88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 10
“ماں ہو تمہاری.. اور زر میری بہو ہے. میری خواہش پر تم دونوں کا نکاح کروایا تھا بابا سرکار نے۔ اور اب تم اسے مجھ سے چھین کر لے جارہے ہو.” عاتکہ کی ہمت جواب دے گئی تھی۔
“رئیلی؟؟؟ زرا پھر سے کہیں.. ماں؟؟؟ سننے میں اور بولنے میں جتنا دل کو بھاتا ہے نا, دیکھنے میں ویسی فیلنگز ہی نہیں آرہی.
ہاہاہاہاہاہا. اور بیس سال بعد ماں منظر پر آگئی. عجیب بات ہے نا. جس کو جنم دیا تھا اسے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا میں غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور نام نہاد اپنوں کو سینے سے لگا کر سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا ہے. اور بڑی بات کسی کو معلوم بھی نہیں ہے کہ عاتکہ میر کا کوئی بیٹا بھی ہے. جس کو پیدا ہوتے ہی نانا کی گود میں ڈال کر جیسے خود کو اس کے وجود کے بوجھ سے آزاد کرواکر اپنے فرائض سے سبکدوش ہوگئی. کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ میں آپکے کسی بہکتے……….”
چٹاخ!!!!!!
” ایک اور لفظ نہیں. تم کسی گناہ کا بوجھ نہیں تھے. ” عاتکہ پر اس کی باتیں گراں گزر رہی تھی
جبکہ ہنس ہنس کر آہل کے آنکھیں پانیوں سے بھر گئی۔ جبکہ اسے پاگلوں کی طرح پہلی دفعہ ہنستے دیکھ کر زر کو وہ کوئی جنونی لگا۔
” پھپھو پلیز !! زر آہل کے دہکتے رخسار پر ہاتھ رکھ کر التجائیہ گڑگڑائیں۔
” تو انہیں سمجھاؤ نا کوکھ میری بھی اجڑ گئی تھی۔ اس کے وجود کو چھپانے کی بہت سی وجوہات تھی. ورنہ اب تک شوہر کیساتھ کیساتھ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی.” عاتکہ کی آواز پست ہو گئی۔
” تو اب میں کونسا زندہ ہوں؟؟ آپکا بیٹا بیس سال پہلے مر گیا تھا. یہاں جو آپکے سامنے کھڑا آہل نظر آرہا ہے یہ صرف ایک مٹی کا پتلا ہے جو سانس لے رہا ہے۔ مجھ سے میرا بچپن میرے ماں باپ چھیننے والے اور کوئی نہیں, اس حویلی کے لوگ ہے۔ جنہیں میں بخشنے والا نہیں۔ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب بے باق کرنے ایا ہوں ان لوگوں سے۔میں نے اپنی پھپھو کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتے, سسکتے ہوئے دم توڑتے دیکھا ہے۔ اور ان کی سانسیں چھینے والے لوگ بھی یہی تھی۔ آپ پہلے کی طرح بے نیازی کا چولہہ اوڑھ کر بیٹھ کر صرف لطف اٹھائے۔” آہل کا خلفشار خون بلند ہوگیا تھا۔
” آہل کیا کرنے والے ہو تم؟؟ تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے.” عاتکہ کا خوبصورت چہرہ سوز الم کی تشریح کر رہا تھا۔ جوانی کی دہلیز پار کرنے کے بعد بھی اسکی خوبصورتی ماند نہیں پڑی تھی.
