی دھیمے مگر گھمبیر لہجے میں کی گئی سرگوشی نے اس کی دھڑکن بڑھا دی تھی آہستہ سے پیچھے مڑتے اس کی نگاہیں چمکتی گرے آنکھوں سے ٹکڑائی تھیں

ہمیں بات کرنی ہے ہمارے ساتھ آئیں۔۔یزدان کے لہجے میں انکار کی گنجائش نہ تھی مگر مقابل بھی زرش تھی جو خاموش تو رہ نہیں سکتی تھی

مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔وہ یزدان کو جواب دیتی دوبارہ چلنے لگی تھی

اگر ابھی اسی وقت آپ میرے ساتھ نہ چلیں تو رات کو آپ مجھے اپنے گھر کے باہر پائیں گی۔۔۔۔یزدان کی بات سن کر اس کے قدم ساکت ہوئے تھے

صرف دس منٹ ہے آپ کے پاس جو بات کرنی ہے جلدی کریں۔۔۔ وہ بے چین سی بولی تھی اگر اسے گھر جانے میں تھوڑی بھی دیر ہوجاتی تو زمل اس کے لیے پریشان ہو جاتی تھی

ایسے بات نہیں ہوسکتی میں کل کالج سے پک کرنے آؤں گا اوراب کی بار مجھ سے بھاگنے کی کوشش مت کرنا زما زڑگیہ ورنہ آپ کو ڈھونڈنے میں مجھے زیادہ پریشانی نہیں ہوگی۔۔۔۔ اس کو بے چین دیکھ کر یزدان نے اس سے کل بات کرنے کا سوچا تھا

زرش نے اسے پریشان نگاہوں سے دیکھا تھا پہلے ہی ان کی زندگی پھوپھو نے مشکل کی ہوئی تھی اب یزدان مزید اس کی زندگی اجیرن کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ تلخی سے سوچتی بنا یزدان کو کوئی جواب دیتی وہاں سے چلی گئی تھی

یزدان بھی اس کے پیچھے قدم اٹھاتا اس کے گھر تک گیا تھا اس کی موجودگی اپنے پیچھے محسوس کرکے زرش سختی سے اپنے لب بھینچ گئی تھی زرش کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر وہ خاموشی سے واپس لوٹ گیا تھا

خان سے بہانہ بنا کر وہ یہاں زرش سے دو گھڑی بات کرنے آیا تھا مگر وہ بھی اسے صحیح سے اس سے بات کرنے کا موقع نہ ملنے پر اب کی بار اس کا موڈ خراب ہو گیا تھا

**************

اسلام علیکم بجو ! کمرے میں داخل ہوتے اس نے جائے نماز سمیٹتی زمل سے کہا تھا جو اسے دیکھ کر مسکرائی تھی

کیسا رہا آج کا دن ؟ ۔۔۔ روزانہ کا کیا گیا سوال زمل نے اس سے کیا تھا

بورنگ بس ٹیسٹ ہی ہوتے رہے سارے دن۔۔۔ وہ اپنا گاؤن اتار کر رکھتی منہ چڑھا کر بولی تھی زمل نے اسے دیکھ کر سر نفی میں ہلایا تھا وہ جب سے یہاں آئی تھی تب سے زرش کا پڑھائی سے دل بھی اٹھ گیا تھا

اب ایسے ہی لیٹ مت جانا اٹھو اٹھ کر فریش ہوجاؤ میں تمھارے لیے کھانا لائی۔۔۔ زمل اپنا حجاب کھولتی دوپٹہ گلے میں ڈالتی زرش سے بولی تھی

بجو کھانے میں کیا بنایا ہے ؟ اس نے سستی سے اٹھتے پوچھا تھا

دال چاول بنائے ہیں۔زمل نے اسے جواب دیا تھا

اففف شکر ہے ورنہ روز روز روٹی کھا کر میری بس ہوگئی تھی۔زرش منہ بنا کر بولی تھی زمل اس کی بات پر اداس ہوگئی تھی وہ جانتی تھی زرش کو چاول کتنے پسند ہیں مگر پھوپھو ، رمیز اور آرزو چاولوں کی نسبت روٹی زیادہ کھاتے تھے۔۔

اب جاؤ جلدی سے فریش ہوجاؤ میں کھانا لے کر آئی۔زمل اسے بولتی کمرے سے نکلی تھی جب وہ اپنے دھیان سے نکلتی کسی سے ٹکرائی تھی

خود کو سنبھالتے اس کی نگاہیں رمیز کے چہرے پر پڑی تھیں جو اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا زمل نے اس کو دیکھ کر فورا دوسری طرف مڑ کر جلدی سے اپنا دوپٹہ پھیلا کر سر پر لیا تھا

رمیز بھائی آپ کو کوئی کام تھا ؟ اس نے سخت لہجے میں پوچھا تھا

ہاں کھانا لگا دو مجھے آرزو امی کے ساتھ بازار گئی ہے۔اس کے چہرے پر نظریں گاڑھے وہ بول رہا تھا زمل کو آج پہلی دفعہ اس کی نگاہوں میں کھوٹ نظر آیا تھا

جی میں ابھی لگا دیتی ہوں۔وہ بول کر جانے لگی تھی جب رمیز کی بات سن کر وہ گھبرا گئی تھی

میرے کمرے میں لے آنا۔ رمیز اس کے سراپے کو دیکھتا ہلکا سا مسکرا کر بولا تھا

اگر آپ کو کھانا کھانا ہے تو خود جاکر کیچن سے لے لیں بجو آپ کی نوکرانی نہیں۔کمرے سے باہر نکلتی زرش رمیز کی بات سن کر جواباً بولی تھی زمل زرش کے آنے پر پرسکون ہوگئی تھی ورنہ اسے رمیز سے خوف آنے لگا تھا

رمیز نے اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو غصے سے دیکھا تھا

اپنی زبان کو لگام دو زرش بھولو مت بڑا ہوں تم سے۔ رمیز نے اسے جھاڑا تھا

بھائی آپ جائیں میں آپ کو کھانا دے دوں گی۔بات بگڑتی دیکھ کر زمل فورا بولی تھی

ہمم۔۔پانچ منٹ میں گرم کھانا مجھے روم میں مل جائے۔رمیز سختی سے بولتا وہاں سے چلا گیا تھا

آپی رمیز بھائی بدل گئے ہیں۔رمیز کی پشت کو دیکھتی زرش اداسی سے بولی تھی

مشکل وقت ہمارے لیے تو آزمائش ہوتا ہی ہے مگر یہ ہمارے ارد گرد موجود لوگوں کا بھی امتحان ہوتا ہے سچا ساتھی وہی ہوتا ہے جو کھٹن راہوں میں کانٹوں کو دیکھ کر بھی آپ کا ساتھ دے۔۔بولتے ہوئے زمل کے ذہن میں جھماکے سے خان کی پرچھائی لہرائی تھی

صحیح کہا آپ نے بجو رمیز بھائی اور پھپھو کبھی ہمارے خیر خواہ تھے ہی نہیں ورنہ ابا کے جانے کے بعد پھپھو ہمارے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھتی۔۔زرش بولتی ہوئی زمل کے ساتھ کیچن میں گئی تھی پہلے رمیز کا کھانا گرم کرکے زمل نے زرش کے ہاتھوں بھجوا دیا تھا پھر زرش اور اپنا کھانا ڈالتی وہ کمرے میں لے آئی تھی

دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرتی کھانا کھانے لگی تھیں۔

**********

کل رات ان کی میٹنگ سنیک ہیڈ کوارٹر میں تھی اسی سلسلے میں خان بیٹھا کچھ فائلز سمیٹ رہا تھا پانچ ماہ سے مسلسل کام کے بعد اب یہ آخری میٹنگ اور اپنے ٹارگٹ کو ختم کرنے کے بعد وہ دو مہینوں کے لیے صرف آفس ورک ہی سنبھالے گا

وہ لوگ لاہور میں موجود دی سنیک سروس کے انڈر آنے والے فائیو سٹار ہوٹل میں رہ رہے تھے یہ ٹاپ فلور پر موجود پینٹ ہاؤس تھا جو صرف خان اور یزدان کے لیے تھا یزدان خان کے کام سے گیا ہوا تھا اس لیے اس ٹائم خان اکیلا یہاں موجود تھا

