My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 27)
Rate this Novel
My Girl (Episode 27)
My Girl by Zanoor
مورے آج ماہم گھر میں اکیلی ہے کیا میں اس کے گھر رات کو رک سکتی ہوں۔۔
قاسم خان کے بلانے پر پشاور گیا تھا۔ اسی موقعے کا فائدہ اٹھاتے زرتاشہ نے مہناز بیگم سے پوچھا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا۔۔مہناز بیگم نے ایک گہرا سانس بھرتے زرتاشہ کے کھلے چہرے کو دیکھتے اجازت دی تھی۔اسے ہر گزرتے دن کے ساتھ خوش ہوتے دیکھ کر مہناز بیگم بھی بہت خوش تھی آخر کار ان کی بیٹی کو بھی خوشیاں نصیب ہوئی تھیں۔۔
تھینک یو سو مچ مورے۔۔۔زرتاشہ نے خوشی سے انھیں گلے سے لگایا تھا۔۔مہناز بیگم نے محبت سے اس کے سر پر بوسہ دیا تھا۔۔
میں فریش ہوجاوں۔۔آپ ڈرائیور انکل کو کہیں مجھے چھوڑ آئیں۔۔زرتاشہ بولتی تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے میں گئی تھی۔۔اپنی مطلوبہ چیزیں ایک چھوٹے سے بیگ میں رکھتی وہ ماہم کے گھر چلی گئی تھی۔۔
ان کے گھر داخل ہوتے ہی ماہم کا سامنا زمان سے ہوا تھا۔۔ماہم اپنی مما کے ساتھ کسی قریبی رشتے دار کے گھر گئی تھی ان لوگوں نے دو دن سے پہلے واپس نہیں آنا تھا۔۔زمان نے منتیں کرکے زرتاشہ کو یہاں آنے کے لیے منایا تھا۔
زرتاشہ کو مہناز بیگم سے جھوٹ بولنے پر دکھ ہوا تھا لیکن زمان کے آگے مجبور ہوتے ہوئے اس نے ایسا کیا تھا۔
تم فریش ہوجاو پھر ہم باہر لنچ کریں گے۔۔زرتاشہ کا ہاتھ پکڑتے زمان اسے اپنے روم میں لے کر آیا تھا۔اس کا ماتھا چومتے زمان نے محبت سے ہلکی سی مسکان کے ساتھ کہا تھا۔
زرتاشہ سر ہلاتی اپنے ساتھ لائے بیگ میں سے شفون کا پرپل رنگ کی ٹراوزر شرٹ نکالتی فریش ہونے چلی گئی تھی۔
زرتاشہ کا ویٹ کرتا زمان بیڈ پر لیٹ کر اپنا موبائل استعمال کرنے لگا تھا۔
کچھ دیر بعد نکھری نکھری سی زرتاشہ گیلے بالوں کو تولیے میں لپیٹے باہر نکلی تھی۔۔اپنا موبائل سائیڈ پر رکھتا زمان اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔
ّوہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا زرتاشہ کے پاس گیا تھا اس کی گردن پر چپکے گیلے بالوں کو جھٹکتا وہ اس کی کمر کے گرد ہاتھ باندھتا اس کی گردن پر اپنی ٹھوڑی ٹکا چکا تھا۔
زرتاشہ اس کے عمل پر گھبرا گئی تھی وہ اپنا آپ زمان کو سونپنا چاہتی تھی لیکن ناجانے کیوں اس کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا۔ یا شاید سب سے چھپ کر یہاں آنے پر وہ ایسا محسوس کر رہی تھی۔
زمان کے ہونٹ اپنے دائیں گال پر محسوس کرتی وہ کپکپا گئی تھی۔
کیا سوچ رہی ہو؟ زمان نے سرگوشی میں پوچھا۔
کچھ نہیں۔۔بس ڈر لگ رہا ہے مورے سے جھوٹ بول کر آئی ہوں تو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔وہ نظریں جھکائے دھیمی آواز میں بولی تھی۔
ایک دن کی تو بات ہے کل تم نے گھر چلے ہی جانا ہے۔۔اب ان سب باتوں کو چھوڑ کر مجھ پر دھیان دو۔۔زمان اس کے گیلے بالوں کی مہک خود میں اتارتا بہکے انداز میں بولا تھا۔
زمان مجھے بال تو بنانے دیں۔۔۔
ششش۔۔ایک لفظ نہیں ۔۔تم صرف میری سانسوں کو سنوں گی۔۔وہ اس کے ماتھے کو شدت سے چومتا ہوا گویا ہوا۔۔
ٰزرتاشہ اس کے شدت بھرے لمس کو محسوس کرتی اپنی آنکھیں میچ گئی تھی۔وہ زمان کو مکمل طور پر اپنا آپ سونپ چکی تھی۔
زمان نے اس کے چہرے پر جابجا محبت بھرا لمس چھوڑا تھا۔اس کی سانسوں کو خود میں قید کرتے اس کی بھیگی زلفوں کو اپنی انگلیوں میں الجھاتے اس نے اس کا چہرہ مزید اونچا کرتے اس کے لبوں کو مکمل طور پر اپنی دسترس میں لے لیا تھا۔
زرتاشہ سرخ پڑتی اس کے کندھے کو سختی سے دبوچ گئی تھی اسے اپنی ٹانگوں میں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔زمان کے سانسوں کو آزاد کرنے ہر وہ سرخ گلال ہوتی گہرے سانس لیتی اپنا سانس بحال کرنے لگی تھی۔
زمان کی بڑھتی شرارتوں اور شدتوں سے وہ کانپتی اور ہانپتی ہوئی اس کی گردن میں منہ چھپا گئی تھی۔جبکہ زمان قطرہ قطرہ اس کے وجود میں گم ہونے لگا تھا۔
بڑھتی رات ان دونوں کی محبت کے افسانے لکھنے لگی تھی جو ایک لمبی جدائی کے بعد ملے تھے۔۔
****************
خان۔۔۔کہاں جارہے ہیں آپ ؟۔۔ مندی مندی آنکھیں کھول کر وہ خان کو کلائی پر گھڑی پہنتے دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔رات والے واقعے سے وہ ابھی تک سہمی ہوئی تھی۔اسے پتا چل گیا تھا وہ یہاں ایک پل بھی خان کے بغیر محفوظ نہیں ہے۔۔۔۔
میں فلحال یہی ہوں خانم تم اٹھ کر فریش ہوجاو پھر باہر کہیں گھومنے چلتے ہیں قاسم آنے والا ہے پھر اس کے ساتھ تمھیں میں بہاولپور بھیج دوں گا۔۔۔۔خان اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتا زمل کے پاس آیا تھا نرمی سے بال اس کے کندھے سے ہٹاتا وہ اس کی گردن پر گرم چائے گرنے کی وجہ سے ہوئی سرخ جلد کو دیکھنے لگا تھا جس کی لالی قدرے کم ہوگئی تھی۔
میں آپ کے بغیر نہیں جانا چاہتی خان۔۔۔زمل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے اٹل لہجے میں کہا۔۔
اس بات پر کوئی بحث نہیں ہوگی خانم۔۔۔۔تم یہاں محفوظ نہیں ہوں اور ابھی مجھے یہاں بہت سے کام نبٹانے ہے۔۔۔میں تمھاری حفاظت نہیں کرپاوں گا بہتر یہ ہی ہے کہ تم چلی جاو میں بھی ایک ہفتے تک کام نبٹا کر آجاو گا مورے سے ملے ہوئے بھی کافی عرصہ ہو گیا ہے اور زرتاشہ سے بھی مجھے ملنا ہے۔۔۔اس لیے میں جلد سے جلد آنے کی کوشش کروں گا۔۔۔خان زمل کی پیشانی پر ابھرتی لکیروں کو اپنے ہاتھ سے سیدھا کرتا بولا تھا وہ فلحال کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔
لیکن خان۔۔۔۔زمل نے اعتراض کرنا چاہا تھا جب خان نے اس کے نرم ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر خاموش کروا دیا تھا۔
