88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ناول °میرے نصیب°
از قلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 6
“بی اماں !! ایک کپ چائے کا بن…..” وہ بے خیالی میں کچن میں داخل ہوا مگر سامنے نظر پڑتے ہیں زبان کو بریک لگ گئی۔
“آئی ایم سوری !! میں سمجھا بی اماں ہے.” سامنے سلطان میر کی بیوی انیلا بیگم کو کھڑے دے کر آہل نے وضاحت دی.
“کوئی بات نہیں . وہ شاید نماز پڑھنے گئی ہوگی۔ میں بنا کر دیتی ہوں۔” انیلا بیگم نے اپنائیت سے کہہ کر ترچھی نگاہ سے اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھا جس پر ایک خاص قسم کی سنجیدگی اور دبدبہ ہمہ وقت موجود رہتا جو اسکی پرسنالٹی کو دو چند کردیتا تھا۔
“نن۔ نہیں شکریہ !! آہل تو پہلے اسکے لہجے پر ششدر رہ گیا۔ اتنی مٹھاس وہ بھی حویلی کے مکینوں کی زبان میں۔ اور پھر سلطان میر کی جتنی انسلٹ وہ دوپہر کو کرچکا تھا اس کے بعد تو سب ایسے بپھرے ہوئے تھے۔ جیسے بس چلے تو آہل کو ذندہ نگل لے۔
“مجھے پتہ ہے۔ تم حویلی کی کسی فرد پر بھروسہ نہیں کرتے۔ تمہارا خوف فطری ہے۔ دشمن کے ہاتھ کی بنی ہوئی کوئی چیز تھوڑی کھاؤگے۔ مگر میں تمہارے سامنے بنارہی ہوں.” انیلا بیگم روانی سے کہتی ہوئی کتیلی میں دودھ ڈالنے لگی۔
“اور اس عنایت کی وجہ جان سکتا ہوں۔ یہ مہربانی کیوں کر ہورہی ہے مجھ پر. کیونکہ جن لوگوں کو میں نہیں جانتا, ان کی عنایتیں میں قبول نہیں کرتا” آہل نپے تلے قدم اٹھاتا اس کے مقابل آکر کھڑا ہوگیا۔ اسکی حیرانگی بجا تھی۔
” یہ میں نہیں بتا سکتی. کیونکہ آپ کے علم میں ہوگا کہ یہاں عورتوں کی کوئی بات نا سنی جاتی ہے نا اسکو وضاحتیں پیش کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔” چولہا بند کرکے اس نے کپ میں چائے ڈال کر آہل کو تھمائی۔
” بس اتنا جان لو تمہاری سینے میں پوشیدہ رازوں کی چشم دید گواہ میں خود ہوں. اگر پچھلے ماہ وسال کا احتساب کرلو میں تو آج ایک بھاری بوجھ سر سے سرک گیا. اور میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی ہوں. باقی تم سمجھدار ہو.”
“میں نے تو ایسا کچھ کیا ہی نہیں سوائے آپکے شوہر نامدار کو اسکا اصلی دکھانے کے, پھر بھی یہاں مجھ پر مہربانیاں کی جارہی ہے. بھئی حویلی والوں کے منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے.” اسکی زومعنی بات سے کوئی مفہوم اخذ نا کرتے ہوئے وہ نافہمی سے اسے دیکھنے لگا۔ جبکہ وہ چائے کا دوسرا کپ اٹھا کر چلی گئی.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ڈوپلیکیٹ کیز سے دروازہ احتیاط کی ساتھ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو پورا کمرا تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا.
” لگتا ہے سوگئی!!
