Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 12
“زر بیٹا!! میں اب ٹھیک ہوں۔ تم جاؤ اپنے روم میں اپنے شوہر کو دیکھ اؤ۔ کچھ کھایا بھی نہیں میرے بچے نے. عجیب ہٹ دھرمی ہے۔ بندہ ڈپریشن میں بھلا کھانے سے کیوں اختجاج کرتا ہے۔ اسے بتاؤ بھوکے پیٹ دماغ کی بتی نہیں چلتی. برسوں سے سینے میں جلتے انتقام کی آگ کو ہوا دی ہے تو اب اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مناسب ڈائیٹ لو. مجھے تو اس کی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے۔ ” رات کے کھانے کے بعد زر نے عاتکہ کو میڈیسن دی اور اس کے ساتھ ہی لیٹنے لگی کہ عاتکہ نے منع کردیا۔
” پھپھو میں خود عجیب توہمات کا شکار ہوں۔ انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ہم پھر سے اپنوں سے بچھڑ نا جائے۔ دوسرا آہل جنم نہیں لینا چاہئے۔ ” زر تو سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی۔ عاتکہ کو میڈیسن دے کر وہ کچن میں آئی اور آہل کے لئے دودھ گرم کرکے لے گئی تو اسے صوفے کی پشت سے سر ٹکائے کال پر کسی سے محو گفتگو پایا۔ صوفے کی بیک سائیڈ پر آکر اس نے آہل کے کندھوں پر بازوؤں ٹکا کر سامنے کیمرے پر نظر ڈالی تو مہد کو دیکھ کر سلام کیا۔
” اسلام وعلیکم مہد بھائی!! کیسے ہیں آپ؟؟
” وعلیکم السلام!! آئی ایم گڈ.. تم کیسی ہوں” مہد نے خوش اخلاقی سے جواب دیا ۔
” میں بھی اچھی ہوں۔۔
” جلدی فنش کریں .” عنایہ نے ہاتھ میں پکڑا گلاس اہل کے منہ سے لگایا۔ تو اس کے چہرے کے زاویے بگڑے۔ جبکہ زر اسے آنکھوں سے تنبیہ کرنے لگی۔
۔
” ہاہاہاہاہاہا… زر یہ کیا کر رہی ہو؟؟ اس کو کھانا کھلا دو یار ۔ جتنی ہیلتھدی اس کی جسامت ہے تو دودھ سے اسے تھوڑا فرق بھی نہیں پڑنے والا۔” مہد نے امڈنے والا قہقہ دبایا۔
” بھائی !! آپکے دوست اب خود باپ بننے جا رہے ہیں مگر ان کی عادتیں دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ ان کی شادی کی عمر نہیں تھی کھیلنے کھودنے کی تھی. ” زر نے پھر سے گلاس اس کے لبوں سے لگایا تو وہ ایک سانس میں پی گیا۔
” ڈفر !! تو باپ بننے جارہا ہے اور مجھے بتانے کی زحمت نہیں کی.” مہد بپھر گیا۔
” کیا یار !! اتنا الجھا ہوا ہوں یاد ہی نہیں رہا۔” آہل نے ٹشو کے لئے ہاتھ بڑھایا کہ زر نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے اس کے لبوں کے کنارے صاف کئے۔۔
” جانتی ہو نا تم مجھے دودھ نہیں پسند. مگر تم پھر بھی اپنی ضد منوا لیتی ہو۔ اور یہ کونسا وقت ہے روم میں آنے کا۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا مسز ۔ ابھی میں خود آنے والا تھا تمہاری کلاس لینے”۔ الوداعی کلمات کہہ کر آہل نے فون بند کرکے گلاس ٹیبل پر رکھ کر کہا۔
” میں آرہی تھی. پھپھو کو میڈیسن دے رہی تھی۔” عنایہ نے لیٹ آنے کی وجہ بتا دی۔
” سو گئی موم؟؟ آہل نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔
“ہاں!! آپکو لے کر کافی وریڈ ہے.” آہل کی گود سے لیپ ٹاپ اٹھا کر خود وہاں بیٹھ گئی۔
” ہمممممم..!!! ہونا بھی چاہیے۔ یہ بتاؤ تمہاری طبیعت ٹھیک تو ہے نا۔ میرا بچہ تنگ ونگ تو نہیں کرتا.” اس کے کندھے پر ہونٹ رکھ کر استفسار کیا۔
” بچے کا باپ کوئی کسر چھوڑے تو بچہ تنگ کرے گا۔ آپ نے تو قسم کھائی ہے ہمارا سکھ چین برباد کرنے کی. پتہ نہیں کیا کرنے والے ہیں آپ۔ میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے۔ نفسیاتی ہوگئے ہیں. کبھی کبھی مجھے بھی آپ سے ڈر لگنے لگتا ہے۔” زر اس کے گردن میں منہ چھپا کر ناراضگی کا برملا اظہار کرگئی۔
” لوگ نفسیاتی اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ انہیں اتنی شدت سے توڑا جاتا ہے کہ وہ جذبات کھو دیتے ہیں۔ مگر ڈونٹ وری۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ نا اپنے بچے کو۔” آہل اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔
” آہل مجھے ہر لمحہ آپ اپنے سامنے چاہئے۔ جس طرح آپ کا بچپن محرومیوں میں گزر گیا۔ میں نہیں چاہتی میرا بچہ بھی آپ کی طرح سفر کرے۔ پلیز چھوڑ دے اپنی ضد.” زر اس کے چہرے کو ہاتھ کے پیالے میں لیکر آبدیدہ ہوگئی۔
” یار تم بیویاں نا کبھی کبھی ایموشنل ہوجاتی ہو۔ میں ایک بار کسی چیز کی ٹھان لوں۔ تو نتائج پر دھیان نہیں دیتا۔ مجھے انصاف دلانا ہے۔ اپنی موم کو,اپنی پھپھو کو, عنایہ کو۔ جتنا خسارا ان لوگوں کے حصے میں ایا ہے اس کی تلافی تو ممکن نہیں مگر یہاں تک آکر قدم ڈگمگائے تو کچھ نہیں کر پاؤں گا۔۔ ہمت نہیں ہارنی۔۔ تمہیں میرا ساتھ دینا ہے۔ آہل کا طاقت ہو تم۔” آہل نے اسکے ماتھے پر لب رکھ کر خود سے لگایا۔۔
” مگر میرا بچہ ؟؟ زر نے میکانکی انداز میں پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
” بچے کو کچھ نہیں ہوگا۔ میں ہونے ہی نہیں دوں گا۔ بھروسہ ہے نا تمہیں اپنے بچے کے باپ پر.” آہل نے اسکے پیٹ کے اوپر رکھے ہاتھ پر بوسہ دیا۔
“ویسے میں نے تو دھیان ہی نہیں دیا۔ تم پہلے سے زیادہ حسین ہوتی جارہی ہو۔ یہ میری قربت کا اثر ہے نا جو دن بہ دن کھلتی جارہی ہو” آہل نے اسکے رخسار پر انگوٹھا پھیرا تو وہ لال گلابی یوگئی۔
” مکھن نا لگائیں. اور بتائے مجھے کونسے معرکے سر کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں آپ کہ اردگرد کا ہوش ہی نہیں۔” زر اسکے ہاتھوں کی گستاخیوں سے بچنے کی کوششوں میں تھی۔
” فی الحال تو ہزبنڈ ہونے کا بھرپور فائیدہ اٹھانے والا ہوں۔ کیوں کہ میری بیوی بہت کم میسر آتی ہے۔۔ تو گزرے شب وروز کا حساب چکتا کرنا ہے. اتنا ہینڈسم ہزبنڈ ملا ہے تمہیں۔ تمہیں چاہئے خود پاس آکر ڈھیر سارا پیار وصولو. ہماری چارمنگ سے تو لڑکیاں کافی مرغوب نظر آتی ہے۔ بیوی کو قدر ہی نہیں” آہل کی رینگتی انگلیاں اپنے کمر پر محسوس کرکے زر کا سانس خلق میں اٹک گیا۔ تو اکتاہٹ اور بے چینی سے مزاحمت کرتے پہلو بدلا۔
” اپنی مزاحمت ترک کردے مسز۔ میں نے دو سال کافی شرافت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب مزید میں اپنی من مانیوں پر اتر آیا تو کل خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہو گی۔” آہل کی ذو معنویت پر وہ شرم و غصے کی کیفیت سے دوچار ہوگئی۔
” آپ مجھے سچ سچ بتائے۔ کیا واقعی اپنے نفس کی تسکین کے لئے بیوی بنایا ہے مجھے یا پھر واقعی میں آپکی من چاہی بیوی ہی ہوں۔” بالآخر اپنے گریز اور بدگمانی کی وجہ زبان پر آہی گئی۔ جو کب سے سوہا کی باتوں کے زیر اثر اس سے نالاں تھی۔ فطری حیا و شرمندگی سے دوچار آنکھیں جھک گئی۔
