57.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ناول °میرے نصیب°
ازقلم °رمشا خان°
ایپیسوڈ # 21
“کم ان!! آہل نے کپبرڈ سے ٹائی نکال کر مصروف انداز میں دروازے پر ناک کرنے والے کو اجازت دی۔
“آپی !! آپ کے لئے ہلدی والا دودھ بنا کر لائی ہوں۔ فٹافٹ پی لے۔” شزا دودھ کا گلاس بھر کر لائی تو زر ٹیڑھے میڑھے منہ بنا کر کمبل میں گھسنے لگی۔
” آہل بھائی آپ ذرا ہلف کردیں گے۔ پھپھو بول رہی تھی کہ ہلدی والے دودھ کے بڑے فائدے ہیں۔ اس لئے اپنے ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اسپیشل ان کے لئے بنا کر لائی ہوں۔ اب آپی پینے سے انکار کرے گی تو میرے پورے دو منٹ کی محنت ضائع ہو جائے گی نا۔ ” شزا نے پٹر پٹر کر بولنا شروع کردیا تو آہل نے اپہلے اسکے ہاتھوں کی طرف دیکھا جو کہی سے بھی چھوٹے نہیں لگ رہے تھے۔ اور پھر دو منٹ کی مشقت پر تو اسکی آنکھیں حیرت سے مزید پھیل گئی۔
” یہ تم دونوں بہنوں کے آپس کا معاملہ ہے مجھے کیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہو” آہل نے لاپرواہی سے کندھے آچکا کر ٹائی باندھ کر پرفیوم اٹھایا اور خود پر اسپرے کرنے لگا۔
” ہائے آپی!!! حد ہوگئی۔ تھوڑی سی بھی مروت دکھاتے تو ناک چھوٹی ہوجاتی ان کی۔ یہ ایسے کھڑوے کریلے کیوں ہیں۔ ہاں مانتے ہیں ہم کہ پرسنالٹی کافی اٹریکٹیو ہے بٹ اسکا مطلب یہ تھوڑی نا ہے کہ اب گھر گھر والوں کو بھی اٹیٹیوڈ دکھائے۔” شزا نے ناک بھوں چڑھائی اور زر کے اوپر سے کمبل کھینچ لیا۔۔جبکہ آہل اسکی قینچی کی طرح چلتی زبان دیکھ کر صدمے سے دو چار تھا۔
” ایکسیوزمی!! آہل نے آنکھیں سکوڑی۔
” شزا۔۔۔۔ !! زر نے اسے تنبیہی نظروں سے گھورا۔
” اب لیکچرز جھاڑنے مت بیٹھ جانا۔ یہ دودھ پی لے جلدی سے۔” شزا جیسے ہوا کے گھوڑے پر سوار تھی۔
” زر نے گلاس پکڑ کر ایک سانس میں دودھ ختم کرکے گلاس زور سے ٹیبل پر پٹخ دیا۔
” پی لیا دادی اماں۔!! اب خوش۔۔۔”
” گڈ!! وہ جانے کے لیے مڑی پھر کسی احساس کے تحت دو قدم کا فاصلہ مٹا کر آہل کے قریب آئی جو اب مکمل تیار ہوکر کلائی میں گھڑی پہن رہا تھا ۔
” اس دن آپ کے منہ سے پھپھو کے لیے موم لفظ سن کر ہمیں کافی عجیب لگا۔ حقیقت کیا ہے ان سب کے پیچھے۔ میں نہیں جانتی۔ لیکن جب سے آپ یہاں آئیں ہیں۔ ایک انجانی کشش ہمیں آپکی طرف کھینچ رہی تھی۔ وجہ جاننے سے ہم خود قاصر تھے۔ مگر وہ انسیت بے وجہ نہیں تھی۔ میں اپنی پھپھو سے بےحد پیار کرتی ہوں۔ اور اب مجھے اپنے پھپھو کا بیٹا اور اپنی بہن کا شوہر اتنے ہی عزیز ہے۔ تو اب آپ جلدی سے مجھے ہگ کرکے مجھے یہ یقین دلائے کہ واقعی آپ کیساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے۔” زر آہل کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر مخفوظ ہورہی تھی کیونکہ کافی عرصے بعد شزا واپس اپنی ٹون میں آچکی تھی پہلے کی طرح کھلکھلاتی, محبتیں بکھیرتی اور سمیٹتی ہوئی۔
” دور رہو۔۔۔۔” شزا کو اپنی طرف بڑھنے دیکھ کر آہل دو قدم پیچھے ہوا۔
“آہل !! زر نے بہت پیار سے اسے پکارا تو آہل نے اسے ایک تیز گھوری سے نوازہ۔ جس پر زر اور شزا کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
” سو سوئیٹ!! شزا کو اسکی اس ادا پر ٹوٹ کے پیار آیا۔
” ویسے آپی!! آپکو ان آدم بیزار شخص میں کون سی چیز اچھی لگی, جو آپ دل دے بیٹھی۔ سوائے اکڑ کے مجھے تو کچھ خاص نظر نہیں آیا۔” شزا اب باقائدہ آہل کی ٹانگ کھینچنے لگی۔
” مجھے آہل کے نام سے لیکر اس کی شخصیت کی ہر خوبی اور خامی سے محبت ہے۔” زر بیڈ سے اتر کر آہل کے پاس آکر کھڑی ہوگئی اور اہل کے سینے پر سر رکھ دیا۔
” کیا قسمت پائی ہے انہوں نے قسم سے۔ ہمارے خاندان کی سب سے حسین دوشیزہ کو قابو میں کیا ہوا ہے۔ آپی آپ کو یاد ہے وہ خالہ رضیہ کا یوکے پلٹ ہونہار پوتا, جو آپ کو حمنہ کی شادی میں دیکھ کر ہوش و ہواس کھو بیٹھا تھا اور…….”
” شزاااا……!!! زر نے جلدی سے اسے ٹوکا۔
” ایک منٹ۔!! ذرا بتاؤ تم مجھے یہ خالہ رضیہ کے پوتے کا کیا قصہ ہے۔؟؟ آہل نے جلدی سے زر کو خود سے دور کرکے جلتے بھنتے تفتیشی انداز میں پوچھا۔
” یہ تو میں جب بارہویں جماعت میں تھی تب کی بات ہے۔ یہ شزا جان بوجھ کر آپ کو زچ کر رہی ہے۔” زر نے آہل کے ماتھے پر ناگواری کے تاثرات دیکھ کر معاملہ رفع دفع کرنا چاہا۔
” ہائے۔!! قسم لے لے میری جیجو!! آئی مین بھائی. وہ تو اپنی پشتوں کی ساری زمین آپی کے نام کرنے کو تیار تھا۔ مطلب یک طرفہ شدید قسم کا عشق ہوگیا تھابے بارے کو۔ ابھی تک آپی کے انتظار میں مجنون بن کر کنوارا گھوم رہا ہے۔ اگر اسے آپی کی شادی کا پتہ چل گیا تو۔۔۔۔” شزا سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اہل کو تپا رہی اور وہ تپ بھی رہا تھا۔
” شزا بس کرو تم۔!! کیا اول فول بک رہی ہو” زر آنکھوں میں واضح خفگی لے کر اسے گھور رہی تھی۔
” اور تو اور آپی کی وجہ سے ہمیں بھی وی آئی پی پروٹوکول ملتا تھا وہاں۔۔اگر آج وہ ہمارے جیجو ہوتے توہمارے تو وارے نیارے ہو جاتے۔ یہاں تو لوگوں کی اکڑ سے گردن ہی نہیں جھک رہی۔” زر کو اب حقیقی معنوں میں پچھتاوا ہورہا تھا کہ شزا کو بھگایا کیوں نہیں۔
” شزا تم ابھی تک یہاں ہو۔؟؟ کب سے تمہارا کچن میں ویٹ کر رہی ہوں میں۔ تمہیں زر کو دودھ دینے بھیجا تھا نا۔ ادھر عنایہ کے لئے بھی تیار کیا ہے جاکر اسے بھی پلا دو۔” عاتکہ کی آمد پر زر نے تشکر بھرا سانس لیا۔
” یہ دودھ آپ نے بھیجا تھا ؟؟ آہل نے عاتکہ کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
” ہاں !! کیوں؟؟