آہستہ سے چپل اتار کر بیڈ کے دوسرے طرف چڑھ کر وہ زر کے پہلو میں لیٹ گیا. تو بیڈ پر ہل چل محسوس کرکے زر نے پٹ سے آنکھیں کھول دی۔
“پھپھو کو بہت چوٹیں آئی ہیں. اور پیر میں شدید موچ آئی ہے۔” اپنے پھپھو کی تکلیف پر ایک بار پھر اسکی آنکھیں بھر آئی۔
” حد کرتی ہو تم بھی. میں سکوں کی تلاش میں تمہارے پاس آتا ہوں۔ جبکہ تم اوروں کے دکھڑے سننے بیٹھ جاتی ہو. اچھے بھلے موڈ کو غارت کر دیتی ہو” آہل کا پارہ چڑھ گیا۔
“وہ میری عزیز از جان پھپھو ہے آہل!! آپ اتنے کٹھور کیسے ہوسکتے ہیں۔” زر کو اسکی بے حسی پر غصہ اگیا۔
” میں کوئی طبیب تھوڑی ہوں جو اسکے زخموں کا علاج کر سکوں. چھوڑو لوگوں کو, مجھے تمہاری توجہ درکار ہے. تم اس قیمتی مومنٹ کو سپوئل مت کرو”. آہل نے ریمورٹ اٹھا کر اے سی آن کردیا۔
“آہل ٹھنڈ زیادہ ہے۔ اسکی کیا ضرورت؟؟
تم نے میرے غصے کو ہوا دے کر کمرے کی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔ آہل نے ریموٹ زور سے سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیا۔
“جب میں پاس ہوتا ہوں تو کسی اور کو بیچ میں مت گھسانہ۔ زہر لگتا ہے مجھے کوئی ہمارے بیج آئے. اور تم بار بار یہی گستاخی کر رہی ہو. مجھے حویلی کی کسی بھی بندے میں انٹرسٹ نہیں۔ کوئی جیے یا مرے۔ آئی ڈونٹ کئیر.” آہل کی کہے گئے الفاظ نے زر کے اعصاب جھنجھوڑ دئے. خالت غیر سی ہوگئی۔ تو آہل سے فاصلہ بنا گیی۔
اپنی الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوا اسے تو لمبا سانس کھینچ کر خود کو قابو کردیا۔۔
” آپ چلے جائے یہاں سے” کافی دیر بعد وہ بولنے کے قابل ہوگئی۔
“آئی ایم سوری یار ” اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے قریب کردیا۔
“جب تمہیں پتہ ہے کہ ان لوگوں کے ذکر سے مجھے تکلیف ہوتی ہے تو کیوں بار بار یہ حماقت کرکے میرے غصے کو بھڑکا رہی ہو۔” اس نے زر کا سر اپنے سینے پر رکھا۔
” مجھے ایسا کیوں لگ رہا کہ ہم نے جلدبازی سے کام لیا۔ پھپھو ٹھیک بول رہی تھی۔ ہمیں نفس کا غلام نہیں بننا چاہیے تھا۔” زر کو اب صحیح معنوں میں احساس ندامت نے آگھیرا۔
“کیا مطلب !! پھر کون سی پٹیاں پڑھائی تمہاری پھپھو نے تمہیں میرے خلاف. میں اپنے دل کی سنتا ہوں۔ سوچ سمجھ کر آگے قدم اٹھاتا ہوں. اب بھی جو بہتر لگے گا ڈنکے کی چوٹ پر کروں گا. کسی اور کے حکم کا محتاج نہیں” آہل کو اسکا انداز بے رخی سلگا گئی۔ وہ لمحہ ضائع کئے بغیر بیڈ سے اترنے لگا کہ زر نے اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچ لیا۔ آہل نے اپنے اندر اٹھتے اشتغال کو دبا دیا۔
” تم مجھے جوروں کا غلام بنانے پر تلی ہوئی ہو۔ یہ چاہتی ہو کہ میں زن مرید بن کر تمہارے آگے پیچھے دم ہلا کر چلوں.” آہل کی بھنویں تنتی, اور الجھن بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“باخدا میں ایسا نہیں سوچ بھی نہیں سکتی, چاہنا تو دور کی بات ہے۔ بس میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے سنے, سمجھے . اگر میرے درد کی دوا نہیں بن سکتے تو حوصلے کے دو بول, بول کر میری ہمت باندھ سکتے ہیں نا۔ مرد پر مردانگی چجتی ہے نا کہ عورت کا پلو پکڑ کر چلنا. مگر آپ دی گریڈ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے” زر کی بے بسی عروج پر تھی۔
” اٹس اوکے!! تم بھی تو دنیا بھر کے فکر و غم اپنے سر لے کر گھومتی ہو نا ,خود کے لئے نہیں جیتی. ” آہل نے اس کے شانوں کے گرد بازوؤں پھیلایا۔ اور اسکے بالوں پر لب رکھ دیے۔
“آپ کو اسطرح بھری مخفل میں چچا سرکار کی انسلٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ بھی سب کے سامنے.” زر نے آج دونوں کے درمیان تلخ کلامی کا ذکر چھیڑا۔
” افسسس !! مطلب کچھ بھی ! بھینس کے آگے بین بجانا. ابھی بھی تمہاری سوچیں وہی اٹکی ہوئی ہے۔
وہ کریں تو اچھا ہم کرے تو برا !! اس نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی تو اتنا برا نہیں لگا, مگر ایک معصوم, باکردار لڑکی کے دامن کو داغدار کرنا چاہا, تو میں تو پھولوں کا ہار پہنانے سے رہا. ویسے میں نے بزرگوں سے سنا ہے۔ عزت کرانے کے لئے پہلے عزت دینی پڑتی ہے. اور میں خود پر کسی کا ادھار نہیں چھوڑتا. ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ جانتی تو ہو تم ,کیا کچھ کیا ہے میرے ساتھ ان لوگوں نے۔ درد تو میرے نصیب میں لکھا گیا تھا۔ ان لوگوں کی کیا اوقات مجھے تڑپانے کی۔ مگر چالیں انہوں نے چلی تھی۔ یتیموں جیسی زندگی گزاری ہیں میں نے۔ آہل جذبات کی رو میں بہہ کر بہت آگے نکل گیا۔
“سوری آہل!! میرا مطلب آپکے زخم کریدنا نہیں تھا.” عنایہ نے اسکے لہو رنگ آنکھوں پر نرمی سے لب رکھے.