فائلز سمیٹ کر اپنی جگہ رکھتا وہ بیڈ پر لیٹا تھا تاکہ کچھ دیر اپنی نیند پوری کرلے بیڈ پر لیٹتے ہی کچھ ہی دیر میں نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا

رات کے اندھیرے میں پینٹ ہاؤس کے نچلے فلور کے ایک روم میں موجود شخص کالا لباس پہنے کالے ہی رنگ کے ماسک سے خود کو چھپائے ایک لمبی سی تار کو ہک ڈال رہا تھا اس تار نما مضبوط رسی کو بیڈ سے باندھ کر واشروم کے لاک سے نکال کر اسے مضبوط بناتا وہ اس کے ایک کونے کو خود سے باندھتا بالکونی کی طرف گیا تھا

بالکونی میں جاکر اس کی گرل پر آہستہ آہستہ کھڑے ہوتے اس نے فاصلہ ناپا تھا اوپر والی بالکونی کا نچلے فلور سے کافی فرق تھا اس شخص نے دیوار پر موجود آؤٹ ڈور اے سی کو دیکھ کر مسکرایا تھا

اس پر احتیاط سے چھلانگ لگاتا وہ کافی فاصلہ طے کر گیا تھا اب کی بار اس نے کود کر اوپر والی بالکونی کی گرل کو نیچے سے تھاما تھا اپنے دونوں ہاتھوں سے گرل تھامتا وہ بالکونی میں کودا تھا

پورے پینٹ ہاؤس میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اس شخص نے اپنی جینز سے ایک چھوٹی سی لائٹ نکالی تھی اور اس سے مطلوبہ راستہ دیکھتا وہ اس طرف جانے لگا تھا ایک ہاتھ میں گن پکڑے وہ چوکنا تھا

خان کے کمرے کے پاس پہنچتا اس نے اپنے دائیں بائیں احتیاط سے نظر ڈالتے روم کا دروازہ بنا آواز پیدا کیے آہستہ آہستہ کھولا تھا

وہ روم میں داخل ہوا تھا جب اس کی نگاہ بیڈ پر کمفرٹر اوڑھ کر لیٹے خان پر پڑی تھی بنا کچھ سوچے سمجھے اس نے اپنی گن سے ایک کے بعد کئی گولیاں چلائی تھیں مگر کمفرٹر کے نیچے سے خون کی بجائے تکیے کے پنکھ نکلتے دیکھ کر اس نے قریب آتے جھٹکے سے کمفرٹر اٹھایا تھا جہاں پر بیڈ پر خان کے وجود کا نام و نشان نہ تھا

اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرکے وہ مڑا تھا جب خان کو اپنے روبرو دیکھتے اس کے پسینے چھوٹ گئے تھے

اس نے تیزی سے اپنا گن خان کی طرف کرتے نشانہ لینا چاہا تھا جب خان نے اس کی ٹانگ پر گولی چلائی تھی جس سے وہ لڑکھڑا کر نیچے گرا تھا

کس نے تمھیں بھیجا ہے ؟ اس کے دائیں ہاتھ پر گولی چلاتے خان نے سرد لہجے میں پوچھا تھا

ک۔۔۔کلر۔۔ کلر نے بھیجا تھا۔۔۔وہ شخص چیخ کر بولا تھا

عبیر۔۔عبیر ملک۔۔۔کلر کا نام دہراتا وہ اس شخص کے قریب پنجوں کے بل بیٹھا تھا

کس نے بھیجا ہے تمھیں ؟ اب کی بار خان کے لہجے میں سفاکیت تھی وہ گن کو اس کے سر پر رکھے بولا تھا

شیر خان۔۔ شیر خان نے بھیجا تھا۔ اپنی موت قریب دیکھتے اس نے اصل شخص کا نام بتایا تھا

ٹھاہ۔۔اصل شخص کا نام سن کر خان نے اس کے سر میں گولی اتاری تھی

شیر خان۔۔ شیر خان۔۔۔ بلڈی ہل۔۔ اپنے نام نہاد باپ کا نام دہراتے وہ استہزایہ مسکرایا تھا شیر خان کا نام بولتے اس کے حلق میں کڑواہٹ گھل گئی تھی

تمھیں ختم کرنے سے پہلے میں مر نہیں سکتا شیر خان۔ اونچی آواز میں بولتا جیسے وہ شیر خان سے ڈائریکٹ ہم کلام ہوا تھا

ایک نظر اس شخص کو دیکھتے خان نے سکیورٹی کو کال کرکے اس کی باڈی کو ٹھکانے لگوانے کا آرڈر دیتے سب کو نیچے والے فلور پر ایک پندرہ منٹ میں میٹنگ کے لیے بلایا تھا

اس پر حملہ ہونا ایک بہت بڑا معاملہ تھا جو وہ اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا تھا ہوٹل میں ان کے آدمیوں کے علاوہ کسی کو بھی گن لانا الاؤ نہیں ہے اور جب خان کا یہاں سٹے ہوتا تھا تو نچلے دو فلور خالی رہا کرتے تھے وہ فرنٹ ڈور سے آ نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے کودنے اور قدموں کی آواز پر فورا ہی خان اٹھ گیا تھا۔

****************

زمل میرے کمرے میں آکر میری بات سنو۔۔پھپھو کی صحن سے آتی آواز سنتی زمل جو زرش کے ساتھ لیٹی باتیں کر رہی تھی فورا سیدھی ہوگئی تھی۔

زرش اب تم سو جاؤ کافی لیٹ ہو گیا ہے صبح کالج بھی جانا ہے۔زمل گیارہ بجے کا ٹائم دیکھتی زرش کا ماتھا عقیدت سے چوم کر بولی تھی۔

زرش نے مسکرا کر اپنی بہن کو دیکھا جس نے کبھی اسے ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی۔

زمل اپنے کمرے سے نکلتی پھپھو کے کمرے میں چلے گئی تھی۔اسے رمیز اور آرزو کے کمرے سے اونچی آوازیں آ رہی تھیں مگر وہ اگنور کر گئی تھی اسے دوسروں کے معاملے میں گھسنا پسند نہ تھا۔

جی پھپھو آپ نے بلایا تھا ؟ وہ بیڈ پر بیٹھی ماجدہ بیگم کے پاس کھڑی ہوگئی تھیں۔

ہاں میرے پاس بیٹھو بیٹا۔پھپھو کے شیریں لہجے نے زمل کو پریشان کر دیا تھا۔

جی پھپھو ؟

تم تو میری سب سے پیاری اور فرمانبرادر بیٹی ہو۔۔اس کے منہ پر نرمی سے ہاتھ پھیرتی پھپھو ماجدہ نے کہا تھا۔

اب تمھارے ابا تو نہیں رہے اور تم دونوں میری زمہ داری ہو اس لیے میں نے ایک فیصلہ کیا یے زمل۔۔زمل کو اپنے ارد گرد خطرے کی گھنٹیاں سنائی دینے لگی تھیں۔

بیٹا میں تمھاری رمیز سے شادی کروانا چاہتی ہوں۔پھپھو کی باتوں پر اس کا رنگ اڑ گیا تھا۔وہ کیسے ایک شادی شدہ مرد سے شادی کر سکتی تھی۔کیا پھپھو یہ چاہتی تھی کہ ساری زندگی اسے نوکرانی بنا کر کام لیں ؟

لیکن پھپھو رمیز بھائی کی شادی ہوچکی ہے۔زمل خود کو سنبھالتی بولی تھی۔

بھانج ہے وہ بگھوڑی۔۔اور مجھے وارث چاہیے جو وہ ساری زندگی نہیں دے سکتی۔لیکن میں رمیز کی شادی تم سے کرواؤں گی میری یہ خواہش پوری ہو جائے گی۔پھپھوں کی خودغرضی سن کر زمل حیران رہ گئی تھی۔

کیا وہ اتنی مطلب پرست ہیں کہ اسے زبردستی اپنا فیصلہ تھوپ کر رمیز سے شادی کروانا چاہتی تھی۔

