Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 4
(حویلی بیسڈ,کزن فورسڈ میرج اور انتقام پر مبنی خوبصورت تحریر)
“تم سچ بول رہی ہو نا؟؟ سوہا کا تجسس بڑھ گیا.
زر, سوہا اور شزا یونیورسٹی کے لئے نکل گئے تو راستے میں شزا نے گزری رات کی پوری کاروائی زر اور سوہا کے گوش گزار کی.
“ہنڈرڈ پرسنٹ سچ !! اور اس لاڈلی چڑیل کے لئے نواب زادے نے خود اپنے ہاتھوں سے کافی بھی بنوائی۔ بات بات پر “میرا آہل” میرا آہل” کا گردان کرکے اس پر اپنا حق جتا رہی تھی.” شزا بڑھا چڑھا کر اپنے دل پر چھایا جمود کم کرنے کی کوششوں میں تھی۔
“یار اگر بیوی ہوتی تو ایک روم میں رہتے دونوں, اسطرح الگ الگ رومز میں کیوں رہ رہے ہیں۔ اور اگر گرل فرینڈ بھی ہے تو میں نے کبھی آہل کو اس کے ساتھ اتنا کلوز نہیں دیکھا. مجھے یقین نہیں آرہا.” سوہا نے تردید کی.
جبکہ “میرے آہل” لفظ پر زر کے دھڑکنیں سست پڑ گئی.
“اور حلیہ تو دیکھنے لائق تھا. توبہ, توبہ. شرم وحیا چھو کر بھی نہیں گزری. بغیر دوپٹے کے کھلے عام بدکاری کا دعوت دیتی گھر میں دندناتی پھر رہی تھی. بھئی ہمارے گھر میں جوان شریف لڑکے موجود ہیں.” شزا اپنے اندر اٹھتا اشتغال باہر نکال رہی تھی.
“مجھے “سٹی لائبریری”جانا ہے. تم دونوں نے جانا ہے؟؟ زر نے اچانک سے دونوں کو مخاطب کیا.
“نہیں آپ جائے… ہمیں ادھر کیا کام؟؟ ہمارے اسائمنٹ تو یونیورسٹی کے لائیبریری سے بھی بن جاتے ہیں.” سوہا نے منع کردیا تو ڈرائیور اسکو لائیبریری کے گیٹ پر اتار کر دونوں کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا.
زر نے گیٹ پر کچھ دیر انتظار کیا. جب گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگئی تو ایک رکشہ میں بیٹھ گئی. آج آہل سے مل کر عنایہ والا معاملہ آر یا پار کرنا تھا.
رکشے سے اتر کر وہ آفس کے عمارت میں داخل ہوگئی. جیسے ہی لفٹ میں داخل ہوکر “6” کا بٹن پریس کرنا چاہا. آہل کی پی اے شہری عجلت میں اسکے پیچھے لفٹ میں داخل ہوئی.
“اسلام وعلیکم میم !! شہری نے سلام میں پہل کی.
“وعلیکم السلام !! آہل آفس میں ہے؟؟ مجھے ان سے ملنا ہے.اٹس ارجنٹ.” زر نے سنجیدگی سے کہا.
“جی آفس میں ہے. لیکن سوری ٹو سے !! آپکو تھوڑا سا ویٹ کرنا ہوگا, میں نے سکرین سے آپکو اندر آتے دیکھا تھا اسلئے نیچے آگئی. سر ابھی میٹنگ میں بزی ہے اور…. “
” آپ انہیں انفارم کردے. مجھے بھی یونیورسٹی جانا ہے. فرصت نکال کر آئی ہوں” اسکی بات درشتی سے کاٹ کر وہ گویا ہوئی..
“امپورٹنٹ میٹنگ ہے. فارن ڈیلیگیشن کے ساتھ. ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ… اس طرح میٹنگ چھوڑ کر آئیں گے, تو کروڑوں کا نقصان ہوگا. پلیز جسٹ تھرٹی منٹس…”
لفٹ سکس فلور پر رک گئی. تو دونوں ساتھ باہر نکلے.
“بھاڑ میں جائے میٹنگ اور نقصان. الریڈی اربوں کا مالک ہے. ایک ڈیل کی وجہ سے سڑک پر نہیں آجائیں گے. مجھے ضروری بات کرنی ہے.” زر آگے بڑھنے لگی.
“آپ اس طرح اندر نہیں جاسکتی. میری جاب کا سوال ہے.” مس شہرینہ اسکے راستے میں حائل ہوگئی.
“زر نے بےیقینی سے ایک قہرذدہ نظر اس پر ڈالی۔ “یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کون ہوں آپ میرے راستے میں رکاوٹ بن کے کھڑی ہوگئی. میں میر عالم کی پوتی ہوں. اس کمپنی کے ففٹی پرسنٹ شئیرز کی مالک. آپکو جاب سے بھی فارغ کر سکتی ہوں ” زر کی پتلیاں حیرت و بے یقینی سے پھیلی اور کہہ کر پیچھے کی طرف قدم اٹھائے اور پلٹ کر جانے لگی.
“ایکسکیوزمی میم !! پلیز بس تھوڑا سا ویٹ…” شیری گومگو کیفیت میں اس کے پیچھے چلی آئی.
“بسس !! اپنے سر کو بتادو یہ آخری بار تھا کہ میں نے اسکے آفس میں قدم رکھ کر خود کی تذلیل کروائی, وہ بھی “پی اے” کے ہاتھوں. اور یہ میں زندگی بھر یاد رکھوں گی.” زر کی آنکھیں بھرآئی..
