88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 16
” یہ آہل سمجھتا کیا ہے خود کو. اب میں کوئی غیر تھوڑی ہوں کہ ہمارے ملنے پر پابندیاں لگا رہا ہے۔” عنایہ اس کے لئے چائے لیکر آئی تو اذلان دل کی بھڑاس نکلنے لگا۔
” اذلان پلیز!! آہل کے لئے اپنے من میں کوئی بعض و بیر مت ڈالئے گا۔ آپ جانتے ہیں نا جب میں ہر طرف سے دھتکار دی گئی تب مجھے سمبھالنے والا اہل ہی تھا۔ آپ کو پتہ ہے میں حرم پاپا کو اپنا باپ سمجھتی تھی۔ مگر جب ان کی ڈیتھ ہوگئی تو پاپا کے خاندان کے کچھ عورتیں مجھے کوسنے لگی کہ میں سیاہ بخت ہوں۔ میں کھا گئی اپنے گھر کی خوشیاں۔ اپنے باپ کا اتا پتہ نہیں اور جس نے باپ بن کر پالا پوسا اسکی زندگی ناسور بنا دی۔ تب مجھے حقیقی معنوں میں شاک لگا۔۔جس کو میں اپنا باپ سمجھ کر لاڈ اٹھواتی, وہ رشتہ میرا سگا تھا ہی نہیں۔ تب زندگی میں پہلی بار اتنی روئی تھی کہ دو دن بے ہوش تھی۔۔ جب ہوش میں آگئی تو گوشہ نشین ماں سے ہزار بار پوچھا کہ میرا سگا باپ کون ہے۔ کیوں ان کو چھوڑ کر ماما نے دوسری شادی کی۔ اپنے لئے نا سہی میرے لئے ہی وہ میرے باپ کیساتھ سمجھوتہ کرتی۔ مجھے باپ کے سایے سے تو محروم نا کرتی۔ ہر روز میں ان سے سوال و جواب کرتی مگر ماما نے کبھی مقفل لب نہیں کھولے۔ بس ویران آنکھوں سے مجھے دیکھتی رہتی۔ میرے ہی سوال و جواب سے تنگ آکر وہ یہ دنیا چھوڑ چکی تھی۔ کاش مجھے پہلے یہ علم ہوتا تو میں اپنی ماں کو قصور وار نہیں ٹھہراتی۔ اذلان میری ماما اپنی آخری دنوں میں آہل سے ملتی تھی۔ پتہ نہیں دونوں پھپھو بھانجے میں کیا راز ونیاز ہوتے۔ میں نصیبوں جلی یہ نہیں جانتی تھی کہ آہل کا ماما کی ساتھ یا میرے ساتھ کیا رشتہ ہے۔ وہ یتیم خانے کا اونر بن کر ماما سے ملنے آتا۔ پھر ماما کی ڈیتھ کے وقت وہ یہاں موجود نہیں تھا۔نہیں تھا۔ میں ماما کی زندگی کے آخری شب و روز ان کو اہل کے نام کا گردان کرتے سنا تھا۔ وہ مجھے بھی نصیحت کرتی کہ چاہے حالات جیسے بھی ہو جائے مجھے آہل کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ ورنہ دنیا میں موجود بھیڑیے مجھے نوچ لیں گے۔ اور پھر ایک دن آہل مجھے اپنے ساتھ پیراڈائز لے کر چلا گیا مگر وہاں بھی میری طبیعت بتدریج گرتی چلی گئی۔ تو مجبوراً مجھے گھر لے ایا۔۔ میں نے اندھیری رات کی خاموشیوں میں اسے سسکتے تڑپتے دیکھا ہے۔انہوں نے مجھے دوسری زندگی دی, مجھے سماج میں نام و مقام دیا۔ ایک چھاؤدار شجر کی مانند مجھ پر اپنا سایہ بنائے رکھا ۔ اگر آپکو کبھی آہل کا رویہ گراں گزرے تو پلیز انہیں کچھ مت کہنا بےشک مجھے برا بھلا کہنا۔ میں آپ سے بے انتہا پیار کرنے لگی ہو مگر میری ذندگی میں آہل کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔انفیکٹ آہل کا نعم البدل کوئی ہے بھی ہے۔ اگر وہ نا ہوتے تو ایک اور صدیقہ۔۔۔۔۔” چزن و ملال میں ڈوبی عنایہ نے اپنی ماضی کی کچھ صفحات الٹ دیے تو اذلان نے اسکے منہ پر اپنا مضبوط ہاتھ جمایا۔
