Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 24)

My Girl by Zanoor

زرتاشہ یونیورسٹی سے واپس آکر کھانا کھا کر کچھ دیر کے لیے سو گئی تھی۔نیند سے اٹھ کر کچھ دیر بیڈ پر بیٹھے رہنے کے بعد وہ منہ ہاتھ دھونے کے لیے واشروم گئی تھی۔اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتے اس نے اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا جب ایک دم اپنے پیچھے کھڑے زمان کو دیکھ کر ایک زوردار چیخ اس کے حلق سے نکلنے والی تھی زمان نے اپنا ہاتھ زرتاشہ کے منہ پر سختی سے رکھ دیا تھا۔

اس کو کندھے سے پکڑتے زمان نے اسے اپنے سینے سے لگاتے اس کی گردن کو ہلکے سے اپنے ہونٹوں سے چھوا تھا۔زرتاشہ کی ہتھیلیاں نم پڑنے لگی تھی۔آنکھیں پھیلائے وہ زمان کو خود سےدور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔جب زمان نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے پیٹ کے گرد ہاتھ باندھتے اسے ایک جگہ ساکت کیا تھا۔

وہ شخص آج تمھارے ساتھ کیوں موجود تھا ؟ زرتاشہ کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے زمان نے اس کی گردن پر اپنی انگلیاں چلاتے ہوئے سرگوشی میں سخت میں سختی سے پوچھا تھا۔

وہ پہلے ہی ماہم سے باتوں ہی باتوں میں ساری بات نکلوا چکا تھا مگر اصلی وجہ ماہم کو بھی نہ معلوم تھی۔

زرتاشہ کو اپنے وجود میں سنسناہٹ سی محسوس ہونے لگی تھی۔زمان کی انگلیوں کی حرکت اس کے حواس جھنجھوڑ رہی تھی۔

زمان کے چہرے سے ہاتھ ہٹانے پر وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی۔زمان کی پکڑ اپنے پیٹ پر سخت ہوتی محسوس کرکے وہ دبی آواز میں چیخ اٹھی

میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں۔۔زرتاشہ کے جواب نے زمان کو حیران کیا تھا۔اس کے عنابی ہونٹ ہلکے سے اوپر کی طرف اٹھے زرتاشہ کی گردن پر ہونٹ جماتے وہ اس کے کانپتے ہوئے سراپے کو محسوس کرکے محظوظ ہوا۔

یہ تم بہتر جانتی ہو تم ہر طرح سے مجھے جواب دہ ہو۔۔مجھے سختی پر مجبور مت کرو جلدی سے اچھے بچوں کی طرح میرے سوال کا جواب دو۔۔اس کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکاتا زمان شیشے سے اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھتا ہلکا سا مسکرایا۔

زرتاشہ نے اپنی مٹھیاں بھینچتے زور سے زمان کے کندھے پر مارنا شروع کی تھیں۔زمان نے جھٹکے سے اسے موڑتے تیزی سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر کمر سے اٹھا کر اسے سلیب پر بیٹھایا تھا۔

ز۔۔زمان ی۔۔یہ کیا کر رہے ہیں۔۔وہ ہانپتی زمان کو اپنے اوپر جھکتے دیکھ کر بول رہی تھی۔

زمان نے ایک ہاتھ اس کے کمر میں ڈالتے اسے اپنے قریب کرتے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ زرتاشہ نے بے ساختہ ڈر مر زمان کو کندھوں سے تھاما تھا۔

تم نے ابھی تک میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔۔زرتاشہ کے گال سرخ پھولے ہوئے گالوں پر اپنے لب رکھتے زمان بوجھل سے لہجے میں بولا۔اس کی قربت زمان کے منہ زور جزبات کو بے قابو کر رہی تھی۔

و۔وہ ب۔۔بھائی نے۔۔زمان کی بھرتی جسارتوں سے اسے الفاظ بھولنے لگے تھے۔زمان اس کی گردن سے بال پیچھے کی طرف ہٹاتا وہاں اپنا لمس چھوڑ رہاتھا۔

