My Girl by Zanoor NovelR50525 My Girl (Episode 19)
Rate this Novel
My Girl (Episode 19)
My Girl by Zanoor
ایک مہینے پہلے :
کراچی ، پاکستان :
زمل نے یزدان کی مدد سے قریبی ہاسٹل میں اپنے لیے روم لے لیا تھا۔مکان کے بیچنے کے بعد ساری رقم اس کے اکاؤنٹ میں تھی جو اس نے آدھی زرش کو دینے کا سوچا ہوا تھا۔
زرش مجھے صبح سے نظر نہیں آئی۔۔ کہاں ہے وہ ؟ زمل نے اپنے ساتھ کپڑے پیک کرواتی ملازمہ سے پوچھا۔
بی بی جی وہ یزدان لالا نے انھیں کمرے میں بند کیا ہوا ہے۔۔ملازمہ کے رازدانہ لہجے میں بتانے پر زمل کی پیشانی پر بل پڑے۔۔بے شک وہ ان دونوں کے درمیان نہیں آنا چاہتی تھی لیکن ایک بار زرش سے خود بات کرنا چاہتی تھی۔
ملازمہ کو کام کرنے کا بول کر اپنی چادر اوڑھتی زمل کے قدم زرش کے کمرے کی جانب اٹھے تھے۔
دروازے کو باہر سے لاک لگایا گیا تھا۔وہ چابی کے بغیر دروازہ نہیں کھول سکتی تھی۔
خانم آپ کو کوئی کام تھا ؟ یزدان نے اپنے کمرے کے باہر کھڑی زمل کو دیکھتے نظریں جھکا کر پوچھا۔
مجھے زرش سے بات کرنی ہے۔۔زمل نے سنجیدگی سے کہا۔
یزدان نے سر ہلاتے خاموشی سے دروازہ کھول دیا تھا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر یزدان کا سوچتی زرش مزید تکیے میں منہ چھپانے لگی تھی۔رونے سے اس کا گلہ اور آنکھیں دونوں درد کر رہے تھے۔
زرش۔۔زمل کی پکار پر آواز پہنچانتی وہ فورا سیدھی ہوئی۔۔زرش کو دیکھتی وہ تیزی سے اس کے گلے سے لپٹ گئی تھی۔
بجو مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز مجھے یہاں سے لے جائیں۔۔زرش گھٹی گھٹی آواز میں روتے ہوئے بولی۔
یزدان نے زرش کی بات سنتے غصے سے مٹھیاں بھینچیں تھیں۔
کیا ہوا ہے زرش مجھے بتاؤ۔۔زمل نے پریشانی سے اس کی کمر سہلاتے پوچھا۔زرش یزدان کی موجودگی سے بے خبر زمل کو ساری بات بتا گئی تھی۔
میرے خیال سے تم دونوں کو ایک بار بیٹھ کر تسلی سے بات کرنی چاہیے۔تمھارا جو فیصلہ ہوگا میں تمھارے ساتھ ہوں زرش۔زمل نے اس جذباتی لڑکی کو سمجھایا۔
سوں سوں کرتی وہ زمل کے حصار سے نکلی۔یزدان پر نظر پڑنے سے اس کو مزید رونا آیا۔یزدان اس سے جتنی محبت کرتا تھا وہ واقعی اس سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھی۔
زرش کو یزدان کے ساتھ چھوڑتی زمل خاموشی سے وہاں سے چلی گئی تھی۔ابھی تک اس نے زرش کو اپنے یہاں سے جانے کے بارے میں بھی نہیں بتایا تھا۔
خان اس سے بنا ملے روس چلا گیا تھا۔زمل کو اس کی بےرخی پر کسک سی محسوس ہوئی۔خود کو ڈپٹتی وہ واپس اپنے کمرے میں لوٹ گئی تھی۔
***************
میں تمھیں یہاں سے کہیں نہیں جانے دوں گا زما زرگیہ ( میرے دل )۔۔یزدان نے کمرے میں چھائی سرد سی خاموشی کو توڑا۔
آپ وعدہ کریں کسی کو نہیں ماریں گے۔۔زرش نے لب بھینچ کر اس کے سامنے اپنی نرم و نازک سی چھوٹی ہتھیلی پھیلائی۔
یزدان نے زرش کو خود کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ایک بےبس آہ خارج کی۔
میں وعدہ نہیں کرسکتا لیکن تمھیں یقین دلاتا ہوں اب اس کی بجائے میں آفس ورک کروں گا۔۔یزدان اس کی ہتھیلی تھامتا اپنے ہونٹوں سے لگا گیا تھا۔
زرش کو اس کے جواب سے کچھ سکون ملا۔۔
مجھے دوبارہ ایسے ڈانٹیں گے ؟ زرش کے پوچھنے پر یزدان نے اسے اپنے قریب کیا۔
نہیں۔۔یزدان نے اس کے سر پر اپنے ہونٹ رکھے۔
مجھ پر دوبارہ ہاتھ اٹھائیں گے ؟ زرش نے آنکھیں موندتے یزدان کا لمس محسوس کرتے پوچھا۔
کبھی نہیں۔۔تم پر ہاتھ اٹھانا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔یزدان نے اس کی سوجھی ہوئی آنکھوں پر باری باری اپنے تشنہ لب رکھے۔
زرش نے ایک سکون آور سانس خارج کی۔یزدان کے جواب پر وہ مسکراتی اس کے کندھے سے اپنا سر ٹکا گئی۔یزدان نے اس کی کمر کے گرد ہاتھ ڈالتے زور سے اسے خود میں بھینجا تھا۔
مجھے دوبارہ کمرے میں بند مت کیجئے گا۔۔زرش نے چہرہ اٹھاتے یزدان کی جانب دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔
دوبارہ مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت۔۔دوبدو اسے جواب دیتے یزدان نے ہولے سے اس کے ہونٹ چومے۔زرش نے شرماتے ہوئے اس کے سینے میں منہ دیا۔یزدان نے قہقہہ لگاتے اس کے گرد اپنا مزید حصار تنگ کیا۔
زما زڑگیہ( میرا دل )۔۔یزدان نے محبت سے اس کے سر پر لب رکھتے ہوئے کہا۔
*****************
روس کے شہر موسکو میں خان بلیک پینٹ شرٹ کے ساتھ بلیک جیکٹ پہنے ماتھے پر بکھرے بالوں سے ایک کیفے میں داخل ہوا۔میٹھی خوشبو نتھنوں سے ٹکرانے پر خان نے منہ بگاڑا۔میٹھی چیزیں شروع سے ہی اسے پسند نہیں تھی۔
لیکن کوئی تھا جسے میٹھی چیزیں کھانے سے عشق تھا۔اسے یاد کرتے ایک سرد آہ خان نے خارج کی تھی۔اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ کیشیر کے پاس گیا تھا۔
اپنے گلے میں پہنا شیر کی شکل کا لاکٹ دکھانے پر کیشیر نے اسے خاموشی سے پچھلے حصے کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔
خان سر ہلاتا ہوا اس طرف بڑھا۔وہاں موجود کیچن میں داخل ہوتے اس کی تیز نظریں ناسمجھی سے ادھر ادھر بھٹک رہی تھیں۔جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔پیچھے مڑتے اس کا سامنا کسی شیف سے ہوا تھا۔
کھانے کا آرڈر باہر کرتے ہیں۔۔شیف مخصوص بھاری لہجے میں روسی زبان میں بولا۔
کھانے کی جگہ مجھے کسی اور چیز کی طلب ہے۔۔خان نے اسے لاکٹ دکھایا تھا۔
خان ؟ اس آدمی نے پوچھا۔خان کے سر ہلانے پر مسکراتا ہوا وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
فریزر روم میں داخل ہوتے خان اس کے ہمراہ چل رہا تھا۔ایک جگہ رکتے اس شیف نے دیوار پر ہاتھ رکھا تھا۔جب ایک دروازہ کھولا وہ لفٹ تھی۔خان اس کے ساتھ لفٹ میں داخل ہوا تھا۔
لفٹ کے رکنے پر وہ ایک بڑے سے ہال میں داخل ہوئے تھے۔
سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔اس شیف نے ہلکا سا سر جھکاتے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
خان کے کمرے میں داخل ہونے پد سب نظریں اس کی جانب اٹھی تھیں۔
خان ویلکم ٹو رشیا۔۔السینڈروں خان کو دیکھتا کھڑا ہوا تھا۔اس کو دیکھتے سب اپنی نشستوں کو چھوڑتے کھڑے ہوچکے تھے۔
السینڈرو خان سے آکر گلے ملا تھا۔ایک وقت تھا جب خان کی مدد سے اس نے اپنی ڈون کی پوزیشن حاصل کی تھی۔
تم سے مل کر اچھا لگا خان۔۔السینڈرو مسکراتے ہوئے بولا۔
مجھے بھی۔۔خان نے مختصر سا جواب دیتے السینڈرو کے ساتھ موجود خالی نشست پر اپنی جگہ سنبھالی تھی۔
مجھے تمھاری مدد کی ضرورت ہے۔۔خان نے السینڈرو سے کہا۔
ہم ہر طرح تمھاری مدد کریں گے خان۔۔السینڈرو سنجیدگی سے بولا۔
میں چاہتا ہوں سنیک آرگنائزیشن کو یہاں سے سپلائی ہونے والا ہر طرح کا ڈرگ بند کر دیا جائے۔میں جانتا ہوں اس سے یہ کانٹریکٹ کے خلاف ہوگا۔۔لیکن مجھے ہر طرح سے یہ سپلائی بند کروانی ہے۔میں چاہتا ہوں اگلا کوئی ڈرگز کا کانٹینر پاکسنا نہ پہنچے۔۔خان میز پر ہاتھ جمائے سرد لہجے میں بولا۔
تم جیسا چاہو گے ویسا ہی ہوگا میں سب گینگز سے باذاتِ خود بات کروں گا۔۔تمھارا یہ کام ہوجائے گا خان تم بے فکر رہو۔۔السینڈرو نے خان کی جانب دیکھتے اسے یقین دلایا تھا۔
ایک بڑا کام ہوجانے پر خان تھوڑا پرسکون ہوا تھا۔کچھ دن مزید رشیا میں ابھی اسے کام تھا۔
**************
موسم ٹھیک ہونے پر زرتاشہ ان لوگوں کے ساتھ واپسی کے لیے بڑھ گئی تھی۔
بیک سیٹ پر درمیان میں بیٹھی زرتاشہ کے دونوں کندھوں پر ماہم اور اس کی کزن رابعہ سوئی ہوئی تھیں۔
فرنٹ سیٹ پر بیٹھا عمیر بھی تقریبا سو ہی رہا تھا صرف ڈرائیونگ کرتا زمان اور زرتاشہ ہی جاگ رہے تھے۔
اس دن کے بعد وہ زمان سے مکمل طور پر چھپتی پھر رہی تھی۔اب اس کی گہری نگاہیں اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس کرکے غصے اور جھنجھلاہٹ سے وہ آنکھیں موند گئی تھی۔
گھر پہنچتے زمان نے عمیر کو اٹھایا تھا۔زرتاشہ نے بھی ماہم اور رابعہ کو اٹھایا تھا۔زرتاشہ اب اپنے گھر جانا چاہتی تھی۔
زرتاشہ وہاں کیوں کھڑی ہو اندر آجاؤ۔۔ماہم نے آنکھیں مسلتے زرتاشہ کو گاڑی کے پاس کھڑے دیکھتے کہا۔
گھر کے اندر جاتے زمان کے قدم بھی ماہم کی بات پر رکے تھے۔
ماہم مجھے اب گھر جانا ہے مورے بہت پریشان ہورہی تھیں پلیز ڈرائیو کو کہو مجھے چھوڑ آئے۔۔زرتاشہ دھیمی آواز میں بولی۔
میں چھوڑ آتا ہوں۔۔زمان ماہم کے پاس آتا ہوا بولا۔
تھینک یو بھائی۔۔ماہم زمان سے بولتی اندر چلی گئی تھی۔
زرتاشہ کے زمان کے ساتھ اکیلے سفر کرنے کا سوچتے پسینے چھوٹ پڑے تھے۔
جلدی بیٹھو میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔۔زمان کے زور سے بولنے پر زرتاشہ تیزی بیک سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھنے لگی تھی جب زمان کی آواز نے اسے روک دیا تھا۔
تمھارا ملازم نہیں ہوں چپ چاپ نکھرے کیے بغیر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ جاؤ۔۔یزدان کے حکم پر کلستی وہ خاموشی سی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔
ی۔۔یہاں کیوں گاڑی روکی ہے زمان ؟ زرتاشہ نے اسے بیچ راستے گاڑی روکتے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
تمھیں جانے سے مارنے کے لیے۔۔۔اپنی مسکراہٹ دباتا یزدان سنجیدگی سے بولتا زرتاشہ کے ہوش اڑا گیا تھا۔
زرتاشہ کا دل سہمنے لگا تھا۔نم ہوتی ہتھیلیوں کو اپنی چادر سے رگڑتے اس نے زمان کا دیکھا۔
اوئے چھوٹے بات سن۔۔زمان کے کسی کو آواز دینے پر زرتاشہ نے گاڑی سے باہر دیکھا تھا۔جہاں ایک چھوٹا سا بچہ گلاب کے پھول پکڑے کھڑا تھا۔
زمان نے سارے پھول بچے سے لیتے اسے پیسے تھماتے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کرتے ہوئے زرتاشہ کی طرف ایک ہاتھ سے پھول بڑھائے۔
زرتاشہ نے حیرت سے اس سرپھرے کو دیکھا جو ایک پل کو اس کے گلے تک پہنچ جاتا ہے۔۔جو گرگٹ کی طرف سیکنڈوں میں اپنا روپ بدل لیتا ہے۔
تمھارے لیے ہیں پکڑ لو۔۔زمان جھنجھلا کر تیز لہجے میں بولا۔
زرتاشہ نے کانپتے ہاتھوں سے پھول پکڑے تھے۔زمان کے غصے کا ڈر نہ ہوتا وہ یہ پھول اس کے منہ پر پھینک چکی ہوتی۔۔
زمان نے ایک ہوٹل کے باہر گاڑی روکی تھی۔زرتاشہ اب زمان کے ساتھ آنے پر پچھتا رہی تھی جو اب اسے باہر نکلنے کا بول رہا تھا۔
مجھے میرے گھر چھوڑ کر آئیں۔۔زرتاشہ گاڑی میں ہی بیٹھی غصے میں بولی تھی۔
اپنا بے ساختہ امڈنے والے غصے کو کنٹرول کرتے زمان نے سگریٹ سلگاتے لبوں میں دبا کر گہرے کش لیے تھے۔۔
زمان کی تنی ہوئی رگیں دیکھ کر زرتاشہ کا دل سوکھے پتے کی مانند تھر تھر کانپنے لگا تھا۔
ایک سیکنڈ سے پہلے گاڑی سے نکل آؤ زرتاشہ ورنہ سب کے سامنے اٹھا کر اندر لے جاؤں گا۔۔زمان کے دھمکانے پر وہ ہانپتی کانپتی گاڑی سے باہر نکل آئی تھی۔
زمان اس کا ہاتھ پکڑتا اسے اندر لے گیا تھا۔ایک ٹیبل پر بیٹھتے اس نے بنا زرتاشہ سے پوچھے اپنی مرضی سے دونوں کا کھانا آرڈر کیا تھا۔
آپ کو مجھ سے کیا دشمنی ہے زمان ؟ زرتاشہ کی دھیمی آواز زمان کے کانوں میں پڑی۔
تم سے میری بہت بڑی دشمنی ہے زرتاشہ۔۔کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے تمھیں کچا چبا جاؤں۔۔تمھیں قتل کرتے کہیں کسی ویران کونے میں دفنا دوں۔۔زمان اس کا زرد چہرہ دیکھتے زیادہ دیر اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کرپایا تھا۔
زرتاشہ نے غصے سے منہ پھولایا تھا۔وہ اپنے ڈرنے پر شرمندہ سی ہوگئی تھی۔روئی جیسے نرم و نازک گالوں پر لالی سی ابھر آئی تھی۔
یہ دشمنی بہت پرانی ہے زرتاشہ۔۔وقت آنے پر تمھیں پتا چل جائے گا۔۔زمان سنجیدہ سا بولا تھا۔زرتاشہ اس کی بات سمجھ نہ سکی تھی۔اس کے بعد وہ خاموش ہوگئی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد زمان اسے آرام سے گھر چھوڑ آیا تھا۔
**************
بجو آپ کہیں جارہی ہیں۔۔زرش جو یزدان سے جان چھڑواتی ہوئی زمل سے بات کرنے آئی تھی اس کے پاس موجود بیگز دیکھتے پوچھا۔۔
ہاں میں یہاں سے ہوسٹل شفٹ ہو رہی ہوں۔۔تم بتاؤ یزدان سے بات ہوئی تمھاری ؟ ذمل نے اسے بتاتے پوچھا۔
ہمارے درمیان سب سیٹ ہوگیا ہے یہ بتائیں آپ کیوں جارہی ہیں ؟ زرش نے پریشانی سے پوچھا۔
میں اور خان بہت الگ ہیں زرش۔۔ان کے مطابق ہمارا رشتہ کاغذی ہے جس سے میں جب چاہو رہائی لے سکتی ہوں۔میں مزید یہاں نہیں رہ سکتی۔۔زمل سنجیدگی سے بولی۔
یہ سب میری وجہ سے ہورہا ہے بجو۔۔۔زرش غمگین ہوئی۔
مجھے لگا تھا خان لالا بھی یزدان کہ طرح ہوں گے۔۔۔زرش کے مزید بولنے پر زمل ہنس پڑی تھی۔
یزدان اور خان بظاہری ایک جیسے ہی ہیں لیکن حقیقت میں وہ دونوں بہت مختلف ہیں۔یزدان تمھاری خاطر خود کو بدل لے گا کیونکہ اسے تم سے محبت ہے۔خان کا محبت کے ‘م’ کا َبھی علم نہیں۔ میں اسے صحیح راستہ دیکھانا چاہتی تھی اس نے مجھے ہی یہاں سے نکلنے کا راستہ دکھا دیا ہے۔زمل آخر میں اداس سی ہنسی۔۔زرش نے دکھ سے زمل کو دیکھا تھا۔
میں تم سے ملتے آتی رہوں گی یہاں قریب ہی رہوں گی۔۔زمل نے محبت سے زرش کا ماتھا چوما تھا۔
زمل زرش سے ملتی وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
***************
خان اپنے کام نبٹا کر واپس آچکا تھا۔سب کچھ معمول پر چلنے لگا تھا۔جب ایک دن اچانک کچھ ہوا۔۔ایمرجنسی میں یزدان کو اپنے ساتھ لے کر خان ایران روانہ ہوا تھا۔
یزدان زرش کو اکیلا چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا۔خان کی اور کام کی وجہ سے وہ مجبورا اس کے ساتھ ایران آیا تھا۔
ان کا کام بہت خطرناک اور بڑا تھا۔
خان نے سارا پلان تیار کر لیا تھا۔اب بس اس پر عمل کرنا تھا۔جو بہت جلد انھوں نے کرلیا تھا۔
ایران کے تیل کے بنے کارخانے میں منہ پر نقاب کیے خان سپاٹ تاثرات سے ادھر ادھر دیکھتا گارڈز کی نظروں سے بچتا ہوا اس کے بیسمنٹ کی طرف بڑھا تھا۔
اچانک فائر الارم بجنا شروع ہوا تھا کام کرتے سارے ملازمین باہر کی طرف بھاگے تھے۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتا نچلے حصے میں پہنچا تھا۔جہاں موجود ایک میٹنگ روم کی طرز میں بنے کمرے سے لوگ اٹھتے ہوئے بھاگنا شروع ہوئے تھے۔
خان نے ارد گرد دیکھتے مطلوبہ بندے کو ڈھونڈا وہ بھیڑ میں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔آگے بڑھتے تیزی سے خان نے اس کو کالر سے پکڑتے پیچھے کھینچا تھا۔
اس کے ہاتھ میں موجود شیر کی شکل والی انگوٹھی دیکھتے اپنی قمض کے اندر سے چاقو نکالتے اس کی شہ رگ پر خان نے چاقو ٹکایا تھا۔
ابو ہشام کو میری طرف سے پہلا تحفہ۔۔خان اس کے کان میں سرد آواز میں بولتا اس کے احتجاج کرنے سے پہلے اس کا گلا کاٹ چکا تھا۔
اس کا مردہ وجود زمین پر گرتے دیکھ کر خان نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی نکال کر اپنی جیب میں ڈالی تھی۔گارڈز کو اس طرف آتا دیکھ کر خان تیزی سے واپس بھیڑ میں غائب ہو گیا تھا۔۔
باہر اس کے بیسمنٹ سے نکلتے خان نے وہاں موجود تیل کے ڈرم کو زمین پر گراتے لائٹر نکال کر وہاں آگ لگا دی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف آگ پھیلنے لگی تھی۔وہ اپنا کام کرچکا تھا۔آگ کے شعلے ہر طرف پھیلتے آسمان کو چھونے لگے تھے۔کالے دھواں کے مرغولے ہر طرف سے اٹھنے لگے تھے۔
یزدان گاڑی سٹارٹ کیے خان کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔خان کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔
اپنی مطلوبہ رہائش گاہ پر پہنچتے یزدان ابھی خان سے بات کرنے ہی لگا تھا۔جب پاکستان سے آنے والے فون نے اس کا دل سا بند کر دیا تھا۔
زرش کو کسی نے کیڈنیپ کر لیا تھا۔یہ خبر اس پر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی۔لیکن اس کے ساتھ ملنے والے دوسری خبر نے جیسے اس کی روح جھنجھوڑ دی تھی۔زرش امید سے تھی۔وہ ہوسپٹل سے واپس آرہی تھی جن راستے سے اسے کیڈنیپ کیا گیا۔
۔
اپنے بند ہوتے دماغ اور بے جان وجود نے اسے سن سا کر دیا تھا۔ایک طرف باپ بننے کی جہاں خوشی ملی تھی وہاں ہی دوسری طرف زرش کے کیڈنیپ ہونے کا سن کر وہ خوشی مدہم سی ہوگئی تھی۔
جاری ہے۔۔