خدا کا خوف کریں پھپھو میری بہن بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں ہے اور نہ ہی آپ کے اس شادی شدہ بیٹی کی ساری زندگی غلام بن کر رہے گی۔ اگر اتنے ہی پوتے پوتیوں جا آپ کو شوق ہے تو اڈاپٹ کروا لیں۔زرش جو پانی پہسنے کے لیے کیچن جا رہی تھی متجسس سی ہوتی پھپھو کے کمرے کے باہر کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی وہ تو بھڑک ہی اٹھی تھی۔

اپنی زبان کو لگام دو زرش۔۔شادی تو زمل کی رمیز سے ہی ہوگی۔پھپھو بھی جواب چیخ اٹھیں تھی۔

ایک منٹ چپ رہو زرش۔۔زرش کو زمل نے ہاتھ اٹھا کر چپ کروایا تھا۔

پھپھو آپ کا ہم پر احسان ہے آپ نے ہمیں مشکل وقت میں پناہ دی مگر اس احسان کا بدلہ میں آپ کے بیٹے سے شادی کرکے نہیں چکا سکتی آپ کو اگر رمیز بھائی کی شادی کروانی ہے تو باہر سے رشتہ ڈھونڈ لیں لیکن میں نہیں کروں گی۔

زمل علیم الدین مت بھولو کس کو جواب دے رہی ہو۔ مجھے امید نہیں تھی تم دونوں اتنی زبان دراز ہوگی تمھارے ابا نے زبان دی تھی زمل کی شادی رمیز سے ہوگی اگر تم اپنے ابا کی زرا بھی عزت کرتی تھی تو مان جانا۔۔

پھپھو نے انھیں اموشنل کرنا چاہا تھا جس کا زرش پر تو کچھ خاصا اثر نہ ہوا مگر زمل سر جھکا گئی تھی۔اپنے ابا کی عزت اور زبان کا خیال کرتے اس نے سر کو خم دیتے رضامندی ظاہر کی تھی۔

زرش نے احتجاج منہ کھولنا چاہا تھا جب زمل اسے کھینچتی ہوئی کمرے سے لے گئی تھی۔

بجو یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟ وہ جان بوجھ کر آپ کو پھنسا رہی ہیں۔زرش چٹخ کر بولی تھی

زرش یہ میری زندگی کا فیصلہ ہے اس میں تمھارا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے تم اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔۔

زمل نے سختی سے کہا تھا۔زرش لب بھینچ گئی تھی۔اس کے بعد وہ دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم ہوکر لیٹ گئی تھیں مگر نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

*************

یزدان رات کو دیر سے واپس آیا تھا جب اسے خان پر حملے کا پتا چلا ان کو پتا چلا تھا عبدالمنان نامی ہیکر نے سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کی تھی جس کی وجہ سے خان کی سیکیورٹی کو بھی علم نہ ہو پایا تھا۔

خان صبح ہوتے ہی اس شخص کی باڈی شیر خان کو پارسل کروا چکا تھا۔وہ بے شک اس کا باپ تھا مگر صرف نام کا ہی۔

ہیڈ کوارٹر کے اکاونٹس میں آج کل کچھ گڑبڑ ہو رہی تھی کافی پیسے اکاؤنٹس میں جانے کی بجائے غائب ہو رہے تھے۔اس کام کے پیچھے چھپے شخص کو ڈھونڈنے کا کام خان نے یزدام کے زمے لگا دیا تھا۔

جبکہ خان خود اپنی کلائنٹ سے ملنے چلا گیا تھا۔جس نے اسے مارنے کی جگہ اور وقت کا بتایا تھا تاکہ وہ اس مطابق خود کو مظلوم ثابت کرسکے۔اس نے خان کو کچھ پیپرز بھی دینے تھے جس پر اسے اپنے شوہر کے مرنے سے پہلے سائن چاہیے تھے۔خان بھی اس کی ساری بات سن کر دوبارہ اس سے ملنے چلا گیا تھا۔ورنہ دو بار کسی سے ملاقات کرنا اسے پسند نہ تھا۔

یزدان صبح صبح کام کرنے کے لیے سنیک ہیڈ کوارٹر چلا گیا تھا۔اس نے پہلے ساری ٹرائنسیکشنز چیک کی تھی۔اکاؤنٹنٹ کا کام پانچ لوگ سنبھالتے تھے۔وہ کسی پر الزام لگا کر مجرم کو خبردار نہیں کرنا چاہتے تھے سارا کام خاموشی سے کیا جا رہا تھا۔

**************

پھپھو نے صبح صبح ہی زمل اور رمیز کا نکاح جمعہ کو کرنے کی خبر سنا دی تھی۔زمل تو سپاٹ تاثرات سے سر ہلا گئی تھی مگر زرش زمل سے ناراض ہوتی بنا ناشتہ کیے گھر سے نکل گئی تھی۔آرزو بھی اس نکاح سے خاصی نا خوش تھی۔صرف رمیز اور پھپھو ہی اس شادی پر خوش نظر آ رہے تھے۔

زرش جلی بھنی کلاس میں بیٹھی تھی صبح سے موڈ خرابی کی وجہ سے آج ہونے والا سرپرائز ٹیسٹ بھی اس کا اچھا نہیں ہوا تھا۔

زرش علیم الدین آپ کو پرنسپل بلا رہی ہیں۔اپنے نام کی پکار پر وہ حیرت زدہ ہوتی اٹھی تھی۔

اب پتا نہیں پرنسپل کیا کہیں گے آج کا میرا دن ہی خراب ہے۔ہائے اللہ مجھے تو بھوک بھی لگ گئی ہے۔وہ اپنے پیٹ سے آتی آوازوں کو سنتے شرمندہ سی ادھر ادھر دیکھتے تیزی سے پرنسپل کے آفس بھاگی تھی۔

ہلکا سا ناک کرتے وہ اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی تھی۔

اسلام علیکم میڈم جی۔اس نے جاتے ہی سلام ٹھوکا۔پرنسپل کے سامنے بیٹھی ہستی اس کی آواز سنتی مسکرا اٹھی تھی۔

وعلیکم اسلام زرش آپ کے ہسبینڈ آپ کو لینے آئے ہیں آپ کو ہالف لیو دے دی گئی ہے آپ اپنا بیگ لے آئیں۔میڈم کے بولتے ہی مسکراتا ہو یزدان اس کی طرف مڑا تھا۔

زرش نے منہ بگاڑا تھا وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر میڈم کے سامنے چپ ہوتی پاؤں پٹھکتی اپنا بیگ لینے چلی گئی تھی۔

مجھے بھوک لگی ہے۔۔گاڑی میں بیٹھی آدھے گھنٹے سے سفر کرتی وہ بھوک برداشت نہ ہونے پر بلبلاتی ہوئی شرمندہ سی بولی۔

بس دس منٹ ہم پہنچنے والے ہیں۔اس کے بھوک سے نڈھال ہوتے چہرے پر نظر ڈالتا یزدان نرم لہجے میں بول رہا تھا۔

افف مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہو رہی آپ یہاں گاڑی روکیں اور مجھے کھانے کو لے کر دیں۔وہ حجاب کے حالے میں چہرہ چھپائے منہ پھولا کر بیٹھی یزدان کو کیوٹ سی بچی لگ رہی تھی۔

ہم یہاں رک نہ سکتے۔وہ بےبسی سے بولا تھا یہاں رکنا مطلب لوگوں کی نظروں میں آنا اور یزدان جانتا تھا ایک بار اس کے دشمنوں کو زرش کے بارے میں پتا چل گیا تو اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔

مجھے کہیں نہیں جانا واپس لے کر چلیں۔۔وہ غصے سے بولی تھی۔

زمازڑگیہ بس پانچ منٹ۔۔وہ اس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا تھا۔زرش اسے گھورتے ہوئے رخ موڑ کر بیٹھ گئی تھی۔

یزدان اسے ایک گھر میں لے کر آیا تھا۔وہ گھر چھوٹا تھا لیکن ہر چیز نفاست سے سجائی گئی تھی۔زرش اس کے ساتھ چلتی گھر میں داخل ہوئی تھی جب لعزیز کھانوں کی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔

کیا گھر میں کوئی نہیں ہے ؟ گھر میں کسی کو موجود نہ پاکر زرشنے پوچھا۔

نہیں ملازم تھے وہ اپنے گھر جا چکے ہیں آپ آئیں پہلے کھانا کھاتے ہیں پھر بات کریں گے۔یزدان کے بولنے پر وہ فورا اس کے پیچھے کیچن میں بھاگی تھی۔

وہ دونوں خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے جب یزدان کو دیکھتے زرش کی آنکھیں چمکی اس نے غور سے یزدان کو دیکھتے سوچنا شروع کیا تھا۔

میرا چہرہ زیادہ پیارا لگ رہا ہے زمازڑگیہ ؟ اس کی نظریں اپنے چہرے پر جمی محسوس کرتے یزدان نے شرارت سے پوچھا۔

ہاں۔۔وہ اسے مسکراہٹ پاس کرتی بولی تھی یزدان کو اس کی مسکراہٹ سے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تھا۔

*****************

گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی۔ویسے تو رمیز اور زمل کا نکاح سادگی سے ہونا تھا مگر پھپھو ماجدہ نے زمل کو رمیز کی فرمائش پر نیا جوڑا بھی دلوا دیا تھا۔

کل زمل کا نکاح تھا اس لیے پھپھو اس سے کوئی کام نہیں کروا رہی تھی۔زرش نےویسے ہی بول چال زملسے بند کر رکھا تھا۔

تمھیں شرم نہیں آئی میرے شوہر کو پھنساتے ہوئے ۔زمل چھت پر بیٹھی تھی جب آرزو اس کے سر پر آتی بدلحاظی سے گویا ہوئی۔

اوہ بی بی میری بہن کو بولنے کی بجائے اپنے شوہر سے پوچھو اسے کیوں اتنی آگ لگی ہے میری بہن سے شادی کرنے کی۔زرش جو آرزو کے پیچھے اس سے بات کرنے آئی تھی اس کی باتیں سنتی وہ ناگواریت سے چیخی۔

زرش کیسے الفاظ استعمال کر رہی تم۔۔زرش کے منہ پھاڑ کر بولنے پر زمل نے اسے سرزنش کیا۔

اب کیوں روک رہی ہو سو گز لمبی اس کی زبان ہے اس جیسی بد کردار لڑکی کو زندہ جلا دینا چاہیے۔آرزو کی بات پر زمل نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔

آرزو اچھا ہوگا تم ہمیں قصور وار ٹھہرانے کی بجائے اپنے شوہر سے جا کر بات کرو۔ارد گرد موجود گھر کی چھتوں پر ان کی اونچی آواز سے جمع ہوتے لوگوں کو دیکھتے زمل اپنا چہرہ ڈھکتی سرعت سے بولے زرش کا ہاتھ تھام کر اسے نیچے لے گئی تھی۔

زرش تمھیں قسم لگے میری اب کسی کے آگے زبان مت چلانا۔اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی زمل التجائیہ بولی تھی۔

لیکن بجو۔۔

زرش جیسا میں نے کہا ہے ویسا ہی کرنا۔۔۔وہ اپنی قسمت قبول کر چکی تھی اب زرش کی باتیں اسے مزید تکلیف میں مبتلا کر رہی تھیں۔

اچھا بجو آپ سے میں نے ایک بات کرنی ہے۔۔زرش نروس سی لگ رہی تھی۔

ہاں بولو۔اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے زمل نے پوچھا۔

بجو میں نے آپ سے ایک بہت بڑی بات چھپائی ہے۔۔وہ خشک ہوتے ہونٹوں کو تر کرتی منمنائی۔

کیسی بات ؟

بجو جب۔۔جب میں کیڈنیپ ہوئی تھی نہ۔۔تب یزدان خان نے مجھ سے نکاح کیا تھا۔

ک۔۔کس نے ؟زمل نے اٹکتے ہوئے پوچھا۔

یزدان سے وہ خان کا دوست ہے۔۔زرش نظریں جھکائے بول رہی تھی۔

اتنے مہینوں بعد یہ بتانے کا مقصد ؟ مجھے شدید افسوس ہوا زرش کہ تم مجھ پر اتنا بھروسہ نہیں کر پائی مجھے یہ بات بتا پاؤ۔۔۔یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے یہ تمھاری ساری زندگی کا سوال ہے۔۔زمل دکھ سے بولی

اب کہاں ہے وہ بات ہوتی ہے اس سے تمھاری۔۔زمل نے پوچھا تھا زرش نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

اب مجھ سے کوئی جھوٹ مت بولنا زرش اور اب اس شخص کو بھی ڈھونڈنا پڑے گا۔۔وہ زرش کو لے کر کافی پریشان ہوگئی تھی۔

بجو آپ فکر مت کریں۔۔

کیسے فکر نہ کروں تمھارا مجھے ہی سوچنا پڑے گا۔۔اب چپ چاپ سو جاؤ مجھے تم سے بات نہیں کرنی۔اہ خفگی سے بولتی لیٹ گئی تھی۔

زرش معصوم منہ بنا کر اس کے اوپر گری تھی۔

بجو آپ جانتی ہیں نہ مجھ سے ناراض نہ ہوں پہلے بھی دو دن سے آپ مجھ سے بول نہیں رہیں۔ وہ زمل کے گال سے گال ملاتی لاڈ سے بولی تھی۔

اچھا بابا نہیں ہوں ناراض چلو اب سوجاؤ۔۔زرش اسے زور سے گلے لگاتی سو گئی تھی مگر صبح کا سوچتے زمل نہیں

*************

صبح ہوتے ہی ہر طرف گہما گہمی کا ساماں تھا پھپھو نے سارے محلے کو مدعو کر ڈالا تھا محلے دار بھی ایسے کے گھر میں ہوتی زرا سی بات پر بَی کان لگایِ بیٹھے آرزو کی طرف سے کسی ہنگامے سے لطف اندوز ہونا چاہتے تھے۔

گولڈن سکن رنگ کا پاؤں تک فراک پہنے سر پر سکن کلر کا حجاب کیے ساتھ سرخ رنگ کی چنری اوڑھے زمل کو مکمل تیار کر دیا گیا تھا۔

زرش ایک بار بھی اسے دیکھنے نہیں آئی تھی۔محلے کی ہی ایک لڑکی نے زمل کا میک اپ کرنا چاہا تھا مگر زمل نے صاف انکار کر دیا تھا مگر اس لڑکی کے اسرار پر اس نے لائٹ پنک سی لپ اسٹک لگا لی تھی۔

وہ لڑکی اسے کمرے میں اکیلا چھوڑ کر جا چکی تھی۔زمل کو کوئی خوشی محسوس نہیں رہی تھی اگر بات علیم الدین صاحب پر نہ جاتی تو وہ کبھی نہ مانتی۔

اپنی سوچوں میں وہ اس قدر گم تھی کہ کمرے کے اندر کسی کے آنے پر بھی وہ اپنے خیالوں میں ہی غلطاں رہی تھی۔

زمل ؟ گہری بھاری آواز اپنے قریب سے سن کر وہ اچھل پڑی تھی چنری منہ سے اترتی سر سے سرک گئی تھی۔

خان ؟ اس نے حیران سے خان کو دیکھا تھا۔

خان نے اس کے چہرے پر نظر ڈالتے رخ پھڑ لیا تھا۔زمل اس کے اس طرح مڑنے پر حیران ہوئی پھر اپنے منہ پر چنری نہ پاتے وہ بھی رخ پھیر گئی تھی۔

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ اگر کسی نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو میرے لیے بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔وہ پریشانی سے بول رہی تھی۔

آپ پلیز جائیں یہاں سے۔وہ خان کے کچھ نہ بولنے پر دوبارہ بول اٹھی تھی۔

میں تمھیں لینے آیا ہوں۔۔کچھ منٹوں بعد اس کی گھمبیر آواز کمرے کی خاموشی میں گونجی تھی۔