” اور مجھے روکے گا کون؟؟ آپ ؟؟ آہل نے سفاکیت کی انتہاء کرکے آنکھ دبا دی۔
” تم لوگ کنٹینیو کرو میں ذرا نکاح کی تیاریاں دیکھ لوں۔” وہ سوکھی پتی کی طرح لرزتی عاتکہ میر پر ایک نظر ڈال کر زر کو محاطب کر گیا ۔اور سیٹی بجاتا ہوا نکل گیا۔
” زر یہ آہل کیا بول کر گیا ہے۔ وہ مجھ سے دور ضرور تھا مگر میں ایک لمحے کے لیے اس کی یاد سے غافل نہیں ہوئی۔ میرا اللّٰہ گواہ ہے میں نے پل پل اسے یاد کیا ہے۔ اس کو باہوں میں لینے سینے سے لگانے کے لئے تڑپی رہی۔ اتنے سال آزمائش کے بعد مجھے بیٹا ملا ہے تو میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ میرے جینے کی وجہ ہے آہل۔ میں اسے کسی بدلے کے نذر نہیں کرنا چاہتی۔ دائمی جدائی نہیں سہہ سکوں گی. اسے کہو میرے زخموں کو ناسور بنانے کی کوشش نا کرو. پتا نہیں میرے نصیب کی یہ سیاہ بختی کب جان چھوڑے گی” عاتکہ کے اواز میں دکھ کا عنصر نمایاں تھا۔
” پھپھو آپ حوصلہ رکھیں۔ اور اپنے بیٹے پر یقین بھی۔۔وہ ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے آپکو مجھے یا کسی بے گناہ کو خطرہ ہو۔ مگر گناہ گار کو سزا ملنی چاہئے۔ چاہے وہ میرا باپ یا چچا ہی کیوں نا ہو۔ آہل نے بہت کچھ سہا ہے۔ خود کو دوش مت دے۔” زر عاتکہ کی ہمت باندھنے لگی۔جبکہ عاتکہ آہل کے تند و تلخ جملوں پر سکتے میں تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” عنایہ کو زر نے اپنا ایک کامدار نیا سوٹ پہنایا بغیر کسی آرائش کے بھی وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔ اور ساتھ میں سر پر سرخ گوٹھے والا دوپٹہ سجایا۔ پیراڈائز سے سحر بھی آئی ہوئی تھی۔ جس کو آہل نے بذات خود بلایا تھا۔
“سوہا!! اکلوتا بھائی ہوں تمہارا۔ تم تو کم از شرکت کرسکتی ہو نکاح میں۔ تمہارے گریز کی وجہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ” نکاح خواں آگیا تھا۔ اذلان بھی سادہ سفید کاٹن کے شلوار قمیص میں ملبوس اس وقت سوہا کے روم میں موجود تھا۔
” بھائی میں بہت خوش ہوں آپ کے لئے۔ مگر وہ لڑکی مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ جو آپکے لئے اور ہم سب کے لئے تکلیف کا باعث بنی۔ میں نے ہمیشہ شزا کو اپنے بھابھی کے روپ میں دیکھا ہے۔ وہ آپکو چاہتی تھی بے انتہا۔ اس کے بے تابیاں آپ سے بھی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ دل ٹوٹا ہے اس کا۔ آپ کی زندگی کا اتنا اہم دن ہے۔ مگر میں نہیں آسکوں گی. شزا میری دوست ہے۔ اس کے لئے مجھے بہت گلٹی فیل ہورہا ہے. اوپر سے زر آپی کی خفیہ شادی, یہ سب کچھ میں ایکسپٹ نہیں کر پا رہی “سوہا نے نکاح میں نا آنے کی وجہ بتا دی۔
” ہم سب اوپر والے کے رحم وکرم پر ہیں۔ سب کچھ طے ہوتا ہے۔ ہم صرف ان کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے ساتھ ایسا کچھ ہوگا۔ اور زر کے نکاح کا سن کر میں خوش ہوں۔ آہل کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتا ہے۔ زر خوش قسمت ہے اسے آہل جیسا شوہر ملا۔ جو اس پر جان چھڑکتا ہے۔ چھوڑو یہ سب۔ اگر تمہیں اپنے بھائی کی خوشی واقعی عزیز ہے تو اپنا ایگو سائیڈ پر رکھ کر آجانا۔ مجھے خوشی ہوگی۔” اذلان نے اسکے سر پر بوسہ دیا اور نکل گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“اذلان !! یہ نکاح کے بعد عنایہ کو پہنا دینا۔ خاندانی کنگن ہیں۔ میرے نکاح والے دن تمہاری دادی نے مجھے پہنائے تھے۔” وہ ہال کی طرف جارہا تھا جہاں آہل اور باقی افراد نکاح خواں کے پاس موجود اس کے انتظار میں تھے۔ کہ آہل کی ماں ثوبیہ بیگم نے اسے پکارا۔
