Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول میرے نصیب
از قلم رمشا خان
ایپیسوڈ # 07
” تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو. اتنی اکڑ کس بات کی ہے تمہیں ۔کب سے وضاحتیں دے دے کر تھک گیا میں. کہ مجھے جہیز وغیرہ میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔ یا پھر تم نے کسی اور کو اپنے اداؤں کا اسیر بنایا ہے. کوئی اور مجھ سے بہتر مل گیا ہے. یا مجھ سے امیر باپ کی اولاد کو جال میں پھنسایا ہے۔ تم جیسی یتیم لاوارث لڑکیوں کا تو کام ہی …….”
” چٹاخ!!!!!!!
فضا میں تھپڑ کی زوردار آواز گھونجی۔
” میں سحر یزدان ہو. کس نے بولا میں دو ٹکے کی لڑکی ہوں. یتیم ضرور ہوں مگر لاوارث نہیں. ایک شہزادے کی بہن ہوں. جو میری ماں, میراباپ, بھائی دوست سب کردار خوش اسلوبی سے نبھا کر مجھے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتے ہیں۔ زمانے کے گرم سرد ہوا سے بچا کر رکھتا ہے۔ آہل یزدان کی بہن ہوں میں. تم جیسے بدتمیز, بد اخلاق اور لالچی انسان کو میں جوتی کی نوک پر رکھنے کی روداد نہیں۔ میرے بھائی نے تمہیں پرکھنے میں کوئی غلطی نہیں کی. تم جیسے سڑک چھاپ غنڈے موالی جیسے لڑکوں کو وہ ایک نظر دیکھ کر پہچان لیتا ہے۔” سحر نے ہنکارا بھر کر استہزائیہ لہجے میں اسے آئینہ دکھایا۔ جو روز کی طرح آج پھر سحر کے پیچھے کالج کی گیٹ تک آیا تھا. جب بات نہیں بنی تو اپنی اوقات دکھا کر کردار پر انگلی اٹھانی شروع کردی۔
مہد جو اپنی بہن کو پک کرنے کالج آیا تھا. سحر کو کسی لڑکے کی ساتھ بحث کرتے اور اسے تھپڑ مارتے دیکھ کر قریب آیا تھا.مگر اسکی دیدہ دلیری دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرکے سامنے منظر سے مخفوظ ہونے لگا۔
“تت تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔ اس نے سحر کے سر سے اسکارف اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔
“اگر مزید خود کا تماشا نہیں بنانا تو چپ چاپ واپس جلتے بنو۔ لڑکی کے ہاتھ سے مار کھا چکے ہو تم۔ اور وہ بھی اتنے لوگوں کی موجودگی میں۔ تمہیں تو چھلو بھر پانی میں ڈوب کر مرنا چاہئے۔” مہد نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ وہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر پلٹنے لگا لیکن سحر کو خون آشام نظروں سے دیکھ کر وارن کرنا نہیں بھولا۔
“بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی تمہیں اس تھپڑ کی۔”
“جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لے. اس کے بعد اگر کتے کی طرح راستہ روکنے اور بھوکنے کی کوشش کی تو ابھی تو صرف تھپڑ ماردیا, پھر ہاتھ پیر تڑوا کر ٹنڈ کرواکر بازار میں دوڑاؤں گی.” سحر دوبدو بولی۔
“تم لوگوں کی گاڑی کہاں ہے۔ ؟؟ عامر کے جانے کے بعد مہد نے پوچھا۔
“وہ گاڑی میں کوئی فالٹ آیا ہے۔ تو ہم نے سوچا بھیا کو زحمت دیے بغیر خود چلے جائیں گے۔ ویسے بھی بھائی آؤٹ آف کنٹری ہیں. اپنے چھوٹے جھوٹے کاموں کے لیے انکو زحمت دیں گے تو کب اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے۔ مگر اب لگتا ہے بھیا کے عتاب کا نشانہ بننے والے ہیں ہم۔ شدید قسم کی ڈانٹ پڑنے والی ہے” سحر کے اوازمیں فکر و اندیشہ صاف ظاہر تھا۔
“تو اسے بتانے کی کیا ضرورت ہے. جانتی ہو نا اپنے بھیا کو. سولی پر چڑھا دےگا اس کمینے کو۔” مہد آہل کے رگ رگ سے واقف تھا۔
“چلو تم لوگوں کو ڈراپ کردیتا ہوں. مہد نے آفر کی تو سحر سمیت تینوں لڑکیاں اسکی گاڑی تک اگئی۔ اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔
“کنزہ یہ سحر ہے آہل کی بہن !! مہد نے اپنی بہن کو دیکھا جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی پیشانی پر لاتعداد بل لئے کن اکھیوں سے پہلے اسے اور پھر پیچھے بیٹھی چار لڑکیوں کو دیکھ رہی ہے۔
“اوہ۔۔۔ ہیلو !!!! اچانک ہی آہل کے نام پر کنزہ نے پنتیرا بدلا۔
“آہل بھائی کی بہن کو اتنا پیارا ہی ہونا چاہیے۔” اس نے سحر کی دلکش نقوش پر ستائشی نظر ڈالی۔
“تھینکس!! دیکھنے والی آنکھیں خوبصورت ہو تو سامنے موجود ہر چیز خوبصورت دکھائی دینے لگتی ہے۔” سحر نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
“تم لیڈیز پھر کبھی فرصت میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنا۔۔ پہلے یہ بتاؤ کہاں ڈراپ کرنا ہے۔” مہد نے بیک ویو مرر میں سحر کو نظروں کے حصار میں لیکر پوچھا تو وہ جزبز ہوگئی۔
“پیراڈائز…” یک لفظی جواب ملا۔
پیراڈائز لفظ سن کر کنزہ کے ہونٹ تعجب سے پھیلے۔۔ وہ کچھ بولنے والی تھی کہ مہد نے اسکی آنکھوں میں پلتے سوال پڑھ لئے اور اشارے سے اسے چپ رہنے کا بولا۔
پیراڈائز کے سامنے سب کو اتارا تو سحر کنزہ کی سائیڈ پر آگئی اور شیشہ ناک کیا۔ کنزہ نے شیشہ نیچے کیا۔
“کبھی فرصت ملے تو ہماری جنت میں آجانا۔ آپکو اچھا لگے گا۔ یہاں موجود ہر لڑکی کے پاس ایک ہی سگا رشتہ ہے۔ وہ ہے آہل یزدان۔ آپکو خیرت ہوگی نا؟؟ مگر یہی حقیقت ہے۔۔ اینڈ تھینکس ڈراپ کرنے کے لئے۔” کنزہ ہونق بنی اسے دیکھتی رہی اور وہ مسکراہٹ اچھال کر چلی گئی۔
“میں سمجھی آہل بھائی کی سگی بہن ہے۔ مطلب کچھ بھی۔ کسی بھی راہ چلتی لڑکی کو آپ اس کی بہن سمجھ کر لفٹ دیں گے۔” کنزہ پست ذہنیت کی ثابت ہوگئی۔
“سگی ہی تو ہے. اور تم کب سے اتنا نیگیٹیو سوچنے لگی؟؟ مہد کو اپنی بہن سے یہ امید نہیں تھی۔
“اوہ کم آن بھائی!! اتنا لو سٹینڈرڈ نہیں ہے آہل کا۔ بزنس کی دنیا کا ابھرتا ہوا تارا ہے۔ اب یتیم خانے کو چلا رہا ہے تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں کی ہر لڑکی خود کو اسکی بہن کہہ کر متعارف کروائے۔ ہنہنہ!! کنزہ نے استہزائیہ ہنکارا بھرا۔
مہد نے لب بھینچ کر تاسف سے سر ہلایا۔ اب بہن کی سوچ کو وہ بدل نہیں سکتا ہے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آہل کو گئے بارہ دن ہوگئے تھے. عنایہ نے روم سے نکلنا کم ہی کردیا تھا۔ بوقت ضرورت نکلتی۔ آہل نے دو گھنٹے کا لیکچر دے کر اسے اچھے سے سمجھایا تھا کہ حویلی والوں سے بچ کر رہنا.. آستین کا سانپ ہیں۔ کسی بھی وقت ڈس سکتے ہیں. سحر نہایت سمجھدار اور قابل اعتبار لڑکی تھی اسلئے آہل نے اسے سے اپنے اور زر کے رمیان تعلق کا بتایا تھا. جبکہ عنایہ لاعلم تھی.
وہ تینوں بھائی جو اپنی چال چلنے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے آج وہ موقع مل ہی گیا تھا. آہل سےصبح ویڈیو کال پر بات کرنے سے طبیعت میں سرشاری عود آئی تھی تو آج ناشتہ روم سے باہر کرنے کا من کیا. ڈائیننگ ٹیبل سے اٹھ کر گئی تو اپنا موبائل وہی بھول گئی تھی. سلطان میر نے نظر بچا کر موبائل کوٹ کی جیب میں رکھ دیا.
