Mere Naseeb By Ramsha Khan Readelle50258 Last updated: 22 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Mere Naseeb
By Ramsha Khan
" میری چھٹی حس بار بار مجھے سگنلز دے رہی تھی کہ یہ میرا خون ہو ہی نہیں ہوسکتا۔" سوہا کا موبائل ہاتھ میں پکڑے سلطان میر دس سیکنڈ کی ویڈیو کو بار بار پلے کرکے خود کو یہ باور کروا رہا تھا کہ اتنی آسانی سے ایک چھٹانک بھر لڑکا اسے بے وقوف بنا گیا۔ " چاچا سرکار !! مجھے پہلے دن سے اس لڑکے پر شک تھا کہ یہ ہماری معصوم شزا کو مہرہ بنا کر آپ کے جائیداد میں حصہ مانگنے آیا ہے۔ تب سے میں کوئی ثبوت ڈھونڈ رہی تھی. اور آج میں نے دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ آپ پلیز شزا کو کچھ مت کہے گا۔ وہ بھولی ہیں نادان ہے۔ وہ تو مہد کو بھائی سمجھتی تھی۔ مگر وہ بدذات لڑکا بھائی کے نام پر اسکے جذبات کے ساتھ کھیل گیا۔" سوہا آگ کو بھڑکانے کے لئے اسے مزید ہوا دے رہی تھی " مجھے فخر ہے تم پر۔!! اس گھر میں کوئی تو ہے جسے اپنے باپ چچا کی عزت کی فکر ہے ورنہ سب کے سب تو اپنے باپ دادا کی عزت کو مٹی میں ملانے کے درپے ہیں۔۔ اب کھیل ختم ہوگا تمہارا اہل یزدان۔ تمہیں یہاں بھی مات ملے گی۔" سلطان میر سوہا کا موبائل ہاتھ میں پکڑ کر کمرے سے باہر نکلا اور سیدھا مہد کے روم کے دروازے پر کھڑے ہوکر زور شور سے دروازہ بجانا شروع کردیا۔ " باہر نکلو بدذات لڑکے۔!! وہ خلق کے بل اتنا تیز دھاڑا کہ حویلی کے تمام لوگ اپنے اپنے کمروں سے نکل ائے۔ " مہد کے روم کا دروازہ کھلا جہاں وہ لہو رنگ آنکھیں کھلا گریبان لئے کمرے سے باہر نکلا۔ سلطان میر نے ایک زوردار چمانٹا اسے رسید کیا جس سے وہ لڑکھڑا کر چند قدم دور ہوا۔ " بتاؤ کون ہو تم ؟ اور کس کے کہنے پر اور کس مقصد کے لئے یہاں آئے ہو." سلطان میر نے اسے گریبان سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا۔ اس نے ایک تیز سلگتی نظر سیڑھیوں کے پاس کھڑی شزا پر ڈالی جس کی آنکھوں کی سردمہری اسے ہرانے لگی۔ اور ایک جھٹکے سے سلطان میر کے ہاتھوں سے اپنا گریبان آذاد کردیا۔ " اگر بقول تمہارے تم صدیقہ کے بیٹے ہوتے تو اپنی بہن کیساتھ یہ غیر اخلاقی حرکت کرنے کا سوچنا بھی تم گناہ سمجھتے" سلطان میر نے موبائل اس کے آنکھوں کے سامنے کیا تو پل بھر کو مہد کے قدم ڈگمگائے۔ " یہ ویڈیو فیک ہے۔ ہم صرف چھت پر بارش انجوئے کرنے گئے تھے۔ یہ ایڈیٹ کی گئی ویڈیو یے۔" مہد صاف مکر گیا۔ " یہ بالکل رئیل ہے. تم دونوں کو میں نے کئی بار ایک دوسرے کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرتے دیکھ لیا تھا مگر چپ سادھ لی۔۔ اپنے گھر کا تماشا بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی میں۔" سوہا نے مہد کی بات کی تردید کرتے ہوئے کچھ اور تڑکہ لگایا۔۔ " سوہا !! شزا بے یقینی سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔ جس کی آنکھوں میں شناسایی کی ہلکی سی رمق بھی دکھائی نہیں دی۔ " اب تم بکو اپنے منہ سے سچ۔۔" ایاز میر نے مہد کا بازو زور سے دبوچا۔۔ " یہی سچ ہے کہ صدیقہ نے آپکے ناجائز بچے کو جنم دیا تھا۔" عاتکہ ہال کے وسط میں آگئی اور ایاز میر کے ہاتھوں سے مہد کا بازو چھڑا کر سلطان میر کے سر پر دھماکہ کیا۔ " یہ یہ بچہ ۔۔!!! جو اپنی بہن کو ورغلا کر اسکے ساتھ یہ چیف حرکتیں کرتا رہا۔" سلطان میر پھر سے زخمی شیر کی طرح پھنکارتے ہوئے مہد پر جھپٹ پڑا کہ عاتکہ اس کے سامنے اگئی۔ " سگی بہن تو نہیں ہے نا بھائی صاحب !! یہ یہاں رشتہ داریاں نبھانے تو نہیں آیا۔ اپنی ماں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا حساب مانگنے آیا ہے۔ تو کیا صحیح کیا غلط؟؟" سب پھٹی پھٹی نظروں سے عاتکہ کو دیکھ رہے تھے تو برسوں بعد چپ کا روزہ توڑ کر میدان میں اتر آئی تھی۔ " سلطان میر کی عزت پر ہاتھ ڈالنے آیا ہے حرام خور۔ اور تم سب اس کے ساتھ ملے ہوئے ہو. میں تم سب کو نیست ونابود کرودں گا۔" سلطان میر کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔ " سارے فساد کی جڑ ہی تم ہو۔ تمہارا وہ دو ٹکے کا سستا عاشق۔۔۔۔۔۔۔ " " سلطان میر۔.......!! حویلی کی در و دیوار آہل کی غضب ناک دھاڑ سے لرز اٹھی۔ گوشہ گوشہ آہل کے جلالی روپ سے متزلزل ہوگیا۔ اور اگلے سیکنڈ سلطان میر کا گریبان آہل کے اہنی ہاتھوں میں تھا۔ سب کی ساکت نظریں آہل کے اتش فشاں بنے روپ پر تھی جبکہ کنپٹی کی رگوں میں خون جوش مارنے لگا۔ " میری ماں کے متعلق ایسا بولنے کی ہمت کی تو زبان گدی سے کھینچ کر نکال دوں گا۔۔" بھڑک کر آگے بڑھتے آہل نے ہے در پے کئی مکے سلطان میر کے پیٹ میں مارے۔ " کون سی ماں ؟؟ ہاہاہاہاہا۔ اپنی ماں سے ذرا پوچھو نا اپنے باپ کے متعلق۔۔ چلو میں تو ٹھہرا عیاش اور بدکردار۔ تمہاری ماں تو دودھ کی دھلی تھی نا کس کے ساتھ منہ کالا کرکے تمہیں پیدا کر چکی ہے۔۔" سلطان میر اپنے پھٹے ہوئے ہونٹ کا کنارہ صاف کرتے ہوئے زہرخند جتاتے انداز میں خباثت سے مسکرا دیا۔ تو آہل وخشی روپ دھارتا سلطان میر ہر پھر سے جھپٹ پڑا کہ اذلان اور حدید نے اسے روکا۔ " آہل !! کام داون۔ یہ تمہیں اکسا رہاہے۔ قانون کو ہاتھ میں مت لو۔" حدید نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ " کونسا قانون؟؟ یہاں قانون صرف کمزوروں پر لاگو ہوتا ہے۔ اور انصاف امیروں کے تجوریوں میں بکتا ہے۔ یہ قاتل ہیں میرے پھپھو کے, ہماری خوشیوں کے۔ میں پل پل مرا ہوں جب جب میں نے پھپھو کے پاک بدن پر اس ذلیل اور بےغیرت آدمی کے درندگی کے نشانات دیکھے۔ میری پھول جیسی پھپھو کی زندگی ناسور بنا دی تھی اس نے۔" چیختے چلاتے آہل کے گلے میں خراشیں پڑگئی۔ جبکہ وہاں موجود لوگوں کی سانسیں ساکت تھی اور آنکھیں نم۔ جبکہ پھپھو لفظ پر سلطان میر اور ایاز میر کے چہرے لٹھے کی مانند سفید پڑ گئے۔ " جس شخص کے ہاتھ پیر تڑوا کر , ہڈی پسلی ایک کر کے اسکی بہن کی عزت لوٹ کر تم لوگ جشن منا رہے تھے نا وہی ہے میرا باپ۔" آہل کینہ توز نظریں سب پر گاڑھے چلایا۔ " میری شادی ہوچکی تھی۔ آہل کے بابا کے ساتھ۔ اور یہ شادی بابا سرکار نے کروائی تھی۔ آہل میرا بیٹا ہے میرے سچے پیار کی نشانی۔اور بابا سرکار کا لاڈلہ نواسا۔ میں نے صرف جنم دیا تھا اسے پرورش بابا سرکار نے کی تھی۔ اسلئے تو اپنی قیمتی چیزیں اہل کو سونپ کر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ ایک اپنی پوتی اور دوسری اپنی پشتوں کی جائیداد۔" عاتکہ کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ وہاں کے لوگوں کے دلوں کو چھیرتا گیا۔ " صدیقہ کامل کی چھوٹی بہن تھی۔ جب تم لوگ ہماری مخبری کرکے آئے تھے میں اور اہل بابا سرکار کے ساتھ شہر گئے تھے آہل کے جنم دن کی تیاری کرنے۔ پیچھے سے تم لوگوں نے ہماری ہستی بستی زندگی کو آگ لگا دی۔ جب ہم پہنچ گئے تم لوگ اپنا کام کرکے جاچکے تھے۔ بابا سرکار نے اپنی نگرانی میں صدیقہ کا علاج کروایا۔ اور کامل کی ہڈی پسلی تم لوگوں نے ایک کردی تھی کافی علاج معالجے کے ڈاکٹروں نے جواب دیا تھا۔" عاتکہ دھیرے دھیرے ماضی کے باب کھولنے لگی۔ " یہ مہد تمہارا بیٹا نہیں ہے. صدیقہ نے بیٹی کو جنم دیا تھا. جس کو بھی آپ نے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپنے خون کو بار بار بدچلن, بدکردار کہہ کر مخاطب کیا۔" بیٹی لفظ پر وہاں موجود لوگوں کو سانپ سونگھ گیا.....By Ramsha Khan
