Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Girl (Episode 16)

My Girl by Zanoor

زرتاشہ آج یونیورسٹی نہیں جانا بچے۔۔مہناز بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے بیڈ پر سکڑ کر لیٹی زرتاشہ کو پریشانی سے دیکھا۔

مورے۔۔میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔۔زرتاشہ کی کمزور سی آواز مہناز بیگم کے کانوں میں پڑی۔۔

تمھیں بہت تیز بخار ہے۔۔مہناز بیگم نے اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر ماتھا چھوا۔

میں تمھارے لیے میڈسن اور کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔تم آرام کرو۔۔مہناز بیگم اس کو کمفڑٹر سے اچھے سے ڈھکتی کمرے سے چلی گئی تھیں۔

مہناز بیگم کے دوائی دینے کے بعد بھی اسے افاقہ نہ ہوا تھا۔وہ دو دن سے یونہی نڈھال سی بستر پر پڑی تھی اب تو مہناز بیگم کو بھی پریشانی ہونے لگی تھی۔

ماہم کی اسے لگاتار کالز آرہی تھیں جنھیں وہ اگنور کر رہی تھی۔زمان کے دھمکانے کے بعد ایسا ڈر اس کے دل میں بیٹھا کہ وہ ماہم کی کال بھی نہیں اٹھا پا رہی تھی۔

مہناز بیگم آج اسے زبردستی اٹھا کر ہوسپٹل لے کر آئی تھیں۔ویٹنگ ائریا میں انتظار کرتی وہ مہناز بیگم کے کندھے سے سر ٹکائے بیٹھی نڈھال لگ رہی تھی۔چہرہ بخار کی شدت دے سرخ دکھائی دے رہا تھا۔

زرتاشہ؟ ماہم کی آواز سنتے زرتاشہ نے بے ساختہ اپنی آنکھیں زور سے بند کی تھیں۔کیا کوئی ایسی جگہ ہوسکتی ہے جہاں وہ ان بہن بھائی سے نہ مل سکے ؟

تم اتنے دنوں سے یونیورسٹی نہیں آرہی ؟ خیریت ہے ؟ میری کال بھی اٹینڈ نہیں کر رہی۔۔ماہم نے دھرا دھر اس پر سوالات کی بوچھاڑ کی۔وہ بوکھلا گئی تھی۔

زرتاشہ یہ تمھاری دوست ہے ؟ ماہم کے چپ ہونے پر مہناز بیگم نے زرتاشہ سے پوچھا۔

جی مورے یہ میری دوست ہے۔۔زرتاشہ نے لب دباتے جواب دیا۔

اوہ سوری آنٹی اسلام علیکم میں زرتاشہ کی یونیورسٹی فیلو پلس دوست ہوں۔۔ماہم نے مہناز بیگم سے ہاتھ ملایا۔

مجھے بخار تھا ماہم اس وجہ سے میں یونیورسٹی نہیں آرہی۔۔زرتاشہ نے اسے جلدی خود سے دور بھیجنے کے لیے اس نے ماہم کی مہناز بیگم سے بات کو مزید بڑھنے سے روکا۔

اوہہ اب کیسی ہو ؟۔۔ماہم نے زرتاشہ کا سرخ چہرہ دیکھ کر پوچھا۔

ابھی چیک اپ کروانے آئی ہوں دو دنوں تک میں یونیورسٹی آجاؤں گی۔۔زرتاشہ نے تیزی سے جواب دیا۔وہ جلد سے جلد ماہم کو وہاں سے بھیجنا چاہتی تھی۔

ماہم یہاں کس کے پاس کھڑی ہو ؟ زمان کی آواز سنتی زرتاشہ نے سختی سے آنکھیں میچ کر مہناز بیگم کے کندھے میں منہ دیا تھا۔

زرتاشہ سے مل رہی تھی بھائی۔ماہم کے بتانے پر زمان کے تاثرات بدلے۔

یہ زرتاشہ کی مما ہے بھائی۔۔ماہم کے بولنے پر زمان نے مہناز بیگم سے سلام کیا تھا۔

تم نے مل لیا ہے تو چلیں۔۔زمان منہ چھپائے بیٹھی زرتاشہ کو ایک نظر دیکھ کر ماہم سے بولا۔ماہم سر ہلاتی الوداعی کلمات بولتی زمان کے ساتھ چلی گئی تھی۔ان کے جانے کے بعد زرتاشہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔

اپنا چیک اپ کرواتی وہ میڈسن لیتی مہناز بیگم کے ساتھ واپس آگئی تھیں۔

**********

زرش یزدان کے ملے بغیر پشاور چلے جانے پر سخت ناراض تھی۔اس کا خط ملا تھا جس میں اس نے معذرت کی تھی۔ساتھ ہی اس کے ایک باکس تھا جس میں انتہائی خوبصورت بریسلٹ تھا۔

ساری ناراضگی ایک طرف رکھے اس نے وہ بریسلٹ اپنی کلائی میں پہن لیا تھا۔یزدان کا دو تین بار فون آچکا تھا مگر وہ اٹھا ہی نہیں رہی تھی۔

زمل کے لیے ناشتہ بناتی وہ روم میں لے کر گئی تھی۔جہاں ملازمہ زمل کے بال بنا رہی تھی۔کافی دنوں کے برعکس آج وہ کھلی ہوئی لگ رہی تھی۔

اسلام علیکم بجو! کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ ؟؟اس نے ناشتہ زمل کے سامنے رکھتے پوچھا۔

الحمد اللہ۔۔تم سناؤ ؟ زمل نے زرش کے اپنے قریب بیٹھنے پر محبت سے اس کا ماتھا چوما تھا۔اس کے پیار پر زرش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔

میں بھی ٹھیک ہوں۔۔یزدان کچھ دنوں کے لیے پشاور گئے ہیں اب میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔۔زرش نے اپنا حال بتاتے اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

اس کی ضرورت نہیں اب میں کافی بہتر محسوس کر رہی ہوں۔۔زمل کے بتانے پر وہ مسکرائی تھی۔

خیریت آج بڑی گلابی اور نکھری سی لگ رہی ہو۔۔۔اس کے مسلسل مسکرانے پر زمل نے اس سے پوچھا۔

زرش نے شرماتے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا۔اسے دیکھتے زمل نے اس کی ابدی خوشیوں کی دعا کی تھی۔

کچھ دیر بعد اس نے زرش کو کمرے سے بھیج دیا تھا۔سائیڈ پر پڑا فون اٹھاتے اس نے ملازمہ سے خان کے بارے میں پوچھا تھا۔جس نے اسے خان کے باہر کسی کام پر جانے کا بتایا تھا۔

خان کی غیر موجودگی کا سنتی وہ منہ بناتی سونے کے لیے لیٹ گئی تھی۔

**************

ہاتھ میں کٹر پکڑے سامنے بیٹھے شخص کی خان نے انگلیاں کاٹی تھیں۔۔درد سے چیختے بلکتے وہ اپنے ہاتھ سے نکلتا خون دیکھ کر تڑپ رہا تھا۔

مجھے دھوکہ دے کر اچھا نہیں کیا تم نے۔۔خان نے محسن نامی اپنے گارڈ سے کہا تھا۔جو خان کی غیر موجودگی کی خبر شیر خان کو پہنچاتا تھا۔

مجھے معاف کردو خان۔۔وہ تڑپتا ہوا بوا۔خان کے پیچھے کھڑے عبدالمنان نے یہ منظر دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کی تھیں۔

تمھاری وجہ سے میری خانم کو شیر خان نے مارا اور گھر کو بھی جلا دیا۔۔کٹر اس کی کلائی پر پھیرتے خان سپاٹ لہجے میں بولا۔۔

اس کی منتوں پر خان نے اپنے کان بند کرلیے تھے۔اس کی وجہ سے ایک مظلوم شیر خان کے عتاب کا نشانہ بنتی رہی تھی۔

اس کو کافی دیر ٹارچر کرنے کے بعد خان ٹارچر روم سے باہر نکلا تھا۔باہر کھڑے گارڈ سے ٹاول پکڑتے اس نے خون سے بھرے اپنے ہاتھ صاف کرتے عبدالمنان کی طرف دیکھا۔جو زرد چہرہ لیے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔

اس کی کانپتی ٹانگیں دیکھ کر خان طنزیہ مسکرایا۔۔اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے خان نے اسے اپنے سامنے کیا تھا۔

مجھے سے غداری کرنے کا سوچنا بھی مت ورنہ جو اس گارڈ کے ساتھ کیا ہے اس سے بھی برا حال تمھارا کروں گا۔۔عبدالمنان کو دھمکاتے خان مڑا تھا۔

میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔۔اس کا جواب سنتا خان لمبت لمبے ڈھگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔

عبیر ملک کی کچھ خبر کہاں ہے آج کل ؟ خان اپنے آفس میں موجود واشروم سے فریش ہوکر نکلا تھا۔ارمغان کو دیکھتے اس نے پوچھا۔

سر آج کل وہ کوئی کام نہیں لے رہا۔۔اس وجہ سے اس کی کوئی خبر نہیں ہے وہ کہاں ہے۔۔ارمغان کے بتانے پر خان کرسی پر بیٹھا تھا۔

اپنا لیپ ٹاپ کھولتے اس نے ڈیٹا بیس سے عبیر ملک کا نمبر نکالا تھا۔اپنے پرائیوٹ نمبر سے کال ملاتے اس نے ارمغان کو جانے کا اشارہ کیا تھا۔

نمبر بند جانے پر خان نے غصے سے فون بند کرکے اپنا ماتھا مسلا تھا۔اگلے ہفتے اس نے کام کے سسلسلے میں روس جانا تھا۔تب تک یزدان نے بھی پشاور سے واپس آجانا تھا۔

*****************

یہ ایک بڑے سے حال کا منظر تھا جہاں ایک طرف بیٹھے شیر خان کے ساتھ یزدان بھی بیٹھا ہوا تھا۔

موسیقی کی دھن پورے حال میں گونج رہی تھی شیر خان نے بہت سے لوگوں کو محفل میں مدعو کیا ہوا تھا۔

یزدان بےزار سا بیٹھا ہوا تھا۔زرش اس کا فون نہیں اٹھا رہی تھی۔

شیر خان سے ایکسکیوز کرتا وہ ایک سائیڈ پر گیا تھا۔اس نے دوبارہ زرش کو کال ملائی تھی۔پہلی بیل پر اس بار کال اٹھا لی گئی تھی۔

اسلام علیکم! اس کی آواز سنتے یزدان کے ہونٹ پھیلے تھے۔

وعلیکم اسلام زما زڑگیہ ( میرے دل )۔۔یزدان کے بولنے پر دوسری طرف بیٹھی وہ بھی مسکرا اٹھی تھی۔

میرا خط اور گفٹ ملا ؟ یزدان نے پوچھا۔

جی اور پہن بھی لیا ہے۔۔اتنی کیا جلدی تھی جانے کی مجھ سے ملے بھی نہیں۔۔بیڈ پر لیٹتے زرش نے منہ پھولاتے پوچھا۔۔

تم تھکی ہوئی تھی اور میرا تمھیں جگانے کو بھی دل نہیں کر رہا تھا۔میں جلدی کام نبٹا کر واپس آجاؤں گا۔۔موسیقی کی آواز بلند ہوتی محسوس کرتا یزدان وہاں سے آگے بڑھ گیا تھا۔

آپ اس وقت کہاں ہیں ؟ یزدان کے پیچھے سے گانوں کی آواز سنتے زرش کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔

کام سے باہر نکلا ہوا ہوں۔۔میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔ایک لڑکی کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس کرتے یزدان نے فورا فون بند کیا تھا۔اپنے کندھے پر رکھا ہاتھ جھٹکتے اس نے لڑکی کو ناگوار نظروں سے دیکھا۔

وہ جلد سے جلد یہاں سے نکلنا چاہتا تھا شیر خان سے ملتا وہ بالآخر بیس منٹ بعد وہاں سے نکل ہی گیا تھا۔