” تو مطلب یہ شزا نے مشقت اٹھا کر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے خود تیار نہیں کیا تھا۔؟؟ آہل کے قدم شزا کی طرف اٹھنے لگے۔ تو شزا کی جان لبوں پر آئی۔کیونکہ دودھ پلانے کے چکر میں پچھلے پانچ منٹ سے اس نے اناپ شناپ بول کر آہل کے دماغ کی دہی بنا ڈالی تھی۔ اور اہل حساب بے باک کرنے والوں میں تھا۔
” یہ اتنی سگھڑ کب سے ہوگئی ابھی تک تو خود آٹھ کر کبھی پانی تک نہیں پیا۔” عاتکہ نے الجھن بھری نگاہوں سے آہل کیطرف دیکھ کر معاملہ سمجھنے کی کوشش کی۔۔ جبکہ آہل کا ارادہ بھانپ کر شزا نے بتیسی دکھا کر دائیں آنکھ کا کونا ونک کیا اور آہل کے گرفت میں آنے سے قبل ایک چیخ مار کر سرپٹ سیڑھیوں کی طرف بھاگنے لگی جبکہ اس کے پیچھے پیچھے آہل اسے پکڑنے۔ دونوں کی حالت دیکھ کر زر اور عاتکہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ اب وہ لوگ ہال کے وسط میں پہنچ گئے۔ جہاں تھوڑی دیر پہلے اذلان عنایہ کو بٹر فیل کروانے ہال میں لا کر صوفے پر بٹھاگیا تھا۔ اور ثوبیہ بیگم مونگ پھلیاں چھیل کر اسے دے رہی تھی اور وہ خوشی خوشی کھا رہی تھی۔ ان دونوں کو پولیس چور کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے دیکھ کر سب حظ اٹھانے لگے۔ کیونکہ آہل پہلی بار اتنا فرینکلی ہوا تھا۔
“آہل بھائی میں ہلف کرتا ہوں اس چپکلی کو پکڑنے میں۔” اسامہ اسکا جوش بڑھانے لگا۔
” بغیر موچوں والے چوہے خبردار !!! جو میرے قریب بھی آئے تم۔” شزا نے بھاگتے بھاگتے پھولتے سانسوں کے بیچ اسے سنادی ۔ تو وہ جل بھن کر رہ گیا۔
جبکہ اذلان اور حدید بھی کھیل سے لطف اندوز ہونے لگے۔ شزا صوفوں کے گرد طواف کرکے تھک گئی تو کبھی حدید تو کبھی اذلان کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔مگر دونوں نے ہری جھنڈی دکھا دی۔
” مرو تم لوگ ۔۔۔ اگر میری بہن اب چل پھر سکتی تو تم لوگوں کو سبق سکھاتی۔” شزا نے عنایہ کی طرف ہوائی کس اچھال دی۔
عاتکہ زر کو نیچے لے آئی تو شزا کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔ اور زر کی پشت پر پناہ گزین ہوگئی۔
” بچاؤ آپی… ” خشک سانسوں سے وہ بمشکل بول پائی۔
” چھوڑ میری بیوی کو ڈرامہ کوئین !! جھوٹی۔۔ ” آہل نے ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے بہت نرمی سے زر کو پیچھے سے دھکا دیا تو وہ آہل کے باہوں میں سما گئی۔ جس پر سب کی ہوٹنگ شروع ہوگئی۔ اور شزا آنکھ بچا کر اذلان کے روم میں گھس کر پیچھے سے دروازہ لاک کرگئی۔
” ٹھیک ہو تم۔!! وہ بے ترتیب سانسوں کے درمیان بولا
” جی!! زر جلدی سے اسکا حصار توڑ کر نکل گئی اور جاکر عنایہ کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
” کیسی ہو تم؟؟ زر نے عنایہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر نرمی سے استفسار کیا۔ صبح ہی آہل نے اسے عنایہ کے بارے میں بتایا تھا۔ زر کو وہ برسوں کی بیمار لگی
