My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 20)
Rate this Novel
My Girl (Episode 20)
My Girl by Zanoor
زرش نے آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد دیکھا تھا۔وہ کسی بوسیدہ سی عمارت کے اندر تھی۔ہر جگہ مٹی اور دھول کے ساتھ مکڑی کے جالے موجود تھے۔
کچھ دور سے اسے لوگوں کے قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔خود کو اکیلا اور بے بس پاکر خوف کی ایک لہر اس کے وجود میں سرایت کرگئی تھی۔
یزدان نے اسے گھر سے نکلنے سے منع کیا تھا۔اب اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔
اسے کرسی سے باندھا گیا تھا۔دونوں ہاتھ اس کے پیچھے کی جانب مضبوطی سے باندھے گئے تھے۔وہ کوشش کرنے کے باوجود بھی خود کو آزاد نہیں کرسکتی تھی۔
باتوں کی آوازیں اپنے قریب آتی محسوس کرکے زرش اپنی آنکھیں بند کرکے بےہوش ہونے کا ناٹک کرنے لگی تھی۔
یہ ابھی تک اٹھی نہیں۔۔
شیر خان نے یزدان کے آنے کے بعد اسے مارنے کا کہا تھا۔ابھی اسے بےہوش ہی رہنے دو۔
وہ دو آدمی آپس میں باتیں کررہے تھے۔زرش ان کی باتیں سن کر ڈر گئی تھی۔وہ اسے مارنے کا پلان بنا رہے تھے۔
زرش کسی بھی طرح سے یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔اپنے ارد گرد خاموشی محسوس کرکے اس نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔خوف و بےبسی سے شفاف موتی اس کی آنکھوں سے نکلتے بےمول ہونے لگے تھے۔
****************
خان میں مزید صبر نہیں کرسکتا۔دو دن ہوگئے ہیں زرش کو لاپتہ ہوئے۔یزدان بےبس سا بول رہا تھا۔
تم حوصلہ رکھو یزدان میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں۔خان لب بھینچ کر بولا۔وہ زرش کو کچھ نہیں ہونے دینا چاہتا تھا لیکن ابھی تک انھیں کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔
کب تک انتظار کرو خان ؟ اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔یزدان اونچی آواز میں بولتا غصے سے لمبے لمبے ڈھگ برتا نکل گیا تھا۔
تم نے بھی کچھ کہنا ہے تو بول دو۔اپنے پیچھے زمل کی موجودگی محسوس کرتا خان پیچھے مڑتا ہوا بولا۔زرش کے کیڈنیپ ہونے کے فورا بعد زمل کو گھر واپس بلا لیا گیا تھا۔
مجھے امید ہے آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے۔زمل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
اس کا دل اندر سے اپنی بہن کے لیے کانپ رہا تھا۔لیکن وہ خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔
خان نے اس کے یقین بھرے انداز پر کچھ نہ کہا۔وہ جب اسے شیر خان سے نہ بچا سکا۔پھر زرش کو کیسے بچا سکتا تھا۔
اپنا سر جھٹکتا وہ زمل کے قریب سے گزرتا اس کے کان کی طرف جھکا۔
تمھاری بہن کے محفوظ ہونے کی میں کوئی گارنٹی نہیں دوں گا۔خان کی بات نے اسے ڈرا دیا تھا۔وہ اس سے امید لگائے ںیٹھی تھی کہ شاید وہ ایک بار پھر زرش کو بچا لے گا۔ اس نے تو اس بار زمل کی ہمت ہی توڑ دی تھی۔
خان اسے ایک نظر دیکھتا باہر چلا گیا تھا۔زمل خود کو تسلی دیتی واپس کمرے میں لوٹ گئی تھی۔
