Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
ناول* میرے نصیب*
از قلم رمشا خان
ایپیسوڈ # 03
(حویلی بیسڈ,کزن فورسڈ میرج اور انتقام پر مبنی خوبصورت تحریر)
“وہ آپ سے ایک بات کرنی تھی.” رات کو ایاز میر سونے کے لئے لیٹ گئے تو ثوبیہ بیگم اسکے پیر گود میں رکھ کر مالش کرواکر ہلکا ہلکا دبانے کر اسے متوجہ کرگئی.یہاں عورت کی صرف اتنی عزت تھی کہ وہ بچے پیدا کرکے اسے پال پوس کر بڑا کریں۔ شادی کی پہلی رات سے ہی عورت کو اسکی اوقات یاد دلائی جاتی ہے۔ یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اسکی اصل جگہ مرد کے پیروں میں ہوتی ہے۔۔
“ہال بولو” ایاز میر نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اجازت دی۔
“سجاد بھائ نے پھر سے کال کرکے زرغونہ کے رشتے کی بات چھیڑ دی۔ میں نے آپ سے بات کرنے تک کا وقت مانگ لیا۔ اگر آپکی اجازت ہو تو کسی دن بلوا کر رضامندی دے دیں گے۔ زر کا فائنل ائیر چل رہا ہے ۔ تو پھر رخصتی کروادیں گے۔ اب تو ما شاءاللہ حسان( بھائی کا بیٹا) ایک اچھی کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ہے۔ اور فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ ویسے بھی یہ جو لڑکا آیا ہے۔ مجھے اسکی نگاہیں چھب رہی ہے۔ جس طرح زر کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں ایک عجیب سی الوہی چمک آجاتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہی ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر وہ کچھ غلط نا کر ڈالے.” ایک ماں ہونے کے ناطے ثوبیہ بیگم کا تجزیہ سو فیصد درست تھا۔ اپنے بچوں پر اٹھنے والی بری نظر ماں اچھے سے پہچان جاتی ہے۔
“ہممم !! ٹھیک ہے۔ میں جلد ہی سلطان اور امان سے مشورہ کرکے جواب دے دوں گا۔ اور تم زرغونہ کے کان میں بھی یہ بات ڈال دو کہ اسکا رشتہ اسکے ماموں کے گھر میں ہی ہوگا تاکہ کسی اور کے سپنے سجانے کی تمنا چھوڑ دے.” ایاز میر نے ناگواریت سے کہہ کر بات ختم کردی.
اپنے باپ کی آخری بات روم کے دروازے پر کھڑی ہوکر زر نے بآسانی سنی۔ غصہ و اہانت کے احساس سے سر چکرا کر قدم لڑکھڑائے مگر بروقت دو ہاتھوں نے مضبوطی سے اسے تھام کر زمین بوس ہونے سے بچایا۔
“کیا ہوا؟؟ یہ چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہے”۔آہل نے اسے سیدھا کھڑا کرکے سینے پر ہاتھ باندھنے تفتیشی انداز میں اسکی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر استفسار کیا۔ تو زر کی ویران آنکھیں سامنے والے کے بے تاثر نظروں سے الجھائی۔
“کک. کچھ نہیں!! اپنے کام سے کام رکھے.” زر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے سائیڈ سے نکلنے لگی کہ آہل نے اسکو بازو سے دبوچ لیا۔
“تم مجھے, یعنی اہل یزدان کو اٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو۔ داد دینی پڑے گی۔” آہل نے استہزائیہ لہجے میں کہہ کر پوکٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے ۔
“دور ہٹئے !! کیوں قریب آنے اور ٹچ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں آپ۔ آپ شائید بھول گئے آپ مجھ سے نفرت کے دعویدار ہیں۔ تو اپنی بات ہر قائم رہ کر مجھ سے فاصلہ بنا کر رکھے۔ بقول آپکے میں تو صرف آپکے لئے ایک مہرہ ہوں۔” زر نے اپنا بازوؤں چھڑایا۔
“واہ بھئی !! میڈم کے تو پر پر نکل آئے ہیں۔ زبان لڑا رہی ہے. سمبھال کر بات کرو۔ مجھے پر کاٹنے بھی آتے ہیں۔ تمہارے یہ ماہتاب جیسے مکھڑے پر کوئی اور مرمٹتا ہوگا. میری ترجیحات زرا الگ قسم کی ہے۔ تو یہ ادائیں کسی اور کے سامنے دکھائیں.”آہل نے دو انگلیوں میں اسکی تھوڑی زور سے دبا کر ایک جست میں واپس چھوڑ دی.