کیا۔۔وہ ابھی بولی ہی تھی جب اچانک کمرے کا دروازہ کھولتے آرزو نے چیخنا شروع کیا تھا۔

امی دیکھ لیں اپنی بھیتیجی نکاح کے دن کسی غیر کو کمرے میں بلائے بیٹھی ہے۔۔آرزو کی آواز پر صحن میں بیٹھے سب لوگ زمل کے کمرے کے باہر جمع ہونے لگے تھے۔

زمل کا رنگ فق ہو گیا تھا سب کی نظریں خود پر محسوس کرتے۔زرش جلدی سے سب کو پیچھے کرتی زمل۔ کے پاس آئی تھی۔

بجو آپ ٹھیک ہیں ؟ اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔

ارے کمبخت میں سمجھتی تھی یہ اچھی لڑکی ہوگی مجھے کیا پتا تھا اس کو بھی اپنی بہن کے رنگ چڑھے ہوئے ہیں۔۔خان کو دیکھتی پھپھو سب کے سامنے بے عزتی محسوس کرتی چٹخ کر بوک پڑی تھیں۔

پھپھو جیسا آپ سوچ رہی ہیَ ویسا نہیں ہے پلیز میرا یقین کریں۔۔زمل اپنی عزت کا جنازہ نکلتے دیکھ گڑگڑانے پر آگئی تھی۔

مجھ سے شادی نہیں کرنی تھی تو صاف صاف بتا دیتی اپنے آشنا کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کرنا ضروری تھا۔۔رمیز غصے سے بھرا خان کو دیکھ کر زمل کو طنزیہ بولا تھا۔

بڑی پاکیزہ بنتی ہے چہرہ ایسے چھپا کر رکھتی تھی جیسے پتا نہیں کتنی پاکباز ہو۔

آج کل کی لڑکیوں کا بھروسہ نہیں ہے۔

زمل منہ پر ہاتھ رکھے لوگوں کی باتوں پر رو رہی تھی۔

باپ کا سایہ نہیں ہے سر پر تبھی اتنی آزادی سے اپنے آشنا کو بلایا تھا۔

ان جیسی لڑکیوں کو غیرت کے نام پر جلا دینا چاہیے تھے۔

چپ ایک دم چپ اگر اب کسی نے کچھ کہا تو اسے غیرت کے نام پر میں جلا دوں گا۔۔ان سب کی آوازیں سن کر جھنجھلاتا خان غصے سے بولتا سب کو خاموش کروا گیا تھا۔

ماجدہ بہن اپنی بھیتیجی کا اس ہی لڑکے سے نکاح پڑھا کر نکالو گھر سے ہم ان جیسی لڑکیوں کو اپنے محلے میں نہیں رکھ سکتے۔ایک بزرگ آدمی کے بولنے پر سب نے ہامی بڑھتے خان اور زمل کو دیکھا تھا۔

میں کوئی نکاح نہیں کروں گا راستہ دو مجھے۔عجیب پاگل لوگ ہیں۔خان ان کو دیکھتا تیز لہجے میں بولا تھا۔

ہم پر تمھارا یہ روب نہیں چلے گا۔۔مولوی صاحب آئے بیٹھے ہیں ان کا نکاح پڑھوا دو بہن ماجدہ۔۔وپی بزرگ آدمی دوبارہ بولا۔

خان کا دل کر رہا تھا اپنی گن نکال کر اس آدمی کا دماغ اڑا دے جس میں خناس بڑھا پڑا تھا۔

یہ زور زبردستی مجھ پر نہیں چلے گی۔۔وہ غصے سے دھاڑا تھا۔

تمھاری وجہ سے ہمارے سر میں خاک پڑی ہے اب ہم اس کو اپنے گھر میں نہیں رکھیں گے چپ چاپ نکاح کرلو ورنہ پولیس کو بلوا لیں گے۔۔ماجدہ بیگم نفرت سے زمل اور زرش کو دیکھتی پھنکاری تھیں۔

میں کسی سے نہیں ڈراتا بلوا لو جسے بلوانا ہے۔۔خان کبھی کسی کے قابو میں آنے والا نہیں تھا۔

خان آپ کو خدا کا واسطہ میری بہن سے نکاح کر لیں۔۔زرش روتی ہوئی زمل کو گلے لگائے نم آواز میں بھیگی آنکھوں سے خان کو دیکھ کر بول رہی تھی۔

اس کے لہجے کی بے بسی خان کو بہت کچھ یاد دلا گئی تھی۔

پلار آپ کو خدا کا واسطہ اس کو مت ماریں۔۔روتے بلکتے آٹھ سال کے خان نے شیر خان سے التجا کی تھی۔

میں نکاح کروں گا۔وہ زمل کے لرزتے سراپے کو دیکھتا نظریں پھیر گیا تھا۔

زمل ولد علیم الدین آپ کا نکاح ایک لاکھ روپے سکہ راجہ الوقت زرخان ولد شیر خان سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟

قبول ہے۔۔قبول ہے۔۔قبول ہے۔۔زمل نے جواب دیتے اپنی سسکی روکی تھی۔

بلیک قیمض شلوار میں کندھے پر چادر اوڑھے پشاوری چپل پہنے خان نے بھی مجبورا نکاح قبول کیا تھا۔

یہ سوچ کر ہی کہ اس کا وجود خان کی زندگی میں ان چاہا ہے زمل کا دل دھاڑیں مار مار کر رونے کو کیا۔

اپنی اس بہن کو بھی ساتھ لے کر جاؤ۔۔شکر ہے تم دونوں سے جان چھوٹی اللہ ایسی اولاد کسی کو نہ دے۔شکر ہے میرا بھائی یہ دن دیکھنے سے پہلے مر گیا۔

پھپھو ہم خود شکر کرتے ہیں ابا آپ کا یہ ناگنوں والا چہرہ نہیں دیکھ پائے شکر ہے اب ہم اس گھر میں نہیں رہیں گے۔آپ کو آپ کا یہ گھر مبارک مگر یاد رکھیے گا۔دوسروں کو دکھ دینے والے خود بھی کبھی خوش نہیں رہتے۔ زرش جو سارے معاملے کے درمیان خاموش تھی۔پھپھو کی بات سنتی غصے سے بولی تھی۔

بی بی تم جیسی بدکرداروں کو میں خود اپنے گھر نہیں رکھنا چاہتی نکلو میرے گھر سے۔۔پھپھو کے بولنے پر زمل نے زرش کا ہاتھ دبایا تھا۔

پھپھو آپ نے ہمیں شکل وقت میں یہاں پناہ دی آپ کا شکریہ۔زمل بھاری آواز میں بول رہی تھی۔

پھپھو زمل کو دیکھتی نخوت سے چہرہ موڑ گئی تھی۔خان کے بولنے پر زرش کمرے سے اپنا اور زمل کا ضروری سامان لے آئی تھی۔

خان۔۔ززش کار کی بیک سیٹ پر زمل کے ساتھ بیٹھی تھی زمل تو اس کے کندھے پر سر رکھے سو گئی تھی۔

یزدان کیوں نہیں آئے۔۔اس نے دھیمے لہجے میں حیرانی سے پوچھا۔

اسے ایک ضروری کام تھا۔خان نے لب بھینچ کر جواب دیا۔

زرش جوابا سر ہلاتی خاموش ہوگئی تھی۔اس نے یزدان سے رمیز کو کیڈنیپ کرنے کا کہا تھا تاکہ نکاح نہ ہو اسی لیے جب خان کو زمل کے روم میں دیکھا تو وہ کافی پریشان اور حیران رہ گئی تھی۔

**************

کچھ دن پہلے :

کیا آپ میرا ایک کام کر دیں گے۔کھانے پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد وہ امید سے یزدان کو دیکھ رہی تھی۔

کیسا کام ؟ یزدان اسے اشتیاق سے دیکھ رہا تھا۔

میری پھپھو میری بجو کی اپنے بیٹے سے دوسری شادی کروانا چاپتی ہیں۔لیکن مجھے وہ پسند نہیں ویسے بھی وہ بجو کو مجبور کرکے ان کی شادی کروا رہی ہیں۔آپ نے بس یہ کرنا ہے کہ رمیز بھائی مطلب دلہے کو کیڈنیپ کرنا ہے۔۔وہ ساری بات بتاتی اب یزدان کا چہرہ تک رہی تھی۔