” شششش!!! میں چاہ کر بھی اہل سے بدگمان نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ انہوں نے مجھ پر ایک حاص عنایت کی ہے۔ مجھے میری محبت سے ملوایا ہے۔ مجھے زندگی کی حقیقی خوشی سے روشناس کروایا یے۔ محبت کی ہے تو آداب وفا لازم ہے۔ ” اذلان نے اسکے سر پر لب دکھے۔ اپنے مذاق میں کہی گئی بات پر وہ نادم ہوگیا۔ وہ تو بس اہل کے حوالے سے اسے چھیڑ رہا تھا
” آپ واقعی اللہ کی طرف سے میرے لئے ایک تخفہ ہے۔”خالی اذہنی کی کیفیت میں عنایہ اسکے قدموں میں بیٹھ کر اسکے گھٹنوں پر سر ٹکا گئی۔ جذباتی عنایہ پل بھر میں آبدیدہ ہوگئیں آنسو لڑیوں کی صورت میں حوبصورت رخسار کو بھگونے لگے۔
” میں اپنے آج پر تمہارے گزرے ہوئے کل کا سایہ تک پڑنے نہیں دوں گا۔ جتنا ہوسکے اپنے ماضی کے دکھوں اور غموں پر فاتحہ پڑھ کر آنسوؤں کی صورت میں دل سے نکال دو۔ ” اذلان انگلیوں کے پوروں سے اسکے آنسو صاف کرنے لگا اور اسے زمین سے اٹھا کر اپنے برابر صوفے پر بٹھایا۔ اور اسکے ماتھے پر عقیدت بھرا بوسہ دیا۔
” اوہ ایم سوری!! تم لوگوں کو رومانس جھاڑنا ہی تھا تو دروازہ بند کرسکتے ہیں نا۔ اب ہمیں تھوڑی الہام ہوا تھا کہ یہاں میاں بیوی…… حدید بڑی مہارت سے دامن چھڑا کر بول رہا تھا کہ عنایہ پھرتی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
” تم لوگوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ ہمیں سکون کے کچھ پل جینے نہیں دوگے۔ ” اذلان نے کرختگی سے کہہ کر اس کی طرف کشن پھینکا۔
” یار وہ شاپنگ پہ جانا تھا۔ دو دن رہ گئے شادی میں۔ چلو تم۔ غصہ بعد میں نکالنا۔ پھر جب بیوی رخصت ہوکر روم میں سجائے گی تو ساری ارمان نکال دینا۔” حدید اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے آیا جہاں گاڑی میں انیلا بیگم , ثوبیہ بیگم اور اسامہ پہلے سے موجود تھے۔ اور تاریخ میں پہلی دفعہ میر خاندان کی بہویں شاپنگ کے لئے اپنے بچوں کے ہمراہ جارہی تھی۔ جو کہ خوش آئیند قدم تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماضی۔۔۔۔۔۔
” حد ہوگئی نانا سرکار!! کل تو آپ کی وجہ آپکی پوتی کا ڈرائیور بن گیا۔ مگر آج ہرگز نہیں۔ میں اپنا کوئی کام دھندہ نہیں کروں گا بس آپکی پوتی کو پک اینڈ ڈراپ سروس فراہم کروں گا۔” آہل نے برہم ہوکر مزاحمت کی۔
” تو کیا چاہتے ہو برخوردار!! کہ میں خود اس عمر میں گاڑی ڈرائیو کرکے اپنے بچوں کو پک ڈراپ کردیا کروں. جانتے ہو نا مجھے اپنی پوتیوں سے کتنا انس ہے۔ انکے باپ تو کالج اور یونیورسٹی کے حق میں بلکل نہیں تھے۔ مگر میری ضد کے آگے ہار گئے۔۔اب بڑی والی کے پیپرز ہے اور چھوٹی والی کے پریپریشن ہے تو اب اکیلے ڈرائیور کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی بچی کو۔ اب لے دے کے صرف تم پر بھروسہ کرسکتا ہوں” عالم میر نے گویا توضیح پیش کی۔
” بس میں بتا رہا ہوں صرف آج .. پھر میری بلا سے اکیلے جائے یا آپ خود ان کے ڈرائیور بن جائے.” آہل نے فون بند کرکے پی اے کو ہدایات دے کر گاڑی نکالی۔
یونیورسٹی گیٹ پر پہنچ کر وہ زر کا انتظار کرنے لگا۔ آج بہ نسبت دوسرے دنوں کے سورج آگ برسا رہی تھی۔ اے سی کی ٹھنڈک بھی گرمی کی شدت کم کرنے میں ناکام تھی۔ کافی دیر بعد زر کو اپنے محصوص خلیے میں, بڑی سی اسکن کلر کی چادر پہنے دوستوں کے ہجوم میں آتے دیکھا تو ماسک چڑھا لیا۔ زر متلاشی نظریں ادھر ادھر دوڑا کر اپنی گاڑی کو ڈھونڈنے لگی مگر وہاں گاڑی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
” دادا سرکار نے خود بولا تھا کہ وہ مجھے لینے آئیں گے۔ کیسے بھول سکتے ہیں وہ”۔اوپر سے یہ گرمی سکن تک کو پگھلا رہی تھی۔ پھر بے چینی سے کلائی پر بندھی گڑھی ہر نظر ڈالی۔ اپنے گاڑی میں بیٹھے آہل نے بغور اسکی حرکات و سکنات ملاحظہ کئے۔ اچانک گاڑی سٹارٹ کی اور زر کے بلکل پاس جھٹکے سے بریک لگائی تو ٹائر کے چرچرانے سے خوفزدہ ہوکر زر نے زور سے دل پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں موندھی۔ سامنے کا منظر دیکھ کر آہل کی دھڑکنیں دھڑکنے کا ہنر بھول گئی۔اس کے کے دل نے ننھی سی خواہش کی کہ کاش وقت تھم جائے اور یہ منظر نگاہوں سے کبھی فنا نا ہو۔ انتہائی سفید سرخی مائل رنگ چہرہ ,جو اس جھلملاتی دھوپ سے مزید انگارہ ہوگیا تھا۔ اس کے دل کو کافی بھا گیا۔ کچھ پل اس کو محویت سے دیکھنے کے بعد اس نے گاڑی کے ہارن ہر ہاتھ رکھ مقابل کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔ زر جو پہلے اچانک افتاد سے سنبھلی نہیں تھی کان پھاڑ ہارن سن کر کانوں میں اُنگلیاں اڑستے ہوئے آنکھیں کھول دی تو اہل کو گاڑی کے ڈرائیونگ سیٹ پر کروفر سے براجمان دیکھ کر وہ غصے سے تلملائی۔
“آجائیں میڈم۔۔تمہارا نوکر خاص نہیں کہ اس تپتی دھوپ میں خود کا پسینہ بہاؤں۔” لہجے سے نرمی سرے سے مفقود تھی۔
” دادا سرکار کہاں ہے؟؟ اور میں تمہارے ساتھ کیوں آجاؤں۔ بدتمیز!! آخری لفظ زیرلب بڑبڑا کر وہ واپس جانے کے لئے پلٹی کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے وجود کی کنپٹی کی رگوں میں خون کی گردش بڑھنے لگی۔ شدید اشتعال میں وہ سرعت میں ڈرائیونگ سیٹ سے باہر نکلا اور زر کو بازو سے پکڑ کر فرنٹ سیٹ پر زور سے پٹخ کر دروازہ ٹھاہ کے ساتھ بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔
” چٹاخ!!!!