ششش۔۔۔میں کچھ نہیں سننا چاہتا۔۔جیسا میں چاہتا ہوں تم ویسا ہی کرو گی خانم ورنہ تمھیں بچاتے بچاتے میں یہاں خون کی ندیاں بہا دوں گا۔۔۔اس کا انداز بے حد سرد تھا۔۔زمل نے بے ساختہ جھر جھری لی تھی۔۔
تم فریش ہوجاو پھر ہمیں نکلنا ہے۔۔۔وہ زمل کی گال کو انگلیوں سے سہلاتا ہوا بولا تھا۔۔
زمل خاموشی سے اٹھتی فریش ہونے چلی گئی تھی۔۔خان اپنا موبائل لیتا روم سے باہر نکلا تھا۔۔ارمغان کا نمبر ملاتا وہ لاونچ میں موجود صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
خان عبیر ملک سے کنٹیکٹ ہو گیا ہے۔۔۔ارمغان نے کال اٹھاتے ہی اسے نیوز دی تھی۔۔
تم نے بات کی اس سے کیا وہ ہمارا ساتھ دینے کے لیے راضی ہے؟ خان نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے آنکھیں موندتے پوچھا تھا۔۔
وہ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے خان۔۔۔
مجھے اس کا نمبر سینڈ کر دو میں فری ہوکر بات کرتا ہوں اور ہاں کچھ آدمیوں کا انتظام کرواو جو اسفند اور شیر خان پر نظر رکھیں۔۔۔
جیسا آپ کہیں سر۔۔۔ارمغان نے مودب انداز میں جواب دیا تھا۔۔فون بند کرتے خان نے اپنی پیشانی مسلی تھی۔۔وہ زمل کو بہاولپور بھجوانے سے پہلے اس کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتا تھا یہی وجہ تھی اس نے اپنے اور زمل کے لیے ایک چھوٹا سا ٹور پلان کیا تھا تب تک قاسم نے بھی بہاولپور سے آجانا تھا۔۔
وہ زمل کا تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد بے صبر ہوتا روم میں واپس گیا تھا جہاں اسے بلیک ابائے میں حجاب کیے نقاب سیٹ کرتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں فخریہ چمک آئی تھی۔۔
ناجانے اس نے ایسا کونسا اچھا عمل کیا تھا جو خدا نے اتنی نیک اور پاکیزہ بیوی اس جیسے شخص کے حصے میں لکھ دی تھی جو قتل کرنے سے پہلے سوچتا بھی نہ تھا۔۔
خان کو دیکھتے زمل نے اسے میٹھی سی مسکراہٹ پاس کی تھی۔۔خان نے بھی کالی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جو اس کے گورے رنگ پر بے حد جچ رہی تھی۔۔
خان ایک ہی جست میں زمل کے پاس پہنچا تھا اس کے ہاتھ سے نقاب پکڑتے ڈریسنگ پر رکھتے خان نے اس کی ٹھوڑی پکڑتے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔
خان کیا کر رہے ہیں۔۔۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے خان کو دیکھا۔۔
ایک بار مجھے میرے مکمل نام سے پکارو۔۔۔ وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا عجیب خواہش ظاہر کر گیا تھا۔۔ناجانے آج کیوں اس کا دل اپنا نام زمل کے منہ سے سننے کو کر رہا تھا۔۔زمل نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔اسے خان کا مکمل نام کا نہیں پتا تھا۔۔
زرخان نام ہے میرا۔۔۔وہ زمل کی سوالیہ نگاہیں دیکھ کر بولا۔۔
زرخان۔۔۔وہ اپنی شیریں آواز میں بولتی خان کی دھڑکنوں میں ارتعاش برپا کر گئی تھی۔۔۔