*************
یزدان وئیر ہاؤس میں موجود تھا۔جہاں لوگوں کو وہ ٹارچر کرتے تھے۔کسی شخص کو ٹارچر کرنے کے بعد وہ اپنے ہاتھ صاف کرتا باہر نکلا تھا۔اپنا موبائل نکالتے اس کی سب سے پہلی نظر سکرین پر موجود اناؤن میسج پر پڑی تھی۔
میسج کھولتے ہی اس میں زرش کا پتا دیا گیا تھا۔وہ ایک پل کو حیران ہوا۔تیزی سے باہر کی جانب بڑھتے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔
مطلوبہ ایڈریس کی جانب روانہ ہوتے اس نے خان کو کال ملائی تھی۔
مجھے زرش کا پتا مل گیا ہے خان۔۔میں اسی طرف جا رہا ہوں۔میں تمھیں ایڈریس سینڈ کرتا ہوں۔۔تم بھی آجاؤ۔۔
تمھیں زرش کا پتا کہاں سے ملا ؟ خان نے حیرانی سے پوچھا۔
مجھے میسج ملا ہے۔۔خان میں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا۔اس کی آواز میں بےصبری تھی۔
یہ ٹریپ ہے یزدان تم میرا انتظار کرو۔۔اکیلے مت جاؤ۔۔یزدان کی بات سنتے خان نے سخت لہجے میں کہا۔مگر دوسری جانب بیٹھا دیوانہ اپنی بیوی سے ملنے کو بےتاب تھا۔تبھی خان کی بات اگنور کرتا بولا
خان اگر یہ ٹریپ بھی ہوا مجھے فرق نہیں پڑے گا۔۔یزدان بولتا مزید خان کی بات اگنور کرتے کال کٹ کر گیا تھا۔
خان اپنی گن رکھتا تیزی سی باہر کی جانب بڑھا تھا۔
خانم کا خیال رکھنا۔میری اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں داخل مت ہونے دینا۔خان اپنے آدمی کو ہدایت دینے لگا۔
کہاں جا رہے ہیں آپ ؟ زمل جو اپنے کمرے سے نکلتی کیچن کی جانب جارہی تھی۔خان کی اونچی آواز سنتی باہر آئی تھی۔
کیا زرش مل گئی ہے ؟ خان کے بولنے سے پہلے اس نے مزید پوچھا۔
کسی نے زرش کا ایڈریس یزدان کو سینڈ کیا ہے۔۔میں وہاں ہی جا رہا ہوں۔۔تم گھر سے باہر مت نکلنا۔۔خان سنجیدگی سے اس کی نقاب میں چھپی آنکھوں کو دیکھتا بولا
میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی۔۔زمل ایک دم سے بولی۔
وہاں تمھارا کوئی کام نہیں ہے۔۔چپ کرکے اندر واپس جاؤ۔۔خان کے سرد لہجے کو نظر انداز کرتی وہ خان کے پیچھے چلنے لگی۔
خان اسے اگنور کرتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔زمل بھی تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولتی اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
آپ جو مرضی کہیں میں آپ کے ساتھ ہی جاؤں گی۔۔زمل کے ضدی لہجے پر خان نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
گاڑی سٹارٹ کرتا وہ فل سپیڈ سے چلانے لگا تھا۔وہ جگہ تقریبا ایک گھنٹہ دور تھی۔راستے میں موسم خراب ہونے لگا تھا۔اچانک ہی بادل آسمان پر چھاتے تیز بارش برسانے لگے تھے۔
***************
اسے کھول دو اور باہر نکالو۔۔کرسی پر باندھی ہوئی زرش کی طرف دیکھتا ایک آدمی بولا۔
زرش کو پتا تھا وہ لوگ کیا کر رہے تھے۔وہ اسے مارنے والے تھے۔وہ ان کی ساری باتیں پہلے ہی سن چکی تھی۔
اپنی آنکھوں میں جمع ہوتے آنسو اس نے بڑی مشکل سے روکے ہوئے تھے۔۔
زرش کو ایک ہی جگہ کھڑے دیکھ کر ان میں سے ایک نے زرش کو دھکا دیا تھا۔