” ہم شادی کب کریں گے؟؟ اہل کا موڈ قدرے بخال ہوا تو عنایہ نے شادی کا ذکر چھیڑا۔
“جب تم چاہو. ویسے دلہن بننے کی اتنی جلدی ؟؟ آہل اسے زچ کرنے لگا۔
” نہیں آپ کا ہونے کے لئے جلدی ہے۔ آپکے ساتھ ہمیشہ رہنے کے لئے جلدی ہے.” آہل کو اسکے معصومانہ خواہش پر ٹوٹ کے پیار آیا.
” تم اتنی جلدی سب کچھ بھول گئی؟؟ کتنا تڑپایا تھا میں نے تمہیں. تمہاری شخصیت کے ٹکرے ٹکرے کئے. عزت نفس پر وار کئے. کتنے گھاؤ دئیے اپنے زہریلے الفاظ سے؟؟ آہل کی بات سے زر کے چہرے پر ایک تاریک سایہ لہرایا۔
“بے انتہا پیار کرتی ہوں آپ سے. کبھی آپ کی طرف سے بدگمان ہی نہیں ہوئی میں. کبھی کبھی رشتوں کو جوڑے رکھنے کے لئے گونگا,اندھا اور بہرا ہونا پڑتا ہے. اور عورت کی خمیر شائد برداشت ذیادہ شامل کردیا جاتا ہے۔ جو مرد کی تھوڑی سی توجہ تھوڑا سا پیار پاکر برسوں کی بے اعتنائی اور تکلیف لمحے میں بھول جاتی ہے۔ پتہ ہے محبت میں جیت تب ہوتی ہے جب استطاعت رکھتے ہوئے بدلہ نا لیا جائے. معاف کیا جائے انہیں, جنھوں نے ہمیں تکلیف دی ہو. اور میں نے آپکو جیت لیا.” زر نے دکھی مسکان کیساتھ آہل کے سینے پر سر کر آنکھیں موندھ لی۔
•••••••••••••••••••••••••••••
وہ جو آج حسب معمول شام کو حویلی پہنچا تھا۔ عجلت میں گاڑی سے نکل کر اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے کہ اسامہ کی معصومیت بھری آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔
” یار کردو نا تھوڑی سی ہلف !! آپ دونوں سے تو زر آپی اچھی ہے۔ ہوم ورک بھی کرواتی ہے. میتھس کوئسچن بھی سولو کرکے دیتی ہے. رشوت بھی نہیں لیتی. آپ دونوں کے لئے پاکٹ بھر بھر کے چاکلیٹ بھی لاتا ہوں پھر بھی اٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو. پتہ نہیں لوگوں سے میتھ کے کوئسچن کیسے حل ہوتے ہیں. مجھے تو چکر آجاتے ہیں۔ کچھ بھی دماغ میں نہیں گھستا” اسامہ کی بات سے آہل کے لب متبسم ہوئے۔ اور آواز کی تعین میں قدم بڑھا دئے۔
“آہل بھائی !!
