88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 14
“یی۔یہ تم کیا کہہ رہے ہو آہل؟؟ اگر صدیقہ زندہ تھی تو مجھ سے کیوں چھپایا گیا تھا؟؟۔” عاتکہ ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھی۔
” کیوں کہ جو صدمہ آپکو پہنچا تھا۔ اس حالت میں آپکو کچھ بھی بتانا مناسب نہیں تھا۔ایک طرف پیار کرنے والا شوہر زندہ ہوکر بھی مردہ حالت میں تھے۔ دوسری طرف اپنے بھائی کے اس گھٹیا اور نازیبا فعل سے آپ کو دورے پڑنے لگے تھے۔۔ مجھے بورڈنگ بھیجا گیا اور آپکو حویلی منتقل کرنے کا مقصد ہی ان لوگوں کو یہ باور کروانا تھا کہ میرے بابا اور پھپھو اس دنیا میں نہیں رہے۔ میرے بابا کو تشدد کا نشانہ بنایا وہ بھی نظر انداز کرنے کے قابل تھا مگر میری معصوم پھپھو کی عزت بے دردی سے نوچ لی گئی تھی۔ یہ ایک سنگین فعل تھا جس کا آہل یزدان برابر حساب لےگا۔ مجھے آج بھی یاد ہے پھپھو کی وہ آہیں ,سسکیاں، دلسوز چیخیں. میں کچھ نہیں بھولا ہوں موم کچھ بھی نہیں۔۔ اور جانتے ہیں آپ لوگ!! میری زندگی میں دوسری صدیقہ نے تب قدم رکھا جب عنایہ کو میں پیراڈائز لیکر آیا تھا۔۔ اور وہ اکثر خوابوں میں چیختی چلاتی خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی۔ میری پھپھو تو زمانے کے ہوس ذدہ درندوں کے نذر ہوگئی۔ مگر عنایہ کو میں گھر لیکر آیا۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا دوسری صدیقہ بھری جوانی میں سفاک موت مرے.” آہل ضبط کمال کو مظاہرہ کرکے عاتکہ کے سامنے چئر پر سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ جبکہ اذلان اور حدید کی حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ چہرے لٹھے کے مانند سپید پڑ گئے تھے۔
“تو پھر کہاں گئی صدیقہ؟؟ مجھ سے کیوں چھپایا گیا۔ کامل تو چھوڑ کر چلے گئے تھے صدیقہ کو کس کے سہارے چھوڑ دیا ؟؟ مجھے ان سے ملنا تھا۔ اپنے بھائی کی کی گئی ذیادتی کا مداوہ ممکن تو نہیں تھا مگر میں آج تک ان تمام حالات کی زمہ دار خود کو سمجھتی آئی ہوں۔ نا میں عشق کے چکروں میں پڑتی, نا بھائی لوگ میرے پیچھے آتے, نا صدیقہ ان کی نظروں میں آتی, نا ان کی ہوس کا نشانہ بنتی۔ تف ہیں ایسے بھائیوں پر۔ گھن آتی ہیں مجھے خود کو ان کی بہن مانتے ہوئے۔بابا سرکار کی پرورش میں کوئی کھوٹ نہیں تھی۔ کبھی کبھی بات تربیت کی نہیں ہوتی بعض اوقات کچھ رنگ صحبتوں کے بھی چڑھتے ہیں۔ مگر سلطان میر ایک عیاش اور بدکردار بیٹا نکلا۔ اور ایاز بھائی اور امان ان کے غلط کاموں میں حوصلہ افزائی کیا کرتے۔ بابا سرکار کو بیٹوں سے آگے کسی قسم کی خیر کی توقع نہیں تھی۔” عاتکہ عجیب بے کل کیفیت کا شکار ہوگئی۔