“اوہ میرے اللّٰہ!! آگے کنواں پیچھے کھائی. کہاں پھنس گئی.” شہری نے ماتھا پیٹا. جبکہ زر دل پر منوں بوجھ لیکر چلی گئی۔
آہل ڈیل فائنل کرکے میٹنگ سے فارغ ہوگیا اور مہمانوں کو رخصت کیا تو شہرینہ اسکے لئے کافی لے کر آئی.
“سر !! زر آئی تھی. آپ سے ملنے کے لئے فورس کر رہی تھی. مگر آپ میٹنگ میں بزی تھے اور وہ بضد تھی میں نے روکا تو ناراض ہوکر چلی گئی..”
“یہ تم اب بتا رہی ہو مجھے !! وہ اس طرح خود سے کبھی ملنے نہیں آتی. ضرور کوئی امپورٹنٹ بات کرنی ہوگی. مجھ سے پوچھ تو لیتی. ایک کیا سو ڈیل بھی قربان.” آہل کے ماتھے پر ناگواری سے بل نمایاں ہوگئے.
“سوری سر!! شہری نے ندامت سے سر جھکایا..
“سوری کا میں نے اچار ڈالنا ہے.” آہل پھٹ پڑا.
“تم سے توقع نہیں تھی اس بے حماقت کی. جاؤ تم. کتنی ہتک محسوس کی ہوگی اس نے, کچھ اندازہ ہے تمہیں”.
ٹائی کی ناٹ کھول کر موبائل نکال کر زر کا نمبر ملانے لگا. نمبر سوئچڈ آف آرہا تھا. بگڑے تیوروں کے ساتھ وہ اٹھا اور کوٹ پہن کر ٹیبل سے گاڑی کی کیز اٹھاتا آفس سے نکل گیا۔ شہری اسکے پیچھے نکلی.
“سر میری بات سنے.”
“شہری !!. میں خود سے ریلیٹڈ سب لوگوں کی عزت کرتا ہوں. اسکا یہ مطلب نہیں کہ مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھاؤ. وہ کتنی پوزیسیو ہے. جانتی ہو نا تم.”
“سر!! آپ نے منع کیا تھا کسی کو بھی اندر بھیجنے سے.” شہری نے اپنے دفاع میں بولنا ضروری سمجھا.
“زر کا وجود ” کسی” میں شامل نہیں. اس کمپنی کی مالک ہے. تم آفس سنبھالو میں دیکھتا ہوں.”
“سحر کے لئے جس لڑکے کا رشتہ آیا ہے وہ آپ سے ملنے آیا ہے.. نیچے ویٹ کر رہا ہے.” شہری نے جلدی سے بتاکر اسکے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی.
وہ رک گیا. کنپٹی کی رگ کو سہلا کر خود کو شانت کرکے واپس آفس میں داخل ہوگیا.
“بلاؤ اسے اندر۔
“جی…”
تھوڑی دیر بعد ڈور ناک ہوا۔ اور ایک لمبا پتلا سا معمولی شکل کا لڑکا اندر داخل ہوا.
“سٹ” آہل نے تیز نظروں سے سرتاپا اسکا جائزہ لیا
“عامر؟؟ یہی نام ہے نا؟ آہل نے خود پہل کی.
“ج۔ج۔جی سر!! اٹک اٹک کر جواب ملا.
“بچپن سے عادت ہے ہکلانے کی یا ابھی میرے سامنے آکر لگ گئی؟؟ خاصا طنزیہ انداز تھا.
“نن۔نہیں وہ.. کنفیوز ہو رہا ہوں.” عامر سمبھل کر بولا۔ لیکن من میں “جل تو جلال تو” کا ورد کرتا رہا. اتنی بڑی کمپنی کے سی او کے سامنے بیٹھنا کسی محاذ کو سر کرنے کے مترادف تھا۔ اسکی شخصیت سے مرغوب ہوکر ہچکچانا لازم تھا ۔۔
“سحر کو کب سے جانتے ہو؟ آہل نے بغیر لگی پٹی سوال پوچھا ۔
” جانتا کافی عرصے سے ہوں۔ آٹھ مہینے پہلے اسے پروپوز کیا تھا. مگر وہ ٹالتی رہی. پھر میں نے گھر والوں سے بات کرکے ڈائیریکٹ رشتہ بھیجا.” عامر نے خلق تر کرکے رٹا رٹایا جواب دیا۔
” ہمممم!! کتنا جانتے ہو اس کے بارے میں.؟” آہل کی کھوجتی نظریں اس پر ٹکی ہوئی تھی۔
“بس لوگوں سے سنا تھا کہ وہ یتیم ہے.”
” گڈ!! پھر تو یتیم لڑکی کو کوئی جہیز دینے والا بھی نہیں ہوتا نا. تم اور تمہارے گھر والے بڑے مہان نکلے , پھر بھی راضی ہو گئے.”
“مگر لوگ تو کہتے ہیں کہ یتیم خانے کا اونر اچھی خاصی بھاری بھر کم جہیز کیساتھ بچیوں کی شادی کرواکر رخصت کرتا ہے. مم۔میرا مطلب ہے. لوگ ایسا بولتے ہیں۔ ہمیں کوئی انٹرسٹ نہیں. (کتنا سمجھایا تھا ماں نے کہ زبان پر قابو رکھ۔ پھسل گئی)
آہل کے ہونٹوں پر زہریلی مسکان ابھر کر معدوم ہوگئی۔
“لوگوں کا کیا ہے کچھ بھی بول لیتے ہیں. اگر تمہیں پھر بھی اعتراض نا ہو تو و پھر اپنے والدین کیساتھ آکر سادگی سے نکاح کرواکے لے جانا سحر کو. مگر وہ اپنی تعلیم جاری رکھے گی. یہ ایگریمنٹ پہلے سائن کروانا ہوگا.”