“اگر بھول گئی ہو تو یاد دلاؤں تمہیں کہ حویلی والے عورت کو پاؤں کی دھول کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔ اور ان میں تم بھی شامل ہو۔ تو آواز نکالنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔ یہاں ہمیشہ کے لئے آواز چھین بھی لی جاتی ہے۔ ویسے میں تو اس حویلی میں پلا بڑھا نہیں مگر اب اسکا حصہ ہوں تو صحبت کا اثر تو ہونا ہی ہے۔” خباثت سے بائیں آنکھ کا کونا دبا کر آہل نے زر کا سیروں خون جلایا۔
جبکہ زر متعجب بے بس نظریں آہل کے چہرے پر گاڑے خاموش کھڑی تھی۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو. جانتا ہوں کچھ زیادہ ہینڈسم ہوں” اہل نے آئی برو اچھائی.
” یہی کہ اللّٰہ نے اتنا حسن دیا ہے اگر ساتھ میں دل کی خوبصورتی سے نواز دیتا تو کیا برا ہوتا۔ اینی وے آپ سے امید بھی کیا کی جاسکتی ہے؟؟ مگر یاد رکھیں. بدلے اور انتقام کی آگ میں اتنے بھی بہرے گونگے مت بنئے کہ باقی کی عمر پچھتاؤں کے سنگ گزدے.” زر نے اپنے امڈنے والے آنسوؤں کا گلہ دبا کر کہا اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگی۔ وہ تو یہ بھی بھول گئی تھی کہ وہ باپ کے پاس کس کام سے جارہی تھی۔ اوپر سے آہل کے کہے گئے الفاظ نے اسکی عزت نفس کو جھنجھوڑا ۔
” کیا کر رہےہو آہل۔ کب سے اتنے کمزور ہوگئے تم کہ ایک عورت کو اپنے انتقام کی آگ میں بھسم کرنے لگے ہو۔ بے چینی اور اضطراب کی حالت میں اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں اپنے بالوں کو زور سے بھینچا۔
“آئی ایم سوری زر!! میں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا. مگر کیا کروں۔ تمہاری اس قدر اپنے باپ کے شکل سے مماثلت دیکھ کر مگر مجھے اپنی تزلیل اور محرومیاں یاد آجاتی یے۔ وہ چہرہ جس سے میں بچپن نے نفرت کرتا آیا ہوں ۔ وہ بھی شدید قسم کا۔ تم سے ذاتی عناد رکھنے کا ارادہ نہیں تھا میرا. بس تمہیں سامنے دیکھ کر آپے سے باہر ہوجاتا ہوں۔ اورمیں اپنے اصولوں میں ترمیم کا قائل نہیں. ” خود سے مخاطب ہوکر پل میں آہل کی ساری تیز طراری اور تلخی سمٹ گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“آپ کیا کھاتے ہیں. جو اتنے حسین ہیں” اسامہ کی باتیں یاد کرکے وہ ایک بار پھر سےمسکرایا. کہاں حویلی کے تخریب کار لوگ کہاں وہ معصومیت کا شاہکار۔۔۔۔
“ملنا ہے تم سے” یا تو شرافت سے خود آفس اجاؤ یا پھر رات کو میں آجاؤں گا. فیصلہ تم خود کرلو” زر کو میسج کرکے سینڈ کردیا.
“کم ان” ڈور ناک ہوا تو اسکی” پی اے” مس شہری سامنے تھی..
“سر!! آپ نے بلایا تھا۔؟؟ وہ سامنے چئیر پر بیٹھ گئی.
“جی!! کئی دن ہوگئے. پیراڈائز (یتیم خانے) کا چکر نہیں لگایا. تم سامان گاڑیوں میں بھر دو. ہم تھوڑی دیر بعد نکلتے ہیں”
ٹھیک ہے سر!! وہ جانے لگی تو دروازہ نوک ہوا اور مہد نے اندر جھانک کر دانت دکھا کر اجازت مانگی۔
“مے آئی کم ان سر !!
“سر کے کچھ لگتے!! اندر داخل ہونے کے بعد بھلا کون اجازت مانگتا ہے۔ اور تو اتنا شریف کب سے ہوا۔؟؟ آہل نے موبائل پر ایک نظر ڈال کر خوشدلی سے کہا۔
“آئی تھنک غلط وقت پر انٹری ماری تم کہی جارہے تھے کیا؟؟ اسے بار بار گھڑی اور موبائل پر نظر ڈالتے دیکھ کر مہد نے استفسار کیا۔
“ہاں وہ زر آرہی ہے۔ کافی دنوں سے ملا نہیں ہوں تو۔۔۔۔ اور اسکے بعد پیراڈائز جانا ہے۔” آہل نے اپنا پلان بتا دیا۔
“کیا مطلب زر آرہی ہے۔ تم اسکی حویلی شفٹ ہوگئے ہو نا, تو یہاں کس خوشی میں آرہی ہے۔ ۔ اور میٹنگ کا کیا ہوگا؟؟ طلال نے ایک سانس میں سوالات کی بوچھاڑ شروع کردی۔
” کول یار!! وہ حویلی نہیں بلکہ پورا چڑیا گھر ہے. پرائیویسی نام کی کوئی چیز ہی نہیں. بے دھڑک کوئی نا کوئی کہیں سے بھی آٹپکتا ہے. رات کو بلاتا ہوں وہ منع کردیتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کسی کو تو معلوم ہونا چاہیے کہ میں کتنا شریف ہوں.” آنکھ کا کونا دبا کر وہ کمینگی سے مسکرایا..
“مگر اس طرح رات کو ملنا ٹھیک نہیں وہ بھی اس کے کمرے میں جاکر یا اپنے کمرے میں بلا کر۔ اس کے کردار پر انگلی اٹھے گی.” مہد کسی خوف کے زیر اثر بولا۔
“میں نے کچی گولیاں نہیں کھیلی. دیکھ کر قدم اٹھاتا ہوں. ” آہل چئیر سے اٹھ کر کوٹ پہنے لگا. کہ موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آیا.
“مم۔میں آرہی ہوں آفس. گھر میں ملنے کی کوشش بھی مت کرنا.” زر کا میسج پڑھ کر وہ وہ خباثت سے مسکرایا۔
” زر آرہی ہیں ۔ میرا روم کھلوا کر صفائی کروادے. میں میٹنگ اٹینڈ کرکے آتا ہوں. زر سے ملنے کے بعد آرفنج جانے کی تیاری کرلو.” شہری کو مسیج کرکے سینڈ کردیا۔۔
آفس سے ملحقہ روم اس نے اپنے لئے سیٹ کیا تھا.. اور یہاں کبھی کبھار رات کو بھی رک جاتا۔
“میٹنگ ختم ہونے تک وہ آجائے گی. اگر تمہیں اپنے دوست کا ٹائم بچانا ہے. تو چلے میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لئے؟؟ کیونکہ جتنی جلدی میٹنگ ختم ہوگی اتنی جلدی زر کو بھی چھٹی مل جائے گی۔ ادروائز اس کے ساتھ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔” آہل اٹھ کر کوٹ پہنے لگا تو مہد بھی کھڑا ہوگیا۔
“یار!! اسے کیوں آزمائش میں ڈالتا ہے ہر وقت۔ جانتا تو ہے کہ اس کے لئے اکیلے گھر سے نکلنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ تم جان بوجھ کر اسے اذیت دیتے ہو. ترس کھاؤ بچی پر.” مہد نے اسے لتاڑا۔
اوہ کم آن!! ترس ہی تو نہیں کھانا۔ کچھ تو اپنے باپ کے کئے کا بھگتے وہ۔” آہل اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جانے لگا۔
•••••••••••••••••••••••••••••
مشکل سے پرمیشن ملی تو وہ بڑی سی چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر نکلی اور کسی کی نظروں میں نا آنے کے لئے آٹو میں بیٹھ گئی.
اپنے آفس کے گلاس ونڈو سے نیچے روڈ پر نظریں گاڑھے وہ وقتاً فوقتاً ہاتھ پر بندھے گھڑی سے ٹایم بھی چیک کرتا رہا. بالآخر صبر آزما انتظار کے بعد ایک رکشہ آفس کے بلند و بالا عمارت کے سامنے رک گیا تو اس کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ امڈ ائی۔
سراسیمگی حالت میں لفٹ میں انٹر ہوکر ” 6″ کا بٹن پریس کرکے اپنی بے ترتیب سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کی.
لفٹ سے نکل کر وہ سیدھا آہل کے آفس میں داخل ہوئی اور دروازے کیساتھ پشت ٹکا کر سکون کو سانس لیا.
“بہت ویٹ کرواتی ہو قسم سے !! آہل کی بوجھل گھمبیر آواز کانوں سے ٹکرائی تو اس نے ایک قہر آلودہ نظر اس پر ڈالی. تو آہل کے لب بے ساختہ گویا ہوئے….
“وہ تو ہونٹوں سے کچھ نہیں کہتا
اس کی آنــکھیں کلام کــرتی ہیں
بے تکا سا شعر بول کر زر کے غصے کو مزید ہوا دے دی۔
“آہل میں نے آپکا قتل کرنا ہے.” وہ اسکے قریب آکر اسکا گریبان مٹھیوں میں دبوچ کر زور سے چلائی.
“آپ جانتے ہیں نا مما سے پرمیشن لینے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں. مگر آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب.؟ کیوں؟؟ اسکے چوڑے سینے سے لگی وہ آہل کے سینے پر مکے مارنے لگی.
کچھ تو ترمیم کرلو سزا میں اہل یزدان !! کیوں مجھے ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہیں آپ. رحم کھا لے مجھ پر . یہ دیکھیں میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپکے آگے.” اداس آنکھوں میں سمندر جیسی طغیانی آگئی. اور آنسو بندھ توڑ کر اسکے رخسار بھگونے لگے.
“نو ٹیرز!! تمہاری یاد آرہی تھی.. تم جانتی ہو نا آہل کو تمہارے نشے کی عادت ہوگئی ہے. اور نشہ نا ملنے پر ایک نشئی کی کیا حالت ہوتی ہے یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا. تمہارے گھر میں تو ہر وقت سرکس لگا رہتا ہے. ایک لمحے کے لئے بھی تنہائی نہیں ملتی.” اسکی بکھرتی حالت دیکھ کر آہل کو عجیب سی بےچینی ہونے لگی۔
“آہل اس طرح میرا چھپ چھپ کر آنا , تم سے ملنا. جانتے ہو کیا انجام ہوگا. آپ کے ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ تم مرد ہو مگر میری عزت دو کوڑی کی رہ جائے گی . اور آپک کو تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکے گا۔ اگر نشہ ہی پورا کرنا ہے تو میں کیوں. ” وہ سسکنے لگی۔
“میں انجام کی پروہ کب کرتا ہوں. میں تو چاہتا ہوں ساری مصلحتیں توڑ کر تمہارے اوپر اپنے نام کا پکا مہر لگادوں مگر تم مانو تب نا۔ اور میں کوئی ہوس پرست بندہ نہیں کہ دلی تسکین کے لئے کسی سے بھی مراسم بڑھا لوں۔” اسکے سر سے چادر ہٹا کر وہاں اپنے لب رکھ دئیے.
“چلو اندر !! اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ روم کے اندر لے آیا تو روم کی چکا چوند روشنی آنکھوں کو چبھنے لگی.
“ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ اور میں کونسا من چاہی لڑکی ہوں اپ کی زندگی میں۔ میرے ساتھ بھی تو اپنے اندر برسوں سے جلے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مراسم بنائے ہیں۔ ورنہ میں تو آپ کی نظر میں دو ٹکے کی حویلی کی ایک مجبور لڑکی ہوں۔ ویسےبھی مما نے آدھے گھنٹے کا ٹائم دیا ہے. مجھے جانا ہے ابھی واپس.” زر نے دھک دھک دل کیساتھ عذر پیش کیا۔
“یار ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہو. پہلی دفعہ تو نہیں مل رہی جو اتنا جھجھک رہی ہو.”
اسکے بالوں سے کیچر نکال کر بال کھولے. تو پشت پر گہرے سیاہ بال پھیل گئے.
“آہل نہیں پلیز !! وہ مزاحمت کرنے لگی.
“مجھے جگہ جگہ منہ مارنے پر تم مجبور کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
“ششش. آہل تمہاری انہی مشکوک حرکتوں کیوجہ سے گھر والے مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں. مما کو لگ رہا ہے کہ آپ کی نظر ہے مجھ پر. اور کل رات کو بابا سے حسان ( ماموں کے بیٹے) سے میری شادی کی بات کر رہی تھی.
“تم کیا چاہتی ہو؟ آہل نے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑ کر پوچھا.
“آپ کو چاہتی ہوں.” بلا ارادہ زبان سے نکل گیا. “مگر یہ جو ہم کر رہے ہیں اسے دنیا کیا نام دیتی ہیں. مجھے وہ نہیں بننا.. پلیز…” وہ گڑگڑائیں.
“چپ !! کچھ نہیں ہوگا. چلو تمہیں گھر ڈراپ کرتا ہوں”. اس کے سر پر چادر ٹھیک کرکے بولا۔
لمحے میں ساری بے قراری , بے تابی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی.
گارڈ کی گاڑی کو آگے بھیج کر وہ اپنی گاڑی میں زر کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا. اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ اندر تک تڑپ گیا.
“ناراض ہو.” اسے شیشے کے پار دیکھے سوال پوچھا۔ کھلتا گلاب جیسا چہرہ کئی دنوں میں مرجھا گیا تھا۔
“تو کیا خوش ہونا چاہیے ؟؟ الٹا سوال پوچھا گیا.
“پھر نہیں بلاؤں گا کہی پر بھی.” اسکے گرد بازو حمائل کرکے اپنے قریب لے آیا.
“کیوں نہیں بلائیں گے۔ ضرور بلائیں گے آپ۔ کتنے ہی معصوم اور بے گناہ لوگوں کی پشت پر قدم رکھ کر, کتنوں کو پاؤں تلے روندھ کر تو آپکو انتقام کی سیڑھیاں چڑھنا ہے.” زر نے خشک ہوتے خلق کو بدقت تر کرکے طنزیہ وار کرکے گویا مقابل کو احساس دلانا چاہا ۔ مگر وہ بھی سنگ دل تھا بغیر کسی ردعمل کے بیٹھا رہا۔
“اسامہ بچہ ہے آہل!! اسکو آپ اچھے لگے تو بتا دیا. اس کو ان چیزوں میں انولو مت کرو. اور آپ کیا بول کر گئے تھے کہ آپ میرا خون پیتے ہیں؟ آہل کو تنے اعصاب کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر وہ پھر سے گویا ہوئی.
“میں لڑکوں کے شوق نہیں پالتا۔ نا ہی بچوں پر ہاتھ ڈالتا ہوں حویلی کے بزدل مردوں کے طرح. سامنے آکر وار کروں گا. ڈونٹ وری۔ اور ہاں خون ہی تو پیتا ہوں. پلک جھپکتے اسکے اوپر جھک کر اسکی بولتی بند کرگیا. شدت اتنی زیادہ تھی کہ نچھلے ہونٹ سے خون کا بوند نکل گیا.
“اب آگیا یقین !!. انگوٹھے سے خون صاف کرکےجتا دیا. جبکہ زر کا پورا وجود ٹھنڈے پسینے سے بھیگ گیا۔
“ایک ہی دفعہ میں سزا دے کر مار دے آہل!! بار بار یہ عزت نفس پر وار کرکے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟ آپکی یہ دھوپ چھاؤں جیسی عادت میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ کبھی الفاظ سے اتنے گھاؤں دیتے ہیں آپ کہ روح تک کو چھلنی کر دیتے ہیں. اور کبھی لہجہ اتنی شیریں ہوتا ہے کہ مجھے ساتویں آسمان پر پہنچا دیتے ہو۔” زر نے بکھرے تنفس کو بحال کرکے شرر باز نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“شٹ اپ!! فضول گوئی سے مجھے خدا واسطے کا بیر ہے. تم یہاں اتر کر پیدل گھر چلی جانا. مجھے تھوڑا کام ہے.” آہل نے کرختگی سے کہہ کر ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا بولا تو وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر گاڑی سے نکلی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••
” سر!! سحر کے لئے پرپوزل آیا ہے.” زر کو ڈراپ کرکے وہ پیراڈائز ( یتیم خانے ) پہنج گیا تو وارڈن نے اسے سحر کے لئے آنے والے رشتے کے متعلق آگاہ کرنا مناسب سمجھا. سالوں پہلے آہل نے دادا سرکار کے ساتھ ملکر اس یتیم خانے کی بنیاد رکھی تھی. اب تک یہاں ہزاروں یتیم بے آسرا بچیوں کی کفالت ہورہی تھی. وہ خود وقتاً فوقتاً آتا اور یہاں کے معاملات خود دیکھتا. اب تک کئی بچیوں کی شادی بھی کروا چکے تھے.
“کس کا.” آہل نے چھوٹی سی سات سال کی بچی کو گود میں بٹھا کر پاکٹ سے چاکلیٹ تھما کر کہا.
“کوئی عامر نامی لڑکا اسکے کالج میں پڑھتا ہے. سحر میں انٹرسٹڈ ہے. اس کے پیرنٹس یہاں آئے تھے. اور سحر کے لئے اپنی پسندیدگی ظاہر کی.” وارڈن نے تفصیلاً بتایا۔
“ہممم!! مس شہری کو لڑکے کا نام, باپ کا نام اور ایڈریس سمجھا دو. پوری طرح سے تسلی اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہم کوئی فیصلہ لیں گے.اور سحر کی کیا رائے ہے.؟؟ ابھی وہ بمشکل سترہ سال کی ہوئی ہے. اتنی جلدی …”
“اس نے فیصلہ آپ پر چھوڑا ہے. اور بیٹیوں کے فرض سے جتنی جلدی سبکدوش ہوجائے تو بہتر ہے. اور ہماری سحر تو ماشاء اللہ سے کافی سمجھدار ہے. “
“لڑکے کو کل آفس بجھوا دینا. اس معاملے کو میں خود ہینڈل کرلوں گا.”
عنایہ کو بھی آہل یہاں سے لیکر گیا تھا. صرف ایک رشتہ تھا اس کے پاس ماں کا۔ اسکی ماں کے وفات کے بعد کوئی بھی اس یتیم بچی کی زمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں تھا پھر دور کی ایک خالہ کو شاید رحم آگیا اور اسے اپنے گھر لے گئی. مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھے, ایک دن خالہ کی غیر موجودگی میں اسکے خالو نے اسکے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی. وہ تو شکر تھا پڑوسیوں نے چیخنے کی آوازیں سنی تو بھاگ کر آئے اور اسکو اس حیوان کے شکنجے سے بچا لیا. اس وقت عنایہ کی عمر دس سال تھی. انتہائی حسین ننھی کلی تھی. تب اسکی خالہ نے اسے یتیم خانے چھوڑ دیا تھا. کچھ عرصہ تک اسے شدید دورے پڑتے اور خود کو مارنے کی کوشش بھی کئی بار کی۔ تب آہل نے اسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا تھا. تاکہ وہ شاکڈ سے نکل ائے۔ جبکہ باقی بچیاں اس کے ان اقدام سے خوفزدہ ہورہی تھی. اور پھر وہ آہل کے ساتھ اسکے گھر شفٹ ہوگئی. چوبیس گھنٹے فیمیل ملازمہ اسکے ساتھ ہوتی. اب اسکی عمر انیس سال تھی. آہل نے کئی بار اسے آرفنج بھیجنا چاہا مگر وہ بھوک ہڑتال کرتی اور خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی. تو مجبوراً آہل کو ہتھیار ڈالنے پڑے. وہ ذیادہ تر دوسرے ممالک جاتا تو گھر پر اسکے لئے قابل اعتبار مخصوص ملازمہ کو ہائیر کیا تھا. آہل کے لئے آج بھی وہ وہی دس سال کی چھوٹی بچی تھی مگر وہ خود آہل کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتی تھی.
••••••••••••••••••••••••••••••
“آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں.” رات کے ڈیڑھ بجے ازلان کو کچن میں دیکھ کر شزا نے حیرانگی سے پوچھا, جو پانی پینے آئی تھی.
“ڈنر نہیں کیا تھا۔ تو اب ایک آنلائن میٹنگ اٹینڈ کرکے فارغ ہوا ہوں. سوچا کچھ ہلکا پھلکا کھا لوں.” ازلان نے سرسری جواب دیا.
“میں بنا دیتی ہوں کچھ. آپ وہاں چئیر پر بیٹھ کر ویٹ کرے”.شزا نے آفر کی.
“تمہاری اس عنایت کا میں دل سے ممنون ہوں. لیکن میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں”. اذلان نے سہولت سے انکار کیا.
“آپ میرے ساتھ ایسا بیہیو کیوں کر رہے ہیں؟؟ میں پیار…..”
