Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
لاسٹ ایپیسوڈ
” اسلام وعلیکم اینڈ گڈ مارننگ !! خوشبو میں رچا بسا آہل ڈائیٹنگ ٹیبل پر پہنچا تو پہلے سے اپنے باپ کو وہاں براجمان دیکھ کر اس سے سب پر مشترکہ سلامتی بھیجی۔
” وعلیکم السلام!! کامل نے اپنے آگے اسکے جھکے سر کو دیکھ کر اسکے رخسار کا بوسہ لیا پھر وہ ماں کے سامنے جھکا۔ اس کی دیکھا دیکھی زر نے بھی دونوں سے پیار وصول کیا۔
” یہ عنایہ لوگ کیوں نہیں آئے ؟؟ آہل نےاردگرد کرسیوں پر نظر دوڑا کر عنایہ کی غیر موجودگی نوٹ کی
” پتہ نہیں !! میں دیکھ کر آتی ہوں آپ لوگ شروع کرے۔” شزا خوش دلی سی کہہ کر اٹھی. تو مہد نے تیکھی نظر اس پر ڈالی جو مکمل اسے نظر انداز کرکے پاس سے گزر گئی۔
” انکل !! آپکو نہیں لگتا کہ میرے ہاتھ پیلے کروانے کا وقت آگیا ہے۔ اب زرا سنجیدگی سے اس بارے میں سوچے اور جاکر میرے ڈیڈ کے کان میں بھی بات گھسا دے۔ مہد کی بات پر ڈائننگ ہال سے باہر نکلتے شزا کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
” کوئی لڑکی وغیرہ بھی دیکھ رکھی ہے؟؟ کامل نے پہلو میں بیٹھی اپنی بیوی کو گہری نظروں کے حصار میں لے کر پوچھا۔
” جی انکل۔!! سرسری نظر سوہا ہر ڈال کر اس نے اثبات میں سر ہلایا تو سوہا کا چہرہ شرم سے لال گلابی ہوگیا۔
“توبہ ہے آئی جی صاحب …!! ساری رات پیٹ نہیں بھرا آپکا جو اب میری ماں کو ندیدے پن سے تاڑ رہے ہیں۔ ویسے بیوی کے سنگ رات اچھی گزری؟؟؟ آہل کی زبان میں پھر سے کجھلی ہوئی۔
” ویسے موم..!! آپ پر تو ایسا نکھار آیا ہے۔ جیسے شادی کے پہلے دنوں میں دلہن پر روپ چڑھتا ہے ۔ بالکل ویسا ہی چہرہ کچھ زیادہ گلو کر رہا ہے.” آہل کے بے تکے گل افشانیوں پر عاتکہ کو زور کا اچھو لگا۔ تو زر نے آہل کو تنقیدی نظروں سے گھورا۔ جو بےپروہ ہوکر ناشتے میں مصروف ہوچکا تھا۔
” موم !! مہد کی شادی نبٹا کر ہم اپنے گھر میں شفٹ ہو جائیں گے۔” آہل نے ناشتہ کرتے سب کے سروں پر گویا دھماکہ کیا
” نہیں تم لوگ کہیں نہیں جاؤ گے۔” سب سے پہلے بولنے والی زرغونہ کی ماں تھی۔ جو اچھنبے سے آہل کو دیکھنے لگی
” آنٹی میں اپنی بیوی کو اپنے گھر لے کر جانا چاہتا ہوں۔ ہمیں اپنی دنیا بسانی ہے۔ یہاں آپ لوگوں کے پاس اذلان ہے عنایہ بھی ہوگی۔” آہل تحمل سے بات کر رہا تھا۔
” اسلام وعلیکم !! اذلان کی معیت میں عنایہ نے ڈائیننگ ہال میں قدم رکھا تو سب نے دونوں پر گہری نظر ڈالی۔ جبکہ عاتکہ نے کھوجتی نظروں سے عنایہ کے بہکے دلکش سراپے کو دیکھا تو ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔
” آگئی میری بچی۔!! ادھر آو میرے پاس تم دونوں۔ تاکہ میں تم دونوں کی نظر اتاروں۔” عاتکہ صدقے وار ہونے لگی۔ جبکہ آہل آنکھیں چھوٹی کرکے اذلان کو گھورنے لگا تو وہ گڑبڑا کر چیئر کھسکا کر اس کے پاس والے چئیر پر بیٹھ گیا
” عنایہ ابھی پوری طرح سے صحت یاب نہیں ہوئی تھی اذلان۔!! اور یہ بات ہم سے بہتر تم جانتے ہو۔ اسکے زخم پوری طرح مندمل نہیں ہوئے تھے۔” آہل نے اذلان کی طرف جھک کر سنجیدگی سے سرگوشی کی۔
” جانتا ہوں میں۔ بٹ آئی پرامس !!میں اسکا اچھے سے دھیان رکھوں گا۔ یار میں ٹھہرا ایک کمزور انسان. بیوی پاس ہو تو کب تک اپنے حق سے محروم رہتا۔” آخر میں اذلان نے کان کجھایا تو آہل کے تراشیدہ لب متبسم ہوئے۔
” میں تو بس ویسے کرید رہا تھا اب تم نے خود اپنے منہ سے اقرار کیا۔ بائے دا وے۔ آئی ایم ہیپی فار یو۔” آہل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا۔ تو اذلان کو اپنی بے اختیاری پر افسوس ہونے لگا۔ بہت جلدی چوری پکڑ لیتا ہے یہ بندہ۔۔
” عنایہ عاتکہ اور کامل سے پیار لینے کے بعد اذلان کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ تو مہد نے اسے آڑے ہاتھوں لے لیا۔
” عنایہ !! کچھ خوبصورتی اور چمک اپنے اس بھائی کے شادی کے لئے بچا کر رکھو۔ سارے کا سارا اذلان پر نچھاور کرنے کے کوئی ضرورت نہیں۔”
” آپ شادی کر رہے ہیں۔” اس کے طنز کو مکمل نظر انداز کرکے اس کی سوئی شادی لفظ پر اٹکی۔
” جی ہاں !!! آپ کے بھائی کے سر پر اب سہرا سجنے والا ہے۔ ” شزا نے واپس آکر اپنی جگہ سنبھالی تو مہد نے بات کو تڑکا لگایا۔
” مہد بھائی !! آپ نے مجھے ڈھیر ساری شاپنگ کروانی ہے۔ ہر فنکشن کے حساب سے” اسامہ نے اپنا حصہ ڈالا۔
” صدقے میری جان!!! تمہیں تو میں جہیز میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔ اتنے تو سوئیٹ ہو تم۔” مہد نے اسکے رخسار پر چٹکی کاٹی۔
” نہیں !! مجھے زر آپی کے ساتھ جانا ہے۔ آہل بھائی کے گھر۔ وہ میرے آئیڈیل ہے۔” اسامہ نے سہولت سے انکار کردیا۔
” یہ روکھے پھیکے سے کھڑوس سے,بدمزاج آہل تمہارے آئیڈیل ہیں۔ یار ۔۔۔ ” مہد کو برا لگا۔
” اوکے مجھے دیوٹی پر جانا ہے۔ بعد میں ملتے ہیں۔” کامل ہاتھ ٹشو سے صاف کرکے اٹھا تو عاتکہ بھی اٹھ کر اس کے ہمراہ جانے لگی۔
” کدھر ؟؟ آہل نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔
” تمہیں ہر بات بتانا ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ اپنے کام سے کام رکھو۔ ہر کام میں ٹانگ اڑانے کی اجازت نہیں دی تمہیں۔ ” کامل نے بارغب سپاٹ لہجے میں کہہ کر آہل کے ہاتھ کو جھٹک دیا تو سب کی دبی دبی ہنسی نکل گئی۔
“دیکھ لیا آپ نے موم !! یہ آپ کے شوہر مسلسل میری انسلٹ کر رہے ہیں۔اور آپ کیسی ماں ہے اکلوتے لاڈلے بیٹے کی دفاع میں کچھ بولتی بھی نہیں” آہل نے اپنی ماں کو ڈھال بنانا چاہا۔
” کیوں کہ اب یہ اکلوتے فرزند کا ٹیگ جو تمہارے ماتھے پر لگا ہے اسے میں ختم کرنے والا ہوں۔ تمہارے لئے ایک عدد بھائی بہن لانے کا سوچ رہے تھے ہم۔” کامل کی بات پر آہل کرنٹ کھا کر اپنی جگہ سے اچھلا۔ باقی سب کے ہونٹ بھی تعجب سے پھیلے۔ اور بے یقینی سے سانس روکے سنجیدہ کھڑے کامل یزدان کو دیکھ رہے تھے جس کے چہرے پر مذاق کی ہلکی سی رمق بھی شامل نہیں تھی۔
” شرم نہیں آتی آپ کو. پوتے پوتی کو گود میں کھلانے پلانے کی عمر ہے آپکی اور آپ پھر سے باپ بننے کے سپنے دیکھ رہے ہیں۔ میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔ اگر بات نیوز تک پہنچ گئی تو۔” آہل کو تو سوچ کر جھرجھری آنے لگی۔
” آج کی مصالحہ دار ہیڈ لائینز!! جانے مانے انتیس سالا بزنس ٹائیکون آہل یزدان کے گھر بہن/ بھائی کی آمد… جسکی خبر ملتے ہی آہل یزدان کومہ میں چلے گئے۔” مہد اسپون منہ سے لگا کر نیوز اینکر کی طرح نیوز سنانے لگا تو آہل کا کلیجہ باہر کو نکلے لگا۔
” چلے آپ یہاں سے. بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں. ” عاتکہ نے کامل کو بازو سے پکڑ کر باہر کی راہ دکھائی لیکن جاتے جاتے آہل کے ہونق بنے چہرے پر ہاتھ لگانا نہیں بھولا۔
” آہل !!! کول۔ بابا مذاق کر رہے تھے صرف آپکو زچ کرنے کے لئے۔ اور آپ ہو بھی رہے ہیں تو ان کو مزہ آتا ہے۔” زر نے آہل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔
” کچھ زیادہ پھیلتے جارہے ہیں آئی جی صاحب!! دیکھ لوں گا میں سے انہیں ۔” آہل خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” تیار رہنا بے بی !! موم بہت جلد آرہی ہیں آپکا ہاتھ مانگنے۔ ” شزا اسامہ کے ساتھ مووی دیکھنے میں مگن تھی کہ پیچھے سے مہد نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
” شٹ اپ !! جاکر یہ گڈ نیوز اپنی سوہا کو سناو۔ جس کے پلو سے چپک چپک کر گھومتے رہتے ہو۔ ” شزا نے نخوت سے منہ پھیرا۔
” یہ اتنی بھاؤ کس خوشی میں کھا رہی ہو تم؟؟ مہد چڑنے لگا اسکے اٹیٹیوڈ سے۔
” اسامہ !! بیٹا زرا ایک گلاس پانی کا لانا۔” مہد نے اسکا دماغ ٹھکانے لگانے کے لئے اسامہ کو منظر سے ہٹانا چاہا۔
” جی مہد بھائی!! ابھی لے کر آتا ہوں۔” اسامہ تابعداری سے سر ہلا کر چلا گیا۔ تو وہ اسکے پہلو میں صوفے پر بیٹھ گیا۔
” چپک کیوں رہے ہیں؟؟ دور ہوکر بات کرے۔” شزا اسکی اتنی سی قربت سے بدخواس سی تھوڑا دور کھسکنے لگی کہ مہد نے اسکی کمر میں بازو حمائل کرکے اسکی کوشش ناکام بنا دی۔
” دور رہ کر سمجھاؤں گا تو تم خاک سمجھوگی۔” مہد کی پرتپش نظروں کا ارتکاز اپنے گردن پر محسوس کرکے وہ سرتاپا لرز گئی۔ اور اسکا حصار توڑ کر دوسرے صوفے پر بیٹھ گئی۔
” ڈونٹ وری۔!! اپنی حدیں جانتا ہوں میں۔ بغیر کسی جائز رشتے کے ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔” اسکے حفاظتی اقدام پر مہد نے ٹانٹ کیا۔
” آپ کا کیا بھروسہ۔ اس دن بھی تو بھول رہے تھے اپنی حد !! شزا نے سلگایا۔
” ارے مہد !! آپ کب آئے ؟؟ سوہا کی آنکھوں کی چمک مہد کو دیکھ کر اور گہری ہوگئی اور بےتکلفی سے مہد کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی تو شزا کی آنکھیں اس کی حددرجہ بے تکلفی سے انگارہ ہوگئی۔
” میں ابھی آرہا تھا تمہارے پاس !!! تاکہ ساتھ میں کچھ وقت ساتھ سپنڈ کرے ۔ بلکہ وقت نہیں پوری رات۔۔۔ چیز ہی ایسی ہو تم تمہیں جتنا دیکھوں تشنگی بڑھتی ہی جاتی ہے۔” مہد نے خباثت سے آنکھ دبا دی تو سوہا کے چہرے پر لالی بکھر گئی۔
” میں انتظار کروں گی .””” سوہا تو جیسے ہواؤں میں اڑنے لگی تھی۔ مہد کے گال پر بوسہ دیکر گنگناتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی۔ شزا کا دل بہت زور سے دھڑکا اس کی بےہودہ حرکت پر۔ جبکہ آنکھیں بے بسی کے احساس سے نم ہوگئی۔
” چھوڑو میرا ہاتھ.” وہ خون آشام نظروں سے مہد کو دیکھ کر جانے لگی کہ مہد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکی پشت کو دیوار کے ساتھ پن کردیا
” چھوڑنے کے لئے نہیں پکڑا ڈئیر!!! اب یہ ہاتھ تاعمر میرے ہاتھ میں ہی رہے گا.” مہد نے اسکے بےدردی سے کچلتے لبوں کو دانتوں سے رہائی دلا دی۔
” ٹرسٹ می صرف تمہاری امانت ہوں کبھی خیانت نہیں کروں گا۔ مگر سوہا کے بارے میں مجھے کچھ خدشات لاحق ہیں جن کا میں پردہ فاش کرنا چاہتا ہوں۔” مہد نے دھڑلے سے اعتراف محبت کرکے ساتھ اسکی تسلی کروانی چاہی۔
” آپکے پسندیدہ شخص کو کوئی آپکے سامنے کس کرے کیسا لگے گا اپکو؟؟ تکلیف ہوگی نا ؟؟ شزا نم آنکھوں اور بھرائی آواز میں محاطب ہوئی۔
” بہت برا لگے گا. تکلیف بھی ہوگی۔اگر میں اسے دھتکارتا تو کبھی اسکے دماغ اور دل تک رسائی حاصل نہیں کرپاتا۔ سوہا کے خوبصورت چہرے کے پیچھے ایک بھیانک روپ چھپا ہوا ہے۔ مجھے وہی آشکارا کرنا ہے۔” مہد نے اسکے پلکوں پر ٹہرے موتیوں کو انگلیوں کے پوروں سے چن لیا۔
” مسز مہد بننے کی تیاری کرو۔ کیونکہ میں نکاح کے بعد کوئی رعایت نہیں برتنے والا۔” ایک انوکھے احساس کے تحت اسکی پلکیں حیا کی بوجھ سے عارضوں پر گر گئی۔ اور گال دہکنے لگے۔
” چلتا ہوں۔اگر مزید کچھ دیر رکا یہاں تو خود پر کنٹرول کھو دوں گا۔” سرخ ڈوروں سے مزین آنکھیں اسکے خوبصورت نقوش پر گاڑ کر وہ دور ہوا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں غائب ہوگیا۔
” سنکی انسان!! شزا گہرا سانس فضا کے سپرد کر کے زیرلب بڑبڑائی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” تمام ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عدالت سلطان میر کو صدیقہ یزدان کا ریپ کرنے کے بعد اس پر بدترین تشدد کرنے, اور اپنی ہی بیٹی کو جان سے مارنے کی سازش رچانے, معصوم لڑکیوں کی عزت لوٹنے کے پاداش میں پچیس سال قید بامشقت کی سزا سناتی ہے۔ اور جرمانے کے طور پر سلطان میر کی تمام جائیداد اس کی بیٹی عنایہ میر کے حوالے کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اپنے بھائی کے اس گھناونے کھیل میں ساتھ دینے پر آیاز میر کو دس سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے,جبکہ امان میر کو پانچ سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ ” جج نے فیصلہ سنایا تو کچھ آنسو عنایہ کے ساتھ ساتھ شزا کے آنکھوں سے بھی بہنے لگے۔ کچھ سپاہی میر سنز کو لیکر جانے لگے تو شزا اپنے باپ کے سینے سے لگ کر ضبط کھو بیٹھی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ جبکہ دوسری طرف اسامہ باپ سے گلےمل کر رو رہا تھا۔ حدید نے سلطان میر کے سامنے کھڑے ہوکر ضبط سے آنکھیں میچی اور باپ کے ماتھے پر عقیدت بھرا بوسہ دیا۔
” میں نہیں چاہتا کہ آپکے کئے کا خمیازہ میری بہن کو بھگتنا پڑے اور آپکے برے اعمال کا حساب ہمیں دینا پڑے۔ اسلئے یہ بہت ضروری تھا۔ ” شزا کو اپنے مضبوط حصار میں لے کر اسے تحفظ کا احساس دلایا۔
” آپ اسامہ کی طرف سے بالکل بے فکر ہوجائیں۔ اس کی پرورش کی زمہ داری میں لیتا ہوں۔” احساس ندامت کے بوجھ سے امان میر کا سر جھکا دیکھ کر آہل گویا ہوا۔ وہ امان میر کے احسان کو بھولا نہیں تھا۔
” مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے آہل !! میرے بچے کو اچھا انسان بنانا۔ اسے عورت ذات سے محبت اور اسکا احترام کرنا سکھا دینا۔ مجھے گھمنڈ تھا بیٹی کی جگہ بیٹا ہونے کا۔ مگر شکر ہے مجھے بیٹی نہیں ہوئی ورنہ آج وہ بھی باپ کے گناہوں کے نذر ہوتی” امان میر نے نم آنکھوں سے اسامہ کے سر پر لب رکھ دئے۔ اگر اس پورے وقت میں کوئی تنہا بے آسرا کھڑا تھا تو وہ ایاز میر تھا جو کہنے کو تو گھر کے سربراہ کے عہدے پر فائز تھا۔ خود سے چھوٹے بہن بھائیوں کی غلطیوں پر پردہ پوشی کرنے کے بجائے اگر اسکے غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرتا تو آج یہ دن نا دیکھنے کو ملتا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مہد کے گھر والے آج اسکے رشتے کے لئے حویلی آرہے تھے۔ سوہا کے تو پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ اپنا سب سے خوبصورت ڈریس نکال کر ذیب تن کرکے ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ مہد کے گھر والے اسے دیکھ کر پہلی نظر میں ہی رشتہ پکا کردیں گے۔ ادھر شزا بھی معمول سے ہٹ کر تیار ہوئی تھی۔ عنایہ نے اسکا پیارا سا ہئر اسٹائل بنایا تھا۔ جس میں وہ بہت معصوم لگ رہی تھی۔ انیلا نے عاتکہ کے ساتھ ملکر آنے والے مہمانوں کے پر تکلف لنچ کا اہتمام کیا تھا۔
مہمان آگئے تو انہیں ہال میں بٹھایا گیا۔ کھانے میں ابھی وقت تھا تو وہ لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ مہد کی بےباک نظریں شزا کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاً اسے آنکھوں میں تنبیہہ کرچکی تھی مگر وہ مہد تھا جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ سوہا بھی خلاف معمول چہرے پر مسکان سجائے بڑے کروفر سے بیٹھی تھی۔
” آپ سب جانتے ہیں ہمارے یہاں آنے کی وجہ۔ مجھے جب مہد نے بتایا کہ آہل کے فیملی میں اسے کوئی لڑکی پسند ہے تو میری تو دلی مراد بھر ائی۔ آہل کی فیملی سے ملنے کا کتنا اشتیاق تھا۔ ہم یہ دوستی رشتہ داری میں بدلنے آئے ہیں۔” مہد کی موم نے بات کرنے میں پہل کی تو سوہا کے کان کھڑے ہوگئے۔ اور اپنی حفت چھپانے موبائل میں سر گھسا دیا۔ جبکہ شزا نے پاس بیٹھی عنایہ کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔ عنایہ نے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیکر ہلکا سا دباکر اسے دلاسہ دیا۔
” ویسے یہاں کی ساری لڑکیاں اتنی پیاری ہے۔ مگر میری بھابھی کمال کی خوبصورت ہے۔ ہیرا ہے ہیرا” مہد کی بہن کنزہ نے شزا پر پیار بھری نظر ڈال کر کہا تو وہ خود میں سمیٹ گئی۔
” بالکل !!! اسلئے ہم آج اپنے مہد کے لئے آپ کی بیٹی شزا کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں۔” مہد کی موم کے الفاظ پر سوہا جیسے زمین کے اندر گھستی چلی گئی۔ اسے لگا اس نے سننے میں غلطی کردی۔ مگر جب مہد کی موم نے شزا کو اپنے قریب بلاکر مہد کے پہلو میں بٹھایا تو ساتوں آسمان دھڑا دھڑ اسکے اوپر گرنے لگے۔ آنکھوں کے کنارے ضبط و بےبسی سے سرخ ہوگئے۔ اپنی شکست پر وہ منہ کے بل گری تھی۔
” جی بالکل!!! میاں بیوی راضی تو کیا کریں گے قاضی۔ جب بچے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو ہمیں بھلا کیا اعتراض۔” عاتکہ بیگم نے مہد اور شزا کے خوشی سے دمکتے چہروں پر نگاہیں مرکوز کرکے کہا تو ہال قہقہوں سے گونج اٹھا اور ہر طرف مبارک باد کا شور بلند ہوا۔ سوہا کے لئے مزید وہاں رکنا محال ہوگیا اور گرتے سمبھلتے اپنے روم میں آگئی اور روم کی ایک ایک چیز کو تہس نہس کرکے چلانے لگی۔ مہد نے اسکو دھوکہ دیا تھا۔ اسکی محبت کا مذاق اڑایا تھا۔۔اسے یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی کہ پہلے اسکی بہن اسکی خوشیوں کی قاتل بن گئی تھی اب دوست نے بھی اس کی محبت چھین لی۔ وہ جنونی انداز میں اپنے بال نوچنے لگی۔ کمرے میں ادھر اُدھر ٹہلتے وہ اپنے ہواس کھونے لگی تھی۔ مہمان جاچکے تھے۔ ہال سے آنے والے قہقہے اس کا خون جلا رہے تھے۔ مہد بھی موجود تھا۔ وہ شدید غصے کے عالم میں روم سے نکل آئی اور آکر مہد کا گریبان پکڑ کر زور سے چلائی
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے دھوکہ دینے کی۔ ادھر میرے ساتھ دل بہلا رہے تھے اور میری آنکھوں میں دھول جھونک کر دوسری طرف شزا کے ساتھ عاشقی لڑا رہے تھے۔” مہد نے اسکے دونوں ہاتھو کو زور سے جھٹک کر اپنی شرٹ ٹھیک کردی۔
” یہاں سب جانتے تھے کہ میں شزا میں انٹرسٹڈ تھا۔ تم خود ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئی تھی۔ میں تو شزا کے حوالے سے تمہیں پیار سے ٹریٹ کر رہا تھا۔” مہد صاف مکر گیا
” شزا !! تمہارے سامنے یہ میرے روم میں آتا تھا نا۔ مجھے اپنی محبت کا یقین دلانے۔ تم بولو نا سب کو۔” اب اسنے شزا کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا۔
” جھوٹ کیوں بول رہی ہو تم.!! مہد نے کبھی آنکھ اٹھا کر تمہیں دیکھا تک نہیں۔ اور پھر تم خود گواہ تھی کہ میں اور مہد کتنے کلوز تھے۔ انفیکٹ تمہاری مخبری کی بدولت ہی تو آج ہم ایک دوسرے کے قریب آگئے اور ایک دوسرے کو پالیا۔ تم نے ہی وہ ویڈیو بنا کر سب کو دکھائی تھی نا۔ شاید ہم خود اس بات کا اقرار کبھی نا کرتے کہ ہم ایک دوسرے کو چاہنے لگے ہیں۔ یہ سب تمہاری مہربانی ہے کہ بات بڑے بزرگوں تم پہنچی ۔۔” سوہا کا بنایا گیا پلان اس پر بھاری پڑنے لگا۔
” تت۔تم سب ملے ہوئے ہو نا۔!! میں مہد سے پیار کرتی تھی تم نے مجھ سے میرا پیار چھین لیا۔” سوہا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کھڑے کھڑے شزا کا گلہ دبائیں۔
” ارے سوہا !! اتنا پینیک ہونے کی کیا ضرورت۔؟ جب تم نے مہد اور شزا کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا تب تمہاری محبت گھاس چرنے گئی تھی۔ ہم سب کے کانوں میں بات ڈالنے والی تم خود تھی۔ اگر تمہیں مہد سے اتنا ہی پیار تھا تو سب کے سامنے اس کے کردار پر کیچڑ کیوں اچھالا۔ اسے بدنام کرنے کی کوشش کیوں کی۔ اور دوسری بات تم تو آہل سے بھی پیار کرتی تھی نا۔ مجھے سے کتنی بار بولا کہ میں اس سے دستبردار ہو جاؤں اور اپنا شوہر تمہاری جھولی میں ڈال دوں۔ وہاں تمہاری دہی نہیں جمی تو مہد پر لائن مارنا شروع کردیا۔” زر بھی آج حساب کتاب چکتا کرنے سامنے آگئی
” ہاں کرتی تھی آہل سے پیار ۔ کتنا سمجھایا تمہیں کہ اسے چھوڑ دو۔ مگر تمہیں تو اپنے ہونے والے بچے پر بڑا گھمنڈ تھا نا۔ تو اسطرح چھٹکیوں میں تمہارا غرور میں نے خاک میں ملا دیا۔ تمہارے بچے کو گرانے کا پلان میرا تھا۔ ساتھ میں تمہیں بھی دنیا سے اٹھوانے کا, مگر منخوس قسمت بہت اچھی پائی ہے تم نے۔ زندہ بچ گئی۔” سوہا بدخواسی کے عالم میں اپنے منہ سے زہر اگلنے لگی جسے سن کر سب لوگ اپنی جگہ ساکت و جامد رہ گئے
” چٹاخ خ خ خ !!!!!! آہل کا ہاتھ اٹھا تھا اور پوری شدت سے سوہا کے چہرے پر پڑا کہ وہ لڑکھڑا کر دور جاگری اور منہ سے خون کا پھوارا نکلا۔
” میں تمہاری غلطیوں کو نادانی سمجھ کر اگنور کرتا رہا کیونکہ تم زر کی چھوٹی بہن تھی۔ اور میں اپنی بیوی سے جنون کی حد تک عشق کرتا تھا۔ اسکے صدقے تمہاری حرکتیں نظر انداز کرتا۔ مگر تم اتنا گر سکتی ہو کہ اپنی ہی بہن کی کھوکھ اجاڑنے چلی تھی۔ قاتل ہو تم میرے بچے کی۔اپنے باپ چچا کے ساتھ تمہیں بھی جیل بھجوا دینا چاہیے تھا۔ “” اہل زخمی شیر کی طرح دھاڑا۔۔۔
” خبردار کسی نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو میں اپنی جان دے دوں گی۔” پلک جھپکتے ہی پاس پڑے فروٹ باسکٹ سی چھری اٹھا کر وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
” سوہا !! کیا بچپنا ہے۔ پھینک دو چھری۔ کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔” اذلان کو اپنی بہن سے اس پاگل پن کی توقع نہیں تھی۔
” کوئی بھی قریب نہیں آئے گا ورنہ میں کچھ غلط کربیٹھوں گی۔۔” اذلان کی بات کو سراسر نظر انداز کرکے وہ اپنے روم کی طرف بڑھنے لگی کہ حدید نے پھرتی سے اسکی کلائی پکڑ کر اسکے ہاتھ سے چھری لے کر پھینک دی اور ایک زوردار چھانٹا اسے رسید کی۔ تو وہ زمیں پر بیٹھ کر ہذیانی انداز میں چلانی لگی۔
” مجھے جیل نہیں جانا۔ میں قاتل نہیں ہوں۔ مجھے مہد چاہئے۔ وہ صرف میرا ہے۔” اپنے بالوں کو مٹھیوں میں دبوچ کر وہ نوچنے لگی کہ اذلان اس کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا اور اسے سینے سے لگایا۔ باپ سلاخوں کے پیچھے تھا۔ اب اسے باپ کا فرض نبھانا تھا۔۔اسکی بہن کم عمر تھی۔ جو بھی کیا تھا اسکی نادانی تھی۔ وہ اسطرح اپنی بہن کو ٹوٹتے بکھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
” تمہیں کوئی کہیں نہیں بھیجے گا۔ میں ہوں نا۔ تمہارا بھائی۔ مہد تمہارا کبھی تھا ہی نہیں۔ وہ شزا سے پیار کرتا ہے۔ تم سراب کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ کیا کمی تھی تم میں جو خود کو اتنا بے مول کردیا تم نے ” اذلان نے اسے خود میں بھینچ لیا۔
” انجام کی پروہ کئے بغیر یہ بھی باپ کے نقش قدم پر چلنے لگی تھی۔ اچھے برے میں فرق کرنا بھول گئی تھی۔ یہی ڈیزرو کرتی ہے یہ کہ اسے پولیس کے حوالے کردیا جائے۔ کچھ وقت قید میں رہے گی تو ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ کہیں کا نہیں چھوڑا اس لڑکی نے ہمیں۔” ثوبیہ بیگم اپنی بیٹی کی طرف دیکھ کر تلخی سے گویا ہوئی۔تو عاتکہ نے تاسف سے اپنی بھابھی کو دیکھا جس کے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے۔
” چھوڑو مجھے۔ مجھے زندہ نہیں رہنا۔ پیار کرنا گناہ تو نہیں۔ میرے ماتھے پر ہر بار کیوں ریجیکشن کا ٹھپہ کیوں لگتا ہے۔” سوہا اتنی بےدردی سے چلائی کے منہ کے ساتھ ساتھ ناک سے بھی خون کا پھوارا بہنے لگا۔ اور وہ اذلان کے بازوؤں میں جھول گئی ۔
” سوہا۔۔۔!!!! اسکے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر اذلان کے سانسیں بھاری ہونے لگی۔۔اسے باہوں میں بھر کر وہ خواس باختہ باہر کیطرف دوڑا۔ حدید اور اسامہ بھی اسکی تقلید میں چل پڑے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” ذیادہ سٹریس لینے کی وجہ سے پیشنٹ کا بی پی شوٹ کرگیا تھا۔ اس وجہ سے بلیڈنگ شروع ہوگئی تھی۔ شکر ہے دماغ کی شریان نہیں پھٹی۔ ورنہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی۔” ڈاکٹر مے ایمرجنسی سے نکل کر اذلان سمت سب کو سوہا کی کریٹیکل کنڈیشن کے بارے میں بتایا۔
” اب کیسی ہے وہ؟؟ اذلان نے بےتابی سے پوچھا۔
” ابھی وہ خطرے سے باہر ہے۔ لیکن انڈر ابزرویشن ہے۔” ڈاکٹر انہیں ہدایات دے کر چلا گیا۔
” ڈونٹ وری!! سب ٹھیک ہو جائے گا۔” حدید نے اذلان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا۔
” ہماری سوہا ایسی تو نہیں تھی۔ پتہ نہیں کونسی احساس محرومی کا شکار ہوگئی تھی۔ کہ عقل پر پردہ پڑ گیا تھا۔” اذلان کو رہ رہ کر سوہا کی بے وقوفی ہر غصہ آرہا تھا
” ہوجاتا ہے یار !!! بچی تھی۔ کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو حاصل کرنے کی لگن میں اندھی ہوکر ہر چیز سے غافل ہوجاتی ہے۔” حدید کے لئے خود سب ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔
” میں پیار کرتا تھا اس سے. مگر کبھی اسے بتانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی مجھے۔ اور تمہیں بتا کر خود سے بدگمان نہیں کرنا چاہتا تھا” حدید نے قدرے خجالت سے سر جھکایا۔
” تت۔تم۔۔ تم مجھے بتا سکتے تھے نا۔ ہم ہر بات شئیر کرتے تھے۔ ہمارے درمیان کب یہ بدگمانی کی دیوار حائل ہوگئی۔” اذلان تو دم سادھے کھڑا اسے تکنے لگا
” میں اب بھی اسکی تمام غلطیوں کو بھلا کر اسکا ہاتھ تھامنے کے لئے تیار ہوں۔ میں اسے ماضی کا کوئی بھی حوالہ دئے بغیر اسے اپنا کر سدھار لوں گا۔ اپنی محبت سے اسے سمیٹ لوں گا۔ اسے اتنا پیار دوں گا اتنی توجہ دوں گا کہ وہ اپنے ماضی پر ماتم کناں ہونے کے بجائے اپنی خوش نصیبی پر رشک کریے گی۔ بس تم اسے میرا ہمسفر بنا دو۔” اذلان کو اس وقت حدید کسی فرشتے سے کم نہیں لگا۔ جو اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی اپنی محبت سے دستبردار نہیں ہوا۔ اذلان کی کندھوں سے جیسے بھاری بوجھ سرک کیا اور بے اختیار حدید کو گلے لگایا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تین مہینے بعد ۔۔۔۔۔
واووو آپی!! یو لک گارجییس… آپکو دیکھ کر آج مہد بھائی کے ہوش اڑنے والے ہیں۔” اسامہ نے مہندی کے سوٹ میں ملبوس شزا پر ستائش بھری نظر ڈالی تو تعریفوں کے پل باندھنے شروع کردیے۔
” اور تم بھی اتنے کیوٹ لگ رہے ہو ” شزا نے اسامہ کو گال پہ کس کیا۔
” سحر!! زرا یہ ماتھا پٹی ٹھیک کروادوں۔” شزا نے پاس بیٹھی سحر کو محاطب کیا تو اسامہ کی نظریں بلارادہ سحر پر گئی جہاں وہ گرین کلر کا فراک پہنے, کھلے بالوں میں موتیاں لگائے بالکل ڈول لگ رہی تھی۔ تو نظریں ہٹنے سے انکاری ہوگئے۔
” کوئی اتنا حسین کیسے ہوسکتا ہے۔” اسامہ کی بڑبڑاہٹ سحر نے بآسانی سنی تو وہ کان کی لو تک سرخ ہوگیی۔
” اسامہ !! چلو باہر نکاح خواں آگیا ہے۔” ابھی وہ کچھ دیر ایسے ہی سحر کو آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا کہ حدید نے اسے بلایا۔
” جی !! سر جھٹک کر وہ حدید کے پیچھے باہر نکل گیا لیکن کتنی دیر تک سحر اسکے الفاظ کے طلسم میں گرفتار رہی۔
” بھائی!!! راہداری میں گزرتے ہوئے اس نے حدید کو پکارا ۔
ہاں !! حدید ایڑھیوں کے بل گھوما
” سحر مجھے اچھی لگتی ہے۔ آپ موم اور اہل بھائی سے بات کرے نا۔” بغیر لگی پٹی دل کی بات کہہ ڈالی۔
” ابھی اٹھارہ سال کے ہوگئے ہو تم۔ کچھ زیادہ جلدی نہیں۔؟؟ حدید نے اسکی کم عمری کو نشانہ بنایا۔
” وہ بھی اٹھارہ کی ہے۔ اور ہم کونسا ابھی شادی کرنے والے ہیں۔ بس نکاح پڑھوا دےتو۔۔۔۔” اسامہ کی جلدبازی پر حدید کی ہنسی چھوٹ گئی۔
” بات کرتا ہوں آہل سے۔” ابھی تو میری اور مہد کی شادی ہونے دو , بعد میں تمہارا بھی پڑھوادیں گے۔” حدید نے اسے خود سے لگایا تو اس نے جلدی سے حدید کے رخسار پر بوسہ دیا
“تھینکس بھائی۔!!
سوہا کی طرف سے اذلان اور حدید نے سب سے معافی مانگی۔ سب نے اسے دل سے معاف کیا تھا کیونکہ وہ اس گھر کی بیٹی تھی ان کا خون تھا۔ بلا وہ کیسے منہ موڑ سکتے تھے۔ مگر آہل سب کچھ اتنی جلدی فراموش نہیں کرسکتا تھا۔ بقول اس کے, کچھ دکھوں کا مداوا نہیں ہوتا۔ کچھ نقصان زندگی بھر کے لئے ہوتے ہیں۔اور اس کا ظرف اتنا بڑا نہیں ہے۔ لیکن زر کے کہنے پر اس نے سوہا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔۔ اور پھر سوہا بغیر کسی خیل و حجت کے حدید کے رشتے کے لئے بھی مان گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” تم نے چینج کیوں کیا؟؟ تمہیں زر نے میرا پیغام نہیں بھجوایا کہ میں ملنے آرہا ہوں۔”
مہندی کے ڈریس کے بجائے سوہا کو فارمل ڈریس میں دیکھ کر حدید کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا۔
” وہ کپڑے مجھے چھب رہے تھے۔ یہ دیکھیں میری پوری گردن اور بازو پر سرخ نشان پڑ گئے ہیں۔ ” ہالف سلیوز شرٹ میں اسکے دودھیا بازوؤں پر جگہ جگہ سرخ نشان واضح دکھائی دے رہے تھے۔ جو حدید کو بھلے لگ رہے تھے۔
دو قدم کا فاصلہ مٹا کر وہ سوہا کے قریب آیا تو وہ اس کے آنکھوں کے والہانہ پن سے گھبرا کر پیچھے ہوگئی۔ اور بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر شانوں پر پھیلایا تو بازوؤں بھی چھپ گئے۔
” دور سے دکھائی نہیں دے رہا تھا کچھ۔۔ شائد قریب سے دکھ جائے۔ بتاؤ کہاں درد ہورہا ہے” اس کے بازو پر سے دوپٹہ ہٹا کر وہ نشان پر انگھوٹھا پھیرنے لگا تو سوہا کی دھڑکنوں میں تلاطم برپا ہوگیا
” مم۔ میں ٹھیک ہوں۔ آپ چلے جائیں یہاں سے۔ کل شادی ہے نا۔ پھر رخصتی کے بعد دیکھ لیجیے گا” سوہا کا خلق خشک ہونے لگا۔
” کل تک کون کافر انتظار کی سولی پر لٹکتا رہے گا۔ کل کس نے دیکھا ہے۔ ویسے ہمارے خاندان کی برسوں پرانی روایت ہے نا, نکاح کے بعد بیوی سے ملتے ہیں۔ مبارک باد دیتے ہیں۔” اسکے وجود کو دوپٹہ کے بوجھ سے آزاد کرکے اس کے چہرے کو ہاتھ کے پیالے میں بھر کر پیشانی پر محبت کا پہلا مہر ثبت کردیا۔ تو سوہا نے زور سے آنکھیں میچی۔ حدید کے لبوں نے ماتھے سے چہرے تک کا سفر کیا اور اسکے دونوں رخساروں پر باری باری لب رکھ کر سوہا کو لڑکھڑانے پر مجبور کیا۔ اس نے بلا ارادہ حدید کے گرد حصار بنایا تو حدید اسکے اس عمل سے اور بھی بہکنے لگا۔ اور اسکے لبوں پر جھک کر اسکی سانسیں ضبط کیے۔ کافی دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد وہ پیچھے ہوا تو سوہا لمبے لمبے سانس لیکر اسکے سینے میں منہ چھپا گئی۔
” بس اتنے سے میں نڈھال ہوگئی۔ کل کیا کروگی مسز ؟؟ حدید نے سکے بکھرے سراپے کو مخمور نظروں سے دیکھا۔
” کل آپ کے آنے سے پہلے میں روم لاک کرکے سوجاوں گی۔” سوہا نے بوکھلاتے ہوئے کہا تو حدید نے بے ساختہ قہقہ لگایا ۔
” اچھی کوشش ہے۔ تو پھر کیوں نا کل کا کام آج ہی نبٹائے۔ آج ہی ہم سہاگ رات منا لیں گے۔” حدید کی بات کا مفہوم سمجھ کر سوہا کا دل اچھل کر خلق میں اٹک گیا۔
” نن۔نہیں !! میں مذاق کر رہی تھی۔” سوہا نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔ تو حدید اسکے گردن پر جھک گیا اور وہاں بنے نشان پر نرمی سے لب رکھ دیے۔
” جا رہا ہوں میں۔ میری شدتوں کو برداشت کرنے کے لئے آج خود کو مینٹلی تیار کرو۔ کل ترس نہیں کھاؤں گا۔” اسکے لرزتے ہاتھوں کو گرفت میں لیکر باری باری اسکی بھیگی ہیتھیلیوں پر ہونٹ رکھ کر وہ چلا گیا۔ تو سوہا نے شکر کا کلمہ پڑھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بارات والے دن۔۔۔۔۔
” ہاؤ سویٹ !! تم میرے انتظار میں اس طرح سج دھج کے بیٹھی تھی۔” مہد سب سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے بعد روم میں آیا تو اسے اس طرح محو انتظار دیکھ کر ,اس کے چہرے کے خوبصورت نقوس پر نگاہیں مرکوز کرکے وہ بہکے بہکے انداز میں محاطب ہوا تو شزا کا دل جیسے کنپٹی میں دھڑکنے لگا۔
” قسم سے تمہارا یہ ماہتاب جیسا مکھڑا دیکھنے کے بعد میں بہکنے لگتا ہوں۔” اس کو اپنے حصار میں لے کر وہ خود میں بھینچ گیا۔
” جو کام اس دن ادھورا چھوڑا تھا آج پورا کریں؟؟ مہد کی زومعنی بات پر اس نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تو کاجل سے لبریز آنکھوں نے مہد کو سحر زدہ کردیا اور اس نے بادی باری اسکے آنکھوں پر بوسہ دیا۔
” وہ بارش میں چھت پر ہم جو بھیگ گئے تھے۔ بہک گئے تھے۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” ششش!!! اس کے الفاظ کی حدت محسوس کرکے شزا کانپ اٹھی اور اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
” آج تو کوئی روک ٹوک نہیں. کوئی حد نہیں۔ اور رشتہ بھی جائز… تو کیوں نا اس پلوں کو جی بھر کر جی لے۔” پورے استحقاق کے ساتھ شزا کے لبوں پر جھک کر وہ شیرین جام پینے لگا تو شزا نے بھی مزاحمت ترک کردی۔ اور اسکے سنگ بہکنے لگی۔ مہد ایک ہاتھ سے اسکی جیولری کو احتیاط سے اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہا تھا۔
” مہد !!! اسکی انگلیوں کا لمس گردن پر موجود ہار پر محسوس کرکے وہ جھٹکا کھا کر دور ہوئی۔
” کچھ نہیں ہوگا میری جان !! اس کا خوف محسوس کرکے وہ دو بارہ اسے کسی مومی گڑیا کی طرح سینے سے لگا گیا تو وہ مچلتی ہوئی اسکے گردن میں بازوؤں حمائل کرگیئ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
پانچ سال بعد !!!!!
” زر !! جلدی کرو یار !! کافی دیر ہوگئی ۔۔ بچوں کو تیار کرنے میں تم نے تین گھنٹے لگا دئے ۔ اسامہ کب سے کال کر رہا ہے۔” آج اسامہ اور سحر کی منگنی اور نکاح کی رسم ادا کی جارہی تھی۔ امان میر کے رہائی کے فوراً بعد اسامہ نے انہیں اپنی پسند سے اگاہ کیا تو امان میر نے بیٹے کی خوشی کے لیے ہامی بھرلی۔
” ہاں جیسے آپ کے بچے آپکی طرح بہت شریف ہیں۔۔ شرافت سے تیار ہوجائیں گے نا۔ آدھا گھنٹہ تو اپنے پیچھے جانوروں کی طرح دوڑایا تب جاکر ہاتھ لگے۔” زر دونوں بچوں کی شرارتوں سے نالاں تھی۔ ان کو اللّٰہ نے آزمائشوں کے بعد ایک بیٹی ارین اور بیٹے کاشان سے نوازہ تھا۔ جو اہل کی طرح انتہائی ڈھیٹ ثابت ہوئے ۔۔ماں اور دادی کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
” میری شہزادی تو آج مخفل لوٹ لے گی۔؟؟ کامل نے چار سال کی ارین کو گود میں اٹھا کر پیار کیا۔۔
” ددا میں ؟؟ چھوٹس کاشان باپ کی طرح بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس کافی پیارا لگ رہا تھا۔
” ہاں !! کچھ خاص نہیں۔!! کامل کو پوتے کی نسبت اپنی پوتی سے حددرجہ لگاؤ تھا۔
” ددا آپ گندھے ہو!! ددو سویٹ ہیں۔” کاشان نے پیار سے عاتکہ کے گردن میں بازو حمائل کرکے حساب برابر کردیا
اذلان اور عنایہ کا ایک بیٹا تھا حسان۔ حدید اور سوہا کی دو بیٹیاں تھی۔ کومل اور مومل۔ مہد اور شزا کی بھی ایک بیٹی تھی مشل۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آپی !! میں کب سحر سے ملوں گا۔ حدید بھائی اور مہد بھائی بھی تو نکاح کے فوراً بعد اپنی بیویوں سے ملے تھے نا۔” بےچینی سے ادھر اُدھر ٹہلتے اسامہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو زر اور سوہا کے سروں پر سوار ہوکر بےقراری سے استفسار کیا۔
” سوری برو !! وہ رسم پانچ سال پہلے ختم کردیا گیا تھا۔” حدید نے پیچھے سے اسامہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ مصنوعی تاسف کا اظہار کیا۔
” ایسے کیسے ختم ہوگیا۔ میں نہیں مانتا۔ مجھے اپنی بیوی سے اکیلے میں ملنا ہے۔ ” اسامہ ضدی بچے کی طرح پھسپھسایا تو اس کی معصومیت پر ہال سب کی گلہ پھاڑ قہقہوں سے گونج اٹھا۔۔۔ بافی کھٹن آزمائشوں کے بعد خوشیوں نے دروازے پر دستک دی تھی۔
