88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 19
” سر !! آپ کی دوسری پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔” نرس نے آکر سحر کے ہوش میں آنے کی اطلاع دی تو آہل آنسو پونچھتا ہوا کھڑا ہوگیا اور مہد کی پیروی کرتا ہوا سحر کے روم پہنچا۔
” کیسا ہے میرا بچا۔؟؟ آہل نے سحر کے پٹیوں میں جھکڑے سر پر بوسہ دیکر شفقت سے پوچھا۔
” بھیا!!!! بب۔بھابھی… اور بے بی” آہل کی لہو رنگ آنکھیں دیکھ کر اٹک اٹک کر بس وہ اتنا ہی پوچھ پائی
” سحر !! تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ڈاکٹر نے دماغ پر ذیادہ دباؤ ڈالنے سے منع کیا ہے۔ تمہیں ابھی ریسٹ کی ضرورت ہے۔ دعا کرنا اپنی بھابھی کے لئے” آہل کچھ بھی بولنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا۔ تو مہد نے جلدی سے سحر کا دھیان بٹانے کی کوشش کی۔ جبکہ نیند کا انجیکشن لگنے کی وجہ سے سحر کی آنکھیں بند ہونے لگی۔ وہ دونوں شکستہ قدم اٹھا کر باہر کی طرف بڑھنے لگے۔
” آہل زر کو فوری طور پر خون کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے پاس اس گروپ کا بلڈ موجود نہیں۔” باہر نکلتے ہی امان میر اور منیزہ بیگم کا ٹکراؤ آہل سے ہوگیا اور ان کی بات سن کر آہل کا سر گھومنے لگا
” آپ کی بھتیجی ہے نا۔ تو آپ کا بلڈ میچ ہو جائے گا آپ پلیز میری زر کو بچا لے۔” آہل ملتجانہ انداز میں امان میر کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر بھیک مانگنے لگا۔
” تمہیں کیا لگا میرا بلڈ میچ کرے گا اور میں اپنی بچی کو کسی دوسرے کے رحم و کرم پر چھوڑوں گا۔ ہم دونوں کا بلڈ گروپ چینج ہے۔” امان میر کے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے۔
” بابا میں دے دوں گا خون اپنی بہن کو۔۔” عقب سے اسامہ کی بھرائی آواز سن کر سب ایک دم پلٹے۔
” اسامہ !! تم ابھی بچے ہو.” منیزہ اپنے سترہ سالہ کم سن بیٹے کو دیکھ کر تذبذب کا شکار تھی۔
” مگر یہ ہیلتھدی ہے۔ دے سکتا ہے۔ تم چلو میرے ساتھ۔” امان میر نے کسی کو بھی سوچنے کی مہلت دیے بغیر اسامہ کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ساتھ لیکر گیا۔
” آہل!! عنایہ کے روم میں آگ لگی تھی۔ جسم کا نچلا حصہ کافی جل گیا ہے۔ اذلان اور حدید اسے لیکر یہاں آئے تھے۔” مہد نے آہل کو بتانا مناسب سمجھا جبکہ آہل کے سپید پڑتے چہرے کو دیکھ کر اسے اپنی بات کا ملال ہونے لگا۔
” یہ سب ان سفاک لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ خون سفید ہوگیا ہے ان کا۔ اپنے پرائے کی پہچان بھول گئے۔ میں کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ تڑپ تڑپ کر ماروں گا میں ان سب کو۔ مجھ سے میرا بچہ چھیننا۔ میری بیوی اندر زندگی اور موت کے کشمکش میں پڑی ہے۔ اور معصوم عنایہ کو اس حال تک پہنچانے کی زمہ دار یہی جابر لوگ ہے۔ میں کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ بھیانک موت دوں گا میں سب کو” آہل ہذیانی کیفیت میں چلا رہا تھا۔ جبکہ مہد اسے سنبھالتے خود ہمت ہارنے لگا۔
