88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 13
صبح سے شام ہوگئی مگر عنایہ آنیلا بیگم کی باتوں کے زیر اثر پورا دن بےچین رہی۔ کئی بار عاتکہ نے اسکی غائب دماغی نوٹ کر وجہ جاننے کی کوشش کی مگر اس نے گھما پھرا کر بات ٹال دی۔
” آپ کہیں جارہی ہے؟؟ زر کو بڑا سا چادر پہنے روم سے باہر نکلتے دیکھ کر عنایہ نے لہجے کے تاثرات ہموار رکھتے ہوئے سوال داغا۔
” ہاں وہ آہل ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا ہے۔ چیک اپ کروانے۔” زر نے چادر سے پورا جسم اچھی طرح چھپا لیا.
” آپ کو بیٹا ہوگا کہ بیٹی؟؟ اچانک غیر متوقع سوال پر زر نے ششدر نگاہوں سے اسے دیکھا۔
” ہم نے ابھی چیک اپ نہیں کروایا. تو نہیں معلوم۔ اور ہم ڈاکٹر سے نہیں پوچھیں گے کہ بیٹا ہے یا بیٹی. جو اللّٰہ تعالیٰ عطا کرے گا۔ ہم بخوشی قبول کر لیں گے۔” ڈھیروں تاثرات چہرے پر سجائے زر نے سنجیدگی سے جواب دیا
” مگر میں چاہتی ہوں آپ لوگوں کا بیٹا ہو” عنایہ کی نئے شگوفے ہر وہ بت بن کر رہ گئی۔کئی ساعت تو لب بولنے سے انکاری ہوگئے۔
” کیوں؟؟ زر نے اس کے قدرے مرجھائے چہرے کو دیکھا۔ جس کے لہجے کے خالی پن نے ماحول کو بوجھل کردیا۔
” کیونکہ بیٹیوں کے باپ کو پل پل مرنا پڑتا ہے اپنی بیٹی کو زندہ رکھنے کے لئے. جب مجھے ڈپریشن کے دورے پڑتے تھے تب آہل پوری پوری رات جاگ کر گزارتے. ہماری حفاظت پہ مامور گارڈز کی موجودگی بھی انکا ڈر خوف کم نہیں کرسکتی تھی۔ مگر اب سوچتی ہوں جب اپنی بیٹی ہوگی تب تو آہل کی روح تک بے سکون ہوگی اپنی بیٹی کو زمانے کے ہوس ذدہ نظروں سے چھپانے میں۔ میں نہیں چاہتی کوئی اور عنایہ پیدا ہو جو سیاہ بخت ہو ” اذیت اور ملال سے عنایہ کی آنکھیں بھر ائی۔ عنایہ کی سوچوں کا محور جان کر زر کا دل حقیقی معنوں میں کرلایا۔ یہ سچ تھا آنکھ کھلتے ہی اس نے کبھی اپنے گھر میں عورت ذات کی کوئی قدر,کوئی ویلیو نہیں دیکھی۔ بات بات پر باز پرس کی جاتی تھی۔ عورتوں کو ہمیشہ حقیر سمجھا جاتا ۔ مگر اپنی بیٹی کے بارے میں سوچ کر اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا۔ اور اس نے عنایہ کے رخسار پر لڑیوں کی شکل میں بہتے آنسو کو صاف کرکے اسے گلے لگایا۔۔
” اگر اہل پرائے بیٹی کے لئے اپنی نیند کی قربانی دے سکتا ہے۔۔ان کے لئے دنیا سے لڑ سکتا ہے ۔۔ پوری دنیا کی خوشیاں ان کے قدموں میں لاکر ڈھیر کرسکتا ہے۔ تو سوچو اپنی بیٹی, اپنے خون کے لئے وہ کس حد تک جا سکتا ہے۔ میں چاہتی ہوں مجھے بیٹی ہی ہو تاکہ اہل دنیا کو دکھا دے کہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی اور صرف نصیب والوں کو ملتی ہیں۔ دوسری عنایہ جنم نہیں لے گی۔” زر نے اس کے رخسار پر نرمی سے بوسہ دیا
” میں آہل سے پیار کرتی تھی بے انتہا۔ مگر نادان اتنی تھی کہ ان کے حددرجہ توجہ اور کئیر کو پیار سمجھنے لگی۔ اسکے دور جانے کے احساس ہی اتنا جان لیوا تھا کہ میں خود کو اس کے وجود سے جوڑنے کی سعی کرنے لگی۔ مگر آہل نے کبھی میرے جذبات کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ اسکا دھتکارنا مجھے گہری اذیت سے دوچار کرتا تھا۔ آپ کیساتھ شادی کا سن کر میں ٹوٹ کر بکھر گئی تھی۔ مگر ہر بار ٹوٹنے کا مطلب ہمیشہ ختم ہونا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار ٹوٹنا زندگی کا ازسرِنو آغاز بھی ہوتا ہے۔ اب مجھے پتہ چلا کہ آہل کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے صرف اسکی عادت ہوگئی تھی۔اور بات صرف محبت کی نہیں ہوتی, بعض اوقات بنا محبت کے ہم کسی کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ وہ عادت محبت سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوجاتی ہے۔اس کے دور جانے کا خیال ہی سوہان روح بنا ہوتا تھا۔ مگر اذلان کے ساتھ ایک جائز رشتے میں بندھنے کے بعد مجھے رئیلائز ہوگیا کہ پیار کا احساس ہی الگ اور انوکھا ہوتا ہے۔ جو فیلنگز میں اذلان کے لئے رکھنے لگی ہوں وہ مجھے کبھی اہل کے لئے آئے ہی نہیں۔ میں اذلان کی اچھائیوں سے عشق کرنے لگی ہوں۔ کیا آپ میری کوتاہیوں کو پس پشت ڈال کر مجھے نند اور بھابھی کے روپ میں ایکسپٹ کرلے گی؟؟” عنایہ لڑکھڑاتے انداز میں اس پر اپنے رشتے کی حقیقت واضح کرنے لگی۔
” مجھے اس پل تم پر اتنا ڈھیر سارا پیار آرہا ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ اسکا عملاً اظہار کر ڈالوں۔ مگر یہ کام میں اپنے بھائی پر چھوڑ دیتی ہوں۔ اور میں ایک جپھی پر گزارا کولوں گی۔” زر نے اسے خود میں زور سے بھینچا۔
” میں نے تمہیں پہلے دن سے ہی بھابھی کے روپ میں قبول کیا تھا۔ میرا بھائی میری جان ہے۔ میرا مان ہے۔ تو تم بھی مجھے اتنی ہی عزیز ہو۔۔”
” تھینکس!! عنایہ کے دل سے رفتہ رفتہ کثافت چھٹنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” جب انیلا بھابھی کی بات سلطان بھائی سے پکی ہوگئی تب بڑوں نے میری زندگی کا فیصلہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر کردیا۔ میں تو ہتھے اکڑ گئی۔ کیونکہ میں ایک تعلیم یافتہ با شعور لڑکی تھی۔ اور معاشرے میں پروان چڑھتی فضول قسم کی فرسودہ روایات کی خلاف تھی۔ اور یہ وٹے سٹے کا رواج یہاں برسوں سے قدم جمائے کھڑا تھا۔ جس کے حق میں میں بالکل نہیں تھی۔ مگر بڑوں کے سامنے بلاخوف اپنے رشتے سے انکار میرے لئے انگاروں پر چلنے کے مترادف تھا۔ مگر میں چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی۔ میں اپنے خاندان کی واحد لڑکی تھی, جو پہلے کالج اور پھر کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر طے کر پائی تھی۔ اور وجہ بابا سرکار کی میرے ساتھ بے پناہ چاہت و الفت تھی۔ میں گھر کی اکلوتی بیٹی تھی۔ کسی اور کا تو نہیں مگر بابا سرکار کی لاڈلی تھی۔کوئی بات منوانے ہوتی تو بھوک ہڑتال کر لیتی۔ پھر چاروناچار سب کو ہتھیار ڈالنے پڑتے۔ مرتی کیا نا کرتی کے مصداق مناسب وقت کا انتظار کرتے ہوئے ابھی فی الحال خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔ کیونکہ الطاف بھی ولایت پڑھنے گئے تھے۔ اور میں اپنے کلاس فیلو کامل میں انٹرسٹ لینے لگی تھی. یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے ہاں خاندان سے باہر رشتے طے کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔ مگر پیار و محبت کے جذبے کے ساتھ بغاوت کا جذبہ بھی سر اٹھاتا ہے۔ وقت پہیہ لگا کر اپنی رفتار سے تیز گزرتا گیا۔ میں نے کئی بار بابا سرکار سے بات کرنے کی کوشش کی مگر تربیت آڑے آگئی۔ وہ لاکھ مجھ پر جان چھڑکتے تھے , لاڈ اٹھاتے , جائز ناجائز خواہشات آنکھ بند کرکے پوری کرلیتے مگر یہاں بات دو خاندانوں کے درمیان تعلقات کی تھی۔ اور میرے انکار کی صورت میں تعلقات کشیدگی اختیار کر سکتے۔ جیسے ہی الطاف پاکستان پہنچ گیا میں پہلی فرصت میں ان سے ملنے چلی گئی۔ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اب یہ لوگ مزید بات کو طول نہیں دیں گے۔ اور رشتہ پکا ہوجائے گا۔ الطاف ایک اچھی شکل وصورت کا خوبصورت نوجوان تھا۔ جو کسی لڑکی کا خواب ہوسکتا تھا مگر میرے لئے وہ صرف راستے کا ایک کانٹا تھا۔ موقع ملتے ہی میں نے ان کے کانوں میں رشتے کی بات ڈال دی. ان کے خیالات جان کر میرا دل گداز ہونے لگا کہ وہ بھی وہاں اپنی کسی کلاس فیلو کیساتھ ریلیشن شپ میں تھا۔۔اور بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ دونوں شادی کرنا چاہتے تھے۔ مگر خاندان کے فیصلوں نے ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہے۔ اسلیے وہ خود کو ان نام نہاد رشتے کی زنجیر سے آزاد کرانے آیا تھا۔ اور ساتھ اس لڑکی کو بھی لیکر آیا تھا۔ موقع غنیمت سمجھ کر میں اس کے کندھے پر بندوق چلانے لگی۔ لڑکی کا اس کے ساتھ پاکستان آنا میرے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ میں نے مظلومیت کی چادر چڑھاکر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ کیونکہ مجھے یقین تھا کہ الطاف کوئی نا کوئی راستہ ضرور نکالے گا۔ کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نا ٹوٹے۔ پھر ایک دن میں تائی اماں کے گھر گئی تھی انیلا بھابھی سے ملنے تو الطاف کے روم کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے اس کی آواز سنی۔ وہ کسی لڑکی سے فون پر گفتگو کر رہا تھا۔ اور اس کو ایک ہوٹل کا کہہ کر وہاں اس سے ملنے والا تھا۔ میری دلی مراد بھر آئی۔ میں سیدھا گھر چلی گئی اور بابا سرکار کو فورس کرنے لگی کہ آج مجھے باہر اچھے سے ریسٹورنٹ میں لنچ کروادے۔ میں نے اچھے نمبروں سے ٹاپ کیا تھا۔ تو بابا سرکار بغیر حیل و حجت کے مان گئے۔ میں انہیں اسی ریسٹورنٹ لے کر گئی جہاں الطاف اور وہ لڑکی ملنے والے تھے۔ اور کبھی کبھی سب کچھ ہمارے توقعات کے عین مطابق ہوجاتا ہے۔ بابا سرکار نے الطاف کو دیکھا جو کسی لڑکی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔ بابا سرکار سے مزید برداشت نہیں ہوا اور ان کے سروں پر سوار ہوکر استفسار کیا۔ اب چھپانا بےکار تھا. الطاف نے معذرت کرکے بابا سرکار کو سچائی بتا دی۔ کہ وہ عاتکہ کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا ہے۔ آپ خود کسی طرح یہ رشتہ ختم کردے۔ تب بابا سرکار نے وہ فیصلہ لیا جو گاؤں کی تاریخ میں رقم ہوگیا۔ میرا رشتہ ختم کروادیا۔ دوسری طرف انیلا بھابھی کے باپ یعنی کے تایا ابو نے انیلا بھابھی کا رشتہ دینے سے انکار کیا مگر الطاف نے اپنی طرف سے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ تب جاکر معاملہ رفع دفع ہوگیا اور ایسے میں سلطان بھائی کی شادی ہوگئی۔ میں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں بابا سرکار کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ پہلے تو وہ سخت برہم ہوگئے مگر بعد میں انہوں نے سوچنے کا ٹائم مانگا۔ بابا سرکار نے کامل یزدان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بابا سرکار نے یونیورسٹی کے قریب میرے لئے ایک فلیٹ لیا تھا. ایگزیم کے دنوں میں اکثر ملازمہ کہ معیت میں وہاں قیام کرتی۔ وہاں بابا سرکار کامل سے ملے۔ وہ ہمارے یونیورسٹی کا ایک قابل و ہونہار سٹوڈنٹ تھا۔ خالیہ امتحانات میں اس نے صوبے بھر میں ٹاپ کیا تھا ۔ ہر اخبار, نیوز چینل میں اسکی کارکردگی کو سراہا گیا تھا۔ تو بابا سرکار بھی انکے بارے میں کافی کچھ جان گئے تھے۔ وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ والدین کا انتقال ہوگیا تھا۔ فیملی کی نام پر سکی ایک چھوٹی بہن تھی تیرا سال کی۔ باپ سرکاری ملازم تھا تو اسکی پنشن سے گھر کا خرچہ بمشکل پورا ہوتا تھا۔ باقی اس نے اپنی اسٹڈی اسکالر شپ کے ذریعے مکمل کی۔ بابا سرکار کو اسکے سلجھے ہوئے شخصیت نے کافی متاثر کیا اور انہوں نے رشتے کے لئے خامی بھری مگر سب سے بڑا مرحلہ بھائی لوگوں کو منانے کا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ کبھی اس طرح مڈل کلاس فیملی میں میرا رشتہ ہونے کے حق میں نہیں تھے۔ اس لئے بابا سرکار نے فیصلہ لیا کہ وہ سب کے علم میں لائے بغیر ہمارا نکاح پڑھوا دیں گے۔ اور حالت بہتر ہوتے ہی رحصتی کروادیں گے۔ میری خواہش پر میرا کامل کے ساتھ نکاح پڑھوایا۔ بابا سرکار نے پوری کوشش کی بھائی لوگوں کو منانے کی مگر سلطان بھائی کسی صورت تیار نہیں تھے۔ کہ غیروں میں بہن بیاہنے کا مطلب جائیداد میں اور بھی حصہ دار آئیں گے۔ تو تینوں بھائی بابا سرکار کے فیصلے کے خلاف دیوار بن کر کھڑے ہوگئے اور کھل کر مخالفت شروع کردی۔ مگر اب تو نکاح ہوچکا تھا۔ بابا سرکار کو بیٹوں سے اتنے سخت ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ ان دنوں ہماری امی کی طبیعت ناساز ہوگئی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ اور میرے فائینل کے ایگزامز بھی شروع ہوگئے۔ تو بابا سرکار نے مجھے فلیٹ پر واپس بھیج دیا کہ میں اپنے پیپرز پر فوکس کروں۔ کیونکہ گھر کا ماحول کافی تناؤ ذدہ ہوچکا تھا۔ امی کی طبیعت کیوجہ سے بھائیوں نے چپ سادھ لی تھی۔ میری سوچوں کا محور اماں حضور اور گھر کے حالات تھے۔ میری سٹڈی کافی متاثر ہورہی تھی۔۔ایسے میں کامل نے میرا پورا ساتھ دیا۔ اکثر رات دیر تک وہ مجھے پڑھاتا تو اپنی بہن صدیقہ کو بھی ساتھ لیکر آتا۔ کیونکہ ان کے گھر میں اور کوئی نہیں تھا۔ جس کے سہارے وہ بہن کو چھوڑ آئے۔میرے پیپرز بخیریت اختتام پذیر ہوئے اور میں واپس حویلی آنے کی تیاری کرنے لگی کہ اچانک میری طبیعت خراب ہوگئی۔ میں نے بابا سرکار کو کال کرکے اپنی طبیعت کی خرابی کا بتایا انہوں نے کامل کو مجھے چیک اپ کے لئے لیجانے کا بولا ۔ وہ خود ایسی خالت میں گھر سے نہیں نکل سکتے۔ ہم چیک اپ کرنے گئے تو ڈاکٹر نے جو رپورٹ تھما دی میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔کیونکہ میں امید سے تھی”. اتنا کہہ کر عاتکہ نے مارے اہانت و شرمندگی کے سر جھکایا۔ تو اذلان اور حدید نے نظروں کا تبادلہ کیا۔