اس نے سامنے دیکھا تو اسامہ , شزا اور سوہا تینوں لان میں پیٹھے اسائمنٹ لکھنے میں مصروف تھے۔ اسامہ کی نظر اس پر پڑی تو پکارا۔
“ہاں !! اس کے لہجے کا والہانہ پن دیکھ کر وہ ہولے سے ہنکارا بھرا۔
“یہ ٹاپک سمجھا دے. زر آپی سمجھاتی ہے مگر کل اسکی بھی پریزینٹیشن ہے تو اسکی تیاری کررہی ہے.” اسامہ نے بک اسکی طرف بڑھائی۔ منتانہ لہجہ تھا کہ آہل نے بک اسکے ہاتھوں سے لے لیا۔
“کیوں یہ دو خواتین سیر سپاٹوں کے لئے یونیورسٹی جاتی ہے کیا. جو اتنا آسان سا ٹاپک نہیں سمجھا سکتی۔” ساتھ میں شزا اور سوہا پر طنز کرنا نہیں بھولا۔
“ایکسکیوزمی !! ہمارا بھی کل پیپر ہے. ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس. اور اسکے سبجیکٹ الگ ہیں ہمارے الگ.” شزا نے پلٹ کر جواب دیا۔ جبکہ سوہا تو اتنے دنوں بعد آہل کو سامنے دیکھ کر تشنگی بجھا رہی تھی۔ اسکی بےباک نظریں آہل کے دلکش نقوش کا طواف کر رہی تھی۔ خود پر گہری نظروں کا ارتکاز رتکاز محسوس کرکے اس نے نگاہ اٹھائی تو سوہا کی نظریں اسے چبھی۔ مگر وہ اگنور کرکے بک پر نظریں جمائے گیا۔
پھر اس نے آڑی ترچھی لکیریں کھینچ کر ایک ڈائیگرام بنا کر اسامہ کو سمجھایا۔ وہ کسی بہانے زر کو باہر لے جانا چاہتا تھا۔ مگر اس کا نمبر سوئیچڈ آف آرہا تھا ۔ وہ بہت غصے و اضطراب کی ملی جلی کیفیت میں حویلی آیا تھا مگر اسامہ نے انجانے میں اسکو زر کی مصروفیت سے آگاہ کیا.
“کچھ اور… !! سوال سمجھا کر اس نے استفہامیہ نگاہوں سے اسامہ کیطرف دیکھا۔
“جی …! وہ میتھس کے کوئیسچن.” اسامہ نے ندامت سے سر جھکا لیا۔
” ابھی مجھے کچھ کام ہے ۔ تم ایسا کرو یہ نوٹ بک میرے روم میں لے جاؤ۔ رات کو فری ہوکر کروادوں گا۔ صبح آکر لے لینا ” آہل فون پر آتے کال کی جانب متوجہ ہونے لگا کہ پلک جھپکتے ہی اسامہ نے اسکے گال پر کس کیا۔
“تھینکس آہل بھائی۔ یو آر گریٹ!! جبکہ اسکی حرکت پر سوہا اور شزا کے ساتھ آہل کی بھی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ جبکہ وہ اپنی دھن میں مست آہل کے روم کی طرف بڑھ گیا۔ آہل نے تاسف سے سر جھٹک کر اپنے گال پر ہاتھ رکھا۔ اور کال اٹینڈ کی۔
کال آف کرکے رخ موڑ کر وہ جانے لگا کہ پھر سے اپنے نام کی پکار سنی.
“آہل!! نسوانی آواز ماتھے پر ناگواری کے تاثرات لے آئے. پلٹ کر دیکھا تو سوہا چیئر سے اٹھ کر اسکی طرف آگئی.
“اپنی بہن سے کتنے سال چھوٹی ہو تم ؟؟ سوہا کے کچھ بولنے سے پہلے ہی آہل نے سرد پتھریلی لہجے میں سوال پوچھا
“جی!! تین سال… ” سوہا نے اسکے لہجے کی اکتاہٹ اور سردمہری بخوبی نوٹ کی۔
“اور میں تمہارے بھائی سے بھی دو سال بڑا ہوں۔ اگر بھائی, بھیا جیسے الفاظ کہہ کر مخاطب نہیں نہیں کر سکتی , پھر ضرورت ہی نہیں بلانے کی.” آہل نے درشتی سے وارن کیا. اور لمبے لمبے ڈگ اٹھا کر اندر داخل ہوا.
ہفتہ دس دن وہ اتنا مصروف رہا کہ اس دن کے بعد زر سے ملاقات ہی نہیں ہوئی. اگلے ہفتے اسے دس پندرہ دن کے لئے دبئی جانا تھا. باہر لے جانے کا ارادہ بھی ملتوی ہوگیا.
روم سے نکل کر زر کے روم میں جانے والا تھا کہ اسامہ نے آواز دی.
“آپ آپی کے روم میں کیوں جارہے ہیں؟؟
“افسسس !! اب یہ کباب میں ہڈی بن کر کہاں سے آگیا.” آہل نے کنپٹی کو ہولے سے سہلایا۔
“ادھر آؤ !! اس نے اسامہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا.