” میں اب بلکل ٹھیک ہوں.. عنایہ اسکے ہاتھوں پر دباؤ ڈال کر اسکے تشویش ذدہ نظروں کو دیکھ کر رسانیت سے بولی۔
” وہ تو نظر آرہا ہے .” زر نے لب بھینچ کر اسکے مرجھائے چہرے پر نظریں گاڑھے ٹانٹ کیا تو عنایہ نے نظریں جھکا لی۔ تو اہل نے آنکھوں کے اشارے سے زر کو مزید کچھ بولنے سے روکا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” میں نے آپکا کام کردیا تھا۔ رپورٹ حویلی پہنچا دی تھی۔ اب آگے کیا کرنا ہے؟؟ مہد آہل کے آفس میں بیٹھا آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگا۔
” اب کہیں سے سلطان میر کے بیٹے کو ڈھونڈ کر لاؤ۔” آہل نے شرارت سے مسکرا کر آنکھ دبا دی۔
” تو عنایہ؟؟ مہد نے تججس بھری نظروں سے دیکھا۔
” عنایہ ابھی اس کنڈیشن میں نہیں ہے کہ ہمارے پلان کا حصہ بنے۔ اور کچھ دنوں میں اس کی سرجری ہونے والی ہے۔ اور مجھے سلطان میر کے منہ سے سچ اگلوانے کے لئے لڑکی نہیں لڑکا چاہئے۔ ہمارے پاس ثبوت نہیں ہے جس کو ہتھیار بنا کر میر سنز کو زیر کرسکے۔ کہیں سے کسی قابل ایکٹر کا بندوبست کرو جو عمدہ ایکٹنگ کرکے میر سنز کے چھکے چھڑائے۔ جتنے پیسے چاہئے اسے بلینک چیک دے دو۔” آہل کسی لڑکی کو انولو کرنا نہیں چاہتا تھا۔ کیونکہ ان سفاک لوگوں کا کیا بھروسہ اس ہر بھی ہاتھ صاف کرے۔
” بات کرنی تھی تم سے….” مہد نے ثانیے بعد اہل کو محاطب کیا۔
” میں بن جاتا ہوں نا آپ کے سلطان میر کا بیٹا۔” مہد نے آنکھ ونک کی۔
” آئیڈیا برا نہیں ہے مگر تمہاری عمر 25 سال ہے۔ اور عنایہ ابھی بیس کی ہوجائے گی۔ شک کیا جاسکتا ہے” آہل نے اسکی بات کی تردید کی۔
” کم ان یار !! وہ لوگ مجھ سے آئیڈنٹٹی تھوڑی نا مانگنے گے۔۔اور میں ابھی تو پاکستان شفٹ ہوا ہوں۔۔مجھے اپنے محلے والے ابھی اچھی طرح جانتے نہیں تو آپ کے حویلی کے لوگ۔ کسی اور پر اعتماد کرکے کہیں اپنا بنا بنایا کھیل نا بگاڑے۔” مہد کے آنکھوں کی کمینی چمک بڑھ گئی۔
” سوچتے ہیں۔” آہل نیم رضامند ہوگیا۔
” کیا پتہ خویلی میں میری قسمت کا ستارہ روشن ہو جائے۔” آہل کی طرف جھکا وہ سرگوشیانہ انداز میں گویا ہوا۔
” آنکھیں نکال کر ہدیہ کر دوں گا کسی اندھے کو,اگر ایسا سوچا بھی۔ ” آہل کی تیوریاں چڑھی۔
” جسٹ کڈنگ یار!!! مہد اسکے سرر انداز پر لرز اٹھا۔ ” مجھے تو تمہاری سحر اچھی لگتی تھی مگر میرے گھر والوں کی سوچ پر مجھے خود افسوس ہورہا ہے کہ وہ کسی یتیم لڑکی کو بہو ہر گز نہیں بنائیں گے۔ اور سحر کافی معصوم ہے میں خود نہیں چاہتا کہ وہ میرے گھر والوں کے عتاب کا نشانہ بنے۔”
” اچھا دیسیجن ہے۔ میں ابھی سحر کی شادی کروانے کے حق میں نہیں۔ ابھی تو سترہ سال کی ہے۔” آہل نے اسکے سوچ کو سراہا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
