88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 17
” آہل !! وہ دادا سرکار…!!!! وہ ابھی ابھی آفس پہنچا تھا۔ ایک غیر ملکی کمپنی کیساتھ اس کی میٹنگ تھی۔ جس کے لئے وہ پریزینٹیشن تیاری میں حددرجہ محو تھا۔ مہد بھی اس کے پاس موجود تھا۔ کہ موبائل پر بلنگ کرتے عالم سرکار کا نمبر دیکھ کر اس نے کال ریسویو کیا۔ مگر اپنے نانا کی جگہ نسوانی آواز سن کر موبائل کان سے ہٹا کر نمبر ایک بار پھر چیک کیا۔
” کون؟؟؟؟ ماتھے پر تیوری چڑھائے اس نے استفسار کیا۔
” مم۔میں زرغونہ… دادا سرکار کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے۔ ہم لوگ ریسٹورنٹ میں موجود ہے۔ ڈرائیور بھی پتہ نہیں کیا غائب ہوگیا ہے۔ ڈائل میں آپ کا نمبر پڑا تھا تو آپکو کال ملائی۔ آپ پلیز جلدی آئے۔” زر بچوں کی طرح بلکتی ہوئی ایک ہی سانس میں پوری بات بتا گیی۔
” واٹ .!!! تم ادھر رہو ان کے پاس۔ میں ابھی پہنچتا ہوں۔ اور ہاں جلدی سے دادا سرکار کے موبائل فون سے مجھے لوکیشن سینڈ کردو۔” آہل نے عجلت میں کھڑے ہوکر فائل بند کی اور موبائل جیب میں اڑستے ہوئے باہر کی طرف دوڑ لگادی کہ مہد نے اسکو بازو سے پکڑ کر روکا۔
” اٹس آل رائیٹ؟؟
” وہ نانا سرکار کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے۔ جو ڈرائیور ساتھ گیا تھا وہ بھی کہیں چلا گیا۔ میں انکو ہاسپٹل لیکر جارہا ہوں۔ تم سب سمبھال لو گے نا۔” پرامید نظروں سے مہد کیطرف دیکھا
” آف کورس!! تم جاؤ ۔ آئی ول ہینڈل۔” مہد نے خوش دلی سے جواب دیا ۔ آہل لفٹ کے ذریعے نیچے آیا۔ اسے ہوا کے گھوڑے پر سوار دیکھ کر ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی جبکہ دوسری گاڑی میں گارڈز کی گاڑی بھی حرکت میں اگئی۔۔ کہ اسی وقت موبائل پر نوٹیفکیشن ٹون سنائی دی اس نے موبائل چیک کیا تو لوکیشن تھا۔
” یہ پاس میں جو الفلاح ریسٹورنٹ ہے وہاں گاڑی موڑو۔” آہل نے ڈرائیور کو ہدایت دی ۔
” اگلے بارہویں منٹ میں وہ زر کے سامنے موجود تھا۔ جو عالم میر کو صوفے پر لٹائے خود اسکے سرہانے زمین پر بیٹھی تھی۔ سوجی آنکھیں زیادہ رونے کی چغلی کھا رہی تھی۔ آہل کو دیکھ کر بدخواسی کے عالم میں اس کے گلے لگی رونے لگی۔ آہل نے حالات کی نزاکت کو سمجھ کر اسے نرمی سے خود کو سے پرے ہٹایا۔
” ریلیکس !! کچھ نہیں ہوا انہیں۔ کھانے میں لاپرواہی سے کام لیتے ہیں تو شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔ ابھی بھی تم لوگوں نے کچھ الٹا سیدھا کھا لیا ہوگا۔” اسکی اشک بار آنکھوں سے بمشکل نظر ہٹا کر وہ عالم میر کیطرف متوجہ ہوا
گارڈز کی مدد سے وہ عالم میر کو گاڑی میں لٹا کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا جبکہ زر عالم میر کیساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھی اسکے جھریوں زدہ چہرے پر مسلسل ہاتھ پھیر رہی تھی۔
” تم جانتی ہو نا تمہارے دادا دیابیطیس کے مریض ہیں۔ کم از کم ان کی صحت کا خیال رکھا کریں۔ ایسی چیزیں ان کے لئے باعث تشویش ہے۔” آہل کو وہ بہ نسبت دوسرے دنوں کی کافی الجھی ہوئی لگ رہی تھی۔۔ ویسے بھی آخری بار جب اس سے مل کر پروپوز کیا تھا اور زر نے سوچنے کے لئے مہلت مانگا تھا , پھر سے ملاقات نہیں ہوئی۔
” مم ۔میں نے انہیں کچھ نہیں کھلایا۔ صبح بابا نے میری اچھی خاصی ڈسٹنگ کی تھی تو دادا سرکار میرے لئے بابا سے لڑے۔ پھر میرا دھیان ہٹانے کے لیے وہ مجھے لنچ کروانے یہاں لے کے ائے۔ مجھے کھلانے کے چکر میں خود بھی کافی زیادہ کچھ کھا لیا۔ ” زر ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑ کر بولی۔ زیادہ رونے کیوجہ سے ناک سرخ ہوچکی تھی۔
” یہ لو”” آہل نے ٹشو باکس اس کی طرف بڑھایا۔
” آپ جلدی گاڑی چلائے نا۔” ڈرائیور جو کافی ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا زر کی بات پر اچھلا۔ جبکہ آہل بھی اس کی بات پر بھونچکا رہ گیا.
” میڈم !! ابھی تک ہم نے گاڑی کو پر نہیں لگائے۔” ڈرائیور نے استقامت سے جواب دیا۔ جبکہ آہل نے کن اکھیوں سے ڈرائیو کو دیکھا تو اس نے گڑبڑا کر گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا دی۔
ہاسپٹل پہنچ کر عالم میر کو ایمرجنسی لے جایا گیا۔ تو اہل اور زر بےچینی سے باہر ٹہلنے لگے ۔
” تم جاکر سامنے بینچ پر بیٹھ جاؤ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔” آہل نے اسکے ہاتھوں اور پیروں کی لغزش محسوس کی۔
” پیشنٹ کیساتھ کون ہے۔” ایمرجنسی کا دروازہ کھلا تو ایک ڈاکٹر باہر نکلا اور پیشہ ورانہ انداز میں سوال پوچھا۔
” میں !! آہل نے یک لفظی جواب دیا
” پیشنٹ سے تعلق۔۔۔؟؟؟ ڈاکٹر پیڈ پر کچھ لکھنے لگا۔
” نانا ہیں میرے ؟؟ آہل کے سنجیدگی سے جواب دینے پر زر اسکی جھوٹ بولنے کی عش عش کرنے لگی اور ڈاکٹر کی طرف بڑھ گئی۔
” میں پوتی ہوں ان کی۔.. اگر کوئی بات ہے تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں۔ یہ میرے دادا سرکار کے…..
” نواسا ہی ہوں میں آپکے دادا سرکار کا۔۔ اب اگر مزید ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔” آہل نے دبے غصے میں کہہ کر اسکی بولتی بند کی۔ جبکہ زر مجسمہ بنی اسکے تنے غضلات کو دیکھ کر سائڈ پر کھڑی ہوگئی۔
” ڈاکٹر کیساتھ کچھ لمحے راز ونیاز کرنے کے بعد وہ وارڈ کیطرف بڑھنے لگا کہ عقب میں مخصوص ہل چل محسوس کرکے وہ مڑا تو زر بھی اس کے پیچھے آرہی تھی۔
” ایک نمبر کے جھوٹے انسان ہیں آپ. الٹی کھوپڑی کے مالک۔” زر اسکے قریب پہنچ کر نتھنے پھلا کر بولی ۔
” تھینکس فار دا کومپلیمنٹ۔!! لیکن اس وقت تم قیامت ڈھا رہی ہو قسم سے۔ غبارہ بنے رخسار, بہتی ناک ۔” اسکے غصے کو سراسر اگنور کرکے آہل اس ماہ جبیں کا طواف کرکے مبہم سا ہنس دیا۔
” آپ۔۔۔۔ “”” زر کے چہرے پر حیا اور غصے کے ملے جلے ہزاروں رنگ بکھر گئے ۔ تنبیہی انداز میں انگلی اٹھائی مگر ہاسپٹل کا سوچ کر خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔
دونوں اندر وارڈ میں داخل ہوئے تو عالم میر کو ہوش میں دیکھ کر تشکر بھرا سانس لیا۔
اس نے اپنے ناتواں بازوؤ پھیلائے تو زر اسکے بازوں میں سما گئی۔
” آپ کو میں نے ہزار بار منع کیا کہ کیک کو ہاتھ مت لگائیں۔ مگر آپ کسی کی سنتے کہا ہے ٹھونس ٹھونس کر کھا رہے تھے نتیجہ یہی نکلتا نا۔” زر نے خفگی سے ڈانٹا ۔
” تھوڑی سی تو زندگی ہے بچے!! زندگی کا کہا بھروسہ۔ کھل کر جینا چاہئے۔ بغیر کسی روک ٹوک کے۔ ” دادا سرکار نے اسے خود سے لگایا۔
“اللہ نا کرے!! آپ کو میری عمر بھی لگ جائے۔ ہمارے جینے کا سہارا ہیں آپ..!! زر کے دل کو کسی نے مٹھی میں جھکڑ لیا۔ صبح کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا جب دادا سرکار اس کے آگے ڈھال بن کر کھڑے تھے۔
” یہ آپ کا ڈرائیور ڈاکٹر کو بتا رہے تھے کہ آپکے نواسے ہیں۔ کتنے بڑے جھوٹے انسان ہے۔” زر نے لگے ہاتھوں آہل کی شکایت کر ڈالی۔
” میرا آہل جھوٹ نہیں بولتا۔” عالم میر نے مان بھری نظروں سے دروازے کیساتھ ٹیک لگائے آہل کو سینے پر دونوں ہاتھ باندھے کھڑے دیکھ کر کہا۔ جس کے چہرے پر اپنے نانا کو لیکر فکر مندی کے اثرات نمایاں تھےجبکہ اسکا غصہ سوا نیزے پر تھا اور اپنے اندر کے اشتعال کو دبائے شدید قسم کے ردعمل سے خود کو روک رہا ہے۔
” دادا سرکار آپکی پھپھو کے علاؤہ دوسری بیٹی بھی ہے کیا؟؟ زر آنکھوں کو ایک حجم سے پھیلا کر گویا ہوئی۔
” نہیں !! میں تمہاری چہیتی پھپھو کا ہی اکلوتا بیٹا ہوں۔ جس کے اردگرد تم شہد کے مکھی کی طرح چوبیس گھنٹے بھنبھناتی پھرتی رہتی ہو” آہل اسکی حیرت بھانپ گیا اسلئے دادا سرکار کی جگہ جواب اس نے دیا۔
” مگر پھپھو تو شادی شدہ نہیں ہے۔ پھر بیٹا کہاں سے آگیا؟؟ زر کی سوئی وہی اٹکی ہوئی تھی۔
” ہوئی تھی شادی۔۔ میں نے کروائی تھی خود۔ آہل کے بابا کیساتھ.” عالم میر کے چہرے پر زمانہ بھر کی تھکان رقم تھی۔
” تو اب کہاں گئے ان کے شوہر؟؟ شادی چھپائی کیوں ؟؟ زر تو حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔
” وہ تمہیں دادا سرکار کبھی فرصت میں بتادے گا۔”۔ آہل ہاسپٹل کی فارمیلیٹیز پوری کرنے گیا جبکہ دادا سرکار نے زر کو عاتکہ کی لائف کے بارے میں تھوڑا بہت بتا دیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“پھپھو !! میں آہل سے ملی تھی.” رات کو وہ عاتکہ کیساتھ اس کے روم میں سونے چلی آئی تو بتا دیا. جبکہ اسطرح زر کے منہ سے آہل کا نام سن کر عاتکہ کی جان لبوں پہ آئی۔
” ڈونٹ وری میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔ ” عاتکہ کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر زر نے جلدی سے کہا۔
” کیسا تھا وہ ؟؟ بہت بڑا ہوگیا ہوگا نا۔ پانچ سال کا تھا جب مجھ سے بچھڑ گیا۔ پھر میں نے کئی مواقعوں پر اس سے ملنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن اسکے دل پر چھائی بدگمانی کی میلی تہہ صاف نا کرپائی۔” عاتکہ کی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئی۔
” کافی وجیہہ شخصیت کے مالک ہے۔ مگر چہرہ دیکھ نہیں پائی۔ آنکھیں اس کی بہت اٹریکٹیو ہیں۔ اور بال ایک دم بلیک اور شائنی جو اس کی وجاہت کو چار چاند لگارہے تھے ” زر لاشعوری طور پر اس کی شخصیت کا خاکہ کھینچنے لگی۔
” آنکھیں اس کی اپنے بابا پر گئی ہے۔ جس کی آپ کی پھپھو بھی دیوانی تھی۔” عاتکہ کے ہونٹوں پر ایک آسودہ مسکراہٹ ابھری ۔
” اور پتہ ہے ایک شاکنگ نیوز ۔۔۔ انہوں نے مجھے پروپوز بھی کیا۔” زر کی بات پر عاتکہ کا چہرے پر ایک تاریک سایہ لہرایا۔
” تم نے کیا جواب دیا؟؟
” میں نے سوچنے کا ٹائم مانگ لیا۔ آپ فیصلہ کرنے میں میری مدد کرے نا۔ کیا جواب دوں؟؟ زر عاتکہ کی کیفیت سے انجان اپنی دُھن میں بول رہی تھی۔
“وہ حویلی والوں سے نفرت کرتا ہے۔۔میں نہیں چاہتی وہ تمہیں بطور مہرہ استعمال کرے۔” عاتکہ نے شفقت بھری نگاہوں سے زر کو دیکھا۔
” اور اگر واقعی وہ مجھے پسند کرتا ہو تو؟؟؟؟ زر کو اسکی بے تکلفانہ گفتگو یاد آئی تو جھرجھری لی۔
” پھر خودمختار ہوکر اپنے دل سے پوچھو۔ وہ کیا چاہتا ہے۔ مگر دل کے فیصلوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے پہلے دماغ کو بھی استعمال میں لاؤ۔کیونکہ تمہاری پوری زندگی کا انحصار اس فیصلے پر ہے۔۔” عاتکہ نے غیر جانب داری سے کام لیکر زر کی مشکل آسان کردی ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” بتاؤ اذلان بھائی کا نام کہاں پہ لکھوں؟؟ پیراڈائز سے سحر آئی تھی عنایہ اور زر کو مہندی لگوانے۔ زر کی مہندی مکمل ہونے کے بعد اب عنایہ کے ہاتھوں پر بڑی مہارت سے خوبصورت نقش نگاری کر رہی تھی او ساتھ ساتھ اسے چھڑانے کا کام بھی سر انجام دے رہی تھی۔
” ان کا نام لکھنا ضروری ہے کیا؟؟ عنایہ دانت پیس کر بولی۔
” پگلی ضروری ہے نا۔ میں ایسے چھپا کر لکھوں گی کہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ان کا کم از کم دس پندرہ منٹ کا ٹائم تو ضائع ہو ہی جائے گا۔۔اور یقیناً وہ مجھے کوسے گے بھی ۔ ” سحر نے اذلان کا نام لکھ کر اس کو اسکے اردگرد پھول بنائے کہ بمشکل اذلان کا نام نظر آنے لگا۔
” بدتمیز !! عنایہ نے اسے دھموکا جڑا۔
” آج اپنے مجازی خدا سے ملنا بالکل بھی نہیں۔ نا ہی مہندی دکھانی ہے ورنہ سارا سسپنس خراب ہو جائے گا۔ اور خبردار جو نام ڈھونڈنے میں ان کی مدد کی۔۔” سحر اسے تاکید کرنے لگی۔
” اب وہ آئیں گے تو میں منع تھوڑی کر سکتی ہوں۔ اور نا ہی وہ مجھ سے پوچھ کر آتے ہیں۔” اس کی بے باکیاں یاد کرکے عنایہ کی ہتھیلیاں پسینے سے نم ہوگئی۔
” بس جو بھی ہو۔ مہندی نہیں دکھانی۔ میں نے زر آپی کو بھی سٹریکٹلی وارن کیا ہے کہ آج آہل بھیا کے روم میں جانے کا سوچے بھی نہیں۔ پھپھو کی ساتھ سوجائے” سحر اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی۔
” اور تمہیں کیا آہل اتنا شریف لگتا ہے۔ ایک سیکینڈ کے لئے زر ان کے نظروں سے اوجھل ہوتی ہے تو وہ آسمان سر پر اٹھا دیتا ہے۔ وہ ایسے کسی بھی اصول کو تسلیم نہیں کرتا جو انہیں اپنی بیوی سے دور رکھے۔” عنایہ اسے آہل کے ارادوں سے آگاہ کرنے لگی۔
” واوووو بیوٹیفل !!! ثوبیہ بیگم عنایہ کو دودھ دینے آگئی تو ستائشی نظریں مہندی سے ڈھکے ہاتھوں پر پڑی۔ خود ہی دودھ کا گلاس عنایہ کی لبوں سے لگایا تو عنایہ غٹاغٹ پی گئی۔ سحر نے اس کے پیروں پر مہندی لگوائی تو ثوبیہ بیگم نے پیروں کے نیچے تکیہ سیٹ کردیا تاکہ مہندی خراب نا ہو۔
” سحر تم میرے ساتھ سو جاؤ نا آج رات.” اذلان کی بے قراریوں سے بچنے کے لئے چھوٹی سی کوشش کی۔