” آہل پلیز !! صبر و تحمل سے کام لو۔ سب کا سہارا ہو تم۔ زر, سحر اور عنایہ کو تمہاری ضرورت ہے۔” مہد اسے دلاسہ دینے میں ناکام تھا۔
” تت تم یہاں ٹھہرو۔ میں عنایہ سے مل کر آتا ہوں۔” مہد نے اثبات میں سر ہلایا۔ تو وہ ہاسپٹل کے سکینڈ فلور پر آگیا جہاں عنایہ زیر علاج تھی۔ کوریڈور میں اسے اذلان اور حدید دکھائے دئیے ۔ اذلان زخم کھائے شیر کی طرح مسلسل ادھر اُدھر چکر کاٹ رہا تھا۔
” دیکھ لیا خونی رشتوں کا بے حس اور سفاک روپ۔ پہلے زر کا سیڑھیوں پر گرنا,عنایہ کے روم میں آگ لگنا یہ محض ایک حادثہ نہیں ہوسکتا۔ایک سوچی سمجھی شازش تھی۔” ان لوگوں کے قریب آکر وہ شیر کی طرح غرایا۔ اس کی بے انتہا سرخ آنکھیں اور بھینچے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھ کر اذلان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
” آہل !!! اگر میری بہن اور عنایہ کو کچھ بھی ہوا نا تو میں ان کی سوچ سے بھی برا ثابت ہوں گا۔ اور ان سب کے پیچھے جن کا ہاتھ ہوگا سب کو نیست و نابود کردوں گا۔ اور یہ سب کرتے ہوئے مجھے رتی بھر افسوس نہیں ہوگا۔ اپنے باپ کے گھناؤنے فعل کو جانتے ہوئے بھی میں چپ تھا صرف اپنی ماں کا سہاگ بچانے کی خاطر۔ لیکن اب نہیں۔” اذلان کی کنپٹی کی ہری ہری رگیں پھڑک رہی تھی۔ آنکھوں میں حد درجہ سرخی اس کے اندر بھڑکتے اشتعال کا پتہ دے رہے تھے۔
” تم میں سے اہل کون ہے؟؟ پیشنٹ کو ان سے ملنا ہے۔” نرس نے قریب آکر گویا سب کے سروں پر دھماکہ کیا۔
” مم۔ میں اس کا سامنا نہیں کرپاوں گا اذلان۔ تم جاؤ۔ ” آواز میں اتنا درد اور بےچینی تھی کہ اس پل حدید کو وہ جوئے میں ہارا وہ وہ شخص لگا جو اپنا سب کچھ ہرا کر بلکل تہی دست رہ گیا ہو۔
” آپ جائے میری بہن کو آپکی ضرورت ہے۔۔یہاں میں ہوں عنایہ کا بھائی ہے۔ ہم سنبھال لیں گے۔ اذلان نے اسکو واپس بھیج دیا اور خود ایمرجنسی روم کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
18 گھنٹے کی طویل انتظار کے بعد زر کو ہوش آگیا تھا۔ تو آہل کی جان میں جان آگئی۔ اور بے ساختہ لبوں سے الحمد للّٰہ کے الفاظ ادا ہوئے۔ اور سیکینڈ کا توقف لئے بغیر وہ زر کے پاس پہنچ گیا۔ اور کونے میں پڑا سٹول اٹھا کر وہ اسکے سرہانے بیٹھ گیا۔
” زر!!! آہل نے اس کے کملائے زرد چہرے کو دیکھا جو کچھ ہی وقت میں نچوڑ کر رہ گئی تھی ۔
” آہل!! ہمارا بچہ؟؟ نقاہت زدہ آواز پر آہل نے اس کے ہلتے سوکھے لبوں کی طرف دیکھا تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ سٹول سے اٹھ کر وہ بیڈ پر زر کے پہلو میں جگہ بنا کر بیٹھ گیا۔ اور اس کے چہرے پر جھک کر ماتھے پر لگے پٹی پر اپنے لب رکھے۔