عنایہ روم میں جاکر لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گئ اور اپنی اسائمنٹ مکمل کرنے لگی. دوپہر کے تین بج گئے تو آرام کی عرض سے لیٹ گئی کہ آنکھ لگ گئی.
آج بھی وہ تینوں لان میں ساتھ بیٹھے عنایہ کا موبائل ہاتھ میں پکڑے خباثت سے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے لگے۔ اس نے عنایہ کے موبائل سے اذلان کو میسج لکھ کر سینڈ کردیا تھا اور اب وہ نتائج کا ویٹ کرنے لگے.
تھوڑی ہی دیر بعد پورچ میں اذلان کی گاڑی آکر رکی تو تینوں چوکنا ہوگئے. مطلب کھیل شروع ہوچکا تھا. وہ عجلت میں گاڑی سے نکل کر حویلی کے اندر داخل ہوگیا اور عنایہ کے روم کے سامنے کھڑے ہوکر ہلکا سا ڈور ناک کیا مگر جواب ندارد..
پھر ہمت مجتمع کرکے آہستہ سے دروازہ کھول کر روم میں قدم رکھا .دن کے وقت بھی روم میں ملگجہ اندھیرا تھا. پردے گرائے تھے. اس نے بیڈ کی جانب قدم بڑھائے.
عنایہ کے سرہانے دوزانو بیٹھ کر اس نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا .بے انتہا حسن سے مالا مال, سرخ و سپید چہرے پر لمبی گھنیر پلکیں اسکی دھڑکنیں منتشر کرنے لگا. “جب تک چپ ہو تب تک کیوٹ ہو ورنہ تمہاری یہ بدتمیز اور بد اخلاقی بھی جان لیوا ہے جس سے ہم عشق کرنے لگے ہیں.” اپنے جذبوں پر بندھ باندھ کر ہلکا سا اسکا کندھا جھنجھوڑا.
“عنایہ!! عنایہ نے نیند میں کروٹ لی.
اذلان نے پھر سے پکارا.
“عنایہ!! ویک اپ. اگر طبیعت ذیادہ خراب ہو تو ڈاکٹر کے پاس چلے؟؟
عنایہ نے نیند سے بوجھل آنکھیں کھولی تو اذلان کو اپنے اوپر جھکا دیکھ کر اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے.
“تت۔تم !! تم یہاں کیا کر رہے ہو.” وہ جلدی سے سائیڈ میں رکھا دوپٹہ اوڑھ کر بیٹھ گئی.
“کیا مطلب کیا کر رہا ہوں؟؟ تم نے خود بلایا تھا مجھے.” اذلان کے ماتھے پر شکن پڑ گئے.
“میرے چہرے پر پاگل لکھا ہے کیا !! جو تمہیں بلاؤں گی. اور بلاوں گی بھی تو کس حق سے. نکل جاؤ میرے روم سے۔ کسی نے دیکھ لیا تو میری بدنامی ہوگی.” عنایہ کو تو اسکی بات سن کر پتنگیں لگ گئی.
“ویٹ ویٹ !! اگر یہ مذاق ہے عنایہ تو بہت برا مذاق تھا. میں تمہارے ایک میسیج پر اپنا امپورٹنٹ کام چھوڑ کر بھاگ کر آیا ہوں اور تم میری انسلٹ کر رہی ہو. ” اذلان ماننے کو تیار ہی نہیں تھا. جو اس کو بلا کر اب انجان بننے کا ناٹک کر رہی تھی۔
“کون سا میسج ؟؟ کہاں کا میسیج؟ اپنے دماغ کا علاج کرواؤ. مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے جو میں تمہیں میسیج کرکے بلاؤں گی. اور نا ہی میرے پاس تمہارا نمبر ہے.” عنایہ بپھر گئی.
“اگر تم نے نہیں کیا تو تمہارے موبائل سے خود میسیج ٹائپ ہوکر مجھے سینڈ ہو گیا.” اذلان نے اپنا موبائل اس کے سامنے کردیا.
” میری طبیعت بہت خراب ہے۔ پلیز آپ جلدی آ جائے۔مجں روم میں ہوں۔ مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا.” عنایہ نے تیز آواز میں میسیج پڑھ کر نمبر دیکھا۔ تو اس کا نمبر تھا. اس نے جلدی موبائل کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔
“یہ۔۔یہ میں نے نہیں کیا !! اور میرا موبائل؟؟ اس نے کمبل الٹ دیا۔ ہر چیز تہس نہس کردی, مگر موبائل نہیں ملا.
