88.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 5
(حویلی بیسڈ,کزن فورسڈ میرج اور انتقام پر مبنی خوبصورت تحریر)
” میں مر جاؤں گی آہل!! آپکی ںےرخی برداشت کرتے کرتے اتنی نہیں ٹوٹی, جتنی تمہارے دور جانے سے بکھر جاؤں گی.” زر کی آواز ایسی تھی جیسے کسی گہرے کھائی میں گری ہو.
“اور اگر تم آج چلی گئی تو میں جیتے جی مر جاؤں گا.” آہل اسکے پاس آکر دوزانو بیٹھ گیا اور اسے سینے سے لگا کر خود میں بھینچا۔
“مجھے ضرورت ہے تمہاری !! تھک گیا ہوں خود سے لڑتے, حالات سے لڑتے. اگر تمہیں تکلیف دی ہے تو کم اذیت میں میں بھی نہیں تھا.” آہل کے لہجے میں ایسی تڑپ تھی کہ زر کی نظریں اٹھی اور مقابل کی شدت سے سرخ آنکھوں سے ٹکرائی.
“بہت ضدی ہے آپ !! زر نے ہتھیار ڈال دئیے. سچ تھا وہ خود آہل سے دور جانا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس کے پیروں میں اپنی محبت کی زنجیریں ڈال کر اسے فتح کرکے قید کرنا چاہتی تھی. کسی بہکتے ہوئے لمحے کے نظر ہوکر خود کو گنوانا نہیں چاہتی تھی . مگر ایک تو یہ ظالم سماج والے, اور دوسرا اپنی بہن کے جذبات جان کر اسکے دل میں خدشات نے جنم لیا تھا۔
آہل اسے واپس بیڈ تک لے آیا. اور بلینکٹ دونوں کے اوپر ڈال کر اسے خود میں سمیٹ لیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھ کر اس پر گھیرا مزید تنگ کردیا۔
“آہل ڈر لگ رہا ہے !! زر نے ہاتھ اسکے بے لگام لبوں پر رکھا۔
“کچھ نہیں ہوگا. ٹرسٹ می.” اور اپنی شدتیں اس پر لٹانے لگا۔ اس کا ہر لمس اتنی شدت سے بھرپور ہوتا کہ زر تڑپ کر رہ جاتی. آج سارے فاصلے مٹا کر وہ دونوں کے بیچ دوریاں ختم کرنے لگا. زر کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آیا وہ بدلہ لے رہا, یا محبتیں لٹا رہا ہے. اس نے ساری منفی خیالات کو ذہن سے نکال کر اسکے چاہت,محبت اور وعدوں پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا. اسکی دی گئی اذیتیں وہ فراموش کر گئی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“زر … !!
اپنی پہلو میں سکون کی نیند سوئی زر کو اس نے ہولے سے پکارا.
“ہمممم!! زر نے کروٹ لیکر اسکے سینے میں منہ چھپایا۔
“صبح کی اذان ہوگئی ہے . تم اپنے روم میں جاؤ۔ اٹھو شاباش” زر نے مندی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ آج یہ شخص اس کی دسترس میں تھا۔
“آئی لو یو آہل !! اس نے ہاتھ کا پیالا بنا کر آہل کے رخسار پر رکھ کر دھڑکتے دل سے اظہار محبت کیا.
آہل نے اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنے لب رکھ دئے.” میں تمہیں اپنے سنگ عشق کی انتہاؤں پر لے جانا چاہتا ہوں. اپنے پاسٹ سے دور. جہاں صرف تم ہو اور میں. ہمارا خوشیوں بھرا گھر. ابھی تک زندگی گزار رہا تھا مگر اب جینا چاہتا ہوں. تمہارے ساتھ اپنی زندگی کا یہ خوشیوں بھرا سفر طے کرنا چاہتا ہوں. جاؤں گی نا میرے ساتھ, میری دنیا میں.؟؟ آہل کی آواز میں میٹھی خماری گھلی تھی.
“جی..!! زر نے بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا.
“آہل !! آپ مجھے چھوڑیں گے تو نہیں نا. مجھے اپنائیں گے !! ڈر دل کے کسی کونے میں اب بھی موجود تھا.
“کیوں چھوڑوں گا !! بتایا تو تھا کہ تم نا چھوٹنے والا نشہ بن گئی ہو. اسکے تھرتھراتے لبوں پر انگوٹھا پھیر کر مسلنے لگا.. اور پھر سے وہ خود پر قابو نا رکھ پایا اور جھکا مگر زر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روک دیا۔
“آہل!! بس کردے. کوئی آجائے گا.” زر جلدی سے راہ فرار ڈھونڈنے لگی۔
“آپ باہر جاکر چیک کرلے.” زر نے دوپٹہ اٹھا کر اوڑھ لیا.
آہل نے اپنے بےقابو جذبات کو تھپکی دی اور باہر نکلا.
اردگرد کا جائزہ لیکر وہ زر کو باہر لے ایا۔ تو وہ اپنے روم میں گھس گئی۔ وہ واپس آکر لیٹ گیا. ویسے بھی سنڈے تھا۔ اور آج اسے سحر کو بھی لیکر آنا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ فریش ہوکر وہ ناشتے کی ٹیبل پر آئی تو خود کو اچھی طرح دوپٹہ سے کور کرنے کے بعد بھی وہ بےچین و مضطرب تھی۔ اور جز بز ہوکر بار بار دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی. کسی اور کو تو محسوس نہیں ہوا مگر عاتکہ کی جہاندیدہ نظروں سے مخفی نا رہ سکی. وہ جانچتی نظروں سے اسکے کھلتے چہرے کا جائزہ لے رہی تھی. جس پر کسی کے قربت کے دلکش رنگ نمایاں تھے. اس کا دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر ابھرا. اس نے خود رات کو اسے آہل کے روم میں بھیجا تھا. مگر جب کافی دیر بعد بھی وہ نہیں آئی تو وہ بھی یہ سوچ کر سو گئی کہ شائد اپنے روم گئی ہوگی.
اس نے ناشتہ کرکے زر کو اشارے سے اپنے روم میں آنے کا بولا. آنے والے لمحات کا سوچ کر ہی اسکی جان جانے لگی.
زر اس کے پیچھے روم میں چلی گئی تو عاتکہ نے بغیر کچھ پوچھے اسکے سر سے دوپٹہ تھوڑا سا سرکایا. تو اسکا رنگ فق ہوگیا.
“زر !! یہ… تم رات کو آہل کے روم میں سوئی تھی؟؟ زبان ساتھ دینے سے انکاری تھی.
“جی پھپھو!! زر کا چہرہ حیا اور جھجھک سے سرخ قندھاری ہوگیا اور مارے حجالت کے پلکیں جھکالی۔
“کچھ ہوا ہے تم دونوں کے بیچ !! شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی تھی مگر من کی تسلی کے لئے پوچھ لیا.
اس بار زر نے صرف اثبات میں سر ہلایا.
“یا اللّٰہ !! آہل اس طرح کیسے کرسکتا ہے. کیسے اپنے نفس کا غلام بن گیا وہ. ” عاتکہ بے یقینی سے زر کو تکنے لگی.
“پھپھو اس میں میری مرضی بھی شامل تھی. انہوں نے مجھے فورس نہیں کیا.” زر کو برا لگا تو آہل کے دفاع میں بول اٹھی.
“تو تم بچی ہو کیا؟ کچھ سمجھ بوجھ ہے کہ نہیں. یہ تمہارا چہرہ اور اس پر چھائے اسکے قربتوں کے ہزاروں رنگ آج میں نے دیکھ لئے کل کو کسی اور کی نظر پڑ گئی تو کیا کروگی. تازہ تازہ محبت کا نشہ چڑھا ہے تمہیں , تو کچھ بھی کرلو گی. زندہ دفنا دےگا تمہارا باپ تمہیں. اگر بھنک بھی لگ گئی اسے. شادی نہیں ہوئی تمہاری ابھی.” عاتکہ ہولے سے چلائی اس پر۔
“پھپھو!! آہل نے پرومس کیا ہے کہ وہ سب ٹھیک کردے گا. وہ کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑے گا.” زر پھر سے آہل کی حمایتی بن گئی۔
“تو اس ٹھیک وقت کا تھوڑا انتظار کرلیتے تم لوگ. جب سب ٹھیک ہوجاتا. تو …….”
“مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے پھپھو !! مجھے آہل چاہئے تھا پورا کا پورا. اور میں نے انہیں پا لیا . باقی جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ زر نے بات ختم کردی اور پیچھے عاتکہ کو ہزاروں وسوسوں میں غوطہ زن چھوڑ کر چلی گئی.