” اللّٰہ کے ہر کام میں مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اور بطور مسلمان ہمیں ہر معاملے میں صبر کی تلقین کا حکم دیا گیا ہے۔ بچے سے زیادہ تمہاری زندگی میرے لئے اہم ہے۔” زر کو دلاسہ دیتے ہوئے خود اہل کس اذیت سے گزر رہا تھا صرف وہی جانتا تھا۔
” مگر آہل !! مجھے دیکھ کر چلنا چاہئے تھا نا۔ آپ کے بچے کی حفاظت نہیں کرپائی۔ قصور میرا ہی تھا ۔آپ کی دلہن بننے کی اتنی خوشی تھی کہ میرے پیر زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔” زر لب کچلتے مجرمانہ انداز خود کو دوش دینے لگی۔ اس کی باتوں سے اہل کا کلیجہ چھلنی ہوگیا۔
” ششش کچھ بھی تمہاری وجہ سے نہیں ہوا۔” آہل نے اسکے آنسو انگلی کی پوروں سے صاف کئے۔
” آپ نے بولا تھا آپ کو بچے پسند ہے۔ ہمارے درجن بچے ہوں گے۔ اپ کا بچپن تنہائیوں میں اکیلا گزرا ہے تو ہم اپنے بچوں پر اپنی تمام محبتیں لٹائیں گے۔ میں نے آپ سے آپ کی وہی خواہش چھین لی۔۔” دو سال پہلے آہل کی کی گئی باتیں یاد کرکے زر کی سانسیں مدھم ہونے لگی ۔ جبکہ آہل کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ اور زور سے ہونٹ بھینچ کر اسکے سینے پر سر رکھ کر دل میں چھپے درد کو آنسوؤں کی شکل میں بہنے دیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماضی۔۔۔۔۔
یہ نکاح سے ایک مہینے بعد کی بات تھی جب اس نے بخار کی وجہ سے یونیورسٹی سے چھٹی لی تھی۔ عصر تک طبیعت میں کچھ بہتری آئی تو اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی۔ ابھی واش روم میں تھی کہ موبائل کی چھنگاڑتی آواز سن کر عجلت میں باہر نکل ائی۔ ٹاول صوفے پر پھینک کر موبائل اٹھایا تو آہل کا نمبر دیکھ کر اس کا دل الگ تڑلے سے دھڑکا۔ یہ اس وقت کیوں فون کر رہا ہے۔
” اسلام وعلیکم!! آہل یزدان اسپیکنگ ۔۔۔” جیسے ہی کال اٹینڈ کی دوسری طرف بھاری گھمبیر لہجے میں کئے گئے تعارف پر اس کی دھڑکنوں میں تلاطم پیدا ہوگیا۔
” وو۔۔وعلیکم اسلام۔!!!! زر نے نے خلق تر کرکے جواب دیا۔
” اتنی سہمی ہوئی کیوں ہو۔ یا پھر توقع نہیں تھی اس پیش رفت کی؟؟ آہل نے طنز کے تیر برسائے۔
” کال کیوں کی؟؟ زر اس کے اطمینان پر تلملائی۔
” وہ کیا ہے نا جب سے تمہیں دیکھا ہے نیند, چھین, سکون اور راحت مجھ سے روٹھ کر کر سسرال چلے گئے ہیں۔ تو میں نے سوچا کہ کچھ وقت کے لئے انہیں اپنے پاس بلا لوں.” وہ آہل ہی کیا جو سیدھے منہ بات کرے۔
” کک۔کیا مطلب۔؟؟ زر شش و پنج میں مبتلا ہو گئی۔
“مطلب یہ کہ ملنا ہے تم سے ابھی۔ اب بندہ شادی شدہ ہوکر کنواروں جیسی زندگی گزارے گا تو پھر طلب مٹانے کے لئے جگہ جگہ منہ ماری کرے گا۔ اب جب اپنی بیوی موجود ہو تو کیوں گناہ کا مرتکب ٹھہرا جائے۔” آہل نے وارفتگی سے کہہ کر زر کا سیروں خون جلا دیا۔
