88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 18
ماضی…….
پیراڈائز کے چھوٹے سے ہال میں عالم میر نے اہل اور زر کے نکاح کی چھوٹی سے تقریب رکھی تھی۔۔ آہل کی ہمراہ مہد بھی آیا ہوا تھا۔ نکاح کی رسم ادا کی گئی تو اہل نے پیراڈائز کے مکینوں کے لئے پرلطف لنچ کا اہتمام کیا تھا۔ حویلی سے صرف عاتکہ کو بلوایا گیا تھا جو اہل کے ماں کے عہدے پر فائز تھی۔ لیکن ان کی لاکھ چاہنے کے باوجود بھی آہل نے ان سے ملاقات کے لئے خامی نہیں بھری۔ نکاح کے بعد میر خاندان کے رسم کے مطابق آہل کو زر سے اکیلے میں ملنا تھا۔ اور اسے منہ دکھائی گفٹ بھی دینا تھا۔ جبکہ وہ عاتکہ کے سینے سے لگی آنے والے وقت کا سوچ کر ہلکان ہورہی تھی۔عاتکہ اسے ہال سے ملحقہ روم میں چھوڑ کر چلی گئی۔
” نکاح مبارک ہو مسز آہل !! وہ کمرے کے وسط میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھائے مضطرب کھڑی تھی کہ پیچھے سے آہل نے اسے اپنے حصار میں لے کر اس کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکا دی۔ آہل نے ہاتھ بڑھا کر سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھا اور روم میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔
” لائٹ کیوں آف کردی ؟؟ زر نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر دی۔
” اسلئے کہ مجھے تمہارا چہرہ نہیں دیکھنا۔ جو مجھے اپنے دشمنوں کی یاد دلاتا ہے۔ اور میں منزل تک پہنچ کر کمزور نہیں بننا چاہتا۔” اسکے کندھے پر شدت سے لب رکھ کر وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو زر کے قدم لڑکھڑائے
” تمہیں کیا لگا کہ آہل کو لڑکیوں کی کمی ہے۔ جو تھپڑ کھانے کے بعد خوار ہونے تمہارے پیچھے آئے گا۔ تو سن لو۔ ایاز میر کی بیٹی کو بیوی بنا کر عزت و مان دینے سے بہتر ہے کہ اسے رکھیل بنا کر اسکی اوقات یاد دلائی جائے۔” آہل نے اس کے گردن سے دوپٹہ ہٹا کر وہاں لب رکھے تو زر سسکی ۔
” آپ نے جھوٹ کو بنیاد بنا کر مجھے حاصل کیا ہے۔ مجھے دادا سرکار اور پھپھو کی بات مان لینی چاہئے تھی۔” زر کے آنسو اسکے رخسار بھگونے لگے۔
” اتنی عقل مند ہو تم کہ کبھی نہیں چاہو گی کہ نانا سرکار کو میرے ارادوں کا علم ہو اور وہ یہ صدمہ برداشت نا کرپائے۔۔۔۔۔۔۔
” میں اپنے فیصلے پر لاکھ دفعہ بھی پچھتاؤں تو بھی میں اپنے دادا سرکار پر یہ راز افشاں نہیں کروں گی کہ اسکی تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔” زر نے اسکی بات اچک کر تحمل سے جواب دیا۔
” سمجھدار ہو۔۔ اسلئے تو تمہارا انتخاب کیا۔” آہل نے اسکی بیوٹی بون پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے خباثت سے کہا۔
” ہاتھ مت لگائے مجھے۔ نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے آپ اس رشتے کی توہین کررہےہیں۔ اگر آپ بدلہ لیں گے تب بھی آپ کو وہ خوشی اور سکون کبھی نہیں ملے گا جو آپ چاہتے ہیں۔” زر نے اسکا ہاتھ جھٹک کر فاصلہ بنایا۔
” آج تو مجھے دھتکارنے کی جرات کی اگر آئیندہ اس طرح کی کوئی حرکت کی تو میں شوہر ہونے کے پورے حقوق لے لوں گا جوکہ فی الحال میں نہیں چاہتا۔” زر کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ کٹی ہوئی شاخ کی مانند اسکے سینے سے الگی۔ اور اسکے چہرے کو ہاتھ کے پیالے میں بھر کر وہ اسکے ماتھے پر مہر ثبت کرگیا۔ زر نے غیر ارادی طور پر ہاتھ اسکے رخسار پر رکھا تو آہل کے لب متبسم ہوئے۔ لائٹ آف کرنے کی وجہ سامنے اگئی تھی کیونکہ آہل نے آج ماسک نہیں پہنا تھا۔ زر کا وہی ہاتھ چہرے سے ہٹا کر اپنے لبوں تک لے ایا۔ اور اسکی ہتھیلی پر اپنے گرم لب رکھے۔ تو اپنی بے اختیاری پر وہ جی بھر کر بدمزہ ہوئی۔
سامنے کھڑا شخص جس کو اس نے دیکھے بغیر دل میں اونچے مسند پر بٹھایا تھا وہ اسکا آہل نہیں تھا۔ اسکا دل چاہا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر روئے اور اپنی بے وقوفی کا ماتم منائے۔ مگر وہ اس شخص کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ کچھ لمحے خاموشی سے سرک گئے تو اہل نے اپنے دل کی خواہش پر لبیک کہہ کر اسکے چہرے پر جھک کر اسکی سانسیں قبض کرلی۔ زر اس اچانک افتاد پر ششدر رہ گئی اور خود کو سہارا دینے کے لئے اہل کے کالر کو مٹھیوں میں دبوچ لیا۔
” پہلی ملاقات میں ہی میرا دل بے ایمان کرنے والے اس نازک پنکھڑں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا تھا۔” اس کے سانسوں کو رہائی دینے کے بعد اسکے تر لبوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے اسکے کانوں میں خمار بھری سرگوشی کی۔
” مرد بنو آہل یزدان!! عورت کو اسکے انتہائی کمزور پہلو سے توڑنے کے بجائے کھل کر دشمنی نبھاؤ۔ مجھے ہر قدم پر مستحکم پاوگے۔ کیونکہ ایک عورت کو محبت جتنا کمزور بنا دیتی ہے نا اس سے دوگنا نفرت اسے طاقت بخشتا ہے۔” آہل کے حصار کو نرمی سے توڑ کر وہ باہر نکلنے لگی
” ایک منٹ!! اسکو بازو سے پکڑ سے اپنی طرف گھمایا۔
” یہ تمہاری منہ دکھائی۔” اس کی کلائی میں کنگن پہنا کر وہ بغیر کچھ کہے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ جبکہ زر نے کب سے اپنا رکا ہوا سانس بحال کرکے لمبی سانس فضا کے سپرد کی۔ لائٹ آن کرکے اس نے ہاتھ میں پہنے کنگن کو دیکھا تو آنکھیں ہیرا ہوگئی۔ انتہائی خوبصورت نفیس کام سے مزین گولڈ کا نازک سا کنگن اس کے کلائی پر بہت چج رہا تھا۔
” کاش مجھے یہ تخفہ آپ کی محبت کے عوض ملتا تو آج مجھے اپنی قسمت پر رشک اتا۔” کچھ آنسو پلکوں کی بات تھوڑ کر بہہ گئے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حال…..