” کس نے پہنائی تمہیں یہ بدگمانیوں کی چادر۔ یہ تمہارے پیٹ میں پلنے والا وجود بھی تمہیں یہ باور کروانے میں ناکام رہا ہے کہ تم آہل یزدان کی چاہت بن چکی ہو۔ میرے خاندان کی نسل کو آگے بڑھانے والی ہو تم ۔” بھاری لہجہ میں کہتے ہوئے اس کے سرکتے لب گردن پر گردش کرنے لگیں تو زر کو اپنا دل کنپٹیوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہونے لگا تو بے ساختہ نگاہیں چراگئی۔ جبکہ آہل نے اسے باہوں میں بھر کر بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر بلینکٹ سیٹ کرکے سیدھا ہوا۔
” آئیندہ اس طرح کی فضول گوئی سے گریز کرو. ورنہ مجھے محبوب سے شوہر بننے میں سیکینڈ بھی نہیں لگے گا۔” سپاٹ لہجے میں کہہ کر اس کے رخسار پر شدت بھرا لمس چھوڑ کر وہ دور ہٹا کہ زر نے جلدی سے اس کی کلائی پکڑ لی۔
” کہاں جا رہے ہیں اپ؟؟
” ایک اہم پروجیکٹ پر کام کرنا ہے اس کی فائل تیار کرنی ہے. تم آرام کرو.” آہل نے اس کے ہاتھ کی پشت کو انگوٹھے سے سہلایا۔
” کام بعد میں بھی ہوسکتا ہے۔” اس کی آنکھوں کے بھیگے گوشے دیکھ کر وہ کام کرنے کا ارادہ ملتوی کرکے بیڈ کے دوسری طرف آیا اور اسے باہوں میں بھر کر لیٹ گیا۔
“پتہ ہے سحر اس دن پھپھو کو دیکھ کر حیرتوں کی زد میں تھی۔ اور پھپھو کے ڈمپل کو دیکھ کر بھی کافی متخیر تھی۔ کہ اس کے بھیا کا بھی اسطرح بنتا ہے۔ اس معصوم کو نہیں پتہ کہ یہ جان لیوا ڈمپل آپ نے پھپھو سے چرایا ہے” زر نے اہل کے ڈمپل کو ہلکا سا چھو لیا۔ جبکہ آہل بغیر کسی ردعمل کے آنکھیں بند کئے لیٹا رہا.
” آہل !! اس کےوجود میں کوئی جنبش نا پا کر وہ دوبارہ گویا ہوئی۔
“ہممممم !! آہل نے خمار آلودہ نظریں واہ کئے۔
” ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لیا ہے. کل دو پہر دو بجے تیار رہنا۔ ایک بار چیک اپ کروا لیں گے تو تسلی ہو جائے گی۔” آہل نے کہہ کر نکھیں دوبارہ موندھی۔
” جی!! اور آہل کے شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتے ہوئے ایک ایک کھولنے لگی کہ آہل کے خوبصورت لب متبسم ہوئے۔
” کیا کر رہی ہو؟؟ استغفرُللہ !! شوہر کے سونے کا فایدہ اٹھا کر اسکی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرنےلگی ہو۔ میں تو تمہیں شریف اور معصوم سمجھ رہا تھا۔” سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اسنے اسکے چلتے ہاتھوں کو گرفت میں لیا۔ تو وہ حیرت و بے یقینی سے پھیلی متحیر آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
” آہل وہ مم۔ میں۔۔ “
” ہاہاہاہاہاہاہاہا .!!! اسکے ہونق بنے تاثرات کو دیکھ کر وہ کھل کے ہنسا۔
” جان نکال دی میری..” اسکے سینے پر زور سے مکے مار کر وہ چیخی۔
” صاف صاف بولنے میں کیا حرج تھا مسز ” معنی خیزی سے کہتا ہوا آہل نے اسکا سر تکیہ پر منتقل کیا۔
” کک۔کیا ؟؟؟ اسے اپنے اوپر حاوی دیکھ کر وہ بوکھلائی۔
” کہ ڈئیر ہسبنڈ!! مجھے اپنی قربت کے کچھ حسین پل سونپ دو. ” لائٹ آف کرکے اس کے چہرے پر جھک کر اس کے پور پور کو اپنے لمس سے مہکاتے ہوئے اپنی آغوش میں سمٹ لیا اور بے خودی کے برسات میں اسے اپنے ساتھ بھیگتا چلا گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” اسلام وعلیکم اینڈ صبح بخیر پھپھو !! کیسی طبیعت ہے اب اپکی؟؟ اذلان اور حدید صبح ہی عاتکہ کے روم میں اس کی طبیعت پوچھنے خاضر تھے۔ عاتکہ نے دونوں کو پیار سے گلے لگایا ۔
” وعلیکم السلام!! الحمدللہ اب ٹھیک ہوں۔ خوش رہو” عاتکہ دونوں کی بلائے لینے لگی۔
” کوئی کام تھا کیا؟؟ دونوں کو اشاروں کنایوں میں ایک دوسرے سے ہم کلام دیکھ کر عاتکہ نے پوچھا۔
” جی پھپھو!! حدید نے تائید کی۔
” یہی پوچھنا ہے کہ آہل کون ہے نا؟؟ عاتکہ جانتی تھی وہ خود سے سوال پوچھنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
” ہاں !! ہم سب آپ پر جان چھڑکتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے ماں سماں ہے۔ مگر آہل کی بے قراری اور اسکا پاگل پن ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔” اذلان احتیاط سے الفاظ کا چناؤ کر رہا تھا ۔ مبادہ کہیں عاتکہ کی عزت نفس مجروح نا ہو۔
” گڈ مارننگ موم !! ٹھاہ کیساتھ روم کا دروازہ کھلا اور خوشبو میں رچا بسا بلیک پینٹ پر وائیٹ شرٹ کے اوپر بلیک کوٹ پہنے اپنی شاندار پرسنالٹی لئے بالوں کو جل س سیٹ کیا ہوا, آہل نے روم میں قدم رکھا۔ جس کے پہلو میں فریش سی کھلتی گلاب کی مانند زر کو استحقاق کیساتھ کھڑے دیکھ کر عاتکہ نے دل میں دونوں کی دائمی خوشیوں کی دعا مانگی۔ جس کے چہرے پر گزری رات کی محبتوں کی داستان رقم تھی۔
” گڈ مارننگ!! اٹھ گیا میرا بچا!! عاتکہ نے دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری ۔
” جی!! اب آپکی طبیعت بہتر ہے؟؟ عاتکہ کے قریب آکر اس کے سر پر بوسہ دیکر وہ اذلان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔
” آپ کو دیکھ لیا تو اب بھلی چنگی ہوگئی.” عاتکہ نثار ہوتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” تم دونوں کی صبح صبح یہاں نازل ہونے کی وجہ جان سکتا ہوں ؟؟ مخصوص اکھڑ انداز میں کہہ کر آہل کی بھنویں اپر کو شوٹ ہوئی۔
” وہ ہمممم۔ ” حدید اور اذلان ان کی اچانک آمد سے بوکھلا گئے۔
” میری خبر گیری کرنےآئے تھے۔” عاتکہ نے پیار سے حدید کے کندھے پر ہاتھ پھیرا ۔ تو آہل نے کندھے اچکائے ۔
” میں آفس جارہا ہوں۔ ایک کلائنٹ کیساتھ میٹنگ ہے۔ زر یہی ہوگی آپکے پاس. آج آپ مکمل بیڈ ریسٹ کرے گی۔ خود کو ہلکان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کچھ بھی چاہئے ہو تو زر کو بتا دینا۔ ” آہل نے گھڑی پر ایک سرسری نظر ڈال کر اسے ہدایات دی اور پھر سے عاتکہ کے ماتھے پر لب رکھ کر زر کے قریب آگیا۔
” موم کا خیال رکھنا اور اپنا بھی۔ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔” اسے خود سے لگا کر کنپٹی پر لب رکھ کے نکلنے لگا کہ اندر داخل ہوتی عنایہ کو دیکھ کر قدم روک لئے۔
آہل!! میرا ایڈمشن کب کروانا ہے۔ کل لاسٹ دیٹ ہے.” عنایہ نے فارم اس کو ہاتھ میں دیا۔ تو وہ کھوجتی نگاہوں سے عنایہ کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ جو کترائی سی کھڑی تھی۔
” اذلان!! ایڈمشن کروادگے نا تم!! اس نے بلا توقف فارم اذلان کی طرف بڑھایا جو اس نے سرعت سے تھام لیا۔
” عنایہ کا ہاتھ میں نے پوری دلی آمادگی سے تھاما ہے۔ کوشش کروں گا کہ اس کی معیار پر پورا اتروں.” اذلان نے عنایہ کے خوبصورت بیزار اور قدرے اکتاہٹ سے لبریز چہرے کو دیکھا تو سنجیدہ سرد آواز میں بولا۔