” اور شائد آپ بھول گئے ہیں۔ کہ یہ بیوی آپ کی من چاہی نہیں ہے۔ آپ کے انتقام کے لئے ایک مہرہ ہے۔ تو آپ کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے خاص جذبات کا زیاں ایک ان چاہی بیوی پر کرکے اپنی ضرورت پوری کریں۔”آہل کی بات پر زر دل مسوس کر رہ گئی۔ بات تو ایسے کر رہا ہے موصوف , جیسے کتنے اچھے مراسم ہو دونوں کے درمیان۔
” ذیادہ گیان مت دو۔ تم ابھی آرہی ہو۔ میں آفس میں ویٹ کر رہا ہوں۔ حویلی سے نکل کر کچھ فاصلے پر میرا ڈرائیور کھڑا تمہارا ویٹ کر رہا ہوگا۔ اگر تم نہیں آئی تو مجبوراً مجھے آنا پڑے گا۔” آہل نے اسکی کمزور نبض پکڑ لی
۔
” آرہی ہوں میں۔” زر نے فوراً ہامی بھرلی ۔
” گڈ گرل۔!!! آہل کے تنے اعصاب پرسکون ہوگئے۔
اور آگلے بیس منٹ میں وہ آہل کے آفس سے ملحقہ روم میں بیٹھی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم الجھائے مضطرب سی بیٹھی تھی۔ آہل کے پی اے اسے یہاں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اور روم میں روشنی کے نام پر صرف ایک نائٹ بلب تھا۔ جتنا مشکوک بندہ تھا وہ حرکتیں بھی کافی پراسرار تھی۔ پانچ منٹ بعد روم کا ڈور کھلا تو زر کی سانس سینے میں اٹک گئی۔ ہمت ہی نہیں تھی آہل کا سامنا کرنے کی۔۔
” ویلکم ٹو مائی لائف !! آہل کی سرد سنجیدہ آواز پر وہ اپنی جگہ سے اچھلی۔ تب آہل نے روشنی کا وہ آخری ذریعہ بھی ختم کردیا۔
” آپ کیوں ہمیشہ لائٹ آف کرتے ہیں۔” زر بوجھل آواز میں بولی۔
” کیونکہ مجھے روشنی سے نفرت ہے۔” قدم اس کی طرف بڑھاتے آہل نے کہا تو زر کے دھڑکنوں میں ہل چل مچ گئی۔ اس کو پیچھے سے حصار میں لیکر اس کے شانوں سے چادر سرکا دی تو زر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوگئی۔
” تم تو ایسا اوور ریکٹ کر رہی ہو جیسے کسی اچھوت نے چھو لیا ہو۔ شوہر ہوں تمہارا۔” آہل تو تپ ہی گیا اس کے ردعمل پر۔ اور اسکے وجود کو چادر کے بوجھ سے آزاد کردیا۔ اس وقت اندھیرا بھی زر کو غنیمت لگا۔ ورنہ اپنی خالت پر وہ پانی پانی ہورہی تھی۔ آہل نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر واپس صوفے پر بٹھایا۔ اور اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔
” پتہ ہے میں چاہتا ہوں۔ میرے کم از کم درجن بچے ہو۔ اتنے کیوٹ کیوٹ سے شرارتی۔۔کچھ میری طرح کچھ تمہاری طرح اور کچھ ہم دونوں کی طرح۔” اپنی ہی بات پر آہل قہقہ لگا کر ہنسا۔
“۔ میں نے اپنی زندگی کے قیمتی شب و روز تنہائی میں گزارے۔ مگر اب میں چاہتا ہوں۔ کہ میرا اپنا گھر ہو جس میں میرے بچوں کی کھلکھلاہٹیں چار سوں گھونجتی ہو۔ اور میرے ویران زندگی میں بہار آ جائے۔ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا نا۔” زر کو اس وقت آہل کی دماغی خالت پر شبہ ہونے لگا۔ کہاں وہ اس سے نفرت کا دعویٰ دار ہے اور کہاں گھر بسانے اور بچے پیدا کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
” تم یہی سوچ رہی ہو نا کہ کتنا سنکی انسان ہے۔” زر جو ہنوز خاموش دیکھ کر وہ گویا ہوا۔
” بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔ آپکا دماغ توازن بگڑ گیا ہے۔ آپ کو علاج کی اشد ضرورت ہے۔” زر نے بغیر لگی پٹی دل کی بات کہہ دی۔
” علاج کے لئے تو بلایا ہے تمہیں یہاں۔” اسکے نرم مومی ہاتھ کو اپنے مضبوط گرفت میں لیکر لبوں سے لگایا۔ تو زر کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔
” آہل مجھے گھرجانا ہے۔ دیر ہورہی ہے۔” آہل کا سر اپنی گود سے ہٹانے کی کوشش کی مگر آہل ٹس سے مس نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ کسی کمزور لمحے کے زیر اثر بہکنا نہیں چاہتی۔ مگر اگلے پل ایک جھٹکے سے آہل نے اسے خود کے اوپر جھکایا اور اسکی سانسیں ضبط کردی۔ کچھ لمحے بعد سانسوں کو رہائی ملی تو اہل نے اسے صوفے پر لٹایا اور اس کے پور پور کو اپنے نرم لمس سے مہکانے لگا۔ کچھ دیر مزاحمت کے بعد زر نے ہتھیار ڈال کر اس کے گرد حصار بنایا۔ آہل کے لبوں نے چہرے سے گردن تک کا سفر کیا۔ بیوٹی بون پر شدت بھرا بوسہ دے کر وہ پیچھے ہٹا۔ اس کا ہر لمس اس قدر دل فریب تھا کہ زر کو کہیں سے بھی انتقام یا بدلے کا احساس نہیں ہوا۔
” اب جاؤ تم۔” آہل نے اسے شانوں سے پکڑ کر کھڑا کیا جو اپنے بکھرے تنفس کو بحال کرنے کے لئے جلدی جلدی سانس لینے لگی۔
” میں کیسے جاؤں گی؟؟
” باہر ویٹ کرتے ہیں۔ نانا سرکار یہاں آئیں گے ان کے ساتھ گھر چلی جاو۔ گھر میں کوئی سوال جواب بھی نہیں کرے گا۔” آہل نے اسکے بالوں پر بوسہ دیا
” آہل!!! آہل دو قدم آگے بڑھا تو پیچھے سے زر نے اسے پکارا ۔
” ہاں!!!!! اس نے پلٹ کر جواب دیا۔
” لائٹ آن کردو۔” عجیب سی فرمائیش پر اہل کی بھویں اپر کو شوٹ ہوئی۔اس نے ہاتھ بڑھا کر نائٹ بلب کو آن کیا۔ مگر اب بھی وہ صرف ایک دوسرے کے سایے کو دیکھ سکتے تھے ۔ زر اس کے قریب اگئی۔ اس کے روبرو کھڑے ہوکر آہل کے دائیں رخسار کو ہاتھ کے پیالے میں بھر کر پنجوں کے بل کھڑی ہوگئی اور اس کے بائیں رخسار پر لب رکھ دئے۔
” میں نہیں جانتی آپ نفرت میں کس حد تک جاسکتے ہیں۔ مگر مجھے اپنی پھپھو کا یہ اکڑو سڑیل بیٹا بہت پسند ہے۔ اور آپکی ہر خواہش سر آنکھوں پر۔ ہمارے بچے ہوں گے۔ جتنے آپ چاہے۔ مگر اس بات کا دعویٰ مت کرنا جو آپ کبھی کر نا پائے۔ مجھ سے نفرت۔ عورت کی محبت بڑی پختہ ہوتی ہے۔موسم ,خالات, دکھ سکھ کسی صورت نہیں بدلتی۔۔ اور نا ہی کسی اور سے منسلک ہوتی ہے۔ یعنی کہ ڈھیٹ محبت۔ عورت کو توڑنا کم ظرف انسان کی نشانی ہوتی ہے۔ ایسا کچھ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔۔۔۔۔۔” اپنی بات کہہ کر وہ اسکے سینے سے جالگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حال۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہم نے تو صرف عنایہ کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی تھی یہ زر کو مارنے کی سازش کس نے رچائی ہے۔ کیا آہل کا کوئی اور بھی دشمن تھا” ایاز میر کو جیسے ہی زر کی تشویشناک حالت کی خبر مل گئی۔ سلطان میر کو حجرے میں بلایا۔
” کچھ معلوم نہیں بھائی صاحب۔!! یا شاید وہ خود سیڑھیوں میں گر گئی ہو۔” سلطان میر بات کی نفی کرتے ہوئے بولا
” نہیں۔ سیڑھیوں میں کافی مقدار میں تیل کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر گرایا ہے۔ مگر کس نے, یہ ابھی فی الحال کنفرم نہیں۔ مگر وہ لوگ اس بات کا زمہ دار بھی ہمیں ٹھہرائیں گے۔” ایاز میر نے ملازموں کے منہ سے ابھی تھوڑی دیر پہلے سنا تھا کہ سیڑھیوں پر تیل گرنے کی وجہ سے زر کا پاؤں پھسل گیا تھا۔
” لوگوں کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ یہ سب ہماری کارستانی ہے۔ قانون ثبوت مانگتی ہیں۔ اور ہم نے اپنا کام اتنی مہارت سے کیا ہے کہ شواہد ڈھونڈتے صدیاں گزر جائے گی۔ بس اب وہ لڑکی بچنی نہیں چاہئے” سلطان میر خود اپنے خبیث فعل پر مسرور تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” یار تم رونا بند کرو نا۔ کچھ بھی نہیں ہوا تمہیں۔ اللّٰہ کا شکر ہے تم بچ گئی ۔” جب سے اذلان اور حدید اس کے پاس آئے تھے متواتر رو رہی تھی۔
” دیکھ گڑیا!! صرف جسم کے کچھ حصے تھوڑے سے جل گئے ہیں۔۔ اور ان شاءاللہ یہ زخم پراپر ٹریٹمنٹ سے جلد ہی بھر جائیں گے۔ آہل نے باہر سے ایک قابل سرجن کو یہاں بلایا ہے۔ وہ تمہارا علاج کرے گا۔ تم بالکل ٹھیک ہوجاو گی۔۔اور الحمد للّٰہ چہرہ اور بال بچ گئے ہیں۔” حدید مسلسل اسے بہلا پھسلا کر ایک بھائی کا فرض نبھا رہا تھا۔
” بھائی !! میرے روم میں آگ کیسے لگی۔؟؟ عنایہ کے سوال پر اذلان نے چونکتے ہوئے حدید کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔ اور مزید یہاں ٹھہرنا کسی آزمائش سے کم نہیں تھا اسلئے بغیر کسی کو مخاطب کیے روم سے نکل گیا۔
” ابوئیسلی!! شارٹ سرکٹ کے باعث.”” حدید نے جلدی سے چہرے پر آیا پسینہ صاف کردیا۔
” بھائی !! یہ اذلان مجھے اب چھوڑ دیں گے نا۔ ایسے آدھی ادھوری لڑکی کو بھلا کون اپنائے گا۔ اب بھی مجھے دوسری نظر تک دیکھنا گوارا نہیں کیا۔ ماضی کی اذیت ناک یادوں کو بھلا کر ابھی تو کھل کے جینے لگی تھی میں۔ میری قسمت میں یہ کرب مسلسل کیوں لکھا گیا ہے ” عنایہ نے لب باہم پیوست کرکے اپنی آواز کا گلہ گھونٹا۔
” واٹ “” یہ کیا واہیات سوچنے لگی ہو تم.!!! اور اذلان تم سے بے حد پیار کرتا ہے۔ تمہاری تکلیف اس سے برداشت نہیں ہورہی۔ اس لئے نظریں چرا رہا ہے۔” حدید کو اس کی ذہنی کیفیت کا انداز تھا کہ اندر سے وہ توہمات کا شکار تھی۔