چلو بی بی۔۔۔زرش خود کو سنبھالتی ان کے پیچھے چلنی لگی۔تیز بارش کی آواز اسے صاف سنائی دے رہی تھی۔
اس سے پہلے ہم تمھیں مار دیں بھاگو۔۔۔وہ تقریبا دو لوگ تھے جن میں سے ایک نے اپنا فون دیکھتے دوسرے کو اشارہ کیا تھا جس نے زرش کے سر پر گن تان کر اسے بھاگنے کا کہا۔۔
زرش کانپتی ٹانگوں سے بارش میں اندھا دھند بھاگنا شروع ہوئی تھی۔ایک گاڑی تیزی سے اس کے سامنے رکی تھی۔
یزدان کو باہر نکلتا دیکھ کر وہ خوش ہوتی اس کی جانب بڑھنے لگی تھی جب اپنے پیٹ میں شدید تکلیف اٹھتی دیکھ کر اس نے نیچے کی جان دیکھا جہاں تیزی سے خون اس کے جسم سے نکل رہا تھا۔
یزدان جو خوش ہوتا اس کے قریب بڑھنے لگا تھا۔اس کے وجود کو نیچے گرتے دیکھ کر اس نے جلدی سے تھاما تھا۔
زہ ته سرہ مینہ کوم (I love You) زرش کے منہ سے الفاظ ٹوٹ پھوٹ کر ادا ہو رہے تھے۔
زما زڑگیہ۔۔۔اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر یزدان ساکت ہوا تھا۔
زرش کو آنکھیں بند کرتے دیکھ کر یزدان نے دیوانوں کی طرح اس کا چہرہ تھپتھپایا تھا۔
زرش۔۔زرش۔۔زرش کا بے جان سا وجود اس کو بھی صدمے میں مبتلا کر گیا تھا۔
تیز بارش میں زرش کا خون سے بھرا وجود تھامے یزدان ساکت بھی ساکت سا بیٹھا تھا۔
اس کی تھمی سانسیں ، ساکت سی دھڑکن نے یزدان کو پتھر کا بنا دیا تھا۔
زرش کے وجود سے نکلتا خون بارش کے پانی میں بہتا سب کچھ سرخ کر رہا تھا۔یزدان نے اسے کھو دیا تھا اپنی محبت کو ، اندھیرے سے روشنی میں لے جانے والی واحد انسان کو،اپنے دل کو۔۔۔
زرش کی بند آنکھیں اور پیلے چہرے کو دیکھتے اس کی آنکھ سے آنسو نکلتا بارش کے پانی میں کہیں گم سا ہو گیا تھا۔
ان کے قریب ایک گاڑی آکر رکی تھی۔ اس میں سے تیزی سے نکلتی زمل ان کی طرف آئی تھی۔
زرش۔۔۔زرش۔۔۔اس کے وجود سے نکلتے خون کو دیکھتے زمل نے روتے ہوئے اس کا ٹھنڈا سا چہرہ تھپتھپایا تھا۔
زرش اٹھو نہ۔۔۔روتے ہوئے اس کا چہرہ چومتے وہ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
ڈرائیونگ سیٹ سے نکلتا خان بھی اپنی جگہ ساکت ہوا تھا۔یزدان کے سپاٹ چہرے کو دیکھتے وہ اس کے اندر کا حال جاننے سے ناکام رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو وہ بخوبی دیکھ سکتا تھا۔زمل کی آہ و پکار نے خان کی توجہ اس کی طرف دلائی تھی جو اپنی واحد بہن کو کھو چکی تھی۔۔آسمان بھی آج ان کے ساتھ غم مناتا زور و شور سے برس رہا تھا۔۔
************
دو مہینے بعد :
خان خانم سکول سے ہاسٹل واپس پہنچ گئی ہیں۔۔اور خان آج ان سے ملنے کوئی لڑکا آیا تھا۔قاسم کی بات سنتا وہ جو بظاہر خود کو بےنیاز ظاہر کر رہا تھا۔ایک دم سیدھا ہوا۔
اس واقعے کے بعد زمل تقریبا ایک مہینہ ان کے ساتھ رہی تھی۔اس کے بعد واپس ہاسٹل شفٹ ہوگئی تھی۔خان اس کی پل پل کی خبر رکھ رہا تھا۔جو زرش کے ساتھ ہوا تھا وہ نہیں چاہتا تھا۔زمل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہو۔