جبکہ اذلان کی سوئی میسیج میں لکھے گئے لفظ “آپ” پر اٹکی ہوئی تھی.
“میں نے پہلے کیوں دھیان نہیں دیا. عنایہ “آپ” لفظ غلطی سے بھی استمعال نہیں کرتی تھی. کال بیک کرکے پوچھ لینا چاہئے تھا۔” لیکن عنایہ نام دیکھ کر اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوچکی تھی اسلئے عجلت میں نکل گیا. کسی انہونی کا احساس ہونے لگا . تو خواس باختہ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا جبکہ عنایہ خود بھی موبائل ڈھونڈنے باہر کی طرف قدم بڑھانے لگی۔ اذلان نے جیسے ہی دروازے پر ہاتھ رکھا. شک یقین میں بدل گیا دروازہ لاکڈ تھا۔ دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی. آنکھوں میں بے بسی لئے پیچھے مڑ کر عنایہ کو دیکھا تو عنایہ کے قدم لڑکھڑائے۔ مطلب دونوں ٹریپ ہوچکے تھے.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“یہ دروازہ کیوں لاک کردیا ہے تم نے. کس ارادے سے میرے روم میں آئے تھے ؟؟ عنایہ نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیر دی.
“مم۔ میں نے نہیں کیا یہ!! تم میری بات تحمل سے سنو. ہمیں کسی نے پھنسایا ہے۔ ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت. پہلے تمہارے نمبر سے مجھے مسیج کرنا, مجھے روم میں بلانا, باہر سے دروازہ لاک کرنا.” اذلان نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی.
“کیا مطلب کسی کی سازش ہے!! یہ تمہارا گھر ہے نا۔ تو تمہارے گھر میں بھلا کوئی کیوں تمہیں پھنسانے کی کوشش کرے گا. یہ سب تمہاری کارستانیاں ہیں. شرافت سے دروازہ کھول دو. ورنہ میں چیخ کر سب کو بلادوں گی اور تمہارا یہ مکروہ چہرہ سب کے سامنے پیش کروں گی.” عنایہ سارا ملبہ اس کے سر ڈال کر غرائی.
“ششش!! بڑا شوق ہے خود کا اشتہار لگوانے کا تو شوق سے چیخو. بھلا میں کیوں خود کو بدنام کرکے زلیل کرواؤں گا. ہوش میں تو ہو”” اذلان خود تذبذب کا شکار تھا. یہ گھناؤنا کھیل کون کھیل سکتا ہے. اس نے ہزار بار کوشش کی دروازہ کھولنے کی, نا کھلنا نا نہیں کھلا. اب تو اسے بھی تشویش لاحق ہوگئی. سارے دراڑ ,کبرڈ کنگال دئے۔ مگر چابیاں نہیں ملی. وہ بے سدھ سا صوفے پر بیٹھ گیا.
عنایہ غصے سے اس کی ساری کاروائی ملاحظہ کر رہی تھی. سب اسکا ڈرامہ سمجھ کر اس نے زور زور سے دروازہ بجانا شروع کردیا۔
“کوئی ہے دروازہ کھولے پلیز!! جبکہ اذلان آنے والے لمحات کا سوچ کر ہاتھوں میں سر گھرائے بے خود سا بیٹھا تھا۔ جبکہ وہ پاگلوں کیطرح چیخ کر سب کو بلا رہی تھی.
ایک دم دروازہ کھلا اور سامنے کا منظر دیکھ کر حقیقی معنوں میں عنایہ کے پیروں تلے زمین کھینچ لی گئی. کیونکہ گھر کے مردوں سمیت حواتین,بچے, ملازمین سب دروازے پر جمع تھے. وہ بے یقینی سے سب کیطرف دیکھنے لگی. جبکہ اذلان کی ہمت نہیں تھی سر اٹھانے کی.
“کیوں چلا رہی ہوں لڑکی!! کیا آفت آن پڑی ہے؟؟ سلطان میر کی آواز سے سب کا سکتہ ٹوٹ گیا. اور سب سے پہلے ایاز میر نے اس کو سامنے سے ہٹا کر اندر قدم رکھے تو اذلان کو صوفے پر بیٹھتا دیکھ کر آنکھوں میں ڈھیر سارا مصنوعی تحیر ابھر لایا۔
“تم دونوں ایک ساتھ ایک روم میں کیا کر رہے تھے.” سنجیدگی اور بے نیازی کی دبیز چادر اوڑھے وہ باری باری عنایہ اور اذلان سے مخاطب ہوا.
“بابا آپ میری بات سنے!! وہ سرعت سے اٹھ کر اپنے باپ کے قریب آیا۔
” ہمیں کسی نے پھنسانے کی کوشش کی ہے. یہ دیکھیں میرے موبائل پر اس کے نمبر سے میسج آیا ہے. جبکہ اسکا موبائل اس کے پاس ہے ہی نہیں. میں سمجھا اسکی طبیعت خراب ہوگی تو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا۔ مگر جیسے ہی میں اندر گیا یہ بلکل ٹھیک تھی۔ اسکا موبائل غائب, اور دروازہ کسی نے باہر سے بند کردیا.” اذلان نے ایک سانس میں پوری بات بتا دی. جبکہ اسکے برعکس عنایہ آنکھیں پھاڑے حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی.
ایاز میر نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو ڈریسنگ ٹیبل پر نظر ٹہر گئی۔ سب نے اس کے نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہاں موبائل پڑا تھا. جو سلطان میر کے ہاتھوں کی صفائی کا منہ بولتا ثبوت تھا.
“یہ۔یہ نہیں تھا یہاں!! آئی سوئیر بابا. ہم نے ہر جگہ چیک کیا تھا۔ تم بتاؤ نا عنایہ یہ موبائل فون یہاں نہیں تھا.” اس نے اب عنایہ کیطرف مدد طلب نظروں سے دیکھا.
“بند کردو اپنا یہ ناٹک!! سب جانتی ہوں میں۔ یہ تم حویلی والوں کا کیا دھرا ہے. تم باپ بیٹے ملکر مجھے بدنام کرنا چاہتے ہو نا تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا.” عنایہ نے انگلی اٹھا کر سب کو تنفر کی نظر سے دیکھا۔
“دیکھ رہے ہیں آپ بھائی صاحب!! چوری اوپر سے سینہ زوری. دن دیہاڑے ہمارے بچے کو روم میں بھلا کر رنگ رنگلیاں مناتے ہوئی پکڑی گئی ۔اور پھر بھی بے شرموں کی طرح ہمیں الزام دے رہی ہے.” زر اور شزا دونوں کے چہرے لٹھے کی مانند سفید پڑھ گئے تھے. شزا تو اذلان کی آنکھوں میں عنایہ کے لئے واضح پسندیدگی دیکھ چکی تھی۔ جبکہ زر کو عنایہ کی آنکھوں میں سچائی صاف دکھ رہی تھی. آہل اسکو تاکید کرکے گیا تھا کہ عنایہ کا خیال رکھے. تو کیا ماضی پھر سے پلٹ کر آگیا. برسوں پہلے جو طوفان آیا تھا وہ پھر سے سر اٹھا گیا. پھر سے کوئی کھیل کھیلا گیا ۔ کوئی سازش رچائی گئی۔ اور کھیلنے والے دودھ میں سے مکھی کیطرح نکل کر کامیاب ہو جائیں گے. پھر سے کوئی بےگناہ لڑکی معاشرے کی بے انصافی کے نذر ہو جائے گی. پھر سے کوئی بچہ اپنوں سے بچھڑ جائے گا؟؟ کئی سوال زر کے دل کو چھیدنے لگے. یہی حال عاتکہ کا تھا.
“چچا سرکار!! آپ کیسے ایسا بول سکتے ہیں۔عنایہ پر نہیں تو کم از کم اپنے خون پر تو بھروسہ رکھیں. مجھ پر تو یقین رکھے.” اذلان سرخ آنکھیں لئے سلطان میر کے سامنے کھڑا ہوگیا. تو سلطان میر نے ایک زور دار چھانٹا اس کے منہ پر مارا.
“کیا کمی رہ گئی تھی ہماری تربیت میں جو تم نے یہ غلیظ قدم اٹھا لیا. اگر پسند کرتے تھے اس لڑکی کو تو ہمیں بتا دیتے۔ ہم عزت سے تم دونوں کی شادی کروادیتے۔ مگر۔۔۔۔”
‘بس کردے آپ چچا سرکار!! اور کتنا گریں گے. ہم نے کچھ نہیں کیا. مما!! آپکو یقین ہے نا اپنے بیٹے پر. مجھے آپکی سر کی قسم!! ہم دونوں کچھ نہیں جانتے. یہ کسی نے جان بوجھ کر یہ گھٹیا حرکت کرکے ہمیں پھنسایا ہے.” ہر طرف سے مایوس ہوکر وہ آخری امید لیکر اپنی ماں کے قریب آیا. اسکو اپنے بیٹے پر یقین تھا۔ اسکی ممتا گواہ تھی مگر یہاں کی عورتوں کی آواز کو ازل سے دبا دیا جاتا تھا. مردوں کی بات سے اختلاف کی صورت میں اسے رشتے اور گھر دونوں سے بے دخل کر دیا جاتا تھا. اس نے خاموشی سے سر جھکایا.
“کھاؤ اپنی ماں کی سر کی قسم کہ تم اس لڑکی کو پسند نہیں کرتے تھے. ہم نے کئی بار تم دونوں کو اکیلے گپیں ہانکتے دیکھا ہے.” سلطان میر نے آخری داؤ کھیلا.
“ہاں کرتا ہوں پسند. لیکن عورت کی عزت کرنا جانتا ہوں. میں نے کوئی غیر اخلاقی اور گری ہوئی حرکت نہیں کی.” اظہار بھی کیا تو کن حالات اور کن الفاظ میں۔ عنایہ کو اس پر یقین ہونے لگا کہ ایک انسان چاہے کتنا بھی گرجائے اپنی ماں کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا.
“دیکھ لیا بھائی صاحب!! دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے.” سلطان میر پھر سے بھڑک اٹھا.
“پھپھو!! آپ تو کرے یقین میرا. آپ کی گود میں پلا بڑھا ہوں میں.” اذلان ہر طرف سے مایوس ہوکر عاتکہ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ تو عاتکہ نے سے خود سے لگایا. مگر وہ بھی بے بسی کے ڈوروں میں بندھی ہوئی تھی.
جبکہ عنایہ کے آنسو لڑیوں کی شکل میں پہنے لگے
“نا رو میرا بچہ !! یہاں تو ایک سگی ماں کو اپنے بچوں کی تربیت پر شک ہیں جسکے کھوکھ سے جنم لیا ہے. مگر میں نے صرف تمہاری پرورش کی ہے۔ مجھے اپنی بچی پر بھروسہ ہے۔” بی اماں نے عنایہ کو خود سے لگا کر پیار کیا۔
” یا اللّٰہ میں آہل کو کیا جواب دوں گی؟ وہ میرے سہارے عنایہ کو چھوڑ کر گیا تھا.” زر کی حالت ایک دم خراب ہوگئی۔ اسے چکر آنے لگے
ہواس کھونے لگی۔۔۔۔۔
“زر آپی….!! اسامہ کی نظر سب سے پہلے زر پر پڑی تو وہ دوڑ کر آیا اور اسے بازوں میں بھر کر گرنے سے بچایا.
سب زر کی طرف متوجہ ہوگئے.
“زر میری بچی!! عاتکہ بھی اسکے پاس آئی۔ اسے عنایہ کی بیڈ پر لٹایا. تو اسکی ماں نے جلدی سے پانی کی چھینٹیں اسکے منہ پر مارے ۔
تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دی تو زور سے ابکائی ائی۔ جلدی منہ پر ہاتھ رکھ کر واش روم کی طرف دوڑی. سب کی متخیر نظریں اب زر پر ٹکی ہوئی تھی. جبکہ عاتکہ کو لگا کہ وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی.
” اسامہ ڈاکٹر کو بلاؤ جلدی !! شزا کو ہوش آیا تو اسامہ کو محاطب کیا.
“جی…..!! اسامہ سر ہلا کر چلا گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“شی از ون منتھ پریگننٹ !! ڈاکٹر کی آواز تھی کہ بم… سب کے سروں کے اوپر ساتوں آسمان دھڑا دھڑ گرنے لگے. حواس برف کی طرح منجمد ہوچکے تھے.
ڈاکٹر جاچکا تھا. سب خالی الذہنی کی کیفیت میں شانت بیٹھے تھے. جیسے بہت بڑا طوفان ہر طرف تباہی مچا کر تھم گیا ہو۔ کیا مکافات عمل اتنی جلدی وقوع پذیر ہوتا ہے. دوسروں کی بیٹی کو بدنام کرنے چلے تھے اپنی ہی بیٹی گناہگار ٹھہری.
“زر !!! کس کا بچہ ہے یہ؟؟ سب سے پہلے اذلان نے حالات کی کشیدگی کو سائیڈ پر رکھ کر نرمی سے استفسار کیا.
“بھیا وہ…. !! آنسو کا سیلاب بند توڑ کر رواں دواں ہوگیا. بلا ارادہ نظر اسامہ پر پڑی تو شرمندگی سے سر جھکا دیا۔ کیونکہ اسامہ کی نظروں کی سرد مہری اسے باور کروا گئی کہ وہ جانتا ہے بچے کا باپ کون ہے۔ اور حقیقت بھی یہی تھی۔۔
“بتاؤ آوارہ بدچلن !! کس کیساتھ منہ کالا کردیا ہے. یہ ہمارے بچوں کو ہو کیا گیا ہے. کس چیز کی کمی تھی تم لوگوں کو؟ کیوں بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہو سب کے سب .” سلطان میر نے اگے بڑھ کر زر کو ایک ساتھ دو تین تھپڑ رسید کردیے. ویسے بھی اسکے سارے پلان چوپٹ ہوگیا۔ جبکہ عاتکہ آنکھیں بند کرکے دل میں خدائی مدد کی طلبگار تھی.
“یا اللّٰہ آہل کو بھیج دے.”
“بولتی کیوں نہیں !! کس کے گناہ کا بوجھ اٹھا کر گھوم رہی ہو.” ایاز میر نے طیش میں آکر اپنی بیٹی پر ہاتھ اٹھانا چاہا کہ اذلان نے ہوا میں روک دیا.
” اگر وہ اپنی صفائی میں کچھ بولے گی تو کیا آپ لوگ یقین کر لیں گے ؟؟ میں وضاحتیں اور اپنی بے گناہی کے ثبوت اور قسمیں دے دیکر تھک گیا۔ آپ لوگوں کو یقین آگیا کیا؟؟ نہیں نا ۔یہاں چھ فٹ کا ایک مرد خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام ہے تو ایک کمزور لڑکی کی بات کا خاک یقین کرنا ہے آپ سب نے.” اذلان پھٹ پڑا.
“تم بڑھاوا دے رہے ہو اسے۔ اس کے گناہ کی پردہ پوشی کر رہے ہو۔” ایاز میر اپنے بیٹے کے دلائل سن کر بل کھا کر رہ گیا۔
“یہ بڑھاوا نہیں ہے۔ عبرت ہے آپ لوگوں کے لئے۔ دوسروں کی بیٹیوں پر اٹھنے والی انگلی اپنے ہی گھر کی دہلیز پر آکر رک جاتی ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں اور عنایہ بے قصور ہیں, مگر آپ لوگ پے درپے الزامات لگا کر میری اور اس کی کردارکشی کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ اس پورے گیم کا ماسٹر مائنڈ کون ہے مگر خالات پلٹا کھا چکے ہیں۔ اور ابھی ثابت نہیں ہوا ہے کچھ بھی. ” ازلان نے تاسف بھری سرد آہ خارج کی۔
جبکہ اسکی ماں منہ پر ہاتھ رکھ کر ہچکیاں دبائے رو رہی تھی. نا بیٹے کی بے گناہی میں کچھ بول پائی نا ہی بیٹی کے قصوروار ہونے میں منہ کھولا. بس چپ چاپ تماشائی بنتے دیکھنے لگی.
“میں کسی کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں. سمجھے آپ لوگ.” زر ہذیانی کیفیت میں چلائی اور بلکتے ہوئے دیوار کے سہارے زمیں پر بیٹھتی چلی گئی.
حدید بھی آگیا تھا سب بڑے سے ہال میں جمع تھے. ایک طرف اذلان اور عنایہ کا سن کر وہ حیران تھا تو دوسری طرف زر کی پریگننسی.
“کیسے جواب دہ نہیں ہوں گی. بتاؤ بچے کا باپ کون ہے.” ایاز میر تلملایا.
“میں” بھاری گھمبیر آواز نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔
“آہل!!! زر کے لب بے آواز متحرک ہوئے. اور ایک دم وجود میں توانائی کی لہر دوڑ گئی اور بھاگ کر آہل کے سینے سے لگ گئی۔
خلاف توقع آہل کو اپنے بے انتہا وجاہت لئے سامنے کھڑا دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت و بے یقینی سے پھیل گئی. تھکن سے چور, بکھرے بال, صبیح پیشانی پر لاتعداد شکن لئے, کوٹ بازو پر ڈالے, کپ کہنیوں تک فولڈ کئے ازلی اعتماد کے ساتھ لوٹا تھا. بارغب نقوش میں ناگواری کے اثرات نمایاں ہوگئے.اور زر کے گرد حصار باندھ کر متوازن چال چلتا ہوا سب کے بیچوں بیچ آکھڑا ہوا تھا.
“یہ میرا بچہ ہے. کسی میں ہمت ہے تو مجھ سے روبرو بات کرے. تم لوگ ہمیشہ سے کمزوروں کو کیوں کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہو۔” آہل تحمل سے سینے پر ہاتھ باندھ کر گویا ہوا. جبکہ اس کا کہا گیا ایک ایک لفظ وہاں موجود لوگوں کے رگ و پے کو چیرتا ہوا گزر گیا. جبکہ زر کے چہرے پر تھپڑ کے نشان دیکھ کر سب پر کینہ توز نگاہیں ڈال کر اس نے ضبط سے ہونٹ بھینچے۔
” کس نے نے جرات کی ہے اس پر ہاتھ اٹھانے کی۔؟؟ زر کے رخسار پر نرمی سے بوسہ دیکر وہ زخمی شیر کی طرح پھنکارا۔ مگر اسکی اتنی بے باکی پر حویلی کے مرد سیخ پا ہوگئے جبکہ عورتوں نے ندامت سے سر جھکا لئے۔۔
” میں نے مارا ہے اسے. یہ تو صرف تھپڑ تھا میں اسے جان سے مار ڈالوں گا۔ اس نے ہماری عزت کے پرخچے اڑا دیئے. اور تمہاری یہ مجال ہمارے ناک کے نیچے سے ہماری بیٹی کی عزت داغدار کی. عورت کے حوالے سے تمہارے وہ بڑے بڑے دعوے فریب نکلے. یہ سب کرنے کیلئے یہاں پر آئے تھے تم !! احسان فراموش۔” سلطان میر نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھ کر منہ سے آگ اگل رہا تھا.
“ذبان سنھبال کے سلطان میر !! کسی کے باپ میں اتنا دم نہیں کہ اہل یزدان سےسوال و جواب کرے یا انگلی اٹھائیں.اور یہ سب کچھ میری غیر موجودگی میں کیا تم نے۔ میرے سامنے اسے ہاتھ لگائے ذرا میں مان جاؤں گا کہ تم واقعی مرد کہلانے کے قابل ہو. کچھ لمحے نظروں سے اوجھل کیا ہوگیا یہاں تو کایا پلٹ گئی. پانی پت کا میدان بن گیا ہے.اور کونسے احسان کی بات کر رہے ہو تم. زرا روشنی ڈالنا پسند کرو گے . ویسے وہ کیا کہتے ہیں لوگ۔۔۔
°°کردار جن کے خود مرمت مانگ رہے ہیں۔۔۔۔
نکلے ہیں وہ لوگ میری شخصیت بگاڑنے۔”
آہل کا انداز ٹھٹھرا دینے والا تھا.
ایاز میر کا خرافاتی دماغ اس وقت بھی گتھ جوڑ میں مصروف تھا. اگر بچہ واقعی آہل کا ہے تو اس بچے کو مہرہ بنا کر آہل کے نام ساری جائیداد ضبط کی جاسکتی ہے. جو بابا سرکار نے اس کے نام کیا تھا.
“تم اس بےحیا کو ابھی اسی وقت لیکر ہاسپٹل چلی جاؤ اور اس غلاظت سے اسکا وجود آزاد کرواؤ. اور پھر جلد از جلد اپنے بھائی کو بلا کر اسکا نکاح حسان( بھتیجے ) کیساتھ کرواکر اس کی رخصتی کروادو”۔ ایاز میر نے اپنی بیوی کو مخاطب کرکے اگلی چال چلی. زر آہل کے سینے سے لگی اسکے شرٹ کو زور سے مٹھیوں میں دبوچ لی۔
“آہل !! مم. میرا بچہ!! زر نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ لہو رنگ آنکھیں اوپر اٹھا کر آہل کو بے بسی سے دیکھا۔
“خبردار !! زر کو یا میرے بچے کو کسی نے ہاتھ بھی لگایا تو ہاتھ پیر سلامت نہیں رہیں گے. میں تم لوگوں پر اپنا بچہ قتل کروانے کا مقدمہ درج کروادوں گا. ” آہل زر کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا.
“کونسا بچہ!! نامی گرامی بزنس مین آہل یزدان کا ناجائز, زنا سے پیدا ہونے والا ……..
” بیوی ہے میری…… !!! جائز اولاد ہے۔” سلطان میر کی بات کاٹ کر وہ اتنا تیز دھاڑا کہ لہجے میں اژدھے جیسی پھنکار تھی.