شام کو وہ حویلی پہنچا۔ فریش ہوکر نیچے آیا تو حدید اور اذلان کو محو انتظار پایا
” حدید تم ریڈی ہو نا ؟؟ آہل اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا
” جی !! بس بابا کو آنے دو ۔ رپورٹ میں نے کافی تگ و دو کے بعد لاکر سے نکال لی ہے۔” حدید نے اسکے کان میں سرگوشی کی
” رات کے کھانے کا دور چلا تو سب سے پہلے حدید ٹشو سے ہاتھ صاف کرکے اٹھا اور روم کی طرف قدم بڑھا دییے۔۔اذلان اور آہل نے آنے والے دھماکے کے لئے خود کو تیار کیا۔ کچھ لمحے گزر جانے کے بعد حدید کی واپسی ہوئی۔ تو اس کے ہاتھ میں فایل دیکھ کر سلطان میر کو کچھ انہونی کا احساس ہوا۔ حدید کسی کو بھی محاطب کئے بغیر سیدھا سلطان میر کے قریب آیا اور فایل اسکے سامنے میز پر پٹخ دیا۔
” آپ ذرا روشنی ڈالئے۔اس فایل کے اندر کیا ہے؟؟ سلگا دینے والی آواز میں سلطان میر سے محاطب ہوا
” کک کیا ہے؟؟ مجھے کیا پتہ ؟؟ تت تم لے کر آئے ہو تو تمہیں معلوم ہوگا۔” اٹک اٹک کر کہتے سلطان میر نے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔
” میں لے کر آیا ہوں مگر یہ مجھے اپنے کاغذات ڈھونڈتے وقت اپ کے الماری سے ملے۔” حدید کی بھسم کرتی نگاہیں اپنے چہرے پر مرکوز دیکھ کر اس کے وجود میں سنسنی دوڑ گئی۔
” چلو آپ کو بتانے میں شرم محسوس ہوگی تو میں سب کو بتا دیتا ہوں کہ اس فایل کے اندر آپ کے عیاشی کے نتائج موجود ہے۔” حدید نے لفافے کے اندر ہاتھ ڈال کر ایک پیپر نکالا۔
” حدید۔۔۔!!! ایاز میر کی ہانپتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کی۔
” اوہ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ پہلے سے سب جانتے ہیں اور ان کو اپ کی ہی پشت پناہی حاصل ہے۔ آپ ان کے غلیظ حرکتوں پر اسے حوصلہ دے کر ان کو شہہ دیتے رہے۔” زہرخند نظر ایاز میر پر اچھالتا پیپر کھولنے لگا۔
” کس کی عزت کے پرخچے اڑا کر یہ بچہ پیدا کیا ہے آپ نے؟؟ کہاں گئی اس بچے کی ماں جس کو آپ نے اپنی درندگی اور ہوس کا نشانہ بنایا۔ ایک بار بھی آپ کو ہمارا خیال نہیں آیا ؟؟ کیا قصور تھا میری ماں کا ؟؟ بتائیے مجھے۔” حدید زخمی شیر کی طرح پھنکارا۔
” میں کسی کو جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔” سلطان میر سپون ٹیبل پر پٹخ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
” سوال کون بے وقوف کر رہا ہے بابا سرکار۔۔۔!!! حساب مانگ رہا ہوں میں۔ کیا چاہئے تھا آپ کو جو میری ماں نہیں دے سکی۔ کس چیز کی تلاش میں آپ نے گناہ کی دہلیز پار کی۔
یہ یہ آپکی بیٹی۔۔۔۔۔!!! کسی کو اپنی بھوک کا شکار بنانے سے سے پہلے ایک بار بھی اس کے بارے میں نہیں سوچا کہ باپ اپنے جوانی کے اعمال سے بیٹیوں کے نصیب لکھتا ہے۔” حدید کے اس دلسوز انکشاف پر کرسی پر نیم مردہ حالت میں بیٹھی شزا کو اٹھا کر باپ کے سامنے کھڑا کردیا۔