قاسم کو ایک بار پھر اس نے اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا تھا۔وہ زمل کی نظروں میں آئے بنا اس کا خیال رکھتا تھا۔
وہ لڑکا کون تھا ؟ خان نے سرد آواز میں پوچھا۔
پتا نہیں خان وہ بس ایک کاغذ خانم کو پکڑاتا بھاگ گیا تھا۔خانم نے وہ کاغذ غصے سے پھینک دیا تھا۔قاسم نے تھوک نگلتے ہوئے بتایا۔
کاغذ میں کیا لکھا تھا قاسم ؟ سپاٹ انداز میں خان نے قاسم کو دیکھتے پوچھا۔
اس لڑکے کا نمبر تھا خان۔۔قاسم کی بات سن کر غصے سے اس کی رگیں تن گئی تھی۔
تم اس لڑکے کا پتا لگواؤ۔۔میں اب سے خود خانم کو لے آیا کروں گا۔۔زمل کو دو بجے چھٹی ملتی تھی۔ابھی ایک گھنٹہ پڑا تھا۔قاسم نے حیرت سے خان کو دیکھتے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
**************
آج زرتاشہ کی کلاسز نہیں تھی۔لیکن کچھ نوٹس لینے کے لیے وہ یونیورسٹی آئی تھی۔وہ اب واپس جارہی تھی۔جب راستے میں ان کی گاڑی خراب ہوگئی تھی۔
ڈرائیور کافی دیر سے گاڑی ٹھیک کر رہا تھا۔لیکن گاڑی ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
بی بی جی آپ گاڑی میں بیٹھی رہیں یہاں پاس ہی ایک میکینک کی دکان میں اس میں سے کسی کو بلا کر لاتی ہوں۔۔ڈرائیور زرتاشہ سے بولا تھا۔
ٹھیک ہے انکل جلدی واپس آجائے گا۔۔زرتاشہ گھبرا گئی تھی۔پھر خود کو سنبھالتی وہ دھیمی آواز میں بولی۔
گاڑی کا شیشے اوپر چڑھاتی وہ خاموشی سے بیٹھ گئی تھی۔بند گاڑی میں گرمی کی وجہ سے اسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔
پسینے سے اس کا سارا چہرہ بھیگ گیا تھا۔سڑک پر اس وقت کافی لوگ آ جارہے تھے۔وہ ہمت کرتی گاڑی سے نکل کر فٹ پاتھ پر کھڑی ہوگئی تھی۔
آجاؤ میڈم ہم چھوڑ آتے ہیں۔۔اس کے بالکل سامنے ایک بائیک آکر رکی تھی۔زرتاشہ جو اپنا سرخ چہرہ صاف کر رہی تھی۔اس کا دل نازک پتے کی طرح کانپنے لگا تھا۔کانفڈینس کی اس میں پہلے سے ہی کمی تھی۔ایسی باتیں سنتی وہ زرد سی پڑنے لگی تھی۔
اس نے اپنے ارد گرد دیکھا تھا۔جہاں اب اسے چند ایک گاڑیاں ہی گزرتی دکھائی دے رہی تھی۔اسے اچانک اپنا آپ ایک تپتے سحرا میں کھڑا محسوس ہونے لگا۔
وہ لڑکا بائیک سے اترتا مسکراتا ہوا زرتاشہ کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
اس کو اپنی جانب آتے دیکھ کر زرتاشہ ایک دم زور سے چیخی تھی۔
وہ لڑکا ارد گرد نظر ڈالتا ہنسنے لگا تھا۔دیدہ دلیری سے زرتاشہ کی جانب بڑھتے اس نے زرتاشہ کی چادر زور سے کھینچی تھی۔
زرتاشہ لڑکھڑا کر نیچے گری تھی۔اپنا بے حجاب وجود دیکھتے وہ گھٹڑی سی بن کر بیٹھ گئی تھی۔خوف و بےبسی سے آنسو اس کی آنکھوں سے نکلنے لگے تھے۔
اچانک اس لڑکے کی تکلیف دہ چیخی سن کر زرتاشہ نے اپنا بھیگا چہرہ گھٹنوں میں سے اٹھایا تھا۔زمان اس لڑکے کو مارتا زرتاشہ کی چادر لیتا اس کے وجود کے گرد پھیلا کر اسے کھڑا کرچکا تھا۔
زرتاشہ اس کے سینے سے لگتی شدت سے رونے لگی تھی۔زمان آج اتفاقا ہی اس راستے سے گزرا تھا۔جب کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے بدتمیزی کرتا دیکھ کر باہر نکلا تھا۔زرتاشہ کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔
یہاں اکیلے کیا کر رہی تھی ؟ زمان نے اسے اپنے سینے سے الگ کرتے سنجیدگی سے پوچھا۔
و۔۔وہ گاڑی خراب ہوگئی تھی۔۔م۔۔مجھے گ۔۔گرمی ل۔۔لگ رہی تھی۔۔و۔۔وہ۔۔
اچھا۔۔بس رونا بند کرو۔۔چلو میں تمھیں چھوڑ آتا ہوں۔۔اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے زمان نرم لہجے میں اسے ٹوکتا ہوا بولا۔۔
زرتاشہ بنا کوئی بحث کیے فورا مان گئی تھی۔یہاں اکیلا رہنے سے اسے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
زرتاشہ کو گاڑی میں بیٹھاتے اس نے آہستہ سے اس کے سر پر لب رکھے تھے۔اس کے ڈرائیور کو دیکھتے زمان زرتاشہ کو دو منٹ ویٹ کرتا خود اسے ساری بات بتاتا واپس آگیا تھا۔
زمان نے اسے باحفاظت گھر چھوڑ دیا تھا۔یہ پہلی بار تھا جو اس کے من میں زمان کے لیے اچھا احساس پیدا ہوا تھا۔
***************
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ زمل نے سکول کے باہر کھڑے خان کو مشکوک نظروں سے دیکھتے پوچھا۔۔وہ گاڑی سے ٹیک لگائے اس کے نقاب کے ہالے میں چھپے چہرے پر ہی نظریں ٹکائے کھڑا تھا۔
میں یہاں سے گزر رہا تھا۔سوچا تمھیں ہوسٹل چھوڑ دوں۔۔خان اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں میں خود چلی جاؤں گی۔۔زمل نے سنجیدگی سے کہا۔خان کے کوئی جواب نہ دینے پر وہ اپنے کندھے پر لٹکا بیگ ٹھیک کرتی ہوسٹل جانے والے راستوں کی طرف بڑھ گئی تھی۔
خان خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگا تھا۔زمل جن راستوں سے جاتی تھی زیادہ تر وہ سنسان ہی ہوتے تھے یا پھر وہاں آوارہ لڑکے یا نشئی پڑے ہوئے ہوتے تھے۔
تیری جھیل سی ان آنکھوں پر میں قربان جاؤں۔۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی چل رہی تھی جب پیچھے سے کسی لڑکے نے اس پر جملہ کسا۔زمل بنا کچھ بولے خاموشی سے تیز تیز چلنے لگی تھی جب گھٹی گھٹی چیخ کی آواز پر وہ ہلکے سے پیچھے مڑی۔خان کو اس لڑکے کو پیٹتے دیکھ کر اس کے قدم خود بخود ان کی جانب بڑھنے لگے تھے۔
خان اس لڑکے کا جملہ سنتا پاگل ہونے کو تھا۔اس کا خون کھول اٹھا تھا۔تبھی بنا کچھ سوچے سمجھے وہ اس کو دنوچتا مارنے لگا تھا۔
خان کیا کرہے ہیں چھوڑے اسے۔۔خان کو دھرا دھر اس لڑکے کے منہ پر مکے برساتے دیکھ کر وہ خشمگی نگاہوں سے خان کو دیکھتی تیز لہجے میں بولی۔۔
خان نے ایک گہرا سانس لیتے اپنے غصے کو قابو کرتے زمل کے کندھے کے گرد حصار پھیلا کر اپنی جیکٹ سے گن نکالی تھی۔
دوبارہ مجھے کوئی یہاں نظر آیا میں اس کی جان لے لوں گا۔۔ اگر میری بیوی پر غلط نظر ڈالی اس کی آنکھیں نکال دوں گا۔۔جس نے غلط جملہ بولا اس کی زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔۔یہ خان کا وعدہ ہے۔۔ گن کو دیکھتے وہاں موجود سب آوارہ لڑکے اور نشئی پل میں غائب ہوئے تھے۔
زمل نے گہری نگاہوں سے خان کی طرف دیکھا تھا۔ وہ اس کے لیے ایسا گھنا درخت ثابت ہو رہا تھا جو اسے دنیا کی ہر کڑی دھوپ سے بچا کر رکھتا تھا۔
جاری ہے۔۔
