Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 20
سحر کی طبعیت میں تھوڑی بہتری آگئی تو زر سے ملنے کے لئے فورس کرنے لگی۔ آہل مجبوراً اسے زر سے ملنے لے ایا۔ یہاں آکر اسے زر کے بچے کا معلوم ہوگیا تو کتنے گھنٹوں وہ لگاتار روتی گئی۔
” ہمیشہ اچھے لوگوں کے ساتھ ہی برا کیوں ہوتا ہے۔ میرے بھیا نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔” سحر کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
” بیٹا !! رونے سے میرا بچہ واپس تھوڑی اجائے گا۔ بس اپنی بھابھی کے لئے دعا کرو کہ جلدی سے ٹھیک ہو جائے اور اللّٰہ دوبارہ اس کی گود بھر دے گا۔” آہل جانتا تھا سحر اور پیراڈائز کے اور کتنی لڑکیوں کو آہل سے بے انتہا محبت تھی اور سب چاہتے تھے کہ آہل کے بچے کو گود میں لے کر کھلائے پلائے اور پیار کرے۔
” آہل !! اذلان بھائی اور عنایہ لوگ مجھ سے ملنے کیوں نہیں ائے۔ باقی سب گھر والے تو آگئے ہیں۔” زر کو دونوں کی غیر موجودگی کھٹک رہی تھی۔ صبح حدید بھی ملنے آئے تھا۔
” وہ عنایہ کی طبیعت خراب ہوگئی تھی نا تمہیں اس طرح خون میں لت پت دیکھ کر۔ تو ازلان اس کے پاس ہے۔ وہ تو آنے کے لئے فورس کر رہا تھا میں نے منع کردیا کہ تمہارے پاس یہاں ہم سب ہیں اور عنایہ کو ان کی ضرورت ہے۔” اہل نے جوس کا گلاس اسی طرف بڑھا کر اسکے ماتھے پر کس کیا۔
” ہاں ٹھیک کیا آپ نے. ویسے بھی کل ہم ڈسچارج ہو جائیں گے نا تو پھر مل لوں گی سب سے۔” زر نے جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگایا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
نرس نے عنایہ کی ڈریسنگ کروائی تو اذلان اور حدید دونوں اندر داخل ہوگئے۔
” بھائی !! مجھے یہاں کوفت ہورہی ہے پلیز گھر چلتے ہیں نا۔ ” عنایہ کا یہاں صحیح معنوں اس قفس ذدہ ماحول میں دم گھٹنے لگا تھا۔
” ہاں وہ اذلان نے بھی ڈاکٹر سے بات کی تھی مگر تمہارے زخم ابھی تاذہ ہے تو ڈیلی ڈریسنگ کرنی پڑے گی۔” حدید نے دلیل پیش کی۔
” تو نرس گھر آکر پٹی کروادیا کرے گی نا۔ آہل بھی ملنے نہیں آیا اور نا ہی زر۔ وہ لوگ کہاں گئے۔” زر کی طرح عنایہ سے بھی یہ کڑوی حقیقت چھپائی گئی تھی
“آئیں تھے دونوں۔۔ تم سو رہی تھی اس وقت۔ ہم نے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ حدید نے اسکے الجھے خدوخال پر نظر ڈال کر کہا
” مجھے ایک امپورٹنٹ کال کرنی ہے ۔ میں ابھی آیا ” حدید اذلان اور عنایہ کو پرائیویسی دینا چاہتا تھا۔ آج تیسرا دن تھا۔ دونوں میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔
حدید کے جانے کے بعد اذلان نے پانی کا گلاس بھرا اور اس کے قریب آکر میڈیسن اٹھا لی۔
ہتھیلی میں ٹیبلٹ نکال کر اس نے عنایہ کے منہ کی طرف گولی بڑھائی تو اس نے منہ کھولا۔
” آپ مجھ سے ناراض ہے؟؟ خاموشی سے اذلان کی کاروائی محاطب کرکے آنسو پلکوں کے باڑ توڑ کر بہنے لگے۔
” نہیں”‘ یک لفظی جواب آیا۔
” تو پھر اس طرح گریز پا کیوں ہیں؟؟ اس نے کچھ گھونٹ پانی پی کر گولی نگل لی۔
” تمہاری غلط فہمی ہے یہ۔” گلاس واپس ٹیبل پر رکھ کر وہ سنجیدگی سے گویا ہوا ۔