ہمم۔۔بولتی جاؤ میں سن رہا ہوں۔۔زرتاشہ کے گلابی ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے رگڑتے ہوئے زمان مخمور لہجے میں بول رہا تھا۔

آپ پلیز پیچھیں ہٹیں تھوڑا مم۔۔میں بتاتی ہوں۔۔زرتاشہ گہرے گہرے سانس لیتی اس کے لمس پر بےحال سی ہوتی بول رہی تھی۔

زمان اس کی بیوٹی بون پر لب رکھتا زرا سا پیچھے ہٹا تھا۔

میری حفاظت کے لیے قاسم بھائی میرے ساتھ یونیورسٹی جاتے ہیں۔۔وہ لب کاٹتی آدھی بات اسے بتا چکی تھی۔۔

کس سے حفاظت ؟ زمان نے ناسمجھی سے زرتاشہ کو دیکھا۔۔زرتاشہ ابھی وہ سب کچھ زمان کو بتانے کے لیے تیار نہ تھی۔اسی لیے زمان کی ڈھیلی گرفت کا فائدہ اٹھاتے زرتاشہ اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتے نیچے اتری۔

زمان اس کی ہوشیاری پر ہلکا سا مسکرایا تھا۔بجلی کی پھرتی سے زرتاشہ کو پکڑتے زمان نے کھینچ کر زور سے دیوار سے لگایا تھا۔

زور سے دیوار میں بجنے سے زرتاشہ کے منہ سے سسکاری نکلی تھی۔زمان کے سینے پر تھپڑ اور مکے برساتی وہ زمان کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔دفعتا زرتاشہ کا ہاتھ دائیں طرف لگے شاور کے وال پر لگا تھا جس سے شاور کھلتا ان دونوں کو بھیگانے لگا تھا۔

زرتاشہ کے دونوں بازو قابو کرتے زمان نے اوپر کی طرف دیوار سے لگائے تھے۔ زرتاشہ کی کوششیں آہستہ آہستہ بند ہوگئی تھیں۔بےبسی سے آنسو موتیوں کی صورت نکلتے اس کے چہرے پر گرتے پانی میں گم ہونے لگے تھے۔

دونوں تقریبا پورا بھیگ چکے تھے۔۔زمان زرتاشہ کے چہرے پر پی نظریں ٹکائے کھڑا تھا۔اس کے گال پر بہنے والے آنسو کو اپنے لبوں سے چن کر زمان نے اس کی بھیگی سرخ آنکھوں کو دیکھتے اس کی بے حال سانسوں کو ہونٹوں کے ذریعے خود میں اتارا تھا۔

زرتاشہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہونے لگی تھی۔۔زمان کا لمس اس کے حواس جھنجھوڑ رہا تھا۔اس کے ہونٹوں کو شدت سے چومتے زمان اس کی سانسیں بند کرنے کے در پر تھا۔زرتاشہ سانس بند ہوتا محسوس کرتی زمان سے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

مقابل بنا اس کی کسی مزاہمت کو دیکھے اس کے لمس سے خود کو سراب کر رہا تھا۔زرتاشہ کی مزاحمت دم توڑتی دیکھ کر زمان نے اس کے ہونٹوں کو آزاد کیا تھا۔

زرتاشہ پھولی سانسوں سے زمان کے کندھے پر سر ٹکا گئی تھی۔شاور ابھی بھی چلتا ان دونوں کو بھگو رہا تھا۔زمان نے اس کے بازو آزاد کرتے اس بھیگے بال جو گردنسےچپک چلے تھے انھیں پیچھے ہٹایا تھا۔اس کی ٹھنڈی سرسراتی انگلیوں کا لمس محسوس کرتی زرتاشہ کپکپانے لگی تھی۔