تمہاری ہلف کی نا۔ اور آگے بھی کوئی کنفیوژن ہو میں کلئیر کردیا کروں گا. بس ایک پرومس کردو. یہ بات راز رکھو گے کہ میں تمہاری آپی کو پسند کرتا ہوں.”
“واٹ!! آپی کو… اور آپی بھی کرتی ہے کیا؟؟ وہ تو آپکے اگینسٹ تھی نا .” اسامہ کی آنکھیں تخیر سے پھیلی.
“اس کو منانے کی کوشش ہی تو کر رہا ہوں مان ہی نہیں رہی. اگر تم ساتھ دو گے تو پاسبل ہوجائے گا.” آہل اسے شیشے میں اتارنے لگا.
“مم۔میں کیسے.”
“بس تم مجھے موقع فراہم کرنا ملنے کا۔ باقی کام میں خود کرلوں گا. آئی مین خود کنوینس کرلوں گا. ” آہل نے اسکے کندھے پر تھپکی دی ۔
“مگر آپی نہیں مانے گی.” آپ چاہے جتنی بھی کوشش کرلے.” اسامہ کو زر کی باتیں زیر و زبر یاد تھی. جو اسے اہل سے دور رکھنے کی تاکید کر رہی تھی.
“وہ تم مجھ پر چھوڑ دو. ہینڈسم ہوں نا۔ تمہیں بھی اچھا لگتا ہوں۔ تمہاری آپی کو بھی لگنے لگوں گا۔” آہل نے آنکھ دبا دی تو اسامہ بلش ہوگیا۔۔
“آپ اچھے لگتے ہیں تو ہیلف کر دوں گا آپکی. رشوت نہیں چاہیے.” اسامہ نے اپنائیت سے کہا.
“گڈ !! تم بہت اچھے ہو اسامہ !! اور بہت معصوم بھی. کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت ہو بلا جھجھک بتا دینا.” آہل اس کی اچھائی کا قائل ہوگیا.
“پتہ نہیں کیوں آپ اپنے اپنے سے لگتے ہیں. جیسے بہت قریبی رشتہ ہو آپ سے. جیسے حدید بھائی اور اذلان بھائی.” جبکہ وہ متبسم سا اسامہ کو تکنے لگا۔
“اتنا ہی قریبی تعلق تو ہے۔” بے اختیار منہ سے نکل گیا.
” میرا مطلب ہے اپنا بھائی ہی سمجھنا.( یہ چاہت بے وجہ نہیں ہے برو) اسکا چہرہ تھپتھپا کر زر کے روم میں گھس گیا.
دروازہ کھلنے کی آواز پر زر جو واش روم سے نکل رہی تھی آہل کو اتنے دنوں بعد سامنے کھڑا دے کر دل جھوم اٹھا اور تولیہ بیڈ پر پھینک کر آہل کے گلے لگی۔
” آپ کہاں تھے اتنے دنوں سے. ایک فون کال ایک میسیج بھی نہیں کیا. نا ملنے آئے” زر بے قراری سے اسکے سینے سے لگی استفسار کرنے لگی.
“یہ کیا آتے ہی ٹیپیکل عورتوں کیطرح پوچھ گچھ شروع کردی. کچھ کام تھا ضروری. گھر بھی نہیں آیا تھا تین دن سے.” آہل نے اس کے کنپٹی پر لب رکھے.
“آہل !! میں بہت مس کرتی ہوں آپ کو. مجھے آپکے ساتھ رہنا ہے. آپکے بغیر سانس بھی مشکل سے لے رہی ہوں.”دوری کا احساس ہی روح فرسا تھا.
“میں دس پندرہ دن کے لئے دبئی جارہا ہوں. کام نبھٹاتے ہی تمہارے پاس آوں گا پھر رشتے کی بات آگے بڑھا لیں گے. اگر تمہارے گھر والے ماننے سے انکار کردے تب میں تمہیں حویلی سے اپنے ساتھ لیکر چلا جاؤں گا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے. اتنا انتظار کرلیا بس تھوڑا اور….” آہل نے اسے ایک آس دلائی.
“آپ سے ایک پل دوری صدیوں پر محیط ہے.” زر کی آنکھیں بھر آئی.
” اسلئے تو آیا ہوں کچھ پل ساتھ بتانے.” اہل ڈور بند کرکے اسے اپنے مقابل بیڈ پر بٹھا گیا۔
“میرے جانے کے بعد عنایہ پر نظر رکھنا تمہاری زمہ داری ہوگی. وہ منہ پھٹ ہے گستاخ ہے مگر اس میں بچپنا ہے. کوئی بھی ایسی حرکت کرے فورآ مجھے اطلاع کردینا۔ میں اسے بھی اچھے سے سمجھا دوں گا۔ میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا. تب میں اپنے رشتے کی بات سب کے سامنے رکھ دوں گا. تم بھی خود کو ذہنی طور تیار کرلو. کیونکہ یہ سب کچھ کرنا اتنا آسان نہیں جتنا ہم سوچ رہے ہیں. کافی دشواریاں پیش آئیں گی” آہل اسے سمجھانے لگا.