“جج۔جی.!! عامر نے خلق تر کیا.
“تم جا سکتے ہو.” آہل نے تھوڑی بھی مروت نہیں دکھائی۔
عامر سرعت سے اٹھ کر باہر نکلا اور لمبا سانس لیکر خود کو کمپوز کیا.
“ماں تو جان ہی نکال دے گی اگر اسے پتہ چلا کہ لڑکی حالی ہاتھ آئے گی. وہ تو پہلے ہی یتیم سمجھ کر صاف انکار کر چکی ہے۔ جہیز کی لالچ میں مان گئی تھی۔ کیا کیا سپنے سجائے تھے کہ سونے کی چڑیا ہاتھ آجائے گی تو بیٹھ کر عیش کریں گے۔ ” اسی کشمکش میں وہ چلتا رہا کہ سامنے زور سے کسی سے تصادم ہوا.
“اندھے ہو کیا؟؟ دیکھ کر نہیں چل سکتے؟؟
تم!!! سامنے عامر کو پاکر سحر کے ماتھے پر ناگواری کے تاثرات پھیل گئے تھے.
“جی میں!! عامر نے سلگتے انداز میں جواب دیا. اندر تو قربانی کا بکرا بن کر سہم سا بیٹھا تھا ابھی شیر بن کر غرایا.
“بھیا سے کیا بات ہوئی؟؟ سحر کو اس کا لہجہ کافی چھبا.
“جا کر اپنے نام نہاد بھائی سے پوچھنا. جو دو وقت کی روٹی کھلا کر تم پر احسان کرکے خرید چکا ہے. اور تم ہر وقت اس کے شان میں قصیدے پڑھتی رہتی ہو.” عامر نے کچھ زیادہ دل پر لے لیا تھا ۔
“یہ تم کس لہجے میں بات کر رہے ہو. تم آج تک شرافت کا مظاہرہ کرتے آئے ہو تو میں نے چپ رہ کر رضامندی دی تھی. اگلی بار میرے بھیا کے بارے میں بکواس کی تو زبان گدی سے کھنیچ نکال لوں گی. میری ہمت, میری طاقت,میرا مان,میری پہچان , میرا فخر و غرور ہے آہل بھیا. نیکسٹ ٹائم بی کئیر فل.” انگلی اٹھا کر وارن کرکے آگے بڑھ کر آہل کے آفس میں داخل ہوگئی.
“اسلام وعلیکم بھیا !! وہ جو اپنے روم میں جانے کا سوچ کر اٹھنے والا تھا سحر کو دیکھ کر رک گیا.
“وعلیکم السلام بھائی کی جان!! دیر کردی۔ انٹرویو تو ہوگیا.”
“ہاں پتہ ہے!! عامر ملا مجھ سے باہر. مگر عجیب طرح کا بی ہیو کر رہا تھا.
“سحر!! ایک بات سچ سچ بتانا۔ تمہارا جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے دل و جان سے منظور ہوگا۔ میری پہلی ترجیح تمہاری خوشی ہی ہے. تم پسند تو نہیں کرتی نا اس لڑکے کو.” آہل جانچتی نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھ بیٹھا۔
“پسند کا تو نہیں پتہ بھائی!! مگر کبھی غلط حرکت نہیں کی تو اچھا لگنے لگا تھا.”
“اور اب جب تم ملی باہر تو اسکا انداز , لب و لہجہ کیسا تھا. ائی مین کچھ فرق نظر آیا.” اہل نے تفتیشی نظریں اس کے چہرے پر گاڑھی.
“اچھا خاصا!! وجہ پوچھ سکتی ہوں میں. آپ لوگوں کے درمیان کیا باتیں ہوئی ہیں۔ کونسے مذاکرات طے ہوئے ہیں.” سحر ٹیبل پر دونوں کہنیاں ٹکا کر بیٹھ گئی۔
“میں نے خود کو جسٹیفائی کرنے کے لئے اس کا ایک چھوٹا سا ٹیسٹ لینا چاہا. جسٹ اتنا بول دیا کہ سحر یتیم ہے تو ظاہر ہے اس کے ساتھ کسی قسم کا جہیز نہیں جائے گا. تو کیا وہ لوگ ایکسپٹ کرلیں گے. ؟؟ تو اسکی رنگت ایک دم متغیر ہوگئی.”
اوہ!! اسلئے باہر کتے کی طرح بھونک کر گیا ہے. آپ کے خلاف اکسارہا تھا مجھے.” سحر معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی. “اب سامنے آنے کی ہمت تو کرکے دکھائے سارے دانت نا تڑوائے تو میرا نام سحر نہیں.”
“کول بیٹا!! اسے ایک نظر دیکھ کر ہی پہچان گیا تھا کہ ہوس و لالچ کے پجاری ہیں. تم “پیراڈائز” جاؤ میں حویلی کے لئے نکل رہا ہوں. زر آئی تھی یہاں , میں میٹنگ میں تھا تو شہری نے اسے ملنے سے روک دیا تو کافی طیش میں چلی گئی۔
” بھیا !! مجھے بھی آپ اپنے ساتھ حویلی لے جائے نا پلیز!!