” موم آپکے بھائیوں کو آج تک یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ آپ کی شادی کروادی گئی یے۔ یہ راز راز ہی رہا۔ اور پھپھو کو نانا سرکار نے شہر اپنے کسی دوست کے گھر پناہ دی تھی۔ جب ان کے زخم تھوڑے مندمل ہوگئے تو نانا سرکار کے دوست کے توسط سے ان کا ایڈمشن کروایا گیا۔ تاکہ اپنی سٹڈی میں مصروف ہوکر وہ موو آن کرے۔ مگر شائد قسمت ہی کو رحم نہیں آیا ان پر, اور ایک بار پھر وہ سلطان میر کے ہتھے چڑھ گئی۔ اپنے کالج کے فرینڈز کیساتھ وہ پہاڑی علاقوں کی سیر کو نکل گئی تھی جہاں سلطان میر اپنے دوستوں کے ساتھ شکار پر گئے تھے۔ پھپھو جوانی کی دہلیز پار کر چکی تھی۔ اور ایک انتہائی خوبصورت دوشیزہ کا روپ دھار لیا تھا۔ ان کو دیکھتے ہی سلطان میر کے اندر سویا ہوا شیطان پھر سے جاگ اٹھا۔ یہ سچ تھا کہ ہر خوبصورت اور کچی عمر کی جوان لڑکیاں اسکی کمزوری تھی۔ سلطان میر کو دیکھتے ہی پھپھو خواس باختہ گاڑی کیطرف بھاگی مگر یہاں بھی وہ خود کو بچانے میں ناکام رہی اور چار سال بعد ایک بار پھر وہ سلطان میر کی درندگی کا نشانہ بنی۔ مگر سلطان میر ان کا دو آتشہ حسن دیکھ کر اس پر فریفتہ ہوگئے۔ اور نظر بچا کر ان کی کچھ ایسی نازیبا تصاویر لی۔اور یہ کہہ کر جانے دیا کہ وہ اب اسکی ملکیت بن چکی ہے۔ اور وہ بار بار آئے گا اپنی ہوس مٹانے۔ انکار کی صورت میں وہ اس کےتصاویر اور ویڈیوز کو دنیا والوں کے سامنے لائے گا۔ اور وہ اپنی بے گناہی بھی ثابت نہیں کر پائے گی۔ دوسری طرف سزا اسکے بھائی کو بھگتنی پڑے گی۔۔ پھپھو کو علم ہی نہیں تھا کہ اس کا بھائی کہاں پر ہے۔ زندہ بھی ہے نا نہیں۔کیونکہ وہ آخری بار اپنے بھائی سے تب ملی تھی جب وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اپنے بھائی کی زندگی بچانے کے لئے وہ چپ رہ کر اسکی زیادتیاں سہتی رہی۔ جب اس کا جی چاہتا پھپھو کو بے دردی سے نوچتا۔ پھر ایک دن اچانک نانا سرکار کی آمد پھپھو کے لئے آزادی کا پیام لے کر آیا۔ باتوں باتوں میں پھپھو نے ان سے اپنے بھائی کے متعلق پوچھا۔ تو نانا سرکار نے انکو تسلی دی کہ بابا کی ریڑھ کی ہڈی میں جو فریکچرز آئے تھے اس کا علاج یہاں ممکن نہیں تھا اسلئے علاج کے لئے انہیں باہر شفٹ کیا گیا۔ اور اس دن ان کو یقین دلانے کے لئے بابا کی بات بھی کروائی گئی پھپھو سے۔۔ پھپھو نے نانا سرکار کے سامنے سلطان میر کو ایکسپوز کیا۔ تو انہوں نے راتوں رات پھپھو کو لاہور سے کراچی شفٹ کردیا۔ وہاں بھی بابا سرکار کے کافی قریبی دوست تھے۔۔ کسی کو اسکی بھنک بھی نہیں لگنے دی۔ سلطان میر اپنی شکست پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ کہ اتنا خوبصورت شکاری جال سے نکل گیا تھا۔ صدیقہ کے بے انتہا حسن نے اسکو جکڑ لیا تھا۔ وہ تو اس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر” میر خاندان “میں دوسری شادی کرنا معیوب سمجھتا تھا۔ اور اسکا ایک بیٹا( حدید) بھی تھا۔ مگر اپنی شکست پر وہ تلملایا..صدیقہ سے ملنے کی تڑپ بڑھنے لگی تو دوسرے راستوں کا انتخاب کیا۔ ہر روز رات کو کوٹھے پو جانے لگا اور سب سے کم عمر لڑکی کو لاکھوں روپے کے عوض ایک رات کے لئے خرید کر اسکو اپنی درندگی کا نشانہ بناتا۔
کراچی آکر بھی سلطان میر نامی خوف پھپھو کے سر منڈلاتا رہتا کہ وہ کسی بھی وقت اس کے پیچھے آسکتا ہے۔ اور شاید اس بار وہ اس کی سانسیں ہی ختم کردے۔ اسی خوف کیساتھ ایک رات پھپھو پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ پہلے تو وہ اپنی بدنامی کے خوف سے سب سے چھپاتی رہی ۔ مگر ہمت کرکے اس نے نانا سرکار سے بات کی کہ وہ یہ ناجائز بچہ پیدا کرنا نہیں چاہتی۔ اگر کل کو بچہ باپ کے بارے میں سوال کے گا تو وہ کیا جواب دے گی۔ کیا وہ اپنے بچے کو یہ بتا پائے گی کہ اسکا وجود کسی کے گناہ کا نتیجہ تھا۔ نانا سرکار انہیں ہاسپٹل لے کر گئے مگر ڈاکٹر نے ابارشن سے صاف منع کردیا کہ بچہ تین منتھ کا ہوگیا ہے۔ ایسے میں بچہ گرانا انسانی قتل کے زمرے میں آتا ہے۔ اور ماں کے لئے بھی خطرے سے کم نہیں۔ پھپھو کے اصرار پر نانا سرکار نے کان نہیں دھرے۔ کیونکہ اسے صدیقہ سے عاتکہ جتنا لگاؤ ہوگیا تھا۔۔انہیں صدیقہ کی زندگی عزیز تھی۔ نانا سرکار کے جس دوست کے گھر پھپھو پناہ لینے آئی تھی ان کا صرف ایک ہی بیٹا تھا۔ اور کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ پھپھو کو پسند کرتا تھا۔ نانا سرکار نے انہیں پھپھو کے ماضی کے بارے میں سب بتا دیا تھا۔ سب کچھ جان کر بھی وہ پھپھو سے شادی کرنے کا خواہاں تھا۔ ایمرجنسی میں دونوں کا نکاح کروایا گیا۔ پھپھو نے صرف اپنے بچے کو باپ کا نام دینے کے لئے شادی کے لئے رضامندی دے دی۔ اور اسطرح پھپھو کی شادی حرم انکل کیساتھ کروادی گئی۔ شادی کے بعد حرم انکل واقعی ایک آئیڈیل ہسبنڈ ثابت ہوئے ۔ کبھی پھپھو کو ان کے ماضی کے حوالے سے طعنہ نہیں دیا۔ سات ماہ بعد پھپھو نے ایک خوبصورت سی بچی کو جنم دیا۔ جنہیں پاکر پھپھو اور حرم انکل کافی خوش تھے۔۔حرم انکل کے والد اور والدہ دونوں پھپھو سے بہت محبت سے پیش اتے۔ اسلئے انکی بیٹی کو بھی دل سے قبول کیا۔ پھپھو اپنا ماضی بھول کر حال میں جینے لگی تھی۔ بیٹی کے بعد وہ کافی علاج معالجے کے بعد بھی دوبارہ ماں نہیں بن پائی۔ اٹھ سال بعد پھپھو پر ایک بار پھر قیامت ٹوٹ پڑی۔ پھپھو کی ساس اور سسر عمرے کی سعادت حاصل کرنے سعودیہ جانے والے تھے۔ حرم نے ان کو ائیرپورٹ ڈراپ کرنا تھا۔ کہ راستے میں ہی روڈ پر کتے کو بچانے کے چکر میں انہوں نے اچانک گاڑی کو موڑ دیا جو دور جاکر گہرے کھائی میں جاگری۔ اور تینوں موقع پر زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس بار صدمہ اتنا بڑا تھا کہ پھپھو ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ انہیں ارد گرد کا کوئی ہوش نہیں رہا۔ اپنی بچی کیطرف سے بھی غافل ہوگئی۔ ہروقت کسی تاریک کھونے میں گھم سم پڑی رہتی۔ نانا سرکار نے پھر ایک باپ ہونے کا فرض نبھایا اور پھپھو اور اسکی بیٹی کا خیال رکھنے کے لئے اسکے گھر اپنی پرانی ملازمہ بھیج دی جو خالہ بی کے نام سے مشہور تھی۔ وہ ایک نہایت شفیق خاتون تھی۔ خود بے اولاد تھی۔ وہ پھپھو کے پاس رہنے لگی۔۔ ایک سال تک اس نے پھپھو اور ان کی بیٹی کا بہت خیال رکھا مگر اس غم کو سینے سے لگا کر پھپھو کی سانسیں ختم ہوگئی اور بالآخر ایک دن آنکھیں بند کرکے اس بے رحم دینا کو خیرباد کہہ دیا۔” قطار در قطار آنسو آہل کے آنکھوں سے رواں تھے۔ آواز شدت ضبط سے لرز رہی تھی۔جو اذیت و انتہا کے اعلی درجے پر تھا۔۔اور یہی حال سامنے بیٹھے نفوس کا بھی تھا۔۔ عاتکہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔ جبکہ حدید اور اذلان بھی ان کے غم میں برابر کے شریک تھے۔ آہل کا نقصان بہت بڑا تھا۔
” اور بیٹی؟؟ مم ۔میرا مطلب ! میری بہن ؟؟ حدید کچھ بولنے کے قابل ہوا تو ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا۔
آہل نے لہو رنگ آنکھیں اوپر اٹھائی جو حدید کو ٹھٹھکنے پر مجبور کرگئی۔
” وہ کچھ وقت کے لئے خالہ بی کے پاس رہی کیونکہ نانا سرکار ان کے کاغذات تیار کروارہے تھے کہ انہیں میرے پاس فارن بھیج دے۔ یہاں انہیں خطرہ تھا۔ کہ ایک دن خالہ بی کے غیر موجودگی میں اسکے شوہر کی نیت بچی ہر خراب ہوگئی اور۔۔۔۔۔۔
” عع۔عن۔عنایہ؟؟؟؟ حدید نے آہل کی بات کاٹ کر اٹکتے ہوئے تصدیق چاہی۔ ایک بے کلی سی رگ و پے میں سرایت کرنے لگی کہ اگر آہل کا جواب ہاں میں ہوا تو اسکی سانسیں بند ہو جائے گی۔۔ مگر آہل کی سرد نظروں نے اذلان تک کا سفر طے کیا۔ جو شش و پنج میں مبتلا ششدر نگاہوں سے آہل کے جواب کیا منتظر تھا۔
آہل کے لب بولنے سے انکاری تھے۔ اضطرابی کیفیت میں پیشانی سہلاتے ہوئے صرف اثبات میں سر ہلایا تو اس انکشاف نے کب سے دروازے پر موجود وجود پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ دھڑام سے زمین پر ڈھے گیا۔ سب نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا جہان عنایہ ہوش و خرد سے بیگانہ زمیں بوس ہوچکی تھی۔
” عنایہ!! سب سے پہلے پکارنے والا حدید ہی تھا۔ جو عنایہ کے قریب پہنچ کر اسکا سر اپنی گود میں رکھ چکا تھا۔ کوئی جنبش محسوس نا کرنے پر وہ اسے باہوں میں اٹھا چکا تھا۔ اور احتیاط کیساتھ عاتکہ کے بیڈ پر اسے لٹایا۔ جبکہ اذلان نے جلدی سے گلاس پانی سے بھر کر اسکے ہونٹوں سے لگایا مگر ایک گھونٹ بھی خلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔
“ڈاکٹر کو کال کرو اذلان!! عنایہ کو بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں۔” آہل نے عنایہ کے پہلو میں براجمان اذلان کو محاطب کیا جو بےچینی اور فکرمندی سے عنایہ کے گال کو ہلکا ہلکا تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی کوششوں میں ہلکان ہورہا تھا۔
” جی !! عجلت میں موبائل نکال کر ڈاکٹر کو کال کرنے لگا جبکہ عاتکہ عنایہ کے ہاتھ پیر سہلا رہی تھی جوکہ برف کی طرح جم گئی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” کیوں بھئی!! آپکی بیوی نے بھی معجزہ دکھایا, نکاح کے ایک ہفتے بعد گڈ نیوز سنا دی یا پھر کسی اور کے گناہوں کا بوجھ آپکے سر توپنے میں کامیاب ٹہری۔ مجھے تو پہلے ہی اسکے لچن ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔” وہ ڈاکٹر کو پک کرنے گیٹ تک آیا تھا واپس راہداری میں گزرتے ہوئے شزا نے چھبتے ہوئے ڈنک مارتے الفاظ میں محاطب کیا۔ تو اذلان کے ماتھے کی مخصوص رگ پھڑکنے لگی۔
“چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! ابھی اذلان کوئی جوابی ردعمل کرتا کہ حدید جو پانی پینے کچن کیطرف آرہا تھا۔ اپنے باپ کا مکروہ چہرہ جاننے کے بعد خلق میں کانٹے چھبنے لگے تھے کہ شزا کی باتیں سن کر وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا۔
” اگر آج کے بعد اپنی گندی زبان سے میری بہن کا نام لیا نا تو اس کے بعد کبھی بولنے کے لائق نہیں رہو گی تم.” حدید نے اذلان کو اشارے سے وہاں جانے کا بولا۔ اور شزا کی طرف رخ موڑا۔ سب لوگ ان کی آوازیں سن کر اپنے کمروں سے باہر نکل ائی۔
” یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم لوگوں نے؟؟ اور حدید یہ کونسا طریقہ ہے بہن سے بات کرنے کا۔ تم تو کبھی اس پر غصہ بھی نہیں ہوئے ۔ اور آج ہاتھ اٹھا لیا۔۔” انیلا بیگم کو حدید کے شرارے اگلتے انداز سے خوف آنے لگا۔ عام دنوں کی بہ نسبت اسکے جارہانہ تیور دیکھ کر سب کے حواس جھنجھا اٹھے۔
” ہاں مام!! یہ سلطان میر کی بیٹی ہے نا۔ خون تو اثر دکھائے گا۔ آپ نے کبھی اس کی زبان کی کڑواہٹ دیکھی ہے۔ جب سے عنایہ نے حویلی میں قدم رکھا ہے یہ بار بار اس کی ذات کے پرخچے اڑا رہی ہے۔” وہ بناء کسی لخاظ کے پھٹ پڑا۔ جبکہ اس کے منہ سے اپنے باپ کے متعلق اس طرح طنز انیلا بیگم کے سماعتوں پر بم گرا گیا۔
” آپ اس غیر لڑکی کے لئے اپنی بہن سے الجھ رہے ہیں۔ وہ تو یہی چاہتی تھی کہ ہمارے درمیاں دراڑ پیدا کرکے ہماری بے بسی کا تماشہ دیکھے۔ آپ بھی سب کی طرح اندھے ہوگئے۔” شزا ایک ہاتھ پر رکھ کر آنسو سے بوجھل آنکھیں بار بار جھپکا کر بول رہی تھی۔
” عنایہ کوئی غیر نہیں میری بہن ہی ہے۔ اس دن بھی تمہیں عنایہ کے ہاتھوں اس طرح تھپڑ پڑا تھا۔ تب وہ تھپڑ میرے دل پر گہرا چھاپ چھوڑ گیا تھا۔ مگر میں عورت پر ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں اسلئے میں نے عنایہ کے اس فعل کو اگنور کردیا۔ مگر آج مجھے احساس ہورہا ہے کہ کس طرح تمہارے غیر مہذب الفاظ نے اسکے روح تک کو گھائل کیا ہوگا۔” حدید نے زور سے مٹھیاں بھیجتے ہوئے جتاتی نگاہیں بہن کے فق چہرے پر ڈالی۔ جبکہ زر, ثوبیہ بیگم, انیلا بیگم, منیزہ بیگم, سوہا اور اسامہ کو حدید سے اس طرح سخت ردعمل کی توقع نہیں تھی.
” اسامہ جاؤ جلدی سے عنایہ کی لئے فریش جوس نکال کر پھپھو کے روم میں لے آو۔ میں ویٹ کر رہا ہوں۔” سب کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے اسامہ کو حکم دیتا چل دیا۔ اسامہ نے تابعداری سے ہر ہلا کر کچن کا رخ کیا. کیونکہ حدید کی طرح اسامہ بھی عنایہ کے لئے سوفٹ فیلنگز رکھتا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کچھ میڈیسن لکھ کر دی۔۔ جس سے وہ وقت تک پرسکون رہے گی۔بی پی لو ہوگیا تھا۔ حدید ڈاکٹر کو چھوڑنے گیٹ تک گیا جبکہ زر, آہل اور اسامہ ابھی تک پھپھو کے کمرے میں موجود عنایہ کے ہوش میں آنے کے منتظر تھے۔ اذلان ںےچینی سے پہلو بدلتا ہوا کبھی اس کا گال سہلاتا کبھی ہاتھ کی ہتھیلیوں کو رگڑ کر اسے ہوش میں لانے کی تگ ودو کر رہا تھا۔
” بھائی کچھ نہیں ہوا انہیں۔!! ڈاکٹر نے بولا نا پریشانی کی کوئی بات نہیں۔” اسامہ کی بات پر وہ جز بز ہوتا نگاہیں چرانے لگا۔ جبکہ آہل کو اسطرح عنایہ کے لئے اسکی فکرمندی اچھی لگی۔
” میری بچی نے اتنا کچھ جھیلا ہے۔ آہل کاش تم پہلے بتا دیتے تو میں عنایہ کو اپنے پاس لے اتی۔ کتنی ترسی ہے میری بچی پیار کے لئے, رشتوں کے لئے.” عاتکہ محبت سے اسکے رخسار کو چھوتے ہوئے بولی۔
” موم!! میں آپ کو بتانا چاہتا تھا لیکن مناسب وقت آنے پر۔۔” آہل نے اپنی موم کو خود سے لگاکر اس کے ماتھے پر پیار کیا۔
” عنایات کا سچ ابھی باہر نہیں جانا چاہئے۔ میں نہیں چاہتا دشمن مختاط ہو۔ تم لوگوں کی تھوڑی سی لاپرواہی میرے سارے عمر کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔ سو بی کئیر فل۔” آہل نے تنبیہی نگاہ سب پر ڈال کر سپاٹ لہجے میں کہا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آپ مجھ سے اب نفرت کریں گے نا؟؟ کیونکہ میں آپکے لائق نہیں ہوں ۔ ” عنایہ کو ہوش آیا تو سب سے پہلے جس انسان پر نظر پڑی اسکا سامنے کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔ کہ وہ اسے دھتکار دے گا۔ جبکہ اذلان ساکت پتلیوں سے اسکے چہرے کو بغور دیکھتا اپنے سوچوں میں غرق تھا۔
” آپ کچھ بولتے کیوں نہیں؟؟ آپکی خاموشی جان لے لے گی میری. دل بیٹھا جارہا ہے” اسے ہنوز خاموش دیکھ کر وہ روہانسے آواز میں بولی۔
” میں سوچ رہا ہوں کہ آج ہی رخصتی کرواکر تمہیں اپنے روم میں شفٹ کروادوں۔ اور اپنی محبت کا عملی ثبوت دے دوں۔ کیونکہ مجھے خود اپنی محبت کی حد کا نہیں پتا۔ دھتکارنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آئیندہ اس طرح کی گفتگو سے گریز کرو ورنہ میری محبت کی شدتیں تم سہہ نہیں پاوگی۔” اس کے آنکھ سے نلکنے والا آنسو اذلان نے اپنے لبوں سے چن لیا تو وہ اس کی بے اختیاری پر مچل اٹھی۔ چہرہ حیا کی شدت سے سرخ انگارہ ہوگیا۔ اذلان کو اس کے چہرے پر اپنی محبت کے رنگ اتنے بھلے لگے کہ دل سرشار ہونے لگا۔
” تم بہت پیاری ہو۔ اور میرا دل چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے دل کی کسی خاص کونے میں مقید کرلوں۔” اس کے تپتے رخسار پر لب رکھ کر اس نے اپنے جذبات عیاں کردیے۔
” یہ پھپھو کا کمرہ ہے۔ آپکا نہیں۔ اس لئے اپنے بےلگام جذبوں کو لگام ڈالئے. کسی بھی وقت کوئی بھی آسکتا ہے۔” زر نے کروٹ بدل کر گہری سانس کھینچ لی۔
” یہ خوف کسی کے آنے کا نہیں ہے۔ بلکہ تم میری قربت جھیل نہیں سکتی نا۔” اذلان کے لو دیتے لہجے میں کہنے پر نجانے کس احساس کے تحت اس کی پلکیں عارضوں پر جھک گئی۔
” ہائے!!؟ ناکر یار ۔۔۔ تمہاری یہ قاتلانہ ادائیں کسی دن اس معصوم بندے کی جان لے لے گی۔” اذلان نے دل پر ہاتھ رکھ کر بے باکی سے آنکھ دبا دی۔
” مرے آپکے دشمن.. مجھے ابھی آپ کے ساتھ لمبی زندگی جینا ہے۔ پہلی بار لائف میں مجھے ایک ایسا رشتہ ملا ہے جو کہ صرف میرا ہے۔ جس پر میں اپنا حق جتا سکتی ہوں۔ ” اذلان کی بات پر وہ کرنٹ کھا کر واپس کروٹ بدل کر اس کی طرف رخ موڑ گئی۔ تو اذلان کو اسکی بے ساختگی پر ٹوٹ کے پیار آیا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حسب معمول ناشتے کے ٹیبل پر سب موجود تھے۔ جبکہ آہل اور زر ابھی تک نہیں آئے تھے تو عنایہ ان کا ویٹ کر رہی تھی۔ اذلان عنایہ کی وجہ سے ابھی تک ناشتہ شروع نہیں کرپایا تھا۔جیسے ہی آہل اور عنایہ ڈائیٹنگ ٹیبل پر اگئے۔ چوکس ملازمین کی دوڑیں لگی۔۔ مزے مزے کے پکوان ناشتے میں تیار کئے گئے تھے۔
” عنایہ تم کیا لو گی؟؟ حدید نے پلیٹ ہاتھ میں پکڑ کر عنایہ کو پیار سے محاطب کیا۔ تو ناشتہ کرتے سلطان میر کے ہاتھ رک گئے۔ اور سرد مہری سے حدید کی طرف دیکھنے لگا مگر وہ بے نیازی کا چولہ اوڑھ کر عنایہ کے ساتھ مستیوں میں مگن تھا۔
” بھائی ! مجھے آپ اپنی پسند کا ناشتہ سرو کردے۔ میں کھا لوں گی.” عنایہ تو اتنی محبتیں پاکر ہواؤں میں اڑنے لگی تھی۔
” بالکل نہیں!! یہ خدمتیں تم اپنی بیگم کے کروانا تو ثواب ملے گا۔ میری بیوی میرے پسند کا ناشتہ کرے گی۔” اذلان نے اس کے ہاتھ سے پلیٹ چھین کر جل کر کہا تو حدید نے بے ساختہ قہقہ لگایا۔
” یار تو زن مریدی کے آگے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دے گا۔” حدید نے مصنوعی تاسف سے سر ہلا کر ناشتہ شروع کیا۔ جب کہ شزا اور سوہا زہرخند نظر عنایہ پر ڈال کر ناشتے میں مصروف ہوگئے۔
” اگر بیوی سے پیار کرنا، اس کا خیال رکھنا زن مریدی کے زمرے میں آتا ہے تو ہاں زن مرید بننے میں کوئی ہتک آمیز بات نہیں ۔۔ ” اذلان نے نروٹھے انداز میں کہہ کر پلیٹ عنایہ کے سامنے رکھا۔
” تم لوگ بھول چکے ہو تو یاد دلاؤں کہ یہاں عورتوں کو ایک حد تک رکھا جاتا ہے۔ اس پر کسی قسم کی روک ٹوک نا ہو تو اپنے خول سے باہر نکلتے لگتی ہے۔ کل اسی آزادی کو ہمارے گلے کا پھندا بنا سکتی ہے۔۔کچھ برس پہلے ہمارے اعتماد کو اسی طرح پیروں تلے روندھ دیا گیا تھا ” ایاز میر نے سرد انداز میں کہہ کر زر پر ایک تلخ نظر ڈالی تو اسکی بات کا مفہوم سمجھ کر اس نے آنکھیں جھکا دی۔ آہل نے اسکے ٹوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر سکا چہرا اوپر اٹھایا۔
” آہل یزدان کی بیوی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سر جھکا کر چلے. مسز آہل بن کر سر اٹھا کر آگے بڑھنا سیکھو۔ تم پر کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کیونکہ میں محبت میں عورت کو گھر کی چار دیواری میں مقید کرنے کا قائل نہیں کہ پل پل اذیت دے کر عورتوں سے اسکی جینے کی وجہ چھین لوں ۔ تمہاری حویلی میں عورتوں کو پیروں کی جوتی سے بھی حقیر سمجھا جاتا ہے مگر ہم عورتوں کو سر آنکھوں پر بھٹا کر مان بخشتے ہیں۔” ایاز میر نے غور سے آہل کے چہرے کو دیکھا گویا اسکے عزائم کا پتہ لگانا چاہ رہے ہو۔۔
” ہم چلتے ہیں۔اپنا خیال رکھنا۔ میڈیسن ٹائم پر لینا۔۔” حدید نے عنایہ کے سر پر بوسہ دیا اور ماں کے قریب آیا۔ باپ کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا تو ان کو اپنی ماں سے بھی ہمدردی ہونے لگی۔ کہ وہ کیسے ایسے شخص کے ساتھ رشتہ نبھا رہی ہے۔۔ کتنا بڑا ظرف ہے انکا۔ کبھی اف تک نہیں کیا۔ ماں کے گرد بازوؤں کا حصار بنا کر اسکے ماتھے پر لب رکھے۔
” آئی لو یو موم۔!! اور انیلا بیگم کی آنکھوں سے کچھ آنسو نکل کر حدید کے گھنے بالوں میں جذب ہوگئے۔
” جیتے رہو میرے بچے۔! انیلا بیگم کو آج اپنی ماں ہونے کا مان ملا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°