” مجھے کچھ نہیں چاہیے ماما . بس آپکی دعائیں چاہئے۔ عنایہ کے لئے ماں چاہئے.” اذلان نے اسکے ہاتھ میں موجود کنگن پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جبکہ آنکھیں کرب و اذیت سے بھر آئی۔
” اذلان میں اس عمر میں طلاق کا ٹیگ ماتھے پر سجا کر نہیں جی پاؤں گی۔” ثوبیہ بیگم آبدیدہ ہوگئی۔
” اللّٰہ نا کرے۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔ میرے جیتے جی آپ ایسے خدشے اور وہم کیسے پال سکتی ہیں۔ بابا سرکار آپکو اپنی زندگی سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں تو بے شک کردے۔ آپکا بیٹا ہمیشہ آپ کے پاس رہے گا۔ آپکے کی ڈھال بن کر۔ پھینک آئے خود کے اوپر پہنے بے ہودہ روایات کی دبیز چادر کو۔ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے جینا سیکھ لے ماما۔ ہمیں آپ کی ضرورت ہے ہر قدم پر۔” اذلان ماں کو گلے لگائے تاسف بھرے بھاری لہجے میں گویا ہوا۔
اس نے اذلان کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اسکے ماتھے پر لب رکھ دئیے۔
” میں آوں گی میرا بچا۔”
اذلان کا من ایک دم ہلکا ہوگیا۔ جیسے سر سے کوئی بہت بھاری بوجھ سرک گیا ہو۔ اور سر ہلا کر اس کے ہاتھ سے کنگن لیکر پاکٹ میں رکھ دئیے اور ہال کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حویلی میں سے صرف حدید اور ثوبیہ بیگم نے نکاح میں شرکت کی تھی۔ اذلان اتنے میں بھی خوش تھا۔ نکاح ہوگیا تو اذلان سب سے گلے مل کر مبارک باد وصول کرنے لگا۔ اہل کے قریب آکر وہ تھوڑے فاصلے پر رک گیا۔
” عنایہ جس شکستہ حالت میں مجھے ملی تھی ٹوٹی ہوئی بکھری بلکل پاگل سی۔ بات بات پر بپھر جاتی۔ خود کو اذیت دینے کی کوشش کرتی۔ مجھے اسے واپس زندگی کی طرف لوٹانے میں عرصہ گزر گیا۔ یہ سب تمہیں اس لئے بتا رہا ہوں کہ اب اس کی زندگی کی ڈور تمہارے ہاتھ میں تھما دی۔ تم نے اسکی حفاظت اور عمر بھر ساتھ نبھانے کا عہد کیا ہے۔ اور امید رکھتا ہوں تم اپنے وعدے کا مان رکھو گے۔ عنایہ کا کوئی بھی نہیں ہے۔ رشتوں کی تلخیوں سے نابلد ہے وہ۔ اس کے پاس صرف ایک ہی رشتہ تھا۔ آہل یزدان کا۔ مگر وہ اہل خود کسی کی امانت تھا۔ عنایہ تھوڑی سر پھری سی ہے مگر دل کی بہت اچھی ہے۔ اگر کبھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو بجائے بدگمان ہونے کے اس کا بچپنا سمجھ کر معاف کر دینا۔ وہ تھوڑی الجھی سے ہے مگر تم سلجھا دینا۔ یہ مت سوچنا کہ وہ کسی بدلے کے عوض تمہارے سر پر مسلط کی گئی ہے۔ ” آہل خلاف معمول ذیادہ بول گیا اور اذلان کو گلے لگایا۔
” مجھے خود سے جڑے لوگوں کے حوالے بھی بہت عزیز ہے اذلان!! ۔اس کے کان میں گھمبیر سرگوشی کرکے وہ دور ہٹا ۔
” تھینکس آہل بھائی!! اور مجھے اپنی بہن سے بہت پیار ہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں عنایہ کون ہے۔ مگر میں اس سے پیار کرنے لگا تھا۔ اور پیار میں باقی ساری باتیں بے معنی ہوجاتی ہے۔”اذلان اسکے وجیہہ سپاٹ چہرے پر نظریں جمائے قدرے تحمل سے گویا ہوا۔
” جاؤ اپنی بیوی سے مل لو” آہل اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوا.