” جب رشتہ پاک اور جائز ہو۔ تو محرم کی قربت سکون دیتا یے۔ ان دنوں میں ڈپریشن کا شکار تھی۔ پے درپے ہونے والے واقعات نے مجھے ہلا کے رکھ دیا۔ اور اس وقت کامل میرے ساتھ میرے فلیٹ پر رہ رہا تھا۔ ہم بھی کسی کمزور لمحے میں بہک گئے تھے۔ اب کامل خود صحیح معنوں میں تذبذب کا شکار تھا۔ وہ رخصتی چاہتا تھا۔ مگر جیسے ہی ہم حویلی پہنچے ایک اور قیامت منتظر تھی۔ اماں حضور کا انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے جانے کا دکھ اتنا بڑا تھا کہ میں اردگرد سے بے نیاز اپنے خول میں مقید ہوگئی۔ اماں حضور کو گئے چالیس دن ہوگئے تو کامل نے مجھے بابا چضور سے بات کرنے پر فورس کیا۔ کیونکہ میرا تیسرا مہینہ چل رہا تھا اور اگر ایسے میں بات سامنے آتی تو بدنامی ہوجاتی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے بابا خضور کو پوری سچائی بتا دی۔ پہلے تو وہ کافی مشتعل ہوگئے۔ لیکن ایک بار پھر بھائی لوگوں سے بات کی۔ اب کے بار وہ ۔لوگ باقائدہ دھمکیوں پر اتر آئے ۔ کہ وہ کامل کو جان سے مار ڈال دیں گے۔ اس ساری صورتحال میں میرا چوتھا منتھ شروع ہوگیا تو بات چھپانی مشکل ہوگئی۔ کہ اچانک بابا سرکار نے میرے ایڈمشن کا شوشہ چھوڑا۔ وجہ صرف مجھے گھر اور خاندان والوں کی نظر سے چھپا کر رکھنا تھا۔ ورنہ پاک دامنی پر کلنک لگ جاتا۔کیونکہ میرے ماں بننے کے اثرات کافی حد تک نمایاں ہوگئے تھے۔ بھائی لوگوں کو بھلا کیا اعتراض تھا۔ بابا سرکار مجھے واپس اپنے فلیٹ پر لے کر ائے اور میرے ساتھ رہنے لگے۔ مگر کامل مجھے اپنے گھر رکھنے پر بضد تھا ۔ بابا سرکار مان گئے اور میں کامل کے ساتھ رہنے لگی۔ میری پوری زمہ داری بابا سرکار نے اپنے سر لی تھی۔ کامل ٹہرا ایک خوددار بندہ, وہ بابا سرکار کو کئی بار صاف انکار بھی کر چکے تھے کہ وہ اپنے بیوی بچے کی زمہ داری اٹھا سکتا ہے۔ بابا سرکار نے انکی ایک نہیں سنی۔ وقت پر لگا کر گزر گیا۔ میری ڈلیوری میں ایک منتھ رہ گیا کہ واشروم میں نہاتے ہوئے میرا پیر پھسل گیا اور توازن برقرار نا رکھتے ہوئے میں اوندھے منہ فرش پر گر گئی۔ مجھے ہاسپٹل لے جایا گیا۔ میری طبیعت کافی کریٹیکل تھی۔ آپریشن کا بولا گیا۔ کامل نے بابا سرکار کو ارجنٹ کال کرکے بلایا۔ بابا سرکار نے ایک سے بڑھ کر ایک ماہر ڈاکٹر کا بندوبست کروایا۔ کیونکہ ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق بچے کے بچنے کے چانسز ففٹی پرسنٹ تھے۔ مگر وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ آپریشن کامیاب رہا۔ اور میرے آہل نے آنکھیں کھول دی۔ میرے تو نصیب کھل گئے۔آہل کو پاکر میں جیسے ہواؤں میں اڑنے لگی تھی۔ مگر ہماری خوشیوں کی عمر کافی کم نکلی۔ میں وقتاً فوقتاً حویلی جاتی اور اسے عرصے میں کامل خود آہل کی دیکھ بھال کرتا۔ پھر ایک منخوس لمحہ ہماری خوشیوں کو نگل گیا. بھائیوں کو شک ہوگیا کہ میں نے چپکے سے شادی کی ہے۔ بابا کو آہل سے دلی لگاؤ تھا۔ جب ہمارے پاس ہوتے گھنٹوں اسے پیٹھ پر سوار کرکے پورے گھر میں گھماتے۔ پورے گھر میں آہل کی کھلکھلاہٹیں گھونجتی رہتی۔ آہل کے پانچویں جنم دن پر بابا سرکار مجھے اور اہل کو شہر لیکر جانا چاہتے تھے۔ صدیقہ کا پیپر تھا اس دن, تو کامل ہمارے ساتھ نہیں جاپایا۔ ہم نے بھی جانے کا ارادہ ترک کیا مگر کامل نے ہمیں مجبور کیا جانے کے لئے۔ بقول کامل کے ان کے بیٹے کا جنم دن یادگار ہوجانا چاہیے ۔ انہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ پیچھے میرے بھائیوں نے کامل کے پیچھے اپنے فالتو کتے چھوڑ دیے تھے انہوں نے اس بات کی تصدیق کروائی کی کامل کی شادی ہوئی ہے۔ اور لگے ہاتھوں سلطان بھائی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آگئے اور غنڈہ گردی کرکے گھر پر دھاوا بول کر ہماری ہستی بستی زندگی کو آگ لگا دی۔ مگر مجھے وہاں موجود نا پاکر اس کے ارادوں پر پانی پھیر گیا۔ اور واپسی کے لیے پر تولنے لگے کے صدیقہ کو دیکھ کر سلطان بھائی کے اندر وخشی جانور نے سر اٹھایا۔ اور کامل جو پاس مارکیٹ سے سودا سلف لینے گیا تھا۔ ان کی واپسی ہوئی تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ صدیقہ کی عصمت لوٹی گئی تھی۔۔معصومیت کو داغدار کردیا گیا تھا۔ اپنی بہن کی اجڑی حالت دیکھ کر کامل کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور سلطان بھائی پر ٹوٹ ہڑے۔ مگر ان کے گارڈز نے کامل کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب ہم واپس آگئے تو کامل کی سانسیں مدھم چل رہی تھی۔ اور ساتھ میں صدیقہ کی حالت زار دیکھ کر بابا سرکار نے دونوں کو ہاسپٹل شفٹ کروایا۔ خفیہ طریقے سے دونوں کا علاج ہوتا رہا کہ ایک بار پھر سلطان کی کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی۔ وہ تو صدیقہ کو مرا ہوا سمجھ کر چھوڑ چکا تھا۔ مگر ابھی تک اس کی سانسیں چل رہی تھی۔۔ سلطان میر نے ہسپتال میں اسے مروانے کی سرتوڑ کوششیں کی۔ مگر بابا سرکار کی سیکیورٹی کے پیش نظر اسے مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کہ ایک دن اچانک ہمیں خبر ملی کہ صدیقہ کی زندگی نے وفا نہیں کی اور اٹھارہ سال کی عمر میں اتنی سفاک موت ماری گئی۔” عاتکہ نے ایک اچٹی نظر حدید پر ڈالی۔ مگر اس کی دگرگو حالت دیکھ کر اس نے مزید کچھ بولنے سے خود کو روکا۔
” غلط !! پھپھو کی ڈیتھ نہیں ہوئی تھی وہ مزید زندگی کا بوجھ اپنے معصوم ناتواں کندھوں پر اٹھانے کے لئے زندہ رہی۔” پاکٹ میں دونوں ہاتھ اڑستا ہوا آہل شکستہ قدم لئے اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پردرد کی ایسی تحریر رقم تھی جو صاف ظاہر کرتا تھا کہ وہ ان لوگوں کی گفتگو کسی حد سن چکا تھا۔ اذلان اور حدید کو اس لمحے وہ کہیں بھی مضبوط چٹانوں جیسا مرد نہیں لگا جو کسی کو بھی چاروں شانے چت کرنی کا ہنر جانتا تھا۔ جبکہ اسکی بات سن کر تینوں نفوس اپنے اندر بھڑکتی اذیت و تکلیف کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام رہے ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°