“شزا !! پلیز… ہم جسٹ کزنز ہیں اور کچھ نہیں. ہزار بار سمجھایا ہے میں نے تمہیں, تم اور سوہا میرے لئے ایک جیسےہو. اور نا ہی میں فیملی میں شادی کرنے کا خواہاں ہوں.” ازلان نے ہری جھنڈی دکھا دی،۔
“ایکسکیوزمی !! اگر یہاں لیلی مجنوں کا سین ختم ہوا ہو تو کوئی مجھے ذرا ایک کپ کافی کا بنا کر دے سکتا ہے. شدید طلب ہورہی ہے”. مترنم آواز کی سمت دونوں نے دیکھا تو عنایہ شارٹ شرٹ کیساتھ کھلا ٹراؤزر پہنے بالوں کو کھلا چھوڑ کر دوپٹے سے بے نیاز وجود لئے کچن کے دروازے میں کھڑی جمائیاں روکنے کی کوششوں میں تھی. جو کسی بھی زاہد بندے کا ایمان ڈگمگاسکتی تھی.
“ہم نوکر لگتے ہیں تمہارے باپ کے؟؟ شزا کو اسکی ادائیں طیش دلاگئی.
“تو کیا ان صاحب کی( اذلان) نوکر ہو تم. جو اتنے پیار سے آفر کر رہی تھی. کتنی تنخواہ ملتی ہیں. میں اس کا ڈبل پے کردوں گی.” عنایہ نے مزید سلگایا. تو اذلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور شیلف کی طرف منہ پھیر دیا.
“بکواس بند کردو دو ٹکے کی لڑکی!! اور کہاں گئی تم لوگوں کی خاصاالخاص ملازمین, یا پھر وہ کوہ نور کا ہیرا (آہل) تم لوگوں کا خلائی مخلوق…..” عنایہ کی معصومیت پر شزا بل کھا کر رہ گئی۔
“آہل پر مت جا. ورنہ منہ توڑ دوں گی.” آہل کے نام پر عنایہ بپھر گئی.
“اور کون دو ٹکے کی؟؟ مجھے اوقات یاد دلا رہی ہو. تمہارے اس حویلی میں چالیس کے لگ بھگ جتنے لوگ تو ہوں گے، جو آدھی جائیداد کے مالک ہے. اگر بانٹ دیا جائے تم سب میں , تو بمشکل دو دو آنے ہاتھ میں آجائیں گے۔ جبکہ باقی کا آدھا حصہ میرے آہل کے نام پر ہے. اب دو ٹکے میں ہوگئی یا تم لوگ.” عنایہ جلدی سے حساب کتاب کرنے بیٹھ گئی۔
“کیا تماشا لگا رکھا ہے. اور عنایہ تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے یہاں کسی کے منہ نہیں لگنا. “
آہل اسی وقت تھکا ہارا باہر سے آیا تھا تو کچن سے آتی عنایہ کی تیز آواز کے تعین میں کچن کا رخ کیا.
“اوہ ہیلو مسٹر !!! ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے اس دیسی گڑیا کے منہ لگنے کا.” شزا کو تو اسکا اتنا حسین ہونا کوفت میں مبتلا کردیتا تھا. لگتا ہے بس حسن سامنے دونوں بندوں پر ختم ہوگیا ہو.
” آہل!! کافی پینی ہے.” عنایہ نے لاڈ سے اہل کے بازو کو پکڑا.
“یہ پکڑو. میں بناتا ہوں.. اس وقت بی اماں کی نیند میں خلل ڈالنا مناسب نہیں.” اپنا کورٹ عنایہ کو پکڑواکر وہ کافی بنانے لگا. جبکہ عنایہ کی اس قدر آہل کے ساتھ بے تکلفی دیکھ کر اذلان کے من میں رقابت والے جزبات پیدا ہوگئے۔ اور وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا. وجہ خود سمجھنے سے قاصر تھا.
کافی تیار کرکے اس نے کپ عنایا کو پکڑوایا اور اسے ساتھ لئے کچن سے باہر نکل آیا.
دروازے سے نکل کر عنایہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور زبان باہر نکال کر آنکھ ونک کی. اس منظر سے جہاں وہ شزا کو ٹھیک ٹھاک تپا گئی۔ وہاں اذلان کے دل کو بہت بھایا..
اسکے سنیکس بھی تیار ہوچکے تھے چائے بنا کر وہ شزا کو مکمل اگنور کرکے نکل گیا.
“ڈائن…” میرے اذلان پر ڈورے ڈالنے کی حماقت تمہیں بہت مہنگی پڑے گی” عنایہ کے چہرے پر پڑتے اذلان کی پرشوق نگاہیں شزا کو سلگا گئے
•••••••••••••••••••••••
“دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟؟ عنایہ کے روم کے دروازے تک پہنچ کر اس نے لہو چھلکاتے سرخ آنکھوں سے استفسار کیا.