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ سحر کو ساتھ لیکر دوپہر کے وقت حویلی پہنچا تو سب ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے لنچ کرنے میں مصروف تھے. اسے دیکھ کر ملازمہ کھانا نکالنے لگی اور دوسری ملازمہ عنایہ کو بلانے چلی گئی. جبکہ آہل کے ساتھ ایک نئی چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ کر وہاں موجود نفوس میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی. زر کے کشادہ پیشانی پر سلوٹیں پڑ گئی۔ اور ایک کوفت بھری سلگتی نظر دونوں پر ڈال کر سر جھکاکر کھانے میں مصروف ہوگئی۔ خالانکہ وہ سحر کو اچھے سے جانتی تھی مگر اسے پتہ تھا کہ اب کونسا طوفان سر اٹھانے والا ہے۔
عنایہ گرم جوشی سے سحر سے گلے ملی۔ جیسے ہی آہل نے کھانے کا پہلا نوالہ منہ میں ڈالا , سلطان میر کی کاٹ دار آواز سماعتوں میں گھونجی.
“یہ ہماری حویلی ہے مسٹر!! کوئی کوٹھا نہیں, کہ روز نت نئے لڑکی کو اٹھا کر اپنے شوق پورے کرنے لے آتے ہو۔ ہم تو تمہیں شریف انسان سمجھتے تھے اسلئے اجازت دے دی۔ ورنہ۔۔۔۔۔”
آہل کے اندر سونامی امڈنے لگا. ماتھے پر تناؤ سے سلوٹیں پڑ گئی..ایک تیز تند سلگتی نظر اس نے سامنے بیٹھی زر او عاتکہ پر ڈالی, جو اسے کل صبر و برداشت پر ایک بڑا لیکچر دے گئے تھے۔ ویسے بھی کافی دنوں سے وہ کسی دھماکے کا منتظر تھا. اس نے زور سے ہاتھ ٹیبل پر مارا کہ ٹیبل پر موجود برتنوں کے ارتعاش سے سب سہم گئے.
” آواز نیچے سلطان میر !! میری بہن کے بارے میں سوچ کر بولنا۔ میں آہل یزدان ہوں۔ ایک پاکباز عورت کے بطن سے جنم لیا ہے میں نے۔ میری پہلی ترجیح عورت کی عزت ہوتی ہے. خواہ رشتہ کسی بھی نوعیت کا کیوں نا ہو, نا کہ حویلی کے مردوں جیسا عیاش ہوں جو سفید لباس پہن کر, عزت کی پگڑی سر پر سجائے اپنی عیاشی کا سامان ڈھونڈنے ہر ہفتے کوٹھے پر تشریف لے جاکر اسے عزت بخشتے ہیں” وہ خون آشام نظر سلطان میر پر ڈال کر اتنا تیز دھاڑا کہ سب کے حواس مفلوج ہوگئے. اور ایاز میر سمیت سب کو سانپ سونگھ گیا. حدید اپنے باپ کی اس قدر بے عزتی پر تلملایا کچھ بولنے کے لئے لب واہ کئے کی عاتکہ بیگم نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر روکا۔
“اور ایک اہم بات !! مرد اپنی جوانی کے اعمال سے اپنے بیٹیوں کا نصیب لکھ رہا ہوتا ہے. ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں آپکی جوانی نے کتنی زندگیاں اجاڑ دی ہے جس کا خمیازہ تمہاری بیٹیوں کو بھگتنا پڑے گا۔” آہل کے آخری بات پر سلطان میر سمیت دونوں بھائیوں کے اوسان صحیح معنوں میں خطا ہوگئے۔ منہ مقفل ہوگئے۔ جبکہ سلطان میر کی بیوی قدرت کے انتقام پر حیران اپنے شوہر کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ رہی تھی. جس نے کبھی اسے بیوی کا درجہ دیا ہی نہیں.
“بی اماں !! ہمارا کھانا میرے روم میں بھجوا دو, وہاں ساتھ بیٹھ کر کھا لیں گے۔ ان جیسے اناپرست شریفوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی ساکھ خراب کرنے کا میرا قطعی موڈ نہیں. کچھ لوگوں کو عزت ان کی اوقات کے مطابق دینی چاہئے ورنہ وہ اسکا بوجھ نہیں اٹھا پائیں گے. جب تک میرا منہ بند ہے تم لوگوں کے لئے غنیمت ہے۔ جس دن کھل گیا, کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہو گے. ” اس نے سحر کے گرد بازوؤں کا حصار بنا کر عنایہ کو بھی اشارے سے اٹھنے کا حکم دیا۔ اور چلنے لگا۔
“اور ہاں!! کل یہاں دوسرے کچن بمعہ دائیننگ روم کا بندوبست ہوجانا چاہیے۔ ورنہ کل شام تک حویلی کا بٹوارا میرے مبارک ہاتھوں سے ہوگا پھر مجھے دوش مت دیجئے گا.” سب کو خیرتوں کے کنویں میں دھکیل کر وہ چلا گیا.
“کیا ضرورت تھی یہ گل افشانیاں کرنے کی !! ایاز میر نے خود سے چھوٹے بھائی کی اس قدر تذلیل پر دانت پیسے. وہ بھی کتنے دیدہ دلیری سے گھر کے خواتین اور بچوں کے سامنے اسے آئینہ دکھا کر چلا گیا.
••••••••••••••••••••••
“ہوگیا شوق پورا,ہیپی فیملی دیکھنے کا!! آہل نے سحر کو سرد نظروں سے دیکھ کر کہا.
“سوری بھیا !! سحر کے ہوائیاں اڑتے چہرے پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ وہ شرمندہ ہوگئی اپنی زات کی اس قدر تضحیک پر.
“بھیا !! انہوں نے مجھے اتنا گرا ہوا سمجھ لیا۔ مجھے بازاری بکاؤ لڑکی کا خطاب دیا۔” سحر کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ آٹک گیا۔ ایک آسودہ بھری نظر اس نے آہل پر ڈالی۔
“چپ !! تم میری بہن ہو. ان لوگوں نے تمہارے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی جو جرات کی اسکا خساب دینا پڑے گا ان سب کو.” آہل نے کرب سے لب بھینچے۔
” نہیں بھائی پلیز !! کسی لڑکی سے انتقام کا آپ سوچئے گا بھی مت.” سحر سہمی سی اسکے کندھے سے لگی۔
“واٹ ربش!! مجھے اتنا گرا ہوا سمجھا ہے کہ صنف نازک کے ناتواں کندھوں پر بندوق رکھ کر گولی چلاؤں گا۔ میری مثال اڑیل گھوڑے کیطرح ہے۔ جو اپنے پیچھے لگائے گا ۔ پیروں تلے روندھ دیا جائے گا.” آہل کے لہجے میں کرختگی عود آئی۔
“نن۔نہیں !! میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔ بس اتنا بتانا چاہ رہی تھی کہ آپ غصے میں کوئی انتہائی قدم نا اٹھا لے.” سحر دکھ و اضطراب کی ملی جلی کیفیت سے دوچار تھی۔
“ڈونٹ وری !! اتنا کم ظرف نہیں ہوں میں. اپنے بازوؤں کے دم پر لڑائی لڑ سکتا ہوں۔
••••••••••••••••••••••
“یہ آہل کے کچھ ذیادہ پر نہیں نکل آئیں. لگ رہا ہے اس کا ہمارے پاسٹ سے کوئی کنیکشن ہے.” امان میر نے اپنے بڑے بھائیوں کو رازدارانہ انداز میں مخاطب کیا. تینوں بھائی اپنے ہجرے کے روم میں بیٹھے گتھ جوڑ میں مصروف تھے.
“وہی تو!! کچھ تو ہے جو ہمیں نہیں معلوم. کتنی کوشش کی مگر اس کے ذات پات ,خاندان کا کچھ اتا پتہ نہیں چلا. بابا سرکار ضرور کسی کچرے سے اٹھا کر لائیں ہوں گے.” سلطان میر کا غصہ سوا نیزے پر تھا. اور ہوتا بھی کیوں نہیں. بھرے مجمع میں اس کی عزت افزائی جو ہوئی تھی.
“شکار کتنا ہی ہوشیار کیوں نا ہو۔ شکاری کے شکنجے میں پھنس ہی جاتا ہے. یہ کل کا پیدا ہوا لڑکا ہمارے ساتھ شطرنج کھیل رہا ہے مگر وہ جانتا نہیں ہم اس کھیل کے پرانے کھلاڑی ہیں۔اچھے اچھوں کو ہرایا ہے.” سالوں پہلے کئے گئے اپنے غلیظ عمل کو یاد کرکے تینوں کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوگئی.