اس کے بدلے میں مجھے کیا ملے گا۔وہ لب دبا کر زرش کو دیکھا رہا تھا۔

آپ جو کہیں گے وہ میں کروں گی مگر پلیز آپ میری ہیلپ کردیں۔وہ معصوم منہ بناتی اپنی کالی آنکھیں جھپکاتی بول رہی تھی۔

ٹھیک ہے اب یہ بتاؤ کس دن کیڈنیپ کرنا ہے تمھارے بھائی کو۔۔وہ دانت کچکچاتا بولا تھا۔

جمعہ کو مجھے بڑی امید ہے آپ سے۔ٹائم سے کام کر دیجیے گا۔وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔

اب ہماری یہ ڈیل یاد رکھنا۔۔ زرش کو نظروں کے حصار میں لیتا وہ مسکایا تھا۔زرش نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہاں میں سر ہلایا تھا۔

کچھ دیر وہ یزدان کے ساتھ پلاننگ کرتی رہی تھی پھر یزدان اسے واپس چھوڑ آیا تھا۔

***************

وہ لوگ راستے میں ہی تھے جب ان ر فائرنگ سٹارٹ ہوئی تھی۔گولی کی تیز آواز پر زمل کی آنکھ فورا کھل گئی تھی۔اس نے پریشانی سے خان اور زمل کو دیکھا تھا۔

نیچے جھکو۔۔خان کی آواز پر زمل نے زرش کو کندھے سے تھامتے نیچے جھکایا تھا۔

ڈیش بورڈ سے اپنی گن نکالتے اس نے بیک مرر میں دیکھا تھا ان کے پیچھے ایک کالی گاڑی تھی۔گاڑی بلٹ پروف تھی اس لیے گاڑی کو کچھ ہو نہیں سکتا تھا۔لیکن وہ لوگ ٹائر پر نشانہ لے رہے تھے۔

گاڑی کی سپیڈ تیز کرتے اس نے ایک نظر زمل اور زرش پر ڈالی تھی۔جو ایک دوسرے کو مضبوطی سے حصار میں لیے بیٹھی تھیں۔

ماضی کی ایک درد ناک یاد اس کے دماغ میں جھماکے سے آئی تھی۔اس کی سٹرینگ ویل پر گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔زرش اور زمل کے چیخنے پر ہوش کی دنیا میں آتے اس نے ایکسلڑیٹر پر پاؤں رکھتے سپیڈ مزید بڑھا دی تھی۔

میں جب گاڑی روکوں گا تم دونوں باہر نکل کر سفید رنگ کی گاڑی میں بیٹھ جانا۔زرش تم قاسم کو پہنچانتی ہو نہ وہ ہی گاڑی میں ہوگا۔۔خان کی بات سنتے وہ دونوں مزید ڈر گئے تھے۔

قاسم کو وہ پہلے ہی موبائل سے میسج کر چکا تھا۔قاسم کو رات کو ہی اس نے یہاں بلایا تھا۔وہ اپنی پچھلی گاڑی کو مشکل سے چکما دے کر نکلا تھا۔

اترو ابھی۔۔اس کے بولنے پر وہ دونوں جلدی سے گاڑی سے نکلتے سفید گاڑی میں بیٹھ گئی تھیں۔

اسلام علیکم قاسم لالا۔۔زرش گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی تھی۔

وعلیکم اسلام بھابھی۔۔اس نے جواب دیا تھا۔

زمل کی پریشان نظروں نے خان کی گاڑی کو دور جاتے دیکھا تھا۔

یزدان کہاں مصروف ہیں ؟ زرش کا شاید زیادہ بولنے کا دل کر رہا تھا۔

وہ زخمی ہیں بھابھی رات کو ان کو دو جگہ گولی لگی ہے۔قاسم نے اسے سچ بتایا تھا۔زمل دعائیں پڑھتی سیٹ سے سر ٹکائے بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی۔

کیا ؟ لیکن خان نے بتایا وہ کسی کام سے گئے ہیں ؟ اب کیسے ہیں وہ ؟ زرش نے تھوڑا پریشانی سے پوچھا۔

یہ تو روز کا معمول ہے ان کو کچھ نہیں ہوتا۔قاسم نے تسلی بھی کچھ عجیب سے انداز میں دی تھی۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ زرش کو ان کے کام کا کچھ علم نہ تھا۔

میں اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا بھابھی۔قاسم کی بات پر وہ لب بھینچ گئی تھی۔جبکہ زمل کو ان کے کام کا خاصا علم تھا اسی وجہ سے وہ خان کے لیے فکر مند تھی۔

***************

بہاولپور کی یونیورسٹی میں ایک لڑکی چادر میں منہ چھپائے نظریں ارد گرد سہمی نظروں سے دیکھتی چل رہی تھی آنکھوں میں ایک انجانہ خوف لیے وہ چادر کو مضبوطی سے مٹھیوں میں بھینچی ہوئی تھیں۔

چہرے کا آدھا حصہ چادر میں چھپائے وہ تیز تیز قدم اٹھاتے چل رہی تھی۔لمبی چادر ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ہی چادر میں پھنستی زمین پر گر پڑی تھی۔

ارد گرد کھڑے سٹوڈنٹس اسے نیچے گرے دیکھ کر ہنس پڑے تھے۔وہ بنا کوئی آواز نکالے دوبارہ کھڑی ہو گئی تھی۔چادر کو کھسکا کر اس نے ماتھے تک کر لیا تھا اپنا بیگ دوبارہ کندھے پر اٹھائے وہ چلنے لگی تھی جب ایک لڑکی نے اس کا راستہ روکا۔

آپ کو چوٹ تو نہیں لگی ؟ اس نے شاید اسے گرتے دیکھ لیا تھا۔

وہ شرمندہ سی ہوتی خاموشی سے سر نفی میں ہلا گئی تھی۔اسے ایک نظر دیکھتی وہ دوبارہ چلنے لگی تھی

میرا نام ماہم ہے آپ کا نام کیا ہے ؟ ماہم نامی لڑکی نے اس کے ساتھ چلتے چلتے پوچھا۔

زرتاشہ۔۔وہ سرگوشی میں بولی تھی۔

واؤ یہ بہت خوبصورت نام ہے۔۔وہ بات کو طول دے رہی تھی۔

تم کہاں جا رہی ہو ؟ ماہم نے مسکاتے پوچھا۔

ک۔کلاس میں۔زرتاشہ نے بنا اس کی طرف دیکھت جواب دیا تھا۔

یار تم بولتی نہیں ہو؟ ماہم کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔اس کی حرکت پر ماہم کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔

اس نے چادر مزید چہرے پر کھسکتے نفی میں سر ہلایا تھا۔اپنے ڈیپارٹمنٹ میں پہنچ کر وہ تیزی سے ماہم کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ گئی تھی۔

****************

یہ یزدان لالا کا کمرہ ہے۔قاسم ان دونوں کو پینٹ ہاؤس میں لے کر آیا تھا۔وہ دائیں طرف بنے کمرے کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔

قاسم بھائی خان کا کمرہ کونسا ہے یہ بھی بتا دیں ؟ زرش زمل کو چپ کھڑے دیکھ کر پوچھنے لگی تھی۔

خان لالا کا ؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔

جی یہ ان کی بیوی ہیں ان کے کمرے میں ہی جائیں گی۔زرش نے آنکھیں چھوٹی چھوٹی کرکے قاسم کو گھورا۔

بیوی ؟ اس بار قاسم کی آنکھوں میں حد سے زیادہ بے یقینی تھی۔

آپ کو کیا لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں ؟ وہ کمر پر ہاتھ رکھتی لڑاکا طیارہ بن گئی تھی۔

ن۔نہیں آئیں خانم میں آپ کو خان لالا کا روم دیکھتا ہوں۔قاسم زرش کے بولنے پر فورا سیدھا ہوا تھا۔