زمل زرخان۔۔۔وہ خان کی آنکھوں میں دیکھتی سرشار سی بولی تھی۔۔خان نے بے ساختہ جھکتے اس کی پیشانی پر اپنے تشنہ لب رکھے تھے۔۔۔زمل نے آنکھیں بند کرتے اس کی لمس کو خود پر محسوس کرتے گہرا سانس خارج کیا تھا۔۔
خان خود پر قابو پاتا زمل سے دور ہٹا تھا نقاب اٹھا کر اس نے زمل کو پکڑایا تھا جو گلابی چہرے کے ساتھ تیزی سے نقاب سیٹ کرنے لگی تھی۔۔اس کے بعد خان اسے اپنے ساتھ لیتا سفر پر روانہ ہو گیا تھا۔۔
ہم کہاں جارہے ہیں آپ نے بتایا نہیں زرخان اور کتنی دیر لگے گی مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔زمل نے خان کی طرف رخ کرتے پوچھا تھا انھیں سفر کرتے تقریبا ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔
بیک سیٹ پر بیگ پڑا ہے اس میں کھانے کا سامان ہے نکال لو خانم اور ہمیں ابھی مزید تین گھنٹے لگ جائیں گے۔۔۔خان نے اس کا پہلا سوال اگنور کرکے باقی دو کا جواب دیا تھا۔۔۔
آپ بہت تیز ہیں جان بوجھ کر نہیں بتارہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔زمل نے بیک سیٹ سے بیگ اٹھا کر کھولا تھا جس میں مختلف سنیکس تھے۔۔بیک سیٹ پر اور بھی بہت سی چیزیں پڑی تھی جن پر زمل نے پہلے غور نہیں کیا تھا۔۔
****************
اسے نہیں پتا کتنا وقت گزر گیا تھا لیکن مزید چار گھنٹے بعد رک کر انھوں نے سوات سے لنچ کیا تھا۔۔زمل وہاں کی خوبصورتی دیکھتی مسمرائز تھی وہ کبھی ان جگہوں پر نہیں آئی تھی وہاں کی خوبصورتی دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ایک خوشگوار مسکراہٹ تھی اس کو خوش دیکھ کر خان بھی مطمئن تھا۔۔
تم کچھ دیر سو جاو ہمیں ابھی کافی دیر لگے گی۔۔۔خان نے زمل سے کہا تھا۔۔
نہیں مجھے یہ خوبصورت مناظر دیکھنے ہیں ۔۔۔وہ بضد ہوئی تھی۔۔خان خاموش ہو گیا تھا۔۔گاڑی کی خاموشی کو ختم کرنے کے لیے خان نے ریڈیو چلا دیا تھا۔۔۔زمل ایک گھنٹے بعد ہی سو گئی تھی۔۔خان نے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔۔
زمل۔۔۔زمل اٹھ جاو ہم پہنچ گئے ہیں۔۔خان نے زمل کے کندھے کو ہلا کر اسے اٹھایا تھا آسمان پر کالے سائے چھا چکے تھے جبکہ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔۔۔
زمل نے آنکھیں کھولتے خان کو دیکھا تھا جو اپنی سیٹ بیلٹ کھولتا کار سے باہر نکل گیا تھا۔۔زمل اپنا نقاب صحیح کرتی باہر نکلی تھی۔۔ٹھنڈی ہوا اس کی جسم دے ٹکراتی کپکپی طاری کر گئی تھی۔۔
خان نے بیک سیٹ سے بلیک کوٹ نکال کر اس کے کندھوں پر ڈالا تھا۔۔زمل نے تشکرانہ نگاہوں سے خان کو دیکھا تھا۔۔
رات کی خاموشی میں زمل کے پیٹ سے آتی آواز نے ارتعاش پیدا کیا تھا۔۔اسے بھوک لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے پیٹ سے آوازیں آرہی تھی۔۔زمل شرمندہ سی ہوگئی تھی جبکہ خان نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے اپنا رخ سیدھا کیا تھا۔۔
ہم کہاں ہیں ؟ زمل نے شرمندگی کم کرنے کے لیے پوچھا تھا۔۔