“ایک آفت کو کندھوں پر بٹھا کر ساتھ لے گیا ہوں نا ہر وقت سائے کی طرح سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ کسی نا کسی سے پنگا لیکر مصیبت کھڑی کردیتی ہے. قسم سے ناک میں دم کر رکھا ہے.” عنایہ نے آہل کا جینا دوبھر کردیا تھا۔ اور جانتی ہو نا تم حویلی والے کتنے گرے ہوئے لوگ ہے۔ پھر بھی اصرار کر رہی ہو۔
“میں عنایہ نہیں ہوں بھائی !! وہ شارٹ ٹمپر ہے. میں ایک صابر لڑکی ہوں. میں کوئی ایشو کریٹ نہیں کروں گی. بس دیکھنے کا اشتیاق ہے کہ ایک فیملی کے لوگ کس طرح ساتھ میں ہنسی خوشی اور اتفاق و اتحاد سے رہتے ہیں۔ بس دو تین دن کے لئے.” وہ فورس کرنے لگی.
“اونلی ٹو ڈیز !! آہل فائنل کرکے رضامند ہو گیا. اور کیز اٹھا کر چلا گیا۔۔
سحر وہی بیٹھی عامر کے بارے میں سوچنے لگی ۔ کیا واقعی وہ رشتہ جہیز کی وجہ سے کرنا چاہتا تھا۔ وہ کیسے اتنی اچھی اداکاری کرکے اسے خود کیطرف مائل کرنے لگا تھا۔ سحر کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔ اور پرس اٹھا کر باہر نکل گئی کی دروازے میں ایک بار پھر بری طرح ایک توانا وجود سے متصادم ہوئی۔
“اوہ میرے اللّٰہ!! آج تو پکا دس ٹانکے لگ ہی جانے ہیں میرے سر پر” اپنے چکراتے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے سامنے کھڑے انسان کو تیز تند نظروں سے گھورا۔
“ایم سوری!! مہد نے جلدی سے ایکسکیوز کرلی۔ “وہ میرا پین نیچے گر گیا تھا وہ اٹھا رہا تھا آپ کا دھیان نہیں رہا تو ٹکرائی۔” مہد نے اپنے روبرو کھڑی بگڑی تیور لئے چھوٹی سی پیاری لڑکی کو دیکھ کر ہاتھ میں پکڑے ہیں کی طرف اشارہ کیا۔
“آپکا مطلب ہے کہ میں اندھی ہوں۔ یا پھر جان بوجھ کر آپ سے ٹکرائی۔” سحر سرتاپیر سلگ گئی۔
نووووو… ناٹ اٹ آل!!! میں نے ایسا کب بولا۔ معذرت!! مہد جلدی میں تھا۔ جبکہ سحر عامر کا غصہ اس پر نکالنے لگی تھی۔
“ہنہہہہہہ !! سحر نے ناک بھوں چڑھائی اور سائیڈ سے نکل گئی۔
“بھیا نہیں ہے آفس میں.” بغیر مڑے سحر نے اسے آگاہ کیا۔
“بھیا ؟؟؟ مطلب یہ آہل کی بہن ہے. پیراڈائز سے آئی ہے۔” مہد خود سے مخاطب ہوا۔ وہ آہل کے فیملی کے بارے میں اے ٹو زیڈ سب جانتا تھا کہ اسکی کوئی سگی بہن نہیں ہے۔
••••••••••••••••••••••••
کون ہو تم؟؟ اور کس رشتے سے آہل کے ساتھ رہ رہی ہو” عنایہ کچن میں کھڑی فریج سے بوٹل نکال کر کھڑے ہوکر پانی پینے لگی کہ عاتکہ سرتاپیر اسکے سراپے پر نظر ڈال کر مستفسر ہوئی۔
“کیوں ؟ جان کر کیا کرنا ہے؟؟ عنایہ نے رکھائی سے جواب دے کر واپس بوتل منہ سے لگایا۔
‘پانی بیٹھ کر بیتے ہیں بیٹا اور بوتل سے نہیں , گلاس میں ڈال کر پیتے ہیں” عاتکہ ازحد نرمی سے اسکے بدلخاظی اور بدزبانی کو نظر انداز کرکے پرسوچ نظریں اسکے چہرے پر ٹکا کر گویا ہوئی۔( کہاں دیکھا ہے اس لڑکی کو)
“اوہ ہیلو !! اپنے کام سے کام رکھیں. میری مرضی میں کھڑے ہوکر پیو, بیٹھ کر پیو یا لیٹ کر. پتہ نہیں حویلی والوں کو کیوں میرے ہر کام میں ٹانگ اڑانے کے بیماری ہے. جہاں دیکھا ,گیان شروع کردیتے ہیں” حسب عادت عنایہ بداخلاقی کا مظاہرہ کرنے لگی.
” ادب نام کے کسی شے سے کبھی پالا پڑا ہے تمہارا. بات بات پر کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہو۔ بدتمیز !! میری پھپھو سے تمیز سے پیش آؤ. ورنہ …” زر جو اپنے لئے چائے بنانے کچن میں آرہی تھی۔ عنایہ کو عاتکہ کیساتھ بدزبانی کرتے دیکھ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی.
“ورنہ کیا؟ عنایہ ہرنی چال چلتی زر کے قریب آئی اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ دی۔
” کل کا سورج دیکھنے حویلی میں نظر نہیں آوگی۔ جہاں سے آئی ہو وہاں بھیج دوں گی واپس۔ جس کے شہہ پر اتنا اترا رہی ہو یہ اکڑ اس شخص کو جاکر دکھاو.” زر نے سخت پتھریلے نظر سے دیکھ کر وارن کیا۔
” یہ میرے آہل کا……. “”
“تمہارا نہیں !! آہل نا کبھی تمہارا تھا اور نا ہوگا. جو شخص جوتے لیتے وقت اسکی کوالٹی بار بار چیک کرتا ہے, ہزار بار سوچتا ہے کہ کہیں چھبتا تو نہیں۔ تو تم جیسی خرد دماغ لڑکی کو ضرور زبردستی اس کے سر پر مسلط کردیا ہوگا۔ جسکا لہجہ ہر ایک کو کانچ کی طرح چھبتا ہے۔ اسلئے آہل نام کی مالا جھپنا بند کردو. اگر نیکسٹ ٹائم میری پھپھو سے زبان درازی کی تو میں بھول جاؤں گی کہ تم مہمان ہو” زر نے زہرخند جتاتے انداز میں قطعیت سے سرزنش کی۔
” ہاؤ ڈئیر یو !! عنایہ اسکی جرات پر پیچ وتاب کھا کر رہ گئی۔ حویلی والے سب اہل کے نام پر دب جاتے تھے۔ جسکا بھرپور فایدہ عنایہ اٹھا رہی تھی۔ مگر یہاں تو منہ کی کھانی پڑی۔
“عنایہ…. !!!! آہل کی اشتعال انگیز دھاڑ سے کچن میں موجود تینوں نفوس کے دل دہل گئے.
” آئیں جناب, عزت مآب , محترم آہل یزدان صاحب !! آپ کی ہی کمی تھی. جو کھٹک رہی تھی. سن لیا اپنی عنایہ کی اخلاقیات سے گندہ لہجہ۔ اب ٹوکنے کا کیا مطلب. جب سکھایا ہی نہیں اسے کسی نے کہ بڑوں کیساتھ بات کس طرح کرتے ہیں. ویسے مجھے تعجب ہے آپ پر. جس آہل یزدان کو پوری دنیا ایک نام اور مقام سے جانتی ہے۔ جسکی لاثانی خوبیوں کی پوری دنیا متعرف ہے۔ جو اپنی زبان اور اصولوں کا بڑا پکا ہے. اسکے گھر ایسے لوگ بھی رہتے ہیں۔ بد ذوق , بد لحاظ, بد اخلاق..” زر نے تمسخرانہ نگاہ آہل کے خون چھلکاتے چہرے پر ڈال کر کہا جو عضب ناک تیور لئے عنایہ کو گھور رہا تھا۔
“چلے پھپھو !! زر نے عاتکہ کے گرد حصار بنا کر قدم بڑھائے کہ آہل نے اسکے دوسرے بازو کو سختی سے دبوچ کر چلتے قدموں کو روکا۔
” عنایہ معافی مانگو ان سے !! بڑھتے خلفشار خون سے دھواں دھواں ہوتے چہرہ لئے اس نے عنایہ کو حکم دیا.
آہل مم میں… ؟؟ عنایہ تیوریاں چڑھائے ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“ہاں تم!! ورنہ اپنا بوریا بستر سمیٹو اور چلو میرے ساتھ. میں مزید تمہاری ہٹ دھرمی افورڈ نہیں کر سکتا. ” آہل کے کہنے پر زر اور عاتکہ ورطہ حیرت میں غوطہ زن ہوگئے۔
“سوری !! بے دلی سے کہہ کر عنایہ نے لب باہم پیوست کردئیے ۔اور زر اور عاتکہ پر ایک تنفر بھری نظر ڈال کر تلملا کر نکل گئی۔
“تم بھی اپنی پرواز نیچی رکھو۔ حد تم بھی پار کرنے لگی ہو۔ ابھی تم اس قابل نہیں ہو کہ میری ذات پر تبصرے کرو۔ ” آہل کی بات پر زر کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
حد پار بھی ہو اور حد میں نا ہو
مطلب جوانی ہو اور مقدمے نا ہو
“تم….! وہ زر کے قریب آکر اسے اچھے سے جواب دینا چاہتا تھا کہ عاتکہ زر کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہوگئی۔
“بابا سرکار نے کبھی عورت کو اپنے غیض و غضب کا نشانہ نہیں بنایا. تم نے تو حویلی والوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا. دو ہاتھ آگے نکلے.” عاتکہ تلخی سے گویا ہوئی۔
“آپ …. !! آہل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر خود کو کچھ بولنے سے باز رکھا۔ اور اپنے اشتغال پر قابو پانے کے لئے سامنے دیوار زور سے پنچ مارا۔
“آہل…” زر خواس باختہ سی اسکے قریب پہنچ گئی اور اسکی مٹھی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر زور سے دبایا۔ ہڈیوں کے اوپر سے سکن اتر گئی تھی جس سے خون رسنے لگا تھا۔ جبکہ عاتکہ کی آنکھیں یاسیت سے بھر آئی۔
“یہ کیا کردیا؟؟ آپ تو اپنا غصہ مجھ پر نکالتے ہیں نا۔ یہ پنچ مجھے ماردیتے. مجھے تکلیف دیتے۔ خود کو کیوں اذیت دے رہے ہیں آپ.” زر نے دوپٹہ کے پلو سے بہہ رہے خون کو روکنے کی کوشش کی. آہل نے اسکا ہاتھ جھٹک کر اپنا ہاتھ چھڑوایا۔
“مجھے ہمدردیاں بٹورنے سے سخت نفرت ہے۔ “
“آہل !! آپ کا کوئی حق نہیں بنتا میری پھپھو کی تذلیل کرنے کا۔ مجھ پر کتنے ستم ڈھاتے ہیں آپ. کتنی تذلیل کرواتے ہیں . عزت نفس کو بار بار مجروح کرتے ہیں۔ میں قصور وار ہوں اسلئے بغیر اف کئے آپ کی نفرت سہہ رہی ہوں۔ مگر پھپھو نہیں. انہوں نے خود بہت سفر کیا ہے۔ ” زر خود پر اوڑھے مظلومیت کی چادر پھینک کر آہل کے روبرو کھڑی تھی۔
“بدلے کی استطاعت رکھ کر بھی سب کچھ اللہ پر چھوڑ دینے والوں کا ظرف بڑا ہوتا ہے آہل !! اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ جب کوئی تم پر ظلم کرے, تو میرے انتقام پر راضی ہوجاو, کیوں کہ میرا انتقام تیرے انتقام سے بہتر ہے۔ دلوں پر انتقام کا بوجھ رکھنا ایسی تھکن دیتا ہے کہ چہرے تک تاریک پڑ جاتے ہیں۔ پھینک دو اپنے اوپر سے یہ تھکا دینی والی بوجھ. آزاد کردو خود کو ” عاتکہ نے رندھی ہوئی آواز میں اسے بہت کچھ جتایا مگر وہ بھی اپنی ضد کا پکا اپنی من مانی کرنے والا تھا۔ سنی ان سنی کرکے چلا گیا.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” آپی!! جب ہمیں کسی سے پیار ہوتا ہے تو کیسا فیل ہوتا ہے۔” سوہا اور زر رات کو سونے کے لئے لیٹ گئے تو سوہا نے اسے مخاطب کیا۔ وہ خلاف معمول آج زر کے روم میں سونے آگئی تھی۔
“مم۔۔ مجھے کیا پتہ!! میں کونسا کسی کے پیار میں پاگل ہوں.” زر نے جز بز ہوتی متحیر نظر سوہا پر ڈالی جو موبائل سکرین پر سرد نظریں گاڑھے سوچوں میں گم تھی۔
“تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ اسے ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھتے دیکھ کر زر نے تشویش بھری نظر اس پر ٹکا دی۔
“مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ مجھے بھی پیار ہوگیا ہے.” سوہا کے سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔۔
“کک۔ کس سے ؟؟ زر نے حلق تر کرکے استفسار کیا۔۔
“آہل یزدان سے!! الفاظ تھے یا بم۔ جو پل بھر میں زر کے خواس جھنجھوڑ دئیے.لفظوں کے تیردل کے آر پار ہوگئے. اور ٹھٹھک کر منجمد نگاہوں سے اپنی بہن کے چہرے کو دیکھ رہی تھی مگر وہاں مذاق کی ہلکی سی رمق بھی شامل نہیں تھی ۔غیر ارادی نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے موبائل اسکرین پر نظر پڑی تو دل میں درد کی ٹھیس اٹھی۔ وہاں آہل کی تصویر تھی۔
آہل۔!! وہ زیرلب بڑبڑائی۔
“جی آپی !! پتہ نہیں کب ؟ کیسے؟ مگر اسکو دیکھ کر دل الگ تڑلے سے دھڑکتا ہے۔۔ بس یہی خواہش کرتا ہے کہ وہ آس پاس رہے۔ مناسب موقع ملتے ہی میں اس کو اپنی فیلنگز سے آگاہ کر دوں گی۔” سوہا زر کی دلی کیفیت سے انجان اپنی ہی احساسات کا برملا اظہار کر رہی تھی۔
“مگر سوہا تم ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی. کیا پتہ وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو۔۔ یا انگیجڈ ہو. اور تمہارا پروپوزل ریجکٹ کردے۔” زر نے زبان تر کرکے اپنے تئیں اسے روکنے کی کوشش کی۔ ابھی تک تو وہ اپنی محبت سے پوری طرح سیراب بھی نہیں ہوئی تھی۔ ابھی تو آہل کے دئیے گئے زخم بھی مندمل نہیں ہوئے۔ کہ اسکی اپنی سگی بہن نے اسکی خوشیوں کے بیچ فصیل کھڑی کردی۔
” ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ مجھ میں کیا کمی ہے۔ نا صورت کی نا سیرت کی۔ خاندانی لڑکی ہوں. اسکے پاس ریجکٹ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔ بس آپ میرے لئے دعا کرے.” سوہا کی باتیں زر کو بے سکون کرگئی۔ وہ حال دل سنا کر پرسکون ہوگئی۔ مگر زر کو ہزاروں وسوسوں اور خدشوں کی زد میں چھوڑ گئی۔ جب دیر تک دماغ پر سوچوں کا غلبہ رہا تو اٹھ کر عاتکہ کے روم میں چلی آئی ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“زر بیٹا!! تم جاؤ نا, دیکھ آو آہل کو. ڈنر کرنے بھی نہیں نکلا. شام سے روم میں بند ہے. یہ فرسٹ ایڈ باکس بھی لے جاؤ. زخم صاف کرکے پٹی باندھو. اس نے ایسے ہی کھلا چھوڑ دیا ہوگا زخم کو.” عاتکہ جو کب سے آہل کو لیکر مضطرب سی ادھر اُدھر ٹہل رہی تھی زر کو سامنے دیکھ کر جیسے دلی مراد بھر آئی۔
” جی پھپھو !! میں دیکھتی ہوں. مگر وہ اتنے ضدی اور خودسر ہیں. آپکو لگتا ہے کہ وہ میرے ہاتھ سے پٹی کروادیں گے.” وہ ہاتھ میں باکس لیکر عاتکہ سے مخاطب ہوئی.
“جانتی ہوں. مگر اسے اسکے حال پر بھی تو چھوڑ نہیں سکتے نا. انکار بھی کرے تو پیچھے نہیں ہٹنا. وہ چاہے لاکھ انکار کردے. آج تم نے ضد پکڑنی ہے.” عاتکہ نے اسکی ڈھارس باندھی۔
بڑی اختیاط کے ساتھ ادھر ادھر نگاہیں دوڑا کر آہل کے روم کے سامنے کھڑی تھی۔ دروازے پر ہاتھ رکھا تو کھلتا گیا۔ اور وہ جلدی سے اندر داخل ہوگئی اور لاک لگائی.
“یہ تو روم میں نہیں. خالی کمرہ منہ چڑھا رہا تھا۔ کہاں گئے ہوں گے؟؟ واشروم کا دروازہ کھلا تھا.. آہل روم میں موجود نہیں تھا.
“کہیں عنایہ کے روم… ” نہیں نہیں!! اس سے آگے کا سوچ کر ہی اسے موت آنے لگی ایک دم چہرے پر کرب و اذیت کے کئی سائے لہرائے۔ اور بےجان قدموں سے واپس جانے لگی.
“آج تو بڑے بڑے لوگوں نے ہمارے غریب خانے کو عزت بخشی ہے.. واہ جی. اور اپنا دیدار کروائے بغیر جارہی ہو. ادھر کھڑی ہوجاؤ تاکہ آرتی اتاروں تمہاری.” واشروم سے نکلے آہل نے طنزیہ تیر اچھال کر چھوٹے سے ٹاول سے اپنے زخمی ہاتھ کو صاف کرکے ٹاؤل صوفے پر پھینک دیا اور زر کے قریب آکر نافہمی سے اسکے صاف شفاف من موہنی صورت پر نظر ڈالی.
“وہ مم- میں۔۔ آپکا ہاتھ… پٹی کروانی ہے”. اپنے چہرے پر گہری نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے وہ اٹک اٹک کر بولی.
“ہاہاہاہاہاہا…. بھیگی بلی.” آہل نے اسکے ماتھے پر پسینے کے موتی اپنے انگلی سے چن لئے. زر نے آنکھوں میں خفگی لئے اسے گھورا۔
سرعت میں اسکو ہاتھ سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور اسکے برابر بیٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے باکس کھولا اور ضرورت کی چیزیں نکال دی۔
“اوئے ہیلو!! یہ خوش فہمی کیونکر ہونے لگی تمہیں, کہ میں تمہاری ہلف لوں گا.” آہل نے سیکنڈ کے اندر اسکو صحیح معنوں میں زمیں پر پٹخ دیا۔
“میری ہلف نہیں لینی تو کم از کم خود کروالو پٹی. زخم کھلا رہے گا تو خراب ہو جائے گا۔” عنایہ نے باکس اس کیطرف بڑھایا۔
“اچھا ہے نا خراب ہو جائے. تمہیں مجھ سے چھٹکارا مل جائے گا. آزاد ہو جاؤ گی میرے قید سے اگر مجھے کچھ ہوگیا تو . اور یہ فکرمندی کا ڈرامہ رچا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تمہیں میری بہت پروا ہے؟؟ وہ آہل ہی کیا جو سیدھے منہ بات کرے. طنز و طیش بھری آواز میں بولا۔
” آپ کی طرح بے حس نہیں ہوں میں. آپکی تکلیف پر مجھے بھی درد ہوتا ہے. کیونکہ میں پیار کرتی ہوں آپ سے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ مجھ سے سخت نالاں ہیں. میری پوری زندگی داؤ پر لگائی ہیں آپ نے.” عنایہ آبدیدہ ہوگئیں. کیسی آزمائش تھی یہ. یہ شخص اتنے پاس ہوکر بھی اپنا نہیں تھا.
” اور مجھے بے حس بنانے میں تمہارے حویلی والوں کا بڑا ہاتھ ہے. انسان وحشی تب بنتا ہے جب اسے درد سے آشنا کرنے والے سگے ہو.” اپنے اندر کی کرواہٹ اس کے سماعتوں میں انڈیلتا وہ کھڑا ہونے لگا کہ زر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
” پلیز !! پھیکے چہرے کے ساتھ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا تو اس کی من میں کیا سمائی کہ بیٹھ گیا۔ موقع کو غنیمت جان کر وہ جلدی ہاتھ چلانے لگی۔ ہاتھوں کی لغزش آہل نے بخوبی نوٹ کی۔
“ایسے پٹی کرواوگی؟؟ آہل نے اسکے لرزتے ہاتھوں کو نشانہ بنایا.
“چپ رہے آپ!! مجھے اپنا کام کرنے دے.” زر نے سرخ ہوتے چہرے کیساتھ اسے ڈپٹ کر چپ کروایا اور کاٹن سے زخم صاف کرکے پٹی کروائی۔ جب کہ اس پورے وقت میں آہل نے اسکے چہرے کو اپنے نظروں کے حصار میں لے رکھا تھا۔ جو زر کو بے چین کئے ہوئے تھے۔پلکیں بار بار حیا کے بوجھ سے عارضوں پر گر رہے تھے۔ پرحدت احساس سے گال دہکنے لگے اور اس منظر سے آہل کو دھڑکنوں میں عجیب سا ارتعاش محسوس ہوا۔
” ہوگیا.. آپ اسے پانی سے دور رکھیں. اور اپنے غصے کو توڑا کنٹرول رکھیں۔ خود کو تکلیف دیں گے تو بدلہ لینے کے قابل نہیں رہیں گے۔” زر کی طنز کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے وہ اسکے خوبصورت نقوش میں کھویا ہوا تھا۔
” مم۔میں چلتی ہوں!! وہ آہل کی بے تاب نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے کھڑی ہوئی کہ آہل نے اسکا ہاتھ پکڑ کر زور سے جھٹکا دے کر اپنے اوپر گرایا۔
“ہائے اللّٰہ!! وہ کٹی ہوئی شاخ کی مانند آہل کے سینے سے لگی۔
“شکاری خود چل کر پاس آیے تو شکار کرنا فرض ہوجاتا ہے ۔” زر کے چہرے پر آئی آوارہ لٹوں کو انگلی کی مدد سے کان کے پیچھے اڑسا کر اسنے پلکوں پر پھونک ماردی۔۔ جس سے زر کے پورے جسم نے جھٹکا کھایا۔
اس کے ہاتھ سے باکس لیکر باہوں میں بھر کر وہ بیڈ تک لے ایا۔
“کک۔کیا کر رہے ہیں آپ؟؟ خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر زر نے خوف اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں خود کو چھڑانے کی کوشش کی.
“آفس کس کام سے آئی تھی؟؟ اور ملے بغیر ہی واپس چلی آئی. کیوں؟؟ آہل نے اسے آہستہ سے بیڈ پر بٹھا کر نرمی سے استفسار کیا۔
زر نے منہ پھیر لیا.
“اس طرح بے رخی برداشت نہیں مجھے.” واپس اس کا رخ اپنی طرف کرکے سنجیدگی سے گویا ہوا۔
“ابھی کیوں پوچھ رہے ہیں؟؟ اپنے آفس سے تو بے عزت کرکے نکلوا دیا تھا. اتنی بے مول ہوں میں آپکی نظر میں. کہ آپکے پی اے نے مجھے روکا.” زر نے ناراضگی جتائی۔
“بالکل بھی نہیں !! پی اے حکم کی پابند ہوتی ہے. جس کی وہ ہر حال میں تکمیل کرتی ہے. آئیندہ میری زر کو روک کے دکھائے۔جاب سے فارغ کردوں گا۔” زر کے ماتھے پر لب رکھ اسے مان بخشا.
“اب تم بتاؤگی, آفس آنے کی وجہ؟؟
“آپ کے اور عنایہ کے بیچ کیا چل رہا ہے۔ وہی پوچھنے آئی تھی۔” آنکھیں چرا کر جلدی سے پہلو بدلہ۔
“تمہیں کیا لگ رہا ہے. کیا چل رہا ہے.؟؟
زر کی گردن میں منہ چھپا کر خمار بھرے لہجے میں گویا ہوا.
آہل… !!! نہیں… ” وہ منمنائی.
” آپ دور رہے پلیز. خود کو تو آپکی انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا مگر اپنی عزت نہیں.” وہ بیڈ سے اترنے لگی کہ آہل نے اسکی کوشش ناکام بنادی۔ اسکا بازو سختی سے دبوچ لیا.
°°°اس سی کہو کہ میں اب سانس لینا چاہتا ہوں۔۔۔
میرے وجود سے وعدوں کی رسیاں کھول دے۔
زر کی کانوں میں میٹھی سرگوشیاں کر کے اس کے بالوں سے کیچر نکال کر سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
“نہیں پپ۔ پلیز!! غلط ہے یہ.. سمجھے آپ..” وہ اہل سے فاصلہ بنا کے ملتجانہ انداز میں بولی
“کیا صحیح ہے کیا غلط !! اس کا فیصلہ میں کروں گا. تم مجھے یہ بتاؤ , تم پیار کرتی ہو مجھ سے کہ نہیں؟؟ آہل نے اسکی دکھتی رگ کو چھیڑا
“کرتی ہوں ناں !! زر نے لمحہ ضائع کئے بغیر تائیدا سر اثبات میں ہلایا۔
“تو پھر دور رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا. اب تک تمہاری بات سنتا آیا ہوں. اپنی حد میں رہ کر ملتا آیا ہوں. اب تم منع نہیں کروگی.” آہل نے اپنی من مانیاں شروع کردی۔
“نہیں بننا مجھے رکھیل!! آپ نہیں کرتے پیار مجھ سے. یہ سب کچھ آپ صرف اپنے دلی تسکین حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں. آپ نے خود بولا تھا کہ ایاز میر کی بیٹی سے کوئی رشتہ جڑنے سے بہتر ہے کہ اسے رکھیل بنا کر رکھا جائے. ناکہ بیوی کا درجہ دے کر مان دیا جائے” زر اب باقاعدہ رونے لگی.
“دماغ خراب ہوگیا تھا میرا. پاگل تھا میں. بکواس کیا تھا.” وہ ہذیانی انداز میں چلایا تو زر ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔
خاموشی سے اٹھ کر وہ دروازے تک آئی تو اپنے عقب میں آہل کی گھمبیر بھاری سنجیدہ آواز سنی۔
“اگر آج ایسے مجھے دھتکار کر چلی گئی تو میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہاں سے چلا جاؤں گا۔ کہ تم دیکھنے کو ترس جاوگی۔
“آہل!! زبان اور پیر ساتھ دینے سے انکاری ہوگئے۔ تو وہ وہی دروازے کے ساتھ زمین پر ڈھیر ہوگئی۔