آپ مجھے گیسٹ روم دکھا دیں۔زمل شائستگی سے بولی تھی۔

لیکن بجو۔۔

زرش تم جاؤ۔۔زمل نے اسے ٹوکا تھا۔

وہ منہ بناتی خاموش ہوکر یزدان کے روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔ابھی اسے یہ ڈر بھی تھا جب زمل کو پتا چلے گا اس کی وجہ سے زمل کو اتنی بےعزتی کا سامنا کرنا ہڑا ہے پھر کیا ہوگا۔

یہ سارا پلین یزدان کی وجہ سے خراب ہوا ہے۔۔وہ من میں سوچتی تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

کمرے میں گہرا اندھیرا تھا۔جب اچانک اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے یزدان نے اس کے سر پر گن رکھی تھی۔خوف سے زرش کی حالت پتلی ہوگئی تھی۔

منہ سے مختلف آوازیں نکالتی وہ یزدان کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔

اپنی گرفت میں نرم و نازک وجود کو محسوس کرتے یزدان نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹایا تھا۔

پ۔۔پلیز گن ہٹائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔زرش کی کانپتی آواز سنتے یزدان نے فورا گن ہٹاتے لائٹ اون کی تھی۔

آئی ایم سوری۔۔اپنی کن پٹی کو سہلاتا وہ زرش کو سرخ آنکھوں سے تک رہا تھا۔اس کے بازو اور سینے پر پٹی بندھی ہوئی تھی جس میں سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا۔

اس کا برہنہ سینہ دیکھتے زرش نےجھٹ سے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔

یہ کیسے ہوا ؟ زرش کا اشارہ اس کے زخموں کی طرف تھا۔

تم کس کے ساتھ آئی ہو ؟ اس نے زرش کا سوال نظر انداز کر دیا تھا۔

قاسم بھائی کے ساتھ۔۔اس نے بنا مڑے جواب دیا۔

تم یہاں رکو بعد میں بات کرتے ہیں۔وہ بھاری لہجے میں بولتا اپنی شرٹ اٹھا کر پہنتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔

قاسم بات سنو! قاسم جو باہر جا رہا تھا یزدان کی آواز سنتے فورا رک گیا تھا۔

جی لالا ؟

خان کہاں ہے ؟ شرٹ کے بازو فولڈ کرتے اس نے پوچھا۔

لالا انھوں نے مجھے بس خانم اور زرش بھابھی کو یہاں لانے کا بتایا تھا۔قاسم نے فرمانبراداری سے جواب دیا۔

خانم ؟ یزدان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

وہ زرش بھابھی کی بہن سے نکاح کر لیا ہے خان نے۔اس کا جواب سن کر یزدان کو شدید حیرت ہوئی تھی پھر وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔

خانم کہاں ہے ؟ یزدان نے پوچھا۔

وہ خانم کہہ رہی تھی انھیں گیسٹ روم دکھا دوں مگر میں انھیں خان لالا کے کمرے میں چھوڑ آیا ہوں۔قاسم کی ہوشیاری پر اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

خان کی کچھ خبر کہاں ہے ؟

نہیں لالا بس اتنا پتا ہے خان لالا کی گاڑی پر شاید کسی نے حملہ کیا تھا۔قاسم نے جواب دیا۔

تم جاسکتے ہو لیکن جیسے ہی کوئی خبر ملے مجھے بتا دینا۔۔اور ہاں گل کو کہو شام کے لیے اچھا سا کھانا بنا دے۔قاسم کو بولتا وہ اپنے کمرے کی بجائے سامنے والے کمرے میں گیا تھا۔

باتھ روم میں سے فرسٹ ایڈ کٹ نکالتے اس نے دوبارہ اپنی بینڈیج کی تھی۔ٹانکے ابھی کچے تھے جو زیادہ حرکت کرنے کی وجہ سے خون رسنے کا باعث بن رہے تھے۔

خون صاف کرتے اس نے دوبارہ بینڈیج کی۔

یزدان۔۔اس کے کمرے میں واپس آتے ہی زرش کھڑی ہوگئی تھی۔

ہاں بولو زما زڑگیہ۔۔وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا تھا۔

آپ پلیز بجو کو نہ بتائیے گا میں نے رمیز کس کیڈنیپ کرنے کا کہا تھا اور خان کو بھی کہیے گا کچھ نہ بتائیں۔۔وہ نقاب اتارتی اب صرف حجاب میں تھی۔چہرے پر پریشانی کے سائے لہرا رہے تھے۔

خان کو لالا کہا کرو زرش۔۔یزدان کے سنجیدگی سے بولنے پر زرش نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔

جی خان لالا کو کہیے گا بجو کو نہ بتائے ورنہ وہ مجھ سے ناراض ہو جائیں گی۔۔

آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔۔وہ زرش کو چھیڑتا تکلیف محسوس کرتا بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔

اب مجھے بتائیں آپ زخمی کیسے ہوئے ؟ وہ بھی بیڈ کے کنارے پر ٹک کر یزدان سے خاصے فاصلے پر بیٹھ گئی تھی۔

اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے زرش ابھی آپ ریسٹ کریں۔۔اس نے بات ہی ختم کر دی تھی۔زرش منہ پھولاتی دوسری طرف آکر لیٹ گئی تھی۔

****************

زمل اپنا دوپٹہ اتار کر حجاب کھول کر ریلکس ہوتی اپنی جیولری اتارتی فریش ہوکر کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئی تھی۔اپنے آگے کی زندگی کا سوچتے اس کے پریشانی سے سر میں درد شروع ہو گیا تھا۔

کروٹیں بدلتی وہ سونے کی کوشش کرتی اب اکتا چکی تھی۔اچانک روم کا دروازہ کھولنے پر وہ ڈر کر اٹھ بیٹھی تھی۔کمرے کی لائٹ اون ہوتے ہی خان کے چہرے پر نظر پڑتے اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔

لیکن اس کے مکمل وجود پر نظر پڑتے زمل کا خون خشک ہوا تھا۔

سر سے لے کر پاؤں تک وہ خون میں بھیگا ہوا تھا۔اس کو دیکھتے ہی زمل کو وحشت ہوئی تھی۔خان سپاٹ نظروں سے اسے دیکھتا واشروم میں چلا گیا تھا۔

زمین پر خان کے خون سے بھرے قدموں کے نشان دیکھتے زمل کے چہرے پر خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔

یا اللہ یہ کس قسم شخص کے ساتھ میری شادی ہو گئی ہے ؟ وہ من ہی من میں سوچتی رونے والی ہوگئی تھی۔

واشروم سے فریش ہوکر نکلتا خان کمرے میں خوشبوئیں بکھیر رہا تھا۔سفید سوٹ پہنے گیلے بالوں کو ہاتھوں سے جھٹکتا وہ اب نظریں زمل پر ٹکائے ہوئے تھا۔

یہاں کیا کر رہی ہو ؟ خان نے سرد لہجے میں پوچھا۔

و۔۔وہ۔۔ میں آپ کی بیوی ہوں۔۔اس نے جیسے خان سے زیادہ خود کو بتایا تھا۔

میں نے یہ نہیں پوچھا۔۔اٹھو کسی دوسرے روم میں جاؤ۔۔خان کے سخت لہجے پر وہ کانپ گئی تھی۔

کونسا روم ؟ اس نے سوال کیا۔

میرے روم کے ساتھ والے میں چلی جاؤ۔۔وہ بےزار لگ رہا تھا۔

دائیں والے یا بائیں والے۔۔وہ نجانے کیوں خان کو زچ کرنے پر امادہ تھی۔

تم یہی رہو میں ہی چلا جاتا ہوں۔۔وہ جھنجھلا کر دروازے کی طرف بڑھا تھا جب اس کی کمر پرسفید کرتے کو سرخ دیکھتے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔

رکیں! آپ زخمی ہیں ؟ خون نکل رہا ہے آپ کا ۔۔وہ بیڈ سے نیچے اتر کر اس کے پاس آگئی تھی۔تھوڑی دیر والا خوف اب کہیں دور بھاگ گیا تھا۔