” میں نے بہت چھوٹی عمر میں لہجے پرکھنا سیکھ لیے تھے۔” اپنے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے وہ گویا ہوئی تو اچانک تکلیف سے سسکاری نکل گئی
“سسسس”
“.آرام سے … کیا رہی ہو تم؟؟؟.اذلان نے بے چینی سے لب باہم پیوست کردئیے۔ اور اسکے ہاتھ کو پکڑ پر پشت کو دیکھا تو سکن اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھی۔ اس نے جلدی سے پاس پڑا ٹیوب اٹھایا اور کاٹن کی مدد سے دوبارہ وہاں پر مرہم لگایا۔
” آپ مجھے پیراڈائز چھوڑ آئے.. آپ کی بے رخی میری جان لے لے گی۔ لوگ کہتے ہیں نا پسندیدہ شخص کی بے اعتنائی ذہنی مریض بنا دیتی ہے۔ مجھے ان رستے زخموں سے زیادہ آپکی لاپرواہی کھائے جا رہی ہے۔” اذلان کے چلتے ہاتھ اسکی اس غیر متوقع بات پر ٹھٹھک کر رک گئے۔ اور نافہمی سے مقابل کی طرف نگاہ اٹھا لی مگر اسکی نقاہت زدہ حالت دیکھ کر فورا نظریں چرالی۔ لیکن کشادہ پیشانی پر شکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ عنایہ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
” نہیں چاہئے مجھے بھیک میں ملی ہمدردیاں۔ آپ بھی چلے جائے۔ میرے نصیب کی سیاہ بختی مجھے کھل کر جینے نہیں دے رہی۔ ساتھ میں آپ کو بھی گھیسٹ رہی ہوں ۔ ایسا کریں , آپ بھی دامن چھڑا کر بھاگ جائے۔ مجھے سب سمجھ آرہا ہے آپ بھی پچھتا رہے ہیں نا۔ کہ کس منحوس سے پالا پڑا ہے۔مم۔۔۔۔۔۔۔”
“عنایہ…!!!! اذلان تو اس قدر مشتعل انداز پر متحیر تھا۔ اسکے قریب پہنچ کر اس نے عنایہ کو سینے میں بھینچ لیا۔۔
” دور رہے مجھ سے۔ میں تو اب ایک بیوی کے فرائض ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہی۔۔کیوں آپ مجھ سے پیار کریں گے۔” ہانپتے ہوئے پوری شدت سے اس نے خود کو اذلان کی گرفت سے چھڑایا۔تو اذلان گومگو کی کیفیت میں کھڑا رہ گیا۔ جبکہ بد حواسی کے عالم میں عنایہ اب ٹیبل پر پڑی چیزیں اور اپنی میڈیسن سب کچھ نیچے گرا رہی تھی۔
” عنایہ یہ کیا پاگل پن ہے۔ سنبھالو خود کو۔ کون سی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے۔” اذلان نے اسکی ابتر ہوتی حالت دیکھ کر پھرتی سے اس کے ہاتھ میں پکڑا گلاس چھین لیا۔ اور ایک بار پھر اسے اپنے مضبوط حصار میں لے کر اسکے سر پر بوسہ دیا۔ اسے عنایہ سے ہرگز اس قسم کی شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ وہ ماہی بن آب کی طرح اسکے حصار میں پھڑپھڑانے لگی۔
” مجھے کیوں رشتے راس نہیں آتے۔ کیا میرا کوئی حق نہیں خوشیوں پر۔ مجھے نہیں جینا اس بد نما داغوں کے ساتھ۔ میں آپ کے قابل نہیں رہی۔ اکتا گئے ہیں نا آپ مجھ سے ” اذلان کے سینے سے لگی وہ لفظوں کے نشتر پھینکے لگی۔ جبکہ اس کے کہے الفاط اذلان کے روح تک کو گھائل کر گئے۔
” میری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہو تم۔ تم اسطرح کے الزامات لگا کر میرے سچے جذبوں کی توہین کر رہی ہو۔ میں بھلا کیسے اکتا سکتا ہوں تمہارے وجود سے۔ مگر یہ سچ ہے مجھ سے تمہاری تکلیف برداشت نہیں ہورہی۔ اپنی بے بسی پر غصہ آرہا ہے مجھے, کہ کیوں تمہاری اذیت کم نہیں کر پا رہا۔ اسلئے تمہارا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میں۔ اور تم نے اپنی طرف سے بے تکے مفروضے قائم کرکے میری محبت کے پرخچے اڑا دئیے۔ اتنا بے مول تو نہیں تھا میرا پیار۔۔کہ تمہاری ان معمولی سی زخموں کو بنیاد بنا کر میں اپنے وعدوں سے مکر جاؤں۔” اذلان ہولے ہولے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔
” میرا دم گھٹ رہا ہے یہاں۔ عجیب سی وحشت ہوتی ہے مجھے۔ آپکا پیار اور ساتھ میری طاقت ہے۔ اگر یہاں رہی تو میرے زخم کبھی مندمل نہیں ہوپائیں گے۔ ” اذلان کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیکر وہ بڑے مان سے بولی۔
” میں ڈسچارج پیپرز تیار کرواکر آتا ہوں” اس کے دونوں ہاتھوں کی پشت پر باری باری بوسہ دے کر وہ چلا گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
گھر آکر جیسے اس کی روح تک سرشار ہوگئی۔ بےقرار دل کو قرار ملا۔ ثوبیہ بیگم, انیلا بیگم اور عاتکہ بیگم نے اس کی تیمارداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ خلاف توقع شزا کو اپنی فکر میں ہلکان دیکھ کر تو وہ اپنی بیماری کو فراموش کرگئی۔ اور کتنی ہی دیر وہ شزا کے گلے لگ کر روئی تھی۔
” شزا اس کی دوائی کا ٹائم ہوگیا ہے۔” اذلان ہاتھ میں میڈیسن پکڑے کب سے کھڑا دونوں بہنوں کو ایک دوسرے میں مدغم دیکھ کر گویا ہوا۔
” مجھے دے دے۔ میں کھلاتی ہوں دوائی۔” اذلان کے ہاتھ سے میڈیسن لے کر شزا نے لہجے میں نرمی سمو کر کہا۔ تو اذلان نے خاموشی سے اسے میڈیسن پکڑوادی۔
” عنایہ مجھے معاف کردو. کوئی چیز قسمت میں نا ہو تو ہم لاکھ روئے, گڑگڑایے, اپنی تقدیر بدل نہیں سکتے۔ میں قسمت کے ساتھ لڑنے لگی تھی۔ تم اور اذلان ایک دوسرے کے لئے بنے ہو۔ میں خود غرض بن گئی تھی۔ بلا زور زبردستی کسی کو پیار کرنے کے لئے کون آمادہ کرتا ہے۔ یہ تو دلوں میں پلنے والے احساس ہوتے ہیں۔” شزا عنایہ کے دونوں ہاتھوں کو پکڑی نم آلودہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ تو عنایہ نے جھٹکے سے ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑا لئے۔ وہاں موجود تمام نفوس کی سانسیں تھم گئی۔ مگر اگلے پل وہ شزا کے سینے لگ کر جیسے بہن کا رشتہ پاکر معتبر ہوگئی۔ اسے اپنی ماں , بہن اور بھائی تینوں رشتے مل گئے۔ کبھی کبھی زندگی میں ہونے والے حادثات جان لیوا نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ آزمائش ہوتی ہے اگر بندہ اس میں کامیاب ٹھہرے تو اللّٰہ بدلے میں وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جو بندے کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ آج عنایہ اتنا کچھ پاکر اللّٰہ کے آگے سر بسجود ہوگئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” یہ تم کچھ زیادہ عنایہ پر مہربان نہیں ہوگئی ہو۔ کیسے اتنی جلدی اپنے پیار سے دستبردار ہو سکتی ہو تم۔ پہلے اس کے روم جاکر ملنا اب اس کے لئے خود ہلکا پھلکا کھانا بنانا۔ یہ واقعی تمہاری عنایات ہے یا پھر بدلے کا انوکھا طریقہ” سوہا کب سے اسکی حرکات و سکنات کا جائیزہ لے رہی تھی مزید برداشت نہیں ہوا تو اسکے پیچھے کچن میں آکر زور سے اسکا بازو دبوچ کر اپنے اندر کا اشتعال دبانے لگی.