تمھاری بھوک کا علاج کرنے۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتا اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلا کر چلنے لگا تھا کچھ فاصلے پر لائٹس تھی جہاں اوپن ایریا میں ڈنر کا انتظام سپیشل خان نے کروایا تھا۔۔۔
زمل نے چمکتی آنکھوں اور خوشگوار مسکراہٹ سے سامنے دیکھا تھا جہاں خوبصورت انداز میں ان کے ڈنر کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔
خان نے اسے کرسی پر بیٹھاہا تھا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔۔وہاں کے علاقائی کھانے ان کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔۔
خانم بے فکر ہو کر کھاو یہاں اب کوئی نہیں آئے گا۔۔۔خان کے بولنے پر زمل نے مسکاتے ہوئے اپنا نقاب اتار لیا تھا۔۔ٹھنڈی ہوا سے اس کے گال لال پڑگئے تھے۔۔
ہلکی پھلکی بات چیت کرتے ہوئے ان لوگوں نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا تھا۔۔
خان کھانے کے بعد اسے دائیں طرف لے گیا تھا جہاں ایک بڑا سا کیمپ لگایا گیا تھا۔۔صاف آسمان حد سے زیادہ تارے چمکتے دکھائی دے رہے تھے ارد گرد سبزہ اور پہاڑوں سے گھیری کمراٹ ویلی میں وہ لوگ موجود تھے۔۔۔
خان کے ساتھ کیمپ میں بیٹھتی وہ اس کے کندھے سے سر ٹکاتی کیمپ سے باہر کھلے آسمان کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔خان ان لمحوں کو اپنی یاد گار میں اچھے سے محفوظ کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ شاید آنے والا کل اسے مہلت نہ دے سکے۔۔۔
زمل کی پیشانی کو چومتے خان نے اس کے گرد نرمی سے اپنا حصار باندھا تھا۔۔۔
وہ دونوں ایک خوشگوار رات وہاں گزار کر صبح کے اجالے کو دیکھتے وہاں سے نکل آئے تھے لگاتار سارا دن سفر میں گزار کر وہ واپس پشاور کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔۔تقریبا سارا دن ان کا سفر میں گزرا تھا رات کو گھر پہنچتے قاسم ان کا منتظر تھا۔۔
خان مجھ سے وعدہ کریں اپنا خیال رکھیں گے۔۔۔زمل نے گھر آتے ہی اپنا سامان گاڑی میں شفٹ ہوتے دیکھ کر اداس لہجے میں کہا تھا۔
مجھ پر یقین رکھو میں ایک ہفتے تک آجاو گا تب تک تم مورے اور زرتاشہ کے ساتھ وقت گزارنا۔۔۔خان نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا وہ سب سے چھپا کر زمل کو خاموشی سے روانہ کر رہا تھا اس کا بالکل دل نہیں تھا زمل کو خود سے دور بھیجنے کا مگر حالات کا تقاضہ اور زمل کے لیے یہی بہتر تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے۔۔
کچھ سورتیں پڑھ کر خان پر پھونکتی زمل اداس سی قاسم کے ساتھ بہاولپور کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔۔
زمل کو بحفاظت گھر لے جانا۔۔۔اسے ایک خراش بھی آئی تو تمھیں اس سے سو گنا زیادہ تکلیف دوں گا۔۔قاسم کی کمر تھپتھپاتے خان نے اسے وارن کیا تھا۔۔قاسم تھوک نگلتا سر ہلا کر زمل کو لیتا چلا گیا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔
