Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 09
آہل سے ملنے کے بعد وہ سوہا کے روم میں اگئی۔ روم میں گھپ اندھیرا تھا۔ اس نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھ کر بٹن پریس کیا تو روم میں روشنی پھیل گئی۔ وہ سوہا کے قریب آکر بیٹھ گئی جس نے آنکھوں پر بازوؤں رکھ کر سونے کی بھرپور ایکٹنگ کی۔
“سوہا !! اسنے ہولے سے پکارا اور ساتھ میں بازوں کو آنکھوں سے ہٹانے کی کوشش کی تو سوہا نے بے دردی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“کھا گئی میری خوشیوں کو تم !!. بہن نہیں ڈائین ہو. ایک بہن کی خوشی کا تو خیال کیا ہوتا۔ آگ لگا دی میرے سپنوں کو , حقیقت بننے سے پہلے بھسم کردیا۔” سوہا پھٹ پڑی۔
“سوہا!! بے یقینی سے زر کی آواز ہی خلق میں دب گئی۔
“تمہیں دو مہینے ہوگئے کہ آہل کو پسند کرنے لگی ہو۔ میں دو سال سے ان کی نکاح میں ہو۔ میں نے کب آگ لگائی۔ میں نہیں, تم خود ہم دونوں کے بیچ اگئی ہو۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آہل نے کبھی تمہیں اس نظر سے دیکھا بھی نہیں۔وہ میرے شوہر ہے۔ ایسا سوچنا بھی گناہ ہے تمہارے لئے۔ کیوں خود کو گناہ کا مرتکب کرنا چاہتی ہو۔۔۔
” دیکھو آپی !! میں آہل کو سچ میں پسند کرتی ہوں۔۔تم میری بہن ہو نا۔ پیار کرتی ہو مجھ سے۔ تو میرے لئے ان کو چھوڑ دو۔ دادا سرکار کو میں کیوں نظر نہیں آئی جو تمہیں پیش کردیا۔” پل میں تولہ پل میں ماشہ بنی سوہا زر کے دونوں ہاتھ ہاتھوں میں لیکر لہجے میں مٹھاس سموئے بولی۔
زر آنکھوں میں ڈھیر سارا تخیر لیکر خود سے تین سال چھوٹی بہن کو دیکھ رہی تھی۔ جو اتنی خود عرض بن چکی تھی کہ بہن کا گھر اجاڑنے چلی تھی۔ وہ بہن جس کو ابھی تک شوہر کا پیار تک نصیب نہیں ہوا.
” اور میرا بچہ!! زر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مقابل کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بل کھا کر کھڑی ہوگئی۔
“ابھی ٹائم ہی کتنا ہوا ہے۔ ایک منتھ تو گرا دو بچہ۔۔۔”
“چٹاخ!!!!!!!!!! بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سوہا کے منہ پر طمانچہ پڑا۔
“ماں بننے کا احساس کتنا انوکھا ہوتا ہے۔ یہ تمہیں تب پتہ چلے گا جب تم خود ماں بننے کے عہدے پر فائز ہوجاؤگی۔ میں تم جیسی خود غرض بہن کے لئے اپنے بچے کی سانسیں چھین لوں۔ تمہیں اپنا شوہر دے دو۔ کیوں؟؟ کوئی کھلونا ہے آہل کہ تمہیں پسند آیا اور میں تمہیں دے دوں۔ جس طرح بچپن سے تم میری چیزیں ہتھیا کر خوش ہوتی تھی. تم اب بھی ویسے ہی ہو. دادا سرکار کو تم اس لئے نظر نہیں آئی کیونکہ آہل نے بذات خود میرا نام لیا تھا۔ آئیندہ تمہارے منہ سے آہل کا نام بھی سنا تو میں بھول جاؤں گی کہ تم میری بہن ہو۔ اب وہ صرف میرے شوہر نہیں میرے ہونے والے بچے کا باپ بھی ہے۔ تمہارے بہنوئی ہیں وہ. جتنی جلدی ہو سکے اس رشتے کو ایکسپٹ کرلو.” زر اسے درشتی سے وارن کرکے کپبرڈ کی طرف بڑھ گئی۔ اور اپنے کپڑے اور ضرورت کی دوسری چیزیں اٹھا کر آہل کے روم میں جانے لگی کہ دروازے پر رک گئی۔
“میں اپنی ہر پسندیدہ چیز تمہارے ساتھ شئیر کرتی۔ کیونکہ جو کچھ مجھے پسند ہوتا قسمت کی ستم ظریفی دیکھے وہ تمہیں بھی چاہیے ہوتا تھا۔ بچپن سے عادت تھی تمہیں میری پسند کی چیزیں چھیننے کی۔ کاش اب بھی کوئی چیز شئیر کرنے کا بولتی۔ میں بغیر کسی مزاحمت کے آنکھ بند کرکے تمہارے حوالے کردیتی ۔مگر یہاں تم مجھ سے ایک جیتا جاگتا انسان مانگ رہی ہو۔ جس میں میری سانسیں اٹکی ہوئی ہے۔ اپنی ساری چیزیں واپس لیکر جارہی ہوں تاکہ تمہاری عادت چھوٹ جائے۔” یہ کہہ کر اپنی آنسوں پر مزید ضبط نا رکھ سکی اور رو کر نکل گئی۔
آہل کے روم میں وہ شکستہ حالت میں داخل ہوئی۔ وہ جو عنایہ سے ملکر تھوڑا ریلکس ہوا تھا۔ زر کی بکھری حالت دیکھ کر تڑپ تھا اور لمحے کا توقف لئے بغیر اسکے پاس پہنچا
“کیا ہوا تمہیں؟؟ رو کیوں رہی ہو؟؟۔ پھر سے کسی نے کچھ کہا ہے؟ بتاؤ مجھے۔ میں چھوڑوں گا نہیں کسی کو۔”
“نن۔نہیں۔ وہ بس اپنے گھر والوں کی بے حسی پر رونا آرہا یے۔ اپنے خون کیساتھ بھلا کوئی ایسا کر سکتا یے۔” زر نے ہاتھ کی پشت سے بے دردی سے آنسو صاف کئے۔
” اللّٰہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ پہلے تو مہلت دیتا ہے کہ کوئی بھٹک کر واپس اجائے تو اسے معاف کرے۔ مگر جب کوئی خدا بنا بیٹھتا ہے اسکا حال فرعون سے بدتر ہوتا ہے۔ ان کو دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے۔۔ کیونکہ ہر فرعون کے لئے ایک موسیٰ ضرور جنم لیتا ہے۔ آج کے بعد تمہیں ان لوگوں کے لئے تڑپتا ہوا نا دیکھوں۔ مجھے اپنا بچہ اور اس کی ماں دونوں ہیلتھدی چاہئے۔ سمجھی۔”
جی!!! زر نے تابعداری سے سر ہلایا۔
“گڈ !! تو مسز آہل آج سے تم میرے روم میں رہو گی میرے ساتھ. میرے قریب….” آہل نے اسے بازوؤں کے گھیرے میں لیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
صبح کا سورج ایک نیا باب لیکر طلوع ہوا۔ کسی کو پتا نہیں تھا کہ طوفان کون سا رخ موڑنے والا ہے۔ نئی ذندگی شروع کرنے کے لئے ہمیشہ صفحہ پلٹنا کافی نہیں ہوتا کبھی کبھی پوری کتاب بھی بدلنی پڑتی ہے۔ آج عنایہ کی پوری زندگی کی ازسر نو شروعات ہونے والی تھی۔ ناشتے کے ٹیبل پر آج عنایہ کی جگہ آہل کے پہلو میں زر پورے استحقاق کیساتھ برا جمان تھی. سب کو مکمل طور پر اگنور کرکے وہ وقفے وقفے سے زر کو کچھ نا کچھ کھلاکر وہاں بیٹھے گھر کے سربراہان کے غصے کو ہوا دے رہا تھا۔
سب نے ناشتہ کیا اور اٹھنے لگے تو اہل نے سب کے بڑھتے قدموں کو روکا۔
“کچھ حساب کتاب چکتا کرنے ہیں تم لوگوں سے”
سب نے نافہم نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور ہال میں پڑے صوفوں ہر براجمان ہوگئے۔
” کسی بھی انسان کو اس کے انتہائی کمزور پہلو سے مت توڑے, آپ صلاحیت کے چاہے جس درجے پر بھی ہوں, مکافات عمل اٹل ہے.بائے دا وے تم لوگوں کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ اذلان کو عنایہ نے اپنے روم میں بلایا تھا.” بلا تمہید آہل نے بات کا آغاز کیا۔
“اذلان کے موبائل میں ثبوت موجود ہے۔ جس سے بعد میں وہ لڑکی اور اذلان دونوں انکاری ہوگئے تھے۔ ” سلطان میر نے تلخی سے کہہ کر پہلو بدلہ۔
“اذلان اپنا موبائل دو.” آہل نے اذلان کیطرف ہاتھ بڑھایا۔
اذلان نے بغیر پس و پیش کے موبائل پکڑوایا۔
پہلا مسیج ہی عنایہ کے نمبر سے کیا گیا تھا۔
کچھ لمحے وہ بغور میسیج کو دیکھتا رہا پھر ایک خوبصورت مسکراہٹ لئے موبائل سکرین کو آف کردیا۔ اور اذلان سے مخاطب ہوا۔
“اذلان !! عنایہ سے تم کئے بار خود سے مخاطب ہوئے تھے نا۔ تم نے کبھی اس کے رویے کو نوٹس کیا تھا۔ آئی مین۔ اسکے بات کرنے کا انداز اسکا لہجہ چھبتا تھا تمہیں؟؟
“جی ” اس سے پہلے ایک بار میں نے عنایہ کو دیکھا تھا باہر لان میں تو میں خود چلا گیا اس سے بات کرنے۔ مگر یہ میرے ہر بات کا بدتمیزی سے الٹا جواب دیتی۔” احساس توہین سے اذلان کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
“ہمممم!! آہل نے ہنکارا بھرا۔
اور ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
” دوسری بات !! عنایہ بڑوں کو بھی تم کہہ کر مخاطب کرتی۔ مجھے بڑا آکورڈ فیل ہوا تھا۔ میں نے اسکو کئی بار ٹوکا کہ آہل جیسے بندے کیساتھ رہ کر بھی تم نے کچھ مینرز نہیں سیکھیں۔ بڑوں کو آپ کہہ کر بلاتے ہیں۔ تو وہ برا مان گئی.” اذلان نے حرف بہ حرف سچ بولا۔
“جب تم عنایہ کے روم میں گئے۔ تب کیا ہوا؟؟
“عنایہ اس وقت سو رہی تھی۔ میں سمجھا اسکی طبیعت ذیادہ خراب ہوگی تو میں نے اسے ہلکا سا جھنجھوڑا ۔ اسکی آنکھ کھلی اور مجھے دیکھ کر وہ غصے سے پھٹ پڑی ۔ کہ میری اتنی ہمت اس کے کمرے میں گھس گیا۔ اور جلی کٹی سنانے لگی۔ پھر میں نے موبائل نکال کر اسے میسج دکھایا تو صحیح معنوں میں اسے دھچکا لگا۔ کیونکہ نمبر اسی کا تھا۔ اس نے موبائل کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر نہیں ملا. میں نے خود اسکے ساتھ ملکر کپبرڈ, دراز ہر جگہ چھان ماری۔ ہمیں موبائل نہیں ملا. عنایہ کو لگا میں ڈرامہ کر رہا ہوں۔ اور یہ سب میں نے جان بوجھ کر اسے بدنام کرنے کے لئے کیا ہے. بت آئی سوئیر !! میں کچھ نہیں جانتا۔ مجھے پتہ تھا آپ باہر گئے ہوئے ہیں. اور عنایہ کو کسی کی ہیلف کی ضرورت ہوگی۔ تبھی دوڑتا ہوا آیا۔ مگر جب میں باہر نکلنے لگا ,کسی نے باہر کی سائیڈ سے دروازہ بند کردیا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی اوپن کرنے کی۔ نہیں کھلا. مجھے یقین آگیا کہ ہمیں ٹریپ کیا گیا ہے۔ لیکن سدا کی جذباتی عنایہ کو پھر بھی یہ سب مزاق لگ رہا تھا۔ اور اس نے دروازہ زور شور سے بجانا شروع کردیا۔ دروازہ کھلنے پر ایک ساتھ سبھی لوگ اندر داخل ہوئے۔
“جھوٹ !! جب ہم روم میں گئے۔ موبائل ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر پڑا تھا۔ ہم سب گواہ ہیں۔” سلطان میر بیچ میں مداخلت کرنے لگا۔
“ایک دم چپ!! تم لوگوں کی گواہی کی ایسی کی تیسی ؟؟ اہل نے اسے شٹ اپ کال دے دی۔
“موبائل وہاں کیسے آیا ہمیں نہیں پتہ۔ ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر میں نے خود چیک کیا تھا آہل. بار بار” عنایہ بول اٹھی۔
“مطلب اسی وقت عنایہ کے روم میں جو بھیڑ جمع تھی اسکا فایدہ اٹھا کر کسی نے موبائل واپس رکھ دیا۔ انٹرسٹنگ!! مجرم تو کافی شاطر نکلا” آہل نے طنزیہ مسکراہٹ خاضرین پر اچھالی۔
” اذلان کے کہنے کے مطابق عنایہ کو بڑوں سے بات کرنی کی تمیز نہیں۔ ہر کسی کو تم کہہ کر مخاطب کرتی ہے۔ تو یہ میسیج ٹائپ کرتے وقت عنایہ میں اتنی تمیز کہاں سے آگئ۔ جو اس نے اذلان کو “آپ” کہہ کر بلایا.” آہل نے موبائل لہرایا۔ تینوں بھائیوں کو سانپ سونگھ گیا۔
“انسان کو جیسے بولنے کی عادت پڑ جائے تو وہ عادت اتنی جلدی نہیں چھوٹتی۔ مطلب صاف ہے یہ میسج عنایہ نے کیا ہی نہیں۔ کسی اور کی کارستانی ہے۔ بندہ چاہے جتنا بھی خود کو ہوشیار کیوں نا سمجھے,کہی نا کہی سراغ چھوڑ ہی دیتا ہے۔ بات بلکل کلئیر ہے۔ عنایہ پر تم لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔ پہلے عنایہ کا موبائل چھپا کر اس سے ازلان کو مسیج کرنا ,ازلان کا آنا, روم کا بند ہوجانا, سب ایک سوچی سمجھی سازش ہے. دونوں بے خبری میں مار کھا گئے۔ اب مجھے عنایہ کے لئے انصاف چاہئے۔ میں کیس کر سکتا ہوں تم لوگوں پر۔ اذلان تم خود کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے تیار ہو نا.” آہل بڑی ہوشیاری سے ان کے بنائے گئے داؤ کھیلنے لگا۔
“جی !! میں نے اپنی ماں کے سر کی قسم کھائی ہے کہ میں ان سب میں شامل نہیں۔ اگر آپ کیس کرنا چاہتے ہیں تو بھی میں اپنی بات پر ڈٹا رہوں گا۔ پیچھے نہیں ہٹوں گا.” اذلان راضی ہوگیا۔
“ہممم۔۔۔!!!
اب تو دو ہی راستے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ معاملہ گھر میں ہی سلجھا کر رفع دفع کیا جائے۔ دوسرا ہم یہ کیس کورٹ میں لے جائیں گے۔ اور مجھ میں اتنا دم ہے کہ سچ کی بنیاد پر کیس جیت جاؤں۔ مگر وہ کیا ہے نا تم لوگ تھوڑے شریف ہو۔ کہاں کورٹ کچہری کے چکر میں پڑنا چاہو گے۔ اور پھر یہاں اس حویلی میں بھی جوان لڑکیاں ہیں۔ سب سے زیادہ اثر ان پر ہوگا۔” آہل باری باری دلچسپی سے سب کے چہرے کے اتار چڑھاؤ نوٹ کر بات کر رہا تھا۔
“میں نے بولا بھی تھا۔ اسکل کے چوکرے میں کوئی تو بات ہے۔ اسے ہلکے میں مت لو۔ مگر تم ضد پر قائم تھے.اب بھگتو اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری” ایاز میر نے بھائی کے کان میں غصے سے پھنکارتے ہوئے سرگوشی کی۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ پھر سے اہل نے گلا کھنکار کر بات شروع کی۔
“اور مجھے یقین ہے کہ تم لوگ کبھی نہیں چاہو گے کہ معاملہ گھر کی دہلیز سے باہر جائے۔ تم لوگوں کی عزت کی نیلامی ہو۔ اور گھر کی بات گھر میں ہی رہے تو ہم اذلان اور عنایہ کا نکاح کروا دیتے ہیں۔ اگر تم لوگ راضی نہیں تو ہم آج ہی حویلی والے سب مردوں کے اوپر ہتک عزت کا کیس دائر کردیں گے۔” آہل بڑی ہوشیاری سے انہیں اپنے انگلیوں پر نچانے رہا تھا۔
“دماغ تو خراب نہیں ہے تمہارا. ہم خاندانی لوگ ہیں۔ میرا بیٹا کیوں اس دو ٹکے کی لڑکی کو اپنی زوجیت میں لےگا۔ جس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ ماں باپ کا اتا پتہ نہیں۔” ایاز میر بھپر گیا۔ جبکہ شزا کا تو مانو کسی نے پیٹ میں چھڑی گھونپ دی ہوں۔ وہ اذلان کو بچپن سے چاہتی تھی۔ اور یہاں کسی اور کو مفت میں مل رہا ہے۔
“اذلان تمہارا کیا فیصلہ ہے۔” اس نے گھوم پھر کر ایک بار ہھر اذلان کو میدان میں اتارا۔
“میں راضی ہوں.!! اذلان بلا چون و چرا مان گیا۔
“تم ہمارے خلاف جاؤگے۔ اپنے باپ کے خلاف”۔ ایاز میر بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اذلان کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا ۔
“جی! آپ لوگوں کو چاہیے تھا۔ مجھے صفائی کا موقع دیتے۔ میرا اعتبار کرتے۔ تو سب مل بیٹھ کر ان سب کے پیچھے جس کا ہاتھ ہے اس شخص کو بے نقاب کر سکتے تھے۔ مگر آپ لوگوں نے نا تو میرا یقین کیا۔ نا میرا ساتھ دیا۔ مشکل وقت میں اکیلا ہی چھوڑ دیا۔مگر اللّٰہ اپنے بندے کو بکھرنے سے پہلے تھام ہی لیتا ہے۔ وہ مجھے ٹوٹنے نہیں دے گا ۔ ” اذلان کے لہجے میں کانچ جیسی چبھن تھی۔
“باؤلے ہو کیا۔ جانتے بھی ہو کیا بول رہے ہوں۔ ہمارے شان میں گستاخی کرنے کے جرم میں حویلی اور خاندان دونوں سے دربدر کر دئیے جاوگے۔” اب کے بار امان میر نے اپنی اوقات دکھا دی۔
“واوو !! آج تو سب کے تالے کھل گئے۔” آہل نے امان میر پر سرد نظر ڈالی.
” ہوجانے دو چاچا سرکار !! وہ تو میں نے گستاخی نہیں کی تھی تب بھی آپ لوگوں نے ساتھ نہیں دیا۔خاندان کا مطلب جانتے ہیں آپ لوگ ۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کو فیملی کہتے ہیں۔ ناکہ اپنے ہی خون پر الزام لگا کر کٹہرے میں کھڑا کرکے سزا سنانا۔ یہ جو انسان سامنے بیٹھا ہے پتہ ہے کس کے لئے لڑ رہا ہے۔ اس لڑکی کے لئے۔ جو نا تو اسکی سگی بہن ہے نا بیٹی۔ اور یہاں آپ سب میرے اپنے ہو پھر بھی میرے لئے کسی نے سٹینڈ نہیں لیا۔ شزا تم!! تم تو مجھ سے پیار کی دعویدار تھی نا۔ تم نے بھی آواز دبا دی۔ تمہارے پیار کے لئے بھی چھوٹا سا ٹیسٹ تھا یہ جو تم ہار گئی۔ اتنا بے مول تو نہیں تھا میں۔ اور فکر نا کرے آپ لوگ,اتنا کما سکتا ہوں میں کہ بیوی کی ضروریات پوری کرسکوں۔”
“آہل بھائی میں تیار ہوں!! جب چاہے میں پورے دل سے عنایہ کو اپنی بیوی بنا لوں گا۔”
سب کی نظریں شزا پر آکر ٹہر گئی۔ جس کا دل اچھل کر خلق میں آگیا تھا. اس نے پاس پڑے صوفے کا سہارا لیا ورنہ زمیں بوس ہوجاتی۔
” بھائی آپ کو حویلی سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں. میری رخصتی ہوگی تو عنایہ میری جگہ یہاں آئے گی, حویلی کی بیٹی بن کر. میں نے اور آہل نے ڈیسائیڈ کیا ہے کہ ہم اپنا حصہ عنایہ کے نام کردیں گے۔ تاکہ وہ سیکیور رہے اپنے گھر میں۔” ایک بار پھر سب نے کینہ توز نگاہیں زر پر ڈال دی۔
“شام کو تیار رہنا۔ میں مولوی اور گواہوں کا بندوبست کردوں گا۔” آہل نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
“لڑکے کی طرف سے مجھے بطور گواہ پیش کرنا۔ حدید نے اذلان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوستی کا فرض نبھایا.
” سوری یار!! جس وقت تمہیں ضرورت تھی میں موجود نہیں تھا”
“حدید تم ان لوگوں کا ساتھ دو گے.؟؟” بازی سلطان میر کے ہاتھوں ریت کی طرح سرک رہی تھی۔ تو جی جان سے لرز اٹھے ۔
“جی بابا !! میں آپ لوگوں کی طرح خودعرض اور بے حس نہیں ہوں. مجھے بھروسہ ہے اذلان پر۔ ہم لوگ بھی یہ کیس جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ اذلان بے قصور ہے۔ مگر اس کی جلدبازی کیوجہ سے عنایہ کے کردار پر انگلی اٹھی ہے۔ تو یہ بلکل ٹھیک فیصلہ ہے کہ وہ عنایہ کو وہی مان وہی عزت لوٹائے۔ جو یہاں کے لوگوں نے چھینا ہے۔ حدید کا لٹھ مارنے والا انداز تھا.
“آج شام کو نکاح ہے تو جس کو شرکت کرنی ہے۔ ویلکم ۔ پھر جمہ کے بابرکت دن پر عنایہ اور زر کی رخصتی ہوگی ایک ساتھ. میں بھی پبلکلی اپنی شادی اناؤنس کروں گا.” آہل پرسکون چال چلتا ہوا ثوبیہ بیگم کے سامنے کھڑا ہوا۔
“آپ کو تو خوش ہونا ساسوں ماں!! ایک ساتھ بیٹے اور بیٹی کی فرض سے سبکدوش ہو جائے گی۔ آپکا آنا تو بنتا ہے۔ کب تک فرسودہ روایات کے دباؤ میں آکر بچوں کی خوشیوں سے منہ موڑےگی۔” پینٹ کے جیبوں میں دونوں ہاتھ ڈالے آنکھوں میں فاتحانہ چمک لئے کھڑا تھا.جبکہ ثوبیہ بیگم بغیر کسی تاثر سے اسے دیکھنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“اوہ…… ایم سوری !! میں نے تمہیں کچھ دیر پہلے تمہیں عنایہ کے روم میں جاتے دیکھا تو سوچا زر کی طبیعت پوچھ لوں.” عاتکہ جو بغیر ناک کئے روم میں داخل ہوگئی۔ آہل اور عنایہ کو ایک دوسرے میں مگن دیکھ کر خفت مٹانے کو وضاحت دینے لگی۔
” کوئی بات نہیں !! آپ کبھی بھی آسکتی ہیں مجھ سے ملنے.’ زر آہل کے حصار سے نکل کر اس کے قریب آگئی جس سے آہل کے وجود میں شرارے ڈوڑنے لگے.
” میری موجودگی میں آنے سے احتراز کیا کرے تو بہتر ہوگا.” صبر کے غصیلے گھونٹ پی کر آہل نے خود کو ترش بولنے سے باز رکھا۔ کیونکہ عاتکہ سے زر کی محبت مثالی تھی اور وہ زر کو سٹریس نہیں دینا چاہتا.
” آہل۔۔۔۔ !!
وہ اپنے اشتعال کو دبانے باہر نکلنے لگا کہ عاتکہ نے پیچھے سے پکارا۔ اس کے قدم ٹھٹھکے مگر رخ موڑنے کی زحمت نہیں کی۔
” مبارک ہو بیٹا!!
” بیٹا….؟؟ مجھے کچھ خاص پسند نہیں آیا یہ لفظ. تصحیح کرلے. داماد جی کہہ کر بلائے. اور کس چیز کی مبارک باد؟؟ آہل نے چونک کر جھٹکے سے رخ اسکی طرف موڑ دیا.
” کم آن آہل!! ہم پیرنٹس بن رہے ہیں نا تو اس خوشی میں” زر نے عاتکہ کے گرد بازوؤ حمائل کرکے جواب دیا. جو کہ آہل کے خوبرو چہرے پر نظریں جمائے ساکت کھڑی تھی.
“آپکی بیٹی ماں بننے والی ہے تو ماں ہونے کے ناطے اسے مبارک باد دے. میں اپنی خوشیاں اکیلے سلیبریٹ کرتا آیا ہوں.” آہل طنزیہ مسکان لئے گویا ہوا۔
“میرے قریب آنے کی یا پیار جتانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے. میرا اس گھر سے صرف ایک ہی رشتہ ہے, ان چاہے داماد کا۔ وہ بھی ختم ہوجائے گا بہت جلد۔ کیوں کہ میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جارہا ہوں. ہمیشہ ہمیشہ کے لئے.” آہل کے الفاظ تھے کہ ہتھوڑے کے وار جو عاتکہ کے دل کے آر پار ہونے لگے. قدم لڑکھڑائے تو زر نے تھام لیا۔
” کیا ہوا ؟؟ جھٹکا لگا نا. آپ کو تو اپنے بچوں کو دیکھے بغیر نیند نہیں آتی. کبھی کس کو گود میں لٹا کر سلاتی ہیں کبھی کس کے محبت کا دم بھرتی ہیں۔ کبھی کس پر محبت جتاتی ہیں۔ تھکتی ہوگی آپ۔ تو میں نے سوچا کیوں نا آپکو تھوڑی سی رعایت دی جائے۔ زر کا خیال میں اچھے سے رکھ سکتا ہوں۔ جب تک یہاں ہیں ہم , جی بھر کر اسے دیکھ کر ممتا کو تسکین پہنچانے کی کوشش کرے. ” اگر کسی چیز میں آہل ایکسپرٹ تھا تو وہ الفاظ سے گھاؤ دینا تھا۔ اب بھی وہ وہی کرنے لگا تھا۔
” کیوں کر رہے ہو تم ایسا؟؟ عاتکہ نے نمکیں پانی خلق سے اتارا.
“کیونکہ مجھے نفرت ہیں آپ سے مسز کامل یزدان…!!! ” آہل نے تنفر سے چبا چبا کر لفظوں کے نشتر پھینکے.