” بتایا نا میں نے۔۔۔ اپنے باپ کو کبھی وضاحتیں نہیں دئیے تو تم لوگ کون ہوتے ہو سوال و جواب کرنے والے۔” سلطان میر غصے سے پھنکارتے ہوئے سائیڈ سے گزرنے لگا کہ شزا نے اسکا بازو دبوچ لیا۔
” میں بھی کیورییس ہوں بابا سرکار!!! مجھے بھی جاننا ہے ۔۔ اگر اتنا ہی سکوں ہے جگہ جگہ منہ مارنے میں تو پھر ہمیں بھی اپ کے نقش قدم پر چل کر ٹرائی کر لینی چاہئے نا۔” شزا کے دماغ میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔
” بکواس بند کرو.” سلطان میر کا ہاتھ اٹھا تھا مگر ہوا میں معلق رہ گیا۔
” سوچنا بھی مت۔” حدید نے سلطان میر کا ہاتھ زور سے جھٹک دیا۔۔ باقی سب پھٹے آنکھوں اور دھڑکتے دل کیساتھ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ امان میر کو برسوں بعد اپنے بھائی کے مکروہ فعل پر شرمندگی ہونے لگی۔
” آپ نہیں دینا چاہتے جواب تو نا دے۔ آپکے ہوس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وجود کو بلایا ہے میں نے حویلی۔ وہ خود آکر اپنی ماں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا حساب چکتا کرے گا۔ تیار رہے گا مکافات عمل کے لئے۔ جب گناہوں کی رسی مضبوط ہوجاتی ہے نا مطلب وہ ٹوٹنے کے قریب ہوتی ہے۔” حدید اسکی آنکھوں میں ڈر و خوف کے تاثرات واضح دیکھ کر چلا گیا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” بھائی صاحب !! میرے اپنے بچے میرے خلاف کھڑے ہوگئے اب تو کوئی راہ فرار نہیں۔ اور اگر واقعی صدیقہ کا بیٹا آگیا تو سمجھو کھیل ختم اور ہماری سزا شروع۔۔۔” سلطان میر جلے پیر بلی کی طرح روم میں ادھر اُدھر چکر کاٹ رہا تھا۔
” جتنا ہم نے ہلکا لیا تھا بات کہیں اس سے زیادہ آگے بڑھ چکی ہے۔ اور بچوں کے تیور صاف بتا رہے ہیں کہ وہ کوئی رعایت برتنے والے نہیں۔ آنے دو سالے کو۔ اس کو بھی اوپر پہنچانے کا بندوبست کروادیں گے۔ مگر یاد رکھو ۔ جلد بازی سے کام نہیں لینا۔ نا اس لڑکے کی آمد پر شور شرابہ کرنا ہے۔” ایاز میر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے۔
” تو چپ چاپ اپنی بے بس کا تماشہ دیکھتا رہوں۔” سلطان میر بپھر گیا۔
” ہاں۔!! اپنے کئے کی سزا بھگت لو ۔۔ جب وہ حبیث لڑکی دوبارہ تمہیں زندہ ملی اور تم نے پیاس بجھائی تو اسکا کام تمام کر دیتے نا۔ زندہ چھوڑ کر خود تم نے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔” ایاز میر کو اسکی بے وقوفی طیش دلا گئی ۔
” نہیں کر سکا نا۔ آپ نے اس کو دیکھا نہیں تھا۔ مارنے والی چیز نہیں تھی ورنہ کب کا مار چکا ہوتا۔ جوانی نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دئیے تھے۔ ایک دفعہ سے کہاں دل بھر سکتا تھا۔ میں تو اسے اپ کے بستر تک بھی لانا چاہتا تھا۔ آخر آپ کا بھی تو کوئی حصہ بنتا تھا مگر اس سے پہلے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ (گالی) کہیں غائب ہوگئی۔” سلطان میر اب بھی اپنے کئے پر بجائے نادم ہونے کے صدیقہ کے ہاتھ سے نکلنے پر افسوس کر رہا تھا۔