کندھے سے اپنی شرٹ کھسکتے محسوس کرکے زرتاشہ نے زمان کے کندھے سے سر اٹھا کر ہاتھوں سے ایک بار پھر اسے پیچھے دھکیلنا شروع کیا تھا۔

زمان نے اس کے کندھے پر ہلکے سے دانت گاڑھے تھے۔۔زرتاشہ کی دودھیاں رنگت پر اس کے دانتوں کا سرخ نشان بےحد جچ رہا تھا۔زمان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر زور سے اسے خود میں بھینچا تھا۔

اتنے سال تمھارا انتظار کیا ہے اب مجھ سے مزید صبر نہیں ہوگا۔۔زمان کی جذبات سے بوجھل آواز سن کر زرتاشہ کے چودہ طبق روشن ہوگئے تھے۔۔

جھٹکے سے خود کو زمان سے تھوڑا دور کرتے زرتاشہ کا ہاتھ بے ساختہ زمان کے بھیگے گال سے ٹکرایا تھا۔تھپڑ کی گونج پورے واشروم میں گونجی تھی۔

زمان نے اپنے گال پر جلن محسوس کرتے سرخ نظروں سے زرتاشہ کو دیکھا تھا۔اس کی وحشت بھری نظریں دیکھ کر زرتاشہ گھبرا گئی تھی۔

ز۔۔زمان۔۔زرتاشہ کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے۔زمان ساکت سا اسے گھور رہا تھا۔

تم میری بیوی ہو جتنی جلدی سمجھ لو تمھارے لیے بہتر ہے۔۔زرتاشہ کے بال اپنی مٹھی میں جکڑتے زمان نے اس کا چہرہ اوپر کی طرف اٹھایا تھا۔

زرتاشہ کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔اپنے دوسرے ہاتھ سے زمان نے بےدردی سے زرتاشہ کا پانی میں جذب ہوتا آنسو رگڑا تھا۔

آ۔۔آپ کے پاس کیا ثبوت ہے میں آپ کی بیوی ہوں۔۔جواب دیں مجھے۔۔وہ بھی دفعتاً اس کےکالر کو پکڑتی چیخ اٹھی تھی۔

تمھارے نام کے ساتھ موجود میرا نام سب سے بڑا ثبوت ہے۔۔میں جانتا ہوں تم پہلی ہی ملاقات میں مجھے پہچان گئی تھی تبھی بھاگی تھی نہ مجھ سے دور۔۔اس کی بھیگی گردن میں ہاتھ ڈالتا زمان اسے اپنے بےحد قریب کر گیا تھا۔زمان کی گرم سانسیں زرتاشہ کے ٹھنڈے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔۔

نہیں۔۔زرتاشہ نے اپنی گردن نفی میں ہلائی تھی۔زمان کا اپنے منکوح ہونے کا علم اسے مہناز بیگم کے پاس اس کے نکاح کی موجود چند تصاویروں کو دیکھ کر ہوا تھا۔

زرتاشہ کو کانپتا محسوس کرکے زمان نے شاور بند کیا تھا۔۔وہ زرتاشہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا تاکہ پتا لگواسکے وہ آیا سچ بول بھی رہی ہے یا نہیں۔۔

زرتاشہ اس کی نظریں محسوس کرتی اپنے سن ہوتے ہاتھوں کو الجھانے لگی تھی۔

جاؤ کپڑے چینج کرلو میں تب تک شاور لے لوں۔۔زرتاشہ کا ماتھا چومتا زمان اپنی گیلی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا تھا۔۔زرتاشہ اس کا برہنہ سینہ دیکھتی گھبراتی بھاگنے لگی تھی جب پاؤں سلپ ہونے پر گرنے لگی تھی لیکن بروقت زمان نے اس کی کمر کو پکڑتے اسے بچا لیا تھا۔۔

