Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
اناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
سیکینڈ لاسٹ ایپیسوڈ
عنایہ متوازن چال چلتی ہوئی سلطان میر کے روبرو کھڑی ہوگئی۔
” میں صرف ایک سوال پوچھوں گی۔ کہ میری ماں کا قصور کیا تھا ؟؟ جواب سوچ سمجھ کر دیجئے گا ورنہ جانتے ہیں سب کہ عورت کمزور ہوتی ہے لیکن یقین مانے وہ بدلہ لینے پر اتر آئے تو بنیادیں ہلا کر رکھ دیتی ہیں عزتوں کی۔ میں زرا سا بھی رحم نہیں کھاؤں گی۔” عنایہ نے دل گیر لہجے میں کہہ کر دکھ و تاسف سے آنکھیں میچی۔
” یہ کھیل تمہاری ماں کے اس فریبی بھائی نے شروع کیا تھا۔ نا وہ ہماری گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالتا, نا اسکے کئے کا خمیازہ اسکی بہن کو بھگتنا پڑتا۔” سلطان میر قطعی بھی اپنے فعل پر نادم نہیں تھا۔
” نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھے تھے ہم دونوں۔ بے آبرو نہیں کیا گیا تھا مجھے۔ اگر آپ لوگ بروقت ہامی بھرتے رشتے کے لئے تو بابا سرکار پورے رسم و رواج کے ساتھ ہماری شادی کروا دیتے۔ آپ تو چلتے پھرتے بدکاری و بے حیائی کی مورت بنے پھرتے تھے۔ ادھر حسن دیکھا نہیں اور رال ٹپکنے لگتی ہے۔ اور معصوم صدیقہ عزت گنوا بیٹھی۔” عاتکہ اپنا ضبط کھو بیٹھی۔
” بند کردو بکواس خبیث بدچلن عورت!! سلطان میر آپے سے باہر آگئے۔
” سلطان میر … !! غیر شناسا بھاری دل دہلانے والی پکار پر سب کی نگاہیں ایک ساتھ گھوم کر ہال کے داخلی دروازے تک گئی۔ جہاں سفید کاٹن شلوار قمیص پہنے پچاس کے لگ بھگ وجیہہ دراز قامت شخصیت کو دیکھ کر سب کی آنکھیں حجم سے پھیلی۔ چوڑے شانوں پر چادر ڈالے بالوں کو جل سے سیٹ کئے بلیک گاگلز آنکھوں کی زینت بنائے شاہانہ چال چلتا ہوا بھاری نفری کے ہمراہ ہال میں داخل ہورہا تھا۔ کنپٹی کی سفید بالوں نے اسکی وجاہت کو چار چاند لگا دئیے تھے۔
” آئی جی پنجاب..!! حدید کے لب بے آواز ہلے
“یو آر انڈر اریسٹ سلطان میر۔۔!! آنے والے شخص نے انگلی کے اشارے سے ساتھ آئے پولیس کو دروازے پر روک دیا۔
“تمہیں صدیقہ یزدان کا ریپ کرنے, اور پھر تشدد کے بعد اسکا قتل کرنے, عنایہ کو جان سے مارنے کی سازش رچانے کے جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے۔” اریسٹ وارنٹ اس کے آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے سلطان میر کو اس وقت اس شخص پر ملک الموت کا گمان ہونے لگا۔
” بابا ۔۔!! آہل کے لبوں نے میکانکی انداز میں جنبش کی
” ماموں جان.!! عنایہ اپنا ہر درد تکلیف پس پشت ڈال کر بھاگتے ہوئے کامل یزدان کے سینے سے لگی بچوں کی طرح دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔
” آپ نے بہت دیر کردی آنے میں۔اپنی زندگی کے بدترین دنوں میں ہر لمحہ ہر پل میں نے شدت سے آپکے آنے کی دعائیں مانگی تھی۔اپ کی عنایہ کو آپ کی ضرورت تھی جب اس کی ماں اس سفاک دنیا کے رحم و کرم پر اسے چھوڑ کر ابدی نیند سوگئی تھی۔ اس امید پر کہ کبھی تو آپ آئیں گے اور مجھے اپنے مہربان آغوش میں لے کر مجھے سمیٹیں گے۔” شدت جذبات سے عنایہ اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچے روئے جارہی تھی۔
” ششش میرا بچہ!! تمہاری ماں کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے مجھے خود اس مقام تک پہنچنے کے لیے کافی جتن کرنے پڑے۔ اور تمہارا خیال رکھنے کے لیے آہل کو چھوڑا تھا تمہارا مخافظ بن کر” کامل نے سے خود میں بھینچ کر اسکے سر پر اپنے لب رکھ دیے۔ خوبرو چہرے کے غضلات تنے ہوئے تھے۔
” تینوں بھائیوں کو گرفتار کرلو۔” کامل یزدان نے ایک سینیئر آفیسر کو اشارہ کیا جو ہاتھ میں ہتھکڑی لے کر آگے بڑھا تو سلطان میر سمیت سب کے چہرے فق ہوگئے۔
” نہیں بابا.!!! آپ نے غلط کیا مجھے خود ان فرعون صفت لوگوں کو سزا دلوانی تھی۔ مجھے آپ کے قانون پر بھروسہ نہیں۔ یہ لوگ پھر سے کوئی داؤ کھیل کر باہر نکل آئیں گے۔ کوئی ان کا بال بھی بھیکا نہیں کرسکے گا۔ آپ نہیں جانتے ان لوگوں کو, قانون کو پاکٹس میں لیکر گھومتے ہیں۔ میں نے کافی صبر آزما انتظار کے بعد ان لوگوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اتنی آسانی سے میں ان لوگوں کو قانون کے حوالے کرکے ان کی جان بخشی نہیں کرواسکتا۔ یہ جیل ان لوگوں کا سسرال ہوتا ہے جہاں انہیں ہر طرح کی آسائشیں فراہم کی جاتی یے۔۔اپ اپنی فورس کو لے کر واپس چلے جائے۔ میں ان کو دردناک موت دوں گا۔” آہل باپ کے مقابل کھڑا ہوکر سنجیدگی مگر سپاٹ انداز میں گویا ہوا۔
” آہل !! میں وعدہ کرتا ہوں تم سے, ان لوگوں کو وہی سزا وہی ملے گی جو تم چاہتے ہو۔ مگر قانون کے دائرے میں رہ کر. اگر یہ لوگ اثر و رسوخ رکھتے ہیں جو ہم بھی ان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔” کامل یزدان اپنے بیٹے کے جذباتی پن سے واقف تھا۔
” آہل بھائی.!! ان لوگوں کو بول دے میرے بابا کو نا لے کر جائے۔ پلیز۔۔ آپی آپی .!!! آپ بتا دے نا پولیس انکل کو میرے بابا کو معاف کردے۔ انہوں نے آپکی پھپھو کو نہیں مارا۔”
پولیس والے جیسے ہی امان میر کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالنے لگے اسامہ بےتابانہ آہل کی سمت لپک کر دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑتا ہوا اپنے باپ کے بچاؤ کے لیے منت سماجت پر اتر ایا۔
” اسامہ بیٹا۔۔!! بے شک تمہارے بابا نے گناہ نہیں کیا مگر گناہگار کا ساتھ دیا تھا۔ سب کچھ جان کر بھی انجان رہا۔ لیکن ہم پر ایک احسان کیا ہے انہوں نے, میرے زر کی زندگی بچانے کے لئے سر توڑ کوششیں کی تھی۔ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ان کو کم سے کم سزا ملے۔” آہل اسامہ کو خود سے لگائے دلاسہ دیتے ہوئے بولا جبکہ اپنے اکلوتے لاڈلے بچے کو اس طرح روتے سسکتے ہوئے دیکھ کر امان میر کو صحیح معنوں میں پچھتاوا ہونے لگا۔
” آہل !! ان کو سزا ملنی چاہیے۔ میں ساری زندگی اس گلٹ میں رہ رہ کر نہیں جی سکتی کہ میرے شوہر نے اتنے قبیح کام میں بھائیوں کا ساتھ دے کر ایک معصوم لڑکی کی زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔” منیزہ بیگم کی آنکھیں بے بسی سے بھر ائی۔
” عنایہ !! تم میری بیٹی ہو نا۔ مم میں تمہیں اپنا نام بھی دے دوں گا۔ تمہیں وہ مان بھی دے دوں گا۔ اپنی جائیداد میں بھی تمہیں حصہ دے دوں گا مگر اپنے باپ کو بچا لو۔” سلطان میر کو جب لگا کہ وہ چاروں شانے چت گیا ہے اور کوئی جائے پناہ نہیں تو بے بسی کا ذائقہ چکتے ہی جان لبوں پر اگئی۔ اسے واحد نجات کی کنجی اس وقت عنایہ ہی نظر ائی۔
” میں کبھی مر کر بھی آپکو اپنا باپ تسلیم نا کروں۔۔ گن آتی ہے مجھے آپ سے۔ اور نا ہی مجھے ایسے غلیظ انسان کی بیٹی بننے پر اعزاز ملے گا۔ مجھے کوئی جائیداد بھی نہیں چاہئے۔ مان سماں دینے کے لیے میرے پاس میرا شوہر ہے۔ میرا بھائی ہے, میری ماں ہے بہن ہے۔ اگر میرا بس چلتا خود اپنے ہاتھوں سے آپکی سانسیں ختم کرتی۔” اچانک سے کایا پلٹتے اس کے قریب آنے پر عنایہ بدک کر پیچھے ہوگئی۔۔
” ہماری طرف سے کوئی بھی کیس نہیں لڑے گا۔ تو اگر کوئی خوش فہمی ہیں کسی کو تو جاتے وقت گھر کی دہلیز پر چھوڑ کر جائے۔” اذلان نے بے لچک لہجے میں کہہ باپ اور چچا پر متنفر نظر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“آہل !! میری بہو سے تو ملوادو.” کامل عنایہ کو سینے سے لگائے صوفے پر براجمان ہوا تو ہال میں ایک طرف سنجیدہ کھڑے آہل کو دیکھ کر پکارا,جو خون آشام نظروں سے مہد کو دیکھ رہا تھا۔ جیسے آنکھوں سے نگل لے گا۔ جبکہ اسکی نظروں سے خائف مہد اضطرابی انداز میں کھڑا کنپٹی کو سہلاتے ہوئے اپنی پشیمان نگاہیں نیچے زمین پر جمائے کھڑا تھا۔
” زر۔۔!! بابا سے ملو.” آہل نے صوفے کی پشت پر نقاہت زدہ حالت میں کھڑی بیوی کو پکارا تو وہ شکستہ قدم اٹھاتی ہوئی سامنے آکر آہل کے پہلو میں کھڑی ہوگئی۔
” آپ نہیں ملیں گے ان سے؟؟ آہل کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھ کر استفسار کیا۔
” روز ہی تو ملتا ہوں ان سے۔” بے اختیار آہل کی زبان پھسلی تو سختی سے لب بھینچے۔
جبکہ عاتکہ نے ایک سرد نگاہ براہ راست پہلے آہل اور پھر کامل کے چہرے پر گاڑ دی۔تو کامل نے عاتکہ کے خوبصورت چہرے پر بکھری تکلیف کی سرخی دیکھ کر ندامت اور شرمساری کے بوجھ سے گردن جھکا دی۔ آنسو کا گلہ گھونٹ کر عاتکہ سر جھکائے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی اور اس کے روم تک روپوش ہونے تک کامل یزدان کے بےچین نظروں نے اسکا تعاقب کیا۔ اور پھر ایک سخت غصیلی نظر اہل پر ڈالی جس نے آئی برو آچکا کر لبوں پہ مسکان سجا لی۔ یہ تبسم اس وقت کامل کو زہر سے کم نہیں لگی۔ عنایہ کے کنپٹی پر بوسہ دے کر کامل اٹھا اور آہل کے پہلو میں کھڑی زر کے قریب آیا۔
” تمہارے نکاح کے وقت میں موجود تھا مگر تم سے ملاقات نہیں ہوئی۔ پھر جب تم آہل کے آفس آتی جاتی تھی میں اکثر وہی پایا جاتا۔ مگر یہ ذلیل انسان مجھے تم سے ملنے نہیں دے رہا تھا۔ بقول اس کے تمہیں اپنی پھپھو سے بےحد لگاؤ ہے۔ لڑکیوں کے پیٹ میں بات نہیں ٹکتی اور تم یہ پردہ فاش کردوگی۔ جو کہ اس وقت ہم نہیں چاہتے تھے۔ تو اس لئے معذرت۔۔۔” زر کو خود سے لگائے اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ پیچھے ہوا۔ جبکہ عنایہ سلگتی نظروں سے آہل کو دیکھنے لگی جو اپنے باپ کی چالاکی پر عش عش کرنے لگا۔ بندہ تھوڑا بہت ادھار ہی رکھ لیتا ہے۔
” باقی لوگوں سے کل فرصت میں مل لوں گا۔ ” وہ مسرور سا سیڑھیوں کی طرف بڑھتے ہوئے کچھ یاد آنے پر سب کی طرف مبہم مسکراہٹ اچھالتا مخاطب ہوا۔
” آپ کو ڈیوٹی پر نہیں جانا آئی جی صاحب!! بیوی کیا ملی آنکھیں ماتھے پر سجا لی۔” آہل نے نروٹھے پن نے ناک بھوں چڑھا لی۔ جبکہ کامل نے کان نہیں دھرے اور اوپر چلا گیا۔
خواتین ساری اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی کہ آہل نے پلک جھپکتے ہی مہد کو گردن سے پکڑا تو اس اچانک افتاد پر اس کی چیخیں بلند ہوگئی۔ جو حویلی کے تناؤ ذدہ ماحول میں فی الوقت سب کے چہروں پر مسکان لے آئی۔
” آہل میری جان !! ہم نے کچھ نہیں کیا۔ مجھے تمہاری قسم۔ میں نے شزا کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔موم بچا لو ” انیلا بیگم کر دیکھ کر مہد دہائیاں دینے لگا
” آہل چھوڑ اسے.” انیلا بیگم اسکے قریب آکر اہل کے ہاتھوں سے اسکی گردن چھڑانے لگی۔
” یہ کمینہ انسان بیٹا بن کر آپ کی بیٹی پر لائن مار رہا تھا۔ بجائے اسے دھکے دے کر گھر سے نکالنے کے آپ اسکی سائڈ لے رہی ہیں۔” آہل نے سب سے قطعی لاتعلق لب سئے کھڑی شزا پر سرد نگاہ ڈال کر آنیلا بیگم کو محاطب کیا۔
” مہد کے دل میں کھوٹ نہیں ہے۔میں اور شزا جانتے تھے کہ مہد کون ہے۔ اس نے خود ہمیں سچائی بتا دی تھی۔” انیلا بیگم کے انکشاف پر آہل کا خلق تک کڑوا ہوگیا۔
” تم نے خود بتایا تھا نا کہ یہاں کے عورتوں کے جذبات سے مت کھیلنا۔ تو میں نے دونوں کو اعتماد میں لیکر سب سچ بتا دیا۔'” مہد اپنے گردن کو سہلایا۔
” کل صبح پہلی فرصت میں اپنا سامان باندھ کر یہاں سے چلتے بنو۔ شزا کے آس پاس بھی دکھے تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔” تنی بھنوؤں کے ساتھ آہل کرختگی سے گویا ہوا.
” یہ کہیں نہیں جائے گا۔ جب تک اسکا دل چاہے یہاں رہے۔” انیلا بیگم کے دو ٹوک حکم پر مہد کی گردن تن گیی۔ جبکہ آہل ایک زہرخند نظر اس پر ڈال کر زر کے گرد حصار بنا کر روم میں چلا گیا۔ عنایہ بھی اذلان کے ساتھ جاچکی تھی ۔۔اسامہ کو اسکی موم ساتھ لے کر چلی گئی۔مطلع صاف ہوتے ہی مہد نے سوہا کے ہاتھ سے موبایل چھین لیا۔
” کیا بدتمیزی ہے؟؟ دو واپس میرا موبائل۔” سوہا کے ماتھے پر شکنیں واضح ہوگئی۔
” اتنے خوبصورت جبیں پر غصہ چجتا نہیں۔ اور یہ کیا فضول کے کاموں میں اپنی انرجی ویسٹ کر رہی ہو۔ میرے اور شزا کے بیچ کچھ نہیں ہوا اور یہ تم اچھی طرح جانتی ہو۔” مہد کے الفاظ سے سوہا کا چہرہ پل بھر میں تاریک ہوا۔ ہر بار اسے شکست کیوں ملتی ہے۔ شزا اسے سوہا کے اتنے قریب دیکھ کر پیر پٹخ کر چلی گئی۔
” دیکھ لیا نا جیلسں ہوگئی۔ میں بھی اسطرح تمہیں جیلس فیل کروانے شزا کے قریب جاتا تھا۔ کیونکہ تم مجھے لفٹ ہی نہیں دیتی تھی۔ کتنامن کرتا تھا کہ گھنٹوں بغیر پلک چھپکائے, سانس لئے بغیر تمہارے اسے من موہنے مکھڑے کا دیدار کروں۔ مگر ہائے افسوس۔۔!! مہد اسے شیشے میں اتارنے لگا۔ وہ ہونق بنے تاثرات کے ساتھ مہد کو دیکھ رہی تھی۔ کیا وہ واقعی اس کے قریب آنے کے لئے تگ ودو کر رہا تھا۔
” یہ ویڈیو چھوڑو ۔ اس سے کیا حاصل ہوا ؟؟ کچھ نہیں۔۔ہم اس سے اچھے مومینٹس کیپچر کرکے یاد گار بنائے گے۔ ” مہد نے خباثت سے آنکھ کا کونہ ونک کیا۔
” اگر تم زبان سے اقرار نا بھی کرو تو میں جانتا ہوں کہ تم مجھے پسند کرتی ہو۔ میں بہت جلد اپنے گھر والوں کو یہاں بلالوں گا ہماری بات پکی کرنے۔ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔۔” مہد اس کے ہاتھ کو ہاتھ میں لے کر پشت کو انگوٹھے سے سہلاتا ہوا بولا۔
” نن۔نہیں۔” سوہا کی تو دلی مراد بھر آئی۔
” گڈ ۔۔!! اب چلو روم میں بہت مشقت اٹھائی ہے نا اب تھوڑا خود کو سکون دو۔ ” مہد کا انداز اسے کچھ چھبا لیکن اس کا بے تاثر چہرہ دیکھ کر اپنی سوچ کو جھٹک دیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
نماز پڑھنے کے بعد جائے نماز فولڈ کرتے ہوئے دروازہ کلک کے آواز کے ساتھ کھلا تو اس کے ہاتھ پل بھر کو ساکت ہوگئے اور مخصوص خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تو کچھ پل آنکھیں موندھ کر گہرا سانس فضا کے سپرد کردیا۔ اور جائے نماز کپبرڈ میں رکھ کر پلٹی۔
چادر کو کندھے سے اتار کر اسٹینڈ پر لٹکا کر موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بعد کلائی کو بیش قیمت گھڑی سے آزاد کرکے آستینوں کو چڑھا کر کہنیوں تک فولڈ کرکے وہ مڑا تو اپنی زوجہ کو غصے سے لال بھبھوکا کھڑے دیکھ کر اسکے ہونٹ متبسم ہوئے۔
” کچھ کہنا چاہتی ہو تم تو بلا جھجھک کہہ سکتی ہو کیونکہ مجھ سے باز پرس کرنے کا حق حاصل ہے تمہیں۔” اسکے دونوں شانوں کو نرمی سے تھام کر اسکے صاف شفاف ماتھے پر لب رکھ کر اسے متاع حیات کی طرح خود میں سمیٹ کر کچھ دیر اس سکون کو رگوں میں اتار کر دیار غیر کی تشنگیاں مٹانے لگا۔
” کب آئے تھے آپ واپس؟؟ ایک بار بھی مجھ سے ملنے کا من نہیں کیا آپ کا۔ اتنا ارزاں تھا ہمارا رشتہ کہ میں پل پل ہجر کی اذیتیں کاٹتی رہی؟؟” روح میں قطرہ قطرہ سکون انڈھیلتے عاتکہ نے سوال اٹھایا ۔
” چار سال پہلے واپسی ہوئی تھی میری۔ مگر اس وقت خالات نے اجازت نہیں دی سامنے آنے کی۔ ورنہ یہ دل دہری اذیت سے دوچار تھا۔ کب سے تمہارے قربت کے لئے ترستا رہا۔” اپنے حصار سے آزاد کرکے اسے بیڈ پر اپنے سامنے بٹھایا۔
” جانتی ہو میں جب بھی تمہارے نک چڑے بیٹے سے ملتا تھا اسے یہاں پر کس ضرور کرتا اور تمہارا ڈھیٹ بیٹا پتہ ہے کیا بولتا ؟؟ اس کے ٹھوڑی کے ڈمپل کو انگھوٹھے سے چھوتے ہوئے وہ اسے شرم سے لال گلنار کر گیا۔
” یہ رومانس اپنی بیوی پر جھاڑ۔ مجھے ایمبیریس فیل کروانے کی ضرورت نہیں۔” پرتپش لہجے میں کہہ کر وہ اس کے چہرے پر مزید لالی بکھر گیا۔
” آپ بھی حد کرتے تھے اپنے بیٹے کے سامنے ایسی بے ہودہ باتیں کرتے ہوئے آپکو شرم نہیں آئی۔” اسکے انگھوٹھے کے لمس سے وہ سمٹ گئی۔
” بالکل بھی نہیں۔ تمہارا نالائق بیٹا اول درجے کا کمینہ انسان ہے۔ میری موجودگی میں اپنی بیوی کو بلاتا آفس اور میرے منہ پر دروازہ بند کرکے دو دو گھنٹے سہولت سے اس کے ساتھ گزار کر بےشرموں کی طرح پیٹھ دکھا کر چلا جاتا۔ مطلب باپ نا ہوا کوئی دوست ہوا میں اسکا۔ ” کامل نے آہل کو چٹکیوں میں ماں کے سامنے بےحجاب کرنا چاہا۔
” شرم کرے آپ آئی جی صاحب!! ۔ اپنی بے تکی باتوں سے میری ماں کے کان بھرنے کی آپکو ضرورت نہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ ان کے بیٹے نے شرافت میں ماسٹر کیا ہے۔ یہ تو آپ لوگوں سے اتنا انتظار۔۔۔۔۔۔۔”””
” آہل.!!! عاتکہ نے بن بھلائے مہمان کی طرح بے دھڑک نازل ہوتے اپنے بیٹے کی چلتی زبان کو بریک لگایا۔
” کیا موم۔۔!!! اس شخص کی باتوں میں ہر گز مت آئیں گا۔ یہ اب خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے اور آپکی اٹینشن حاصل کرنے کے جھوٹی کہانیاں سنا کر آپ کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ہاتھ پیر چلائےگا۔ مگر آپ نے ان کے جھانسے میں نہیں آنا۔ میرے بنے بنائے پلین کو چوپٹ کردیا انہوں نے۔” آہل اپنے دکھڑے رو رہا تھا۔
” میں تمہارے ضد اور جذباتی پن سے بخوبی واقف تھا کہ تم جلدبازی میں کوئی ایسا قدم نا اٹھا لو کہ ہم پہلے کی طرح کسی طوفان کی لپیٹ میں آجائے۔” کامل اسکے اکھڑپن سے ہار جاتا ہمیشہ۔ لیکن آج وہ بازی لے گیا جس پر موصوف جی بھر کر بدمزہ ہوئے تھے۔
” تم کہاں؟؟ اسے بیڈ کی جانب بڑھتے دیکھ کامل نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا ۔
” مجھے اپنی موم کے ساتھ سونا ہے دکھ نہیں رہا۔” آہل نے کمال بے نیازی کا مظاہرہ کرکے اسکے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑا لیا۔
” یہ یہاں سوتا ہے کیا؟؟ کامل نے اپنی بیوی کو کن اکھیوں سے دیکھا۔
” نہیں۔ اپنے روم میں سوتا ہوں۔ مگر آپکے کچھ دیر پہلے لگائے گئے آگ کا نتیجہ روم سے دربدر کرنے کی صورت میں نکل آیا ہے۔ تو اب میرے پاس یہی آخری ٹھکانہ ہے۔ اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری دی آپ نے۔ اور آپ لوگوں کو اگر پرائیویٹ باتیں کرنی ہے تو بتاتا چلوں کہ مجھے سوتے ہوئے سننے کی عادت ہے۔ تو کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔” آہل بھولپن سے کہہ پیٹ کے بل بیڈ پر گر کر اپنے باپ کا خلفشار خون بڑھا گیا۔
” آہل !! جاؤ اپنے روم میں۔” عاتکہ نے اپنے شوہر کے تنے ہوئے اعصاب کو دیکھ کر آہل کو خشمگیں نگاہوں سے گھورا۔
” آپ کی بہو نے میرے منہ پر دروازہ بند کردیا ہے موم۔ کیسے جاؤں۔” وہ کروٹ بدلتا لیٹ گیا تو عاتکہ نے تاسف سے سر ہلاکر مجازی خدا کو دیکھا جس کے کنپٹی کی رگیں تنی ہوئی تھی۔
” ایک بیوی نہیں سمبھالی جاتی تم سے۔ اتنی جلدی اپنے حق سے دستبردار ہوکر ہار مان کر یہاں دھرنا دینے بیٹھ گئے ہو۔” کامل نے اسے جوش دلادی۔ آہل نے جواب دینے کے لئے لب واہ کئے تھے کہ دروازہ ہلکا سا ناک ہوا اور زرغونہ اندر داخل ہوئی۔
” کیا ہوا بیٹا ؟؟ کامل نے اسے اضطرابی کیفیت میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھائے دیکھا تو پوچھ لیا۔
” آپ نے اپنے بیٹے کو سوری بولنا اور بیوی کو منانا نہیں سکھایا۔ ایکسکیوز کرنے سے ان کی ناک چھوٹی ہو جائے گی۔ میری پھپھو تو خیر سے ان کے پاس نہیں تھی مگر آپ تو چوبیس گھنٹے انہیں دستیاب ہوتے۔ یہ اتنے سرکش اور خودسر کیوں ہے؟؟ زر نے دردہ زیدہ نظر بیڈ پر لیٹے آہل پر ڈالی جو انہماک کے ساتھ اپنی زوجہ محترمہ کو تک رہا تھا۔
” یہ گٹس سراسر میرے ذاتی ہے۔ ان میں میرے پیرنٹس کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اگر کبھی زن مریدوں کو انعام و اکرام سے نوازہ جائے تو میرا باپ ان سب میں پہلے نمبر ہوگا۔” آہل نے خود ہی لب کشائی کی۔ اور اٹھ کر زر کے قریب آکر اسکے کمر کے گرد حصار بنا کر جانے لگا۔
” کیا یادرکھیں گے آپ, کہ کتنے سخی بیٹے سے پالا پڑا ہے۔” جاتے ہوئے بھی وہ طنز کرنا نہیں بھولا۔
“ہنہنہ !!! ایک اولاد دی ہے اللّٰہ نے وہ بھی ایسی بداخلاق بدذوق۔” اس کے جانے کے بعد کامل نے نخوت سے ہنکارا بھرا۔
” آپ تو میرے بچے کے پیچھے ہی پڑ گئے۔ اتنا تو معصوم ہے میرا شہزادہ۔” عاتکہ تڑپ اٹھی۔
” تم کہاں جا رہی ہو؟؟ عاتکہ کو دروازے کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ بے چینی سے مستفسر ہوا
” آپ کے لئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرنے۔” عاتکہ کو اسکی بے قراری پر ہنسی اگئی۔
” جی نہیں۔!! ہم لوگ کھانا کھا چکے ہیں۔ مجھے اب فی الحال صرف میری بیوی چاہیے۔” عاتکہ کے قریب آکر وہ تھوڑا شوخ ہوا۔
” بس کردے آپ بڈھے ہوگئے ہیں۔ کچھ تو لحاظ کرے۔” عاتکہ نے اپنی طرف سے اسے باز رکھنا چاہا۔
” ابھی تین اور بیویاں افورڈ کرسکتا ہوں۔ پندرہ بیس بچے اور پیدا کرسکتا ہوں۔ اگر تمہاری اجازت ہو تو۔” کامل نے اسے اپنے مقابل کھڑا کرکے اسکے خوبصورت نقوش کو آنکھوں سے چھوا۔ برسوں بعد بھی اسکی خوبصورتی سامنے بندے کو کچھ دیر تک اپنے سحر میں جکڑ لیتی۔ جبکہ وہ آنکھوں میں خفگی لئے اسے گھور رہی تھی۔
” ہم سو کا ہندسہ بھی عبور کر لیں گے نا تب بھی میرا پیار تمہارا لئے کم نہیں ہوگا۔ اپنے گھر والوں سے بغاوت کرکے تم نے میرا انتخاب کیا تھا۔ تب میرے پاس تمہاری خواہشات پوری کرنے کے لئے جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ اپنی آسائشوں بھری زندگی کو ٹھوکر مار کر تم میرے حالی دامن میں خوشیوں کی بہاریں لے کر آئی تھی۔ اور میری محبت کو امر کردیا تھا۔ اسی محبت نے مجھے اس قابل بنایا ہے کہ آج میں سرخرو ہو کر ایک کامیاب آدمی بن گیا ہوں۔ ایک باوفا عورت کی محبت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ ایک راہ چلتے فقیر کو بھی تحت ہر بٹھا سکتی ہے۔” عاتکہ کے رخسار پر اپنے لب رکھ کر وہ اسے عقیدت کی بلندیوں پر لے گیا۔
” ہاہاہاہاہاہا۔ تم بلش کر رہی ہو۔” عاتکہ کے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ پھیلتے دیکھ کر وہ اچھا خاصا مخفوظ ہوا اور اسے باہوں میں بھر کر گزرے ماہ وسال کا حساب بے باک کرنے لگا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” خوش ہو۔؟؟ عنایہ ڈنر سوٹ پہن کر بالوں کو کھلا چھوڑ کر ٹیوب اٹھا لائی تو اذلان نے اڈے پیچھے سے باہوں میں بھر لیا
” بہت بہت۔!! عنایہ نے ٹیوب واپس ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر رکھ کر اسکی طرف رخ موڑ کہا
خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔
” میری ماں کو انصاف مل گیا۔ ماموں واپس اگئے۔ اور سب سے بڑی خوشی کہ مجھے آپ مل گئے۔۔” عنایہ اسکے سینے سے لگی خوشی کا برملا اظہار کرنے لگی۔
” مگر میں خوش نہیں۔!! اذلان کے برجستہ کہنے پر عنایہ نے شاکی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
” ہمارا رشتہ ابھی نامکمل ہے۔ جب تک تم پوری کی پوری میری دسترس میں نہیں آجاتی میری زندگی بے مقصد گزرتی رہے گی۔” عنایہ کی دھڑکنیں پل بھر کو بے ترتیب ہوگئی اسکی زومعنی بات کا مفہوم سمجھ کر۔
” تم جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ تاکہ ہم اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرے۔اب اور دوری برداشت نہیں۔” اذلان نے اس کے گلابی پڑتے چہرے کو حصار میں لیکر کہا اور پھر اسکے ہلتے سرخ پنکھڑیوں پر نظر پڑتے ہی دل بے ایمان ہونے لگا اور پوری شدت سے اسکے سانسوں پر قابض ہوگیا۔ عنایہ نے اس کے گردن کے گرد بازوؤ حمائل کرکے آنکھیں بند کردی۔ اذلان کے لبوں نے سرکتے ہوئے نیچے گردن تک کا سفر کیا۔ تو عنایہ کو اپنے پیروں پر کھڑا رہنا دشوار ہوا۔
” اذلان۔۔!! مجھ سے کھڑا نہیں ہو پا رہا۔” اس نے جذبات سے بوجھل لہجے میں سرگوشی کی۔
” یارررر۔۔!! اذلان نے اسکے چہرے پر شدت سے لب رکھ کر لائٹ آف کرکے نائٹ بلب ان کیا اور ٹیوب اٹھا کر کاٹن کی مدد سے اس کے زخموں پر لگانے لگا۔ مرہم لگانے کے بعد وہ ہاتھ دھونے واش روم چلا گیا تو عنایہ نے بےبسی سے ہونٹ چبائے ۔۔۔ اذلان پہلے دن سے لے کر آج تک اس کے زخموں کی مرہم پٹی خود کرتا۔
” سو گئی؟؟ باہر نکل کر ٹاول سے ہاتھ پونچھ کر وہ بیڈ کے دوسرے طرف آکر لیٹ گیا تو عنایہ نے سر اسکے سینے پر رکھ دیا۔
” نہیں !! عنایہ اس کے شرٹ کے بٹنوں سے کھیلنے لگی۔ ایک ایک بٹن کھول کر اس نے اذلان نے کے سینے پر لب رکھ دئیے۔
عنایہ!!! اذلان اس کی حرکت پر پل بھر کو ششدر رہ گیا۔
” تم ابھی افورڈ نہیں کرسکتی میری تھوڑی سی بھی قربت.” اپنے گردن پر اسکا نرم لمس محسوس کرکے اس نے آنکھیں موندھی تو عنایہ کو کھلی چوٹ مل گئی۔ اور اپنی من مانیاں شروع کردی۔
” آج دوریاں بڑھانے کی باتیں نا کیجیے۔ یہ وصل کے لمحات ہیں اس کو جینا ہے۔۔لو دیتے لہجے میں بول کر عنایہ اسکے گردن میں منہ چھپا گئی۔
” عنایہ تم میرے صبر کا امتحان لے رہی ہو۔ اور میرا کوئی ارادہ نہیں تمہارے ہٹلر ماموں سے دھلائی کروانے کا۔” اذلان نے اسکے سانسوں کی پرتپش لمس سے معطر ہوکر ایک جھٹکے سے اس کا سر تکیہ پر منتقل کرکے بےلگام جذبوں کو لگام ڈالنے کی کوشش کی مگر پھر خود ہی وہ اپنے ہواس کھوتا عنایہ پر اپنی شدتیں لٹانے لگا۔ اسکے گلے کو دوپٹے کے بوجھ سے آزاد کرکے وہ اس وقت سب کچھ بھلائے عنایہ کو اپنے پیار کی برسات میں بھگونے کر عنایہ کو معتبر کرنے لگا۔
” عنایہ برداشت کرلوگی تم۔” کچھ توقف کے بعد اس نے اپنی شرٹ اتار کر خمار بھری سرگوشی کی تو عنایہ نے اسکی گرد بازوؤں حمائل کردی۔
” مجھے آپکی بیوی بننا ہے۔ میں سہہ لوں گی اذلان کے ٹھوڑی پر لب رکھ کر اس نے دھڑکتے دل کیساتھ اسے اجازت دی۔ تو اذلان پورے استحقاق کیساتھ اسکے ہونٹوں پر تسلط جماتا اس خوبصورت رات کو اپنے محبت کے رنگوں سے سجاتا اس کے روح میں اتر رہا تھا۔ اور وہ اپنے پسندیدہ شخص کی محبت پاکر اس کے سنگ بہکنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