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔۔ میں دادا سرکار کو۔۔۔۔۔” زر فق چہرہ لئے اس کی اس قدر جرات پر ششدر رہ گئی غیر ارادی طور پر ہاتھ اٹھا۔
” شششش!!! پہلی بات تم نہیں آپ!! دوسری بات داداسرکار کو کچھ بھی کہنے کے حماقت کی تو ابھی تو صرف ہاتھ لگایا ہے میں اور بھی بہت کچھ کرسکتا ہوں۔ مگر ‘میر خاندان’ کی کوئی بھی لڑکی اس قابل نہیں کہ آہل یزدان اس کو نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔” قریب جھک کر سرد سپاٹ لہجے میں کہہ کر وہ زر کو سرتاپا جھنجھوڑ گیا۔
” کک کون ہو تم؟؟ اپنی حرکت پر پشیمان وہ گویا ہوئی۔
” تمہارا دردسر نہیں کہ میں کون ہوں۔ پہلے تو ارادہ تھا کہ آئندہ تمہاری شکل نا دیکھو مگر تم نے ابھی جس احمقانہ ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اب تو میں ناچاہ کر بھی بار بار تمہارے سامنے آوں گا۔ او تمہیں مجھے برداشت کرنا ہوگا۔” آہل نے اپنے رخسار کو نرمی سے مسلا جس پر اگر ماسک نا چڑھا ہوتا تو یقیناً گال پر انگلیوں کے نشان واضح دکھتے۔
” آئی ایم سوری !! زر نے بوکھلا کر کہا۔
” تم لوگوں کی جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ایک چھوٹے سے سوری سے مجھے گھنٹہ فرق نہیں پڑےگا۔ اب تو اس میں ایک اور جرم کا اضافہ ہوگیا ہے۔ آہل یزدان کو تھپڑ مارنے کا جرم۔ آہل قرض سود سمیت چکتا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔” آہل نے ایک زہرخند نظر اس پر ڈال کر گاڑی سٹارٹ کردی۔
” کک کونسے جرائم؟؟ میں تو آپکو جانتی بھی نہیں۔ ” آہل کے سفاکیت سے لبریز انداز پر زر کا چہرہ خطرناک حد تک سپید پڑ گیا۔
” جان جاؤگی۔۔ اب تو جاننا ہی پڑےگا۔ کیونکہ میں ایک بار کسی کے دم پر پاؤں رکھ لو آسانی سے اٹھاتا نہیں۔ آج بغیر حق کے ہاتھ لگایا تو تم اتنا پھڑپھڑائی۔ اگلی بار حق کیساتھ ہاتھ لگاؤں گا تو بھی میری ناگوار قربت سے جان چھڑانے کے لئے بن آب مچھلی کی طرح تڑپو گی۔ اور اگر اپنے دادا کو شکایت لگانی بھی ہے تو شوق سے لگاؤ کیونکہ وہ کبھی تمہاری بات کا یقین نہیں کرےگا۔ میرے کردار کی تعمیر انہوں نے پختہ اینٹوں سے کی ہے۔ تم کیا ہزار لوگ بھی میرے کردار پر انگلی اٹھائیں گے تو بھی بےکار۔” آہل کا انداز اب بھی بھسم کردینے والا تھا۔ حویلی سے تھوڑا دور اسکو ڈراپ کرکے وہ وہی چند ساعت رک کر انتظار کرنے لگا۔ جب وہ حویلی کے اندر داخل ہوگئی تو گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” نانا سرکار مجھے آپکی پوتی سے شادی کرنی ہے.” اگلے دن عالم میر کے روبرو کھڑے ہوکر بغیر لگی پٹی کے اپنے دل کی بات بتا دی۔
” کون سی پوتی؟؟ اور تمہیں تو میرے خاندان سے خدا واسطے کا بیر ہے تو اس اچانک تبدیلی کی وجہ جان سکتا ہوں۔” عالم سرکار نے استفہامیہ نگاہوں سے اسے گھورا۔
” زرعونہ… اور خاندان سے بیر تھا مگر اس لڑکی میں کچھ تو خاص ہے جو مجھ جیسے آوارہ سرپھرے بندے کو محبت کی زنجیر میں جھکڑ لیا۔” آہل نے دوبدو جواب دیا۔
” یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسکا باپ کبھی مانے گا نہیں۔ اور میں یہ اچھے سے جانتا ہوں کہ تمہارے اندر برسوں سے نفرت کی جو چنگاری بھڑک رہی ہے تم کبھی بھی ایاز میر کی بیٹی سے رشتہ جوڑنا پسند نہیں کروگے۔ اور میں نہیں چاہوں گا کہ میری بے گناہ بچی کسی قسم کے انتقام کی بھینٹ چڑھے۔ ہمارے خاندان میں لڑکی کی نسبت لڑکے سے ذیادہ محبت کے حقدار مانے جاتے ہیں۔ ان کو ہر قسم کی آزادی سے نوازہ جاتا ہے۔ لڑکیوں کو حقیر سمجھ کر اس کی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے۔ اوران کو بنیادی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔جبکہ لڑکوں کی ہر قسم کی جائز و ناجائز خواہشات کو فرض سمجھ کر پورا کردیا جاتا ہے۔ میں نے خاندان بھر کی مخالفت مول کر اپنی بچیوں کو پڑھایا لکھایا تاکہ کل کو عدالت خدا میں سرخرو ہوکر سر اٹھا کر کھڑا رہ سکوں۔ تم مجھے بہت عزیز ہو مگر زر میرے گھر کی رحمت ہے۔ میں اسے اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور نہیں کرسکتا۔” دادا سرکار کا لہجہ نرم مگر ایک دم سنجیدہ تھا۔
” یہ آپ پر ڈیپنڈ کرتا ہے۔ مجھ سے محبت کا دم بھرتے ہیں تو میری پسندیدگی آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ اگر آپکو اپنی تربیت اور میرے کردار میں کسی قسم کا کھوٹ نظر آرہا ہے تو بےشک آپ انکار کردے۔” آہل نے سارا بوجھ ان کے کندھوں پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دیا۔
” میں زر سے بات کروں گا۔ اگر وہ بذات خود راضی ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس بات کو اپنی آنا کا مسئلہ بنا کر سر پر سوار نہیں کرو گے تم۔ تمہاری پسند اولین ترجیح ہوگی مگر زر کی رضا مندی بھی میری ترجیحات میں شامل ہے۔ کوئی مناسب موقع دیکھ کر اس کی رائے پوچھ لوں گا” دادا سرکار قطعیت سے کہہ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
” تھینکس !! آہل زہرخند انداز میں مسکرایا
” اگر میں اسے آمادہ کرلوں اس رشتے کے لئے تب تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا نا۔” آہل کے الفاظ سے عالم سرکار کے چلتے قدموں کو بریک لگ گئی.
” اگر مجھے یقین ہوا کہ تم نے اسے ڈرا دھمکا کر زبردستی نہیں بلکہ محبت کے احساس کے تحت منا لیا ہے تو ضرور….” عالم میر کے تیز تند نظروں کا ارتکاز خود پر محسوس کرکے وہ مسکرایا۔
” مجھے اب بھی تمہارے ہر عمل سے انتقام کی بو آرہی ہے۔ مگر اپنی تربیت میری منفی سوچوں کے لگامیں کھینچ رہا ہے۔” عالم میر سرکار نے اسکے دل ہر گویا گہرا وار کیا کہ ایک پل کے لئے اہل ان کے موقف پر گڑبڑایا پھر سے خود کو کمپوز کرکے ان کے لئے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
” اب تو تمہیں اپنی محبت کا یقین دلانا پڑے گا بے بی” آہل دل ہی دل میں زر سے مخاطب ہوا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“کس سے پوچھ کر تم لوگ شاپنگ کرنے گئے تھے۔ یہ خوش فہمی کیونکر ہونے لگی کہ میں تم لوگوں کو شادی میں شرکت کرنے کی اجازت دوں گا۔” وہ لوگ شاپنگ کرکے جیسے ہی گھر پہنچے ایاز میر اور سلطان میر غصے سے پھٹ پڑے
” میری ماں کو میری شادی میں شرکت کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا ۔ آپ بھی نہیں۔ تو بے وجہ غصہ کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔” اذلان ہاتھ میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگ پکڑ کر ہال میں داخل ہوا تو اپنے باپ اور چچا کو دیکھا جس کا غصہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔
” میرے خلاف جانے کی جرات کی تو اسے میں اپنی زندگی اور اس حویلی دونوں سے بے دخل کردوں گا۔” ایاز میر دہشت زدہ انداز میں چلایا
” شوق سے کردے۔ کم از کم انہیں ایک اذیت
بھری قید سے نجات تو مل جائے گی۔ ” اذلان کی بات پر ثوبیہ بیگم نے ٹھٹھک کر بیٹے کو دیکھا۔
” چچا سرکار !! آپ کے کیا ارادے ہیں۔ آپ بھی چچی بیگم کو اپنی لائف سے نکال رہے ہیں نا۔ میں ابھی اپنے وکیل کو فون کرتا ہوں۔ جتنی جلدی ہوسکے یہ معاملہ خیر و عافیت سے حل ہو جائے کیونکہ مجھے اپنی شادی میں کوئی بدمزگی نہیں چاہئے۔ کیوں حدید؟؟ اذلان نے لگے ہاتھوں حدید کو بھی میدان میں اتارا۔
” جی نیکی اور پوچھ ہوچھ۔” حدید نے تائید کی۔ جبکہ سلطان میر نے خونخوار نظروں سے انیلا بیگم کو دیکھا اور زندگی میں پہلی بار انیلا بیگم نے سر جھکانے کے بجائے اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ دی۔
” تم دونوں اس کمینے بدذات آہل کے شہہ پر اتنا اترا رہے ہو۔ یہ الٹی سیدھی پٹیاں وہ پڑھا رہا ہے نا تمہیں۔ تو میں بتاتا چلوں کہ بہت پچھتاؤں گے تم لوگ۔” بازی سلطان میر کے ہاتھ سے سمندر کی ریت کی طرح سرک رہی تھی تو مارے اشتعال کے چیخ پڑا۔
“مجھے ایک بات کی بلکل سمجھ نہیں آرہی۔ بات بات میں یہاں کے لوگ آہل کو بیچ میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔ کرو تم لوگ اور الزام آہل کے سر۔ یہ کونسا لاجک ہے۔” عنایہ نے مداخلت کی۔
اے لڑکی…!! ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوئہ ضرورت نہیں ۔” ایاز میر کو اسکی بے جا مداخلت ایک آنکھ نا بھائی۔
” چلو عنایہ اپنے روم میں.” عاتکہ نے عنایہ کو مزید پیسنے سے بچایا۔ جبکہ اذلان اور حدید اپنے ماؤں کو لیکر چلے گئے۔ باقی رہ گئے دونوں بھائی کیونکہ امان میر بھی آج کل زیادہ تر ڈیوٹی پر ہوتا۔ گھر کے کشیدہ حالات میں واحد سکون آج کل ہسپتال نظر آرہا تھا۔
” بھائی صاحب!! ہم ایسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔ حالات دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں۔ پہلے بچے ,اب تو خواتین بھی آہل کے ساتھ مل گئے ہیں۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ سب کچھ ختم ہونے جا رہا ہے۔ مجھے ایک ان نان نمبر سے مسلسل کوئی میسیجز کرکے تنگ کر رہا ہے۔ جس کو میرے پاسٹ کے بارے میں سب کچھ اے ٹو زیڈ معلوم ہے۔ اور یہ کون کروا رہا ہے میں پتہ کروانے میں مسلسل ناکام ہو رہا ہوں۔ ” سلطان میر اضطرابی کیفیت میں کنپٹی کو سہلانے لگا۔
” کسی مائی کے لال میں اتنی ہمت نہیں کہ میر سنز پر ہاتھ ڈالے۔ تم ان چیزوں کو خود پر سوار مت کرو۔ جو پلان کیا ہے اس پر عمل درآمد شروع کرو۔ ان لوگوں کی خوشیوں بھری زندگی کو آگ نا لگا دی تو میرا نام بھی ایاز میر نہیں۔” ایاز میر کے آنکھوں میں عجیب سی شیطانی چمک تھی۔