” جو ہوگیا سو ہوگیا۔ اب تم میری اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاؤ گے۔” ایاز میر نے سختی سے تنبیہ کی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” موم !! بابا سرکار ایسے کیسے کرسکتے ہیں۔ مجھے اب اندازہ ہورہا ہے کہ دادا سرکار نے کیا سوچ کر آدھی جائیداد آہل بھائی کے نام کردی تھی۔ کیونکہ ان کو بھی اپنے بیٹوں کی اصلیت کا پتہ چل گیا ہوگا۔ اور ہم نے آہل بھائی سے بے وجہ نفرت و عناد پال رکھی تھی۔ وہ اتنا برا بھی نہیں یے۔” شزا کی آنکھیں ذیادہ رونے کے وجہ سے سوجھ گئی تھی
” اتنا نہیں۔ بلکہ اہل بالکل بھی برا نہیں۔ میں تو پہلے دن سے ہی آہل کی آنکھوں میں سلطان میر کے لئے انتقام کے بھڑکتے شعلے دیکھ چکی تھی۔” وہ اس حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کر پا رہی تھی کہ اس کے باپ نے کسی لڑکی کا ریپ کرکے اسکا قتل بھی کیا ہے۔
” موم!! آپ نے کبھی آہل بھائی کو انتہائی گہرائی سے دیکھا ہے۔ وہ پھپھو سے کافی مشابہت رکھتا یے۔ میں نے پہلے غور نہیں کیا مگر اب مجھے وہ پھپھو کی کاپی ہی لگ رہا ہے۔” شزا ماں کو کریدنا چاہتی تھی۔
” ہمیں کچھ نہیں معلوم ۔!!! مگر اب مجھے کچھ کچھ یاد آرہا ہے کہ ماں بیگم ( ساس) کی وفات کے بعد عاتکہ گوشہ نشین ہوگئی تھی۔ اور میں نے دو تین بار اسکو وومٹنگ کرتے بھی دیکھ لیا تھا۔ اور اسکا جسم بھی بھرا بھرا سا دکھ رہا تھا جس طرح پریگننسی کے پہلے تین چار ماہ کے دوران عورتوں پر ایک الگ نکھار آجاتا ہے۔ مگر اسکی کردار پر شک کرنا میرے لئے گناہ کبیرہ تھا۔ کیونکہ وہ ایک باکردار لڑکی تھی۔ بابا سرکار کی اس میں جان بستی تھی۔ لیکن پھر بابا سرکار اسے لیکر شہر چلے گئے۔ اب اللّٰہ عالم ہے کہ بابا سرکار نے اسکی شادی کروائی تھی یا پھر مجھے وہم ہوا تھا۔” انیلا بیگم کافی جہاندیدہ خاتون تھی اسے کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی تھی۔
” پھر تو شک کا جواز ہی نہیں بنتا۔ آہل بھائی پھپھو کا ہی بیٹا ہے۔ کیونکہ مجھے اچھے سے یاد ہے ایک دن ڈائیٹنگ ٹیبل پر جب وہ سحر کو لے کر آیا تھا بابا سرکار نے اس کے کریکٹر پر انگلی اٹھائی تھی تب آہل بھائی نے کتنی دیدہ دلیری سے بابا سرکار کی بولتی بند کی تھی کہ اس نے ایک حیادار اور باکردار عورت کے بطن سے جنم لیا ہے۔ اور پھر زر آپی اور اہل بھائی کا نکاح بابا سرکار نے کروایا ہے نا تو کچھ ایسی پہلییاں ہے ایسے راز ہیں جو جلد ہی کھل جائیں گے۔” شزا الجھی ہوئی ڈوروں کو سلجھانے لگی۔
” ہاں بالکل۔””” انیلا بیگم نے تائید کی