” بے وقوف ہوں کیا میں؟؟ بالکل بھی نہیں۔ اگر رات کو تمہارے شوہر آگئے تو میں کہاں منہ چھپاتی پھروں گی۔ مجھے آہل بھیا کی موم کیساتھ سونا ہے۔ ” سحر نے ہری جھنڈی دکھا دی۔ اور اٹھنے کے لئے پر تولنے لگی۔ عنایہ کے بالوں کو پونی میں باندھ کر لائٹ آف کرکے وہ روم سے نکل گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آپی !! بھیا آئے تھے کیا؟؟ سحر عاتکہ کے روم میں چلی گئی تو زر کو اسکی گود میں سر رکھے آنکھیں موندھ کر دیکھا تو پوچھ لیا۔
” نہیں !! تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ زر نے بند آنکھوں سے جواب دیا۔
” وہ میں جب عنایہ کے روم میں جارہی تھی تب مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپکی مہندی لگ گئی ہے کہ نہیں۔ میں سمجھی آپکو لینے آیا ہوگا۔” سحر بالوں میں تیل لگانے لگی کہ عاتکہ نے اس کے ہاتھ سے تیل کی شیشی لیکر اپنے پاس بٹھایا اور خود اسکے بالوں میں تیل لگانے لگی۔ اس کی نرم انگلیوں کی حرکت اپنے بالوں کی جڑوں میں محسوس کرکے سحر کے رگ رگ میں سکون اترنے لگا۔ اور آنکھیں بند ہونے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مسلسل بائیں طرف کروٹ لیکر سونے سے پیر دکھنے لگے تو ہلکا سا دائیں پیر کے انگوٹھے سے مہندی کو چھوا تو مہندی سوکھی ہوئی تھی۔ شکر کا کلمہ پڑھ کر دائیں طرف کروٹ لی تو پاس ہی تیز کلون کی مہک نتھنوں سے ٹکرائی تو بھاری پپوٹوں کیساتھ آنکھیں واہ کرکے دیکھنے کی کوشش کی مگر نائٹ بلب بھی آف تھا۔ اسلئے کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھی۔ ہاتھ بڑھا کر کچھ ٹٹولنے کی کوشش میں انگلیاں کسی چیز سے مس ہوئی تو ایک دم کسی احساس کے تحت ہاتھ پیچھے کی طرف کھینچنے لگی کہ اذلان نے اسکی نازک کلائی کو پھرتی سے اپنی سخت گرفت میں لیا اور اسکے ہاتھ کو ناک کے قریب لاکر مہندی کی بھینی بھینی خوشبو اپنی سانسوں میں انڈیلنے لگا۔ اسکی حرکت پر عنایہ موم کی مانند پگھلتی چلی گئی۔
” ااذلان!! اسکی ہتھیلی پر اپنے لب رکھے تو عنایہ خود میں سمیٹتی چلی گئی۔ عنایہ کی بے ہنگم دھڑکنوں کا شور کمرے کی پرفسوں ماحول میں اودھم مچا رہا تھا۔
” آپ تھوڑے پیچھے ہوجائے۔ میری مہندی خراب ہو جائے گی۔” عنایہ اتھل پتھل سانسوں کے بیچ بولی۔
” مہندی سوکھ گئی ہے بے بی !! اذلان کے برجستہ جواب پر عنایہ کا خلق خشک ہونے لگا
” پپ۔پانی دے۔” اٹکتے ہوئے ملتجی انداز میں اس نے پانی مانگا۔اذلان نے ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی بھر کر اسکے ہونٹوں سے لگایا تو وہ ایک سانس میں پی گئی ۔
” کول یار !! کیا ہوگیا اتنی سہمی ہوئی کیوں ہو۔” اذلان نے پانی کا گلاس دوبارہ ٹیبل پر رکھ کر نرمی سے اسکی پیٹھ سہلائی۔
” پتہ نہیں عجیب سی بے چینی ہورہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کچھ برا ہونے جارہا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے الگ کیا جارہا ہے۔ آپ کبھی مجھے چھوڑیں گے تو نہیں۔ میرا ساتھ نبھائیں گے نا۔” عنایہ ٹرانس کی کیفیت بول رہی تھی۔
” اچھا سوچو گی تو اچھا ہی ہوگا۔ ” اذلان نے اس کے گرد حصار بنا کر اپنی پناہوں میں لیا۔
اور نائٹ بلب ان کردی۔ اسکے سر پر بوسہ دیکر آرام سے بیڈ پر لٹایا۔ اور اس کے چہرے پر جھک کر اسکی نم آنکھوں پر باری باری بوسہ دیا۔ تو عنایہ ہر خوف پس پشت ڈال کر اسکے پیار بھرے لمس میں مدہوش ہونے لگی۔ اذلان کچھ لمحے اسکے حسین چہرے پر نگاہیں جمائے اسے نہارنے لگا پھر شدت سے اسکی صاف شفاف گردن پر جھک کر وہاں اپنی محبت بھری شدتیں لٹانے لگا۔ عنایہ نے اسکے گردن کے گرد بازوؤ حمائل کئے تو اسکے عمل میں تیزی اگئی۔ چند لمحے اس طرح سرکتے گئے کہ اذلان ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔ اور سرخ ڈوروں سے مزین خمار بھری نظریں عنایہ کی آنکھوں سے ٹکرائی تو عنایہ نے نگاہوں کا زاویہ تبدیل کیا۔
” آئی ایم سوری۔۔۔!! عنایہ کے لبوں کو نرمی سے چھو کر وہ اسکے پہلو میں لیٹ گیا اور عنایہ کا سر اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں موندھ گیا
” آج نہیں۔۔۔کل جب تم میرے لئے پور پور سج کر ملکہ بن کر میری سلطنت میں قدم رکھو گی تب میں تمہیں اپنی محبت کے رنگوں میں رنگ دوں گا۔ تمہارے پور پور پر اپنے نام کا مہر لگا دوں گا۔ اپنی بے چینیاں, بے تابیاں اور اپنا جنون تمہاری رگ رگ میں انڈیل کر تمہیں محبت کی بلندیوں پر پہنچا دوں گا۔ کہ پھر کوئی ہمیں ہمارے بیچ نہیں ائے گا۔” آنے والے کل سے باخبر اذلان اپنے دل میں مچلتے خواہشوں کو زبان دے رہا تھا۔ یہ جانے بغیر کہ کل تقدیر ان کی زندگیوں میں کونسا طوفان لانے والی ہے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” زر !!! اٹھو ۔۔۔” تیسری دفعہ آہل نے زر کے کندھے کو ہلکا سا جھنجھوڑا مگر وہ شائد سلیپنگ پلز لیکر سوئی تھی۔ کسی طرح کا ردعمل نہیں دیا تو آہل کو صحیح معنوں میں طیش دلا دیا۔ اپنی موم کے بازو سے اسکا سر آہستگی سے اٹھایا تو عاتکہ نیند میں کسمسائی۔ آہل نے اپنی ماں کے ماتھے پر لب رکھ کر زر کو اپنی باہوں میں اٹھایا۔ اور دبے قدموں روم سے نکل گیا۔
اپنے روم میں داخل ہوکر اس نے پیر کی مدد سے دروازہ اہستہ بند کردیا اور صوفے پر اطمینان سے بیٹھ کر زر کو گود میں بٹھایا تو زر نے مندی مندی آنکھیں کھول دی۔
” سونے دے مجھے آہل۔!! اسکے کندھے پر سر رکھ کر وہ دوبارہ آنکھیں بند کرنے لگی کہ آہل نے اسکے رخسار کے ساتھ اپنا ہلکے داڑھی والا گال ہلکا سا رب کیا تو بیئرڈ کی چھبن سے وہ پھر سے آنکھیں کھول گئی۔
” اتنا احساس بھی نہیں آپکو کہ بیوی سو رہی ہے تو اسکی نیند میں خلل نا ڈالا جائے۔ مگر یہاں آپ اپنی من مانیاں کر رہے ہیں۔” اسکی طرف غصیلی نظروں سے دیکھ کر زر نے گلہ کیا مگر آہل کے متبسم لب دیکھ کر وہ تلملایی۔
” تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ سوتے ہوئے تم اتنی حسین لگتی ہو۔ کہ کسی بھی عابد و زاہد بندہ بشر کا ایمان ڈگمگا سکتی ہو۔” آہل کو پرانے ٹون میں واپس آتے دیکھ کر وہ راہ فرار حاصل کرنے کے لئے اسکے سینے میں پناہ ڈھونڈنے لگی۔
” ایک دن کی بات تھی۔ گزارہ کر لیتے۔ صبح سحر اچھی خاصی دھلائی کردے گی میری۔ اور سب کے ساتھ ملکر میرا مذاق اڑائیں گے پھر۔ عنایہ کو بھی اس نے اذلان بھائی سے دور رہنے کی تاکید کی تھی۔” زر اسکے شرٹ کے بٹنوں سے کھیلنے لگی۔
” آپکی اطلاع کے لئے غرض ہے کہ تمہارا شریف بھائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرکے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی بیوی کے پاس پہنچ گیا ہے۔ تو اس جرم میں عنایہ تمہارے ساتھ برابر کی شراکت دار ہوگی۔” آہل نے سنجیدگی سے کہہ کر اسکے بالوں کو کیچر کی قید سے آزاد کردیا۔
” ہاں تو وہ آپ کی طرح بےباک تھوڑی ہے۔ صرف دور سے ہی اسکا دیدار کرکے واپس چلا جائے گا۔” اپنی کمر پر اسکے رینگتے ہاتھوں نے اسکے رخسار پر ہزاروں رنگ بکھر دئے۔
” خود سے اندازے لگانا بند کردو۔ کل عنایہ سے اپنے بھائی کی شرافت کا پوچھ لینا۔ جواب مل جائے گا۔” آہل نے اسکے بالوں میں چہرہ چھپا کر لمبی سانس کھینچی تو عنایہ نے جھرجھری لے کر آنکھیں موندھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماضی۔۔۔۔۔۔
” آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا۔ اگر کسی نے ہمیں یہاں دیکھ لیا تو میری شامت آ جائے گی.” آہل جو کافی دنوں سے زر سے ملنے کے لئے بےقرار تھا آج اسے ریسٹورنٹ بلا لیا۔
” تم نے میرے پروپوزل پر نظر ثانی نہیں کی۔” آہل ڈائریکٹ مدعے پر ایا۔۔
” میں آپ کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں. یہ جو آپ چہرہ چھپائے پھرتے ہیں اسکا راز جاننا چاہتی ہوں۔ اینڈ آئی ہوپ سو آپ سچ بولیں گے۔ کیونکہ کسی رشتے کی بنیاد سچ پر رکھی جائے تو رشتہ تاحیات برقرار رہتا ہے۔” زر نے جوس کا سپ لیتے ہوئے ایک اطمینان بھری نظر آپل پر ڈالی جو موبائل فون ہاتھ میں لئے کچھ ٹائیپ کر رہا کہ چلتی انگلیاں اچانک ساکت ہوگئی۔
” کیا تم حسن پرست ہو؟؟ آہل کے اچانک غیر متوقع سوال پر وہ کرنٹ کھا کر رہ گئی۔
” مجھے خود کا اشتہار بننا نہیں پسند. اپنے اردگرد لوگوں کا بھیڑ نہیں پسند. مطلب انسان کی کچھ اپنی پرائیویسی ہوتی ہے۔ مگر ادھر گھر سے باہر قدم رکھا ہی نہیں کہ میڈیا والے ہاتھ میں مائیک پکڑے سروں پر نازل ہوجاتے ہیں۔ سر آپکے ساتھ یہ لڑکی کون ہے؟؟ کیا آپکا ان کے ساتھ افئیر چل رہا ہے ؟؟ کیا آپکی یہ پہلی ڈیٹ ہے؟؟ کیا آپ دونوں شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟؟ فلاں فلاں ۔۔۔۔ اس قسم کے بے تکے سوالات کے کم از کم میں جوابات دینے کا قائل نہیں۔۔آج اگر تمہارے ساتھ دیکھ لیا اور کل کسی آفیشل ڈنر میں کسی اور لڑکی کے ساتھ تو مرچ مصالحہ لگا کر بات کو افئیر تک لے جاتے ہیں۔ زہر لگتی ہیں مجھے یہ سب چیزیں۔ اس لئے جب سے میں نے بزنس کی دنیا میں قدم رکھا ہے میرے نام کے علاؤہ کوئی کچھ نہیں جانتا۔ کیوں کہ میں نہیں چاہتا کوئی مجھے پہچانے۔ اور باقی رہی بات میرا چہرہ دیکھنے کی وہ بھی دکھا دوں گا مگر ابھی نہیں۔۔۔۔ آہل نے دونوں کہنیاں میز پر ٹکا کر اپنی جھیل سی آنکھیں زر کے خوبصورت نقوش پر گاڑ کر بھاری گھمبیر لہجے میں کہا۔
” مم۔ میں چلتی ہوں.” اس کی بے باک نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے وہ اٹھ کر جانے لگی کہ آہل نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے واپس چیئر پر بٹھایا۔
” اپنی ستائیس سالہ زندگی میں پہلی بار مجھے کسی کی معصومیت نے اپنی طرف مائل کیا ہے۔ ایسی بات نہیں کہ حسن و خوبصورتی سے میرا کھبی واسطہ نہیں پڑا۔ مگر تم میں کچھ تو الگ بات ہے کہ میں تم سے ملنے کے بعد کئی دنوں تک تمہارے سحر سے نہیں نکل پاتا۔ ہر لمحے شدت سے طلب ہوتی ہے کہ تم میرے پاس رہو میرے روبرو اور پورے استحقاق کے ساتھ میں۔۔۔۔۔”
” آہل پلیز !! مجھ سے ایسی گفتگو نا کیا کرے۔” چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپایے وہ اپنی خفت مٹانے کی تگ و دو میں تھی۔
” میں نانا سرکار کو تمہاری مرضی جاننے کے لئے بھجوا رہا ہوں۔ اور تم انکار نہیں کرو گی۔” زر کو اپنے روبرو کھڑا کرکے اسکے نازک مومی ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لیکر وہ آنکھوں میں جہاں بھر کی محبت سموئے اپنے الفاظ کا طلسم پھونک کر اسے زیر کرنے کی کوششوں میں تھا۔ زر اپنی کیفیت سے انجان اسکے سینے سے لگی اپنی کمزوری عیاں کرگئی۔ وہ آہل کو چاہنے لگی تھی مگر اقرار کرنے سے ڈر رہی تھی۔ اسکا یہ لاشعوری عمل آہل کو بہت کچھ باور کروایا گیا اور اس کے گرد بازوؤں حمائل کرکے اسکے سر پر لب رکھ دئیے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” ایک بار پھر سوچ لو بیٹا!! تم پر کوئی زبردستی نہیں۔ اور پھر تمہارا باپ تمہارا رشتہ ماموں کے بیٹے کے ساتھ طے کرنے کا خواہشمند ہے۔” عالم میر نے اس کے سامنے آہل کا پروپوزل رکھا تو وہ بلا چوں وچرا مان گئی۔
” دادا سرکار !! مجھے آپکا اکڑو, سرپھرا نواسا اچھا لگنے لگا ہے. اور حسان تو سوہا میں انٹرسٹڈ تھا نا, بابا سرکار نے انکو قائل کر لیا کہ پہلے بڑی بیٹی کی شادی ہوگی تو پھر سوہا کی باری آئے گی۔ اور مجھے آہل چاہئے” اتنی بے تکلفی تھی دونوں دادا پوتی میں کہ زر برملا اپنی پسندیدگی کا اظہار کرگئی۔
” ٹھیک ہے۔ آہل نکاح پر زور دے رہا ہے۔ مگر میں نہیں چاہتا جو کچھ تمہاری پھپھو جھیل چکی ہے وہ تمہارے ساتھ بھی ہو۔ اسلئے ابھی جلدبازی میں فی الحال نکاح والی بات ٹھیک نہیں۔” دادا سرکار توہمات کا شکار تھے۔
” میں پھپھو والی غلطی نہیں دہراوں گی دادا سرکار!! مگر بغیر کس جائز حوالے کے پھر میں آہل سے نہیں مل سکتی۔” زر آہل کے مکروہ ارادے جانے بغیر اسکی باتوں پر ایمان لائیں تھی اور دادا سرکار کو فورس کرنے لگی۔
” ٹھیک ہے۔ یہ سراسر تمہارا فیصلہ ہوگا۔ اگر خدانخواستہ کبھی زندگی میں اس فیصلے پر پچھتانا پڑا تو مجھے دوش مت دینا۔” دادا سرکار نے ہتھیار ڈال دئے۔