” جی بھائی صاحب !! ان لوگوں کو برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا پائے گا۔۔ سب کچھ نیست ونابود کرودں گا۔ یہ کل کے چوکرے ہمیں تیور دکھا رہے ہیں۔” سلطان میر جیب سے موبائل نکال کر کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آپ آج پھر اگیے۔کیوں پیچھے پڑ گئے۔” آج پھر سے آہل کو گاڑی میں یونیورسٹی کے سامنے کھڑا دیکھ کر زر کے اوسان حقیقی معنوں میں خطا ہوگئے۔
” کیوں تمہیں کسی اور کے آنے کا انتظار تھا۔” آہل نے توقف لئے بغیر سیدھا طنز کیا۔
” ہاں!! اپنے دادا کا ویٹ کر رہی تھی میں۔” زر ناگواری کے تاثرات چہرے پر سجا کر بولی
” تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔ بیٹھ جاؤ۔” آہل نے فرنٹ ڈور کھول کر قدرے تحمل سے کہا۔ تو زر ناچاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی۔ کیونکہ سب کی نظریں دونوں پر ٹکی ہوئی تھی۔
“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
” کیوں؟؟ میں کیوں؟؟ میر خاندان کی لڑکیاں تو اس لائق نہیں کہ انہیں پسند کیا جائے نا۔” زر نے استہزائیہ انداز میں کہا۔
” میں اس وقت غصے میں تھا۔ ان سب باتوں کو اگنور کرو۔ میں واقعی تمہیں پسند کرنے لگا ہوں۔ عشق و محبت کے لفاظی اظہار سے میں قطعی نابلد ہوں۔” آہل نے دوٹوک بات کی۔
” اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ سب آپ دل سے مجبور ہوکر کر رہے ہیں۔ میرے بدتمیزی سے مارے گئے تھپڑ کا ردعمل نہیں۔” زر نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ یہ آنکھیں واقعی ساخر تھی۔ کسی کو بھی تسخیر کرنے کا ہنر رکھتی۔ بلاشبہ وہ دنیا کا حسین مرد ہوگا۔
” کیسی گارنٹی چاہئے تمہیں؟؟ آہل نے خود پر ٹکے اس کے نگاہوں کو اچھے سے محسوس کیا تو لبوں کے کنارے مسکراہٹ پھیلنے لگی۔
” میں سوچ کر بتا دوں گی.” زر نے ایک ادا سے کہہ کر رخ موڑ دیا اور شیشے کے باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہونے لگی۔
” آئیس کریم کھاوگی؟؟ اچانک غیر متوقع پیشکش پر وہ جز بز ہوتی پھر سے آہل کی طرف دیکھنے لگی لیکن چہرے پر ماسک ہونے کیوجہ سے وہ مقابل کے تاثرات پڑھنے سے قاصر تھی۔
” نہیں!! یک لفظی انکار کیا گیا۔
” اوکے !! آہل نے بمشکل اپنے قہقہے کا گلہ گھونٹا
“کسی نے تمہیں بتایا نہیں کہ تم کتنی حسین ہو۔” آہل نے اسکے ناک میں پہنے نتھ کو والہانہ انداز میں دیکھا۔
” ہر کوئی آپکی طرح بےباک تھوڑی ہوتا ہے۔ ” اس کی بات پر زر کو پتنگیں لگ گئی۔
” کسی کی خوبصورتی کو سراہنا کہاں بے باکی کے زمرے میں آتا ہے۔ تمہاری یہ قاتل نگاہیں, یہ پھولے گال ,یہ گلاب کے پتوں سے نازک پنکھڑیوں جیسے لب…..” آہل اسے زچ کرنے لگا اور وہ ہورہی تھی۔ اس وقت آہل ہر بدلہ ہر انتقام پشت ڈال کر واقعی اس کے سحر میں جھکڑا جارہا تھا۔ شدت سے من کیا کہ ان لبوں کو چھو کر اسکی نرماہٹ محسوس کرے مگر پھر اپنے سوچوں پر لعنت بھیج کر خود کو اس کی قید سے آزاد کروایا
” توبہ میرے اللّٰہ!! کتنے ڈھیٹ انسان ہیں آپ۔ میرے ساتھ ایسے بےہودہ باتیں نا کیا کرے۔” زر اسکی بےباک تبصرے پر کان کی لو تک سرخ ہوگئی۔۔
” ہاہاہاہاہاہاہا…! آہل نے بے ساختہ قہقہ لگایا۔
” اب تو تمہیں میری لائف میں آنا ہی پڑے گا ڈئیر ۔!! کیونکہ یہ باورہ دل پہلی بار کسی کی طرف مائل ہوگیا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°