” گڈ!! آہل اس کی اچھائی کا قائل ہوگیا تھا ۔وہ واقعی اسکے ماں کی پرچھائی تھا۔ عنایہ کو خود سے لگاکر روم سے نکل گیا۔
” آپ کو دیکھنے آئی تھی صبح ,مگر آپ سورہی تھی اس لئے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔” عاتکہ کو دیکھ کر وہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں الجھائے مخاطب ہوئی۔
” تم آج سے رخصتی ہونے تک میرے ساتھ میرے روم میں سووگی۔” عاتکہ نے کھلے دل سے آفر کی۔
“مم۔میں؟؟ زر کی آنکھیں بے یقینی سے پھیلی۔۔ جبکہ اذلان اس کے للجائے اور تھوڑے شرمائے روپ پر فدائیہ نظریں جمائے ہوئے تھا۔
” ہاں!! تاکہ کوئی سرپھرا تمہیں تنگ نا کرے.” عاتکہ نے شوخ نظر پاس بیٹے اذلان پر ڈالی۔
” پھپھو ناٹ فئیر یار!! آپکو چاہئے تھا کہ اسے میرے روم میں شفٹ کردیتے تاکہ مجھے بھی شادی شدہ والی فیلنگز آتی نا۔۔ آپ اس پر پہرے بھٹارہی ہے۔” اذلان اچھا خاصا بدمزہ ہوگیا جبکہ اس کی اس طرح بےباکی پر عنایہ کی ہتھیلیاں پسینے سے نم ہوگئی۔ کل کی اسکی گستاخیاں یاد کرکے وہ کان کی لو تک سرخ ہوگئی۔ اور اسکے چہرے کے یہ دلکش رنگ اذلان نے غور سے دیکھے۔
” چل بدتمیز!! میری بیٹی کو تنگ گیا نا تو کان کھینچ لینے ہیں میں نے۔” عاتکہ نے اسے دھموکا جڑا۔
“مجھے بھی جانا ہے یونیورسٹی۔ آپ چھوڑ دیں گے۔” عنایہ نے دھڑکتے دل کیساتھ ہوچھا۔
” آج تو ہم بزی ہیں۔ کہیں جانا ہے. کل ان شاءاللہ لے کر چلا جاوں گا اور ساتھ میں یڈمشن بھی کروادوں گا۔” اسے کے چہرے پر فوکس کرتے ہوئے نظرے اسکی صاف شفاف گردن پر ٹہر گئی تو کل کی اپنی منہ زور گستاخیاں یاد کرکے اسکا دل زوروں سے دھڑکا۔
” بچی کو تاڑنا بند کرودو.” اسکی بے خود نگاہیں زر پر مرکوز دیکھ کر حدید نے ٹوکا۔جبکہ خود پر اذلان کی بےباک نظریں گاڑھے دیکھ کر عنایہ نے رخ موڑا اور بھاگ گئی۔
” پھپھو!! ہمیں دیر ہورہی ہے۔ آپ کیساتھ کافی کچھ ڈسکس کرنا ہے۔” حدید اور اذلان بھی ساتھ میں آٹھ گئے۔
” ہاں مجھے بھی تم لوگوں کو کچھ بتانا ہے بیٹا۔ اپنے بیتے کل کے بارے میں۔جنہیں لیکر تم لوگ کافی متجسس ہو۔” عاتکہ کو دونوں پر یقین تھا کہ اسکا ساتھ دے گی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“حدید!! میں ایک منٹ میں عنایہ سے ملکر آتا ہوں۔ تم گاڑی نکالو۔” اذلان نے کان کجھاتے ہوئے نظریں چرائی۔
” صرف پانچ منٹ!! ہم الریڈی لیٹ ہے۔” حدید کی بات ختم بھی نہیں ہوئی کہ وہ لمبے ڈگ بھرتا عنایہ کے روم میں داخل ہوا ۔اچانک روم کا دروازہ کھلنے پر عنایہ جو بالوں میں برش کر رہی تھی کہ ہاتھ سے برش چھوٹ گیا۔۔
” یہ کیا آپ ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں۔ جان نکال دی۔” اچانک افتاد پر عنایہ بوکھلائی۔ جھک کر برش اٹھانا چاہا کہ اذلان نے اسکی کلائی پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنی سمت کھینچا جو کٹی پتنگ کیطرح اس کے سینے سے لگی۔
” تم سے ملنے کے لئے اتاؤلہ ہورہا تھا یہ بندہ ناچیز” عنایہ کے کھلے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس نے گھمبیر سرگوشی کی تو عنایہ کا وجود سنسنایا۔جبکہ اذلان اس کے چہرے پر جھک کر اپنی من مانیوں پر اتر آیا۔
اسکی شدت آمیز لمس سے عنایہ کے قدم لڑکھڑائے ۔ جبکہ اذلان کی طلب بڑھنے لگی.
” اگر مجھے امپورٹنٹ کام کے لیے جانا نہیں ہوتا تو میں آج تمہیں بتا دیتا کہ جب تم پاس ہوتی ہو تو میں بے خودی کے سمندر میں غوطہ زن ہونے لگتا ہوں۔” عنایہ کے گھنیر پلکوں پر اپنے لب رکھ کر وہ دور ہوا۔
” بد تمیز!! عنایہ دھک دھک کرتے دل پر ہاتھ رکھ کر چھینپ کر چہرہ جھکا گئی۔
” بدتمیزی کیا ہوتی ہے وہ بعد میں بتا دون گا۔ اب چلتا ہوں۔۔” عنایہ کو سینے سے لگاتے وہ دور ہوا۔ اگر تھوڑی دیر اور رک جاتا تو قدم زنجیر پا ہوجاتے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آپ روئی ہو ؟؟ کسی نے کچھ کہا آپ سے؟؟ عنایہ جو عاتکہ کے اصرار پر کچن میں چلی آئی تھی کہ تیاری میں اپنی ساس کا ہاتھ بٹھائے خالانکہ وہ صاف بتا چکی تھی کہ اسے کچن کا کوئی کام نہیں آتا۔ مگر وہاں ساس کی جگہ انیلا بیگم کے سوجے گال اور سوجھی آنکھیں دیکھ کر ڈھیر سارا ملال نے آگھیرا ۔
” نن۔نہیں!! بس طبیعت ٹھیک نہیں.” انیلا بیگم نے بدقت آنکھیں چرائی اور عجلت میں ہاتھ چلانے لگی۔
” آپ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے نا؟؟ اور یہ آپکی گردن پر زخم کا نشان کیسا ہے؟؟ عنایہ کو اسکا انداز کھٹکا جب کہ اسکی گردن پر بنے نشان کو دیکھ کر اسکے چہرے پر تفکر کے سائے لہرائے ۔
” کک۔کچھ نہیں ہوا۔تمہیں کچھ چاہئے۔” انیلا بیگم کے سر میں درد کی ٹھیس اٹھی۔
” آپ نے بھی ابھی تک مجھے اپنی بہو تسلیم نہیں کیا نا۔ اسلئے مجھے دھتکار رہی ہے ۔” عنایہ اسکے ردعمل پر کافی خیران تھی۔۔
” تم میرے اذلان کی بیوی ہو. مجھے اپنے بچوں سے بہت پیار ہے۔ اور اس حوالے سے تم میرے لئے بہت خاص ہو۔” انیلا بیگم کو عنایہ سے ایسے الفاظ کی توقع نہیں تھی۔
” تو پھر آپ مجھے بتائیں آپ کو کیا ہوا ہے؟؟ اور یہ آپکے گردن پہ نشان کیسا ہے۔؟؟
” ایسے کتنے زخم ہیں جو میرے روح تک کو چھلنی کرچکے ہیں۔ یہی میری زندگی کا کڑوہ سچ ہے۔ جس کے ساتھ میں خاموشی سے زندگی گزار رہی ہوں۔ اگر کریدوں گی تو خود کو اذیت دوں گی. ” انیلا بیگم کے چہرے پر دکھ تکلیف کے آثار عیاں ہوگئے۔
” آپ کے ہسبنڈ آپکو مارتے ہیں؟؟ سب سے پہلے عنایہ کے ذہن میں جو سوال گردش کرنے لگا اسے زبان دے دی۔۔
” میرا اذلان باقی مردوں جیسا سفاک نہیں ہے۔۔وہ کسی نازک کلی کیطرح تمہیں سمبھال کر رکھے گا۔” انیلا بیگم نے سوال گول کردیا۔
” جانتی ہوں میں انہیں. مگر یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔” عنایہ نے اسکے چلتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
” آپ کو حدید بھائی کی قسم!! مجھے بتا دے ہوا کیا یے؟؟. عنایہ جب سے آئی تھی اس نے بلا ضرورت یہاں کی عورتوں کو ایک دوسرے کیساتھ بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔ایک خول قائم تھا سب کے درمیان۔ جبکہ انیلا بیگم اسے ہاتھ سے پکڑ کر اسکے روم میں لے آئی اور دوپٹہ اپنے وجود سے الگ کرکے اسکے مقابل کھڑی ہوگئی۔
” یی۔یہ کس نے کیا۔؟؟ عنایہ کے سینے میں پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔
” جنہیں لوگ سرتاج کہتے ہیں۔ مجازی خدا بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جسے اپنا مخافظ سمجھتے ہیں۔۔انہی کے دئیے گئے زخم ہیں جو مجھے دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ رہے ہیں۔ ان کو تسکین یہ زخم دے کر ملتا ہے۔ یہ گھاؤ کبھی بھرتے نہیں. ان کی نظر میں میں بیوی نہیں کوئی زرخرید رکھیل ہو. جس وقت وہ پاس ہوتے ہیں اس لمحے میں شدت سے موت کی دعا مانگتی ہوں۔” عنایہ اسکے جسم پر موجود جلنے کے نشان واضح دیکھ رہی تھی۔۔جو کہ سیگریٹ کے سے داغے گئے تھے۔
” وہ کیوں ایسا کرتے ہیں۔ آپ حدید بھائی کو بتا سکتی ہیں نا۔ جس طرح وہ میرے لئے سٹینڈ لیتا ہے۔ آپ کے لئے کچھ بھی کر جائیں گے۔ کب تک یہ اذیتیں برداشت کریں گی آپ” عنایہ تو زلزلوں کی زد میں تھی۔
” کبھی نہیں۔۔ میں اپنے بچوں پر انکے باپ کا یہ بھیانک روپ آشکارا نہیں کروں گی۔ وہ ایک سائیکو انسان ہے. وہ دوسری عورتوں کے پاس بھی جاتے ہیں۔ ان سے طلب تو پوری کرلیتے ہیں مگر نفس کی تسکین اسے یہ زخم دے کر ملتی ہے۔ اور اس وقت وہ جلاد بنا ہوتا ہے۔ میری ہر تڑپ پر اس کے چہرے پر عجیب طرح کا سکون دیکھنے کو ملتا ہے۔” انیلا بیگم کی باتیں حواس سلب کرنے کے لئے کافی تھے۔۔
” مجھے یقین ہے میرے برے دن ختم ہونے والے ہیں۔۔ میں نے آہل کی آنکھوں میں چھپے کرب کو دیکھ چکی ہوں۔ اسے سلطان میر کے کالے کرتوتوں کا علم ہے۔ اور یہ پردہ بہت جلد فاش ہونے والا ہے۔ مجھے اس کے لیے دکھ ہوتا اگر صرف میں اسکی ظلم بربریت اور ہوس کا شکار ہوتی مگر ہر دوسری مجبور عورت کی مجبوریوں کو خریدنا سلطان میر کا جنون بن چکا ہے۔ جس کی اسے بھیانک سزا ملے گی۔ اور اللّٰہ کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔” انیلا بیگم نے دوپٹہ سر پر اوڑھ کر عنایہ کو گلے لگایا۔ جس کا چہرہ لٹھے کی مانند سپید پڑ گیا تھا۔
” تم آہل , اذلان یا حدید کو کچھ نہیں بتاؤگی.” عنایہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ اسے سکتے میں چھوڑ کر نکل گئی۔