اپنے کام سے کام رکھو۔وہ سرد لہجے میں بولتا کمرے سے نکل گیا تھا۔زمل عصر کی اذان سنتی خان کو جاتے دیکھ کر وضو کرنے چلے گئی تھی۔

******************

زرتاشہ کو یونیورسٹی جاتے ایک مہینہ ہو گیا تھا اس دوران ماہم زبردستی اس کی دوست بن گئی تھی۔وہ بہت کم بولتی تھی زیادہ باتیں ماہم ہی کرتی تھی وہ خوش قسمتی سے اس کی کلاس فیلوہی نکلی تھی۔

زرتاشہ یونیورسٹی کے گیٹ پر کھڑی کافی دیر سے اپنے ڈرائیور کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔جس کا دور دور تک نام و نشان بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

زرتاشہ تم اب تک گئی نہیں ؟ ماہم اس کے پیچھے سے آتی حیرت سے بولی تھی۔وہ تقریبا آدھے گھنٹے سے جانے کے لیے نکلی ہوئی تھی۔

زرتاشہ نے خاموشی سے سر نفی میں ہلاتے چادر کو کھینچ کر اپنا سر اچھے سے ڈھکا تھا۔

میں نے بتایا تھا نہ میرا بھائی زمان امریکہ سے دو ہفتے پہلے واپس آیا ہے وہ مجھے آج خود لینے آ رہا ہے تم بھی آجاؤ ہم تمھیں بحفاظت چھوڑ دیں گے۔ماہم کی بات پر اس نے لب بھینچتے پھر نفی میں سر ہلایا تھا۔

تم نہیں جاؤ گی ؟

میں کوئی انکار نہیں سنوں گی تم میرے ساتھ جا رہی ہو۔۔ماہم کے بولنے پر اس نے زور و شور سے سر نفی میں ہلاتے دوم قدم پیچھے لیے تھے۔

وہ دیکھو بھائی آگئے ہیں آجاؤ۔۔وہ زبردستی اسے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگی تھی۔رونے والا چہرہ بناتی زرتاشہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگی تھی۔

ہیلو بھائی۔۔یہ میری دوست زرتاشہ ہے آج اس کا ڈرائیور نہیں آیا ہم اسے چھوڑ دیں گے۔۔ ماہم نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے زمان سے کہا تھا۔

آنکھوں سے گلاسس ہٹاتے اس نے ایک ناگوار نظر چادر میں لپٹی زرتاشہ پر ڈالی تھی۔

مجھے کہیں نہیں جانا۔۔زمان کی نظریں محسوس کرتی خوف سے پیلی پڑتی زرتاشہ زبردستی اپنا ہاتھ چھڑواتی یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف بھاگی تھی۔

ماہم اسے پیچھے سے آوازیں دیتی رہی تھی مگر وہ خاموشی سے بھاگ گئی تھی۔

” ڈرپوک ” زمان ہلکا سا بڑبڑایا۔

رہنے دو اسے آؤ بیٹھو دیر ہو رہی ہے مجھے۔۔زمان کے سرد آواز میں بولنے پر وہ فورا گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔

ایک گھنٹے بعد ڈرائیور کے آنے پر زرتاشہ بھی واپس گھر لوٹ گئی تھی۔مگر انجانہ خوف اس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔

***************

شام کا وقت تھا جب گل زمل کے لیے کمرے میں کھانا لے کر آئی تھی۔

خانم زرش بھابھی نے کہا ہے آپ کو کھانا کھلا کر ہی میں کہیں جاؤں۔۔گل کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائی۔

گل کیا تم بتا سکتی ہو خان کہاں ہے مجھے ان سے ضروری بات کرنی ہے۔۔زمل کی بات پر گل نے اسے جھٹ سے بتایا تھا۔

خانم وہ دائیں طرف بنے گیسٹ روم میں ہیں۔گل کے بتانے پر وہ کھانا کھانے لگی تھی۔

شکریہ گل اب جاتے ہوئے خان کا کمرہ مجھے دکھا دو۔ہاتھ دھوتی زمل چہرے کو ڈھانپ چکی تھی۔

گل نے مسکراتے ہوئے اسے خان کا کمرہ دکھا دیا تھا سب کے اتنی عزت دینے پر وہ مسکرائی تھی۔

ناک کرتے وہ روم میں داخل ہوئی تھی جہاں بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا خان شاید سو رہا تھا مگر ناک کی آواز سے فورا اٹھ چکا تھا۔

مجھے ایک ضروری بات پوچھنی تھی آپ سے۔۔وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی

خان نے نیند سے بھری سرخ آنکھوں سے اسے گھورا تھا۔خان کی سبز آنکھوں میں لال ڈورے زمل کو مسمرائز کر گئے تھے۔

کیا بات پوچھنی ہے ؟ خان کے سپاٹ لہجے میں پوچھنے پر اس نے نظریں خان کے چہرے سے فورا پھیر لی تھیں۔

خان آپ میرے گھر کیوں آئے تھے ؟

میں اس کا جوابدہ نہیں ہوں اب جاؤ۔وہ اکھڑے لہجے میں بولا۔

آپ مجھے جوابدہ ہیں آپ کی وجہ سے لوگوں نے مجھے پتا نہیں کن کن گھٹیا الفاظوں سے پکارا ہے۔۔وہ چٹخ کر بولی تھی۔

مجھے کوئی کام تھا غلطی سے تمھارے روم میں آگیا تھا۔وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔

جھوٹ بول رہے ہیں آپ نے مجھے کہا تھا آپ مجھے لینے آئے ہیں۔۔وہ خان کی بات دہراتی بولی۔

غلطی سے منہ سے نکل گیا ہوگا اب جاؤ یہاں سے مجھے کچھ دیر سونے دو۔۔خان کے تیز لہجے پر وہ ڈرتی تیزی سے کمرے سے نکل گئی تھی

***************

خان نے اگلے دن ہی زمل اور زرش کو قاسم کے ساتھ کراچی خان ولا بھجوا دیا تھا۔

وہ سارا سارا دن خان ولا میں کمرے میں بیٹھی باتیں کرتی رہتی تھی یا سوتی رہتی تھی۔کوئی ملازم انھیں کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا۔

یزدان ایک ہفتے بعد واپس کراچی آگیا تھا اس کا پلان زرش کے ساتھ کچھ دن گھومنے پھرنے کا تھا۔لحاظا وہ پہلے ہی زرش کو خبر دار کرچکا تھا۔زرش نے پہلے صاف انکار کردیا تھا مگر زمل نے اسے سمجھا بھجا کر یزدان کے ساتھ جانے پر آمادہ کر لیا تھا۔

وہ ایک بار ہی یزدان سے ملی تھی مگراس کا اخلاق زمل کو متاثر کر گیا تھا سب سے بڑی بات یزدان کی آنکھوں میں زرش کے لیے محبت دیکھتی وہ اس سے تھوڑی بے فکر ہو گئی تھی۔

اس دن لے بعد زمل کی دوبارہ خان سے بات نہیں ہوئی تھی۔زرش کے جانے کے بعد وہ بولائی بولائی پھر رہی تھی۔گل اس کے پاس ایک گھنٹہ بیٹھ کر باتیں۔ کر لیتی تھی مگر اس کے علاوہ زمل کے پاس کرنے کو کچھ نہ ہوتا تھا۔

ہفتے کا دن تھا زمل کی اس دن کچھ طبیعت ٹھیک نہ تھی اس لیے ناشتہ کرتے ہی میڈسن لے کر وہ سو گئی تھی۔

آہہ۔۔لاؤنچ سے آتی دردناک چیخوں اور سسیکیوں کو سنتی زمل حیرانی اور پریشانی سے اٹھی تھی۔

وہ گل کی چیخیں تھیں۔تیزی سے چادر سے خود کو ڈھانپ کر وہ کمرے سے باہر نکلی تھی۔

جب باہر کا منظر دیکھتے اس نے نے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔

ایک پچاس پچپن سال کا آدمی بیلٹ سے گل کو پیٹ رہا تھا۔

یہ کیا ہو رہا ہے یہاں چھوڑیں اسے۔۔زمل اونچی آوا?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *