88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 11
موم!!!!! آہل نے عاتکہ کو باہوں میں بھر لیا اور انہیں پاس پڑے صوفے پر احتیاط سے لٹا کر اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا چہرہ تھپتھپانے لگا۔ جبکہ آہل کے منہ سے سننے والے لفظ ‘موم’ پر حویلی والے حیرت اور بے یقینی سے ششدر رہ گئے۔ پورے حویلی میں جیسے موت کا سناٹا چھا گیا۔
” آہل بھائی پانی!! اذلان نے پانی کا گلاس اس کے آگے کردیا ۔ تو آہل نے جھٹ سے گلاس میں انگلیاں ڈبو کر عاتکہ کے چہرے پر پانی کی چھینٹیں مارے۔
“موم آنکھیں کھولے پلیز!! . آہل کی گھٹی گھٹی آواز حلق سے نکل آئی۔اردگرد سے بے نیاز وہ عاتکہ کے چہرے پر جھکا۔ بے اختیار اسکے نم رخسار پر لب رکھ گیا۔ پھر کسی کو بھی سوچے سمجھنے کا موقع دئیے بغیر وہ دوبارہ عاتکہ کو باہوں میں بھر کر باہر کی طرف بھاگا کہ سلطان میر کے سامنے قدم ٹھٹھکے ۔
” دعا کرنا سلطان میر!! میری ماں کو کچھ نا ہو ورنہ حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا میں۔ ایسی بھیانک موت دوں گا تم سمیت ان سب کو جو میری ماں کو تکلیف دینے کا باعث بنے۔ آخری رسومات کے لئے تمہارے ٹکڑے بھی نہیں ملیں گے۔” آہل کی پھنکارتی آواز میں ایک وحشت تھی کہ سب سہم گئے۔ آہل کے پیچھے اذلان اور حدید بھی برق رفتاری سے نکل گئے۔
” یہ کیا اول فول بک کر گیا ہے۔ دماغی توازن تو بگڑ نہیں گیا ہے۔” پیچھے حویلی میں صرف خواتین اور ایاز میر, سلطان رہ گئے تو دونوں بھائی بیٹھک میں چلے ائے۔ ایاز میر نے استفہامیہ نگاہوں سے سلطان میر کو دیکھ کر زہرخند لہجے میں پوچھا۔
” پتہ نہیں بھائی صاحب!! میں تو خود حیران ہوں. عاتکہ کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ یہ بیٹا کہاں سے آگیا جو ڈنکے کی چوٹ پر اسے ماں کہہ کر ہمیں انگلی دکھا کر چلا گیا؟؟ سلطان میر نے داڑھی کجھانے ہوئے کہا۔
” تم نے تو پوری چھان بین کی تھی نا آہل کی۔ کہ اسکے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ اور عاتکہ کے اس عاشق کے گھر بھی تم خود گئے تھے۔” ایاز میر کی آنکھوں سے نفرت آمیز شرارے نگل رہے تھے۔۔
” جی بھائی صاحب!! میں خود گیا تھا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ. اور پوری تسلی کرکے واپس لوٹا تھا۔ عاتکہ کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اس کا افئیر چل رہا تھا۔ جبکہ بابا سرکار بھی سب کچھ جانتے تھے۔ اسکی بے جا لاڈ پیار نے عاتکہ کو سرپھرا بنا دیا تھا۔ اس کے عاشق کے ہاتھ پیر تڑوا کر اوپر پہنچانے کا پورا بندوبست کیا تھا میں نے۔ اور اس کی ننھی حسین بہن جو بڑا پھڑپھڑا رہی تھی اس پر بھی ہاتھ اچھے سے صاف کرکے آدھ مرے حالت میں چھوڑ کر آیا تھا۔” سلطان میر اپنے گھناؤنے فعل کو یاد کرکے ایک بار پھر شیطانیت سے مسکرایا۔
” وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ لڑکا کون ہے۔؟؟ تم ایک بار پھر سے تفتیش کرلو۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔ اس لڑکے کی آنکھوں میں انتقام کی شغلے بھڑک رہے تھے۔ جتنا شاطر دماغ ہے اسکا کچھ تو ٹھان لیا ہوگا۔” ایاز میر کا چہرہ آہل کا تنبیہی دو آتشی لہجہ یاد کرکے تاریک پڑ گیا۔