وہ شرمندہ سی سرخ پڑ گئی تھی۔زمان کے سیدھا کھڑا کرنے پر وہ ہلکی آواز میں اس کا شکریہ ادا کرتی وہاں ایک سائیڈ پر پڑا تولیہ اٹھا کر باہر نکل گئی تھی۔

تولیہ بالوں کو باندھے کپڑے چینج کرنے کے بعد زمان کے گیلے کپڑوں کا خیال آنے پر وہ دبے قدموں اپنے کمرے سے نکل کر ساتھ والے بند کمرے میں گئی تھی۔وہاں اس کا بھائی سال یا دو سال بعد آکر کچھ دنوں کے لیے رہتا تھا۔۔

کمرے میں داخل ہوتے الماری میں سے اس نے ایک پینٹ اور شرٹ نکال لی تھی۔۔وہاں سے کپڑے لے کر نکلتی وہ واپس اپنے کمرے میں آتی ڈور لاک کر گئی تھی۔

اب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کپڑے زمان کو کیسے دے۔۔کچھ دیر لب کاٹنے کے بعد وہ واشروم کے قریب گئی۔ہلکا ڈور ناک کرتے وہ زمان کے بولنے کی منتظر تھی۔

میرے ساتھ شاور لینے کا ارادہ ہے تو ویسے ہی اندر آجاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔زمان کی بےباک بات سن کر وہ کانوں کی لو تک سرخ پڑ گئی تھی۔

م۔۔میں آ۔۔آپ کے لیے کپڑے لائی ہوں۔۔وہ ہانپتی آواز میں ںسنبھل کر بولی تھی۔۔زمان نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اپنا ہاتھ باہر بڑھایا تھا۔۔

زرتاشہ نے تیزی سے کپڑے اسے تھمائے تھے زمان نے اسے تنگ کرنے کے لیے اس کی کلائی پکڑتے اسے ہلکا سا اپنی طرف کھینچا تھا۔

دروازے میں سے جھانکتا اس کا سینہ دیکھتے زرتاشہ مزید شرم سے لال ہوئی تھی۔۔زمان نے اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہونٹوں سے چھوا تھا۔۔

زرتاشہ گھبراہٹ سے دوبارہ اس کے بدلے تیور دیکھتی اپنا ہاتھ چھڑوا کر تیزی سے کمرے سے باہر بھاگ گئی تھی۔۔

زرتاشہ کھانا کھانے کے بعد کافی دیر تک مہناز بیگم کے پاس بیٹھی رہی تھی تاکہ زمان تب تک چلا جائے۔۔

آدھی رات کو وہ مہناز بیگم کے کمرے سے نکلتی اوپر اپنے کمرے میں گئی تھی۔۔ڈرتے ڈرتے وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد کسی کو نہ پاکر وہ سکون کا سانس خارج کرتی اپنا نائٹ ڈریس پہننے چلی گئی تھی۔

ریڈ شرٹ اور ٹراؤزر پہنے وہ بیڈ پر بیٹھی پانی پی رہی تھی جب اچانک بیڈ کے نیچے سے کسی کو اپنی پنڈلی پکڑتے دیکھ کر پانی اس کے حلق میں پھنس گیا تھا۔۔بیڈ کے نیچے سے زمان ہنستا ہوا نکلا تھا۔زرتاشہ کی حالت اسے لطف دے رہی تھی۔

زمان کو دیکھ کر زرتاشہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں تھیں۔۔کھانستے ہوئے وہ بے حال سی زمان کو ہنستا دیکھ رہی تھی۔

زرتاشہ کے قدموں کے قریب بیٹھتے زمان نے اس کی دائیں ٹانگ اپنی گود میں رکھتے اس کا ٹراؤزر پنڈلی سے اٹھایا تھا۔زرتاشہ کا رنگ اڑا تھا۔۔زمان سے اپنی ٹانگ آزاد کروانے کی کوشش میں وہ ہلکان ہونے لگی تھی۔۔