آہل نے عنایہ اور زر کے لئے شہر سے ماہر بیوٹیشنز کو بلایا تھا۔ جو دو گھنٹے سے دونوں کو لیکر اندر گھسی ہوئی تھی۔ جبکہ ثوبیہ بیگم سوہا کو لینے اس کے روم آئی تھی۔ جو شادی میں شرکت کرنے سے ہنوز انکاری تھی۔ بھلا وہ کیسے آہل کو زر کا دولہا بنتے دیکھ سکتی تھی۔
” موم !! مجھے کسی شادی وادی میں نہیں جانا۔ آپ لوگ جاکر اپنی خوشیاں منائے۔” سوہا بدتمیزی کی حد کردی۔
” آخر تمہیں غصہ کس بات پر ہے۔ زر کی شادی کا یا پھر اذلان پر۔ کون سا روگ لگایا ہے تم نے۔اپنے ہی بہن بھائی کی خوشیاں تم سے ہضم نہیں ہورہی۔” ثوبیہ بیگم بھڑک اٹھی۔ جبکہ سوہا نے سر تک کمبل اوڑھ کر ثوبیہ بیگم کی بولتی بند کردی۔
” تمہاری خوشیوں کی مدت ختم ہوچکی ہے زر۔۔۔ جتنا بڑا نقصان تمہارا ہونے والا ہے اس کے لئے اپنی بہن کو معاف کردے۔ میں پیار کے آگے بے بس تھی۔ یا پھر خودغرض۔ اگر وقت ہر میری بات مان لیتی تو آہل کیساتھ بچے سے بھی ہاتھ نا دھو بیٹھتی۔” ماں کے جانے کے بعد اس نے کمبل ایک طرف اچھالا اور پیروں میں چپل اڑستے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے دراز سے کوئی چیز ہاتھ میں چھپا کر احتیاط کیساتھ اوپر چڑھنے لگی۔ راہداری میں گزرتے ہوئے ملازموں کو عجلت میں ادھر اُدھر دوڑتے دیکھ کر وہ کچھ دیر رکی۔ اور پھر کسی کے نظروں میں آئے بغیر اس نے ہاتھ میں پکڑے بوتل کا ڈھکن کھول کر سیڑھیوں پر گاڑھا مواد گرا دیا۔ اور آنکھ بچا کر چلی گئی۔ جبکہ دوسری طرف ایاز میر اور سلطان میر کے بندے عنایہ کے روم کے باہر اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں سرگرداں تھے۔
بالآخر طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد بیوٹیشن نے زر کو آئینے کے سامنے لاکر کھڑا کردیا تو اپنے سراپے پر نظر ڈال کر وہ مبہوت سی اپنی سندرپا پر نازاں ہونے لگی۔ ڈارک پرپل کلر کا خوبصورت بھری کام سے مزین لہنگا پہنے مہارت سے کئے گئے میک اپ نے اسکے دو آتشی حسن کو دوبالا کردیا تھا۔ کتنے سپنے سجائے تھے اس دن کے لئے۔ وہ خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔ پیار کرنے والا ہسبنڈ، ممتا کا احساس, وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی تصور کرنے لگی۔ حدید اور اذلان تیار ہوکر ہال کی ارینجمنٹس چیک کرنے گئے تھے۔ جبکہ زر اور عنایہ کو تیار ہونے کے بعد ہال تک پہنچانے کی زمہ داری آہل کے ذمے تھی۔ ادھر عنایہ کی تیاری بھی مکمل ہوگئی۔وہ بھی اپنے مکمل حسن کے ساتھ دلوں پر بجلیاں گرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی تھی۔ جبکہ اسکی نوعمری نے اسکے چہرے پر بلا کی معصومیت بکھیر دی تھی۔ بیوٹیشن اسکو تیار کرکے روم سے باہر نکل ائی۔ جبکہ زر کو تیار کرنے والی بیوٹیشن پہلے سے ہال میں موجود تھی۔ آہل ہال میں بیٹھا زر اور عنایہ کا ویٹ کررہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اذلان سے بھی اپڈیٹ لیتا رہا۔
” آہل بھائی۔!! پلیز عنایہ کو اپنا موبائل دے دو واپس۔ مجھے اسکو دیکھنا ہے۔ کہ وہ کیسی لگ رہی ہے۔قسم سے بہت جابر انسان ہے آپ.” آہل نے عنایہ سے اسکا موبائل لیا تھا کیونکہ پانچ منٹ میں وہ دس بار ویڈیو کال کرچکا تھا۔ آخر کار بیوٹیشن نے اکتا کر آہل سے شکایت کردی کہ بار بار فون کال سے عنایہ کی تیاری ڈسٹرب ہورہی ہے ,اس لئے اہل نے عنایہ کا موبائل لیکر آف کردیا ۔ جبکہ اذلان خون کی گھونٹ پی کر رہ گیا۔ سیڑھیوں کے اوپر سے زر کو سحر کی معیت میں نیچے آتا دیکھ کر وہ بے اختیار کھڑا ہوگیا۔ جبکہ گھونگھٹ گرا کر زر کے چہرے کو چھپایا گیا تھا۔ سحر کا ارادہ آہل سے منہ دکھائی کے طور پر نیگ لینے کا تھا۔ پانچ چھ سیڑھیاں اتر کر زر اور سحر دونوں کے قدم ایک ساتھ لڑکھڑائے۔ تو گھونگھٹ ہونے کی وجہ سے زر ریلنگ کو پکڑنے میں ناکام ہوگئی اور پاؤں سلپ ہونے کی وجہ سے دونوں توازن برقرار نا رکھ پائی اور دھڑام کے ساتھ سیڑھیوں پر گرتی پھسلتی آخری سیڑھی سے لڑکڑا کر نیچے گر گئی۔ سب کچھ پلک جھپکتے ہوا کہ ہال کے وسط میں کھڑے آہل کو جب ہوش آتا دونوں کی چیخیں حویلی کے درودیوار ہلا گئی۔
“زر۔۔۔ آہل ہذیانی کیفیت میں چلا کر حواس باختہ دوڑ کر زر کے ساتھ زمین پر ڈھے گیا۔ گھونگھٹ ہٹا کر دیکھا تو ماتھے سے خون کی تیز دھار بہنے لگی۔ اگر وہ زخمی حالت میں نا ہوتی تو یقیناً اسے دنیا کی خوبصورت ترین دلہن کا خطاب ملتا۔ آہل نے درد و تکلیف سے مزین سرخ آنکھیں پاس پڑی بے ہوش سحر پر نظر ڈالی تو اسکے سر کی پچھلی طرف سے خون کا فوارا بہہ رہا۔
” آپی.!!!!! اسامہ جو چیخ کی آواز سن کر روم سے نکلا تھا زر کو خون میں لت پت دیکھ کر وہ چلا چلا کر سب گھر والوں کو اکٹھا کرنے لگا۔ عاتکہ, ثوبیہ بیگم,انیلا بیگم اور شزا بھی دل دہلانے والی چیخیں سن کر اپنے کمروں سے نکل آئی۔ جبکہ سامنے کا منظر دیکھ کر حویلی والوں کے سروں پر آسمان دھڑا دھڑ گرنے لگی۔
“زر میری بچی!! عاتکہ بیگم اور ثوبیہ بیگم زر کے سرہانے بیٹھ کر پاگلوں کی طرح رونے لگی
” مما!!!! اسامہ دوڑتا ہوا منیزہ بیگم کو بلانے گیا۔ تو وہ راستے میں ہی ملی۔ زر کی تشویشناک حالت دیکھ کر منیزہ بیگم کا دل لرز اٹھا۔ گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہونے کے سبب سب کو کافی عزیز تھی۔
” آہل اٹھاؤ اسے۔۔ جلدی ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا۔ میری بچی کی جان کو خطرہ ہے اور پیٹ میں موجود تمہارے بچے کو بھی ” امان میر نے ڈاکٹر ہونے کے ناطے اپنی بھتیجی کی نازک حالت دیکھ کر بےخود پڑے آہل کو ہوش دلایا۔ ہال جانے کے لئے گاڑیاں تیار تھی۔ آہل نے زر کو باہوں میں اٹھایا۔ اور سکینڈ کا توقف لئے بغیر باہر نکل کر اس کو گاڑی میں لٹا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ جبکہ پیچھے پیچھے اسامہ نے سحر کو اٹھا کر دوسری گاڑی میں لٹایا۔۔ پھولوں سے سجی گاڑیوں میں جب نیم مردہ حالت میں دلہن کو ڈالا گیا تو حویلی کی عورتیں دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ اپنی بہن جیسی کزن کو اس حالت میں دیکھ کر شزا بھی اپنا غم درد بھلا کر ہچکیوں سے رو رہی تھی اور ساتھ ماں بچے دونوں کی زندگی بچ جانے کے لئے دل دعاگو تھا۔ اور یہ آفت و قیامت جس کیوجہ سے ٹوٹ پڑا تھا وہ اپنے روم میں آرام سے کمبل اوڑھ کر سکون سے آنکھیں موندے لیٹی دوسری نیوز کی منتظر تھی۔
ادھر عنایہ نیچے ہال سے آنے والی آہ و بکا سن کر جیسے ہی باہر نکلنے کی لئے دروازے کے قریب آئی تو دروازہ لاکڈ تھا۔ اسے اچھے سے یاد تھا کہ بیوٹیشن کے چلے جانے کے بعد نا کوئی اندر آیا تھا نا خود اس نے دروازہ بند کیا تھا۔ بھاری لہنگا ذیب تن کئے وہ سرعت میں کھڑکی کی طرف آئی وہ بھی باہر سے بند تھا۔ عنایہ کو صحیح معنوں میں دھچکا لگا۔ کیونکہ کھڑکی اندر کیطرف سے لاک ہوسکتی تھی باہر سے نہیں۔ اس نے موبائل کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو ساکت ہوگئی۔ موبائل تو آہل کے پاس تھا۔ اس نے زور زور سے دروازہ بجانا شروع کردیا۔ مگر ہال تک آواز آنا ممکن نہیں تھا کیونکہ وہاں جو کہرام برپا تھا عنایہ پر کسی کا دھیان نہیں گیا۔ گھبراہٹ و بےچینی ںسے اعصاب منجمد ہونے لگے اور ںےدم ہوکر بیڈ پر گری۔۔کہ اچانک کچھ جلنے کی بوں نتھنوں سے ٹکرائی۔ پیچھے کی طرف دیکھا تو کھڑکھی پر لگے پردوں نے بہت تیزی کیساتھ آگ پکڑ لی تھی۔ عنایہ کی آنکھیں وخشت سے باہر نکل آئی اور پاگلوں کی طرح روم میں ادھر اُدھر بھاگنے لگی۔ ایک بار پھر دروازہ زور زور سے بجانا شروع کردیا۔ کہ وہاں سے گزرتے آہل کی ملازمہ بی اماں نے اسکی آواز سنی اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر لاکڈ تھا۔ اس نے ریلنگ سے نیچے جھانک کر چیخ کر سب کی توجہ عنایہ کی طرف دلا دی۔ ایک بلا ٹلی نہیں تھی کہ دوسری مصیبت نے گھیراؤ کیا۔ سب عورتیں خواس باختہ اوپر کی طرف بھاگنے لگی۔ سب نے جان توڑ کوشش سے بھی دروازہ نہیں کھلا۔
” پھپھو, موم!! اگ لگی ہے یہاں ۔۔۔ مجھے بچائے۔ پلیز۔” اندر سے عنایہ کی رونے بلکنے کی آواز سن کر سب کی جان لبوں پر آئی کہ آگ کیسے لگی۔
” شزا اذلان یا حدید کو فون کرکے بلاؤ جلدی۔” انیلا بیگم نے پاس کھڑی شزا کو محاطب کیا۔ سوہا کے مقابلے میں وہ نرم دل ثابت ہوئی اس نے حدید کو پوری صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ اذلان کو لیکر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ اذلان کے بار بار پوچھنے پر بھی وہ اسے حقیقت نہیں بتا سکا۔ اور انتہائی تیز ڈرائیونگ کرکے وہ لوگ حویلی پہنچ گئے اور تیزی سے حویلی کے اندر داخل ہوئے۔ اوپر سے رونے اور چیخوں کی آوازیں آرہی تھی۔
” یہ رونے کی آوازیں کہاں سے آرہی ہے۔ کیا ہوا۔ جلدی بتاؤ حدید ۔۔ میرا دل بیٹھا جارہا رہے۔” اذلان فق چہرہ لئے حدید سے محاطب ہوا۔
” اذلان!!! تمہیں خود کو سنبھالنا ہوگا۔۔ عنایہ کے روم میں آگ لگی ہے اور دروازہ لاکڈ ہے۔کھل نہیں رہا اور۔۔۔۔۔۔” حدید کی ادھی بات سن کر اذلان کے آنکھوں کے سامنے اندھیرہ چھانے لگا۔ اور بدحواسی کے عالم میں اوپر کی طرف دوڑ لگا دی۔ سب خواتین بمعہ ملازموں کے عنایہ کے روم کا دروازہ توڑنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ آذلان اور حدید نے سب کو ہٹا کر لگاتار دروازے کو اتنے دھکے لگائے کہ کڑک کے آواز کے ساتھ لاک ٹوٹ کیا تو روم میں جمع دھواں باہر نلکنے لگا۔ سب کو ایک ساتھ کھانسی کے دورے پڑنے لگے
“عنایہ !!! اذلان نے اندر قدم رکھتے عنایہ کو بے قراری سے پکارا۔ روم میں ہر سو آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے ۔اپنی جان کی پروہ کئے بغیر اذلان عنایہ کو ڈھونڈنے آگے بڑھا۔ ساتھ میں حدید بھی تھا۔ جبکہ گھر کی خواتین پائپ لگا کر آگ بجھانے میں لگ گئے۔ بیڈ کے قریب پہنچ کر اذلان کا پیر کسی چیز سے ٹکرایا۔ تو کسی احساس کے تحت زمین پر دوزانو بیٹھ گیا۔ دھواں اتنا زیادہ تھا کہ کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی۔ زمیں پر ہاتھ مارا تو ایک بار پھر اسکی دہشت زدہ آواز گھونجی۔۔
عنایہ؛!!!! عنایہ کو بازوں میں اٹھا کر باہر کیطرف دوڑ لگائی۔ کمرے سے نکل کر ایک بار پھر عورتوں کی چیخیں آسمان سے باتیں کرنے لگی کیونکہ نیچے سے عنایہ کا آدھے سے زیادہ ڈریس جلا ہوا تھا۔ اور یقیناً اندر کی سکن بھی جلی ہوگی۔ عنایہ کی سانسیں مدھم چل رہی تھی۔ اذلان نے اذیت سے ہونٹ بھینچے۔حدید دوسرے کمرے سے چادر اٹھا لایا اور عنایہ کے اوپر ڈال کر وہ لوگ بھی گاڑی میں بیٹھ کر ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوگئے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آئی ایم سوری مسٹر آہل !! آپکی مسز کا مس کیریج ہوگیا یے۔ اور اسکی کنڈیشن بھی کافی کریٹیکل ہے۔ کافی خون بہا ہے۔ ہم اپنی طرف طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ باقی اوپر والے کی مرضی۔” ڈاکٹر کے الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو اہل کی سماعتوں میں انڈھیلا گیا۔ اور وہ زمین پر گھٹنے کے بل بیٹھ گیا اور اپنے اتنے بڑے نقصان پر سر آسمان کی طرف اٹھا کر گلہ پھاڑ پھاڑ کر رونے لگا۔ جبکہ مہد چٹان جیسے مضبوط دوست کو اسطرح ٹوٹتے بکھرتے دیکھ کر ضبط کی انتہاؤں پر تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°