” میں دیکھتا ہوں. مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہوگا۔ سب کا دماغی خلل ہوگا” آہل نے واقعی سب کو اچھنبے میں ڈال دیا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حویلی میں موجود تمام حواتین لبوں کو مقفل کئے ہال میں ساکت بیٹھی تھی۔ کچھ دیر پہلے جو طوفان آیا تھا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ آہل کا جنونی رد عمل یاد کرکے سب کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔
” آپی !! کون ہے آہل؟؟ شزا سے مزید برداشت نہیں ہوا تو زر سے پوچھ لیا۔ جو کب سے پتھریلے تاثرات چہرے پر سجا کر بیٹھی تھی۔
” پھپھو کا بیٹا.” زر نے یک لفظی جواب دیا۔
” جہاں تک ہمیں جان کاری حاصل ہے۔ پھپھو کی شادی نہیں ہوئی, تو پھر بیٹا کہاں سے آگیا۔ کیا بغیر شادی۔۔۔۔۔۔۔
” شزا !!! زر کی کاٹ دار آواز نے شزا کو سٹپٹانے پر مجبور کیا۔
” ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے شزا!! حقیقت بھی یہی ہے۔ سالوں سے پھپھو یہاں حویلی میں ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے۔ ہم نے تو کبھی اس کے شوہر یا بچوں کو نہیں دیکھا تو یہ اچانک بیٹا یو ٹیوب سے ڈاؤن لوڈ ہوکر اٹپکا ۔” سوہا تو زر کی بے نیازی پر سلگ گئی۔ وہ ثو پہلے سے زر سے سخت نالاں تھی۔ اب موقع ملا تھا دل کا غبار نکالنے کا۔
” تم لوگ ویٹ کرو آہل کے آنے کا۔ سب کو اپنے سوالوں کے جواب مل جائیں گے.” زر نے شٹ اپ کال دے دی۔
” کیوں تمہارا شوہر تم سے بھی اپنے راز چھپاتا ہے جو تمہیں بھی نہیں معلوم. یا صرف اپنے نفس کی تسکین کے لئے بیوی بنایا ہے۔ ” سوہا اس کا اطمینان دیکھ کر مشکوک لہجے میں گہرا وار کر گئی۔
“سوہا!! ثوبیہ بیگم تو اس کے ڈنک مارتے لب و لہجے پر متعجب تھی۔
” کیا مام!! صحیح تو بول رہی ہوں.” سوہا نے نفرت سے پہلو بدلہ.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” عنایہ معافی مانگو ان سے” وہ پہلی دفعہ تھا جب آہل نے عنایہ کو بری طرح لتاڑا تھا.
” آپ مسکرائے پلیز!! بہت پیاری لگ رہی ہے۔
” عنایہ!! آپ کو نہیں لگتا ان لیڈی کے چن پر جو ڈمپل بنتا ہے, ہوبہو آہل بھیا جیسی دکھتی ہے” سحر کی گئی پیشن گوئی نے حواس جھنجھوڑ دیے۔
عنایہ اپنے روم میں آکر جلے پیر بلی کی طرح ادھر اُدھر چکر لگا رہی تھی۔ آہل کی لہو رنگ آنکھیں یاد کرکے اس نے خوف سے جھرجھری لی۔
” مم۔میں نے آہل کی موم سے بدتمیزی کی تھی؟؟ اف میرے اللّٰہ!! میں اپنے اس عمل کا مداوا کس طرح کروں گی۔ ڈفر عنایہ تمہاری کوئی کل سیدھی نہیں” خود کو ملامت کرکے وہ بے دم سی صوفے پر بیٹھ گئی۔
” یا اللّٰہ !! انہیں ٹھیک کردے. میرے آہل کو مزید آزمائش میں مت ڈالے۔ مم معافی مانگ لوں گی ان سے۔” زندگی میں پہلی بار اس نے اللّٰہ کیطرف رجوع کیا۔ وضو کرکے سالوں بعد اس نے جائے نماز بچھا کر نیت باندھ لی۔ اس کامل یقین کیساتھ کہ دعا کی قبولیت کا دروازہ صرف اللّٰہ کے سامنے سر بسجود ہونا ہے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“پیشنٹ سے رشتہ!!! ڈاکٹر نے اپنے مخصوص پیشہ ورانہ انداز میں ایمرجنسی سے اضطرابی کیفیت میں باہر پریٹ مارتے ہوئے آہل سے پوچھا جو چند سیکنڈز میں ڈاکٹروں کی دوڑیں لگوا کر ایمرجنسی میں بھیج چکا تھا۔
” ماں ہے میری.. وہ ٹھیک تو ہے نا۔ بے ہوش کیوں ہوئی تھی.” ایک ہی سانس میں وہ سوالات کی بوچھاڑ کرگیا۔
” جی ان کی حالت اب بہتر ہے۔ مگر انہوں نے کسی بات کا بہت ذیادہ سٹریس لیا ہے۔ بی پی بھی شوٹ کرگیا ہے۔” ڈاکٹر نے تحمل سے جواب دیا۔
” ڈاکٹر صاحب!! کیا ہم مل سکتے ہیں۔؟؟ آہل کو ضبط سے مٹھیاں بھیجتے دیکھ کر اذلان نے پہل کی۔
“آفکورس!! انہیں وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔لیکن کوشش کیجئے گا کہ انہیں جن باتوں سے دھچکا لگا تھا اس کے سامنے وہ باتیں دہرانے سے گریز کیا جائے۔” ڈاکٹر ہدایات دیکر چلا گیا۔ تو تینوں اندر داخل ہوئے۔
” پھپھو کیسی ہیں آپ !! سب سے پہلے حدید عاتکہ کے قریب گیا۔ اور اسکے گرد بازوؤ پھیلا کر اسکے سر پر لب رکھے۔
” مم۔ میں ٹھیک ہوں بیٹا!! وہ میرا آہل؟؟؟ اس نے کن اکھیوں سے حدید اور اذلان کو دیکھ کر حفت سے آنکھیں چرا لی۔
” وہ بھی ادھر ہی ہے۔ دونوں نے پیچھے دروازے کے قریب شکستہ حالت میں کھڑے آہل کی طرف دیکھا جو مضبوط قدم اٹھا کر قریب آیا۔
” آہل میرا بچا!! عاتکہ کے لبوں سے سرسراتی سرگوشی نکلی۔ اس نے دونوں بازوؤں واہ کرکے تڑپ سے پکارا تو اہل ان کی مخدوش بکھری حالت دیکھ کر اس کے ناتواں بازوؤں میں سما گیا۔ عاتکہ بے قراری سے اس کے چہرے پر جابجا اپنی ممتا نچھاور کرکے برسوں کی تشنگی مٹانے لگی۔ اپنے چہرے پر مہربان نرم لمس محسوس کرتے آہل کے تڑپتے دل کو ٹھنڈک مل گئی
” موم !! وہ تھک کر آہل کے سینے سے لگی تو اہل نے بے ساختہ اسے اپنے چوڑے سینے میں بھینچ لیا۔اور اس کے سر پر پیار کیا۔
” تم وعدہ کرو, مجھے چھوڑ کے کبھی نہیں جاوگے۔” عاتکہ نے پھر سے اس پر پیار کی برسات شروع کردی۔ تو آہل کا دل پل بھر کو سکڑا۔
” پرامس موم!! آپکو مزید ان سفاک لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ کر نہیں جاؤں گا”۔ آہل نے اس کے بہتے آنکھوں پر اپنے لب رکھے۔
” اذلان !! تم جاکر ڈسچارج پیپرز تیار کروالو۔”
” جی !! وہ حدید کو ساتھ لیکر وارڈروم سے نکل گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عاتکہ کو حویلی لا کر وہ چینج کرنے اپنے روم میں چلا ایا۔ دروازہ کھول کر اندر قدم رکھے کہ غیر ارادی طور پر نظر سامنے صوفے کی پشت پر سر رکھے آنکھیں بند کئے عنایہ پر پڑی تو چونک گیا۔ قدم پل بھر کو ساکت ہوگئے۔ خوشگوار تاثرات لئے اس نے آہستہ سے دروازہ بند کردیا اور دبے قدموں عنایہ کے قریب آکر اس کے سراپے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی۔
” ڈارک چاکلیٹ کلر کے نماز اسٹائل دوپٹے کے ہالے میں سفید چہرے پر الگ قسم کا سکون تھا۔ جو اذلان کی دھڑکنوں کو منتشر کر گیا۔
“عنایہ!! اس نے اپنے دل کے بے ہنگم شور کو دبانے کے لئے اسے ہولے سے پکارا۔ کیوں کہ جس انداز میں وہ صوفے پر بیٹی تھی۔ اگر مزید تھوڑی دیر اور سوتی رہی تو گردن ایک طرف لڑھک سکتی تھی۔
” آ آپ آگئے.” خود پر جھکتے اذلان کو دیکھ کر وہ اچھل کر سیدھی ہوئی۔ جبکہ اذلان اس کی دھوپ چھاؤں جیسی عادت پر متخیر آنکھیں پھیلائے سن ہو گیا, جس نے تم سے آپ تک کا سفر بہت جلدی طے کیا تھا۔ جو اذلان کے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
” جی !! اذلان کے ہونٹ مزید کچھ کہنے سے انکاری ہوگئے۔ کیونکہ وہ ابھی اسے اپنا الوزن سمجھ رہا تھا۔ جبکہ عنایہ کو استحقاق کی ساتھ اپنے روم میں کھڑے دیکھ کر اس کا انگ انگ پرسکون ہوگیا۔
” وہ موم۔۔۔۔۔ مم۔ میرا مطلب آپکی پھپھو کی طبیعت کیسی ہے؟؟ عنایہ نے بے چینی سے اذلان سے استفسار کیا جس کے چہرے پر گہرے صدمے کی پرچھائیاں تھی۔
” بہتر ہے اب۔ ڈسچارج کرکے لے آئیں ہیں انکو.” اذلان نے اس کے چہرے پر فکر و الم کی داستان دیکھی۔
” تمہیں کیا ہوا؟؟ اچانک سے عنایہ کے رخسار پر آنسو کی لڑیاں بہنے لگی تو اذلان نے اسکے تر رخسار پر بے چینی سے اپنا ہاتھ رکھا۔
” یہ سب میری وجہ سے ہورہا ہے نا۔ سب کی زمہ دار میں ہوں۔۔نا میں یہاں آتی نا, نا آپ کو مجھ سے زبردستی نکاح کرنا پڑتا اور نا آپکی پھپھو میرے لئے آواز اٹھاتی نا ان کی طبیعت بگڑتی.” وہ ہچکیوں میں روتی ہوئی خود کو کوسنے لگی۔اس کی اس قدر شدت سے رونے پر اذلان کو لگا جیسے اسکے پورے وجود کو کسی سے آری سے چھیر لیا۔
” کچھ بھی تمہاری وجہ سے نہیں ہوا۔ بار بار خود کو اذیت دینا بند کردو۔” اذلان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جاکر اپنے چاچا کا جسم گولیوں سے چھلنی کردے جو صنف نازک کے ساتھ اس طرح بے رحمی سے پیش آتا تھا۔
” تم جاؤ پھپھو سے مل آو۔ دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا.” اذلان نے بے چینی اور بے بسی کے ملے جلے کیفیت میں اسکا گال سہلایا۔ وہ خود اہل کے منہ سے اتنا بڑا انکشاف سن کر شاکڈ تھا۔ اور پھر عاتکہ کی تڑپ اور بے قراری, اور اس کے منہ سے اقرار سن کر تو جیسے بات پر پکی مہر لگ گئی کہ آہل عاتکہ کا ہی بیٹا ہے۔ وہ یقین اور بے یقینی کی بھنور میں پھنس چکا تھا۔
“عنایہ!! اچانک کچھ سوچ کر اس نے عنایہ کے بڑھتے قدموں کو روکا.
” ہاں! وہ جو عاتکہ سے ملنے جارہی تھی۔ اذلان کے پکارنے پر پلٹ کر دیکھا۔
” تم جانتی تھی کہ آہل پھپھو کا بیٹا تھا؟؟
” نہیں!! مجھے بھی آج ہی معلوم ہوا ہے.” وہ بہت باریک بینی سے عنایہ کے چہرے کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ جس پر کسی قسم کے جھوٹ کا شائبہ تک نہیں تھا۔
” ہممممم!! ٹھیک ہے تم جاؤ.” اس نے بوجھل طبیعت کے ساتھ کہا۔
عنایہ ہال میں آئی تو سب عورتوں کو عاتکہ کے ارد گرد بیٹھے دیکھ کر وہ بھی اس کی طرف چلی آئی جو پہلے کی نسبت بجھی بجھی سی برسوں کی بیمار لگ رہی تھی۔
” آپ ٹھیک ہیں؟؟ آہل جو عاتکہ کی دوائیاں زر کی سمجھا رہا تھا۔ اس نے ٹھٹھک کر عنایہ کے چہرے پر چھائی فکرمندی اور تشویش کو دیکھا۔
” ہاں میری جان!! میں ٹھیک ہوں. تم ادھر آؤ میرے پاس.” عاتکہ نے اسکو اپنے پاس بٹھایا تو وہ غائب دماغی سے اس کے پاس بیٹھ گئی۔
” تمہاری بے غیرتی کی داد دینی پڑے گی. میری پھپھو کی اس حالت کی زمہ دار تم ہو۔ انفیکٹ جب سے تمہارا یہ منحوس سایہ حویلی پر پڑا ہے۔ کچھ بھی صحیح نہیں ہورہا۔ ہماری ہستی بستی زندگی کو ناسور بنا دیا ہے۔ چلی کیوں نہیں جاتی یہاں سے۔ ہم سب کی خوشیاں کھا گئی تم…” ابھی وہ عاتکہ سے معذرت کرنے کے لئے الفاظ کا چناؤ کر رہی تھی جو اس کے لئے کسی پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے مترادف تھا۔ کہ شزا نے آکر زور سے اس کا بازو دبوچا اور جھٹکے اسے عاتکہ کے پہلو سے اٹھا کر پیچھے کی طرف دھکیلا کہ زمیں بوس ہونے سے پہلے دو مضبوط ہاتھوں نے اسے سنبھال لیا.
” شزا…..!! حدید عنایہ کو اپنے بازؤں کے حلقے میں لیکر شرر باز نگاہوں سے شزا کو دیکھنے لگا۔
عنایہ جو ٹوٹی شاخ کیطرح حدید کے سینے سے لگی تھی. خود کو چھڑانے کے لئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر روتی ہوئی فاصلہ بنانے لگی کہ حدید نے اسکی کوشش ناکام بنا دی اور اسے خود سے لگایا تو اس منظر نے شزا کے پورے وجود کو جلا کر راکھ کردیا۔۔ جبکہ آہل سینے پر ہاتھ باندھے زیرلب مسکرایا۔ ( اب آئے گا مزا)
” سب کو اپنی بےہودہ اداؤں کا گرویدہ بنا لیا ہے نا تم نے۔ پہلے مجھ سے میرے بچپن کی محبت چھین لی۔ اب میرے بھائی پر ڈورے ڈال رہی ہو. شرم نام کی کوئی چیز ہے تم میں۔” شزا تحقیر آمیز لہجے میں کہہ کر اس کے قریب آئی۔ کہ اچانک عنایہ کا ہاتھ اٹھا اور اس کے چہرے پر گہرا چھاپ چھوڑ گیا۔ سب ہکا بکا رہ گئے عنایہ کی جرات پر۔
” جو کبھی تمہارا تھا ہی نہیں تو اس لیکر اتنی برہم کیوں ہو رہی ہو۔ یا ذیادہ غم اپنے ریجکٹ ہونے کا لیا ہے۔ چلو میں تو ہوں بدکار اور بےہودہ ۔تم کونسا دودھ کی دھلی ہو۔ جو ایک نامحرم کی محبت کا روگ لگایا کر بیٹھی ہو۔ مجھ سے ذیادہ گری ہوئی تو تمہاری سوچ ہے۔ آئیندہ میرے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا آج تو صرف تھپڑ مارکر منہ بند کردیا, اگلی بار منہ توڑتے ہوئے تھوڑی بھی نہیں ہچکچاوں گی۔” چہرے پر غضب ناک تاثر لیکر اس نے مضبوط لب و لہجے میں کہہ کر خود کو حدید کی گرفت سے چھڑا لیا اور جاکر پورے حق سے عاتکہ کے سینے سے لگی اپنے اندر کے اشتعال کو دبانے لگی۔
” میں نے آنکھ کھولتے ہی جس انسان کو اپنے قریب پایا۔ اپنا محافظ پایا. وہ آپکا بیٹا ہی تھا. اور مجھے یہ اظہار کرنے میں کوئی ہتک محسوس نہیں ہوتی کہ میں آہل یزدان سے محبت کرتی ہوں. مجھے خاندان کا مطلب نہیں پتہ۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم بچوں کی تربیت کن خطوط پر کی جاتی ہے۔ مگر عمر کی سیڑھیاں چڑھتے وقت جب جب میرے قدم ڈگمگائے مجھے آہل نے تھام لیا۔ مجھے زمانے کے گرم و سرد ہوا سے بچایا۔ میرے پاس خاندان کے نام پر صرف ایک ماں تھی وقت کی بے رحم لہروں نے انہیں مجھ سے چھین لیا۔ میں نہیں جانتی میرا باپ کون ہے۔ جب بھی ماں سے پوچھتی اس کے لب مقفل ہوجاتے۔ میں نے کئی بار آہل سے پوچھا کہ ان کی موم کہاں ہے۔؟؟ مجھے موم چاہئے تھی۔ مگر وہ ہر بار یہ کہہ کر ٹال۔دیتا کہ وہ حویلی میں ہے ابھی ملنا ناممکن ہے۔ کونسی حویلی, یہ کبھی نہیں بتایا. میں دس سال کی تھی کہ میرے ساتھ ذیادتی۔۔۔۔۔
“عنایہ….. آہل کی بلند کاٹدار آواز نے اس کو مزید بولنے سے روکا۔
” آج بولنے دو آہل!! اس نے سرخ ڈوروں سے مزین آنکھیں آہل پر گاڑ دی۔ جبکہ آہل نے ضبط سے ہونٹ بھینچے۔
” میری ماں کی ڈیتھ ہوگئی تو دور کی ایک خالہ اپنے ساتھ لے گئی۔ مگر اس کے گھر مجھے عجیب طرح کی بے سکونی تھی۔ خالہ کی غیر موجودگی میں اسکا شوہر مجھے عجیب طریقے سے چھوتا۔ میں اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ اچھے اور غلیظ ارادوں میں فرق نا کرپاتی۔ مگر میں اپنی رسوائی کے خوف سے چپ تھی۔ ایک دن تو حد ہی ہوگئی۔ خالہ کی غیر موجودگی میں خالو نے مجھے روم میں بند کرکے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ میں چیختی چلاتی رہی۔۔ شائید آللہ کو مجھ پر رحم آگیا اور پڑوسیوں نے میری آوازیں سن لی اور دیواریں پھلانگ کر خالہ کے گھر گھس آئے اور مجھے اس حیوان کی حیوانیت سے بچایا۔ تب میرا مرد اور عورت دونوں ذات سے اعتماد اٹھ گیا۔ مجھے آہل اپنے گھر لیکر ایا۔ جو میرے لئے کسی فرشتے سےکم نہیں تھا۔ یہاں بھی میں نے خود کو مارنے کی کئی بار کوشش کی۔ مگر مجھے بچایا جاتا۔ مجھے خود اپنے وجود سے گھن آنے لگتی۔ مگر آہل نے مجھے سمیٹ لیا تھا۔ میرا ان سے اتنا پیار اور دل لگی بجا تھی۔ وہ ہے ہی اس قابل کہ اس سے عشق کیا جائے۔ اب تک میری ہر بدتمیزی کو برداشت کرتا آیا ہے۔ اور میں نے کیا کیا ان کی ماں کی بے عزتی کی۔ جس ماں سے ملنے کی لئے میں ترستی رہی ان کو برا بھلا کہا۔ آپ چاہے تو مجھے سزا دے سکتی ہے۔۔ مگر میں نے ساری عمر کے قیمتی شب وروز ماں کے بغیر گزاری ہے۔ مجھے آپکی شفقت بھری سایے سے محروم نہیں ہونا۔ مجھے آپکے پاس رہنا ہے۔” آخر میں عنایہ کی ہمت جواب دے گئی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ہال میں موجود سب خواتین کی آنکھیں بھی نم تھی سوائے شزا کے۔ حدید کو لگا کہ عنایہ کے اتنے بڑے نقصان پر اسکا کلیجہ باہر نکال دیا گیا ہو۔ جب کہ اذلان ضبط کی انتہاؤں پر تھا۔ عنایہ کی خود ترسی اور خود اذیتی کے احساس سے اس کے اندر مسلسل توڑ پھوڑ جاری تھی۔۔ مزید کچھ سننے کی اس میں سکت نہیں تھی تو اپنے روم میں چلا ایا۔
” کس نے کہا میں اپنی بچی سے ناراض ہوں. اور وہ بھی اتنی پیاری بچی۔ نفسیات کی رو سے دیکھا جائے تو جن بچوں کا بچپن ماں باپ کے بغیر گزر جاتا ہے۔ وہ تھوڑے سے سرپھرے اور ادب سے محروم ہوتے ہیں۔ اور ذیادہ تر لوگوں سے بھی بےزار ہوتے ہیں۔ تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی اصلاح کریں۔ ناکہ نکتہ چینی ۔تمہاری پرورش آہل نے کی ہے۔ جسکے خود کا بچپن بغیر والدین کے گزرا ہے۔ اسلئے تم میں ادب و لخاظ کی کمی ہے ۔ اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ کیوں کہ ہمارے گھر میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کی تربیت بہترین خطوط پر ہوئی ہے مگر وہ بھی پست ذہنیت کے مالک ہیں۔” عاتکہ نے تاسف سے اچٹی نگاہ شزا پر ڈالی جس کی آنکھوں میں کانچ جیسی چھبن تھی۔
” عنایہ!! موم کو آرام کی ضرورت ہے۔ باقی باتیں بعد میں۔” آہل نے عنایہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا۔
“جی!! اس نے تابعداری سے سر ہلایا تو زر انہیں لیکر روم میں چلی گئی. آہل بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔
ہال میں حدید, عنایہ, سوہا ,اسامہ اور شزا رہ گئے۔
” عنایہ آپی!! مجھے آپ اپنا بھائی بنا لے.” سب سے پہلے اسامہ نے ماحول میں چھایا کثافت کم کرنے کے لئے قدم اٹھایا۔
” تم تو دیور ہو نا۔” روانی میں عنایہ کے منہ سے پھسل گیا تو جلدی زبان دانتوں میں دبائی۔
” نہیں !! حدید بھائی دیور کے عہدے پر سوٹیبل ہے۔ ” اسامہ نے پہلے سے طے کر رکھا تھا۔
” رشتے جتائے نہیں نبھائے جاتے ہیں۔ مجھے بڑا بھائی چاہیے تھا جو مخافظ بن کر رہے۔ تو یہ رتبہ میں حدید بھائی کو دے چکی ہوں اور وہ ثابت بھی کرچکے ہیں کہ وہ ایک بہترین محافظ ہیں.” عنایہ آنکھوں میں ڈھیر سارا پیار سموئے حدید کی طرف بڑھ گئی تو حدید نے اسے گلے لگایا.
” یہ کھلم کھلا بے انصافی ہے” اسامہ نی منہ بسورا۔ تو تینوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” عنایہ یہ چائے اذلان کو دے آنا.” انیلا بیگم نے حدید اور اذلان کے لئے چائے بنائی۔ حدید نے اپنا کپ اٹھا لیا تو انیلا بیگم نے اذلان کا کپ اسے تھما دیا۔
” جی !! اس نے اثبات میں سر ہلایا
وہ اذلان کے روم میں آگئی تو اذلان روم میں نہیں تھا. واشروم کا ڈور بند تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کے اوپر کپ رکھ دیا۔ اور صوفے پر بیٹھ کر اذلان کا ویٹ کرنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد اذلان فریش ہوکر ٹاول سے بال رگڑتا ہوا باہر نکلا تو عنایہ کو دیکھ کر چلتے ہاتھ رک گئے۔
” آپ کے لئے چائے لے کر آئی ہوں۔” عنایہ نے اپنے آنے کی وجہ بتا دی۔
” تم نے بنائی ہے؟؟ اذلان نے ٹاؤل اسٹینڈ پر ڈال کر متجسس ہوکر پوچھا۔
” نہیں !! چچی سماں نے دے دی.” اس نے انیلا بیگم کا حوالہ دیا۔
” تمہیں یقین تھا مجھ پر کہ میں جان بوجھ کر تمہارے روم میں نہیں آیا تھا۔”؟؟ اچانک غیر متوقع سوال پر عنایہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
” کوئی بھی انسان اپنے ماں کی سر کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا۔” نا اقرار نا انکار اور اپنی بات کہہ ڈالی۔
” ہممممم.!!! اذلان نے ہنکارا بھرا اور چائے کا کپ اٹھا کر بلکل اسکے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔
“مم میں چلتی ہوں. آپ آرام کرلے.” اس کے نگاہوں کے شوخ تقاضوں سے گھبرا کر عنایہ بے ساختہ خود میں سمیٹتی چلی گئی۔
” ابھی تو آئی ہو۔ تھوڑی دیر اور رک جاؤ۔” اذلان نے نرمی سے اسکا بازو پکڑ کر اپنے مضبوط گرفت میں لیکر اپنےقریب کیا تو وہ بے اختیار مچل اٹھی۔
” بب۔باہر سب موجود ہیں.” عنایہ نے بوکھلا کر مزاحمت کی۔
” تو؟؟ اب تو پورے جملہ و حقوق تمہارے نام مخفوظ کر چکا ہوں۔ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا اس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اور اسکی گردن کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ عنایہ نے دوپٹے پر گرفت مضبوط کی۔
” اب۔۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔ پلیز!!! کانپتے لہجے میں اسے وارن کیا۔
” مجھے خود کو یہ یقین دلانے دو کہ تم میری ہو.” اذلان نے بہت نرمی سے اس کے ہاتھ ہٹا کر گردن کو دوپٹے سے ازاد کیا۔ تو اس نے حفت سے آنکھیں میچ لی۔ جبکہ اذلان اسکی گردن پر جھکا اپنے محبت کے لمس سے اسے معطر کرکے خود بھی بہکنے لگا۔