“میں سب سہہ لوں گی۔ بس آپ سے دوری نہیں.آپ جہاں جائیں گے میں گھر فیملی سب کچھ چھوڑ کر آپ کے ساتھ جانا چاہوں گی۔ باقی کا سفر آپ کے سنگ طے کرنا ہے.” زر نے اسکے سینے پر سر رکھا.
“اسامہ نے مجھے یہاں آتے دیکھ لیا.” آہل نے گویا اسکے سر پر دھماکہ کیا۔
“تت۔تو آپ نے کیا بولا.” زر کا خلق خشک ہونے لگا۔
” اور کیا بولتا صاف صاف بتا دیا کہ تمہیں لائک کرتا ہوں. اور تمہیں کنوینس کرنے کی کوششوں میں ہوں مگر تم مان ہی نہیں رہی.” آہل کی بات پر زر نے بے یقینی سے اسکی آنکھوں میں دیکھا.
“بچہ ہے وہ آہل !! زر نے چبا چبا کر کہا۔
“جانتا ہوں. تم سے تو اچھا ہے سب کے سامنے مجھے کس بھی کیا۔” آہل ہے درپے جھٹکے دے رہا تھا۔
“کک۔کس؟؟؟ اس نے کس کیوں کیا آپ کو؟ اور سب کے سامنے ۔۔۔” زر کا چہرہ لہو چھلکانے لگا۔
” اس کو کوئی سوال سمجھ نہیں آرہا تھا میں نے سولو کردیا تو… یار کیا پپی لی .” آہل جان بوجھ کر بات کو تڑکا لگا کر اسے چھڑانے لگا۔
” اول درجے کا بے وقوف لڑکا ہے وہ.” اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے۔
” تم تو عقلمند تھی نا, تم کیوں جھانسے میں پھنس گئی. سر آنکھوں پر بٹھا لیا ہے.” آہل کی بات پر زر کا دل جیسے کسی پاتال میں جا ڈوبا۔
“میری بات اور ہے. میرا شمار تو احمقوں کے اعلیٰ ترین درجے میں شامل ہوتا ہے۔” دوپٹہ گردن نے نکال کر سائڈ پر رکھ کر وہ بالوں کو سکارف سے باندھنے لگی۔
“آہل عنایہ کون ہے؟ کیوں آپ کے ساتھ رہ رہی ہے؟ آپ ہر بار اسکا ذکر آنے پر موضوع سے ہٹ جاتے ہیں.”
“یہ لمبی کہانی ہے. پھر بعد میں تفصیل سے بتادوں گا۔ بس اتنا یقین رکھو جو جگہ تمہاری ہے میرے دل میں, کسی اور کی نہیں ہوسکتی.” آہل نے لائٹ آف کرکے اسے باہوں میں بھر لیا.
“میں آپ سے عشق کرنے لگی ہوں آہل!! آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوگا گہرائی کا. پہلے آپ جب بھی میری مرضی کے بغیر مجھے چھوتے۔ بہت تکلیف ہوتی. پھر آپ جب جرمنی گئے تھے ایک منتھ کیلئے تب مجھے رئیلائز ہوگیا کہ مجھے آپکے لمس سے پیار ہوگیا ہے. مگر جب آپ یہاں رہنے آگئے پہلی رات ہی آپ کی گئی بات نے میری ذات کے بخیے اکھاڑ دییے۔ جب آپ نے یہ بول کر میری توہین کی کہ آپکو میرے دو ٹکے کے وجود سے کوئی سروکار نہیں. کیا واقعی آپ نے صرف حویلی والوں سے بدلہ لینے کے لئے یہ کھیل کھیلا ہے. یا دل بہلانے کے لئے میرے قریب آئے. میں اسے کیا سمجھو؟؟ سوالات کا انبار تھا جو آج وہ ایک ایک کرکے پوچھ رہی تھی.
” پہلے تمہارے قریب صرف تمہیں تکلیف دینے کے لئے آتا تھا. یہ سچ ہے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی تم میں. بدلے کی آگ میں جھلس رہا تھا میں. مگر یہ حقیقت ہے کہ مجھے تمہاری عادت ہوگئی تھی. جب بھی پاس آیا ہوں. دلی سکون ملا ہے۔ بدلا کہیں بہت پیچھے رہ جاتا ہے. دل بغاوت پہ اتر آیا ہے کہ بس تم پاس رہو۔ اور میرے ساتھ جو ہوا ہے اس میں تمہارا کیا دوش. یہ سارے خدشات دل سے اکھاڑ کر پھینک دو. تمہارے وجود پر آہل یزدان نے اپنے پیار کی مہر لگائی ہے. اب تم میری سانس لینے کی وجہ بن چکی ہو۔” اسکی دونوں آنکھوں پر باری باری لب رکھ کر سرشار کردیا.
••••••••••••••••••••••••••
صبح ہی سے وہ لان میں گھاس پر ننگے پیر چہل قدمی کر رہی تھی. اس نے آج یونیورسٹی سے آف لیا تھا ۔ اور آہل بھی بتا کر گیا تھا کہ وہ کچھ دن کے لئے باہر جارہا ہے تو اس کے جانے کا سن کر دل اداس ہورہا تھا. سحر بھی دو دن گزار کر واپس چلی گئی. کیونکہ ان کو حویلی کے لوگوں کی منفی خیالات سے کراہیت محسوس ہونے لگی تھی. مزید خود کا تماشا دیکھنے نہیں رکنا تھا اسے.
اذلان جو ایک امپورٹنٹ فایل گھر بھول گیا تھا وہ لینے واپس آگیا تو عنایہ کو اکیلے دیکھ کر اس کی طرف چلا آیا.
“تم یونیورسٹی نہیں گئی؟؟
“تم سے مطلب!! عنایہ نے بے رخی سے جواب دیا.
“تمہارے اس روبوٹک مشین نے یہ نہیں سکھایا تمہیں کہ بڑوں کو آپ کہہ کر بلاتے ہیں؟؟ حویلی میں بڑوں کے ساتھ اس طرح روبرو کھڑے ہوکر آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بات نہیں کی جاتی تھی. اسلئے ازلان کو اسکا لب و لہجہ کافی گراں گزر رہا تھا.
“تو مجھ سے بات ہی کیوں کرنی ہے. نا کیا کرے. جائیے میرا موڈ ویسے ہی خراب ہے۔” عنایہ نے ناگواری سے ٹوکا۔
“اچھی لگتی ہو مجھے. اس لئے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں.” ازلان نے صاف گوئی سے کام لیا.
“مگر مجھے تم بالکل بھی اچھے نہیں لگتے.” عنایہ کی ڈھیٹائی عروج پر تھی۔
“کیوں؟ ناپسندیدگی کی وجہ جان سکتا ہوں؟؟ ازلان سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا.
“ہاں کیونکہ تم غیرت مند حویلی والوں کی نظر میں لڑکیوں کی کوئی اوقات, کوئی عزت نہیں ہوتی. یہاں مرد ذات کو عورت پر ترجیح دیا جاتا ہے. عورت کو محکوم بنا کر رکھتے ہیں. جبکہ ہم آزاد پنچی ہے. ہمیں کسی کے قید میں رہنا نہیں پسند” عنایہ نے پیروں میں چپل پہن کر طنزیہ وار کیا.
“اور مجھے اسی آزاد پنچی کو اپنی قید میں رکھنا ہے.” اذلان صرف سوچ سکا.
“باقی شکل وصورت قابل قبول ہے. مگر وہ میرے کسی کام کا نہیں”. عنایہ کی مسکراہٹ گہری ہوگئی جبکہ مقابل کے ہونٹ بھی تعجب سے پھیلے. یہ منظر اپنے روم کی کھڑکی سے شزا نے بہت غور سے دیکھا. جہاں اس کے دل پر برچھیاں چل رہی تھی وہاں لان کے دوسرے طرف لگے کرسیوں میں ایک پر بڑے کروفر سے براجمان ہوتے سلطان میر کے دل میں ٹھنڈک پڑ گئی.