” اس کو بھی مات دے کر ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیں گے.” سلطان میر نے اپنے مکروہ منصوبے سے دونوں بھائیوں کو آگاہ کیا.
“مگر بھائی صاحب!! اس میں صرف وہ لڑکی نہیں ہمارے بچے کی بھی بدنامی ہوگی.” امان میر کو اس پلان سے اختلاف تھا.
“لڑکے کی کون سی بدنامی؟؟ میری ہوئی تھی کیا؟؟ بال بال بچ گیا تھا. اور سارا ملبہ اس دو ٹکے کی بازاری عورت کے اوپر آگیا تھا.” سلطان میر نے اپنا حوالہ دیا.
“مگر سلطان!! پھر بھی اس وقت قسمت نے ہمارا ساتھ دیا تھا. بازی پلٹ بھی تو سکتی ہے. تھوڑی سی بے صبری بڑے بڑے مقاصد کو تباہ کردیتی ہے۔” ایاز میر ایک خدشے کے تحت بولا.
‘تو ہم ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں سکتے. مجھے اپنی تزلیل کا بدلہ لینا ہے وہ بھی سود سمیت.” سلطان میر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا.
آخر کار اس نے دونوں بھائیوں کو کنوینس کر ہی لیا.
•••••••••••••••••••••••••••••
کھانا کھانے کے بعد اسے مہد سے ملنے ارجنٹ جانا تھا۔۔ سحر اور عنایہ کو ہدایات دے کر وہ کال ملا کر گارڈز اور ڈرائیور کو انفارم کرنے لگا کہ آخری سیڑھی پر قدم منجمد ہوکر آگے چلنے سے انکاری ہوگئے۔
ہال میں رکھے سنٹر صوفے پر عاتکہ کی گود میں حدید سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا۔ جس کے سر میں تیل کی مالش ہورہی تھی۔ سنڈے کو وہ زبردستی تمام بچوں کے بالوں میں تیل کی مالش کیا کرتی تھی. اور حدید اپنی پھپھو کی نرم انگلیوں کی حرکت سے سرور کی وادیوں میں چلا گیا۔ آنکھیں موندھ کر وہ سیٹی سے کچھ کنگنا رہا تھا ۔ یہ منظر دیکھ کر آہل کے آنکھوں میں کرچیاں چھبی۔ اسے نہیں یاد کہ وہ کبھی کسی مہربان گود میں سر رکھ کر سکون کی نیند سویا ہو.. جارہانہ تیور لئے وہ آگے بڑھا.
“قسم ہے جادو ہیں آپکے ہاتھوں میں پھپھو. ساری تھکان, بے چینی لمحے میں اتر گئی. بلکل ریلیکس فیل کر رہا ہوں ” حدید کے محبت سے لبریز انداز پر غیر ارادی طور پر اسکی نظریں واپس سے دونوں پر جم گئی۔ جہاں حدید نے عاتکہ کے ہاتھوں کا عقیدت سے بوسہ لیا اور پھر آنکھوں سے لگایا۔ آہل کی آنکھیں حقارت اور کم مائیگی کے احساس سے جلنے گئے۔ اچانک ہی عاتکہ کی نظریں اس پر پڑی تو چہرے پر آرزدگی کے تاثرات پھیل گئے. دھڑکنیں سست پڑ گئی. آہل نے کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ کر ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رخ موڑ لیا۔ جبکہ عاتکہ کے خلق میں نمکین گولہ اٹک گیا۔ وہ کھل کر رو بھی نہیں سکتی تھی۔ سب کے سوالوں کے جوابات دے نہیں سکتی اس لئے چپ کا روزہ رکھے ہوئی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عنایہ سحر کو حویلی دکھانے باہر لے آئی. سحر تو ایک وسیع رقبہ پر پھیلی حویلی کو دیکھ کر حیران ہوئی. ہال سے گزرتے ہوئے عاتکہ کی نظر دونوں پر پڑی تو سوچوں کا محور پھر سے عنایہ ٹہری. دماغ پر زور ڈالا مگر کچھ یاد نہیں آرہا تھا کہ یہ چہرہ اس نے کہاں دیکھا ہے. دوبارہ عنایہ کو محاطب کرنا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ مگر سحر کی عقابی نظریں عاتکہ پر تھی. یہ لڑکی عنایہ سے یکسر مختلف تھی. عنایہ منہ پھٹ تھی جبکہ سحر سلجھی ہوئی باشعور. سحر کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر عاتکہ کے لب مروتا متبسم ہوئے ۔ تو سحر کی پتلیاں حیرت سے پھیلی۔
“آپ ذرا پھر سے مسکرائے پلیز!! دوسرے پل وہ عاتکہ کے قریب کھڑی ہوکر انوکھی فرمائش کرنے لگی۔
“سحر !! چلو۔۔” یہاں رشتہ داریاں نبھانے آئی ہو تم؟؟ عنایہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنا چاہا کہ سحر نے اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔
“ون منٹ !! آپ پلیز دوبارہ سے اسمائل کرے نا بہت اچھی لگتی ہیں” سحر کو بچوں کی طرح ایک ہی رٹ لگائے دیکھ کر حدید بھی متعجب سا عاتکہ کی گود سے سر اٹھا کر بیٹھ گیا۔ جبکہ عاتکہ کا چہرہ دھواں دھواں ہونے لگا. وہ اس چھوٹی سی لڑکی کی ہوشیاری پر عش عش کرنے لگی۔ وہ سحر کی بات کا مفہوم اچھے سے سمجھ گئی اسلئے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اٹھ کر جانے لگی.
” پھپھو کیا ہوا؟؟ اس کی پھپھو ایک شفیق اور ملنسار خاتون تھی. کبھی اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہیں دی. اپنائیت سے لبریز انداز ہوتا تھا. اس کی اچانک سے ٹون بدلنے پر حدید بھی شاکڈ تھا. جبکہ سحر کے چہرے پر کچھ دیر پہلے والی شوخی ایک دم غائب ہوگئی.
“کچھ نہیں بیٹا !! نماز پڑھنی ہے مجھے. دیر ہورہی ہے تم جاکر ریسٹ کرلو.” سرد آنکھوں اور فق چہرے کیساتھ اس نے جواب دیا۔ تو حدید نے کندھے اچکائے اور روم میں چلا گیا۔
” یہ کیا پاگل پن ہے !! آہل کو پتہ چل گیا تو ایک سیکینڈ بھی تمہیں رہنے نہیں دے گا یہاں۔ یہ حویلی والے کسی کے سگے نہیں ہوتے.”عنایہ نے اسے آئینہ دکھایا۔
“تم نے نوٹ کیا, جب وہ لیڈی سمائل کر رہی تھی تو یہاں, اسکا ڈمپل بن گیا تھا.” سحر نے ٹھوڑی پر انگلی رکھ دی. بھلا اب مسکرانے میں کیا کنجوسی۔ اتنی بھلی تو لگ رہی تھی”
“ہاں تو کون سا معجزہ ہوگیا. سب کے بنتے ہیں. کسی کے گال پر کسی کے ٹھوڑی پر؟؟ عنایہ نے بات کو سرسری گھمایا. سیرییس ہی نہیں لیا۔
“جیسے آہل بھیا کا بنتا ہے چن پر. جو کہ ہمیں دیکھنے کو بہت کم ملتا ہے. مگر مجھے ہوبہو ان کے جیسے دکھا”. سحر عاتکہ کی کیفیت سے انجان اپنی دُھن میں لگی ہوئی تھی جبکہ اس کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح عاتکہ کے اعصاب پر وار کرنے لگے. حواس مفلوج ہوگئےاور سیڑھیوں کے بیچ توازن برقرار نا رکھتے ہوئے دھڑام سے گر گئی.
“ہائے اللّٰہ!! بیک وقت سحر اور عنایہ نے مڑ کر دیکھا. تو سیڑھیوں کے اوپر عاتکہ گری ہوئی پڑی تھی.
گرنے اور ساتھ دل خراش چیخنے کی آوازیں سن کر سارے گھر والے ہال کی طرف دوڑ کر ائیں۔۔
“پھپھو !! سب سے پہلے اذلان اسکے قریب پہنچ گیا اور اسے بازوؤں میں بھر کر سنٹر صوفے پر لٹایا. جس کی آنکھیں درد اور تکلیف سے بند تھی.