اذ۔اذلان.!!!! گردن پر مونچھوں کی چھبن سے عنایہ نے سسکاری لی۔ اذلان نے اسے صوفے پر لٹایا اور خود اس پر سایہ فگن ہوگیا۔ اور جابجا اس کے وجود پر اپنا مہکتا لمس چھوڑنے لگا۔ آج وہ شاید ساری حدیں توڑ بھی دیتا کہ دروازے پر ہونے والی دستک اسے ہوش میں لے ایا۔ تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ جبکہ خمار آلودہ نظریں عنایہ کے خون چھلکاتے چہرے پر ٹہری جو لمبی لمبی سانسیں لے کر خود کو کمپوز کرنے کی کوششوں میں تھی تو والہانہ انداز میں اسے سینے سے لگایا۔ دوبارہ ہونے والے دستک پر عنایہ اپنی جگہ سے اچھلی۔ اور دوپٹہ کندھے پر ڈال کر عجلت میں دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ دروازے میں کھڑا حدید اس کی پھرتی ہر حیران سا اندر داخل ہوا۔
” تم نے کچھ کہا اس سے؟؟ حدید نے تیکھی چتونوں سے صوفے پر بیٹھے اذلان کو دیکھا جو دونوں ہاتھوں کی مدد سے ماتھے پر بکھرے بال سنوار رہا تھا۔
” شوہر ہونے کا ڈیمو دے رہا تھا جو تمہارے بے وقت مداخلت کی وجہ سے نہیں دے پایا۔” اذلان نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلایا تو حدید کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
” میں تو تمہیں بڑا شریف آدمی سمجھتا تھا.” حدید نے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔
” لیکن بدقسمتی سے میں ہوں نہیں۔” اذلان نے کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا۔
” اب تو یہ چائے کھڑوی ہی لگے گی. ” حدید نے مخفوظ لہجے میں کہا تو اذلان نے خونخوار نظروں سے گھورا۔
” بتا بھی دو اب کیوں کباب میں ہڈی بن کر آگئے ۔ اچھے بھلے موڈ کو سپوائیل کردیا۔
” وہ پھپھو کے بارے میں بات کرنی تھی.” حدید سس کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا۔
” میں بھی اسی کشمکش میں مبتلا ہوں۔ مگر ابھی پھپھو کی طبیعت دیکھ کر پوچھنا گوارا نہیں۔اسلیے کل استقامت سے پوچھ لیں گے۔” اذلان کپ ٹیبل پر رکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
” مگر گھر کے بڑے بزرگوں کا ردعمل کافی جارہانہ ہوسکتا ہے۔ ہمیں ہر طرح کے سچویشن کے لئے خود کو تیار رکھنا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ پھپھو یا عنایہ اس بار پھر کسی کے عتاب کا نشانہ بنے۔” حدید کو اب دونوں کی فکر ستائے جا رہی تھی۔
” ماضی کے بہت سارے باب ایسے ہیں جو ہم سے پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔ اور آہل اسی کہانی کا ایک اہم کردار ہے۔ آہل کا یہاں آنا۔ دادا سرکار کا عنایہ اور اہل کا نکاح کروانا اسی کہانی کی ایک کڑی ہے۔ جب تک وہ سارے راز افشاں نہیں ہوجاتے ہم نے خالات کو قابو میں رکھنا ہے۔ ” اذلان کے دماغ میں کچھ دیر پہلے والا منظر رقص کرنے لگا جب عنایہ کی ذات پر بار بار کیچڑ اچھالا جارہا تھا۔ اور وہ چاہ کر بھی اس کی تکلیف کم نہیں کرسکتا۔
” اوکے میں چلتا ہوں. اگر تمہیں ڈیمو کمپلیٹ کرنا ہو تو عنایہ کو بھیج دوں.” حدید آخر میں پھر شوخ ہوا۔
” نو تھینکس!! اذلان نے سہولت سے منع کردیا۔۔کیونکہ وہ خود کسی کمزور لمحے کے نذر ہوکر عنایہ سے اسکی معصومیت چھیننا نہیں چاہتا تھا