” ہاں صحیح کہہ رہی ہو تم۔ میں نے کبھی کسی کا اترن نہیں پہنا, نا مجھے کسی سے اسکا حق چھینا آتا ہے تمہاری طرح ۔۔ بچپن سے دیکھتی آرہی تھی کہ کس طرح تم زر آپی کی پسندیدہ چیزیں ہتھیا لیتی تھی۔ انکی آنکھوں میں بے بسی مجھ سے ڈھکی چھپی نہیں ہوتی۔ مگر اسکی پیشنس کو ہزار توپوں کی سلامی۔ کہ ماتھے پر کسی قسم کی شکن لائے بغیر وہ تمہیں وہ چیز بخوشی دیتی تھی۔۔اور تمہاری آنکھیں اپنی جیت کی فتح پر جشن مناتی۔ تب مجھے زر آپی کے لئے گلٹی فیل ہوتا۔ مگر تم میری دوست تھی تو تمہاری وجہ سے زر آپی کے ساتھ کی گئی ناانصافی کو بھی بھول جاتی۔ اذلان جب تک عنایہ کا نہیں تھا تو مجھے چاہیے تھا۔ جب اس کا نام عنایہ کے نام کیساتھ جڑ گیا۔ تو میں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی اسلئے میں نے اپنی نفرت کا کھلے عام پرچار کیا۔ تمہیں پتا ہے یہ محبت مرضی سے نہیں ہوتی ۔ یہ نصیب میں لکھ دی جاتی ہے ۔ کسی کےلئے رزق کی طرح تو کسی کےلئے روگ کی طرح اسے لکھ دیا جاتا ہے۔ میں وہی روگ پالنے بیٹھ گئی جو سراسر بے وقوفی تھی۔ اذلان کے ساتھ ساتھ میں اپنے بھائی کی چاہت و محبت سے بھی محروم ہونے لگی۔ مجھے اپنا بھائی چاہیے تھا۔ میرے آنکھوں پر بندھی ضد اور آنا کی پٹی کھل چکی ہے۔ عنایہ ایک بے ضرر لڑکی ہے۔ اگر قسمت اس پر مہربان ہورہی ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اس کی حصے کی خوشیوں کو نوچنے والے۔ اس لئے میں نے اپنے ہر اس فعل کی معافی مانگ لی ۔ ہزار بار اسکے عزت نفس کو مجروح کیا جس سے عنایہ کبھی ہرٹ ہوئی تھی۔ اور اس کا ظرف اتنا بڑا ہے کہ بغیر کچھ جتائے مجھے معاف بھی کردیا۔ مجھے اپنے کھوئے ہوئے رشتوں کے ساتھ بہن بھی مل گئی۔ جو صاف دل کی مالک ہے۔ ” شزا کی باتیں سوہا کے دل پر برچھیاں چلانے کا کام کر رہی تھی۔ وہ تو شزا کو اپنا ہمدرد اپنی رازدار اور دوست سمجھتی تھی۔ مگر یہاں تو وہ باقی سب کے رنگ میں ڈھلنے لگی۔ سوہا کی آنکھیں احساس تذلیل سے لال انگارہ ہوگئ۔
” تم احسان فراموش.. تمہاری وجہ سے میں اپنے بھائی کی خوشیوں میں شریک نہیں ہوئی ۔ کہ تم شدت غم سے نڈھال تھی۔ اور تم۔۔۔۔۔۔”
” اس میں بھی تمہارا کوئی ذاتی مفاد پوشیدہ ہوا ہوگا۔ کیوں کہ جہاں تک میں تمہیں جانتی ہوں تم ایک انتہائی سیلفش لڑکی ہو۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میری وجہ سے بے وجہ کسی سے نفرتیں پال لو۔ اب پتہ نہیں تمہارے من میں کیا سمایا تھا کہ تم نے حقیقی رشتوں سے منہ موڑا۔ میں تو کبھی کسی اور کے لئے اپنے بھائی کی خوشیوں سے منہ نہیں موڑوں گی۔” شزا نے درشتی سے اس کی بات کاٹ کر سچائی کے زور دار تماچے اس کے منہ پر رسید کئے۔ یہ سچ بھی تھا۔ اسے شزا یا کسی اور کے درد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ تو اپنے محبت کی اس قدر تذلیل پر سٹیا گئی تھی کہ گناہوں کے دلدل میں پھنستی چلی گئی اور اپنی بہن سے اسکا سہاگ چھین رہی تھی۔ اور اب تو اس کے اوپر ایک اور الزام بھی لگ گیا۔ قاتل ہونے کا۔ شزا اسے ندامت کی گہرائیوں میں دھکیل کر آئینہ دکھا کر چلی گئی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زر کو بھی ڈسچارج کرکے آہل گھر لے آیا تھا۔ تو عنایہ سے ملنے اس کے روم چلا گیا۔ عنایہ کی سرخ و سپید چہرے کی دمک ماند پڑ گئی تھی۔ آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز اور سرسوں کے پھول کی طرح زرد چہرہ دیکھ کرآہل کے دل کو کسی نے مٹھی میں جھکڑ لیا۔ اس کی پھپھو اس پر بھروسہ کرکے اپنی پھول جیسی بچی اسکے سپرد کرکے منوں مٹی تلے سو گئی تھی آہل کو اپنی غفلت پر ڈھیر سارے ملال نے آگھیرا ۔ تکلیف سے غضلات تن گئے۔
” کیسی ہو؟؟ عنایہ کے پہلو میں جگہ بنا کر وہ بیٹھ گیا۔
” آپ سے ناراض ہوں۔ ایسی بھی کیا مصروفیت کہ آپ مجھ سے ملنے ایک بار بھی نہیں ائے۔” عنایہ اسکے کندھے پر سر رکھ کر اپنی ہچکیوں کا گلہ دبانے لگی۔
” تمہاری طبیعت خراب تھی اسلئے تم سے چھپایا گیا تھا کہ زر اور سحر سیڑھیوں سے گر گئی تھی۔ جس وقت تمہارے روم میں آگ لگی تھی۔ ان کو میں ہاسپٹل لے کر گیا تھا آج ہی ڈسچارج ہو کر گھر آئیں ہے۔” آہل نے اسکی کنپٹی پر بوسہ دیکر اس کے کملائے چہرے پر نظریں ٹکا دی۔
” زر ٹھیک ہے نا؟؟ عنایہ حیرت اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت سے دوچار تھی۔ مطلب گھر میں اتنا کچھ ہوگیا ہے اسے کوئی علم نہیں۔
” وہ تو ٹھیک ہے مگر ہمارا بچہ نہیں بچ سکا۔” آہل کے سرخ ڈوروں سے مزین آنکھیں اس کے اندر تکلیف کی شدت کو عیاں کر رہی تھی۔ جبکہ عنایہ آہل کے اس قدر نقصان پر صرف آنسوں بہا سکی۔
” تم چھوڑو یہ سب۔ تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں نا۔ نیکسٹ ویک کا ٹائم دیا ہے ڈاکٹر نے۔ تمہاری سرجری ہوجائے گی تو تم بلکل ٹھیک ٹھاک ہوجاؤگی۔ ” آہل نے اسکی آنسو کو انگوٹھے کی مدد سے صاف کرکے تسلی دی۔
“اور اذلان ہوگا تمہارے پاس۔ خود سے اٹھنا بلکل نہیں ہے۔ زخم تازہ ہے چلنے پھرنے میں دقت ہوگی۔۔اور ڈریسنگ کروانے نرس آجایا کرے گی۔ میری بات ہوئی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بلا جھجھک کہہ سکتی ہو۔” عنایہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ کھڑا ہوگیا۔
” زر دو تین دن میں ٹھیک ہو جائے گی تو اجائے گی ملنے۔ وہ مینٹلی کافی ڈسٹرب تھی تمہاری طرح , اس لئے وہ بھی اس سانحہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ میں ابھی آفس جارہا ہوں۔ شام کو پھر ملاقات ہوگی”
” جی۔!!! عنایہ نے تابعداری سے سر ہلایا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” کچھ پتہ چلا کہ سیڑھیوں پر تیل کس نے گرایا تھا۔” اذلان آہل کے ساتھ باہر نکلا تو پوچھ بیٹھا۔
” نہیں۔ مگر جلد ہی پتہ چل جائے گا۔ کیونکہ باہر میرے گارڈز صبح سے لیکر شام تک چوکنا کھڑے تھے۔ ان کے بیان کے مطابق باہر سے کوئی حویلی کے اندر نہیں گیا۔ سوائے بیوٹیشنز کے۔ اور مرد حضرات میں سوائے میرے حویلی کی دہلیز کسی نے پار نہیں کی۔ یا تو یہ ہوسکتا ہے کہ حویلی کے کسی ملازم یا ملازمہ سے یہ کام کروایا گیا ہے۔ یا پھر حویلی کا کوئی بندہ انولو ہوسکتا ہے۔” آہل شش و پنج میں مبتلا سارا معاملہ اذلان کے گوش گزار کرنے لگا۔
” مجھے نہیں لگتا کہ حویلی کی عورتوں میں سے کوئی اتنا گھٹیا کام کرسکتا ہے۔ باقی ملازمین تو کافی وفادار ہے اپنے مالکوں کے ساتھ. تو ان پر شک کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہمیں جلد از جلد کوئی سراغ ڈھونڈنا ہے اہل۔ ہم نہیں چاہتے کہ دشمن ہمیں کمزور سمجھ کر اس طرح اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرے۔”..اذلان خود کافی وریڈ تھا۔۔