**************

زرتاشہ اب کافی حد تک صحت یاب ہوچکی تھی۔اس نے یونیورسٹی جانا بھی سٹارٹ کر دیا تھا۔۔کالی شلوار قمیض پہنے ساتھ کالی چادر اوڑھے وہ معمول کے مطابق ماہم کو اگنور کرتی آخر پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔

ماہم نے اداس نظروں سے زرتاشہ کو دیکھا۔جو صاف اسے اگنور کرتی رجسٹر نکال کر لیکچر نوٹ کرنے لگ پڑی تھی۔وہ دو دنوں سے زرتاشہ سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔مگر زرتاشہ اسے دیکھ کر ہر جگہ اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔

جذباتی ماہم نے زرتاشہ کا اگنور کرنا گھر جاکر زمان کو بتایا تھا۔وہ ہر بات زمان سے شئیر کرتی تھی۔یہ بات بھی اس نے زمان کو بتا دی تھی۔

زمان اب اسے کیا کہتا۔اسی کی وجہ سے زرتاشہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی۔۔

اداس مت ہو اٹھو اس کے گھر چلتے ہیں تم سکون سے مل کر بات کر لینا۔۔زمان کے کہنے پر وہ ہلکا سا مسکراتی اس کے ساتھ چل پڑی تھی۔

زرتاشہ کے گھر پہنچ کر ماہم نے بیل دی کسی ملازمہ نے دروازہ کھولا تھا ماہم اپنا اور زمان کا تعارف کرواتی ملازمہ کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھی۔

بی بی جی آپ سے ملنے آپ کی کوئی دوست آئی ہے۔ملازمہ نے زرتاشہ کو بتایا۔

کون ہے ؟ اس نے نام نہیں بتایا ؟ وہ دعا مانگتی اٹھی تھی مہناز بیگم گھر میں نہیں تھی۔اور انجان لوگوں سے وہ کم ہی ملتی جلتی تھی۔

ملازمہ کے ماہم کا نام بتانے پر زرتاشہ گہرا سانس خارج کرتی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔ماہم س کی واحد دوست تھی اس سے بے رخی برتنا اس کے لیے بھی آسان نہیں تھا۔سفید دوپٹے سے کیے گئے حجاب میں زرتاشہ کا چہرہ چمک رہا تھا۔

روم میں داخل ہوتے اس کی سب سے پہلی نظر زمان پر پڑی تھی جو تیزی سے موبائل پر کچھ ٹائپ کر ریا تھا۔اچانک ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوچکی تھی۔

ماہم اسے دیکھتے تیزی سے گلے ملی تھی۔ماہم کو دیکھتی وہ مبہم سا مسکرائی۔۔لیکن زمان کی نظریں محسوس کرکے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔

تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو ؟؟ ماہم کے ساتھ بیٹھتے ہی ماہم نے سوال کیا تھا۔

میری طبیعت بےزار سی تھی میرا ان دونوں کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کر رہا۔۔تمھارا دل دکھانے کا میرا ارادہ نہیں تھا۔وہ زمان کی نظریں خود پر محسوس کرتی پہلو بدل کر ماہم سے نرم لہجے میں بولی۔

اچھا جانے دو اب تم ٹھیک ہو نہ ؟؟ اس سنڈے کو ہم فارم ہاؤس چل رہے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ چلو میں تمھیں معاف کردوں گی۔۔ماہم زمان کو دیکھتی اس کی رضامندی دینے پر زرتاشہ سے بولنے لگی۔۔

ن۔۔نہیں۔۔میں گھر سے باہر نہیں جاتی مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے مورے بھی نہ مانیں گی۔۔زرتاشہ اپنی انگلیوں سے کھیلتے دھیمی آواز میں بولی۔ملازمہ کے لوازمات لانے ہر زرتاشہ نے کانپتے ہاتھوں سے پہلے زمان اور پھر ماہم کو سرو کیا تھا۔

تم باہر جاؤ گی پھر ہی تمھاری گھبراہٹ کم ہوگی آنٹی سے میں خود بات کرلوں گی۔۔ماہم کے زیادہ فورس کرنے پر وہ مارے باندھے مان ہی گئی تھی۔مگر اس کا کہیں جانے کا دل نہیں تھا۔