زرغونہ بھی خواس باختہ سی نیچے آئی اور اپنی پھپھو کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر خود پر ضبط نا رکھ سکی اور رو پڑی۔ “کیا ہوا انہیں”
“آپ تو ابھی بلکل ٹھیک ٹھیک تھی. یہ کیسے ہوگیا اچانک “حدید جو ابھی اسے صحیح سلامت چھوڑ کر روم میں گیا تھا اب اسکی خالت دیکھ کر بلبلا اٹھا.
“تم نے نظر لگا دی نا میری پھپھو کو۔ تم فورس کر رہی تھی انہیں کہ اسمائل کرے. ما شاءاللہ نہیں بول سکتی تھی تم. تمہاری نظر لگ گئی انہیں” حدید سحر کے سر پر کھڑا چلا رہا تھا. جو خود اس اچانک پڑنے والے افتاد پر دم سادھے کھڑی تھی.
“مم۔ میں نے کچھ نہیں کیا. میں نے جسٹ اتنا بول دیا کہ وہ بہت پیاری لگتی ہے جب مسکراتی ہے۔ بلکل میرے بھیا کی طرح.” سحر خود پر لگے الزام پر بوکھلا گئی تو جو منہ میں آیا بک دیا۔ جب کہ افراتفری کے عالم میں کسی کا دھیان نہیں گیا کہ کون سے بھیا. جبکہ زر کے اوپر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے. وہ یک ٹک سحر کے سپید پڑتے چہرے کو دیکھ رہی تھی.
” بھائی بچی ہیں وہ !! کیا کر رہے ہیں آپ؟؟ پھپھو ہے ہی اتنی پیاری, سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہیں. اسکو اچھی لگی ہوگی تو بتا دیا. بچے من کے سچے ہوتے ہیں. ان کی نظر نہیں لگتی. آپ پلیز جلدی سے پھپھو کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے کہیں فریکچر وغیرہ تو نہیں آیا.” زر نے جلدی سے حالات کشیدگی کو ختم کرکے سحر کی طرف سے سب کا دھیان ہٹا دیا.
” ایک بھی گاڑی نہیں ہیں گھر میں. ایک گاڑی ڈرائیور لیکر گیا ہے۔ اور میری اور اذلان کی گاڑی سروس کے لئے گئی ہے.” حدید فکرمندی سے زمین پر بیٹھا عاتکہ کے پیر کو چیک کر رہا تھا۔
“آہل بھائی کی گاڑی ہے باہر. آپ لوگ اس میں لے جائے۔ ” سحر نے حویلی کے سیر کے لئے جاتے وقت اہل کی گاڑی دیکھی تھی۔ عاتکہ کی حالت اس سے بھی دیکھی نہیں جارہی تھی.
وہ گارڈ کی ایک گاڑی ساتھ لیکر گیا تھا۔ دوسری کھڑی تھی۔
عاتکہ کی تکلیف بڑھنے لگی تو وہ کراہ اٹھی۔ ازلان نے بغیر سوچے سمجھے اسے باہوں میں بھر لیا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔ عاتکہ میں سب بچوں کی جان بستی تھی۔ اس حویلی میں صرف وہی تھی جو بچوں کی ہم راز اور ساتھی تھی۔ حدید سرونٹس کواٹر بھاگ کر گیا اور آہل کے ڈرائیور کو لے ایا۔ تو وہ آہل کے اجازت کے بغیر چابی دینے سے ہچکچا رہا تھا۔
“چابی دو جلدی!! حدید نے ہاتھ بڑھایا تو وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہوگیا۔
“ہمارے صاحب کی اجازت کے بغیر ہم نہیں دے سکتے۔” ڈرائیور نے ہری جھنڈی دکھا دی۔
زر جو پھپھو کے ساتھ ہی جارہی تھی وہ ڈرائیور کر قریب آئی ۔
“سنا نہیں چابی دو!! اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے ہتھیلی آگے کی تو ڈرائیور کے پسینے چھوٹ گئے۔
“جی جی!! اس نے جلدی سے چابی زر کو پکڑوادی اور زر نے حدید کو۔۔
عاتکہ کو گاڑی میں بٹھا کر سب ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مہد سے ملنے کے بعد وہ شام کو حویلی لوٹ آیا ۔ ڈرائیور نے پورچ میں گاڑی کھڑی کردی اور وہ نکل گیا۔ مگر پورچ خالی دیکھ کر اسے کچھ کھٹکا۔
“زبیر!!