“جی!! اذلان بے یقینی سے اسکی طرف دیکھنے لگا۔
” ہاں جاؤ.. حویلی میں رواج ہے نا نکاح کے بعد بیوی سے ملنے کا منہ دکھائی دینے کا۔ مل لو۔” آہل سنجیدگی سے گویا ہوا۔
عنایہ کو زر کے روم میں شفٹ کیا گیا تھا۔ اذلان ناک کرکے روم میں داخل ہوا تو عنایہ کو اپنی ماں کے سینے سے لگے دیکھ کر اس کے رگوں میں سکون سرائیت کرنے لگا۔
” مبارک ہو بیٹا!! سب سے پہلے عاتکہ اس کے گلے لگی۔”
“تھینکس پھپھو!! اور ساتھ میں کھڑی زر کو بھی خود سے لگایا۔
پھر وہ ماں کے قریب آیا تو اسکی ماں نے بے ساختہ اسے سینے سے لگایا۔ اور کئی آنسو اذلان کے کندھے نے جذب کر دئیے۔
” ماما رونا نہیں۔ آپ کا بیٹا آج بہت خوش ہے۔ پلیز” اذلان نے اسکے آنسو صاف کئے۔
” بھائی عنایہ سے نہیں ملنا؟؟ زر اس کی بے چینی نوٹ کرکے شرارتا گویا ہوئی
” ہاں وہ۔۔۔۔۔۔ مل لوں گا.” طویل سانس کھینچ کر بدقت لہجے کو نارمل کرکے اس نے عنایہ پر ایک سرسری نظر ڈالی تو خواس سلب ہوگئے۔ سرخ ٹھمٹماتا چہرہ, ساتھ میں سرخ رنگ دوپٹے کے ہالے میں اسکا من موہنی چہرہ دہک رہا تھا۔ جو انگلیوں کو آپس میں الجھائے ہاتھوں کی لغزش کو قابو کرنے کی تگ و دو میں بری طرح ناکام تھی۔
زر اپنی ماں اور عاتکہ بیگم کو ساتھ لیکر روم سے نکل گئی۔
” مبارک ہو !! عنایہ کو کندھوں سے پکڑ کر نرمی سے اپنے ے مقابل کھڑا کرکے وہ اپنائیت سے لبریز لہجے میں گویا ہوا۔
عنایہ کے ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔ اسنے سختی سے آنکھیں میچ لی۔
اس کے گلاب چہرے کو اوپر اٹھا کر اس نے عنایہ کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کی۔
عنایہ اس کے گرم لبوں کی نرماہٹ محسوس کرکے کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔
” دد… دور رہو تت۔۔۔ تم!! اپنی دل کی دھڑکنیں سست پڑتے دیکھ کر وہ خواس باختہ ہوگئی۔
بولڈ سی عنایہ کو اوسان صحیح معنوں میں خطا ہوگئے۔ اذلان کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ بکھرنے لگی۔ اور عنایہ کو سینے سے لگایا۔
” مجھے سو بار بھی زندگی ملے تو میں ہر بار تمہارا انتخاب کروں گا۔ مجھے تم سے محبت کرتے رہنا پسند ہے۔ کسی بھی بدلے کی تمنا کئے بغیر” آہل نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوتے کان کی لو کو ہلکا سا چھوا۔
“چچ۔چپک کیوں رہے ہو” وہ فاصلہ بنا کر شرم و حیا سے سرخ ہوتی جھجھکتی ہوئی بولی۔ اذلان کی پرحدت نظروں کا ارتکاز وہ خود پر محسوس کرکے کان کی لو تک سرخ ہوگئی۔
” بقول تمہارے میری صورت تو قابل قبول ہے۔ تم ایک نظر اٹھا کر دیکھ سکتی ہو مجھے۔” اذلان نے اسکی کہی گئی بات دہراکر اپنے درمیان اجنبیت کی دیوار گرانے کی کوشش کی.
“مم۔مجھے جانا ہے.” محرم کی قربت واقعی حواس جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اپنی اتھل پتھل سانسوں کے بیچ کہہ کر رخ موڑ کر جانے لگی۔
” عنایہ !! اذلان نے بےتابی سے پکارا۔ عنایہ کے چلتے قدم رک گئے۔
” تمہیں پانے کے کے لئے بہت کچھ کھو دیا۔ پلیز تم مجھے کبھی مت دھتکارنا۔ باقی کا سفر تمہارے سنگ طے کرنا ہے” اس کے قریب آکر عنایہ کا نرم سفید بایاں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لیکر اس میں کنگن پہنائے۔ اور کنگن پر اپنے لب رکھ دئے۔ اذلان کے ملتجانہ الفاظ اور بے تکلفی سے چھونے پر عنایہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ بغیر کوئی جواب دئیے وہ روم سے نکل گئی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟؟ عنایہ نیچے آکر تنے نقوش کیساتھ عاتکہ کے سامنے کھڑی ہوگئی جو صوفے پر زر کیساتھ بیٹھی تھی۔
” ہاں بلکل میری جان !! ادھر آو میرے پاس بیٹھ جاؤ۔” عاتکہ جلدی سے اپنے پہلو میں اس کے لئے جگہ بنا گئی۔۔ وہ بغور عاتکہ کے چہرے پر چھائی خلوص و محبت کی کلیاں دیکھنے کی لگی۔
” کیا ہوا؟؟.ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟؟ عاتکہ نے اسے خود کیطرف ٹکٹکی باندھے دیکھا تو مسکرا کر استفسار کیا۔
” یہ بھی میری طرح سوچ رہی ہیں کہ آپ اتنی پیاری کیوں ہے۔ اور آپکا ڈمپل تو واہ!! کمال کا ہے. میں تو دیوانی ہوگئی ہوں۔ ہیں نا؟؟ ” سحر نے بیچ میں مداخلت کرکے عنایہ کے گرد بازوؤ پھیلائے۔۔ ہال میں داخل ہوتے آہل نے سحر کے آخری الفاظ پر اذیت سے آنکھیں میچی۔ عاتکہ نے آہل کے چہرے پر کرب کے آثار دیکھے۔
آہل چہرے پر بیزاریت سموئے اندر داخل ہوا تو عنایہ بےتابی سے اٹھ کر اسکی طرف لپکی اور اسکے سینے سے لگ کر ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور رو پڑی۔
“ششش!! آہل نے اسکے سر پر نرمی سے بوسہ دیا۔
” مجھے یہاں نہیں رہنا آہل!! اپنے گھر جانا ہے.” عنایہ بچوں کی طرح نروٹھے پن سے بولی ۔
“اب کی جان کاری کے لئے عرض ہے بھابھی بیگم کہ اب تمہارا گھر یہی ہے.” آہل کے پیچھے اندر آتے حدید نے ہلکا سا ٹانٹ کیا۔ لہجے میں مزاح کی آمیزش شامل تھی۔۔
” بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے حدید!! اب یہ تمہارا گھر ہے۔۔ اور تم یہاں رہو گی۔ اور تمہارا بھائی بھی تو ادھر ہی رہتا ہے نا۔” آہل اسے دلاسہ دیتے ہوئے روانگی میں ہی عنایہ کے فکر میں مغلوب ہوکر بول اٹھا مگر اگلے پل اپنے الفاظ کی گہرائی جان کر ایک دم سب کے حیرت و بے یقینی سے ملے جلے تاثرات کو دیکھ کر وہ سٹپٹا گیا۔۔
” بھائی؟؟؟ حدید کی بھنویں اپر کو شوٹ ہوئی۔
” ہاں اذلان کے بھائی ہو نا تم..” آہل نے جلدی سے وضاحت پیش کرکے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر زر اور عاتکہ کو اسکا انداز کچھ کھٹکا۔ عاتکہ ایک جہاندیدہ خاتون تھی۔ پل میں سامنے والے کی سوچ پڑھ لیتی۔ آہل نے اس کی طرف دیکھنے سے مکمل احتراز کیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“یار عنایہ ایک کپ چائے تو پلا دو.” حدید اور اذلان آفس سے تھکے ہارے آئے تو عنایہ کو زر کیساتھ بیٹھتے دیکھ کر اس نے دکھتے سر کو پکڑ کر فرمائش کی۔ جبکہ عنایہ اس کی غیر متوقع فرمائش پر الجھن کا شکار ہو گئی۔ اذلان بھی حدید کی بات سن کر روم میں جانے کے بجائے اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر عنایہ کے چہرے پر پھیلتے رنگوں کو دیکھنے لگا۔
” میں بناتی ہوں بھائی !! زر نے حدید کو آنکھوں ہی آنکھوں میں باز رہنے کی تلقین کی۔
” ارے میرا من کر رہا ہے یار عنایہ کے ہاتھوں کی چائے پینے کا۔ اتنا تو کر سکتی ہیں نا میرے لئے۔آفٹر آل اکلوتا دیور ہوں اس کا. اور اہل نے تو اسکا بھائی بھی بنا دیا” حدید کے بڑھتے اصرار پر عنایہ کی رنگت فق ہوگئی۔ جبکہ اذلان ٹوڑی کے نیچے مٹھی جما کر محفوظ ہونے لگا۔
” مجھے چائے بنانی نہیں آتی.” عجیب زبردستی تھی پیچھے ہی پڑ گیا۔ عنایہ اصلی ٹون میں واپس آکر بڑبڑائی۔
” تو سیکھ لینے میں کیا حرج ہے۔ آج شروعات مجھ سے ہی کرلو۔ یقین مانو جیسے بھی بنے گی میں خوشی خوشی پی لوں گا۔” عنایہ کی آڑی رنگت سے مخفوظ ہوتا وہ مسلسل اسے چھیڑنے لگا۔ شزا اور سوہا بھی ہال میں آکر بیٹھ گئی۔ عنایہ کیساتھ اپنے بھائی کی بے تکلفی دیکھ کر وہ دانت پیستے رہ گئی۔ ” کلموہی سب کو قابو میں رکھنے کا ہنر رکھتی ہیں”
” آہل نے کبھی کوئی کام نہیں کرنے دیا۔ ہمارے گھر میں نوکروں کی فوج ہمہ وقت موجود ہوتی تھی۔” عنایہ نے غذر پیش کیا۔
” یار ٹرائی تو کر نا۔ پیار سے بناوگی تو اچھی بنے گی۔ اور پھر تمہارا یہ شوہر ہے نا یہ ہیلف کردے گا۔ سکھا دے گا تمہیں۔ بہت اچھی چائے بناتا ہے۔ کیوں اذلان ؟؟” اس نے لگے ہاتھوں اذلان کو بھی انولو کیا جو اذلان کو زور کا اچھوکا لگا۔۔
” میں خود تھک کر آیا ہوں۔ اور تمہاری بے ڈھنگ فرمائشیں میری بیوی کیوں پوری کرے۔” اذلان نے ہری جھنڈی دکھا دی۔ جبکہ حدید کے اگلے عمل سے سب پر خیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔
اس نے عنایہ کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اسے ساتھ لئے کچن میں جانے لگا کہ سلطان میر کی کاٹ دار آواز سماعتوں میں گھونجی ۔
” یہ کیا بے ہودگی پھیلانے لگے ہو تم لوگ۔اور حدید تمہیں کوئی احساس بھی ہے تم کیا کر رہے ہو۔ یہ لڑکی زبردستی ہمارے سروں پر مسلط کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے رشتوں میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ ہوش کے ناخن لو۔ کیوں اسے سر پر سوار کر رہے ہو۔”
” چاچا سرکار!! آپ اس طرح میری بیوی کی انسلٹ نہیں کر سکتے۔ اب اس گھر کی عزت ہے یہ۔ “میر خاندان” کی بہو ہے ” اذلان بجلی کی تیزی سے عنایہ کے قریب آکر اس کا دفاع کرنے لگا۔
” اسے میر خاندان کی بہو ہم نے تسلیم نہیں کیا۔ بہتر ہوگا اسے ہماری نظروں سے دور رکھو۔ چھبتی ہیں میری نظروں کو ” سلطان میر عنایہ کے سپید پڑتے چہرے کو دیکھ کر اندر تک سرشار ہوا۔
” میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ عنایہ کی نظریں تم لوگوں کے مکروہ چہروں پر نا پڑے۔ اسلئے میں نے ایک فیصلہ لیا ہے ہم حویلی کو دو حصوں میں تقسیم کردیں گے۔” آہل نے کوٹ صوفے کی طرف اچھال کر آستیں کہنیوں تک چڑھائے۔
” ہم خاندانی لوگ ہیں آہل یزدان۔!! جائیداد کا بٹوارہ نہیں کرتے۔ چاہے ہمارا سر ہی کیوں قلم نا ہوجائے۔ وراثت کی تقسیم وہ بھی اس بدزات لڑکی کے لئے, سوال ہی پیدا نہیں ہوتا” سلطان میر نے تنفر بھری نظر عنایہ پر ڈالی۔
” بٹوارا تو تم لوگوں کے بابا سرکار خود کرچکے ہیں. میں تو صرف آگے کا لائحہ عمل طے کروں گا۔ جس کا مجھے پورا اختیار ہے۔” آہل موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کرنے کے بعد کان سے لگا گیا
” ہاں مس شہری!! وہ فایل ڈرائیور کے ہاتھوں بھجوا دو جلدی” بات مکمل کرکے اس نے کال کاٹ دی۔
” عنایہ!! تمہیں ان لوگوں سے دبنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہم نے حویلی کا آدھا حصہ تمہارے نام کیا ہے۔ کاغذات تیار ہوچکے ہیں۔ اپنے لئے لڑنا سیکھو. ” آہل عنایہ کو خود سے لگائے صوفے پر بیٹھ گیا۔
” آہل مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ صرف سکون چاہئے جو مجھے اپنے گھر میں ملتا ہے۔ یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے۔ ہم آزاد ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔ مجھے اس قید میں نہیں رہنا۔ جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ بار بار کسی نا کسی کے عتاب کا نشانہ بنتی ہوں۔” عنایہ اردگرد سے بے نیاز اپنی ہی دکھڑے رو رہی تھی جبکہ اس کی باتوں سے اذلان کی دھڑکنوں میں طغیانی برپا ہورہی تھی۔
” تمہیں میں نے سکھایا تھا نا کوئی ادب سے پیش آئے تو واجب ہے تم پر احترام کرنا, ورنہ لوگوں کے لہجے اس کے منہ پر مارا کرو۔” آہل کی کنپٹی کی رگیں پھڑک اٹھی۔
” اذلان اپنی بیوی کو لے جاؤ اور اسے سمجھاؤ۔ شادی کے بعد لڑکیاں سسرال میں اچھی لگتی ہے۔” آہل کے بولنے سے پہلے ہی عاتکہ نے اذلان کو حکم دیا۔
” عاتکہ !! تم کون ہوتی ہو ہمارے بیچ بولنے والی۔ اگر آئندہ ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے کی حماقت کی تو زبان گدی سے کھینچ کر نکال دوں گا۔” سلطان میر اتنا تیز دھاڑا کہ عاتکہ کے قدم لڑکھڑائے, گرنے والی تھی کہ پاس کھڑی زر نے جلدی سے اسے تھام لیا۔
” سلطان میر……!!
آہل حلق کے بل چلایا۔ اور دوسرے لمحے وہ توقف لئے بنا سلطان میر کے روبرو کھڑا تھا۔
” تم نے میری بیوی پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ میں خاموش رہا۔ اب اگر دوبارہ ان کے ساتھ اونچی آواز میں بات کی تو میں عمر کا لخاظ بھول جاؤں گا۔” عاتکہ کی دگرگو حالت دیکھ کر آہل آپے سے باہر ہوگیا۔ جبکہ آہل کے اس طرح اوور ریکٹ کرنے پر عاتکہ ہراساں سی پیچھے ہٹنے لگی۔
” ہم کسی ایرے غیرے کو یہ اجازت قطعی نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کرے۔ اپنی بیوی کو لیکر دفع ہوجاو یہاں سے. باقی ہمارے حویلی کی کسی فرد کیساتھ رشتہ داریاں نبھانے کی ضرورت نہیں۔۔” ایاز میر نے درشتی سے کہہ کر اسکی اوقات دکھا دی۔
بھائی اور بیٹے کو ایک دوسرے کے مقابل دیکھ کر عاتکہ کی طبیعت بگڑنے لگی۔ خوف و اندیشے کی گھنٹیاں کانوں میں بجنے لگی۔
” تم لوگوں کی شہ دینے پر یہ اجنبی لڑکا آج اتنا اترا رہا ہے نا۔ تم لوگوں نے ڈیل دی ہوئی ہے.” ایاز میر کا خون ابل رہا تھا حویلی والوں کو اسکی طرف داری کرتے ہوئے۔
آہل کو اپنی شریانیں ضبط سے پھٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ دل بغاوت پر اتر ایا۔ دل کے کسی کونے میں دبکے ہوئے بیٹا ہونے کے احساس نے سر اٹھایا۔ زر کے ہاتھوں سے عاتکہ کا بازو چھڑا کر اس نے عاتکہ کو اپنے پیچھے کردیا۔ اور اسکے آگے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔
” آہل نہیں۔.!!! عاتکہ نے اپنا لغزش زدہ ہاتھ آتش فشاں بنے بیٹے کے کندھے پر رکھ کر اس کے اندر ابلتے ہوئے مادے کو پھٹنے سے روکا۔
آہل نے اپنے کندھے پر لرزتا لمس محسوس کرکے وہ ہاتھ نرمی سے اپنے مضبوط آہنی ہاتھ میں لیکر اس پر عقیدت سے لب رکھ کر اس کی ڈھارس باندھی۔ جبکہ عاتکہ کہ آنکھیں شدت جذبات سے بند ہوگئی اور وہی آہل کے بازوؤں میں ڈھیر ہوگئی۔
موم!!!!!!!!! آہل کی دلخراش چیخیں حویلی کے درودیوار ہلا گئی۔