“ووووہ جلدی میں…” عنایہ نے مسمی شکل بنائی.
” کیا وہ !! اور یہ کیا بے ہودہ لباس پہنا ہے تم نے. یہ ہمارا گھر نہیں ہے. جہاں میرے علاؤہ دوسرے مردوں کا داخلہ ممنوع ہے. اور میں خود بھی ہفتوں ہفتوں تک گھر نہیں آتا . مگر یہاں مرد خضرات کی تعداد ذیادہ ہیں. کیوں خود کو مرکز نگاہ بنانے پر تلی ہوئی ہو.. یہ تمہارا سراپا کھلے عام دعوت ہے. زر کی ڈریسنگ دیکھی ہے نا؟؟ کیسے کپڑے پہنتی ہےوہ.. تقریباً اس گھر کی سبھی لڑکیوں کا لباس قیمتی مگر پردے کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ سر پر دوپٹہ ہمہ وقت موجود ہوتا ہے اور یہی پردہ اور حیا عورتوں کا زیور ہوتا ہے. کل شہری کے ساتھ جاکر شاپنگ کروالو. یہ بے ہودہ لباس دوبارہ نا دیکھوں, ورنہ کپڑوں کے ساتھ تمہارے اس وجود کو بھی جلا کر بھسم کردوں گا. ” آہل کے کنپٹی کی رگیں پھڑکنے لگی. اذلان کی بے باک نظروں کا ارتکاز عنایہ کے سراپے پر وہ بخوبی محسوس کر چکا تھا.
“جی.۔ سوری!! عنایہ کی آواز رندھ گئی.
آہل سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ ازلان بھی ہاتھ میں چائے اور سنیکس پکڑے کچن سے نکلا.
اپنی بے لگام نگاہوں کو لگام دینا. ورنہ دیکھنے لائق ہی نہیں چھوڑوں گا.” سرد آنکھوں کا تاثر مزید گہرا ہوگیا اور اذلان کو وہی چھوڑ کر دو دو سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چڑھ گیا.
••••••••••••••••••••••••••••
“زر !!! یہ آہل کے ساتھ لڑکی کون ہے؟؟ تم نے پوچھا نہیں.” وہ رات کو عاتکہ کے روم میں گئی تو باتوں باتوں میں عنایہ کا ذکر چلا.
“پوچھا تھا مگر ملال اسی بات کا ہے کہ وہ میری بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔ ان سے بات کرنا گویا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے. کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ وہ میرے ساتھ بھی صرف دل بہلا رہا ہے.” زر نے عاتکہ کی گود میں سر رکھ کر کہا.
“ایسا نہیں ہوسکتا. بابا سرکار کی تربیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوسکتی. ہوسکتا ہے “پیراڈائز” سے آئی ہوں اہل کے ساتھ.” عاتکہ کے دل میں ہوک سی اٹھی.
پھپھو !! پیراڈائز کے بچے بچے کو میں جانتی ہوں۔ دادا سرکار کیساتھ ہزار دفعہ گئی ہوں۔ سب مجھے جانتے پہچانتے ہیں. کہی آہل نے شادی…..”
” اللّٰہ نا کرے. ہوش کے ناخن لو. یہ کیا فضولیات سوچنے لگی ہو. اگر شادی کی ہوتی تو وہ لڑکی اسکے ساتھ روم شئیر کرتی نا. الگ روم میں کیوں رہتی.” عاتکہ اسکی ہمت باندھنے لگی.
“ڈر لگتا ہے پھپھو.!! میں نہیں جانتی تھی کہ نفرت کا کھیل کھیلتے کھیلتے مجھے آہل سے پیار ہوجائے گا. اور اسکی عادت ہو جائے گی. بغیر اس کا چہرہ دیکھے میں نے صرف اس کے لمس سے,احساس سے پیار کیا ہے. اور یہ عنایہ کس حق سے اسکے اتنی قریب ہے. تکلیف ہوتی ہے.” زر کی آواز سے تاسف آور دکھ صاف چھلک رہا تھا۔۔
“اللّٰہ سے اچھے کی امید رکھو بیٹا. تم نے عنایہ کو کچھ ذیادہ ہی اپنے خواسوں پر سوار کیا ہے. سوجاؤ.” عاتکہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی. پوری حویلی میں دادا سرکار کے بعد عاتکہ ہی تھی جسکی گود زر کے کےلئے ٹھنڈی چھاؤں جیسا سکون دیتا.