زمان نے اپنے ہاتھ سے اس کی دودھیاں پنڈلی کو سہلایا تھا۔۔زرتاشہ کا سانس سینے میں اٹک گیا تھا زمان کے ہونٹوں کا لمس اپنی پنڈلی پر محسوس کرتے۔۔

زمان پلیز۔۔۔وہ آنکھیں میچتے اپنی ٹانگ کھینچنے کی کوشش میں زمان کو التجایا آواز میں پکار بیٹھی تھی۔

اس کی حالت سے محظوظ ہوتے زمان اس کی پنڈلی کو آزاد کرتا بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔

زمان کے آزاد کرنے پر وہ گھبراتی کانپتی بیڈ پوسٹ سے جالگی تھی۔۔جبکہ ٹانگیں بھی وہ سمیٹ چکی تھی۔۔

زمان کے بدلے انداز نے اس کے دل میں ہلچل سی مچا دی تھی جبکہ اس کا دہکتا لمس اسے کو عجیب سا سرور دے رہا تھا۔۔شاید اسفند کے ناگوار لمس کے بعد اپنے محرم کا لمس پاکر وہ ایسا محسوس کر رہی تھی۔۔

زرتاشہ کے روبرو جاتے زمان نے اس کے اوپر جھکتے اس کے سر کے ارد گرد بیڈ پر اپنے بازو ٹکاتے اس کو قید کیا تھا۔۔زرتاشہ پھولی سانسوں سے نظریں زمان پر ٹکائے ہوئے تھی۔۔

زمان کا محبت بھرا لمس اپنے لبوں پر محسوس کرتے زرتاشہ نے تڑپ کر اس کی شرٹ کو کالر سے سختی سے پکڑا تھا۔۔

زمان اس کی ٹھوڑی پکڑے شدت سے اپنی سانسیں زرتاشہ مین انڈیل رہا تھا۔۔اس کی سانسوں کو پیتے زمان نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے بالوں میں پھنساتے اسے مزید اپنے قریب کیا تھا۔۔

زرتاشہ کی سانسیں مدہم محسوس کرتے زمان نے اس کے ہونٹوں کو آزاد کرتے اس کے پھولے نرم و نازک سرخ قندھاری گالوں کو شدت سے چوما تھا۔۔زرتاشہ بے حال سی اس کے رحم و کرم پر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔۔

زمان اس کے چہرے کے پور پور کو اپنے ہونٹوں سے چھو رہا تھا۔۔اس کے سرخ گال کو دیکھتے زمان نے دانتوں میں لے کر ہلکا سا اسے کاٹا تھا۔۔زرتاشہ ہلکا سا سسکی تھی۔

اس کے گال پر ہلکا سا سرخ رنگ کا نشان دیکھتے وہ ایک ادا سے مسکرایا تھا۔

زمان پلیز رک جائیں۔۔زمان کے دوبارہ اپنے ہونٹوں کو ہلکا سا چھونے پر وہ منمنائی تھی۔۔اس کی آواز میں ایک التجا تھی۔۔

زمان آخری بار اس کے ہونٹوں کو چھوتا اسے باہوں میں بھر کر لیٹ گیا تھا۔۔زرتاشہ کا سر اپنے سینے پر رکھ کر دوسرا ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر وہ زور سے اسے خود میں بھینچ گیا تھا۔۔

آ۔۔آپ نے جانا نہیں ؟زرتاشہ نے گھبرائے لہجے میں پوچھا۔۔

نہیں آج رات میں تمھارے ساتھ گزاروں گا۔۔زمان اس کے بالوں پر لب رکھتا بولا تھا۔۔

فکر مت کرو کچھ نہیں کروں گا۔۔زرتاشہ کا رنگ اڑٹا دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکر کر بولا۔۔زرتاشہ نے ایک سکون کا سانس خارج کیا تھا۔۔

زمان کے سینے پر سر رکھے وہ جلد ہی نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی۔۔لیکن زمان کافی دیر تک اس کے بالوں سے کھیلتا جاگتا رہا تھا۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *