My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 14)
Rate this Novel
My Girl (Episode 14)
My Girl by Zanoor
زرش آئیندہ کے بعد تمھاری خان سے بدتمیزی میں بالکل برداشت نہیں کروں گا۔۔اور جو ہوا وہ صرف حادثہ تھا خان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔زرش کو ایک سائیڈ پر لاتے یزدان نے سمجھایا۔
مجھے آپ لوگوں سے بات ہی نہیں کرنی بجو صرف اور صرف آپ دونوں کی وجہ سے اس حال میں پہنچی ہے۔۔
اچھا ہوتا آپ کبھی مجھے دوبارہ ملتے ہی نہ۔۔وہ دبا دبا چیخ رہی تھی۔
نہ جانے وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جو آپ جیسے لوگوں سے میرا واسطہ پڑا۔۔وہ غصے میں بول رہی تھی۔یزدان نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں۔
اب کیا چاہتی ہو تم ؟ یزدان نے سرخ ہوتی آنکھوں سے پوچھا۔
بجو کے صحت مند ہوتے ہی ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔وہ بنا یزدان کی طرف دیکھے بولی۔۔
علیحدگی چاہتی ہو ؟ یزدان نے لب سختی سے آپس میں پیوست کرتے پوچھا۔
کچھ پوچھ رہا ہوں میں جواب دو ؟ یزدان کے سختی سے بولنے پر وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
ہاں میں آپ جیسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جس کا یہ بھی علم نہیں وہ زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔۔زرش بےدردی سے بولتی پلٹ گئی تھی۔
یزدان نے زور سے آنکھیں بند کرکے کھولتے اپنا غصہ ٹھنڈا کیا تھا۔اس کا دل کر رہا تھا کسی کو مارنے کا اپنا غصہ نکالنے کا۔۔خود کو سنبھالتے وہ خان کے بارے میں سوچتا دوبارہ آئی سی یو کی طرف بڑھ گیا تھا۔
زرش خاموشی سے جاتی خان پر نگاہِ غلط ڈالے بغیر خاموشی سے بیٹھ کر قرآنی آیات پڑھنے لگی تھی۔
تم ٹھیک ہو ؟ یزدان خان کے پاس آیا تھا۔اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اس نے پوچھا۔
ہمم۔۔تم زمل کو شفٹ کرنے کا انتظام کرو۔۔۔اس کے ہوش آتے ہی ہم اسے شفٹ کر دیں گے۔۔تب تک ہوسپٹل کی سکیورٹی ڈبل کر دو اپنے بھروسے مند لوگوں کو صرف اس طرف آنے دینا۔۔میں اب کی بار کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔۔
مجھے شیر خان کے آنے کے ٹائم موجود تمام گارڈز اور لوگ دوسری جگہ کے بیسمنٹ میں شفٹ موجود چاہیے۔۔قاسم کو سپیشل روم میں شفٹ کرنا۔۔قاسم کو اس طرف آتے دیکھ کر خان سرد لہجے میں بولا۔
قاسم خان کی نظریں محسوس کرکے رک گیا تھا۔
خان اس کا قصور نہیں۔۔یزدان قاسم کو دیکھتا دھیمی آواز میں بولا زرش کی وجہ سے وہ لوگ آہستہ آواز میں بات کر رہے تھے۔
سر ایک اور خبر ملی ہے۔۔قاسم ڈرتا ڈرتا ان کے قریب گیا تھا۔
خان نے اسے سرد نظروں سے گھورا۔یزدان اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
سر گل کو پہلے بھی کئی بار آکر شیر خان تشدد کا شکار بنا چکا ہے۔۔قاسم کے بتانے پر تکلیف سے خان نے آنکھیں بند کی تھیں۔یزدان نے پریشانی سے خان کی طرف دیکھا تھا۔
ایک زور دار مکہ قاسم کے چہرے پر خان کی طرف سے پڑا تھا۔قاسم سیدھا زمین پر گرا تھا۔زرش نے آنکھیں پھیلا کر خان کو دیکھا تھا۔
سکیورٹی ڈبل کرواؤ یہاں کی۔۔یزدان کو بولتا خان قاسم کو کالر سے پکڑتا کھڑا کرتا اپنے ساتھ باہر لے گیا تھا۔
زرش نے خان کو جاتے دیکھ کر افسوس سے سر نفی میں ہلایا۔یزدان کی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ نظریں جھکا گئی تھی۔
***********
میری اور یزدان کی غیر موجودگی میں یہ تمھاری ذمہ داری تھی گل اور زمل کی حفاظت کرنا۔۔قاسم کو گاڑی میں پھینکتے خان نے غصے سے دھاڑتے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔
خان میں۔۔
خبردار جو ایک لفظ بھی بولا زبان کاٹ کر باہر پھینک دو گا۔۔گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے خان نے بےتاثر لہجے میں کہا۔
کہاں مرے ہوئے تھے تم جب وہ شخص میری بیوی اور گل کو مار رہا تھا۔۔سنسان جگہ گاڑی روکتے خان نے قاسم کو گاڑی سے نکالا تھا
سر میں۔۔ میری غلطی تھی سر میں۔۔ قاسم کے تسلیم کرنے پر خان نے دوبارہ مکہ اس کے منہ پر مارا تھا۔۔
ان کی حفاظت کی ذمہ داری تم پر تھی۔۔اس کے گلے کو دباتے خان دھاڑا۔۔
اس بار غلطی ہوئی تھی تم سے۔۔ مگر اس سے پہلے گل کو کیسے وہ شخص آکر مارتا رہا۔۔۔اس کے منہ بند رکھنے پر خان کو مزید غصہ آرہا تھا
خان میں۔۔ وہ۔۔
دوبارہ جوا کھیلنے لگے ہو ؟ اس کو ہچکچاتے دیکھ کر خان نے پوچھا۔۔
قاسم کے سر جھکانے پر خان نے ایک ٹانگ اس کے پیٹ پر ماری وہ تکلیف سے دہرا ہوتا زمین پر گرا تھا۔
ایک منٹ میں میری نظروں سے دور ہوجاؤ قاسم ورنہ جان لے لوں گا تمھاری۔۔خان سرد مہری سے بولا قاسم شرمندہ نظروں سے دیکھتا اٹھ کر اپنے زخمی وجود کو سنبھالتا دوسری جانب بڑھ گیا تھا۔
بونٹ پر زور سے پاؤں مارتے اس نے اپنا غصہ نکالا تھا۔ایک دن میں ساری زندگی الٹ پلٹ گئی تھی۔
اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اس نے کسی کو کال ملائی دوسری جانب موجود وجود کی آواز سنتے اس کا غصہ بالکل ٹھنڈا ہو گیا تھا۔
**************
زرتاشہ یار کیا ہو گیا تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی ؟ جب سے زیان بھائی سے تمھیں ملایا ہے تم مجھ سے کتراتی پھر رہی ہو۔۔ماہم نے اس کا راستہ روکتے پریشانی سے پوچھا۔
کچھ نہیں ہوا۔۔وہ نظریں زمین پر مرکوز کیے بولی
تم کچھ تو چھپا رہی ہو بتاؤ کیا بات ہے ؟ ماہم کے بولنے پر اس کا تنگ فق ہوا تھا۔
کچھ نہیں چھپا رہی میں۔۔وہ تیز لہجے میں بولتی اپنے ہاتھ میں موجود کتاب پر گرفت مضبوط کر گئی تھی۔۔
ایسی بات ہے پھر آج ہمارے ساتھ لنچ پر چلو۔۔ماہم مسکرا کر بولی۔۔
میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔وہ منہ بنا کر بولی
میرے اور بھائی ساتھ لنچ پر چلو یا پھر مجھے بتاؤ کیا چھپا رہی ہو۔۔ماہم نے اسے باتوں میں الجھایا
مجھے ٹائم سے گھر جانا ہوتا۔۔زرتاشہ نے مسئلہ بتایا۔۔
یار لاسٹ تھری لیکچر بنک کر دیں گے تم فکر مت کرو ٹائم سے واپس آجائیں گے۔۔ماہم نے حل نکالا۔۔
مجھے نہیں جانا ماہم۔۔وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔
اوکے پھر مجھے بتاؤ کیا چھپا رہی ہو۔۔۔ماہم کے پوچھنے پر وہ لب کچلنے لگی۔۔
میں چلوں گی۔۔زرتاشہ کے مان جانے پر ماہم کھل کر مسکرا اٹھی۔
پہلے تین لیکچر لینے کے بعد ماہم زرتاشہ کو اپنے ساتھ یونیورسٹی سے باہر لے گئی تھی۔
براؤن جینز اور سفید شرٹ پہنے بالوں کو پیچھے کی طرف سیٹ کیے زمان گاڑی میں بیٹھا ماہم کا انتظار کر رہا تھا جب اس کے ساتھ آتی زرتاشہ پر نظر پڑتے اس کی آنکھوں میں ناگواریت سمٹ آئی۔۔
سکن رنگ کا سوٹ پہنے ساتھ براؤن چادر اوڑھے زرتاشہ کی ڈریسنگ زمان سے میچ کر رہی تھی۔
خود پر نظریں محسوس کرتے زرتاشہ نے ڈر کر نظریں اٹھا کر دیکھا تھا جہاں گاڑی میں بیٹھے زمان کی نظریں اپنے وجود کے آر پار ہوتے اس کے قدم بے ساختہ رک گئے تھے۔
کیا ہو گیا رک کیو گئی ہو بھائی کو انتظار کرنا پسند نہیں جلدی چلو۔۔ماہم اس کا ہاتھ پکڑتی تقریبا کھینچتی ہوئی اسے اپنے ساتھ لے کر گاڑی پاس آئی تھی۔
ہیلو بھائی۔۔زمان کو دیکھتے ماہم مسکراتے ہوئے بولی۔۔
آجاؤ چلیں پہلے ہی کافی دیر سے آئی ہو۔۔زمان کے سخت لہجے میں بولنے پر ماہم نے لب دبا کر سوری کہتے زرتاشہ کو پچھلی سیٹ پر دھکیلا تھا۔
خود اس کے ساتھ بیٹھتے ماہم نے زمان کو چلنے کا کہا تھا۔۔بیک مرر سے بھی اس کی نظریں زرتاشہ کو۔محسوس ہو رہی تھیں۔۔اپنی چادر کا کونہ اپنے ہاتھ میں زور سے پکڑے وہ اپنی گھبراہٹ کم کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔
***************
زمل کی طبیعت کافی حد تک سنبھل گئی تھی مگر تکلیف کی وجہ سے اسے زیادہ تر بے ہوش رکھا گیا تھا۔خان کے کہنے کے مطابق یزدان نے اسے گھر میں شفٹ کروا دیا تھا جہاں وہ سب لوگ رہ رہے تھے۔
ڈاکٹرز اور تمام چیزوں کا انتظام کر دیا گیا تھا۔زرش ہر پل زمل کے ساتھ رہتی تھی۔ یزدان اور زرش کی دوبارہ بات نہیں ہوئی تھی۔ایک سرد دیوار تھی جو ان دونوں کے درمیان حائل ہوچکی تھی۔
زمل ک بازو اورایک پاؤں جل گیا تھا مگر بروقت اسے بچانے پر وہ کافی حد تک بچ گئی تھی۔جس پر زرش اللہ کا شکر ادا کرتی نہیں تھک رہی تھی۔
شیر خان کی وجہ سے زمل کو اندرونی بھی کئی چوٹیں لگی ہوئی تھیں جس وجہ سے وہ جب بھی ہوش میں آتی اسے تکلیف محسوس ہوتی تھی۔
خان کے کمرے میں آنے پر بھی زرش خاموشی سے زمل کے قریب بیٹھی رہی تھی۔
تمھیں یزدان بلا رہا ہے۔۔۔خان کے بولنے پر زرش گہرا سانس لیتی ایک نظر خان پر ڈالتی چپ چاپ چلی گئی تھی۔
خان زمل کو دیکھتا اس کے قریب آکر بیٹھ گیا تھا۔اس کے سوئے چہرے پر نظر ڈالتے وہ سائیڈ ٹیبل پر پڑی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگا تھا۔
وہ ہر روز دو گھنٹے کم سے کم زمل کے پاس ضرور گزارتا تھا۔اس نے دو دنوں میں خان ویلا کی سکیورٹی پر معمور لوگوں کی کھال ادھڑ دی تھی۔
سکیورٹی والے شیر خان سے ڈرتے اسے خاموشی سے خان کی غیر موجودگی ویلا میں آنے دیتے۔۔یہ بات جان کر ہی خان کا بس نہ چل رہا تھا۔ان سب لوگوں کو ویسے ہی مار کر کسی جگہ بند کرکے زندہ جلا دے۔۔
گل کو انھوں نے ایک دن پہلے ہی دفنا دیا تھا۔اس کی موت کا دکھ خان کو تھا۔اس کی تکلیف اور اذیت کا سوچتے خان نے شیر خان سے بدلہ لینے کا سوچا تھا۔
پانی۔۔زمل ہوش میں آتی سرگوشی میں بولی۔۔خان اس کے قریب نہ بیٹھا ہوتا تو شاید سن نہ پاتا۔
اس نے زمل کی خواہش پر کتاب رکھتے تیزی سے گلاس میں پانی ڈالتے احتیاط سے بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھتے اس کے ہونٹوں سے گلاس لگایا تھا۔
زمل خان کے سہارے پر بیٹھی پانی پینے لگی تھی۔پانی پیتے اس نے اپنا سر خان کے کندھے سے ٹکایا تھا۔
کہیں درد ہو رہا ؟ اس کے بال چہرے سے ہٹاتے خان نے نرم لہجے میں پوچھا۔
بازو میں۔۔اس نے اپنے بائیں بازو کی طرف اشارہ کیا۔۔
اور کمر میں۔۔وہ تکلیف دہ لہجے میں بولی۔
کچھ کھالو پھر میں میڈسن دیتا ہوں۔۔خان نے اس کے گرد بازو پھیلاتے دوسرے ہاتھ سے سائیڈ ٹیبل پر پڑے فون کو اٹھاتے ملازمہ سے سوپ بنا کر لانے کا کہا تھا۔
آپ کب آئے ؟ زمل نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا۔خان کے جواب پر وہ خاموش ہوگئی تھی۔
گل کی طبیعت کیسی ہے ؟ زمل نے اچانک گل کے بارے میں یاد آتے پوچھا۔خان نے لب سختی سے پیوست کیے تھے۔۔
آپ بتا کیوں نہیں رہے ؟ اس نے اپنی بات پر زور دیتے پوچھا۔خان کی خاموشی اسے کھٹک رہی تھی۔
گل اب اس دنیا میں نہیں رہی۔۔وہ لفظوں کا مناسب چناؤ کرتا گویا ہوا۔زمل نے بےیقینی سے اپنی آنکھیں کھول کر خان کو دیکھا جو اس سے نظریں چرا گیا تھا۔
زمل خاموشی سے اسے دیکھتی اس کے قریب سے ہٹتی ہونٹ دبا کر تکلیف روکتی خاموشی سے لیٹ گئی تھی۔
خان بھی اس کے قریب سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
ملازمہ کے سوپ لانے پر اس نے ملازمہ کو اشارہ کیا جس نے زمل کو اٹھا کر سوپ پلا دیا تھا۔
دونوں ہی خاموش تھے ایک دوسرے سے کچھ نہیں بول رہے تھے۔خان نے اسے میڈسن دیکھ کر دی تھی۔وہ میڈسن لیتی واپس لیٹ گئی تھی۔
اسے ایک نظر دیکھتا خان ملازمہ کو اس کے پاس چھوڑتا چلا گیا تھا۔زمل بھی دوائیوں کے زیرِ اثر کچھ ہی دیر میں سو گئی تھی۔
****************
زرتاشہ کھانے سے کھیل لیا ہے تو کھالو اب۔۔ماہم زرتاشہ کو چاولوں میں چمچ چلاتے دیکھ کر چوٹ کرتی بولی۔وہ لوگ کھانا کھا رہے تھے۔ماہم زمان کے ساتھ لگاتار باتیں کر رہی تھی جبکہ زرتاشہ بار بار اس کی نظریں محسوس کرتی اپنی پلیٹ پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
ماہم کے بولنے پر وہ چھوٹے چھوٹے نوالے لے کر کھانا کھانے لگی تھی۔
بھائی آپ اور زرتاشہ کپل لگ رہے ہیں دونوں کی ڈریسنگ ایک جیسی ہے۔۔ماہم چہکتے ہوئے بولی۔۔
زرتاشہ کے حلق میں چاول پھنس گئے تھے۔کھانستے ہوئے اس نے پانی کا گلاس اٹھاتے لبوں سے لگایا تھا۔
زمان ماہم کی بات پر غصے سے اسے گھور رہا تھا۔جو اس کے غصے سے بے خبر زرتاشہ کو دیکھ رہی تھی۔
ماہم مجھے ضروری کام سے جانا ہے چلو۔۔کچھ دیر بعد زمان سنجیدگی سے بولا۔۔
ماہم زرتاشہ کو اشارہ کرتی اٹھ گئی تھی۔وہ تو پہلے ہی جانے کو تیار بیٹھی تھی جھٹ سے اٹھ کر ماہم کے پیچھے باہر نکل گئی تھی۔
میرا موبائل وہ ٹیبل پر پڑا رہ گیا ہے میں ایک منٹ میں آئی بھائی۔ماہم گاڑی میں بیٹھتی اپنا موبائل نہ ملنے پر فورا اتر کر ریسٹورنٹ میں بڑھ گئی تھی۔
معصوم بننے کی ایکٹنگ اچھی کرتی ہو۔۔زمان سگریٹ کا پیکٹ نکالتا اس کے وجود پر نظریں گاڑھے بولا۔
زرتاشہ گھبراہتے ہوئے اپنی چادر کا پلو انگلیوں میں گھمانے لگی تھی۔
یہ ادائیں میرے سامنے مت دکھاؤ الجھن ہوتی ہے مجھے۔۔وہ اس کے بال چادر کے اندر کرنے پر غصے سے بولا۔
زرتاشہ کو اس شخص سے خوف آنے لگا تھا۔زمان مزید کچھ بولتا ماہم کے آنے پر خاموش ہو گیا تھا۔زرتاشہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔
**************
اب مجھ سے کبھی بات نہیں کرو گی ؟ زرش کچن میں کھڑی پانی پی رہی تھی جب اس کے پیچھے کھڑے ہوتے یزدان نے سرگوشی میں پوچھا۔
اس کی سانسیں زرش اپنی گردن پر محسوس کرتی گلاس کو مضبوطی سے تھام گئی تھی۔
آپ نے بھی بات نہیں کی ؟ وہ شکوہ کن انداز میں بولی غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد اسے یزدان سے کی گئی بدتمیزی پر پچھتاوا ہوا تھا۔
تم موقع ہی نہیں دے رہی۔۔دو دن سے روم میں بھی نہیں آئی۔۔زرش کی کمر پر آہستہ سے انگلی چلاتے اس نے بھی شکایت کی۔
اس کی حرکت کرتی انگلیوں کا لمس زرش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کرنے لگا تھا۔
بجو کو میری ضرورت ہوتی ہے۔۔اس نے جوابا کہا۔
میں کل سے ایک ہفتے کے لیے پشاور جا رہا ہوں۔۔یزدان نے اسے اطلاع دی۔
کیوں ؟ اس کی طرف مڑتے زرش نے بھنویں بھینچ کر پوچھا۔
مجھے وہاں ایک کام ہے۔۔اس کی آنکھوں میں دیکھتے یزدان نے نرم لہجے میں کہا۔۔
میں اکیلی کیسے رہوں گی ؟ زرش نے منہ پھولا کر اسے دیکھا۔
جیسے دو دن سے رہ رہی ہو۔۔آج آجانا کمرے میں خان زمل کے پاس رکے گا۔۔اور تم میرے جانے کے بعد خان سے اپنی بدتمیزی کے لیے معافی مانگ لینا۔۔یزدان کا لہجہ آخر میں پتھریلا ہو گیا تھا۔
زرش نے دھیرے سے سر ہلا دیا تھا۔یزدان نے اس کے جواب پر جھکتے اس کا سر عقیدت سے چوما تھا۔
جاری یے۔۔۔