دو گھنٹے ماہم اس کے ساتھ بیٹھی باتیں کرتی رہی تھی۔زمان اس دوران وہاں سے چلا گیا تھا۔مہناز بیگم کے آنے پر ماہم ان سے زرتاشہ کو اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت بھی لے چکی تھی۔زرتاشہ سے مل کر وہ واپس چلی گئی تھی۔

زرتاشہ کا نازک سا دل سارا دن فارم ہاؤس پر زمان کے سامنے گزارنے کا سوچ کر ابھی سے کانپنے لگا تھا۔

*****************

آپ آج کیوں آئے ہیں ؟ خان کو رات کو اپنے کمرے میں آتے دیکھ کر زمل نے پوچھا پچھلے دو دنوں سے زرش ہی اس کے ساتھ رات کو رک رہی تھی۔

اب اپنی بیوی کے پاس آنے کے لیے بھی پوچھنا پڑے گا۔خان صوفے پر بیٹھتا اپنے بازو کے کف موڑتے ہوئے بولا۔وہ اسے یہ نہ بتا سکا کہ اس کی موجودگی سے خان کو سکون محسوس ہوتا ہے۔اس کے چہرے سے ہی دکھائی دے رہا تھا وہ کتنا تھکا ہوا تھا۔

خان میں آپ سے کچھ پوچھوں ؟ زمل نے منتظر نگاہوں سے خان کو دیکھا۔

جو بھی پوچھنا ہے جلدی پوچھو ۔۔خان نے صوفے سے سرٹکاتے کہا۔

آپ میری شادی والے دن گھر کیوں آئے تھے ؟ زمل کے پوچھنے پر خان نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔

مجھے تم سے محبت ہوگئی تھی۔تمھارے بغیر میرا دل بےچین سا رہتا تھا۔میری پیاسی نگاہیں بس تمھاری ہی منتظر رہتی تھیں۔۔

زمل حیرت سے منہ کھولے خان کو دیکھ رہی تھی۔جو اچانک ہنسنے لگی تھی۔

اگر تم سوچ رہی ہو میں یہ کہوں گا تو بہت غلط سوچ رہی ہو خانم تمھاری بہن نے یزدان سے مدد مانگی تھی۔یزدان اس دوران زخمی تھا اس لیے میں اس کی جگہ آگیا تھا۔۔تمھاری بہن کا پلان تمھیں وہاں سے غائب کروانے کا تھا۔لیکن عین وقت پر ہنگامہ ہوجانے کی وجہ سے مجھے تم سے نکاح کرنا پڑا۔۔سیدھا ہوتا وہ زمل کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔

زمل یہ سب سننے کے لیے تیار نہیں تھی۔پھپھو کی اذیت بھری باتیں اس کے کانوں میں ابھی تک گونج رہی تھیں۔زرش کی اس حرکت پر وہ بالکل خوش نہیں تھی۔اس کے پاک دامن پر لوگوں نے زرش کی وجہ سے کیچڑ اچھالا تھا۔زرش سے بات کرنے کا سوچتے اس نے دوبارہ خان کی طرف دیکھا۔

آپ ی۔۔یہ کیا کر رہے ہیں؟ خان کو کھڑے ہوکر شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھ کر زمل نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔

اسے دیکھتے خان نے دوسری طرف رخ پھیرتے شرٹ کے اندر موجود چاقو نکال کر ٹیبل پر پھینکا تھا۔خود وہ خاموشی سے واشروم میں چلا گیا تھا۔

خان کے واشروم جانے پر وہ احتیاط سے لیٹتی سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

کچھ دیر بعد بیڈ پر اپنے ساتھ والے جگہ پر خان کو لیٹتے محسوس کرکے اس کی پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔

خان۔۔اس نے اندھیرے میں پکارا۔۔

شش۔۔چپ کرکے سوجاؤ۔۔دیوار کی طرف رخ پھیرتے خان نیند سے بھری آواز میں بولا تھا۔زمل خاموش ہوتی کنارے پر ٹک کر سوگئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *