Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 22
” آہل !! کیسا لگ رہا ہوں میں؟؟ مہد نے کوئی دس دفعہ بالوں کا اسٹایل چینج کرکے سامنے بیٹھے آہل کو محاطب کیا۔
” جنگلی بلے لگ رہے ہو.” آہل نے تنگ آکر دانت چبائے۔
” میری پرسنالٹی سے جل رہے ہو تم۔” مہد آج تھری پیس سوٹ کے بجائے فارمل سا ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہن کر آیا تھا۔ جس میں وہ کہیں سے بھی پچس سال کا خوبرو مرد نہیں لگ رہا تھا بلکہ بیس سال کا کوئی لا ابالی نوجوان دکھ رہا تھا۔ ہمیشہ جل سے سیٹ کئے گئے بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے۔ چہرے پر ازلی سنجیدگی کی جگہ شوخی اور شرارت کے تاثرات تھے۔۔ آہل نے بغور اسکے سراپے کا معائینہ کیا۔
” تمہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے پتہ ہے کیسی فیلنگز آرہی ہے۔؟؟ آہل کی شرارتی حس پھڑکنے لگی۔
” خبردار جو االٹی سیدھی بکواس کی۔ ” اس سے پیشتر ہی مہد نے اسے کچھ بھی بولنے سے باز رکھا۔
” ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ گلی کا کوئی لوفر, آوارہ اور سرپھرہ لڑکا۔۔ بس ایک چیز کی کمی ہے گلے میں برا سا سونے کا چین لٹکا دو اور دو تین انگھوٹھیاں پہن لو۔ سلطان میر کے بیٹے کو ایسا ہی لگنا چاہئے نا۔ اور یاد ہے لہجہ و انداز تم نے ایک بد اخلاق اور بدتہذیب لڑکے جیسے اپنانا ہوگا۔ ” آہل نے اسے ایک بار پھر یاد دہانی کروادی۔
” بے فکر ہوجاؤ تم۔ میرے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کردو۔ تاکہ میں اپنے لئے شاپنگ کروں۔میرے پاس اعلی قسم کے برانڈڈ سوٹ ہیں۔ جس کو پہن کر میں کم از کم حویلی نہیں جاسکتا” مہد اس کے سامنے چئیر پر بیٹھ کر کہنیاں ٹیبل پر ٹکا کر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
” تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں تمہارے روم میں پہلے سے موجود ہوں گی۔ میری پی اے کے توسط سے۔” آہل اپنی زمہ داریاں بخوبی جانتا تھا۔
” مطلب مجھے اپنے ایکٹنگ کی پے منت بھی نہیں ملے گی۔ میری محنت کا معاوضہ ؟؟ مہد کو تو پتنگیں لگ گئی آہل کی بے نیازی پر
” وہ تو پھر تمہاری ایکٹنگ پر ڈیپینڈ کرتا ہے نا کہ تم کتنے پانی میں ہو۔ اسکے بعد طے کریں گے۔ مگر یاد رکھنا تھوڑی سی بھی اونچ نیچ ہوگئی میں نے تمہارا ٹنڈ کروانا ہے۔” آہل نے لاکر کھول کر ایک ڈائری اسے تھما دی۔
” ہےےےے۔ بھائی صاحب کام تو ایسا ہوگا کہ تم لوگ مجھے ایوارڈ سے نواز دوگے۔ اینی وے یہ کیا ہے۔” مہد نے ڈائیری کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔
” یہ میری پھپھو کی ڈائری ہے۔ جو ان کی زندگی کی کٹھن راہوں کی ساتھی تھی۔ جب ان کے پاس دل کا بوجھ ہلکا کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ تب انہوں نے یہ ڈائری لکھنی شروع کردی تھی۔ سلطان میر کچا کھلاڑی نہیں ہے جس کو تم اتنی آسانی سے شکنجے میں پھنسا سکتے ہو۔ تمہیں اس ڈائری سے کافی ہلف ملے گی۔” آہل کے آنکھوں میں ٹوٹی کانچ جیسی چھبن تھی۔
” آہل !! میں پرامس کرتا ہوں تمہاری پھپھو کو انصاف دلوانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاؤں گا۔” مہد کو اس سے ہمدردی تھی۔
” ان شاءاللہ..!!! آہل نے سر اثبات میں ہلایا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” کون ہو تم۔؟؟ یہ کونسا طریقہ ہے شریفوں کے گھر میں اسطرح بےشرموں جیسے حلیے میں گھسنے کا۔اور یہ سکیورٹی والے کوئی نشہ کرکے سوئے ہیں کیا؟؟” سلطان میر اور ایاز میر رات گئے تک حویلی کے بیٹھک میں بیٹھ کر باہم گتھ جوڑ کر رہے تھے اور ابھی تھوڑی دیر قبل ہی فری ہوکر حویلی کے اندر داخل ہوئے کہ ہال کے دروازے پر کسی سے زوردار تصادم ہوا۔ سامنے نشے میں دھت سرخ ڈوروں والی آنکھیں , کھلا گریبان جس سے سونے کی موٹی چین نظر آرہی تھی ہاتھ میں شراب کی بوتل پکڑے ہوئے شخص سے ٹکراؤ ہوا۔
” آپ۔ کی. اطلاع ۔کے۔ لئے۔ عرض۔ہے۔کہ۔میں شریف۔بندہ۔ بلکل ۔بھی۔نہیں۔” سلطان میر کی طرف دیکھ کر اٹک اٹک کر بول کر خباثت سے آنکھ کا کونا دباکر بوتل کو منہ سے لگایا تو سلطان میر کا منوں خون جلاگیا۔
” نکلو یہاں سے فوراً ۔” سلطان میر نے اسے بازو سے پکڑ کر باہر کی طرف دھکا دیا کہ دو مضبوط ہاتھوں نے اسے بروقت گرنے سے بچایا۔
” سنبھل کے۔” حدید نے اسے سیدھا کھڑا کیا مگر ذیادہ شراب پینے کی وجہ سے اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔
” یہ آپکا بیٹا ہے۔ مل لیا نا۔ حرام رشتے سے پیدا ہونے والے بچوں میں تہذیب و اخلاق کی کمی ہوتی ہے۔ اب باپ کا اتا پتہ نہیں ہوتا, لوگ ناجائز کہہ کر دھتکارتے ہیں۔ کوئی اس کی ماں پر بدکرداری کا ٹھپہ لگواتے ہیں تو پھر ایسے بچے جنم لیتے ہیں۔ ویسے بھی لوگ کہتے عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہے۔ باپ کی عیاشی کا کچھ اثر خون میں تو شامل ہوگا۔ شائد حویلی میں رہ کر سدھر جائے۔” حدید نے اسکے ہاتھ سے بوتل لینی کی کوشش کی جس کو اس نے اپنے پیچھے چھپایا۔
” یہ میرا بیٹا نہیں ہوسکتا۔ میں نے کبھی اس حرام مشروب کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔” سلطان میر نے ایک تنفر بھری نظر سامنے کھڑے لڑکے پر ڈالی۔
” ہاں بالکل۔ تم ۔تو۔صرف۔ معصوم۔ عورتوں کو ۔چھوتے۔ ہو۔ نا۔۔وہ تو حلال ہوتی ہے۔ ہاہاہاہاہا۔ مہد کے آنکھوں میں کمینگی کے تاثرات ابھرے۔
” میں مان ہی نہیں سکتا کہ تم میرے بیٹے ہو؟؟ سلطان میر بغور مہد کے چہرے کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
” ایسے غور سے مت دیکھیں مجھے۔ بدقسمتی سے مجھے اپنی ماں سے وراثت میں کچھ نہیں ملا جو تمہیں یہ باور کروادے کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔” مہد نے ایک جھٹکے سے اس سے خیالوں نکال کر حقیقت کی دنیا میں پٹخ دیا
” سلطان میر بھڑک کر اسکے پاس آنے لگا کہ کان کے نیچے دو تین جھڑ دے مگر ایاز میر نے اسے روک لیا۔
” بھائی صاحب!! ہمارے گھر میں جوان بچیاں ہیں۔ میں کیسے اس نجس وجود کو اپنے گھر رکھ سکتا ہوں۔” سلطان میر منہ سے زہر اگل رہا تھا۔
” کول کول ڈئیر فادر!!! تم بھی تو رہ رہے ہو نا یہاں۔ تمہیں بھی تو جھیل رہے ہیں یہ لوگ۔ تم کونسے آب زمزم سے دھلے ہوئے ہو۔ میں تو پھر بھی فرشتہ صفت انسان ہوں تم سے لاکھ درجے بہتر۔ میں لڑکیوں کا ریپ نہیں کرتا۔ کیا بولتے تھے تم میری ماں سے۔۔؟؟ ہاں یاد آیا ۔۔۔کہ تم نے کتنی لڑکیوں کے ساتھ راتیں رنگین کی ہے جو اپنی مرضی سے تمہارے بستر کی زینت بنتی ہے, مگر تم نے کبھی انہیں دوسری نظر سے دیکھا نہیں بس ہوس پوری کی اور چلتے بنے۔ اور میری ماں سے تمہیں شدید قسم کا عشق ہوا تھا۔ شادی بھی کرنا چاہتے تھے مگر خاندان آڑے اگئی۔” مہد کی کنپٹی کی رگوں میں خون کی گردش بڑھنے لگی۔ کل رات وہ جس وقت صدیقہ کی ڈائری پڑھ رہا تھا وہ اذیت کی انتہاؤں پر تھا اس کے ایک ایک لفظ پر مہد خون کے آنسو رو رہا تھا۔ اور اس وقت وہ پورے من سے صدیقہ کے بیٹے کا کردار نبھا رہا تھا۔ اور شراب کی بوتل پورے زور سے زمین پر پھینک دی جبکہ سلطان میر کو لگا کہ اس کی سماعت میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا ہو۔ حقیقت ہے درپے اس کے منہ پر تھپڑ مار رہے تھے۔
” جس طرح نوچ نوچ کر میری ماں کی عزت کی دھچیاں اڑا دی تھی نا اسی طرح تمہارے جسم سے سارا گوشت نوچ کر کتوں کو کھلاؤں گا۔” مہد متورم اور ناگوار آنکھوں میں جھلاہٹ لئے سلطان میر سمیت ایاز میر پر ڈال کر تلخی سے گویا ہوا۔
” چلو ماہی روم میں.” حدید نے اسے بازو سے پکڑ کر روم کا راستہ دکھایا۔
” تم واقعی ڈرنک ہو ؟؟ حدید نے اسے کمرے میں صوفے پر بٹھاکر تیکھی چتونوں نے گھورا۔
” میں شراب نہیں پیتا۔ یہ تو ان لوگوں کو اپنی تربیت دکھانے کا چھوٹا سا ٹریلر تھا۔۔” مہد نے پاس پڑے ٹیبل کے اوپر سے جگ اٹھا کر پانی پیا۔
” تمہارا کوئی کنکشن ہے عنایہ کی موم کیساتھ؟؟ حدید چند ثانیے پہلے اسکے انکشاف پر متخیر تھا۔ جو اسکے باپ کے چھکے چھڑا گیا تھا۔
” ہاں۔!!! کل رات سے ایک بیٹے کے درجے پر فائز ہوا ہوں۔ اور مجھے قطعی کوئی شرمندگی نہیں ہے اس عورت کا بیٹا بننے میں جو ریپ ویکٹم تھی۔” مہد نے خالی گلاس ٹیبل پر پٹخ دیا۔
” تم ریسٹ کرو۔۔ اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تمہیں ٹھنڈا اور پرسکون رہنا ہوگا۔” حدید اسکا کندھا سہلا کر چلا گیا۔ اور آہل تو پہلے سے پوری زمہ داری اسے سونپ کر خود کو بری الزمہ قرار دے چکے تھے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” اوہ مائی گاڈ!!! مہد بھائی آپ یہاں کیسے ؟؟؟ عنایہ کو ہال میں صوفے پر بٹھا کر اذلان اسکے لئے ناشتہ لینے کچن میں گیا تو مہد کو اپنے گھر میں دیکھ کر عنایہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے۔
” ہائے صدقے بھائی کے!! کسی نے آپ کو بتایا نہیں میں یہاں صدیقہ کا بیٹا بن کر آیا ہوں۔ تمہارے حصے کا ادھورا کام مکمل کرنے۔ ” مہد نے بے تکلفی سے اسکے پاس بیٹھ کر اسکی چھوٹی سی ناک کو ٹچ کیا۔
” بتایا تھا اذلان نے لیکن آپکا نہیں بولا تھا کہ آپ آئیں گے۔” عنایہ نے تشکرانہ نظروں سے اسے دیکھا۔
” اسلام وعلیکم اینڈ گڈ مارننگ !! شزا بوجھل اعصاب کے ساتھ بالوں کا رف سا جوڑا بنا کر عنایہ کے قریب آئی اور اسکے گال پر پیار کیا۔ تو اس کے پاس بے تکلفی سے بیٹھے انجان شخص کو دیکھ کر اس نے جلدی سے گلے میں ڈالا دوپٹہ سر اور شانوں پر پھیلایا۔
” مائی سیلف مہد!! مہد کھڑے ہوکر پلک چھپکائے بغیر حسن کی اس دیوی کا سرتاپا جائزہ لینے میں محو ہوگیا۔
” ہیلو مہد !! تم ملے ان سے, یہ تمہاری بہن ہے شزا….” ابھی وہ کچھ دیر اور شزا کو اپنی آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا کہ اپنے کندھے پر زور کا دباؤ محسوس کرکے وہ گڑبڑایا۔
” بھائی…!!! شزا کے لب بے آواز ہلے۔۔ سامنے کھڑے چھ فٹ کے خوبصورت اور وجیہہ نقوش والے شخص کو دیکھ کر اس کی دھڑکنوں کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا۔ خوبصورت سلکی بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔ شرٹ کے اوپری تین بٹن کھولے ہوئے جس میں سونے کی موٹی سی چین بھلی لگ رہی تھی۔ مٹی کا مادھو بن کر وہ اس بالکل انگریزی لک والے شخص کو تک رہی تھی۔ جبکہ بہن لفظ پر اسکے منہ کے زاویے بگڑتے دیکھ کر شزا کی ہنسی چھوٹ گئی۔
” آہل بھائی !! کسی سرکس سے اٹھا کر لائے ہیں کیا آپ لوگ انہیں؟؟؟ شزا حواس یکجا کرکے اپنی کیفیت پر قابو پاکر شرارت سے گویا ہوئی
” ہاں۔!! سرکس میں موجود ہاتھی بیمار ہوا تھا تو اس کی جگہ انہیں کچھ وقت کے لئے لوگوں کو انٹرٹین کرنے کے لئے بٹھایا تھا۔” اذلان نے پیچھے سے آکر مہد کی پشت کو سہلایا۔ اپنی اس قدر تذلیل پر وہ دانت پیستے رہ گیا۔
” عنایہ تم جلدی ناشتہ کرلو پھر چیک اپ کے لئے جانا ہے۔” اذلان نے اسکا دھیان ناشتے کی طرف مبذول کروایا جبکہ مہد ترچھی نظر شزا پر ڈال کر کچن کی سمت بڑھ گیا۔
” اسلام وعلیکم بیوٹیفل لیڈیز !!! کچھ کھانے کو ملا گا؟؟ ” کچن میں داخل ہوکر وہ بےتکلفی سے ناشتہ تیار کرتی ثوبیہ بیگم اور انیلا بیگم پر سلامتی بیچ کر کہیں سے بھی رات والا بدتمیز مہد نہیں لگا۔
” وعلیکم السلام بیٹا !! تم بیٹھو وہاں ٹیبل پر میں تمہیں ناشتہ دیتی ہوں۔” انیلا بیگم شفقت بھری نظر اس پر ڈال کر گویا ہوئی۔
” مجھے فریش جوس چاہئے ناشتے سے پہلے۔” مہد کی زبان پھسلی۔ تو جلدی سے زبان دانتوں تلے چبا لی۔
” یہ کوئی ریسٹورنٹ نہیں جو ایک آرڈر پر تمہارے سامنے من پسند چیزوں سے ٹیبل بھر دیا جائے گا۔ یہ ہماری حویلی ہے۔ جو میسر ہو غنیمت سمجھ کر ٹھونس لینا۔” مہد کی آخری بات کچن میں داخل ہوتے سلطان میر کی سماعتوں میں پڑی تو تاک تاک نشانہ بنانے لگا۔
” یہ خیال تمہیں کیوں نہیں آیا دوسروں کی عزتوں پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہ وہ بھی تمہاری زیر خرید غلام نہیں ہوتی تھی۔ جو بھوکے شیر کی طرح جھپٹ کر اپنی خوراک بناتے۔ مجھے بھی تمہاری طرح چھین کر کھانے کی عادت ہے۔” براہ راست چوٹ پر مہد کان نا دھرتے ہوئے آہستہ آہستہ انگلیوں سے ٹیبل کو بجاکر سیٹھی ہر کوئی دھن گا کر سلطان میر کے غصے کو ہوا دے رہا تھا۔
” یہ لو بیٹا !! آرام سے پی لو۔” انیلا بیگم نے اسکے سامنے فریش جوس کا گلاس رکھ کر اسکی گھنے بالوں میں انگلیاں پھیر لی تو مہد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر آنکھوں سے لگایا۔
” قسم سے اپنی ماں کی یاد دلا دی۔ “
” اپنی حد میں رہو انیلا بیگم !! اس کو سر پر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ دو دن کا مہمان ہے۔” اپنی زوجہ کو اس طرح کسی ایرے غیرے کی ظرف داری کرتے ہوئے اسکا خون کھول اٹھا۔
” میں کسی کے حکم کی پابند نہیں۔” ایک لفظ میں انیلا بیگم نے اسکو اسکی اوقات یاد دلا دی
” واوووو آپ تو شیرنی ہے۔ عورتوں کو ایسا ہی دیدہ دلیری ہونا چاہئے جو بات بات پر کاٹنے کو دوڑے۔ تب ہی مرد کو اپنے چنگل میں پھنسا سکتی یے۔” مہد نے ایک نظر سلطان میر کے سلگتے اعصاب پر ڈال کر نخوت سے ہنکارا بھرا
” ویسے آپکو برا نا لگے تو میں آپکو مام کہہ کر بلاسکتا ہوں۔” مہد نے گلاس خالی کرکے انیلا بیگم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر سنجیدگی سے استفسار کیا۔
” بالکل۔ انیلا بیگم نے اسکے ماتھے پر بکھرے بال سمیت کر اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے۔ مہد کا رویہ سلطان میر کی نسبت انیلا بیگم کیساتھ کافی مہذبانہ اور اخلاقیات سے مبرا تھا۔
” اوکے میں چلتا ہوں۔ کچھ کام ہے۔ ڈنر پر میرا ویٹ کیجئے گا۔ میں آپکے ہاتھ سے کھانا کھاؤں گا آج۔ ” مہد اٹھ کر جانے لگا تو انیلا بیگم کے قریب آکر اسکے کان میں سرگوشی کی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ آہل سے ملنے اسکے روم میں جارہا تھا کہ سیڑھیوں پر اسے باوقار سی عاتکہ بیگم اترتی ہوئی نظر اگئی۔ تو عجلت میں شرت کے تمام بٹن بند کرکے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے سیٹ کیا۔ اور کچھ دیر وہ نیچے رک کر اسکے اترنے کا انتظار کرنے لگا۔
” اسلام وعلیکم آنٹی !!! مہد نے جلدی سے اسکے آگے سر جھکایا۔
” وعلیکم السلام !! جیتے رہو۔ خوش رہو۔” عاتکہ نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔
” آپکی طبیعت کیسی یے؟؟ کتنی بار آپکے ڈفر بیٹے کی منت سماجت کرتا رہا میں۔ کہ مجھے ایک بار تو آپ سے ملوادے مگر وہ ہے ایک نمبر کا الو۔ بس ٹالتا رہا۔” مہد نے لگے ہاتھوں آہل کی شکایت کرڈالی۔ اس نے آہل کے فون میں عاتکہ کی تصویریں دیکھ رکھی تھی..براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی اور عاتکہ بھی اسے غائبانہ تعارف سے جانتی تھی۔
” آپ میرے شوہر کے بارے میں اسطرح بات نہیں کر سکتے مہد بھائی۔۔ ورنہ وہ آپکو چھوڑیں گے نہیں اور میں بچاؤں گی نہیں۔” زر آرام سے سیڑھیاں اتر کر مدافعتی انداز میں شوہر کی سائیڈ لے کر مہد کو وارن کر گئی۔
” ارے میری معصوم بہن کو بھی اپنے جیسا جلاد بنا دیا۔ تم تو ایسی نہیں تھی یار۔!!! مہد جھوٹ موٹ کی دہائیاں دینے لگا۔ تو تینوں قہقہ لگا کر ہنس پڑے۔ جبکہ ہال میں بیٹھی سوہا جو کل تک آہل کے نام کی مالا جھپتی تھی آج بے حد پرکشش نقوش کے مالک مہد کو دیکھ کر گرکٹ کی طرح رنگ بدلنے لگی۔ ویسے بھی اسکا پلان بری طرح فیل ہوچکا تھا ۔ بچہ تو نہیں بچ سکا لیکن وہ تو بچے کی ماں کو آہل کی زندگی سے نکالنے کی تگ ودو میں بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ اپنے اس قبیح فعل پر بجائے نادم ہونے کی اب نیا لائحہ عمل تیار کرنے لگی۔
سامنے کھڑے ہینڈسم سے مہد کو دیکھ کر اس کی آنکھوں کی چمک گہری ہوگئی ۔۔
” آہل اپنے روم میں ہے بیٹا !! عاتکہ بیگم نے مہد کو اشارے سے اوپر جانے کو بولا تو وہ سر ہلا کر اوپر چڑھنے لگا۔
” یہاں اپنا سکہ جمایا جا سکتا ہے۔” سوہا اب مہد کو اپنے بس میں کرنے کے لئے تدابیر کرنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آہل یار !! شزا کو دیکھ کر مجھے بالکل بھی بھائی والی فیلنگز نہیں آرہی قسم سے۔ میں بتا رہا ہوں۔ ” مہد آہل کے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھا کر خود پر چھڑکتے ہوئے بولا۔
” تو چلا جا یہاں سے۔ میں نے تمہیں اپنی پریم کہانی لکھنے یہاں نہیں بلایا۔ اگر پیار کے چکروں میں پڑ گئے تو ہمارے پورے پلان کا ستیا ناس ماروگے۔ یہ کام تو عنایہ تم سے بھی بہتر طریقے سے کرسکتی تھی۔ مگر میں لڑکی ذات کو کسی کھیل کا حصہ بنانا نہیں چاہتا۔ جانتے ہو نا کہ شطرنج میں بادشاہ کے ہوتے ہوئے ملکہ کا مہرہ کیوں نہیں ہوتا کیونکہ عورت کھیلنے کے لئے تخلیق نہیں کی گئی۔” آہل نے اسکے ہاتھ سے پرفیوم لے کر جتاتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
” کوشش تو کر رہا ہوں نا۔ مجھے معاوضہ بھی چاہئے۔ شزا کی صورت میں۔ اب تو میں نے ان کی موم کو بھی اپنی سائڈ کردیا ہے۔” مہد اپنے آپکو داد دینے لگا۔
” یہاں کی عورتیں مردوں کے مقابلے میں کافی انوسینٹ اور محبت کرنے والی ہے۔ اور تم کسی کے جذبات سے کھیلو گے بالکل بھی نہیں۔” آہل نے اسکا بازو پکڑ کر باہر کا راستہ دکھایا۔
” بے مروت انسان !! آہل کو اپنے پیچھے دروازہ بند کرکے وہ لعن طعن بھیجنے لگا ۔
” ہائے۔۔!! میں سوہا۔ زر آپی کی چھوٹی بہن اور آہل بھائی کی اکلوتی سالی۔۔۔” اپنی بوریت مٹانے وہ موبائل نکال کر گیم کھیلنے لگا تھا کہ سوہا اسکے قریب آگئی۔
” سوہا کے آگے بڑھے ہاتھ کو مکمل اگنور کرکے اس نے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑ کر کر ایکسکیوز کیا۔” میں نامحرم لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔۔” سوہا کو اپنی اس قدر توہیں پر طیش آگیا مگر ابھی اس نے حوصلے سے کام لینا تھا۔
” دیٹس گریٹ۔!! کیا میں کچھ دیر یہاں بیٹھ سکتی ہوں ؟؟ ایک ادا سے اپنے چہرے پر آتی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے اجازت مانگی۔
” تمہارا گھر ہے تمہاری مرضی۔ بیٹھنا ہے, چلنا ہے سونا ہے۔” مہد نے اس غیر متوقع پیش رفت پر رکھائی سے جواب دیکر موبائل پر نظریں گاڑ دی۔
” خبط الحواس…!! سوہا زیرلب بڑبڑائی. “ہمممم !! سمجھتا کیا ہے خود کو, ریپ سے پیدا ہونے کے باوجود اتنا اٹیٹیوڈ دکھا کر خود کو حویلی کا جانشین سمجھنے لگا ہے۔”
” کچھ کہا؟؟ مہد ماتھے پر ناگواری کے تاثرات سجا کر پوچھا ۔
” نہیں۔”” سوہا کی نظریں مہد کے نگاہوں کے تعاقب میں بلا ارادہ کچن کی طرف اٹھی جہاں شزا ہاتھ میں آئیس کریم باؤل لیکر نکل رہی تھی.
” ارے شزا…!! مہد نے نہایت دوستانہ انداز اپنا کر شزا کو پکارا۔ طبیعت میں اچانک شیرینی عود آئی۔ اسکے بدلتے تاثرات سوہا سے چھپے ہوئے نا رہ سکے۔
” جی بھائی…!!! شزا اسکے قریب اگئی۔
” یہ اپنی کزن کو تھوڑی کمپنی دو۔ بور ہورہی ہے بے چاری۔ میرے پاس ٹائم بالکل نہیں۔” مہد نے کن اکھیوں سے شزا کی طرف دیکھ کر کہا
” جی نہیں تھینکس۔!! سوہا کو اس لمحے شزا کی موجودگی ایک آنکھ نہیں بھائی۔
” ایز یو وش۔!! شزا اور مہد نے ایک ساتھ بولا تو دونوں ہنس کر عنایہ کے روم کی طرف بڑھنے لگے۔
” اس بار نہیں سوہا۔!! اس بار بازی تجھے ہی جیتنی یے۔ یہ شخص تمہارا ہی ہوگا۔” خود سے مخاطب ہوکر روم کی جانب چل پڑی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” اسامہ, شزا !! تم لوگ اس وقت کیا کر رہے ہو یہاں؟؟ رات کے دوسرے پہر مہد, شزا اور اسامہ کچن میں کھڑے ہوکر اپنے لئے چائے اور اسنیکس بنا رہے تھے کہ سلطان میر اسامہ کو مہد کے ساتھ بےتکلفی سے بات کرتے دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئے۔
” چچا سرکار!! ہم مووی دیکھ رہے تھے کہ مہد بھائی نے بولا کچھ کھانے کا بنا لیتے ہیں۔ اسلئے بس کچن میں آگئے۔” اسامہ نے چائے کپس میں ڈال کر بے نیازی سے جواب دیا۔
” کسی ایرے غیرے کے ساتھ رات کے اس وقت تم دونوں رنگ رلیاں منا رہے ہو۔ تمہاری ماوں کو کوئی خبر ہے کہ نہیں غفلت کی نیند سو رہی ہے۔” سلطان میر نے کرختگی سے کہا۔
” یہ کوئی ایرے غیرے نہیں بابا سرکار !! ہمیں سب پتہ ہے کہ ان کا اس گھر کیساتھ اور ہمارے ساتھ کیا رشتہ ہے۔” شزا نے ڈھٹائی سے جواب دیا۔
” بکواس ہیں سب۔ کوئی رشتہ نہیں ہے اس کا ہمارے ساتھ. اور نا ہم کبھی اسے اپنا نام دیں گے. جس دولت کی لالچ اور حصول اسے یہاں کھینچ کر لائی ہے نا اسے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملے گی۔” سلطان میر بیٹھے بٹھائے نئے مصیبت کے سر پر منڈلانے سے کافی ارریٹیٹنگ ہو رہے تھے.
” مجھے نام بھی ملے گا اور مقام بھی. اور یہ تم خود دوگے مجھے. اور رہی بات وراثت میں حصہ دینے کی تو میں خود تھوکتا ہوں ایسے جائداد پر جو ہمارا ایمان چھین کر ضمیروں کو مردہ کردیتا ہے. بڑا غرور تھا نا تمہیں باپ دادا کے اس جائیداد پر. تو اب یہی جائیداد تمہارے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالے گا۔” مہد نے اسکے قریب آکر اسکے کندھے سے نادیدہ گرد جھاڑ کر کہا۔
” تمہیں بھی اپنے ماں کے پاس پہنچنے کی بہت جلدی ہے نا برخوردار !! تو اب اپنی الٹی گنتی شروع کردو۔” سلطان میر نے درشتی سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
” عنایہ کو بھی تم لوگوں نے جلا کر مارنے کی کوشش کی تھی نا؟؟ مہد دو قدم اسکے قریب کھڑا ہوکر پوچھنے لگا۔
” بہت جلدی ہمدردی ہونے لگی یہاں کے مکینوں سے۔ یہ تو کچھ بھی نہیں۔ان لوگوں کے ساتھ ساتھ تمہارا بھی پتہ کاٹنے والا ہے۔ جو خود شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے آئے ہو۔” سلطان میر اسے دھمکانے لگا۔
” ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ میں ان گیدڑ بھبکیوں سے نہیں ڈرتا سلطان میر!! مجھے اپنی ماں اور ماموں کی طرح کمزور سمجھنے کی غلطی ہر گز مت کرنا ورنہ بنیادیں ہلا دوں گا میں’ میر خاندان’ کی۔” مہد کی آنکھوں کی سردمہری سلطان میر کے حواس جھنجھوڑ گئی۔
” چلو شزا , اسامہ۔” مہد دونوں کے گرد بازوؤں کا حصار بناکر کچن سے نکل گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عنایہ کی سرجری ہوگئی تھی۔ اور زخم بھی وقت کیساتھ ساتھ مندمل ہونے لگے تھے۔ مہد اور شزا کی بےتکلفی دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی ۔ کسی اور نے نوٹس کیا ہو یا نہیں مگر سوہا کے لئے یہ سب سے بڑی ہار تھی۔ ہر وقت دونوں پاس رہتے اپنی خوراک کی چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرتے۔ کوئی بات تھی جو سوہا کو بری طرح بے چین کر رہی تھی۔ اگر مہد واقعی سلطان میر کا بیٹا ہوتا تو کبھی شزا کیساتھ اتنی بے تکلفی نہیں برتتا. اپنی حد میں رہتا. جبکہ ہر وقت دونوں کو ایک ساتھ کہیں نا کہیں دیکھ کر اس کا خون کھولنے لگتا ۔ اب پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا اور اس نے دونوں کو بے نقاب کرنے کا پلان بنا دیا تھا. اسے یہ ثابت کرنا تھا کہ مہد صرف ایک مہرہ ہے جو سلطان میر کو پھنسانے کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ اور اسے بہت جلد اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے کا موقع بھی مل گیا۔ شام کے وقت اچانک کالے بادلوں نے پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نومبر کا مہینہ چل رہا تھا۔ موسم کافی حد تک دل لبھانے والا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہوچکی تھی۔ آہل , اذلان اور حدید آفس سے نہیں لوٹے تھے. مہد اس رومنٹک موسم کا مزہ دوبالا کرنے کے لئے شزا کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی چھت پر لے آیا۔ دونوں اردگرد سے بیگانہ بارش میں بھیگنے لگے۔ موسم کے تیور کچھ زیادہ خراب ہوگئے اور بارش نے زور پکڑ لی۔ اردگرد سے غافل کب دونوں ایک دوسرے کے انتہائی قریب اگئے۔ جذبات نے جوش مارا اور مہد ایک انچ کا فاصلہ ختم کرکے شزا کو اپنے حصار میں لے کر اسکے آنکھوں پر ٹہرے بارش کی بوندوں کو لبوں سے چننے لگا تھا کہ آسمانی بجلی زور سے کڑکی تو شزا نے مہد کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکیلا۔
” یہ غلط ہے.” وہ ایک دم چیخی۔ جبکہ یہ بہکتے کچھ پل سیڑھیوں کے دروازے پر کھڑے وجود کے موبائل نے کیپچر کر کئے لیے تھے۔ دونوں کے بیچ کچھ بھی غیر اخلاقی حرکت نہیں ہوئی لیکن بارش میں ایک ساتھ بھیگتے وہ دور سے بالکل ایک دوسرے میں مدغم دکھائی دے رہے تھے۔ آنکھوں میں فتح مندی کے اثرات لے کر سوہا نیچے چلی گئی۔
” آئی ایم سوری.!!! مہد اس کے قریب آکر معذرت خوانہ انداز میں گویا ہوا جبکہ شزا بغیر اسکی طرف دیکھتے ہوئے بھاگتے ہوئے دو دو سیڑھیاں پھلانگ کر نیچے اپنے روم میں جاکر بند ہوگئی۔
” اب تمہیں میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا مہد.!!! بہت اکڑ دکھا رہے تھے نا تم. اپنی جوتی کی نوک پر رکھ کر تمہیں نچاوں گی۔ اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے ہوکر اس نے شزا کو روتے ہوئے دیکھا تو دل میں ٹھنڈی اوس پڑ گئی۔
“جب سب لوگ تمہیں دھکے مار مار کر گھر سے نکال دیں گے تب میں تم پر احسان کرکے تمہارا ہاتھ تھام لوں گی اور پھر ساری زندگی میرے احسان تلے زندگی گزارو گے تم.وہلڈن سوہا… ” سوہا کمرے میں گول گول گھومنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” میری چھٹی حس بار بار مجھے سگنلز دے رہی تھی کہ یہ میرا خون ہو ہی نہیں ہوسکتا۔” سوہا کا موبائل ہاتھ میں پکڑے سلطان میر دس سیکنڈ کی ویڈیو کو بار بار پلے کرکے خود کو یہ باور کروا رہا تھا کہ اتنی آسانی سے ایک چھٹانک بھر لڑکا اسے بے وقوف بنا گیا۔
” چاچا سرکار !! مجھے پہلے دن سے اس لڑکے پر شک تھا کہ یہ ہماری معصوم شزا کو مہرہ بنا کر آپ کے جائیداد میں حصہ مانگنے آیا ہے۔ تب سے میں کوئی ثبوت ڈھونڈ رہی تھی. اور آج میں نے دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ آپ پلیز شزا کو کچھ مت کہے گا۔ وہ بھولی ہیں نادان ہے۔ وہ تو مہد کو بھائی سمجھتی تھی۔ مگر وہ بدذات لڑکا بھائی کے نام پر اسکے جذبات کے ساتھ کھیل گیا۔” سوہا آگ کو بھڑکانے کے لئے اسے مزید ہوا دے رہی تھی
” مجھے فخر ہے تم پر۔!! اس گھر میں کوئی تو ہے جسے اپنے باپ چچا کی عزت کی فکر ہے ورنہ سب کے سب تو اپنے باپ دادا کی عزت کو مٹی میں ملانے کے درپے ہیں۔۔ اب کھیل ختم ہوگا تمہارا اہل یزدان۔ تمہیں یہاں بھی مات ملے گی۔” سلطان میر سوہا کا موبائل ہاتھ میں پکڑ کر کمرے سے باہر نکلا اور سیدھا مہد کے روم کے دروازے پر کھڑے ہوکر زور شور سے دروازہ بجانا شروع کردیا۔
” باہر نکلو بدذات لڑکے۔!! وہ خلق کے بل اتنا تیز دھاڑا کہ حویلی کے تمام لوگ اپنے اپنے کمروں سے نکل ائے۔
” مہد کے روم کا دروازہ کھلا جہاں وہ لہو رنگ آنکھیں کھلا گریبان لئے کمرے سے باہر نکلا۔ سلطان میر نے ایک زوردار چمانٹا اسے رسید کیا جس سے وہ لڑکھڑا کر چند قدم دور ہوا۔
” بتاؤ کون ہو تم ؟ اور کس کے کہنے پر اور کس مقصد کے لئے یہاں آئے ہو.” سلطان میر نے اسے گریبان سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا۔ اس نے ایک تیز سلگتی نظر سیڑھیوں کے پاس کھڑی شزا پر ڈالی جس کی آنکھوں کی سردمہری اسے ہرانے لگی۔ اور ایک جھٹکے سے سلطان میر کے ہاتھوں سے اپنا گریبان آذاد کردیا۔
” اگر بقول تمہارے تم صدیقہ کے بیٹے ہوتے تو اپنی بہن کیساتھ یہ غیر اخلاقی حرکت کرنے کا سوچنا بھی تم گناہ سمجھتے” سلطان میر نے موبائل اس کے آنکھوں کے سامنے کیا تو پل بھر کو مہد کے قدم ڈگمگائے۔
” یہ ویڈیو فیک ہے۔ ہم صرف چھت پر بارش انجوئے کرنے گئے تھے۔ یہ ایڈیٹ کی گئی ویڈیو یے۔” مہد صاف مکر گیا۔
” یہ بالکل رئیل ہے. تم دونوں کو میں نے کئی بار ایک دوسرے کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرتے دیکھ لیا تھا مگر چپ سادھ لی۔۔ اپنے گھر کا تماشا بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی میں۔” سوہا نے مہد کی بات کی تردید کرتے ہوئے کچھ اور تڑکہ لگایا۔۔
” سوہا !! شزا بے یقینی سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔ جس کی آنکھوں میں شناسایی کی ہلکی سی رمق بھی دکھائی نہیں دی۔
” اب تم بکو اپنے منہ سے سچ۔۔” ایاز میر نے مہد کا بازو زور سے دبوچا۔۔
” یہی سچ ہے کہ صدیقہ نے آپکے ناجائز بچے کو جنم دیا تھا۔” عاتکہ ہال کے وسط میں آگئی اور ایاز میر کے ہاتھوں سے مہد کا بازو چھڑا کر سلطان میر کے سر پر دھماکہ کیا۔
” یہ یہ بچہ ۔۔!!! جو اپنی بہن کو ورغلا کر اسکے ساتھ یہ چیف حرکتیں کرتا رہا۔” سلطان میر پھر سے زخمی شیر کی طرح پھنکارتے ہوئے مہد پر جھپٹ پڑا کہ عاتکہ اس کے سامنے اگئی۔
” سگی بہن تو نہیں ہے نا بھائی صاحب !! یہ یہاں رشتہ داریاں نبھانے تو نہیں آیا۔ اپنی ماں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا حساب مانگنے آیا ہے۔ تو کیا صحیح کیا غلط؟؟” سب پھٹی پھٹی نظروں سے عاتکہ کو دیکھ رہے تھے تو برسوں بعد چپ کا روزہ توڑ کر میدان میں اتر آئی تھی۔
” سلطان میر کی عزت پر ہاتھ ڈالنے آیا ہے حرام خور۔ اور تم سب اس کے ساتھ ملے ہوئے ہو. میں تم سب کو نیست ونابود کرودں گا۔” سلطان میر کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔
” سارے فساد کی جڑ ہی تم ہو۔ تمہارا وہ دو ٹکے کا سستا عاشق۔۔۔۔۔۔۔ “
” سلطان میر۔…….!! حویلی کی در و دیوار آہل کی غضب ناک دھاڑ سے لرز اٹھی۔ گوشہ گوشہ آہل کے جلالی روپ سے متزلزل ہوگیا۔ اور اگلے سیکنڈ سلطان میر کا گریبان آہل کے اہنی ہاتھوں میں تھا۔ سب کی ساکت نظریں آہل کے اتش فشاں بنے روپ پر تھی جبکہ کنپٹی کی رگوں میں خون جوش مارنے لگا۔
” میری ماں کے متعلق ایسا بولنے کی ہمت کی تو زبان گدی سے کھینچ کر نکال دوں گا۔۔”
بھڑک کر آگے بڑھتے آہل نے ہے در پے کئی مکے سلطان میر کے پیٹ میں مارے۔
” کون سی ماں ؟؟ ہاہاہاہاہا۔ اپنی ماں سے ذرا پوچھو نا اپنے باپ کے متعلق۔۔ چلو میں تو ٹھہرا عیاش اور بدکردار۔ تمہاری ماں تو دودھ کی دھلی تھی نا کس کے ساتھ منہ کالا کرکے تمہیں پیدا کر چکی ہے۔۔” سلطان میر اپنے پھٹے ہوئے ہونٹ کا کنارہ صاف کرتے ہوئے زہرخند جتاتے انداز میں خباثت سے مسکرا دیا۔ تو آہل وخشی روپ دھارتا سلطان میر ہر پھر سے جھپٹ پڑا کہ اذلان اور حدید نے اسے روکا۔
” آہل !! کام داون۔ یہ تمہیں اکسا رہاہے۔ قانون کو ہاتھ میں مت لو۔” حدید نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔
” کونسا قانون؟؟ یہاں قانون صرف کمزوروں پر لاگو ہوتا ہے۔ اور انصاف امیروں کے تجوریوں میں بکتا ہے۔ یہ قاتل ہیں میرے پھپھو کے, ہماری خوشیوں کے۔ میں پل پل مرا ہوں جب جب میں نے پھپھو کے پاک بدن پر اس ذلیل اور بےغیرت آدمی کے درندگی کے نشانات دیکھے۔ میری پھول جیسی پھپھو کی زندگی ناسور بنا دی تھی اس نے۔” چیختے چلاتے آہل کے گلے میں خراشیں پڑگئی۔ جبکہ وہاں موجود لوگوں کی سانسیں ساکت تھی اور آنکھیں نم۔ جبکہ پھپھو لفظ پر سلطان میر اور ایاز میر کے چہرے لٹھے کی مانند سفید پڑ گئے۔
” جس شخص کے ہاتھ پیر تڑوا کر , ہڈی پسلی ایک کر کے اسکی بہن کی عزت لوٹ کر تم لوگ جشن منا رہے تھے نا وہی ہے میرا باپ۔” آہل کینہ توز نظریں سب پر گاڑھے چلایا۔
” میری شادی ہوچکی تھی۔ آہل کے بابا کے ساتھ۔ اور یہ شادی بابا سرکار نے کروائی تھی۔ آہل میرا بیٹا ہے میرے سچے پیار کی نشانی۔اور بابا سرکار کا لاڈلہ نواسا۔ میں نے صرف جنم دیا تھا اسے پرورش بابا سرکار نے کی تھی۔ اسلئے تو اپنی قیمتی چیزیں اہل کو سونپ کر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ ایک اپنی پوتی اور دوسری اپنی پشتوں کی جائیداد۔” عاتکہ کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ وہاں کے لوگوں کے دلوں کو چھیرتا گیا۔
” صدیقہ کامل کی چھوٹی بہن تھی۔ جب تم لوگ ہماری مخبری کرکے آئے تھے میں اور اہل بابا سرکار کے ساتھ شہر گئے تھے آہل کے جنم دن کی تیاری کرنے۔ پیچھے سے تم لوگوں نے ہماری ہستی بستی زندگی کو آگ لگا دی۔ جب ہم پہنچ گئے تم لوگ اپنا کام کرکے جاچکے تھے۔ بابا سرکار نے اپنی نگرانی میں صدیقہ کا علاج کروایا۔ اور کامل کی ہڈی پسلی تم لوگوں نے ایک کردی تھی کافی علاج معالجے کے ڈاکٹروں نے جواب دیا تھا۔” عاتکہ دھیرے دھیرے ماضی کے باب کھولنے لگی۔
” یہ مہد تمہارا بیٹا نہیں ہے. صدیقہ نے بیٹی کو جنم دیا تھا. جس کو بھی آپ نے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپنے خون کو بار بار بدچلن, بدکردار کہہ کر مخاطب کیا۔” بیٹی لفظ پر وہاں موجود لوگوں کو سانپ سونگھ گیا…..