“چوہی تو خود بل سے نکلنے کو بے تاب تھی. اب زیادہ تگ و دو کرنے کی ضرورت نہیں ہے.” اس کے شیطانی دماغ نے کام شروع کردیا تھا،۔
••••••••••••••••••••••••
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
رات کے ڈھائی بجے اسکی روانگی تھی۔ اسلئے ہال میں بیٹھا بلیو ٹوتھ لگائے پی اے کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ پی اے مس شہری بھی اسکے ساتھ جارہی تھی۔ ساتھ ہی لیپ ٹاپ پر بھی جلدی جلدی ہاتھ چلا رہا تھا۔
ملازمہ نے چائے کا کپ سامنے رکھ دیا تو اس نے تشکرانہ نظر اس پر ڈالی۔
“تھینکس اماں!! کتنی طلب ہورہی تھی۔ اسلئے تو آپ سے پیار بھی بے شمار کرتے ہیں. بغیر کچھ کہے میرے دل کا حال جان لیتی ہے۔”
” بیس سالوں سے تمہارے ساتھ ہوں بیٹا۔ اپنی ہاتھوں سے تمہاری پرورش کی ہے۔ ماں بن کر پالا ہے۔ پتہ تو ہونا ہی ہے۔ مگر آہل مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی.” ملازمہ اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
“جی جی اماں!! کیا بات ہے۔ بولے آپ!!” شیری کو اللّٰہ خافظ بول کر پوری طرح متوجہ ہوا۔
‘چھوٹی منہ بڑی بات۔ مگر آہل مجھے حویلی والوں پر رتی برابر یقین نہیں۔ عنایہ ان لوگوں کے بیج رہے گی تو خدانخواستہ یہ لوگ ۔۔۔۔۔” اس سے آگے اماں کی زبان نے ساتھ نہیں دیا۔ مگر آہل اسکے ڈھکے چھپے الفاظ کی گہرائی تک پہنچ گا۔
“اماں!! بات تو سو آنے درست کہی آپ نے۔ مگر میں زر اور عنایہ دونوں کیطرف سے ان سیکیور فیل کر رہا ہوں۔ اگر آپ کو عنایہ کیساتھ گھر بھیج دیا تو یہاں زر کی فکر ہوگی مجھے۔ کم از کم دونوں آپ کے نظروں کے سامنے ہوں گی تو میری پریشانی کم ہوگی۔” پریشانی آہل کے چہرے سے عیاں تھی۔
“ہاں بیٹا!! مگر حویلی والوں کے ارادے کچھ نیک نہیں لگ رہے۔ عمر کا تجربہ ہے مجھے۔ دیکھ کر بتا سکتی ہوں کہ ان لوگوں کے من میں کیا چل رہا ہے۔ یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہیں.”
“میں کوشش کروں گا کہ جلد از جلد اپنا کام ختم کرکے واپس لوٹوں۔ تب تک آپ نے ایک ایک سیکنڈ کی اپ دیٹ مجھے دینی ہے۔ عنایہ کو گارڈز یونیورسٹی پک اینڈ ڈراپ کردیا کریں گے۔۔اور اسکے بعد اسکو حویلی سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے اپ۔ اگر ضد کرے تب مجھے انفارم کرے اور زر کا بھی خیال رکھنا ہے۔” وہ آہستہ آواز میں اسے ہدایات دے رہا تھا۔۔
“اب آپ جائے آرام کرلے میں بس تھوڑی دیر بعد نکلنے والا ہوں۔” آہل نے اسکے سامنے سر جھکایا۔ تو اماں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔۔
اپنے روم میں آکر فریش ہوکر اپنا سفری بیگ اٹھایا اور روم لاک کرکے زر کے روم میں گھس گیا۔ تو زر کو محو انتظار کرتے پایا۔
“جارہا ہوں میں۔۔ یاد ہے کیا سمجھایا تھا” اہل نے زر کے گرد بازوؤں حمائل کرکے رخسار پر بوسہ دیا۔
“جی!! اپنا خیال رکھنا ہے۔۔بلا ضرورت باہر نہیں جانا اور عنایہ کا بھی خیال رکھنا ہے۔” زر نے گلوگیر لہجے میں کہا۔
“گڈ !! بس کچھ دن کی جدائی برداشت کرلو۔ پھر تم میرے زندگی میں پورے استحقاق کیساتھ داخل ہوجاوگی۔ پھر یہ آہل تمہارا ۔ اور تمہیں ایک لمحے کی بھی فراغت نہیں ہوگی۔
“ان شاءاللہ !! زر نے پورے یقین سے کہا۔۔
“میں چلتا ہوں, دیر ہورہی ہے۔ زر کے پیشانی پر اپنے لب رکھ کر وہ پیچھے ہٹا۔
“آہل !! دروازے کیطرف بڑھتے قدم رک گئے۔
“ہاں !! ترچھی نظر سے دیکھ کر استفسار کیا۔
وہ آہل کے سامنے آئی اور پنجوں کے بل کھڑے ہوکر اسکے ماتھے پر بکھرے بال ہٹا دئیے اور وہاں اپنا نرم لمس چھوڑا ۔
“میں انتظار کروں گی۔۔”
آہل نے اثبات میں سر ہلایا اور دوم سے نکل گیا۔