” میں نے اپنے ایک دوست کو اس معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے بلایا ہے۔ اس طرح کے کیسز حل کرنے میں کافی ایکسپرٹ ہے وہ۔ عنایہ کی روم میں لگے آگ کی وجہ سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ تم آج گھر پر رہوگے۔ تاکہ وہ اپنا کام بغیر کسی روک ٹوک کے اچھے سے سر انجام دے۔۔ ورنہ حویلی والے اسکے راستے میں روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔” آہل گاڑی کے قریب پہنچ گیا تو پلٹ کر اذلان کی طرف موڑ کر دیکھا۔
” ٹھیک ہے۔ آپ بے فکر رہے۔” اذلان نے اپنی طرف سے اسے مطمئن کیا۔
” عنایہ کو اس وقت تمہارے سہارے اور ساتھ کی بہت ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے تم اسے اس فیز سے باہر نکال دو گے۔ تم اس کے محرم ہو اور رشتے کا تقاضا یہی ہے کہ اسکے زخموں کے مرہم بن جاو۔” اذلان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ بڑے وثوق سے بولا۔
” ان شاءاللہ!! اذلان نے اپنے کندھے پر رکھے آہل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
پچھلے تین گھنٹے سے آہل کا دوست حاذق کمال عنایہ کے کمرے کا جانچتی نظروں سے مشاہدہ کر رہا تھا۔ کبھی اندر کی طرف ۔ کبھی باہر, کبھی کھڑکی کی سائیڈ۔ اور اپنے ہاتھ میں موجود پیڈ پر ساتھ ساتھ کچھ نوٹ کرتا رہا۔ اب وہ اہل اذلان اور حدید کیساتھ حدید کے روم میں بیٹھا ان سب کو چیدہ چیدہ نکات بتانے لگا۔
” آپ لوگوں کے مطابق جس وقت روم میں آگ لگی تھی تو وہاں موجود اکیلی گواہ نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ سب سے پہلے کھڑکی پر لگے پردوں نے آگ پکڑ لی تھی۔ اس جگہ کا مکمل معائینہ کرنے کے بعد میں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آگ کسی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں لگی۔ کیونکہ کھڑکی کے آس پاس دور تک بجلی کا کوئی کنکشن موجود نہیں ہے۔۔ اور ناہی بجلی کی کوئی ننگی تار۔ اور کھڑکی کے باہر جلتے چیزوں میں یہ لائٹر کا کچھ جلا ہوا حصہ بطور سراغ ملا مجھے۔” حاذق نے ہالف جلے ہوئے لائٹر کا ٹکڑا آہل کو پکڑوایا۔
“اور سب سے ضروری بات روم میں موجود فرنیچر سے لیکر پردوں اور ضروری سامان تک تمام چیزیں جل کر خاکستر ہوگئی ہے مگر روم کی بجلی کا کنکشن ابھی تک بحال ہے۔ روم میں واحد بچا ہوا بلب ابھی تک روشن ہے۔ تو مطلب صاف ہے کہ آگ کسی نے جان بوجھ کر لگائی تھی۔ اور یہ کام گھر کے مکینوں نے ہی کیا ہے۔ کیوں کہ کھڑکی حویلی کے عقبی حصے میں کھلتی ہے اور وہاں جاتے ہوئے سرونٹس کوارٹر اور انیکسی سے گزرنا پڑتا ہے جہاں درجن بھر ملازمین ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں اور باہر کا کوئی انجان آدمی اتنا رسک نہیں لے سکتا۔” وہ باری باری سب کے چہروں پر طائرانہ نظر ڈال کر بات کر رہا تھا۔
” مجھے یقین تھا دشمن گھرمیں ہی تاک لگائے بیٹھے تھے۔ بس ہماری تھوڑی سے لاپرواہی ان کو شہ دے گئی۔” آہل نے مضطرب ہوکر کنپٹی کی رگیں سہلائی۔ جو کہ پھٹنے کو تیار تھی۔
” آپکا بہت شکریہ!! ہمیں آگے بھی آپکی ضرورت پڑ سکتی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ پوری ایمانداری اور لگن سے ہمارا کیس سولو کریں گے۔” آہل نے خوش دلی سے مصافحہ کیا۔
” اٹس مائی ڈیوٹی!! خاذق نے سینے کر ہاتھ رکھ کر سر کو خم کرکے مسکراہٹ اہل کی طرف اچھال دی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کچھ وقت زر کیساتھ گزارنے کے بعد آہل نے عاتکہ کے روم کی طرف قدم بڑھائے۔ ہلکا سا ناک کرکے وہ اندر داخل ہوا تو اپنی موم کو جائے نماز پر بیٹھے خشوع و خضوع کیساتھ بارگائے الٰہی میں دعا کے لیے جھولی پھیلائے دیکھ کر وہ خاموشی سے ماں کے قریب آیا اور اسکے گود میں سر رکھ کر آنکھیں موندھ لی۔ دعا مانگنے کے بعد عاتکہ نے ہاتھ اسکے وجیہہ چہرے پر پھیر دے اور کشادہ پیشانی پر لب رکھ دئے۔ پھر اس کے دائیں اور بائیں رخسار پر ممتا بھرا لمس چھوڑا۔
” خوشیوں کی مدت اتنی کم ہوتی کیوں ہوتی ہے موم!! ابھی تو میرے بچے نے سانس لینا بھی شروع نہیں کیا تھا۔ میری زر تو ابھی ممتا کے احساس سے پوری طرح سیراب بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسے انوکھی خوشی سے محروم کیا گیا۔ میں اسے دلاسہ دے دے کر خود ٹوٹ کے بکھرا ہوں موم!! آہل نے سختی سے لب بھینچ کر اپنے کرب و اذیت کو باہر نکلنے سے روک دیا۔۔
” اٹھو یہاں سے۔” عاتکہ نے اسکا سر اپنی گود سے اٹھایا۔ اور جائے نماز ایک ہاتھ سے فولڈ کرکے اسے اپنے بیڈ پر لے ایا۔ وہ کسی کٹھ پُتلی کی طرح اپنی موم کے ساتھ حرکت کرتا رہا۔
” کتنے دن سے سوئے نہیں.؟؟ عاتکہ نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اسکے سر کے نیچے تکیہ رکھ کر اسکے ماتھے سے بال ہٹانے لگی۔
” ساری زندگی کبھی سکون کی نیند نہیں سویا۔ پہلے آپکے پاس آنے کے لئے تڑپتا رہا۔ پھر جب بڑا ہوگیا تو اتنی زمہ داریاں چھوٹے کندھوں پر آگئی کہ اسکی تکمیل کے لئے دن رات جاگتا رہا۔” اسکی اداس آنکھوں کی ویرانی دیکھ کر عاتکہ کے دل میں درد کی ٹھیس اٹھی۔۔اور آہل کے سر میں اپنی نرم انگلیاں پھیرنے لگی۔ آہل کے رگ و پے میں سکون سرائیت کرنے لگا۔
” موم زر کو میرے بغیرے نیند نہیں آئے گی۔” مندی مندی آنکھیں کھول کر اس نے اپنی ماں کے شفیق چہرے پر دکھ کی پرچھائیاں واضح دیکھی۔۔
” اسکی فکر تم مت کرو۔” آہل کے آنکھوں پر باری باری لب رکھ کر اسے ہر خوف سے آزاد کرکے اسکے ماتھے پر بنے شکنوں کو انگلی کی مدد سے ہموار کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد روم میں آہل کی بھاری سانسوں کی ردھم گجونجنے لگی۔ تو عاتکہ نے اپنے گود میں رکھے اسکے ہاتھ کو نرمی سے اٹھایا اور اسکی پشت کو نرمی سے چھو کر اسکے سینے پر رکھا۔ اور اسکے پیروں سے جوتے اتار کر تیل سے اسکے تلوؤں کا مساج کرنے لگی۔ کچھ اذیت ناک یادیں ذہن کے پردے پر دستک دینے لگے۔ جب آہل چار سال کا تھا تو پورا دن گھر میں ادھر اُدھر بھاگ کر خود کو ہلکان کرتا تھا۔۔اور جب رات کو سونے کے لئے لیٹ جاتا تو پیروں میں درد کی وجہ سے روتا رہتا تھا۔ تب عاتکہ تیل سے اسکے تلوؤں کی مالش کرتی جس سے اسے بہت آرام ملتا تھا۔ اور پھر ساری رات پرسکون نیند سوتا۔ عاتکہ کی دھڑکنیں سست پڑنے لگی تو جلدی سے وہاں سے اٹھ کر آہل کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی۔ اور اہل کا سر تکیہ سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ کر اس پر اپنا پیار لٹانے لگی۔ مگر ممتا کو قرار نہیں آیا۔ درد تھا کہ بڑھتا چلا جارہا تھا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔ بہت سفر کیا تھا اس کے بچے نے۔ ابھی رونے کی شدت میں اضافہ ہورہا تھا کہ روم کا دروازہ کھلا اور زر چہرے پر دنیا بھر کی تھکان لئے اندر ائی۔
” پھپھو آہل۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ عاتکہ سے آہل کے بارے میں پوچھنے آئی تھی مگر اسے اپنی موم کے بیڈ پر خوش و خرد سے بیگانہ غفلت کی نیند سوتے دیکھ کر اس کے دل میں ٹھنڈک پر گئی۔
” آجاؤ بیٹا۔ عاتکہ نے دوپٹے سے آنسو پونچھ کر زر کو بیڈ کے دوسرے طرف چڑھنے میں مدد کی تو وہ آہل کے بازو پر سر رکھ لیٹ گئی۔ نیند میں ہی کسی کے موجودگی کا احساس ہوا تو اہل نے متاع حیات کی طرح زر کو اپنی باہوں میں بھر لیا۔ عاتکہ نے لائٹ آف کردی اور اہل کے دوسرے طرف ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کھیتوں میں بوائی کا کام شروع ہوچکا تھا تو وہ کچھ دیر یہاں آکر حالات کا جائزہ لیتا۔ ابھی اسے آئے ہوئے بمشکل دس منٹ ہوچکے تھے کہ سلطان میر کی کال نے اسے واپس آنے پر مجبور کردیا۔
” کیا مصیبت آن پڑی ہے جو اتنی ایمرجنسی میں بلایا۔” ایاز میر نے سلطان میر کے زرد بوکھلائے چہرے پر نظر ڈال کر استفسار کیا۔
” یہ کسی نے میرے نام کچھ پیپرز ٹی سی ایس کئے ہیں۔ ” اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ ایاز میر کی طرف بڑھایا۔
” کیا ہے اس میں؟؟ ایاز میر نے سرسری لفافے پر نظر ڈال کر استفہامیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
” ڈی این اے رپورٹ۔!! اور اس کے ساتھ ایک تحریر بھی کہ صدیقہ نے میرے بچے کو جنم دیا تھا۔ اور اب وہ اپنی ماں کے ساتھ کئے گئے ذیادتیوں کا حساب مانگنے آرہا ہے۔” سلطان میر کے خلق میں کانٹے چبھنے لگے۔
” دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔ یہ رپورٹ جعلی بھی ہوسکتا ہے۔ جب صدیقہ کا ریپ ہوا تھا وہ تو اسی وقت مر گئی تھی نا۔ تو بچہ کہاں سے اگیا۔!؟؟ ایاز میر رپورٹ کو پھاڑنے لگا تھا کہ سلطان نے اسکے ہاتھ سے رپورٹ چھین لی۔۔
” وہ زندہ تھی ایک سال تک زیر علاج رہی۔ اور ایک بار پھر میں نے اسے اپنی عتاب کا نشانہ بنایا تھا۔ اور پھر دو تین ماہ میں اس سے دل بہلاتا رہا۔ پھر اچانک وہ راتوں رات کہیں غائب ہوگئی۔ پتہ نہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل لیا ۔۔ مگر وہ زندہ تھی۔” سلطان میر نے کن اکھیوں سے اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر حقیقت بیان کی جس سے ایاز میر کے چہرے کا رنگ پل بھر میں متغیر ہوگیا۔
” یہ سب کچھ تم ابھی مجھے بتا رہے ہو۔” ایاز میر کا شدت سے دل چاہا کہ سامنے بیٹھے اپنے بھائی کی بے وقوفی ہر اسکا سر قلم کر دے ۔
“معذرت بھائی صاحب!! اس وقت مجھے جو مناسب لگا میں نے کردیا۔ اب آپ کچھ کرے۔ وہ انسان گھر تک پہنچ گیا ہے۔ تو مطلب ہمارے برے دن شروع ۔۔۔” سلطان میر کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی۔
” کوئی ہمارا بال تک بھیکا نہیں کر سکتا۔ برسوں پہلے جو ہوا تھا اس کے ثبوت بھی خاک ہوچکیں ہوں گے۔ اگر بچا زندہ بھی ہے تو کیا اکھاڑ لے گا۔ بس کچھ لے دے کے معاملہ رفع دفع کرلیں گے۔” ایاز میر اپنے طاقت و نشے میں مست خود سے حساب کتاب لگانے بیٹھ گیا۔ مگر اوپر بیٹھے قہار اور جبار ذات اس کی رسی کھنچنے والا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°