آہل نے گارڈ کو پکارا تو عجلت میں گاڑی سے نکل کر اس کے قریب ایا۔
“جی سر!!
“گاڑی کہاں گئی؟؟ شفیق چاچا نے کچھ بولا تھا؟؟ آہل نے دوسرے ڈرائیور کا نام لیا۔
“نہیں سر!! زبیر نے مؤدب کھڑے ہوکر جواب دیا۔
وہ سیدھا حویلی کے پچھلے حصے میں بنے سرونٹ کوارٹرز کیطرف چلا گیا. شفیق اسے باہر ہی بے چینی سے ادھر اُدھر ٹہلتا ہوا نظر آیا۔
“آپ یہاں ہیں تو گاڑی کہاں ہے؟؟
“وہ صاحب جی !! حویلی میں کوئی بیمار تھا شاید. وہ لوگ لے کر گئے.” شفیق نے خلق تر کرکے سراسیمگی کیفیت میں صفائی دی۔ جبکہ حویلی کے نام پر اہل کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔
” اپنی گاڑیوں کو استعمال کرکے موت آتی ہیں ان لوگوں کو جو میری گاڑی سرکاری مال سمجھ کر لے گئے. وہ بھی میری اجازت کے بغیر..” شدید غصے سے آہل پھٹ پڑا۔
“ہم نے انکار کیا تھا دینے سے مگر…… “
” مگر وہ گن پوائنٹ پر تین ہٹے کٹے گارڈز کی موجودگی میں چابی لے کر گئے نا۔” آہل تنے غضلات کیساتھ استہزائیہ چلایا۔
“کون لے کر گیا ؟؟ شدید برہمی ظاہر کرکے ناگواری سے پوچھا.
“میں لے کر گئی تھی آہل!! اپنے عقب میں مخصوص نسوانی آواز سن کر وہ ایڑھیوں کے بل گھوما۔
“تت۔تم ؟! کیا ہوا تمہیں ؟؟ ٹھیک ہو نا تم ؟؟ اس سے ایک انچ کے فاصلے پر کھڑے ہوکر وہ ارد گرد سے بے نیاز دیوانوں کی طرح زر کا ہاتھ پکڑ کر ادھر اُدھر کرنے لگا پھر چہرے کو دائیں بائیں گھما کر چیک کیا۔ مگر کہیں کوئی چوٹ نہیں لگی.
“مم۔ بلکل ٹھیک ہوں۔ پھپھو گر گئی تھی سیڑھیوں سے.” سب کے سامنے اس قدر بے تکلفی اور بے باکی کا مظاہر کر رہا تھا کہ وہ شرم سے دوہری ہوگئی۔ جبکہ سارے گارڈز بمعہ ڈرائیور سر جھکا کر سرونٹ کوارٹر کے اندر گھس گئے۔
“شفیق چاچا نے انکار کیا تھا حدید بھائی کو۔ مگر میرے مانگنے پر دے دی.” زر کے کہنے پر آہل کے تنے غضلات ڈھیلے پڑ گئے.
“تمہاری خدمت میں تو یہ ادنی حقیر بادشاہ بمعہ پوری سلطنت کے خاضر ہے. ایک بار تو ملکہ بن جاؤ اس سلطنت کی, حقیقی خوشی سے روشناس کروادوں گا.” آہل نے تعظیما سر جھکایا۔
“زر!! وہ جواب میں کچھ بولنے والی تھی کہ دور سے اذلان کی آواز سن کر آہل سے فاصلہ بنا کر کھڑی ہوگئی۔
“تھینکس آہل !! اینڈ سوری. تمہارے پرمیشن کے بغیر گاڑی لے کر گئے تھے۔ ایمرجنسی تھیں. ہماری گاڑی موجود نہیں تھی.” اذلان نے زر کے ہاتھ سے چابی لے کر اہل کر سامنے کردی۔ جسے اس نے بغیر کسی تاثر کے پیشانی پر بل ڈالے کے لیا۔
“گھمنڈی !!! اذلان زیرلب بڑبڑایا مگر اسکی بڑبڑاہٹ آہل نے سنی۔۔
“چلے !! زر کے گرد حصار بنا کر اذلان جانے لگا کہ زرغونہ نے بلا اختیار مڑ کر دیکھا. اور مسکرادی. آہل کو ایسا لگا جیسے تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں مل گئی ہو۔ اسکی بےتاب نظریں نے دور تک زر کا تعاقب کیا۔